سر ورق / کہانی / ریڈ لائٹ …بھارتی گور/عامر صدیقی

ریڈ لائٹ …بھارتی گور/عامر صدیقی

ریڈ لائٹ

بھارتی گور/عامر صدیقی

ہندی کہانی

…………….

 ”یہاں عورتیں بکتی ہیں۔“

یہ چار الفاظ وہاں صرف کنیا کے کمرے کے باہر ہی نہیں، بلکہ وہاں کام کرنے والی ہر عورت کے کمرے کے باہر چسپاں تھے۔ ویسے ان الفاظ کے غیرموجود گی میں بھی وہاں کا ماحول بخوبی اس کا اظہار کرتا دکھائی دے ہی رہا تھا۔

کنیا کو ان چار لفظوں پر سخت اعتراض تھا۔ اس کے مطابق وہاں ان لفظوں کی جگہ یہ الفاظ ہونے چائیے تھے۔

 ”یہاں جسم بکتا ہے۔“

عورت کو کون بیچ سکتا ہے اور کس کی ہے اتنی اوقات اسے خریدنے کی۔ لیکن اوقات تو کسی کی اتنی بھی نہیں جو عورت اور جسم کو الگ کر سکے۔ جو جسم کی بولی لگاتے ہیں ،وہ اس مغالطے کے ساتھ اس جسم کو لوٹتے ہیں کہ اس جسم کو چلانے والی روح کو بھی خرید رہے ہیں۔

”کیا ہوا کنیا، آج تیرا کوئی خریدار نہیں آیا!“

”تیرا بھی تو نہیں آیا۔“

”کوئی نہ کوئی تو آ ہی جائےگا ،ہمیں کون بخشے گا!“

”اگر ہمیں کسی نے بخش دیا ،تو وہ ہمیں نہیں بخشے گی، کنچن۔“

”تو اس سے اتنا ڈرتی کیوں ہے، مرنے دے سالی کو ویسے ہی کتنا جئے گی بڑھیا۔“

”اتنی آسانی سے نہیں مرے گی وہ، ہم سب کی چمڑی اس کی سخت مٹھی میں قید ہے۔“

”لگتا ہے آج پھر روٹی کی جگہ چابک ملے گا۔“

”کنیا، شام گزرنے کو آئی، سالا کوئی بھوکا بھیڑیا اب تک نظر نہیں آیا، آج کیا سالا سب ایک ساتھ انسان بن گئے کیا!“

”ہاں رے لگتا تو یہی ہے، ویسے آج تیرا میک اپ کچھ خاص نہیں، کون دیکھے گا پھر!“

”تو بھی کوئی خاص نہیں لگ رہی۔“

”چل چلتے ہیں، مار کھا کر سو جاتے ہیں، روٹیاں تو ملنی نہیں، خالی ہاتھ جو جا رہے ہیں۔“

”چل۔“

جس دن ان کا جسم نہیں بکتا، اس دن کھانے میں مار اور گالیاں بھر پیٹ ملتی تھی۔ معلوم نہیں انہیں یا ان جیسی باقیوں کو اس سے کیا اور کتنا فرق پڑتا تھا یا پڑتا تھا بھی یا نہیں۔

”یار کنچن چل کہیں بھاگ چلےں۔“

”تجھے کیا ہوا، آج مار کا اثر بھیجے پر ہو گیا لگتا ہے۔“

”چل نا یار، یہاں سے بھاگ چلتے ہیں۔“

”پائل کا حال بھول گئی کیا، اس نے بھی تو کی تھی نا یہاں سے بھاگنے کی کوشش۔ مینا بائی سے پنگا لینا، مطلب موت کو بلاوا دینا۔“

”تو ابھی کون سا جی رہے ہیں یار۔“

”تیرا بھیجا سٹک گیا ہے، کچھ بھی نہیں بک، سمجھی۔“

”اس مینا بائی کا ہی کام خلاص کردیں تو!“

”بھوک تیرے بھیجے میں چڑھ گئی ہے کیا، اری چپ ہو جا، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، اور پٹیںگے۔“

”پٹائی کی ساری سیمائیں تو اپن دیکھ چکے ہیں۔ اب اور کس طرح سے پٹیںگے رے اور کون سی دیوار کون سے کان۔ یہاں صرف جسم ہی دِکھتا ہے اور جسم ہی بکتا ہے اور کچھ کہیں نہیں ہے یہاں۔“

”سو جا یار، مچ مچ مت کر، میرا سر بھنّارہا ہے، سو جا۔“

”ارے کیا، سو جا، سو جا، اٹھ نہ سن تو!“

”اب مجھ سے بھی مار کھائے گی تو، چل مر،خود سوتی نہیں مجھے تو سونے دے۔“

کنیا تو یوں بھی راتوں کو جاگتی تھی۔ جب اس کا جسم لٹایا جاتا، اس وقت جسمانی مزدوری کرتے وقت اور جب کوئی خریدار نہ ملے، تب دماغ کے گھوڑے دوڑاتے وقت، جاگتی بہر حال تھی۔

”اے کنچن ۔۔۔ اے کنچن !“

”ہمم کیا ہے ۔۔۔ کیا ہے! سونے کیوں نہیں دے رہی۔“

”سو گئی کیا۔“

” ہاں۔“

”سن نا! اے سن نا!“

”کیا مصیبت ہے یار وہ کھانے کونہیں دیتی اور تو سونے کو نہیں دیتی۔ سالا نرک بھی اچھا ہوتا ہوئیں گا، ادھر سے تو۔ تجھے معلوم ہیں نا مجھے۔ روٹیاں کھا کر وہ نیند نہیں آتی، جو مار کھا کر آتی ہے۔“

”سن تو!“

”اب بک بھی دے، کیا بکنا ہے؟“

”ایک بات بتا!“

”اب جب نیند اڑا ہی دی ہے، تو پیٹ بھر کے پوچھ۔“

”میرے پاس چنے ہیں کھائے گی؟“

”یہ پوچھنے کے لئے جگایا ہے!“

”نہ رے، تو یہاں کب سے ہے؟“

”یار تین سال ہونے کو آئے شاید۔“

”تجھے پکا پتہ نہیں کیا۔“

”اوہ ہاں، بولے تو تین سال۔“

”تو یہاں مرضی سے آئی کیا۔“

”تیرا بھیجا تو ایک دم ہی سڑا ہوا ہے، ادھر بھی کوئی اپنی مرضی سے آتا ہے کیا۔“

”کیوں، وہ نندا نہیں ہے کیا، کونے کے کمرے والی، وہ تو ادھر کتنا خوش رہتی ہے مرضی سے آئی ہوگی جب نا۔“

”کون بولا رے، میں ادھر تجھ پہلے کی ہوں، مجھ سے زیادہ معلوم ہے کیا تجھے۔“

”تو پھر۔“

”تو پھر کیا، اس کا آدمی چھوڑ کے گیا اسکو اِدھر۔“

”اور تجھے۔“

”میرا باپ۔“

”باپ۔“

”زیادہ آنکھیں مت پھاڑ سوتیلا تھا۔“

”مر گیا کیا۔“

”اتنی آسانی سے نہیں مرے گا، میرے شراپ لگنے باقی ہیں۔“

”اور ماں۔“

”وہ ڈرپوک تھی، یہ الگ بات ہے کہ تین تین شادیاں بے خوف ہوکر کی تھیں اس نے۔“

”کوئی بھائی، کوئی بہن۔“

”ہوں گے ۔۔۔ سالے کتنے ہیں؟ کہاں کہاں ہیں؟ مجھے بھی نہیں خبر۔“

”تھوک میں شادی تھوک میں بچے ۔۔۔“

”یہی سمجھ لے۔“

”کتنے سال کی ہے تو رے۔“

”سالا ادھرآدھی رات کو اٹھا کے انٹرویو لے رہی ہے میرا۔“

”بتا تو۔“

”کتنے سال کی ہوں یہ تو نہیں پتہ ۔۔۔ لیکن ہاں اُدھر میرے محلے میں ایک تائی تھی، وہ میرے باپ پر چلاتی رہتی تھی۔” شادی کب کرے گا اس کی سولہ کی ہو گئی ہے، کہیں پر لگ آئے اور اڑ گئی کسی کے ساتھ، تو پورے گاو ¿ں پہ کالخ پوت کے مرے گی۔“تو مجھے یہاں آئے دو سال ہو گئے ہیں، اس حساب سے میں اٹھارہ کی ہوئی۔ اور تو۔“

”میں سولہ کی ہوں۔“

”پکا پتہ ہے کیا۔“

”نہیں تو کیا، تیرے جیسی ان پڑھ نہیں ہوں ،دسویں پاس کی ہے میں نے۔“

”تو یہاں کس طرح مری۔“

”نوکری کا جھانسا دے کر میری بہن کا دیور ادھر لے آیا اور بیچ دیا اس سالی مینا بائی کو۔“

”ادھر سے بھاگناکیوں چاہتی ہے، ادھرچ پڑی رہ۔“

”نہیں، مجھے آگے پڑھنا ہے، کچھ بننا ہے۔“

”اب کیا بنے گی، جو بننا تھا وہ بن گئی۔ یہی لکھا تھا نصیب میں، مان لے۔“

”اس میں کیا عزت ہے اور تو نہیں چاہتی کیا یہاں سے نکلنا۔“

”میں ادھر سے نکل کر کہاں جاو ¿ں گی، گھر جا نہیں سکتی۔“

”کیوں۔“

”یہاں تو پھر کسٹمر پیسہ دے کر میرے ساتھ سوتا ہے، ادھرتو میرا سوتیلا باپ روز رات کو مارتا بھی ہے اور میرے ساتھ سوتا بھی ہے۔“

”کیا ۔۔۔“

”ہاں اس نے میرا ریپ کتنی بار کیا ،یہ مجھے بھی یاد نہیں۔“

”اور تیری ماں۔“

”بولا نہ وہ ڈرپوک ہے، مجھے بھی چپ رہنے کو بولتی تھی، اچھا کیا جو مجھے ادھربیچ دیا، اس ذلت سے تو یہ نوکری صحیح۔ ویسے بھی میں ادھر ہی محفوظ ہوں اُدھر سے تو۔“

کنچن کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ دروازے پر زور سے کسی نے ہاتھ مارا۔

”کھول ۔۔۔ جلدی کھول سالی مر گئی کیا۔“

”کیا ہے۔ اِتی رات میں کیوں مر رہا ہے، ماں مر گئی کیا تیری سالے۔“

 کنچن کے گال پر چیر دینے والا جھنجھناتا ہوا چانٹا پڑا۔ مینا بائی کا مستقل دلال گگن شراب میں دھت گالیاں بکتا بکتا دہلیز پر گر پڑا۔ نشے میں ہونے پر بھی جانے کون سی جناتی طاقت اس سے بلوا رہی تھی۔

”اے۔۔۔ چلو نیچے، مینا بائی نے بلایا ہے۔“

انہیں لگا ان کی باتیں کسی نے سن لی ہیں اور آج ان کی چمڑی ادھیڑ دے گی وہ بڑھیا۔

”کیوں، ہم آج کی مار تو کھا چکے، اب کیوں بلایا ہے اتنی رات میں۔“

”کنیا ۔۔۔ آئے ہائے تیری آواز تو میرے شریر کو کپکپا دیتی ہے ری، اے سننا۔۔۔ سننا۔۔۔ میرا دل آ گیا ہے تجھ پہ، ایک دن تجھے یہاں سے ۔۔تجھے یہاں سے ۔۔“

اس شرابی کی شراب جتنا بول سکتی تھی بول کرپست ہو چکی تھی، کنیا اور کنچن خوف سے کانپتی ہوئی پہنچیں مینا بائی کے پاس۔

”ارے ۔۔۔ آگئیں میری دونوں راجکماریاں۔“

”لے کنیا، ہو گیا بڑھیا کا ناٹک شروع، لگتا ہے کوئی خاص آیا ہے اس کا آج۔“

” ہاں ورنہ یہ دے تو عزت۔ مر نہ جائے بڑھیا۔“

”ارے ۔۔۔ وہاں کیوں کھڑی ہو گئیں، ادھر آو ¿ میرے پاس بیٹھو۔ دیکھ لیں ساہیب، ایک سے ایک ہیں، آپ کو جو پسند ہو، رکھ دیجیے اسی پہ ہاتھ۔ دیر کس بات کی۔“

”اتی رات میںگراہک کنیا۔ “

”آدمی کی بھوک ہے کنچن ، اس کا کون سا وقت۔“

”کہئے ساہیب ۔۔۔ کون سی کے ساتھ جائیں گے۔“

اس بہت ہی رعب دار اور پیسے والے آدمی نے کنیا کی طرف اشارہ کیا۔ کنچن نے سکھ کی سانس لی۔ اب وہ شانتی سے سو سکتی تھی۔

”کون یہ ۔۔۔ کنیا ۔۔۔ ۔۔ مجھے معلوم تھا ساہیب آپ اسی لیے مانگو گے۔ یہ تو میرے یہاں کی رونق ہے ۔اسی سے تو چل رہا ہے میرا سب کچھ۔ آپ کی پسند ایسی ویسی تو ہو ہی نہیں سکتی، یہ میں آپ کو دیکھتے ہی سمجھ گئی تھی۔“

”یہ مسکا لگانا بند کرو مینا بائی اور دام بولو دام۔“

اس آدمی کے ساتھ کھڑا ایک ادھیڑ عمر کا ڈراﺅنا سا لگتا ہوا آدمی بولا، جو لگ تو اس کا نوکر رہا تھا، پر اس وقت تو دلال کا کام کر رہا تھا۔

”اب دام میں کیا بولوں ساہیب، کوئی اور لڑکی ہوتی تو جتنا آپ دیتے لے لیتی ۔لیکن اسکے تو منہ مانگے لوںگی۔“

”کیوں اس میں کون سے سرخاب کے پنکھ لگے ہیں۔“

”سمجھ لیجیے وہی لگے ہیں ۔۔۔ جانچ پرکھ لو۔ پیسہ پھر دے دینا ۔کہاں بھاگا جا رہا ہے۔“

”ٹھیک ہے مینا بائی۔ پیسے ہم یہاں سے جاتے وقت دیںگے ….”

”جیسی آپ کی اِچھا ساہیب۔ارے کنیا۔۔۔ ساہیب کو لے جاو ¿ کمرے میں۔ خاطر داری کرو اِنکی، یہ کہاں روز روز آتے ہیں۔ اب تم ہی چلاﺅ کوئی جادو کہ صرف یہی راستہ یاد رہے باقی سب بھول جائیں۔“

کنیا نے سوچا کہ آج کے حصے کی مارادھار رہی اس بڑھیا پر، آج کے حصے کا کام تو کرنا ہی پڑ رہا ہے ،پھر پھوکٹ ہی میںمار بھی کھا لی۔ کنچن کے لئے تو ٹھیک سودا رہا، نقصان میں تو میں رہی۔ جاتے جاتے باہر سے کنچن کے کمرے کے اندر نظر پڑی ،تو دیکھا بڑے آرام سے نیند کا مزہ اٹھا رہی تھی۔ کنیا کو بڑی جلن ہوئی۔ اس امیرزادے کو ایک سجے سجائے کمرے میں لے جانے کے بعد اس سے بیٹھنے کا کہہ کر کنیا باہر آئی اور اپنے کمرے میں جا کر لیپا پوتی کرکے واپس وہیں پہنچی۔

”شروع کریں صاحب ۔۔۔ صاحب ۔۔۔ ۔۔۔“

تین چار بار بولنے کے بعد بھی جب اس آدمی نے سنا نہیں، تو کنیا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے یاد دلانا چاہا کہ وہ وہاں کس لئے تھا۔

”صاحب ۔۔۔۔“

” ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ کیا۔“

”میں نے کہا شروع کریں۔“

”پانی ملے گا۔“

”پانی ۔۔۔ ابھی۔۔“

” ہاں ۔۔۔ پانی ملے گا۔“

”لاتی ہوں۔لانا پڑے گا، ادھر پانی کون پیتا ہے۔“

”تو کیا پیتے ہیں۔“

”کیا صاحب، کیاپہلی بار آئے ہو۔“

” ہاں۔“

”سچی میں۔“

” ہاں۔“

”اوہ۔ اس لئے پانی مانگ رہے ہو، ٹھہرو میں آپ کو وہ پلاتی ہوں جوادھر کا رواج ہے۔“

”رواج۔“

”ہاں رواج۔ شراب۔ شراب پی جاتی ہے یہاں ۔۔۔“

”لیکن میں نہیں پیتا۔“

”آپ نے پہلے کبھی یہ سب بھی کیا ہے یا یہ بھی پہلی بار ہی ہے۔“

”کیا سب۔“

”وہی جو کرنے آئے ہو۔“

”کیا کرنے آیا ہوں میں۔“

”کیا صاحب، وقت بربادکرنا ہے کیا ۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے۔ میں ہی شروع کرتی ہوں ۔۔۔“

کنیا کے ہاتھ لگاتے ہی وہ آدمی تیزی سے اٹھ کر کھڑکی کی طرف بڑھا۔

”یہ کیا کر رہی ہو۔“

”کیا ۔۔۔ کیا کر رہی ہوں میں۔“

”جو بھی تم کر رہی ہو۔“

”تو اور کیا کروانا چاہتے ہو، جس کام کے لئے پیسے دوگے، وہی تو کر رہی ہوں۔“

”یہ کون سی جگہ ہے۔“

”کیا ۔۔۔ کیا کہا صاحب ۔۔۔ یہ کون سی جگہ ہے ۔۔ صاحب یا تو تم کو کوئی پاگل ہو یا کچھ ایسی چیز پی کر آئے ہو، جس کی بدبو تو نہیں آ رہی لیکن اس کا اثر صاف نظر آ رہا ہے۔“

”کہا نا، میں نہیں پیتا وِیتا۔“

”ارے چاہتے کیا ہو ۔۔۔ کون ہو ۔۔ اے بھگوان۔ ۔۔۔ ارے صاحب کچھ کرنے کے قابل ہو یا ۔۔۔“

”شٹ اپ ۔۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔۔“

”کچھ بولوں نہیں کچھ کروں نہیں ۔۔۔ تو پیسہ کس بات کا دے رہے ہو۔“

اس سے پہلے کے کنیا کچھ اور بولتی، وہ آدمی اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ یہ سب پہلی بار ہو رہا تھا۔ کنیا کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا تھا، کیوں تھا۔ کہیں اس بڑھیا کو پتہ چل گیا کہ میں نے کسی کو رلا دیا ہے، تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ کیا کرے ۔

”صاحب ۔۔۔ او صاحب ۔۔۔ دیکھو آپ کو نہیں پینا ہے، تو مت پیو، نہیں کرنا ہے تو مت کرو، لیکن یہ رونا ۔۔۔“

”مجھے معاف کر دو ۔۔۔ مجھے معاف کر دو ۔۔۔ میں نے یہ سب کیا کر دیا؟ کیوں کر دیا؟ یہ مجھ سے کیا ہو گیا ۔۔ہے بھگوان۔ یہ سب مجھ سے کیا ہو گیا ۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دو ۔۔“

”کیا ہوا صاحب، کیا ہوا، آپ ادھر بیٹھو ۔۔۔ ادھر اوپر، آپ بیٹھو شانتی سے، میں پانی لاتی ہوں۔“

باہر سے پانی لانا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں تھا، پانی پیتا ہی کون تھا وہاں ۔۔۔ جیسے تیسے چھپتی چھپاتی کنیا پانی لائی اورفٹاک سے دروازے پر کنڈی ماردی۔

”صاحب یہ لو پانی ۔۔۔ لو۔“

”تھینک یو۔“

”وہ سب کی ضرورت نہیں، کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔ یوں اچانک کس سے معافی مانگ رہے ہو، کیا ہوا ہے۔“

”تمہارا نام کیا ہے۔“

”کنیا۔“

”کنیا ۔۔ اوہ۔“

”کیوں کیا ہوا ۔۔۔ اور تمہارا۔“

”میرا نام اِندر ہے۔“

”تم یہاں کیا کرنے آئے ہو ۔۔۔ عجیب سوال کر رہی ہوں پر اور کیا پوچھوں تمہاری حالت دیکھ کر سمجھ میں نہیں آرہا۔“

”میں نہیں جی سکتا اس کے بغیر، مر جاو ¿ں گا میں، وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی ۔اسے اندازہ بھی ہے اس نے کیا کیا ہے ۔۔۔“

”ہیں ۔۔ کون کس نے کیا کیا ۔۔۔ کون۔“

”مجھے یقین نہیں ہوتا کہ وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے۔“

”صاحب، کیا بول رہے ہو، کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔۔۔ کچھ کہنا ہی چاہتے ہو تو پوری بات بتاﺅ، جس میںتم کو بھی سکون ملے۔“

”سکون اب مجھے کبھی نہیں مل سکتا۔“

”تو پھر یہاں کیوں آئے۔“

”میرا دوست بولا کہ یہاں آنے سے مجھے سکون مل جائے گا ۔۔۔ وہ جاکر بھی نہیں گئی، ہر طرف بس وہ ہی وہ ہے، میں پاگل ہو جاﺅںگا۔ میں پاگل ۔۔۔“

”کون ہے،کون چلی گئی ۔۔۔ صاحب پوری بات بتاﺅ۔ شاید کچھ ہو پائے۔“

”کیا ہو پائے گا تم سے ۔۔۔ جسم بیچنے کے علاوہ اور آتا کیا ہے تمہیں۔ تمہیں تو بس اپنے پیسوں سے مطلب ہے۔“

”اور کچھ۔“

اِندر کو احساس ہوا کہ اپنی مایوسی اور تکلیف میں وہ کنیا سے بدتمیزی کر رہا تھا۔

”سوری ۔۔۔لِیسن آئی ایم رئیلی سوری ۔۔۔“

”آپ چاہیں تو اپنی تکلیف بول سکتے ہو۔“

”مجھے نہیں معلوم کہ میں یہاں ایسی جگہ کیوں آیا، میں نے کبھی خواب میں بھی ایسی جگہ کا تصور بھی نہیںکیا تھا۔ یقین ہی نہیں ہو رہا کہ میں یہاں چلا آیا اور تم سے بات کر رہا ہوں۔“

”اور تمہیں اس بات کا افسوس ہے۔“

”نہیں ۔۔۔ ہاں میرا مطلب ہے ہاں ۔۔۔ افسوس کیوں نہیں ہو گا، میں نے ایک بہت عزت والے خاندان سے ہوں، یہ سب نہیں ہوتا ہمارے یہاں۔“

”اچھا ۔۔۔عزت دار لوگوں کی اجارہ داری ہے یہاں صاحب ۔۔۔ تم نہیں جانتے یہ الگ بات ہے۔“

”میں نہیں مانتا ۔۔۔ چلو ہوگا۔ میں نے پوری دنیا کی طرف سے دعوی نہیں کر سکتا۔بس اپنی کہتا ہوں میں ایسا نہیں ہوں۔“

”مان لیا۔آگے ۔۔“

”وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی، اس نے ایک بار بھی نہیں سوچا ،میں اس کے بغیر چل بھی نہیں پاتا، جیوںگا کیسے؟“

”کون تھی وہ؟“

”تھی مت بولو، تھی مت بولو ۔۔۔ وہ ہے۔ وہ ہے ۔۔ دیکھو دیکھو ۔۔۔ تم تھی بولا، میرا دل کتنی زور سے دھڑک رہا ہے۔۔ چھوکر دیکھو ۔۔۔“

ہمت نہیں ہوئی کنیاکی، اِندر کو چھونے کی۔

”کہاں چلی گئی ہے وہ۔“

”مجھے بول کر نہیں گئی، میں نہیں جی سکتا اس کے بِنا۔دیکھو مجھے سانس بھی نہیں آ رہی، اس نے مجھے کبھی سکھایا ہی نہیں اپنے بغیر جینا، تو میری کیا غلطی اس میں۔“

”کیا نام ہے اس کا۔“

”نام ۔۔۔ نام اس کا تاشی۔ تاشی نام ہے۔“

”سندر نام ہے۔“

”جب دیکھوگی، تب سوچوگی کہ نام زیادہ سندر ہے یا وہ خود۔“

”کہاں چلی گئی وہ۔“

”پتہ نہیں ۔میں روز کی طرح بس اسے ہی دیکھنے جا رہا تھا کہ فون آیا اور ادھر سے آواز آئی کہ فوراً آئیے ،ان کے پاس وقت نہیں اب ۔۔۔ اور میں بھاگا ۔ جیسے ہی اس کے پاس پہنچا ،اسے بانہوں میں لے لیا اور وہ میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کسی اور دنیا میں چلی گئی ۔۔۔ وہ کیا میرے پہنچنے کا ہی انتظار کر رہی تھی۔“

”اے بھگوان۔۔۔ کیا ہوا تھا اسے ۔۔۔ ۔۔“

”کینسر ۔۔۔ لیکن اس نے وعدہ کیا تھا، وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ اسی نے مجھ پر بھی امید جگائی تھی، کہا تھا، وعدہ کیا تھا، ٹھیک ہو جائے گی۔ یہ کہا تھا، ایک بار نہیں ہزار بار کہا تھا۔ اس نے کبھی کوئی وعدہ نہیں توڑاتھا۔۔۔ اسے آتا ہی نہیں تھا جھوٹ بولنا۔ پھر یہ کیا کیا اس نے۔“

”کب ہوا یہ۔“

”کل ۔۔۔ ہاں کل کی ہی تو بات ہے۔ میں اس سے کہہ کر نکلا تھاہاسپٹل سے کہ بس یوں گیامیں،اور یوں آیا۔ اس کے لئے ،اس کے پسند کے پھول لینے گیا تھا ۔۔۔ کیا ایک پل دور ہونے کی اتنی بڑی سزا دے گی وہ مجھے، میں نے کہا تھا نہ میںبس ابھی لوٹا۔“

اِندر کی حالت قابو سے باہر تھی۔ وہ دل دماغ سب طرف سے ٹوٹ چکا تھا۔ اسے نہیں تھا یہ احساس کہ وہ کہاں بیٹھا تھا، کس کے سامنے کیا بول رہا تھا، وہ صرف ایک بچے کی مانند اپنا دل کھول رہا تھا۔ جو کچھ اس کے اندر ابل رہا تھا، اسے باہر نکالنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ کنیا کے پاس سوائے سننے کے اور کوئی راستہ نہیں تھا اور وہ بھی صرف انسانیت سے کہیں زیادہ اس ڈر کے مارے کہ وہ آدمی اس چیز کے پیسے دینے سے انکار نہ کر دے ۔۔۔ لیکن دل کے کسی کونے سے آتے سوال کو کنیا نے اندر سے کر ہی لیا۔۔۔۔

”ایک بات پوچھوں۔“

” ہاں۔“

”اس وقت وہاں میرے ساتھ ایک اور لڑکی تھی ۔۔۔ جب تمہیں یہ سب کرنا ہی نہیں تھا۔ توتم نے مجھے ہی کیوںچنا۔“

”مجھے نہیں پتہ۔۔۔ لیکن ۔۔۔“

”لیکن ۔۔“

”لیکن میری تاشی کی آنکھیں تم سے ملتی ہیں۔ ایک لمحے کے لئے لگا ،تاشی مجھے دیکھ رہی ہے اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ مجھے آگے بڑھ کر تھام ہی لے گی ۔اپنی بانہوں کا سہارا دے ہی دے گی۔۔ میں ہوش میں نہیں تھا اس لئے تمہاری آنکھوں کواپنی تاشی کی آنکھیں سمجھنے کا پاپ کر بیٹھا۔“

”پاپ ۔۔“

”ہاںپاپ۔ یہ صرف پاپ ہی ہو سکتا ہے کہ میں اس کے جیسا کسی کو سمجھوں بھی۔ میں اب جی ہی کہاں رہا ہوں۔اس لئے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں نے جسم فروشی کے اڈے پر جاو ¿ں یا کسی مندر مسجد میں۔۔۔“

”مجھے نہیں پتا کہ مجھے تمہیں اس وقت کیا کہہ کر بہلانا چاہیے۔ لیکن اتنا ضرور کہوں گی، تم جب چاہے یہاں آ سکتے ہو، میں چپ چاپ تمہاری تاشی کی باتیں سنوںگی اور اس طرح سے تم اُسے ہمیشہ کےلئے زندہ رکھ پاو ¿ گے ۔۔۔“

”اس نے میری انہی بانہوں میں دم توڑا ہے۔ میں کس طرح زندہ رہ سکتا ہوں۔“

”پیار انسان کو خدغرض بنا دیتا ہے۔ لیکن یہی پیاردو انسانوں کو مہان بھی بنا دیتا ہے صاحب ۔۔۔ کوئی تو ادھورا سپنا ہوگا آپکی تاشی کا ۔۔۔ اس کو پورا کرنے کی خاطر ہی جی لو ۔۔۔ وہ تو آپ سے دور کبھی نہیں جا سکتی، یہ تو آپ کی حالت دیکھ کر ہی سمجھ آ رہا ہے۔ اس کے سپنوں کے سہارے ہی جی لو۔“

اِندر کے لا شعور نے سارے راستوں کو چیرتے ہوئے اس کے دماغ میں ایک دھماکا کیا ۔۔۔ ایک پردے سی سرسراتی عمر، جو اس نے تاشی کے ساتھ جنموںکی مانند گزاری تھی، چاروں طرف سے دستک دیتی چلی آئی اس کے دل و دماغ میں۔

”اِندر …. اِندر ۔۔۔سنو نا ۔۔“

”بولو نہ تاشی، سن تو رہا ہوں۔“

”کہاں سن رہے ہو، ہمیشہ کھوئے کھوئے رہتے ہو۔“

”تم ہو جب پاس تو کھو ہی جاو ¿ں گا نہ۔کیا لینا ہے اس دنیاداری سے مجھے۔“

”سنو نا ۔۔۔ میں کل ریڈ لائٹ جا رہی ہوں۔“

”کیا ۔۔۔ کیا کہا ۔۔۔ کہاں۔ کہاں جا رہی ہو۔“

”ہمم ۔۔۔ وہی جو تم نے سنا۔ ریڈ لائٹ۔“

”دماغ تو ٹھیک ہے، ہوش میں تو ہو ۔۔ خبردار جو نام بھی زبان پر لائی۔“

”اِندر سنو تو ۔۔۔ میری ریسرچ کا ٹاپک ہے نا۔ جانا تو پڑے گا نا ۔۔۔“

”یہ کیا ٹاپک ہے ۔۔بدلواسے ۔۔۔“

”کیا اِندر ۔۔۔ ایسے کیسے، ویسے بھی میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ ایسی کیا مجبوری ہوتی ہے ان عورتوں کی ۔ جو یہ سب کرنا پڑتا ہے انہیں۔“

”ہوتی ہوگی، تم مت پڑو ان چکروں میں۔“

”تم کتنے بے حس ہو اِندر، ایسا کیسے کہہ سکتے ہو ۔۔۔ میں تو جاو ¿ں گی اور اسی ٹاپک پر ریسرچ کروں گی بس کہہ دیا۔۔۔ اور اگر کبھی میرے کسی سپنے کو پورا کرنے کا خیال دل میںآئے۔ تو یہی سوچنا کہ ایسی عورتوں کو وہاں سے مکتی کیسے دلوائی جائے۔۔۔“

اِندر کا لا شعور اپنی جگہ پر جوں کا توں واپس پہنچ چکا تھا، کنیا کی کہی بات اور تاشی کے ادھورے سپنے، اس کے سامنے مضبوط دیوار کی طرح کھڑے تھے۔

”کنیا ۔۔۔کیا میں تمہارے ہاتھ پکڑ سکتا ہوں۔“

”صاحب ۔۔۔ کیا ہوا۔“

”کہو تو پہلے، مجھے اس کی اجازت ہے کیا۔“

”آپ مرضی صاحب ۔پیسہ چکایا ہے آپ نے جو چاہے وہ ۔۔۔“

”نہیں نہیں ۔۔۔ غلط نہ سمجھو ۔۔“

اِندر نے کسی مقدس شے کی مانند کنیا کے ہاتھوں کو ہونٹوں اور سر سے لگا کر آنکھیں بند کیں اور ۔۔۔۔

”کنیا ۔۔۔ اگر آج میں یہاں نہیں آتا تو تاشی کو ہمیشہ کے لئے کھو دےتا۔میں تمہارا احسان تو کبھی نہیں چکا سکتا۔ لیکن یہ وعدہ کرتا ہوں کہ تاشی کا سپنا ضرورپورا کروں گا اور تمہارا بھی …. بس اگلی بار جب آو ¿ں۔ تب تم جیسی جتنی اور بھی ہیں۔ جو یہاں سے نکلنا چاہتی ہیں، انہیں کہہ دینا کہ ان کے یہاں سے نکلنے کا وقت آ گیا ہے۔“

اتنا کہتے ہی اِندر اُس پردے کی جھالر کو سرکا کر بجلی کی مانند تیزی سے باہر نکل گیا۔ رات تقریبا ًگزر چکی تھی۔ مندروں میں گھنٹیوں کا شور، تو کہیں دور مسجد میں ہوتی اذان سنائی دے رہی تھی ۔ کنچن بھی نیند سے جاگ چکی تھی۔

 چاروں طرف روشنی نے اپنی دستک دے دی تھی۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خوشی … شیکھا گپتا/عامر صدیقی

خوشی شیکھا گپتا/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. آج جیسے ہی گھر سے آفس کے لئے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے