سر ورق / کہانی / اسی گردش ماہ و سال میں۔۔۔ عشناء کوثر سردار ۔۔۔ دوسرا حصہ

اسی گردش ماہ و سال میں۔۔۔ عشناء کوثر سردار ۔۔۔ دوسرا حصہ

اسی گردش ماہ و سال میں۔۔۔

عشناء کوثر سردار ۔۔۔

دوسرا حصہ

”مجھے کوئی ڈر نہیں ہے۔“ وہ اٹھنے لگی تھی مگر اس نے ہاتھ پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے اسے دوبارہ بٹھا دیا۔

”بارش تیز ہو رہی ہے میکال شاہ!“ وہ جتاتے ہوئے بولی۔

”ہونے دو۔“ وہ عجیب دیوانگی میں بولا۔

”کیا چاہتے ہو، یہ بچپنا کس لیے؟“ اس نے تھک کر پوچھا۔

”شادی کرو گی مجھ سے؟“ اس نے پُراعتماد لہجے میں پوچھا۔

”شادی…. اس طرح…. کتنا جانتے ہیں ہم ایک دوسرے کو؟ کیا یہ بے وقوفی نہیں ہو گی؟“ وہ بضد تھی جیسے وہ حفاظتی بندباندھ کر طوفان کوٹالنا چاہ رہی تھی۔

”اگر یہ بے وقوفی ہے تو مجھے خرد کو خیرباد کہہ دینے میں کوئی ملال نہیں ہو گا۔“

”یہ پاگل پن ہے میکال شاہ! میری منگنی دس برس کی عمر میں ہو گئی تھی، تم جانتے ہو فاطمہ میری کون ہے؟ میںاس کی کزن نہیں ہوں، وہ میرے بابا کی منگیتر تھی، ہمارے خاندان میں بچپن کی شادیاں اور منگنیاں کرنے کا رواج عام ہے، میرے بابا نے اس کے خلاف بغاوت کی تھی انہوں نے فاطمہ سے شادی نہیں کی اور فرانس چلے گئے تھے، وہاںانہوں نے میری ممی سے شادی کی مگر جلد ہی یہ حسین خواب ٹوٹ گیا۔ وہ دونوں ایک حادثے میں نہیں رہے اور مجھے اسی گھر میں واپس آنا پڑا اور تب میری منگنی ایک اکیس سال کے نوجوان سے کر دی گئی تھی، عمر بھائی بھی پڑھے لکھے تھے وہ مجھے اس سے بچانا چاہتے تھے۔ انہیں مجھ سے محبت نہیں تھی اور محبت ہونے کا کوئی جواز بھی نہیں تھا۔ تم جانتے ہو مجھے گھر سے نکال دیا گیا، میں یہاں رہ رہی ہوں تو صرف اس لیے کہ میرے پاس کوئی اور ٹھکانہ نہیں۔ عمر بھائی میرے منگیتر نے مجھے یہاں چھوڑاتھا۔ ان کی نظر میں میرے لیے یہ سب سے مضبوط پناہ گاہ تھی مگر….“ اس نے تھک کر گہری سانس لی۔

”میکال شاہ! مجھے محبت، شادی، ان سے بہت ڈر لگتا ہے۔ پلیزمجھے اس خوف میں مبتلا مت کرو، شاید مجھے اس خوف سے باہر آنے میں کچھ وقت لگے مگر…. میں نہیں جانتی۔“ وہ سر نفی میںہلاتی ہوئی بولی اور اس کی طرف سے نظریں پھیر لیں۔

”میری طرف دیکھو آنیہ! کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں اس ڈر کو تمہارے اندر سے نکال پانے میں ناکام رہوں گا۔ کیا تم اپنے یہ بیکار کے خدشے ایک طرف رکھ کر ہم دونوں کے بارے میں سوچ نہیں سکتیں!“ وہ بارش میں بھیگتا مدھم لہجے میں کہہ رہا تھا۔ آنیہ مرتضیٰ خان کی آنکھیں اسے تک رہی تھیں۔

”ان آنکھوں کو شناسائی کے موسم دو آنیہ خان! یہ شناسائیوں کے بنا بہت بے رنگ لگتی ہیں، ان آنکھوں کو اس طرح بے رنگ مت کرو۔“

”میکال شاہ! میں نہیں جانتی دادا ابا کا فیصلہ کیا ہو گا، میں تمہیں اپنے ساتھ خطرات کی نذر نہیں کرنا چاہتی۔ میں تمہیں مشکلات میںنہیں گھیر سکتی۔“

”کیا تم مجھ سے محبت بھی نہیں کر سکتیں؟ بنا کسی نفع نقصان یا سود و زیاں کے خوف کے؟ کیا محبت اتنی کمزور ہے کہ سارے خوف اس پر حاوی ہو رہے ہیں، تم اپنے اندر کے وہ خوف ختم کرنا کیوں نہیں چاہتیں آنیہ خان!“

”اگر میں کہوں آنیہ خان کہ میں جانتا ہوں ان آنکھوں میں محبت ہے تو، تم میری طرف دیکھنا بند کر دو گی یا پھر خوف سے اپنی آنکھوں کو بند کر لو گی اور تمہیں یقین ہے کہ آنکھوں کو بند کرلینے سے وہ روشنی پھوٹ کر باہر نہیں آئے گی، تم ان روشنی کی لکیروں کو بند کمروں میں قید کر پاﺅ گی آنیہ مرتضیٰ خان! اور ان آنکھوں کا کیا کرو گی تمہاری ہر نظر ایک روشنی ہے۔ تم بات کرو نہ کرو، وہ روشنی بات کرتی ہے، تم یہ سارے وصف کیسے بھول پاﺅ گی اور بھول جانے کی ٹھان بھی لو تو کیا یہ ممکنات میں سے ہو گا؟“ اس کے لہجے کا یقین حد سے سوا تھا۔

آنیہ مرتضیٰ اس شخص کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ وہ عجیب تھا، بہت عجیب مگر اس کا دل اس کے لیے دھڑک رہا تھا۔ وہ بارش میں بھیگتی اس شخص کو چپ چاپ دیکھ رہی تھی اور صبح جب وہ اٹھی تھی تو بوا اس سے پوچھ رہی تھیں۔

”تم رات ٹیرس پر بارش میں بھیگتی رہی ہو، تمہاری ناک سرخ ہو رہی ہے اور آنکھیں بھی۔“ اور وہ نظریں نہیں ملا پا رہی تھی۔ یقینا بوا نے اسے میکال شاہ کے ساتھ بیٹھا دیکھ لیاتھا۔

”وہ میں بیٹھی تھی تو میکال شاہ وہاں آ گئے تھے اور….“

”کوئی بات نہیں، تمہیں اس طرح وضاحتیں دینے کی ضرورت نہیں، مگر مجھے ایک بات پریشان کر رہی تھی۔“ بوا نے اس کے سامنے کافی رکھتے ہوئے کہا۔

”وہ کیا؟“ وہ چونکی۔

”تم جانتی ہو فاطمہ کو کسی سے محبت ہوئی ہے،اب سے نہیں پچھلے پانچ سالوں سے۔“

”اچھا! کس سے؟“ وہ ڈاکٹر طحہٰ…. جو اس روز گھر آئے تھے؟ وہ توبہت نائس ہیں، فاطمہ ان کے ساتھ کھڑی اچھی بھی بہت لگ رہی تھیں، دونوں کی جوڑی اچھی رہے گی اور….“ وہ بول رہی تھی جب بوا نے اسے چپ کرایا۔

”نہیں، طحہٰ وہ نہیں ہے۔“ وہ حیران سی بوا کو دیکھنے لگی تھی۔

”تو پھر کس سے؟“ وہ چونکی تھی۔

”میکال شاہ!“ بوا نے بتایا تھا اور وہ ساکت رہ گئی تھی۔

”کیا….؟“ اس کے سر پر جیسے آسمان آن گرا تھا۔

”ہاں! وہ میکال شاہ ہے مگر میکال شاہ پانچ برس چھوٹا ہے فاطمہ سے، سو فاطمہ نے کبھی کوئی پیشرفت نہیں کی۔“ بوانے آگاہ کیا۔

”تو کیا میکال شاہ بھی؟“ اسے اپنی آواز بہت اجنبی لگی۔

”میکال نے کبھی کچھ کہا نہیں مگر جس طرح وہ یہاں آتا ہے، اپنا وقت فاطمہ کے ساتھ گزاتا ہے، اس سے لگتا ہے وہ فاطمہ کو پسند کرتا ہے مگر شاید وہ فاطمہ کو پروپوزکرتے ہوئے ڈرتا ہے کہ کہیں وہ انکار نہ کر دے۔“ بوانے وضاحت دی۔ آنیہ کو سارے خواب ایک لمحے میں کرچیوں میں بٹتے دکھائی دئیے، اپنا لہجے اسے بہت اجنبی لگا اور ساکت سی بوا کو دیکھتی رہی۔

”فاطمہ نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟“

”فاطمہ بہت سی باتیں اپنے اندر دبا کر رکھتی ہے، اس کی عادتوں کوجانتی ہوں میں۔ تبھی مجھے ڈر تھا اسے کوئی نقصان نہ ہو، میں نے تمہیں بتانا ضروری سمجھا۔ کہیں تم اس تکلیف کی وجہ نہ بنو۔“ بوا بہت سہولت سے کہہ رہی تھیں۔

”مجھے غلط مت سمجھو بیٹا! میرے لیے تم بھی میری بیٹی جیسی ہو مگر فاطمہ کی محبت نے پانچ برس انتظار کیا ہے، وہ جن حالات اور تجربات سے گزری ہے اسے حق ہے کہ وہ بھی خوشیو ںکو چنے، خوشیوں کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ فاطمہ تمہیں اپنی چھوٹی بہن کی طرح محبت کرتی ہے، فاطمہ کا دل بہت بڑا ہے اگر اسے خبر ہوئی تو وہ سب کچھ تمہاری جھولی میں ڈال کر خود بے فکر ہو جائے گی مگر میں نہیں چاہتی فاطمہ مزید کوئی قربانی دے، تم عمر کے اس حصے میں ہو جہاں بہت سے راستے مل سکتے ہیں مگر فاطمہ اس جگہ کھڑی ہے جہاں راستوں کا اختتام قریب ہے، میں چاہتی ہوں وہ اپنی منزل جلد پا لے۔ بیٹا! تم سمجھ رہی ہو نا میری بات؟“ بوانے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس نے سر اثبات میں ہلا دیا۔

٭….٭….٭

اس نے سوچ لیا تھا کہ اسے کیا کرنا تھا۔ اس روز جب سب شام کی چائے پی رہے تھے تبھی وہ بولی۔

”فاطمہ! میں نے سوچا ہے میں فرانس واپس چلی جاﺅں اور اپنی اسٹڈی وہاں کمپلیٹ کروں۔ ان فیکٹ میں نے کچھ یونیورسٹیزکو بھی چیک کیا ہے، بابا کا بھی خواب تھا۔“ میکال شاہ نے اسے حیرت سے دیکھا اور فاطمہ بھی چونکی۔

”تم اچانک یہاں سے جانے کی بات کیوں کر رہی ہو؟“

”نہیں اچانک نہیں، میں کافی دنوں سے سوچ رہی تھی۔“ آنیہ نے اپنے طور پر جواز دیا۔

”وہاں بابا کا بزنس بھی ہے جسے انکل ہاشم دیکھ رہے ہیں، میں وہاں جاﺅں گی تو اس بزنس کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکوں گی۔“

”تم کہیں نہیں جاﺅ گی آنیہ!“ فاطمہ نے دو ٹوک انداز میںکہا۔

”تو پھر جلدی شادی کر لیں تاکہ میری ذمہ داری ختم ہو اور میں دنیا کی سیر کو نکل سکوں۔“ وہ مسکراتی ہوئی بولی تھی، فاطمہ مسکرا دی اور میکال کو دیکھنے لگی۔

”تم دیکھ رہے ہو اس لڑکی کو، دادی اماںوالی باتیں کر رہی ہے۔ جیسے میری ساری ذمہ داری اس کے کاندھوں پر تو ہے۔“ وہ مسکرا رہی تھی۔

”آئی امپریس فاطمہ! آپ کو شادی کر لینا چاہیے۔“ میکال نے محسوس کیا تھا وہ کچھ عجیب برتاﺅ کر رہی تھی، وہ جیسے اس کی باڈی لینگویج سے اس کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

”تم نے کوئی لڑکا دیکھا ہے؟“ وہ بولے بنا نہیں رہا تھا۔

”ہماری فاطمہ اتنی سمجھدار ہیں، خود اپنا ہمسفر چن لیں گی، کیوں فاطمہ؟“ وہ مسکرائی تو فاطمہ بھی مسکرا دی۔

”پہلے تم شادی کر لواس کے بعد میں کروں گی، تم اب میری ذمہ داری ہو اور تمہارے ہوتے ہوئے میں کوئی اور ذمہ داری لینا نہیں چاہتی۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔

”آنیہ ٹھیک کہہ رہی ہے فاطمہ! تم پہلے اپنے بارے میں سوچو۔“ وہ آنیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تبھی بوا بھی مسکرائی تھیں۔

”فاطمہ! آنیہ ٹھیک کہہ رہی ہے تمہیں اب کوئی فیصلہ لے لینا چاہیے۔“

”یہ آج آپ سب نے مل کر میرے خلاف محاذ کیوں بنا لیا ہے؟“ وہ مسکرائی۔ ”اچانک سے سب کو میری شادی کی فکر کیوں ہونے لگی۔“

”اچانک نہیں، میں تو تمہیں ہمیشہ ہی کہتی ہوں تمہاری شادی ہو تو میری بھی کچھ فکر کم ہو۔“ بوابولیں، وہ بوا کو پیار سے گلے لگاتی ہوئی مسکرا دی۔ آنیہ وہاں خود کو بہت مس فٹ محسوس کر رہی تھی۔ وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں آ گئی۔ آج جانے کیوں آنکھیں بھیگ رہی تھیں جیسے اسے خود پر کنٹرول نہیں رہا تھا۔ دروازے پر آہٹ ہوئی تو اس نے فوراً آنکھوں کو رگڑا، میکال شاہ نے دروازے پر کھڑے ہو کر اسے دیکھا تھا۔ وہ اس کی طرف پشت کر کے بیٹھی تھی۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ نہیں پایا تھا۔ آنیہ مرتضیٰ کویہ غنیمت لگا تھا وہ اس کیفیت میں میکال شاہ کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی۔ اچھا ہوا تھا جو اس نے اقرار اسے نہیں سونپا تھا ورنہ آج اسے شرمندہ ہونا پڑتا۔ وہ سوچ رہی تھی تبھی میکال شاہ آگے بڑھ آیا تھا اور آنیہ مرتضیٰ کے سامنے آن رکا۔ آنیہ مرتضی کے لیے اپنے چہرے کو چھپانا محال ہو گیا تھا وہ اس گھڑی اس کا سامنا نہیں کر سکتی تھی اور وہ اس کے چہرے کو بغور تکتے ہوئے جیسے سطر سطر پڑھ رہا تھا۔

”آپ روئی ہیں؟“ وہ مکمل یقین سے اس کی جھکی پلکوں کو دیکھ رہا تھا۔

”نہیں، وہ….“ آنیہ مرتضیٰ سے کوئی بہانہ نہیں بن پا رہا تھا۔

”کیا نہیں؟“ وہ وضاحت چاہ رہا تھا۔

”یونہی بابا اور ممی کی یاد آ گئی تھی، آج وہ زندہ ہوتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔“ وہ بات بناتے ہوئے بولی تھی مگر وہ اس کا چہرہ بغور تک رہا تھا۔

”کیا بات ہے؟“ وہ پوچھ رہا تھا۔

”بتایا تو ہے آپ کو۔“

”آپ کا چہرہ یہ نہیں کہہ رہا، یہ آنکھیں کچھ اور کہہ رہی ہیں۔“ وہ جتاتے ہوئے بولا۔ آنیہ مرتضیٰ خان چونک کر اسے دیکھنے لگی۔

”مجھے آپ سے ضروری بات کرنا ہے۔“

”کریں، آئی ایم ہیئر۔“ وہ مکمل توجہ سے اسے دیکھ رہا تھا۔

”نہیں، ابھی نہیں، پھر کبھی سہی۔“ وہ نظریں چراتے ہوئے بولی۔

”ابھی کیوں نہیں؟“ وہ بضد دکھائی دیا، آنیہ الجھن سے چہرہ پھیر گئی۔ میکال شاہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کا چہرہ اپنی جانب کیا اور اس کے چہرے کو بغور تکتے ہوئے بولا۔

”اس چہرے پر جو لکھا ہے وہ الجھا وے لیے ہوئے ہے، میں آدھا پڑھ سکتا ہوں باقی آدھے کو سمجھنے کے لیے مجھے آپ کی معاونت کی ضرورت ہے۔“ وہ مدھم لہجے میں بولا اور ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھاما مگر آنیہ نے اس کا ہاتھ فوراً جھٹک دیا اور دو قدم دور ہٹ گئی۔

”میکال شاہ کھیل کھیلنا بند کرو، تم ایک ساتھ دو جگہ نہیں کھیل سکتے۔تم میری نظروں سے گرتے جا رہے ہو میکال شاہ!“ وہ بہت پُرسکون لہجے میںبولی، میکال شاہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔

”کیا…. کیا کہہ رہی ہو تم، میں نے کیا کیا ہے، کس کھیل کی بات کر رہی ہو تم؟“ وہ حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا۔ وہ نفرت سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

”تم جانتے ہو فاطمہ تم سے محبت کرتی ہیں؟ تم ایک ساتھ ہم دونوں سے کیسے کھیل سکتے ہو؟“ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مضبوط لہجے میں بولی۔

”کیا…. کیا بات کر رہی ہو تم؟“ وہ حیرت سے بولا۔

”میکال شاہ! تم یقینا جانتے ہو گے نا کہ فاطمہ پچھلے پانچ سال سے تمہیں چاہتی ہیں، تم فاطمہ کو بےوقوف بنا رہے ہواور مجھے؟ تمہیں لگتا ہے تم اتنے گرے ہوئے کھیل کھیل سکتے ہو اور اس کی خبر کسی کو نہیں ہو گی، کیوں کر رہے ہو تم ایسا؟ وہ کانپتے وجود کے ساتھ اس کے سامنے کھڑی پوچھ رہی تھی۔ میکال شاہ نے اسے دیکھتے ہوئے شانوں سے تھاما تھا اس کے اندر کس قدر قیامت تھی اس کا اندازہ اسے اس کی گرفت سے ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ اسے اپنے گوشت میں گھستے ہوئے محسوس ہوئے تھے، وہ جلتی شعلے برساتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

”میں نے کوئی کھیل نہیں کھیلا آنیہ مرتضیٰ! میں نے فاطمہ سے کبھی محبت نہیں کی، مجھے فاطمہ خان سے محبت کبھی نہیں ہوئی۔ میں فاطمہ خان کی عزت کرتا ہوں مگر میں نے کبھی انہیں اس زاوئیے سے نہیں دیکھا۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں، مگر میرے لیے ان کی عزت، ان کا وقار بہت اہم ہے۔ میں ایسا کچھ نہیں سوچ سکتا ان کے بارے میں، کس کھیل کی بات کر رہی ہو تم…. تم سے محبت کی ہے میں نے، جو کھیل کھیلتے ہیں وہ ساتھ زندگی گزارنے کے وعدے نہیں دیتے۔ میں نے ان پانچ سالوں میں فاطمہ خان کو کبھی کوئی وعدہ نہیں دیا نہ کوئی اشارہ دیا۔ میری نگاہ ان کی طرف جب بھی اٹھی اس میں احترام تھا۔ مجھے رشتوں کو مان دینا آتا ہے، تم فاطمہ خان سے پوچھ سکتی ہو، میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔“ وہ مضبوط لہجے میں کہہ رہا تھا، آنیہ خان نے ڈبڈباتی نظروں سے اسے دیکھا تھا، وہ پلٹنے لگا تھا۔ آنیہ مرتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام لیا وہ پلٹا نہیں تھا۔ آنیہ نے اس لمبے چوڑے شخص کی طرف دیکھا تھا۔

”آئی ایم سوری، مگر…. “ وہ مدھم لہجے میں بولی، آنکھیں ڈبڈبائی تھیں، اس شخص کا عکس دھندلانے لگا تھا، وہ ضبط ہارنے لگی تھی تبھی اچانک ایک قدم کا فاصلہ طے کر کے اس نے اس شخص کے شانے پر اپنا سر رکھ دیا تھا۔ آنسو چپ چاپ بہنے لگے تھے، میکال شاہ بنا حرکت کیے کھڑا اس کا سر اپنے شانے پر دیکھ رہا تھا۔ اس نے اس کے گرد نہ اپنا حصار باندھا تھا نہ کوئی سرگوشی اس کی سماعتوں کو سونپی تھی۔

”میکال شاہ! فاطمہ خان تم سے محبت کرتی ہیں، ایک دن نہیں دو دن نہیں، پانچ سال انہوں نے تمہیں دئیے ہیں۔ تمہیں اس محبت کی خبر نہیں ہوئی مگر اس محبت کی وقعت ہے۔ فاطمہ خان نے زندگی کوبہت جھیلا ہے۔ انہیں اور دکھ مت پہنچانا۔“ اس کے شانے پر سر رکھے وہ بھیگی آنکھوں سے کہہ رہی تھی۔

”میں چاہتی ہوں تم فاطمہ خان کو پروپوز کرو، اس محبت کا جواب محبت سے دو، فاطمہ بہت اچھی ہیں۔ وہ تمہاری زندگی کو خوشیوں سے بھر دیں گی۔ تمہیں فاطمہ خان سے شادی کرنا چاہیے۔“ وہ اپنے طور پر فیصلہ صادر کرتی ہوئی بولی، میکال شاہ نے بہت آہستگی سے اسے خود سے الگ کیا اور اس کے چہرے اور آنکھوں کو بغور دیکھا۔

”آنیہ خان! میں یہ شادی نہیں کر سکتا، میرے لیے ایسا ناممکنات میں سے ہے۔ میرے پاس ایک زندگی ہے اور میں اسے تجربات کی نذر نہیں کر سکتا۔ میں فاطمہ کے لیے کوئی فیلنگ نہیں رکھتا۔ تمہیں اپنے طور پر فیصلے کرنے کی عادت ہو گی مگر تم ان فیصلوں کو مجھ پر مسلط نہیں کر سکتی ہو۔ میں بے سمت منزلوں کا سفر نہیں کر سکتا۔ یہ فاطمہ کے ساتھ بھی ناانصافی ہو گی۔ وہ بہت اچھی ہیں، میں فاطمہ خان کے لائق خود کونہیں سمجھتا۔“ وہ مضبوط لہجے میں بولا اور آنیہ مرتضیٰ خان اس سے دور ہو گئی تھی۔

”تو پھر میری زندگی میں بھی تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔“ وہ مضبوط لہجے میں بولی۔ میکال شاہ نے اسے جلتی نظروں سے دیکھا پھر اس کا ہاتھ تھام کر ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا۔

”میں تم سے پیار کرتا ہوں ڈیم اٹ! کیا چاہتی ہو تم؟ کیوں کھیلنا چاہتی ہو تین زندگیوں سے،تمہیں خبر ہے تم کیا کہہ رہی ہو؟ میں تمہارا کھلونا نہیں ہوں جو تم مجھ سے کھیلنا چاہتی ہو۔“ وہ جارحانہ اندازمیں کہہ رہا تھا وہ اس کے قریب تھا۔ اس کے شعلے برساتی نظریں اس کے چہرے کو جھلسا رہی تھیں۔ وہ اسے خاکستر کر دینا چاہتا تھا۔ ان آنکھوں میں گہرائی تھی اور وہ گہرائی آنیہ مرتضیٰ کے لیے محبتوں سے بھری تھی۔ اس کی گرم گرم سانسیں اس کے چہرے کو جھلسا رہی تھیں، یہ محبت اس کے آس پاس تھی، ان دھڑکنوں کا شور وہ سن رہی تھی، وہ دل اس کے لیے دھڑک رہا تھا، وہ چاہتی تو ہاتھ بڑھا کر سب اپنے نام کر لیتی مگر وہ بہت آہستگی سے اس کی گرفت سے نکل گئی۔

”مجھے تم سے محبت نہیں ہے۔“ وہ پُرسکون اندازمیں سر نفی میں ہلاتی ہوئی بولی۔ مگر میکال شاہ کے اعتماد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ وہ مکمل سکون سے اسے دیکھتا رہا۔

”اگر تمہیں محبت نہ ہوتی تو تم تھوڑی دیر قبل میرے شانے پر اپنا سر رکھ کر یوں آنسو نہ بہاتیں آنیہ مرتضیٰ خان! تمہیں خبرنہیں ہے مگر تم نے اپنی روح، وہ محبت وہیں میرے شانے پر چھوڑ دی ہے۔ تم نے اپنے ل کی دھڑکنوں کو یہیں میرے سینے پر منتقل کر دیا ہے۔ تم اس احساس سے کیسے بچ پاﺅ گی؟ اگر دل اور روح تم نے میرے وجود میں چھوڑ دی ہے تو پھر تمہاری زندگی کی حقیقت کیا ہو گی، کیسے جی پاﺅ گی آنیہ مرتضیٰ خان! کیا سانسیں لے سکو گی اور اس سانس لینے میں زندگی کی کوئی رمق زندہ ہو گی؟“ میکال شاہ نے اسے تھام کر جیسے جھنجھوڑا تھا مگر وہ ساکت ہوئی اس کی طرف دیکھ رہی تھی اور اس گھڑی میکال شاہ کو جیسے بہت افسوس ہوا تھا۔

”تم غلط کر رہی ہو آنیہ مرتضیٰ! بہت غلط کر رہی ہو، دلوں کو خانوں میں بانٹ رہی ہو۔ تمہیں اپنے دل کی فکر نہیں ہے اور تمہیں میرے دل کی بھی خبر نہیں ہے۔“ میکال شاہ نے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑا اور باہر نکل گیا۔ وہ کھڑی دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔

٭….٭….٭

فاطمہ خان نے اس کے کپ میں چائے انڈیلتے ہوئے میکال شاہ کو بغور دیکھا، وہ نیوزپیپر پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا اور آنیہ خاموشی سے سلائس پر مارجرین لگا رہی تھی۔

”کیا ہوا…. یہ اتنی خاموشی کیوں؟“ فاطمہ خان نے پوچھا تو آنیہ خان نے خاموشی سے فاطمہ کی طرف دیکھا تبھی وہ بولا۔

”فاطمہ! یہ خاموشی معمولی نہیں ہے، آنیہ سے پوچھیں۔“ وہ اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا وہ چونک کر دیکھنے لگی میکال شاہ اس کی طرف دیکھتا ہوا مسکرا دیا۔ فاطمہ نے اس کی طرف دیکھا۔

”کیا ہوا؟ تم ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو جیسے تم چوری کرتے ہوئے پکڑی گئی ہو؟“ فاطمہ مسکرائی، وہ اس کی طرف دیکھتا ہوا مطمئن دکھائی دے رہا تھا۔ آنیہ کو اپنا اعتماد بحال کرنا پڑا۔

”نہیں وہ…. میں رات بھر اسائنمنٹ پر کام کرتی رہی تو کسی قدر تھکن تھی، میں سمجھ نہیں پائی کہ میکال شاہ کس بارے میں بات کر رہے ہیں، آپ میکال شاہ سے پوچھ لیں۔“ آنیہ نے اس کی طرف رُخ موڑ دیا تھا، وہ مطمئن سا مسکرایا تھا۔

”آپ کے دل کی خبرمجھے کیسے ہو سکتی ہے آنیہ مرتضیٰ! میرا مطلب ہے آپ کیا سوچتی ہیں، کیا پلان کرتی ہیں، اس کی خبر تو صرف آپ کو ہی ہو سکتی ہے نا؟ آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کا دماغ پڑھ سکتا ہوں یا دل پر کوئی اختیار رکھتا ہوں۔“ وہ پُرسکون تھا، فاطمہ خان مسکرا دی۔

”آنیہ! تم باتوں میں میکال سے نہیں جیت سکتیں، خیر مجھے دیر ہو رہی ہے، شام میں ملتے ہیں۔“ وہ اٹھنے لگی تھی جب وہ بولا۔

”فاطمہ! آنیہ بتا رہی تھی اس نے آپ کے لیے ایک لڑکا دیکھا ہے۔“

”لڑکا….؟“ فاطمہ چونکی اور آنیہ کی طرف دیکھا، آنیہ نے حد درجہ حیرت سے اس بندے کو دیکھا مگر اس کا اطمینان ہنوز برقرار دکھائی دیا تھا۔

”فاطمہ وہ….“ وہ تذبذب کا شکار دکھائی دی۔

”آنیہ مرتضیٰ! تمہیں بتانا چاہیے نا فاطمہ کو کہ تم ڈاکٹر طحہٰ کے بارے میں بات کر رہی تھیں اور تمہیں ڈاکٹر طحہٰ اور فاطمہ کی جوڑی بھی بہت اچھی لگتی ہے؟“ فاطمہ نے حیرت سے آنیہ کو دیکھا تھا تبھی آنیہ بولی تھی۔

”وہ دراصل اس روزباتوں باتوں میں،مجھے…. دراصل میکال شاہ ہی نے ذکر چھیڑا تھا میکال آپ نے ہی تو کہا تھا کہ طحہٰ کے ساتھ فاطمہ کی جوڑی اچھی لگے گی؟“ وہ اس کا کھیل اس کے سر ڈال رہی تھی وہ مسکرا یا۔

”تو کیا غلط کہا، دونوں ساتھ اچھے تو لگتے ہیں۔ فاطمہ آپ مانیں یا نہ مانیں اس لڑکی کو آپ کی شادی کی فکر بہت زیادہ ہو رہی ہے۔ شاید اسے اپنی شادی کی جلدی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ آپ راستے سے ہٹیں گی تو اس کی باری آئے گی۔“ وہ مسکرایا تو آنیہ نے اسے گھورا۔ فاطمہ خان نے ان دونوں کی طرف دیکھا پھر بیگ شولڈر پر ڈالتی ہوئی بولی۔

”میں چلتی ہوں، شام میں ملتے ہیں۔“ کہتے ہی فاطمہ وہاں سے نکل گئی تھی۔ آنیہ فوراً کرسی کھینچ کر اٹھی تبھی اس نے کلائی تھام لی تھی۔ آنیہ پلٹ کر اس شخص کو دیکھنے لگی تھی، میکال شاہ اس کی سمت بغور دیکھ رہا تھا۔

”تم راستوں کو بانٹنے کی ٹھان لو تو بھی دلوں کو نہیں بانٹ پاﺅ گی آنیہ مرتضیٰ! تم تھک جاﺅ گی، ہار جاﺅ گی کیونکہ تمام راستے وہیں پلٹ آئیں گے جہاں سے شروع ہوئے تھے اور تمہیں مان لینا پڑے گا کہ منزلوں کو چُن لینا یا چھوڑ دینا تمہارے اختیار میں نہیں۔“ وہ اطمینان سے کہہ رہا تھا۔ اس کی کلائی پراس کی گرفت مضبوط تھی، آنیہ مرتضیٰ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی اس شخص کے لہجے کا یقین اسے ڈرانے لگا تھا۔

”تم اپنے طور پر راستوں کا تعین تو کر سکتی ہو آنیہ مرتضیٰ! مگر منزلوں تک رسائی پانا تمہارے لیے ناممکن ہو گا۔“ وہ بہت بکھرا دکھائی دیا تھا۔

”مجھے ان باتوں کی فکر نہیں ہے میکال شاہ!“ وہ ہٹ دھرم لہجے میں بولی۔ ”ان باتوں کی فکر وہ کرتے ہیں جو….“ اس سے قبل کہ اس کی بات مکمل ہوتی میکال نے اس کے لبوں پر شہادت کی انگلی رکھ دی اور اسے بغور تکتے ہوئے بولا۔

”تمہیں کچھ خبر نہیں ہے آنیہ! تمہیں سب بہت آرام سے مل رہا تھا، تمہیں قدر نہیں ہوئی تمہیںخبرنہیں بے قراری کیا ہوتی ہے اور اضطرابی کسے کہتے ہیں؟ ان باتوں کا ہنر تمہیں نہیں آتا کیونکہ تمہیں تو اپنے دل کے دھڑکنے کی بھی خبرنہیں۔ تمہیں تو یہ بھی خبر نہیں کہ تمہاری آنکھیں مجھ سے وہ سب کہہ جاتی ہیں جو تم خود کہنے سے گریزکرتی ہو، تم ان بے قراریوں کے معنی سمجھ پاﺅ گی تو جان پاﺅ گی کہ محبت کی موجودگی کیا ہوتی ہے اور محبت کا نہ ہونا کیا ہوتا ہے۔“ بہت سی گرم سانسیں اس کے چہرے پر چھوڑتا ہوا وہ وہاں سے نکل گیا اور آنیہ ساکت سی کھڑی رہ گئی تھی۔

٭….٭….٭

”آنیہ! کیا تھا وہ سب؟“ شام میں جب وہ فاطمہ کی ہیلپ کچن میں کھڑی کر رہی تھی تو فاطمہ نے پوچھا اور وہ چونک کر رہ گئی۔

”کیا فاطمہ…. کس بارے میں پوچھ رہی ہیں آپ؟“

”صبح میکال شاہ کیا کہہ رہا تھا؟“ فاطمہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔

”فاطمہ! آپ جانتی ہیں اسے، آپ اس کی باتوں کو سیریس لے سکتی ہیں لیکن مجھے آپ سے بات کرنا تھی۔“ وہ کسی نتیجے پر پہنچتے ہوئے بولی تھی۔

”کیا بات؟“ فاطمہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا، وہ اپنے اندر ہمتوں کو جمع کرنے لگی تھی۔

”میں نے اس روز آپ سے پوچھا تھا کہ اگر آپ کو کسی سے محبت ہوئی ہو؟ آپ نے اس کا کوئی واضح جواب نہیں دیا تھا اور….“ آنیہ نے بات ادھوری چھوڑ کر فاطمہ کے چہرے کو بغور دیکھا تھا تبھی آنیہ بولی تھی۔

”آپ کو کسی سے محبت ہوئی…. محبت ہے؟“

”تم یہ سب کیوں پوچھ رہی ہو آنیہ! محبت کا ذکر یہاں کیوں، وہ بھی اچانک؟“ وہ مسکراتے ہوئے آنیہ کو دیکھتے ہوئے بولی، آنیہ کی الجھنیں بڑھنے لگی تھیں۔

”اچانک نہیں، میں سوچ رہی تھی آپ اتنی خوبصورت ہیں، آپ کا دل کسی کے لیے تو دھڑکتا ہو گا نا؟ کیا محبت سے بچ پانا ممکن ہے؟ سنا ہے فطری جذبہ ہے یہ اور کبھی نہ کبھی عود کر آتا ہے اور تب ہم نہ تو کوئی بند باندھ سکتے ہیں نہ ہی اس سے انکار کر سکتے ہیں۔“ آنیہ نے فاطمہ کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دی۔

”تمہیں محبت کے بارے میں بڑا پتا ہے، کس نے بتایا؟“ وہ چھیڑنے لگی تھی مگر آنیہ مسکرائی نہیں تھی۔

”آپ کو محبت ہوئی کبھی؟“ وہ اپنے سوال پر رکی ہوئی تھی۔ فاطمہ نے لب بھینچ کر اسے دیکھا تو پلٹ کر دیگچی میں چمچ چلانے لگی تھی۔

”فاطمہ! آپ محبت کو راز بنا کر رکھنے کی قائل ہیں؟“

”نہیں مگر، محبت کی بات فضول لگتی ہے۔“

”محبت یکطرفہ ہو تب یا پھر دو طرفہ ہو تو؟“ آنیہ نے سوال داغا۔

”محبت کا یکطرفہ یا دو طرفہ ہونا میٹر نہیں کرتا آنیہ! محبت چاہے یک طرفہ ہو یا دو طرفہ، محبت کی موجودگی بہت سکون دیتی ہے۔“ فاطمہ کا جواب مدلل تھا۔

”محبت پُرسکون کیفیت کا نام ہے؟“ وہ حیران ہوئی تو پھر اس کے انداز میں بے چینی کیوں تھی؟ وہ خود اپنی کیفیت پر حیران تھی۔

”محبت میں بے چینی اس صورت میں ہوتی ہے آنیہ جب آپ غیرمحفوظ ہوں، اس صورت میں آپ کے قدموں سے بے چینی لپٹنے لگتی ہے، محبت کا یقین اور اللہ پر بھروسہ اس محبت کی کیفیت کو ایک ٹھہراﺅ کا مقام دیتا ہے تب آپ کو کوئی خوف نہیں رہتا اور تب آپ کے اندر وہ سکون والی کیفیت جنم لینے لگتی ہے۔“ فاطمہ سکون سے کہہ رہی تھی۔ وہ حیران ہوئی تھی، تو کیا وہ غیرمحفوظ تھی؟ لیکن وہ میکال کوکھونے سے نہیں ڈرتی تھی، وہ خود میکال کو پرے دھکیل رہی تھی تو پھر وہ بے چینی والی کیفیت اس کے اندر کیسے آئی تھی؟

اسے اپنا آپ سمندر لگا تھا گہرا…. مگر شوریدہ یا طوفانوں میں گھرا، اضطرابیوں میں لپٹا اور اپنے سامنے کھڑی فاطمہ خان اسے کوئی پُرسکون جھیل سی لگی تھی۔ میکال اس کے ساتھ تھا، اسے چاہتا تھا مگر اسے کھونے کا ڈر کہیں اس کے اندر تھا اگرچہ وہ اسے خود پرے دھکیل رہی تھی مگر ایک بے چینی اس کے اندر سرائیت کر رہی تھی، اسے بے کل کر رہی تھی اور فاطمہ جیسے اس کیفیت سے ناآشنا تھی۔ کیا فاطمہ اس سے زیادہ بہتر محبت کے معنی جانتی تھی یا پھر وہ اس سے زیادہ ٹھہراﺅ رکھتی تھی اور اسے حالات اور صورتحال کو اپنے بس میں کرنا آتا تھا؟

”آنیہ! محبت میں ڈر نہیں آنا چاہیے، جہاں آپ کے اندر وہ ڈر جگہ کرتا ہے تب آپ کا سکون رخصت ہو جاتا ہے۔

”مگر وہ یقین کیسے آتا ہے فاطمہ! محبت اپنا یقین کیسے سونپتی ہے؟ کیا وہ چند خاص لوگ ہوتے ہیں جن پر محبت اپنے وصف ظاہر کرتی ہے اور سلیقے سکھاتی ہے؟“ وہ الجھنوں میں گھری بولی تھی، فاطمہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے مسکرا دی۔

”نہیں، مگر…. شاید ہم میں وہ ٹھہراﺅ آتے دیر لگتی ہے۔“ فاطمہ نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔

”کہیں تمہیں محبت تو نہیں ہو گئی؟“ اور وہ ساکت رہ گئی۔

”مجھے محبت نہیں ہے۔“ اس نے کہا اور اسے اپنا لہجہ خود اجنبی لگا تھا۔

”سچ کہہ رہی ہو؟“ فاطمہ نے اسے جانچا۔

”مجھے محبت کبھی نہیں ہوئی۔“ اس نے واضح انکار کیا۔

”پتا نہیں۔“ اس نے شانے اُچکائے تھے۔ دل پر ایک بوجھ سا آ رہا تھا، ایک بے چینی رگ و پے میں دوڑ رہی تھی۔ وہ پُرسکون کیوں نہیں تھی، فاطمہ جیسی کیوں نہیں تھی، کیسا ڈر تھا اس کے اندر، تو کیا وہ میکال شاہ کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ وہ الجھنوں میں گھرنے لگی تھی۔

”کیا ہوا، تم ٹھیک ہو؟“ فاطمہ نے پوچھا تھا، اس نے سر نفی میں ہلا دیا۔

”میں آتی ہوں۔“ وہ کہہ کر فوراً ہی باہر نکل آئی تھی۔ وہ بھاگتی ہوئی راہداری کے کنارے پر آن رکی تھی۔ وہ اپنے اندر اپنے ہی سوالوں کے جواب تلاش رہی تھی۔

وہ گہری سانس لیتے ہوئے پلٹی تھی جب اس سے ٹکرا گئی، میکال شاہ نے اس کے گرد اپنا حصار باندھ دیا تھا۔ یہ حفاظتی باڑھ اسے گرنے سے بچانے کے لیے تھی مگر اسے جیسے شعلوں نے چھو لیا تھا۔ اس کی دھڑکنوں کے شور نے اس کے اندر ایک ہلچل مچا دی تھی۔ وہ ساکت سی میکال شاہ کو دیکھ رہی تھی۔

”اتنی الجھوں میں کیوں گھری ہو؟ کیا تم خود اپنے سوالوں سے ڈر گئی ہو یا سوالوں کے جواب نہ پاتے ہوئے خود سے فرار کی راہیں تلاش کر رہی ہو؟“ وہ سکون سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے سر اٹھا کراس کی طرف دیکھنے لگی تھی اور جانے کیوں اس کی آنکھوں میں پانی آن رکا تھا۔ اس نے بے بس ہو کر اپنا سر میکال شاہ کے سینے پر ٹکا دیا تھا اور اس کے آنسو میکال شاہ کا سینہ بھگونے لگے تھے، میکال شاہ چپ چاپ اس کا جھکا ہوا سر دیکھ رہا تھا۔

”مجھے تم سے محبت نہیں ہے میکال شاہ! میں نے تم سے محبت کبھی نہیں کی۔ تم کیوں کر رہے ہو یہ سب؟ کیوں اتنی ساری الجھنوں میں مبتلا کر رہے ہو مجھے؟ میں کیوں اتنی بے چینیوں میں گھر رہی ہوں؟ جب میرا تم سے واسطہ ہی نہیں تو۔“ وہ شکستہ زدہ بول رہی تھی پھر میکال شاہ کی دھڑکنوں کا شور سنائی دیا تو اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پرے دھکیل دیا۔

”مجھے تم سے محبت نہیں ہے میکال شاہ! تم اپنے راستوں میں مجھے ڈھونڈنا بند کر دو۔“ وہ دو ٹوک لہجے میں بولی، وہ اطمینان سے اسے دیکھنے لگا پھر بولا۔

”میں تمہیں اپنے راستوں میں نہیں، تم مجھے اپنے راستوں میں ڈھونڈ رہی ہو آنیہ مرتضیٰ! یہ مسائل تمہاری طرف سے ہیں، ان کا سدباب بھی تمہی کو کرنا ضروری ہے، مجھ پر الزام عائد کرنا ان بے چینیوں کو ختم نہیں کرے گا۔“ وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھی۔

”میکال شاہ! فضول کی باتیں بند کرو، فاطمہ تم جیسے فضول سے بندے سے عشق میں مبتلا کیسے ہو سکتی ہے؟ مجھے حیرت ہے۔“ وہ مسکرایا۔

”تم اپنا ذکر نہ کر کے بہت سے راز دل میں چھپانے کی کوشش کر رہی ہو مگر قفل لگا دینے سے حقائق چھپ نہیں سکتے آنیہ مرتضیٰ! وہ پُریقین تھا۔

”خیر! تمہیں ایک بات بتانا تھی۔“

”کیا؟“ وہ اجنبی لہجے میں بولی تھی، وہ مسکرایا۔

”شادی کرو گی مجھ سے؟“ میکال شاہ کے سوال پر وہ ساکت رہ گئی تھی۔ وہ جتنا اس سے بھاگنے کی سعی کرتی، وہ اتنا اس کی بے چینیوں کو سواکرنے چلا آتا تھا۔

”کیا بکواس ہے، میں نے کہا نا مجھے تم سے محبت نہیں ہے۔“ وہ اسی ضدی پن سے بولی جبکہ وہ مسکرا دیا۔

”میں فاطمہ سے پوچھنے جا رہا ہوں۔ میں فاطمہ خان کو پروپوز کرنے جا رہا ہوں، تم خوش ہو نا؟“ وہ اس کی بیقراری سے محظوظ ہو ا اور اس کے اندر اچانک ہی سکوت چھا گیا۔

”کیا ہوا، اب یہ منہ کیو ںبن گیا؟ تم چاہتی تھی نا میں فاطمہ کو پروپوزکروں،اس کی محبت کا جواب محبت سے دوں تو اب کیا ہوا؟ اب چہرے کے تاثرات ایسے کیوں بدل گئے، کیا تمہیں اس سے فرق پڑے گا آنیہ مرتضیٰ!“ وہ اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا اور آنیہ مرتضیٰ نے سر ہولے سے نفی میں ہلا دیا تھا۔

”نہیں، مجھے اس سب کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“

”خود کو یقین دلا رہی ہو یا دھوکہ دے رہی ہو؟“ وہ اسے طوفانوں کے سپرد کرنا چاہ رہا تھا یا پھر اسے انوکھے وصف سکھانے کے درپے تھا۔

”میں Insecure نہیں ہوں میکال شاہ! یہ غیرمحفوظی وہاں ہوتی ہے جہاں محبت ہو یا کچھ کھونے کا خوف ہو اور میںاس خوف میں مبتلا نہیں ہوں کہ مجھ سے کچھ کھو جائے گا۔“ وہ مضبوط لہجے میں بولی۔

”ایک سمندر جیسی لڑکی، جھیل جیسی باتیں کرتی عجیب لگتی ہے۔ سمندر سی ہو تو وسعتوں کی بات کرو، خود اپنے لیے بھی مشکل کھڑی کرتی ہو اور میرے لیے بھی، سنو! کنارے پر آ جاﺅ۔ اگر راہ نہیں مل رہی تو مجھے راہ دو، میں تمہیں کنارے پر لانے میں مدد کر سکتا ہوں۔“ وہ مہربان دکھائی دیا مگر وہ اچانک ہی پلٹ کر وہاں سے نکل گئی تھی۔

اس نے اس تمام صورتحال سے نمٹنے کے لیے خود کو مصروف کر لیا تھا۔ وہ زیادہ تر وقت یونیورسٹی اور لائبریری میں گزارتی اور جب گھر آتی تو اپنے کمرے میں گھس جاتی۔ اسے یہاں وہا ں کی خبر نہیں تھی اور تبھی اس نے خبر سنی تھی کہ میکال شاہ نے فاطمہ کو پروپوز کر دیا ہے۔ اس کے اندر کچھ ٹوٹنے لگا تھا۔ وہ انتشار بہت غیرموقع تھا، جبکہ وہ تو یہی چاہتی تھی کہ میکال شاہ فاطمہ خان کو پروپوز کرے۔ وہ اسے خود اس کی طرف دھکیلتی رہی تھی تو پھر آج اسے اپنے اندر ایک درد کا احساس کیوں ہوا تھا؟ وہ یہ خبر سن کر طوفانوں میں گھر گئی تھی۔ بوا اسے بتا رہی تھیں اور اس سے آگے اسے کچھ سنائی نہیں دیا تھا، اس شب وہ اپنے کمرے میں دبی دبی سسکیوں کے ساتھ روتی رہی تھی مگر وہ کسی اور کواس کااندازہ ہونے دینا نہیں چاہتی تھی کہ اسے کوئی تکلیف ہے یا پھر وہ کمزور ہے۔ ایک شام یونیورسٹی سے لوٹی تھی تو باہر میکال شاہ سے سامنا ہو گیا تھا۔ وہ اجنبی نظروں سے اسے دیکھنے لگی پھر یکدم دھیان پھیرا اور وہاں سے نکل جانا چاہا تھا مگر کلائی اس کی مضبوط گرفت میں آ گئی تھی۔ وہ پلٹ کر خالی خالی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی تھی۔ بنا کچھ کہے جیسے وہ اسے ازبر کرنا چاہتی تھی۔ جیسے وہ بے خود تھی، میکال شاہ کو وہ چپ چاپ بہت عجیب لگی تھی۔ وہ اسے تکلیف دینا یا کسی درد سے آشنا کرنا نہیں چاہتی تھی مگر شاید وہ اس گھڑی کسی طوفان کی زد پر تھی۔ میکال شاہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا مگر اس کا احساس جیسے اسے نہیں ہوا تھا وہ جیسے کوئی سرد سا وجود تھی۔

تُو ساتھ ہے اگر

تنہا کیوں ہے سفر؟

اتنا تو بتا مجھے

کیوں ہے مجھ سے بے خبر

تیرے بنا کبھی راتیں نہ ہوں میری

تیرے قریب ہوں میرے دن سبھی

”آنیہ!“ میکال شاہ نے اسے پکارا، وہ تبھی لڑکھڑائی اور اس کے بازوﺅں میں جھول گئی۔ وہ اسے بازوﺅں میں اٹھا کر اس کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔

”کیاہوا آنیہ کو؟“ فاطمہ نے فکرمندی سے پوچھا۔

”پتا نہیں، آپ چیک کریں۔“

”تم اسے کمرے میں لے جاﺅ، میں آتی ہوں۔“ فاطمہ عجلت سے بولی اور کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔

٭….٭….٭

”سنو آنیہ! تمہیں کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتاﺅ۔“ فاطمہ نے اس کا ہاتھ پیار سے تھام کر اپنے لبوں سے لگایا۔ ”تم مجھے بہت عزیز ہو گئی ہو آنیہ! مجھے نہیں لگتا کہ تم کبھی غیر رہی ہو، ایک عجیب سا رشتہ ہے ہم میں مگر یہ رشتہ ہمیںبہت مضبوطی سے باندھ رہا ہے، تم میری بہن جیسی ہو اور میری بیٹی بھی ہو، مرتضیٰ کے حوالے سے تم میری بیٹی ہو۔ کیا تم اپنے سکھ دکھ مجھ سے بانٹ نہیں سکتیں؟“ فاطمہ نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لگایا تو اس کی آنکھوں میں نمی آن رکی تھی۔

”فاطمہ! آپ بہت اچھی ہیں مگر مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے۔ آپ کے ساتھ رہ کر میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان فیکٹ بہت پُرسکون ہوں یہاں آپ کے پاس رہتے ہوئے۔“

”تو پھر کیا ہوا،کس بات کی ٹینشن تھی کہ تم اس طرح بےہوش ہو گئیں؟“

”شاید بہت زیادہ اسٹڈی کا برڈن تھا، سمسٹرز بھی ہونے والے ہیں، ڈونٹ وری‘ آئی ایم اوکے!“ وہ مسکرائی تو فاطمہ کو مطمئن کرنے کو تبھی میکال شاہ دروازہ کھول کر اندر آیا تھا۔ آنیہ کی نظر اس سے لمحہ بھر کو ٹکرائی اور پھر وہ اجنبی بن گئی تھی۔ میکال شاہ دروازے کے ساتھ وہیں رک گیا تھا، فاطمہ نے پلٹ کرا س کی طرف دیکھا تھا۔

”میکال! آﺅ، ادھر،آنیہ سے باتیں کرو۔ اس کا موڈ درست کرو، کس کام کے ہو تم اگر تم میری آنیہ کا موڈ بھی ٹھیک نہ کر پاﺅ؟“ فاطمہ نے مسکراتے ہوئے میکال شاہ کو دیکھا تھا۔ وہ آگے بڑھ آیا تھا۔

آنیہ اس کی طرف دیکھنے سے مکمل گریزکر رہی تھی، فاطمہ وہاں سے چلی گئی تھی، میکال شاہ اس کی طرف بغور دیکھنے لگا تھا۔

”کیسی ہو اب تم“ اس نے پوچھا تھا، آنیہ مرتضیٰ نے بنا اس کی طرف دیکھے سر ہلا دیا۔

”تمہیں کس بات کا ملال ہے آنیہ! کیا پریشانی ہے؟ تم چیزوں کو اپنے طور پر چلانا چاہتی ہو اور جب سب تمہاری مرضی کے مطابق ہو رہا ہے تو پھر تمہیں الجھن کس بات کی ہو رہی ہے؟“

”ایسا کچھ نہیں ہے، آپ غلط سوچ رہے ہیں۔“ وہ اسے جھٹلاتے ہوئے بولی۔

”تو پھر آنیہ مرتضیٰ! کیا چاہتی ہو تم؟“ وہ کچھ نہیں بولی تو تبھی وہ بولا۔

”میں واپس جا رہا ہوں۔“ وہ چونکی تھی۔

”کیوں؟“

”کیا مطلب کیوں، بزنس ہے وہاں، چھٹیاں ختم۔“ وہ بولا۔

”آپ فاطمہ سے شادی نہیں کر رہے، آپ نے تو فاطمہ کو پروپوز بھی کیا تھا؟“ وہ حیران ہوتے ہوئے بولی تھی، میکال شاہ نے اسے خاموشی سے دیکھا پھر سکون سے بولا۔

”میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے آنیہ مرتضیٰ!“ آنیہ نے کشن اٹھا کر اسے دے مارا جسے اس نے تھام لیا۔

”دلوں سے کھیلنا اچھا لگتا ہے آپ کو، بس یہی کر سکتے ہیں آپ ، میں غلط نہیں تھی۔ آپ دونوں سے کھیل رہے تھے۔ فاطمہ سے بھی اور مجھ سے بھی۔“ وہ شاید مزید بھی کچھ بولتی مگر وہ اٹھا تھا اور وہاں سے نکل گیا تھا۔ دروازے سے گزرتے ہوئے فاطمہ نے اسے حیرت سے دیکھا تھا پھر آنیہ کی طرف دیکھا تھا، آنیہ ٹوٹی پھوٹی اور بکھری ہوئی دکھائی دی تھی، فاطمہ وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔

٭….٭….٭

میکال شاہ کچھ کہے بنا، کچھ سنے بنا، چلا گیا تھا اور اسے لگا تھا سب تھم جائے گا، تو ایسا نہیں ہوا تھا۔ وہ طوفان تھما نہیں تھا۔ وہ شخص اس سے دور نہیں گیا تھا۔ اس کے سامنے ہجر کی ایک طویل رات بچھا گیا تھا۔ وہ رات کی تاریکی میں وہاں ٹیرس پر بیٹھ کر دیر تک اپنا وائلن بجاتی رہتی تھی۔ وائلن کے سُروں میں عجیب بے قراری تھی، ا س کے اندر کی کیفیات اس کے سُروں سے باہر آ رہی تھیں، اسے پوری دنیا تاریکی میں گھری لگتی تھی۔ ہر طرف طویل چپ اور سناٹا تھا، اس کی خالی خالی نظریں آسمان پر تاروں کو دیکھتی تھیں۔ چاند دکھائی دیتا تھا مگر اس کی ضیاءاندھیروں میں ڈوبی لگتی تھی۔

”میکال شاہ کے جانے سے کتنا سناٹا ہو گیا ہے نا۔“ فاطمہ نے ڈنر کرتے ہوئے کہا تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

”آنیہ! تم ٹھیک ہو؟“ فاطمہ کو فکر ہوئی تھی۔

”میں ٹھیک ہوں فاطمہ! آپ پریشان نہ ہوں۔“ وہ تسلی دیتی ہوئی بولی۔

”تمہیں معلوم ہے میکال اچانک سے کیوں چلا گیا؟“

”نہیں، میں نہیں جانتی۔ مگر اس نے تو آپ کو پروپوز کیا تھا نا؟ پھر کیا ہوا؟“ فاطمہ چونکی۔

”اس نے مجھے پروپوزکیا تھا، تم سے کس نے کہا؟“

”میکال نے خود۔“

”میکال نے…. اس نے ایسا کیوں کہا؟“ فاطمہ حیران دکھائی دی تھی۔ ”اس نے مجھے کبھی پروپوز نہیں کیا۔“

”اوہ….“ آنیہ حیران رہ گئی تھی، رات جب وہ اسے دودھ کا گلاس دینے آئی تھی تو آنیہ نے پوچھا تھا۔

”مجھے لگا آپ دونوں شادی کر رہے ہیں، آپ میکال سے محبت کرتی ہیں نا؟“ فاطمہ نے اسے بغور دیکھا تھا پھر اثبات میں سر ہلایا۔

”محبت اختیار میں نہیں ہوتی آنیہ! بہت بے اختیاریو ںمیں گھری رہتی ہے اور بہت سی بے اختیاریوں میں گھیر دیتی ہے۔ محبت لامحدود اور اختیار سے باہر کی شے ہے۔ محبت کیسی ہوتی ہے میں نہیں جانتی، تم نے محبت کو کتنا سمجھا ہے مگر میرے لیے محبت میرے اندر کا سکون ہے۔“ وہ لہجہ بہت پُرسکون تھا اور انداز مدلل۔ آنیہ حیرانی سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔

”مجھے میکال شاہ سے محبت کیوں ہوئی، کیسے ہوئی، اس کا جواز نہیں ہے۔ محبت اپنے جواز خود تلاش کرتی ہے اور خود ان جواز کو اپنے معنی دیتی ہے۔ میکال نے اس محبت کو سمجھا، جانا یا نہیں، اس سے مجھے فرق نہیں پڑتا مگر میں نے اس سے محبت بنا کسی سود و زیاں، نفع اور نقصان کے کی۔ میں نے اس سے کسی بات کی امید کبھی نہیں رکھی، محبت بڑھا ہوا ہاتھ نہیں ہے آنیہ! محبت دینے والا ہاتھ ہے۔ میرے لیے محبت فزیکل اٹریکشن نہیں ہے۔ میں عمر کے اس حصے پر کھڑی ہوں جہاں محبت کے معنی مجھے صاف دکھائی دیتے ہیں۔میں نے میکال شاہ سے محبت اسے پانے کے لیے نہیں کی، میں جانتی ہوں اس کی نظروں میں میرے لیے احترام ہے، عزت دیتا ہے وہ مجھے، میں عمر میں اس سے پانچ سال بڑی ہوں، شاید وہ کبھی میرے لیے اس طور سوچنے کی ہمت بھی نہیں کر پائے مگر محبت عمروں سے اور کسی طرح کے خسارے سے ہٹ کر ہے، مجھے معلوم ہے ہم میں کوئی رشتہ نہیں بندھ سکتا۔ تو کیا، ہم میں ایک رشتے کے نہ بندھنے سے سارے احساس ختم ہو جاتے ہیں؟“ فاطمہ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا، مگر وہ کوئی جواب نہیں دے سکی۔ فاطمہ پلٹی اور باہر نکل گئی۔

ستارے جو ملتے ہیں

کسی کی چشم میداں میں

ملاقاتیں جو ہوتی ہیں

جمال ابرو باراں میں

یہ ناآباد وقتوں میں

دل ناشاد میں ہو گی

محبت اب نہیں ہو گی!

یہ کچھ دن بعد میں ہو گی

گزر جائیں گے جب یہ دن

یہ ان کی یاد میں ہو گی

محبت اب نہیں ہو گی!

اسے نہیں معلوم تھا کتنے دن گزر گئے تھے یا کتنے اور باقی تھے، وقت کے گزرنے کا احساس ہونے نہ ہونے کا فرق اب اسے نہیں پڑتا تھا۔ سب کچھ جیسے بے معنی ہو گیا تھا۔ دن سب بے سمت اور بے سہارے تھے اور تبھی انہی دنوں میں فاطمہ نے اسے بتایا تھا کہ اس نے شادی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

”کس سے؟“ وہ جیسے ایک پل کو بے چین ہوئی تھی۔

”ڈاکٹر طحہٰ یزدانی سے۔“ فاطمہ بہت سکون سے بولی تو وہ حیران رہ گئی تھی۔

”مگر آپ ڈاکٹر طحہٰ سے محبت نہیں کرتیں فاطمہ پھر…. آپ کو میکال شاہ کو بتانا چاہیے، آپ کومیکال شاہ سے شادی کرنا چاہیے۔“ عجیب خو تھی وہ بچوں کی طرح چیزوں کو اپنے زاوئیے سے موڑنا چاہتی تھی۔

”میکال شاہ مجھ سے محبت نہیں کرتا آنیہ!“ وہ سکون سے بولی۔

”کس نے کہا آپ سے؟“ وہ چونکی۔

”کسی نے نہیں، مگرمیں جانتی ہوں میکال مجھ سے محبت نہیں کرتا۔“

”تو پھر کس سے، اس نے بتایا آپ کو؟“ وہ کیا سننے کی خواہاں تھی، فاطمہ اس کو بغور دیکھنے لگی،پھر جانے کیوں مسکرا دی۔

”تم میکال سے خود پوچھ لینا، اسے کس سے محبت ہے۔“ فاطمہ نے اسے چپ کرا دیا۔

”وہ فلرٹ ہے، کھیل کھیلتا ہے، اس نے جانتے ہوئے بھی کہ آپ اس سے محبت کرتی ہیں، آپ کو کبھی کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔“ وہ اپنے طور پر چیزوں کو دیکھ اور سمجھ رہی تھی۔

”تم غلط سوچ رہی ہو آنیہ! وہ ایسا لڑکا نہیں ہے۔ اسے جب محبت ہے ہی نہیں تو وہ کیو ںکوئی خواب دکھائے گا؟ وہ کوئی کھیل نہیں کھیل رہا، کیا تم یہ سمجھنے سے قاصر ہو؟“

”ہم محبت کو اپنے مطلب اور پسند کا بہاﺅ نہیں دے سکتے۔ محبت اپنا بہاﺅ خود طے کرتی ہے۔ کیا تم اب بھی یہ سننا چاہتی ہو کہ اسے مجھ سے محبت کیوںنہیں ہوئی، کیونکہ میں اس کے لیے نہیں تھی آنیہ! اس کے لیے تم تھیں۔ اسے تم سے محبت ہوئی۔ وہ تم سے محبت کرتا ہے اور یہ بات بہت واضح ہے۔“ فاطمہ کا لہجہ اسے ساکت کر گیا تھا۔

”آپ کو کیسے پتا چلا؟“

”کیا یہ تم بتا سکتی ہو آنیہ! کہ محبت کبھی راز رہ پائی ہے، اس کی آنکھوں سے یہ بات صاف پڑھی جا سکتی تھی کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے اور اس کی دیوانگی تمہارے لیے ہے۔“

”اور تو تبھی آپ نے ڈاکٹر طحہٰ یزدانی سے شادی کرنے کی ٹھانی؟“ وہ چونکی۔

”نہیں، میں ڈاکٹر طحہٰ سے اس لیے شادی نہیںکررہی کہ میکال کومجھ سے محبت نہیں ہے، بلکہ میں ڈاکر طحہٰ سے اس لیے شادی کر رہی ہوں کہ مجھے لگتا ہے وہ اور میںاچھے ہمسفر بن سکتے ہیں۔ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور میرے لیے یہ بات زندگی گزارنے کے لیے کافی ہے۔“ فاطمہ کے چہرے پر سکون تھا اور وہ خوش دکھائی دے رہی تھی۔

”آپ خوش ہیں؟“

”ہاں، میں خوش ہوں۔ مگر تم نے اچھا نہیں کیا آنیہ! تم نے اس بندے کو ہرٹ کیا جو تم سے محبت کرتا تھا،تم نے اپنے طور پر فیصلے کرنا چاہے اور اس پر دباﺅ دیا، یہ ٹھیک نہیں ہے۔“ فاطمہ نے اسے جتایا۔

”آپ کو کیسے پتا چلا میں نے اسے دباﺅ کے تحت کچھ کرنے کو کہا؟“ وہ چونکی۔

”آنیہ! مجھے معلوم ہے تم نے میکال شاہ کو کس بات کے لیے اکسایا اور کیوں اس نے یہاں سے جانے کی ٹھان لی۔“ فاطمہ بہت سمجھدار تھی اور آنیہ کو بہت شرمندگی ہو رہی تھی۔

”فاطمہ! میں چاہتی تھی وہ آپ کے ساتھ زندگی گزارے، مجھے بوا نے بتایا تھا آپ پچھلے پانچ برس سے اس سے محبت کرتی ہیں، بوا کو لگا تھا میں آپ کے حق پر قبضہ کر رہی ہوں اور بوا غلط نہیں تھیں، میں آپ کا حق نہیں چھین سکتی تھی، میں آپ کو خوش دیکھنا چاہتی تھی۔“ اس نے سر جھکا کر اقرار کیا۔

”مگر تمہارے اس طرح کرنے سے کون خوش رہ سکتا تھا آنیہ! ہم تینوں میں سے کوئی ایک بھی خوش نہیں رہ سکتا تھا۔ تم تین زندگیوں سے کھیلنے جا رہی تھیں شاید اسی لیے جب تم نے میکال شاہ پر دباﺅ بڑھایا تو اس نے تم سے کہہ دیا کہ اس نے مجھے پروپوز کر دیا ہے تاکہ تم اپنی جگہ مطمئن ہو جاﺅ، مگر آنیہ! محبت خیرات نہیں ہے۔“

”میں نے آپ کو خیرات دینا نہیں چاہی تھی فاطمہ! میں آپ کو خوش دیکھنا چاہتی تھی، گزرنے والے دنوں میں آپ نے جو بھی دکھ اٹھایا مجھے اس کا اندازہ تھا۔ کیوں ہم نے ایک جیسی زندگی گزاری، ہم میں قدر مشترک تھی، میں چاہتی تھی ان گزرے وقتوں کا ازالہ ہو جائے۔“

”مگر اس طرح ازالہ نہیں ہوتا آنیہ! بہرحال تمہیں چیزوں کو واپس ان کی ترتیب میں لانا چاہیے۔ اگر میکال تم سے رابطہ کرے تو اسے منا لینا۔“ فاطمہ نے پیار سے سمجھایا، وہ کچھ نہیں بولی۔

میکال شاہ نے پلٹ کر خبر نہیں لی تھی۔ وہ اس کے رویے سے مایوس ہو گیا تھا یا پھر بہت خفا تھا۔ اسے امید نہیں تھی کہ وہ لوٹے گا یا وہ اس سے معافی مانگ سکے گی یا پھر وہ اسے معاف کر سکے گا۔ اس روز وہ یونیورسٹی سے لوٹی تو فون بج رہا تھا۔ کوئی آس پاس نہیں تھا سو اس نے فون اٹھا لیا تھا۔

”ہیلو….!“ دوسری طرف بھاری آواز تھی۔ اس آواز و لہجے کو وہ لاکھوں نہیں کروڑوں میں پہچان سکتی تھی، لائن پر میکال شاہ تھا۔

”کیا ہوا فاطمہ! آپ کا سیل فون سوئچڈ آف آ رہا ہے، کب سے ملا رہا ہوں۔ بوا نے بتایا آپ شادی کرنے جا رہی ہیں، اچھی خبر ہے آخر کو ڈاکٹر طحہٰ یزدانی کی دال گل گئی۔ بے چارا کب سے آپ کے پیچھے تھا۔ آ پ ہی اسے گھاس نہیں ڈال رہی تھیں، آپ کا فیصلہ صحیح اور بروقت ہے، مجھے امید ہے آپ خوش رہیں گی۔“ وہ بول رہا تھا، تبھی آنیہ بولی تھی۔

”فاطمہ بزی ہیں، وہ شاپنگ کے لیے گئی ہیں۔ شاید فون کی بیٹری ڈیڈ ہو، آپ بعد میں فون کر لیں۔“ مگر اس کی بات مکمل ہوئے بنا میکال شاہ نے فون کا سلسلہ منقطع کر دیاتھا، وہ فون کو ہاتھ میں لیے تکتی رہ گئی تھی۔

٭….٭….٭

فاطمہ کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ وہ بھی یونیورسٹی سے وقت نکال کر فاطمہ کو ہیلپ کر رہی تھی۔ فاطمہ واقعی خوش دکھائی دے رہی تھی اور اسے خوش دیکھ کر وہ بھی خوش تھی۔ اس احساس سے دل کٹ رہا تھا کہ اب وہ اس کی آواز سننا بھی نہیں چاہتا۔

اس کی دیوانگی…. اس کی محبت

سب جیسے گئے وقتوں کی بات تھی…. اور وہ خود خاموشی میں بیٹھ کر اکثر وائلن کے تاروں کو چھیڑتے ہوئے وہی دھن بجاتی تھی جوایک بار اس نے بجائی تھی۔ اس نے کیا غلط کیا تھا؟ کسی کو خوشی ہی تو دینا چاہی تھی، پھر اس کے لیے زندگی اتنی مشکل کیوں ہو گئی تھی۔

کوئی ایک لمحہ نہیں تھا جو اس کی یاد کے بنا ،اس یا اس کے خیال سے خالی ہو۔ وہ اسے ایک لمحے کو بھی فراموش نہیں کر پائی تھی تو کیا وہ اسے کبھی یاد نہیں کرتا ہو گا؟ ایک لمحے کو اس نے سوچا تھا۔ اس کی انگلیاں وائلن کے تاروں سے الجھنے لگی تھیں۔

”مجھے تم سے محبت نہیں ہے۔“ اس کا اپنا ہٹ دھرم لہجہ۔

”مجھے تم سے محبت ہے میکال شاہ! بہت، بے حد، بے انتہا، مجھے تم سے بہت زیادہ محبت ہے۔ میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔“ وہ آنکھیں بند کر کے جیسے خودکلامی کرتے ہوئے بولی تھی۔

”آئی لَو یو میکال شاہ! پلیز ایسے مت ستاﺅ۔“ وہ عجیب دیوانگی کے عالم میں تھک کر بولی تھی، تبھی آہٹ ہوئی تو اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا، کچھ فاصلے پر میکال شاہ کھڑا تھا، وہ حیران رہ گئی تھی۔

کیا یہ اس کا وہم تھا، کوئی خواب تھا یا پھر خیال؟ کیا وہ واقعی کھڑا تھا یا پھر آنیہ کی دیوانگی عروج پر تھی؟ آنیہ کو یقین نہیں ہوا تو وائلن ایک طرف رکھ کر وہ اٹھی اور میکال شاہ کے سامنے آن رکی۔ ہاتھ بڑھا کر اسے چھو کر دیکھا، وہ خواب نہیں تھا، خیال بھی نہیں تھا۔ وہ اس کے سامنے تھا، میکال شاہ دھندلانے لگا تھا، میکال شاہ پلٹ کر واپس جانے کو تھا تبھی آنیہ مرتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور اس کے سامنے آن رکی۔

”آئی ایم سوری…. میکال شاہ!“ وہ مدھم لہجے میں بولی تو وہ بے ہمت لگ رہی تھی۔ بہت تھکا ہوا لہجہ تھا اس کا، جیسے وہ طویل مسافتوں کا سفر کر کے آئی ہو۔ میکال شاہ نے کچھ نہیں کہا تھا، تبھی وہ اس کے سینے پر سر رکھ کر رونے لگی۔

”مجھے روشنی کی لکیر دکھا کر تاریکیوں میں کیوں ڈال دیا میکال شاہ! تم تو مجھے یقین سونپنے آئے تھے پھر مجھ سے دوری کیوں؟ تم نے مجھ سے دور نکلنے کے لیے اتنے جوازکیوں ڈھونڈے؟ اتنے طویل انتظار کیوں سونپ دئیے مجھے، کیا میرا گناہ اتنا بڑا تھا کہ اس کی معافی نہیں تھی؟“ وہ بے خودی میں کہہ رہی تھی۔

میکال شاہ نے اس کے گرد اپنے بازوﺅں کا حصار باندھا اور اس کے سر کو سہلانے لگا۔ وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔

”تم نے جو غلط کیا تمہیں اس کا احساس دلانا ضروری تھا آنیہ! ورنہ تمہیں کبھی اندازہ نہیں ہوتا کہ تم کچھ غلط کر رہی ہو۔ آئی ایم سوری! تمہیں دکھ پہنچایا، لیکن اگر میں یہاں سے نہیں جاتا تو تم اپنے طور پر حالات کو قابو کرنے کے منصوبے بناتی رہتیں اور میں تمہیں کبھی جتانے میں کامیاب نہ ہو پاتا کہ وہ نہیں ہو سکتا جو تم چاہتی ہو۔ دیکھو وقت نے سب سے مناسب حل دیا ہے، آج فاطمہ کی شادی ہونے جا رہی ہے، وہ خوش ہے۔ میں نہیں جانتا مجھے ان سے محبت کیو ںنہیں ہوئی، مگر مجھے تم سے محبت کیوں ہوئی، میں اس کے اسباب بھی کبھی تلاش نہیںکر پایا۔“ وہ صاف گوئی سے بولا۔ آنیہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔میکال شاہ نے اس کی پلکوں پر سے آنسو چن لیے۔

”تم نے غلط کچھ نہیں چاہا تھا آنیہ! مگر کبھی کبھی ہم جس طرح چاہتے ہیں وہ ویسے نہیں ہو سکتا۔ تم فاطمہ کو خوش دیکھنا چاہتی تھیں مگر وہ حل نہیں تھا۔ فاطمہ بہت اچھی لڑکی ہے، اگر ان کو مجھ سے محبت ہوئی تو میں اس پر واقعی حیران ہوں۔ پتا نہیں محبت کی نگاہ کیا دیکھتی اور تلاشتی ہے، مگر میرے لیے فاطمہ کے لیے عزت اور احترام دوگنا ہو گیا۔ تم نے غلط بات کہی کہ میں فلرٹ کر رہا تھا، مجھے اس بات پر غصہ آیا میں جس لڑکی کی اتنی عزت کرتاہوں اس سے فلرٹ کا سوچ بھی نہیں سکتا اور تم سے، تم نے تو مجھے دیوانہ بنا دیا تھا۔ تم سے فلرٹ کا کیسے سوچ سکتا تھا، تم غصے میں جان بوجھ کر ایسا کہہ رہی تھیں تاکہ مجھے غصہ آئے اور میں وہ کروں جو تم چاہتی ہو۔ سو میں نے یہاں سے جانے کی ٹھان لی اور سوچنے کی بات یہ تھی جب تم جانتی تھیں کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو تو تم ہمیشہ جھوٹ کیوں کہتی آئیں کہ محبت نہیں ہے۔ تمہیں معلوم تھا کہ تم دور نہیں رہ پاﺅ گی تو تب کیا کرتیں اگر میں تمہارے دھکیلنے سے فاطمہ سے شادی کر لیتا؟“ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔

”اور آپ نے بھی تو جھوٹ بولا تھا کہ آپ نے فاطمہ کو پروپوزکر دیا؟“

”وہ جھوٹ تمہارے جگانے کے لیے تھا تاکہ تم جان سکو کہ تم غلط کر رہی ہو، مگر آپ کہاں جاگنے والی تھیں۔“ اس نے آنیہ کی چھوٹی سی ناک دبائی تھی۔

”کیا اتنی غلط تھی میں؟“ اس نے پوچھا۔

”نہیں، مگر طریقہ غلط تھا، مجھے اس سے الجھن ہو رہی تھی۔ تمہیں فاطمہ سے بات کرنا چاہیے تھی وہ کیا چاہتی ہیں۔ تم میرے بارے میں جانتی تھیں کہ میں کیا چاہتا ہوں۔“ میکال شاہ بغور اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔

”میں جانتی تھی مگر….“ میکال شاہ نے اس کے لبوں پر اپنی شہادت کی انگلی رکھ دی۔

”اب بتاﺅ کیا کرنا ہے؟ مام، ڈیڈ آئے ہیں ان کے سامنے کوئی ڈرامہ نہیں ہونا چاہیے۔ شادی کرنا ہے تو بتا دو، میں مام ڈیڈ سے بات کرلیتا ہوں۔ یہ نہ ہو شادی کی بات کر لوں اور تم کوئی نیا ڈرامہ شروع کر دو۔ تم سمجھ میں نہ آنے والی لڑکی ہو، تمہارے چہرے کو دیکھ کر یا ان آنکھوں کو دیکھ کر میں اپنے طور پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، کیونکہ تم اپنے چہرے کی نفی کرتی ہو۔ ان آنکھوں کو جھٹلاتی ہو، وہ کہتی ہو جو یہ چہرہ نہیں کہتا۔ تمہیں الٹے بہاﺅ کے ساتھ بہنا اچھا لگتا ہے، اپنے طور پر انوکھے تجربات کرنا چاہتی ہو۔“ وہ سنجیدگی سے کہہ رہاتھا، وہ گھورنے لگی۔

”اتنی خامیاں گنوا رہے ہو اور شادی کرنا چاہتے ہو، میری اتنی خامیوں کے ساتھ گزارا کیسے کرو گے؟“ وہ مسکرا دیا۔

”کوشش کر لوں گا، اگر ہو سکا تو ٹھیک، ورنہ تم اپنی راہ میں اپنی راہ۔“ وہ سنجیدہ نہیں تھا۔

”شادی اس لیے کی جاتی ہے کہ آپ اپنی راہ اور میں اپنی راہ؟“ اس نے گھورا۔

”نہیں، مجھے تمہارے ساتھ ایک راہ پر چلنا ہے، لیکن یقین نہیں کہ تم چاہتی ہو۔ تمہیں عادت ہے مجھے یہاں وہاں کھپانے کی، کل کو کسی اور کو مجھ سے محبت ہو گئی تو کیا پتا اسے دان کر دو۔“ وہ مسکرایا تو آنیہ بھی مسکرا دی۔

”ایسا نہیں ہو گا، اب اتنی سخی بھی نہیں ہوں میں کہ آپ کو دان کر دوں۔ فاطمہ کی بات اور تھی، میں اس کی تکلیفوں کا ازالہ کرنا چاہتی تھی اور….“

”جانتا ہوں، مگر ایسے نہیں ہوتا، وہ تو اچھا ہوا فاطمہ نے خود سمجھ لیا ورنہ آپ کا کھیل تو جان لیوا تھا۔“

”جان لیوا؟ آپ نے پلٹ کر خبر کب لی تھی، کبھی یاد بھی کیا ہو گا؟ وہ میں ہی بے وقوف تھی۔“ وہ خفگی سے بولی۔

”بے وقوف تو آپ تھیں تبھی تو چلا گیا تھا چھوڑ کر۔“ وہ مسکرایا۔

”اور میں اب بھی وہی ہوں۔“

”ٹھیک ہے، میں گزارہ کر لوں گا۔“ وہ مسکرایا۔

”فاطمہ سے اکثر فون پر بات ہوتی تھی اور تمہارے بارے میں پوچھتا تھا مگر میں براہ راست بات کرنا نہیں چاہتا تھا اس لیے نہیں کہ محبت نہیں رہی تھی یا وہ دیوانگی ختم ہو گئی تھی،اس لیے کہ تمہیں احساس ہو سکے۔ آنیہ! شادی ایک بڑا فیصلہ ہے اسے بچوں کی طرح نہیں لیا جا سکتا۔ میں آج بھی وہی یقین تمہیں سونپنے کو تیار ہوں مگر شرط یہ ہے کہ تم اس کا یقین کرو، زندگی میں بہت سی چیزوں کے لیے تھوڑا بہت سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے مگر محبت سمجھوتہ نہیں ہے دو دلوں کے درمیان ہم آہنگی ہے۔ آپ خوش تب ہی رہ سکتے ہیں جب آپ نے کوئی فیصلہ پورے دل اور پورے دماغ سے لیا ہو۔ اگر کہیں آپ کی پوری عقل یا پورا دل کسی فیصلے میں شامل نہیں تو پھر وہ فیصلہ کسی ایک نقطے پر آ کر آپ کے لیے کوئی پرابلم کری ایٹ کر سکتا ہے۔ تمہارے معاملے میں، آئی ایم شور میرا دل، دماغ سب ایک نقطے پر ہیں، میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور تمہارے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں مگر میں چاہوں بھی تو تم پر اپنے فیصلے کے لیے دباﺅ نہیں ڈال سکتا۔ کوئی زبردستی نہیں کر سکتا جب تک کہ تم بھی اسی سمت میں چلنا نہ چاہو جس سمت میں چلنا چاہتا ہوں۔“ وہ بہت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔

”جانتی ہوں، مگر آپ جانتے ہیں کہ میںکیا چاہتی ہوں پھر اس طرح کیوں بات کر رہے ہیں؟“

”جانتا ہوں، مگر یقین کرنا چاہتا ہوں کہیں میرا وہم نہ ہو، آنیہ! خواب اچھی چیز ہیں مگر جب آپ پریکٹیکل لائف کی طرف قدم بڑھاتے ہیں تو چیزوں کا رنگ اورڈھنگ بدلنے لگتا ہے۔“

”آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہوں گی؟“ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولی۔ میکال شاہ نے شانے اُچکاتے ہوئے لاعلمی کا اظہار کیا تو آنیہ نے ایک مکا اسے دے مارا تو وہ مسکرا دیا پھر اسے خود سے قریب کرتے ہوئے بولا۔

”آنیہ! میں جانتا ہوں تم مجھ سے پیار کرتی ہو، میرے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہو مگر تم انکار کرتی آئی ہو کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے۔“ وہ چھیڑتے ہوئے بولا تو وہ مسکرا دی۔

”اوہ! تو آپ وہ سننا چاہتے ہیں کہ میں آپ کے لیے کتنی پاگل ہوں؟“

”کیا حرج ہے، کیا اپنی ہونے والی وائف سے اتنا بھی نہیں سن سکتا کہ وہ مجھ سے کتنی محبت کرتی ہے۔ اگر وہ یہ جانتی ہے کہ میں اس کے لیے کتنا پاگل ہوں تو مجھے بھی یہ حق پہنچتا ہے۔“ وہ مسکرایا اور آنیہ مسکرا دی۔

”آپ نے سنا تھا نا۔“ وہ مسکرائی۔

”کب….؟“ اس نے چھیڑا۔

”جب میں وائلن بجائے ہوئے اچانک تھک کر آنکھیں بند کر کے کہہ رہی تھی، آپ نے سنا تھا نا؟“ وہ مسکرائی۔

”نہیں، میں نے کچھ نہیں سنا، تم نے کچھ کہا تھا۔“ آنیہ نے مکا اس کے سینے پر مارا اور پھر اس کے شانے پر سر رکھ دیا۔

” مجھے آپ سے محبت ہے میکال شاہ! اور میں آپ سے ہمیشہ محبت کرتے رہنا چاہتی ہوں، ہمیشہ آپ کے قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہتی ہوں، راستے کے اختتام تک۔“ وہ بہت سکون سے کہہ گئی۔

”فاطمہ نے کہا تھا محبت یقین ہے اور جب یقین ہو گا تو خدشات باقی نہیں رہیں گے، آج میرے دل میں خدشے باقی نہیں ہیں میکال! کیونکہ آج میں محبت کی حقیقت کو جان اور سمجھ گئی ہوں، آج سے میرے لیے میری عقل سے دیکھنے اور سننے کے معنی بدل گئے ہیں۔“ وہ مدھم لہجے میں کہہ رہی تھی۔

”میرا یقین تمہارے لیے ہے آنیہ! اور یہ کبھی نہیں بدلے گا۔“ وہ اس کی سماعتوں میں سرگوشی کر رہا تھا۔

”تمہارے لیے میری محبت کبھی کم نہیں ہو گی، ہمیشہ ایسی ہی رہے گی۔ چاہے کیسے بھی حالات ہوں، یہ یقین ختم نہیں ہو گا۔“ وہ یقین دلا رہا تھا اور آنیہ مرتضیٰ خان سکون سے آنکھ بند کر گئی تھی۔

”آئی لَو یو آنیہ!“ اس کے لب آنیہ کو اپنے بالوں کے قریب ہلتے محسوس ہوئے تھے، وہ مسکرا دی۔

”آئی لَو یو ٹو۔“

ض……..ض……..ض

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خوشی … شیکھا گپتا/عامر صدیقی

خوشی شیکھا گپتا/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. آج جیسے ہی گھر سے آفس کے لئے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے