سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 34  سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 34  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 34
سید انور فراز

سال 1995 ء معراج رسول صاحب کے لیے ایک مشکل ترین سال تھا، کاغذ کی گرانی کے مسائل اپنی جگہ ، ان کی ذاتی زندگی کے مسائل بھی نہایت شدید رہے جس کی وجہ سے اس سال کا بہت زیادہ حصہ انھوں نے ملک سے باہر گزارا،جیسا کہ اکثر لوگ جانتے ہیں کہ معراج صاحب نے دو شادیاں کیں اور دونوں ہی لو میرج تھیں، پہلی شادی کا ماجرا ہم گزشتہ کسی موقع پر بیان کرچکے ہیں،دوسری شادی محترمہ عذرا رسول سے 1987 ء میں ہوئی،یقیناً پڑھنے والوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ محبت تو انسان ایک ہی بار کرتا ہے پھر دونوں شادیوں کو لو میرج کیسے کہا جاسکتا ہے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ محبت کا جذبہ یا فلسفہ بڑا ہی پیچیدہ ہے،اس معاملے میں بڑے بڑے فلسفیوں کے فلسفے اکثر غلط ثابت ہوگئے ہیں،شاعروں نے اس حوالے سے اپنے اپنے نظریات، مشاہدات اور تجربات بیان کیے ہیں لیکن ان میں بھی اکثر تضاد پایا جاتا ہے،بڑی ہی عجیب تشریح حضرت رئیس امروہوی نے کی ہے ؂
یا رب! غم عشق کیا بلا ہے
ہر شخص کا تجربہ نیا ہے
ہمیں نہیں معلوم معراج صاحب نے عذرا صاحبہ کو پہلی بار کب دیکھا اور کیسے ان کے دیوانے ہوئے،دیوانے کا لفظ ہم نے محاورتاً استعمال نہیں کیا، حقیقتاً ان کا دوسرا عشق دیوانگی کی حد تک پہنچ چکا تھا کیوں کہ ایک بار انھوں نے ہمیں بتایا کہ میں نے مکہ یا مدینہ میں سے کسی ایک جگہ (ہمیں شہر کا نام صحیح طور پر یاد نہیں رہا) عذرا سے شادی کے لیے دعا مانگی تھی جو قبول ہوئی اور شاید 1987 ء میں یہ شادی ہوگئی، اس شادی کا ایک متضاد پہلو دونوں کے درمیان مسلکی فرق بھی ہے،معراج صاحب ایک سنی فیملی سے تعلق رکھتے تھے جب کہ عذرا صاحبہ کا تعلق شیعہ گھرانے سے ہے، جہاں تک معراج صاحب کے مسلک یا مذہب کا تعلق ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہر قسم کی انتہا پسندی سے دور تھے،انھیں ایک سیکولر ذہن کا حامل کہا جاسکتا ہے جو ہر قسم کی مذہبی شدت پسندی سے گریز کرتے ہوئے انسانیت اور اعلیٰ اخلاقی معیارات پر یقین رکھنے والوں میں نظر آتی ہے،ایسے لوگ اعلیٰ کردار کو بھی اہمیت دیتے ہیں،شاید اسی وجہ سے ان کی سیاسی پسندیدگی (وابستگی نہیں) جماعت اسلامی سے تھی،پیپلز پارٹی کے ہمیشہ خلاف رہے۔
***
معراج صاحب کی دوسری شادی یقیناً پہلی بیگم کے لیے ایک بڑا صدمہ ثابت ہوئی اور دونوں کے درمیان اختلافات بڑھتے چلے گئے حالاں کہ معراج صاحب نے ساجدہ صاحبہ کو مطمئن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، ان کی ہر فرمائش کو پورا کیا لیکن ان کے دل میں اس شادی سے جو پھانس چُبھی تھی وہ انھیں کسی صورت چین نہیں لینے دیتی تھی، یہاں تک کہ انھوں نے طلاق کا مطالبہ کردیا جو معراج صاحب نے قبول نہیں کیا، آخر کار وہ کورٹ کے ذریعے خلع لینے پر مجبور ہوگئیں، خلع کے باوجود معراج صاحب بچوں کی وجہ سے ان کی اکثر ضروریات پوری کرتے رہے کیوں کہ بچے بہر حال ان کے ساتھ تھے اور وہ اس معاملے میں باپ کو قصور وار سمجھتے تھے،مزید یہ کہ بچوں کو باپ کے خلاف کرنے میں بھی ساجدہ کا خصوصی کردار رہا، گویا یہ ان کے ہاتھ میں سب سے بڑا ہتھیار تھا جسے وہ حسب ضرورت معراج صاحب کے خلاف استعمال کرتی رہتی تھیں اور معراج صاحب بچوں کی وجہ سے سب کچھ برداشت کرنے پر مجبور تھے۔
ان تنازعات کے دوران میں ہی بیٹی کی شادی بھی متنازع بنی، معراج صاحب اس رشتے کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن ساجدہ سپورٹ کر رہی تھیں، داماد کا تعلق ایک بہت ہی نچلے درجے سے تھا، اس موقع پر بھی معراج صاحب کو خون کا گھونٹ پینا پڑا اور بالآخر یہ شادی ناکام ہوئی پھر بیٹے نے تعلیم سے منہ موڑ لیا اور ایسی ایسی فرمائشیں شروع کردیں جنھیں پورا کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا مثلاً اس نے کہا کہ میں پاکستان میں نہیں پڑوں گا، انگلینڈ جاؤں گا اور وہیں رہوں گا، کسی کاؤنٹی میں کرکٹ سیکھوں گا،یہ سارے شوق نہایت مہنگے تھے لیکن معراج صاحب نے یہ تمام انتظامات بھی کیے مگر صاحب زادے انگلینڈ میں بھی نہ رہ سکے اور واپس پاکستان آگئے، اپنا قیمتی وقت فضول مشاغل میں ضائع کرنے لگے، یقیناً ایک باپ کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ کیا بات ہوسکتی تھی؟
صاحب زادے فرحان رسول کی جارحانہ مزاجی اپنی جگہ تھی اور معراج صاحب کا خیال یہ تھا کہ بیٹے کا یہ رویہ ماں کی وجہ سے ہے اسی لیے وہ اپنا زیادہ وقت ملک سے باہر گزارنے لگے لیکن اچھی بات یہ تھی کہ دفتری معاملات معقول ہاتھوں میں تھے اور ملک سے باہر رہتے ہوئے بھی وہ ہفتے میں کم از کم دو تین بار فون پر فرداً فرداً تمام متعلقہ ذمے داران سے بات کرتے اور تازہ صورت حال کی رپورٹ لیتے، ایسے ہی ایک موقع پر ایک نہایت دلچسپ واقعہ پیش آیا۔
بہ حیثیت جنرل منیجر اقلیم علیم صاحب تمام انتظامی امور کے نگراں تھے،فون پر گفتگو کے دوران میں دفتر کے ہر ذمے دار کی کارکردگی بیان کرتے، کوتاہیوں کی نشان دہی کرتے اور بعد میں معراج صاحب براہ راست اس شخص سے باز پرس کرتے، ان دنوں دفتری امور کو کسی سرکاری دفتر کے معیار پر لانے کی کوششیں عروج پر تھیں یعنی ہر شخص کے دفتر آنے اور جانے کے اوقات نوٹ کیے جاتے بلکہ ایک رجسٹر بھی رکھ دیا گیا تھا کہ آنے والا دفتر میں آتے ہی رجسٹر پر دستخط کرے اور دفتر آنے کا ٹائم لکھے، اسی طرح روانگی کے وقت بھی وقت نوٹ کیا جائے،جہاں تک سرکولیشن یا دیگر شعبوں کا تعلق ہے ، یہ طریقہ کار ان کے لیے مناسب رہتا ہے لیکن تخلیقی نوعیت کے کام اس طریقہء کار کے مطابق بہتر طور پر انجام نہیں پاسکتے،کم از کم ہمارا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ تو یہی ہے مثلاً آرٹسٹ شاہد اسکیچز وغیرہ کے سلسلے میں اس اصول کا پابند نہیں ہوسکتا تھا، کب اس کے ذہن میں کوئی یونیک آئیڈیا آتا ہے اور کب وہ اپنے آئیڈیے کو ایک تصویری شکل دیتا ہے اس کے لیے کوئی ٹائم مقرر نہیں کیا جاسکتا، اکثر ایسا بھی ہوتا تھا کہ وہ سارا سارا دن کوئی کام ہی نہیں کرپاتا تھا، اسی طرح رائٹرز پر بھی یہ پابندی نہیں لگائی جاسکتی تھی کہ وہ مقررہ تاریخوں کی پابندی کریں چناں چہ کوئی کہانی جلد موصول ہوگئی اور کسی میں تاخیر ہوگئی پھر کتابت کا مرحلہ اور پروف ریڈنگ کا مرحلہ شروع ہوتا، اکثر ایسا بھی ہوتا کہ ایک ہفتے تک سب ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہوتے اور پھر اصل ہدف تک پہنچنے کے لیے رات دیر تک بیٹھ کر بھی کام کرنا پڑتا، اس صورت حال میں لوگوں کو شکایات پیدا ہونے لگیں اور لوگوں سے منیجر صاحب کو شکایتیں پیدا ہونے لگیں۔
ایک روز ہم فون پر معراج صاحب سے بات کر رہے تھے کہ اچانک انھوں نے ذرا سخت لہجے میں کہا’’تم دفتر دیر سے آتے ہو، اس سے دوسرے لوگوں کو بھی موقع ملتا ہے کہ وہ بھی دیر سے آئیں اور پھر انھیں کچھ نہ کہا جائے لہٰذا اپنے آنے جانے کے ٹائمنگ درست کرلو‘‘
یہ سن کر ہمیں حیرت کا شدید جھٹکا لگا اور ہم نے جواباً کہا ’’میں پیر کے روز یقیناً تقریباً 11 بجے تک دفتر آتا ہوں اور اس کے بعد پورا ہفتہ رات و دن دفتر ہی میں رہتا ہوں، ہفتے کی شام کو گھر واپسی ہوتی ہے اور میرے یہ معمولات تو آپ کے علم میں بھی ہیں‘‘
شاید معراج صاحب خاصا عرصہ دفتر سے دور رہنے کے دوران میں اس حقیقت کو بھول بیٹھے تھے، ہماری وضاحت کے بعد ایک لمحے کو خاموش ہوگئے پھر شاید خجالت مٹانے کے لیے صرف اتنا کہا’’بھئی! پیر کو بھی ذرا جلدی آجایا کرو‘‘
جواباً ہم نے بھی صرف اتنا کہا’’جی بہتر‘‘
ہمیں بڑی حیرت ہوئی کہ اقلیم علیم جن سے دفتر میں ہمارے مراسم ہمیشہ بہت اچھے رہے اور ہر موضوع پر ہر قسم کی گفتگو جس میں نجی نوعیت کے معاملات بھی شامل ہیں، اکثر زیر بحث آتے رہے، انھیں کم از کم ایسی بچگانہ شکایت معراج صاحب سے کرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی،ہفتے میں ایک روز کچھ تاخیر سے ہمارے آنے سے دفتر کے ماحول کی خرابی کیا معنی رکھتی تھی ، بعد میں ہمیں اندازہ ہوا کہ وہ لوگ جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں اور دفتر میں ان کے پاس کرنے کے لیے کوئی خاص کام نہیں ہوتا، وہ ایسی ہی باتیں کرکے مالکان کی نظر میں اپنے نمبر بڑھارہے ہوتے ہیں لیکن درحقیقت دفتر کے دیگر ارکان کی نظروں میں اپنی وقعت کم کر رہے ہوتے ہیں، اقلیم علیم سے پہلے دفتر میں اور بھی لوگ اس عہدے پر متمکن رہے جن میں معراج صاحب کے سگے بھائی اعجاز رسول بھی شامل ہیں، یہ تمام لوگ کسی ایسی بات پر جو ان کے خیال میں غلط ہو ، براہ راست متعلقہ آدمی سے بات کرتے تھے ، سختی یا نرمی سے ، اس کی غلطی یا کوتاہی پر باز پرس کی جاتی، اگر وہ معقول دلیل دے کر مطمئن کردیتا تو بات ختم ہوجاتی، دفتر کے سابقہ منیجرز میں نفیس احمد خاں بہت کم پڑھے لکھے اور زبان کے خاصے بے ہودہ انسان تھے، ان کے زیادہ تر معرکے آرٹسٹ شاہد حسین سے رہے،اکثر دونوں کے درمیان نہایت سخت جملوں کا تبادلہ ہوتا اور آخر میں دونوں میں سے کوئی ایک ٹھنڈا ہوجاتا یا بعض کاتبوں سے نفیس کی منہ ماری ہوا کرتی۔
اقلیم علیم صاحب کی منیجری کے اس اسٹائل نے بہت سی غلط روایات کو جنم دیا جو پہلے ادارے میں کبھی دیکھی نہیں گئیں تھیں، صاف ستھرے انداز میں کام کرنے والے اور اپنی ذمے داریوں سے مخلص افراد ان کی پروا نہیں کرتے تھے جب کہ ایسے لوگ جو کام چوری یا غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرتے تھے، ان کی خوشامد میں مصروف ہوگئے، اس طرح دفتر میں دو گروپ وجود میں آگئے، ہمارے خیال سے یہ ایک غلط روایت تھی، معراج صاحب بہت دانا و بینا تھے، ان مسائل کو سمجھتے تھے اور انھیں اس بات کا بھی خوب اندازہ تھا کہ کس کی کارکردگی کیا ہے لہٰذا وہ بے جا شکایات پر کبھی کان نہیں دھرتے تھے، عموماً ایسی باتوں کو نظرانداز کردیتے تھے ، کم از کم ہماری حد تک تو صورت حال یہی تھی،شاہد حسین کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا ، اس نے کبھی ایسی کسی بھی پابندی کو قبول نہیں کیا، اس کی دفتر آمد اور روانگی کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔
اقلیم علیم معراج صاحب کے ابتدائی زمانے کے رفقا میں شامل ہیں، جاسوسی ڈائجسٹ کے پہلے شمارے میں ان کا اور ایم اے راحت کا نام ادارتی صفحے پر موجود تھا، انھوں نے جاسوسی کے لیے بالکل ابتدا میں ’’سنگ تراش‘‘ جیسی غیر معمولی سلسلے وار کہانی لکھی، اس زمانے میں ماورائی کہانیوں کا رواج عام تھا اور خصوصاً ہندو دیومالا کو اہمیت دی جاتی تھی لیکن اقلیم صاحب نے اس روایت کو توڑا ، عراق کے پس منظر میں نہایت دلچسپ ماورائی کہانی لکھی ، یہ ڈائجسٹ کے قارئین کے لیے ایک نیا ذائقہ تھا، اس کے بعد ’’مفرور‘‘ شروع ہوئی،اس کا موضوع اور انداز بھی جداگانہ تھا، یہ بھی اپنے وقت کی مقبول ترین کہانی تھی۔
اقلیم علیم کا تعلق دہلی کے ایک شریف گھرانے سے تھا، ان کی پیدائش بھی دہلی میں ہوئی، تقسیم ہندوستان کے بعد ان کے والدین کراچی آگئے، اقلیم صاحب نے مکینیکل انجینئرنگ میں اچھی پوزیشن حاصل کی اور اسی مناسبت سے مختلف فیکٹریوں میں جاب کرتے رہے لیکن چوں کہ ادبی دلچسپیاں بھی زمانہ ء تعلیم ہی سے ساتھ ساتھ رہی تھیں لہٰذا کہانیاں لکھنے کی طرف بھی توجہ رہی، معراج صاحب سے ذاتی مراسم کے سبب ان کی قلمی معاونت جاسوسی ڈائجسٹ کو حاصل رہی، یہ الگ بات ہے کہ یہ معاونت جاسوسی ڈائجسٹ کے مدیر اور دیگر افراد کے لیے کسی عذاب سے کم نہ تھی کیوں کہ بہ حیثیت ایک مکینیکل انجینئر ان کی مصروفیات شاید انھیں اس ادبی سرگرمی کے لیے زیادہ وقت نہ دیتی ہوں، پورا مہینہ گزر جاتا لیکن وہ کہانی کا ایک صفحہ بھی نہ لکھ پاتے، یہاں تک کہ پرچے کی آخری کاپی سر پر آجاتی اور پھر شاید وہ فیکٹری سے دو تین روز کی چھٹی لے کر کہانی لکھتے، ہم نے سنا تھا کہ ان سے کہانی لکھوانے کی ذمے داری مرحوم غلام کبیریا بیگ کے سپرد تھی جو اکثر آخری دنوں میں ان کے گھر پر بیٹھ کر انھیں لکھنے پر مجبور کردیتے تھے، اس زمانے میں پرچے کی ادارت احمد سعید صاحب کیا کرتے تھے جو خاصے مشینی انداز میں کام کیا کرتے تھے،ہمیں نہیں معلوم مفرور کا اختتام کن وجوہات کی بنیاد پر ہوا، وہ ایک مقبول قسط تھی، کسی مرحلے پر بھی اس کی مقبولیت کم نہیں ہوئی، ایسی کہانی کو ختم کرنے کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا، ممکن ہے احمد سعید صاحب کے لیے کہانی کا بالکل آخر وقت میں آنا پریشانی کا باعث رہا ہو اور انھوں نے اس سے جان چھڑانے کے بارے میں سوچا ہو، ہم نے ان سے اس بارے میں کبھی نہیں پوچھا ، الحمد اللہ وہ بقید حیات ہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے ہمیں معلوم ہوا کہ ان پر فالج کا حملہ ہوا ہے،اب تک ہمیں ان کی عیادت کے لیے جانے کی توفیق نہیں ہوئی، اللہ ہمیں معاف فرمائے۔
مفرور کے اختتام کے بعد ایک طویل عرصے تک اقلیم صاحب کی کوئی سلسلے وار کہانی شائع نہیں ہوئی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ معراج صاحب کے بے حد اصرار پر وہ ایک سلسلے وار کہانی لکھ رہے ہیں جس کا موضوع منشیات کی اسمگلنگ ہے، اقلیم صاحب نے اس موضوع پر بھرپور انداز میں بین الاقوامی صورت حال پر ریسرچ کی اس کے بعد یہ کہانی لکھنا شروع کی، مفرور 1983 ء میں ختم ہوئی اور ’’موت کے سوداگر‘‘ 1984 ء میں سسپنس ڈائجسٹ میں شائع ہونا شروع ہوئی، اشاعت کے وقت شاید پندرہ سولہ اقساط ایڈوانس تھیں لیکن اس کے بعد پھر وہی پرانی روایت برقرار رہی یعنی کاپی پریس جانے کے لیے آخری مرحلے میں ہوتی اور اقلیم صاحب کہانی لکھنا شروع کرتے، آؤٹ ڈور کلرک کی ڈیوٹی تھی کہ روزانہ ان کے گھر سے کہانی کے جو صفحات انھوں نے لکھ لیے ہوں، دفتر لے آئے،اس طرح سب کچھ ہاتھ کے ہاتھ ہوتا تھا یعنی روز کے روز صفحات آتے، کتابت ہوتے، پروف ریڈنگ ہوتی اور کاپی پر پیسٹ ہوجاتے۔
کسی وجہ سے وہ فیکٹری بند ہوگئی جہاں اقلیم صاحب کام کر رہے تھے، اس طرح وہ بے روزگار ہوگئے، اتفاق سے ان دنوں معراج صاحب کو اپنے بھائی اعجاز رسول سے شاید کچھ شکایات پیدا ہوگئیں تھیں لہٰذا انھوں نے اقلیم صاحب کو ان کی جگہ لانے کا فیصلہ کرلیا اور اس طرح وہ ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ میں جنرل منیجر کے عہدے پر براجمان ہوئے، ساتھ ہی موت کے سوداگر بھی جاری رہی اور اسی شان کے ساتھ کہ بالکل آخری مرحلے پر لکھی جاتی تھی، تقریباً پورا پرچا پرنٹنگ کے لیے پریس جاچکا ہوتا، صرف آخری کاپی جس میں موت کے سوداگر پیسٹ ہونا ہوتی تھی، رہ جاتی، موت کے سوداگر کا اچانک اختتام حیرت انگیز تھا کیوں کہ کہانی ہر گز کسی مرحلے پر بھی کمزور نہیں پڑی تھی، اس کی مقبولیت بھی ہمیشہ برقرار رہی، سسپنس کی ادارت کی ذمے داریاں ان دنوں جعفر حسین کے سپرد تھیں جو بہت زیادہ عرصہ ادارے میں نہیں رہے، ہم بھی ادارہ چھوڑ چکے تھے اور ہمارے ادارہ چھوڑنے کے صرف ایک ڈیڑھ ماہ بعد ہی معراج صاحب بھی اپنی یادداشت کھو بیٹھے، گویا ایک عضو معطل بن کر رہ گئے، اب آفس میں شاید ایسا کوئی نہیں تھا جو ایک کہنہ مشق اور بے مثل تخلیق کار و ادیب کی ناز برداری کرتا، ہمیں بعض ذرائع سے جو اطلاعات ملی ہیں ان کے مطابق اقلیم صاحب کا روایتی طور پر کہانی کو تاخیر سے لکھنا ہی نئی انتظامیاں اور جعفر حسین کے لیے سہانِ روح بنا، ان لوگوں نے نہایت سفاکی کے ساتھ اس شاہکار کہانی کو بند کرنے کے لیے کچھ ایسی حرکتیں کیں جو اقلیم صاحب کے لیے شاید ناقابل برداشت ہوگئیں اور انھوں نے ساری بساط ہی لپیٹ دی، اس کے بعد مزید کچھ نہ لکھا، لکھوانے والا ہی نہ رہا تھا۔
معراج صاحب جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ ایک اچھے منتظم تھے، اصول و قواعد کی سختی سے پابندی کرتے تھے لیکن انھیں یہ شعور بھی تھا کہ ایک تخلیق کار کی کیا اہمیت ہے؟ اور اس سے کام لینے کے آداب کیا ہیں چناں چہ وہ لکھنے والوں کے جائز ہی کیا ناجائز نخرے بھی برداشت کرتے تھے،اگرچہ کسی وقت ایسے معاملات پر اپنی ناراضی کا اظہار بھی کرتے تھے لیکن رائٹرز سے کچھ نہیں کہتے تھے،اس حوالے سے تو وہ ایسے لوگوں کو بھی برداشت کرلیتے تھے جنھیں سخت ناپسند کرتے تھے اور یہ ناپسندیدگی کسی خاص وجہ سے ہوتی تھی، مثلاً نواب صاحب کی شادیوں سے بے زار رہتے تھے،شمیم نوید نے ایک بار ان کے حوالے سے کچھ نازیبا باتیں کی تھیں، انھیں وہ یاد رہتی تھیں، اقبال کاظمی نے دوسرے ادارے میں جاکر رائٹرز کو ورغلانے کی کوشش کی تھی، علیم الحق حقی کے آمدن سے زیادہ اخراجات انھیں ناگوار گزرتے جس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ دفتر کے مقروض رہتے، ایچ اقبال کی انانیت اور برابری کی سطح انھیں ناپسند تھی لیکن ایسے لوگ بھی تھے جن سے انھیں کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی وہ ان سے ہمیشہ خوش رہتے تھے جن میں سر فہرست عبدالقیوم شاد ، محمود احمد مودی، ساجد امجد اور احمد اقبال شامل ہیں۔
ایسی ہی فاش غلطی اسی دور میں ’’دیوتا‘‘ کو بند کرنا تھی، ہمیں یاد ہے کہ بہت پہلے سے اکثر دیوتا کو ختم کرنے اور نواب صاحب سے نئی قسط لکھوانے کی باتیں ہوا کرتی تھیں لیکن نواب صاحب اس کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے اور معراج صاحب بھی اس حوالے سے کوئی رسک نہیں لینا چاہتے تھے،وہ جانتے تھے کہ برسوں سے جو لوگ نسل در نسل دیوتا پڑھ رہے ہیں، یہ سسپنس کی پکی ریڈرشپ ہے حالاں کہ دیوتا کی مخالفت میں بھی خطوط آیا کرتے تھے ، بعض لوگ کسی کمزور قسط پر اسے بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا کرتے تھے لیکن ایسے چند افراد کی باتوں میں آکر دیگر ہزاروں پڑھنے والوں کو مایوس کرنا کوئی دانش مندی نہیں تھی، چناں چہ دیوتا کا بند ہونا سسپنس ڈائجسٹ کے لیے ایک غیر معمولی جھٹکا ثابت ہوا، سالہا سال سے سسپنس سے بندھے لوگوں کو آزادی مل گئی، آپ نے برسوں جس کہانی کے ساتھ گزارے ہوں وہ آپ کو بور بھی کرے تو بھی آپ اسے پڑھتے رہتے ہیں، کہانی کے کرداروں سے آپ کی رہ و رسمِ آشنائی عشق کی حد تک پہنچ جاتی ہے اور جن سے عشق کیا جائے وہ کتنے ہی برے ہوجائیں، ان سے جدائی آسان نہیں ہوتی، ایسی ہی دوسری غلطی موت کے سوداگر کا خاتمہ تھی جس نے سسپنس ڈائجسٹ ہی کا خاتمہ کردیا لیکن کیا اس حقیقت کا کسی کو شعور ہے؟
میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں
بے شک موجودہ دور میں ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز میں اگر کوئی شخصیت اچھی کہانی کا شعور رکھتی ہے اور اچھی کہانی لکھ سکتی ہے تو وہ اقلیم علیم ہیں ، ان کا تجربہ ، مطالعہ و مشاہدہ بہت زیادہ ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی موجودگی کے باوجود پرچے رفتہ رفتہ اپنی ساکھ اور اشاعت کھورہے ہیں، کیا اقلیم علیم ایک خاموش تماشائی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟بہت دن ہوگئے ان سے ملاقات نہیں ہوئی اور ان کا فون بھی نہیں آیا، شاید کبھی اس سوال پر بات کرنے کا موقع ملے،باقی دفتر کا حال الا ماشاء اللہ ہے ؂
گلہ ء جفائے وفا نما جو حرم کو اہل حرم سے ہے
کسی بت کدے میں کروں بیاں تو صنم کہے کہ ہری ہری

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 35  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے