سر ورق / سعادت حسن منٹو / اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔۔ نوید ظفر کیانی

 

 

 

مفلسی کے دور میں کھایا جو اک گھر کا نمک

عمر اس در پر گزاری، اس قدربھایا نمک

باس کی کالی سی بیٹی بن گئی زوجہ مری

لے گیا آغوشِ الفت میں مجھے کالا نمک

میرے آنے کی خوشی میں وہ تو پاگل ہوگئی

ڈال دی سالن میں چینی، کھیر میں ڈالا نمک

لنچ پر مجھ کو بلا کر، چل پڑی غیروں کے ساتھ

اس طرح ظالم نے زخموں پر مرے چھڑکا نمک

سالیوں نے سامنے رکھ دی تھی ”مصری“ کی پلیٹ

شرم کے مارے وہ دلہا کھا گیا سارا نمک

ہے فشارِ خون بڑھنے کا سبب بیگم مری

اس لئے بیگم کا میں نے نام ہے رکھا نمک

اس کو دے دے کر صدائیں دکھ گیا میرا گلہ

 خود نہ آیا پر غراروں کے لئے بھیجا نمک

فرق بیگم اور محبوبہ میں ہے نمکین سا

اک طرف پھانکا ہو جیسے، اک طرف چکھا نمک

عاشقوں کو قدر اس کی آگئی پھینٹی کے بعد

جب ٹکوروں کے لئے زخموں پہ تھا رکھا نمک

امجد علی راجا

ہیلپر سے اس کے پوچھ نہ ایڈوائزر سے پوچھ

کاٹا ہے کیا قسائی نے خود جان ور سے پوچھ

جا کر کہاں رکے گا یہ منہگائی کا سفر

چارہ کچھ اس کا جا کے کسی چارہ گر سے پوچھ

پوچھو نہ مجھ سے تھانے میں گزری ہے کیسے رات

"تفصیلِ واردات مری چشمِ تر سے پوچھ”

اوزان اور عروض سے بھرتا نہیں ہے پیٹ

آتا نہیں یقین تو شاعر کے گھر سے پوچھ

وہ بھی ہے اپنی بیٹی کی مانند بدمزاج

احوال ساس کا کبھی اپنے سسر سے پوچھ

نوید صدیقی

یہ خرابی ہے مرے عہد کے دلداروں میں

خود کو رکھتے ہیں سدا مالی طلبگاروں میں

تو کبھی پونڈ، کبھی یورو، کبھی ڈالر ہے

تو ہے مقبول اِنہیں ناموں سے بنکاروں میں

ظلم تو یہ ہے کہ ناکارہ تریں چھوٹے لوگ

دندناتے ہوئے پھرتے ہیں بڑی کاروں میں

سونگھنے والوں کو قسمت سے ملا کرتے ہیں

پھول جرثومے تری زلف کی مہکاروں میں

سب ترے نام سے کرتے ہیں دل وجان سے پیار

ذکر کرتے ہیں کیلنڈر ترا اتواروں میں

ایک دم کتنے لٹر تو نے کمی کر دی ہے

شربت دید کی محدود سی مقداروں میں

ڈھیر کچرے کا جو گوری نے بنا رکھا ہے

خط پڑے ہوں گے مرے بھی انہیںانباروں میں

مولوی دیکھ کے پاگل نے کہا ہنستے ہوئے

یہ بھی شامل ہے محبت کے گنہ گاروں میں

ایک نقاد نے لکھ کر یہ مجھے بتلایا

کتنی اغلاط ہیں فیصل ترے”اشعاروں“ میں

ڈاکٹر عزیز فیصل

فکرِ روشن نہ تازہ زمیں ہے میاں

تیرے اشعار میں کچھ نہیں ہے میاں

آج سے سال ہا سال پہلے تلک

تھا جہاں پر تُو اب بھی وہیں ہے میاں

ہے تری ہی وہ اِک فیس بک آئی ڈی

جو کہ عاشق تری نازنیں ہے میاں

خود کو جس شہر کا ہے بتاتا ہمیں

کب وہاں کا کوئی تُو مکیں ہے میاں

تجھ کو جس شعر پر داد سب سے ملی

اِک وہی شعر تیرا نہیں ہے میاں

تو مکینک بڑا ہی زبردست ہے

سب کو اِس بات پر فُل یقیں ہے میاں

پانچ اشعار میں ہیں فقط دو ترے

وہ بھی تو کچھ نہیں آفریں ہے میاں

اک بجا بات پر بزمِ تنقید میں

کس ڈھٹائی سے تُو نکتہ چیں ہے میاں

آئنہ ہی تجھے تو دکھایا ہے بس

کیوں چڑھانے لگا آستیں ہے میاں

تیرے اوصاف اُسی کو نظر آئیں گے

پاس جس کے بھی اِک خوردبیں ہے میاں

کیا کہوں میں تری جدّتِ شعر پر

شاعری بھی یہاں شرمگیں ہے میاں

چھوڑ دے شاعری تُو کوئی کام کر

مشورہ اِک یہی بہتریں ہے میاں

عتیق الرّحمٰن صفی

چےنی تمام شُد ، کبھی آٹا تمام شُد

چخ چخ سے بےوی کی، ہوا بھےجا تمام شُد

گھِس گھِس کے پہلے ہوگےا جُوتا تمام شُد

عاشق ہے اب تو سارے کا سارا تمام شُد

منُہ مےٹھا کرنا ٹھےک نہےں بعدِ مرگ تو

کیوں فاتحہ پہ کرتا ہے حلوہ تمام شُد

وہ گُل کھلائے دوسری بےوی نے الاماں

ہونے نہ پاےا تھا ابھی سہرا تمام شُد

ےہ اے بی سی کے وائروسوں کا عمل نہےں

ہے تےری بے رخی سے کلےجہ تمام شُد

ڈسپےنسر کی توند تو پھےلے ہے رات دن

پڑھ پڑھ کے ڈاکٹر ہے بچارہ تمام شُد

حرص وہوس کے گھوڑے کو دے دےں ذرا لگام

اس مُلک کو کرےں نہ خدارا تمام شُد

منظوم کرکے اس کو ظرافت کے نام پر

کردےتے ہےں وہ حُسنِ لطےفہ تمام شُد

ہم تو کھڑے رہے کئی گھنٹے قطار مےں

جب باری آئی بولا وہ ، ”سودا تمام شُد“

مظہر جلوس نکلے گا ہر دم عوام کا

ہوگا نہ ملک میں کبھی جلسہ تمام شُد

ڈاکٹر مظہرعباس رضوی

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آرٹسٹ لوگ …سعادت حسن منٹو

آرٹسٹ لوگ سعادت حسن منٹو جمیلہ کو پہلی بار محمود نے باغ جناح میں دیکھا۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے