سر ورق / کہانی /  کولڈ فیئر …  شبیہہ مظہر رانجھا… پہلا حصہ

 کولڈ فیئر …  شبیہہ مظہر رانجھا… پہلا حصہ

                                                 کولڈ فیئر

 شبیہہ مظہر رانجھا،بھلوال

پہلا حصہ

COLD FEAR

 میں نے آج تک زندگی میں کوئی چڑیل یا بھوت نہیں دیکھا نہ ہی کوئی جن میرے سامنے آیاتھا۔حالانکہ میری چاچی ہمیں بچپن سے جنوں پریوں کے قصے سناتی آئی تھی،میری امی پڑھی لکھی اور سلجھی خاتون تھیں انھیں پسند نہیں تھا کہ ہم رات کو چاچی کے گوڈے سے لگ کے جنوں چڑیلوں کے جھوٹے سچے قصے سنیں اور بڑے ہونے تک ہم بہن بھائیوں کی شخصیت میں کوئی خامی رہ جائے ،رات کو امی ہمیں آیت الکرسی اور ناد علی یاد کرواتیں لیکن ہم لوگ کئی بار چپکے سے نظر بچا کے چاچی کے کمرے میں گھس جاتے اور انکا پلو پکڑ کر کہانی سنانے کی فرمائش کرتے رہتے ،وہ کام میں لگی بھی ہوتیں تب بھی ہم انھیں گھیر لیتے اور انکو کہانی سنانی ہی پڑتی ۔اسی طرح کہانی سنتے سنتے میرا تجسس بڑھ جاتا اور دل کرتا کہ جن نظر نہیں آتا تو نہ آئے کم از کم کوئی ایسا بندہ ہی دیکھ لوں جس پہ جن آئے ہوں اور اسے دورے پڑتے ہوں لیکن میری خواہش کی تکمیل نہ ہوئی ۔ بہت سے قصے سنے اور لوگ بھی دیکھے جن کے بارے میں کہا جاتا کہ ان پہ جن آتا ہے لیکن عملی طور پہ کچھ دکھائی نہ دیتا ۔میرا تجسس تجسس ہی رہا ،یہ خواہش دل میں ہی رہ جاتی کہ ایک دن گھر میں عجیب واقعات کا ایک ایسا طویل سلسلہ چلا ،جس میں جن چڑیلوں کے صرف قصے نہیں بلکہ جنات کا ہمارے گھر اچھا خاصہ ڈیرہ بن گیا اورانھوں نے ہماری زندگیوں پہ بہت گہرا اثر ڈالا،

         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

                                                                                                                مین گیٹ زور زور سے دھڑدھڑایا جارہا تھا ،یوں لگ رہا تھا گویا لکڑی یا لوہے کی چھڑی سے کوئی پیٹ رہا ہو ،ہم سب خوف سے تھر تھر کانپ رہے تھے ،جو سنا تھا لگتا تھا سچ ہے،وہ اس وقت طوفان بنی ہوئی تھی، ہم لوگوں نے خوف سے دروازے لاک کر دئیے،بچے چیخ رہے تھے امی اور بھائی صحن میں تھے باقی سب نے خود کو کمروں میں بند کر لیا ،خون کی جگہ خوف ہم سب کی رگوں میں دوڑ رہا تھا ،گیٹ کوٹنے کی آواز دماغ پہ پڑ رہی تھی ،جیٹھ کے بچے چیخ چلا رہے تھے ،ہائے امی خالہ نویدہ آگئی ،وہ ہمیں مار ڈالے گی،امی اس کے ِجنوں سے ہمیں ڈر لگتا ہے،خود خالہ نویدہ کی دو بیٹیاں بھی ہمارے ساتھ ہی کمرے میں بند اپنی ماں سے ڈری بیٹھی تھیں ۔میں چیخ چیخ کے سب کو چپ کراﺅں لیکن ایک قیامت کا منظر تھا سبھی رو رہے تھے ۔باہر موت کا سناٹا تھا امی بھی چپ تھیں اور بھائی بھی ،جب گیٹ کُوٹنے کے بعد بھی کسی نے دروازہ نہ کھولا تو خالہ نویدہ نے اونچا اونچا رونا شروع کر دیا ۔پورے محلے میں انکی آواز گونج رہی تھی اس بات کی وجہ سے وکی بھائی (میرے شوہر علی کے بھائی)نے کہا کمروں میں بند لوگ دروازہ نہ کھولیں میں خالہ نویدہ کے لئے بیرونی گیٹ کھولنے لگا ہوں ،انکی بیٹیوں (خالدہ،ساجدہ)نے رونا شروع کر دیا کہ ہمیں امی سے ڈر لگتا ہے وکی بھائی دروازہ نہ کھولیں،لیکن پورا محلہ تماشا دیکھے یہ ہمیں گوارا نہ تھا ،میں کمرے کے دروازے سے لگ کر کی ہول میں جھانک رہی تھی جب وکی بھائی نے باہر والا دروازہ کھولا اور جو منظر میں نے دیکھا وہ ناقابل بیان تھا ،خالہ نویدہ جو دودھ جیسی رنگت رکھتی تھی اب توے کی طرح تھی اور سر کے بال بکھرے ہوئے یوں جیسے کسی سے سخت لڑائی کی ہو،ہاتھ میں تین شاخہ ڈنڈا تھا جس سے وہ ہمارا گیٹ دھڑدھڑا رہی تھی ،اندر آتے ہی وکی بھائی پہ پھنکاری دروازہ کیوں نہیں کھولتے تھے ؟کمرے میں ہم سب خالہ کی ڈراﺅنی آواز سن کر سہم گئے تھے بچوں کی ہلکی ہلکی سسکاریاں نکل رہی تھیں اس لئے ان کے منہ پہ ہم نے ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔میں دروازے کی درز سے مسلسل دیکھ رہی تھی۔کہاں ہیں وہ؟کدھر گئی ہیں،مجھے دھوکا دینے والی کدھر گئی ہیں،خالہ چِلا چِلا کر پوچھ رہی تھی اور ہال کی طرف کھلنے والے کمروں کے بند دروازوں کو یوں گھور رہی تھی جیسے ابھی ہمیںآ لے گی میری اپنی ہمت بھی جواب دے چکی تھی ۔اے ساجو اے خالَو کدھر ہو تم دونوں آج تمھیں مار ڈالوں گی۔کیونکہ جو مجھے مارنا چاہے گا میں خود اسے مار ڈالوں گی ۔اسکی آواز دو دو بار نکل رہی تھی،وہ پورے ہال میں گھوم رہی تھی میلاد کے لئے جھنڈیاں لگائی تھیں اور سارا گھر سجایا ہوا تھا خالہ نویدہ نے اسی تین شاخہ ڈنڈے کے ساتھ وہ ساری سجاوٹ توڑ دی،یہ دیکھ کر امی سے رہا نہیں گیا تو کہنے لگیں نویدہ یہ میلاد کے لئے سجاوٹ کی تھی یہ کیا کر ڈالا تم نے؟خالہ نویدہ نے امی کی بات غور سے سنی کچھ دیر آنکھیں چُندھیا کے سوچتی رہی پھر اچانک چوکڑی مار کر بیٹھ گئی اور لگی جھومنے،آنکھیں بند کر کے خالہ جھوم رہی تھی ساتھ کچھ گانا بھی شروع کر دیا غالبًا نعت کے بول تھے ۔پھر اس نے سب کو حکم دیا کہ میرے ساتھ فرش پہ بیٹھ جاﺅ وکی بھائی امی اور علی بیٹھ گئے انھوں نے ایک دوسرے کو اشارہ کیا کہ جیسے خالہ کہتی ہے مانتے جاﺅ،یہ منظر ہم سب کمرے میں سے دیکھ رہے تھے کہ اچانک ساجو کی پھسپسی سی ہنسی نکل گئی جس کی آواز باہر بھی گئی اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ کسی بھوکی شیرنی کی طرح اس دائرے میں سے نکلی جو ساری فیملی کا بنا کے بیٹھی تھی،آتے ہی اس نے ہمارا دروازہ پیٹ ڈالا نکلووو۔۔۔نکلو باہر۔۔۔ساجو تو اندر ہے مجھے پتہ چل گیا ہے تو اسی کمرے میں ہے باہر آ میں تجھے مار ڈالوں گی ،تو نے اور خالدہ نے مجھ پہ تعویز کئے ہیں،مجھے پاگل بنانے کی کوشش کی ہے تم لوگوں نے ،لیکن میں پاگل بناﺅں گی تم دونوں بہنوں کو،اس نے باہر تھرتھلی ڈالی ہوئی تھی اور اندر ایک قیامت مچی ہوئی تھی بچے خوف سے چیخ رہے تھے خالدہ ساجدہ میرے جہازی سائز بیڈ کے پیچھے چھپ گئی تھیں باہر والوں کو اندر والوں کی حالت کا اندازہ ہوا تو وکی بھائی نے خالہ نویدہ کو کہا کہ تم سے بچے ڈر رہے ہیں خالہ میں انھیں نکالتا ہوں،تم انکو جیسے مرضی مارنا لیکن ایک دفعہ مجھے دروازہ کھلوا لینے دو۔خالہ کو پیچھے کر کے وکی بھائی نے علی اور جواد(میرا دیور)کو اشارہ کیا کہ خالہ کو چھت پہ لے جاﺅ۔وہ دونوں سیانے تھے،جوادنے کہا خالہ انکو وکی بھائی نپٹ لےں گے لیکن اوپر چلو ہم میلاد پڑھیں ،یہ سننا تھا کہ خالہ دوبارہ جھومنے لگی اور نعوذباللہ بے ترتیبی سے درود پاک پڑھنے لگی۔

                                                                                وہ دونوں بھائی خالہ کو چھت پہ لے گئے تو وکی بھائی نے تیزی سے دروازہ کھٹکھٹایا،لڑکیو ! جلدی دروازہ کھولو ڈرنے کی کوئی بات نہیں خالہ کو علی اور جواد اوپر لے گئے ہیں،میں تو چاہتی تھی کہ دروازہ کھولوں اور دیکھوں کہ جِن کے آنے پہ خالہ کیسی دِکھتی ہے ،بھائی کی آواز آئی تو میں جلدی سے آگے بڑھ کے چٹخنی گرانے لگی لیکن مجھے خالدہ اور ساجدہ نے پکڑ لیا بھابھی تمھیں ہماری قسم دروازہ نہ کھولنا۔اماں ہمیں مار ڈالے گی۔کیوں مار ڈالے گی؟کیا کیا ہے تم لوگوں نے،جو مارے گی؟ میں نے حیرت سے پوچھا،ارے سنا نہیں کیسے ہمارے نام لے لے کر دروازا ہ پِیٹ رہی تھی، میں تو اس کمرے سے کسی کو بھی نہیں نکلنے دوں گی ،ساجو نے حتمی انداز سے کہا تو بھائی وکی نے سن کر غصے اور بے بسی سے کہا کہ اگرا س نے مارنا ہوتا تو ہم لوگوں کو مارتی جو اس کے ساتھ ہیں،تم لوگ ایک بار دروازہ کھولو میں موجود ہوں تمھیں کچھ نہیں ہو گا ،یہ سن کر میں نے ساجو کی بات پہ کان نہ دھرا اور دروازہ کھول دیا،اندر سب پہ سکتہ سا ہو گیا اور باہر جھانکا تو سناٹا تھا ،بھائی نے ہمیں دیکھ کے اطمینان کیا اور چھت پہ چلے گئے میں باہر آئی تو خالو ساجو نے پھر کھٹاک سے دروازہ بند کر کے چٹخنی چڑھا دی،ساتھ ہی میرا دل بند ہونے لگا،یہ کیا؟آدھے لوگ چھت پہ تھے آدھے کمرے میں اور میں ہال میں تنہا کھڑی تھی،چھت سے فرش تک میں جائزہ لے رہی تھی ،دل میں بس ایک خیال آ رہا تھا کہ یہ دونوں بہنیں کتنی کمینی نکلی ہیں ایسے ہی لوگ اچھے موسموں کے دوست ہوتے ہیں ،پھر کچھ سوچ کے میں بھی چھت کی سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔اوپر سے خالہ کی آواز آ رہی تھی ،پتہ نہیں کیا اول فول بول رہی تھی ،میں نے ممٹی میں جا کر کے جالیوں سے اندر جھانکا ،توخالہ چھت کے وسط میںبیٹھی ہوئی تھی اور اس نے امی ،وکی بھائی ،علی اور جواد کو اپنے اردگرد بٹھایا ہوا تھا ،زمین پہ لکیریں کھینچ کھینچ کچھ پڑھتی اور منہ اوپر کر کے پھونکیں مارتی،یہ دیکھ کر مجھے خالہ نویدہ سے حقیقت میں خوف آنے لگا ،جو ڈنڈا ساتھ لائی تھی اسکو زمین پہ مار مار کے خالہ نے اپنے ہاتھ زخمی کر لئے تھے،میں نے ایک جھرجھری لی اور نیچے بھاگ آئی دروازہ کھٹکھٹایا،خالدہ خوفناک آواز میں بولی کون ہے ،میں نے کہا ۔دروازہ کھول دو خالہ اوپر ہے میں اوپر سے ہو کے آئی ہوں ڈرنے کی کوئی بات نہیں ،میری بات سن کے کچھ دیر وہ لوگ خاموش رہیں تھوڑی دیر بعد دروازہ کھول دیا ۔میں نے سبکو سوالیہ نظروں سے خود کو گھورتے دیکھا تو جو اوپر ہو رہا تھا وہ انکو بتانے لگی ،ابھی میں ساجو سے بات کر ہی رہی تھی کہ دلدوز چیخوں کی آواز آئی اور چھپاک سے خالہ نویدہ ہال میں آ پہنچی،اس سے پہلے کہ ہم لوگ دروازہ بھیڑتے ،اس نے نیم وا دروازے کو ڈنڈا مارا اور چیختی ہوئی کمرے میں آ گئی،اب تو کمرا انسانی چیخوں سے گونج رہا تھا ،خالہ تو وحشی پن کے کارن چیخ رہی تھی جو سایہ اس پہ تھا خالہ اسکی طاقت کے باعث چِلا رہی تھی جبکہ وکی بھائی کے بچے اور خالہ کی اپنی لڑکیاں خوف کے مارے چیخ رہیں تھیں خالَو ساجو میری آڑ میں ہو گئیں ،اور میں ڈرتے ڈرتے خالہ کے مدِ مقابل کھڑی ہو گئی کیونکہ میرے چھپنے یا کسی کونے میں گھسنے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی ان لوگوں نے ۔ساجو سامنے آ۔۔۔تجھے میں نہیں چھوڑوں گی خالو تیری موت ہوں میں ،تجھے نہیں چھوڑوں گی ،وہ ڈنڈا لہرا لہرا کر بیٹیوں کے نشانے لے رہی تھی لیکن جیسے جیسے بچنے کے لئے میں موو کرتی وہ بھی موو کرتیں،یہ دیکھ کہ وکی بھائی کے لڑکے باہر بھاگ گئے اتنے میں جواد بھاگتا ہوا اندر آیا اور پیچھے سے خالہ کو کلاوے میں لے کر ڈنڈا ہاتھ میں لے لیا،اے ساجو تم دونوں بہنوں کو تو ہم ماسی بھانجا نہیں چھوڑیں گے ،کیوں میری خالہ کو تعویذ ڈالے تم دونوں نے؟،وہ حیران ہو کے جواد کو دیکھنے لگیں تو اس نے بائیں آنکھ دبا دی ،چلو خالہ پہلے پانی پی لو پھر انھیں مارنا ،وہ ماشااللہ اچھے قد کاٹھ کے ساتھ ساتھ مضبوط جان جثے والا ورزشی لڑکا تھا اسی لئے خالہ کو کھینچ کھانچ کے باہر لے گیا،اتنے میں علی اور بھائی وکی بھی نیچے آ گئے،جواد نے اللہ جانے خالہ کو کیا کہا تھا کہ وہ اتنے اتھرے جن آنے کے باوجود کوزے میں بند ہو گئی اور کبھی کبھی غرا تی پھرجواد خالہ کو باتوں میں لگا لیتا ،میں بھی ڈرتے ڈرتے باہر آئی تو علی مجھے ڈانٹنے لگے کہ کیوں آئی ہو،میں خجالت کے باعث اندر جانے ہی لگی کہ خالہ نویدہ کی مجھ پہ نظر پڑ گئی ، اے تو کون ایں؟ایدھر میرے کول آ۔میں انکے بلانے پہ پاس چلی گئی،تیری نیت ٹھیک نہیں لگتی ،پر تجھے بچہ چاہئیے ،کیسے ہو گا بچہ؟۔۔۔پہلے تیری نیت ٹھیک نہیں تھی لیکن کوئی بات نہیں،اب تیری نیت ٹھیک ہے اور ۔۔۔۔۔وہ بچہ ہونے نہ ہونے کے فلسفے پہ عجیب اول فول باتیں کرنے لگی ،مجھے جھجھک آرہی تھی میں اٹھ کر اندر جانے لگی تو حکماًمجھے پاس ہی بٹھا لیا ،کچھ دیر میں وکی بھائی اندر سے خالو ساجو کو یوں لے کے آئے جیسے یرغمالیوں کو لایا جاتا ہے ،اففف۔۔۔انھیں دیکھ کے نویدہ خالہ میں تو گویا کرنٹ آگیا،وہ پھر بپھرنے لگی،لڑکیاں اندر کو بھاگیں،میں نے اور امی نے انھیں کمرے میں جانے سے روک لیا اور جواد نے خالہ کو پھر ورغلا لیا،وہ پھنکارتے ہوئے وہی سہہ شاخہ ڈنڈا ڈھونڈ رہی تھی جسے موقع پاتے ہی جواد نے چھپا دیا تھا ،میں سوچ رہی تھی کہ جن کا سایہ ہو تو کیا انسان میں اتنی ہی طاقت آجاتی ہے کہ وہ اتنے اتنے بڑے مردوں سے بھی قابو نہیں آتا ،ایک تو خالہ کا حلیہ کسی بھوت سے کم نہیں تھا دوسرے اسکی ڈراﺅنی آواز اور ساتھ اسکی بے تحاشا طاقت۔۔۔مجھے جھرجھری سی آ گئی ،ہاں سنا تھا کہ اس مخلوق کو جسمانی طاقت سے نہیں بلکہ نفسیاتی داﺅ کے ساتھ شاید قابو کیا جا سکتا ہے،اور اب وکی بھائی نے وہی کیا تھا ۔خالہ آپ اس طرح تھک جائیں گی،اپنی صحت سنبھال کر رکھیں،اور خالدہ ساجدہ کی کیا مجال ہے آپ ان کو ماریں گی تو پھر تو وہ ڈر کے دور بھاگیں گی،ایک بار آپ بیٹھیں پھر انکو آپ کے پاﺅں میں بٹھا کے معافی منگوانی ہے، ٹھیک ہے ناں،معافی۔۔۔معافی۔۔۔نہیں انکو ملے گی،انھوں نے مجھے تعویز ڈالے ہیں،یہ میرے گھر کے ساتھ والی ماچھن کے ساتھ مل کے میرے لئے تعویز لینے جاتی ہیں،میں نے انکی باتیں سنی تھیں ۔انکے تعویذوں کی وجہ سے مجھے آگ لگتی ہے میرے کپڑے جلتے ہیں،لے کے آﺅ انھیں میرے پاس۔۔۔ایک شرط پہ خالہ۔۔۔وکی بھائی نے لوہا گرم دیکھ کے چوٹ لگائی،تم انھیں مارو گی نہیں،جب تم نہیں مارو گی تو وہ تمھیں سب کچھ سچ سچ بتا دیں گی ،اب بتاﺅ تم مارو گی؟نہیں مارتی لیکن انھوں نے مجھے تعویز ڈالے ہیں ،خالہ نے تیز چمکتی آنکھیں نکال کے منہ پھلاتے ہوئے کہا ،یہ سنتے ہی جواد خالو ساجو کو پکڑ کر لے آیا،وہ کھڑی کانپ رہی تھیں ،جواد نے انھیں ہلکا سا دھکا دیا اور ساتھ اشارہ کیا وہ اشارہ سمجھ کر ماں کے پاﺅں میں گر گئیں ،علی کے کہنے پہ میں نے خالہ کے ہاتھوں کو سختی سے پکڑ لیا ،وہ چونکہ وعدہ کر چکی تھی کہ ہاتھ نہیں اٹھائے گی اس لئے محض بل کھا رہی تھی ،اماں ہمیں نہ مارنا ،یقین کر لے ہم نے تجھے کوئی تعویز نہیں ڈالے ،تو ماچھن کے ساتھ پھر کالے پیر کے ڈیرے پہ کیا کرنے گئی تھی،خالہ غرا کے بولی ۔وہ اماں میں کب گئی تھی قسم لے لے جو میں کبھی کسی کالے پیلے پیر کے ڈیرے پہ گئی ہوں ،خالدہ نے تیزی دکھائی تو خالہ نویدہ اپنا وعدہ بھول گئی اس نے گھما کے اس کی کمر پہ لات دی تو وہ بلبلاتی ہوئی دور جا گری ،یہ دیکھ کے ساجو کے تو حواس جاتے رہے،وہ سیدھا اماں کے پاﺅں میں جا پڑی،اماں میری پیاری اماں تجھے کیا ہو گیا ہے ،ہم میں سے کوئی بھی تجھے کیوں تعویز کرے گا ،ہم تیری بیٹیاں ہیں دشمن تھوڑی ہیں ،خدا کا واسطہ ہے مجھے معاف کر دے ،جواد خالَو کو پھر اٹھا کے اماں کے پاس لے آیا ،دونوں نے وہ ہاڑا ڈالا کہ خالہ نویدہ بھی خاموش ہو گئی شاید وہ کچھ تھک سی گئی ہو؟ میں نے سوچا اور رسوئی کی جانب بڑھ گئی ۔

          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

                                                                                 ہفتہ پہلے تک تو خالہ بھلی چنگی تھی،نماز روزہ کرتی ،صاف ستھرے اور مہنگے کپڑے زیب تن کرتی ،لوگوں کے اوپر تبصرے کرتی اور پرہیزی کھانے کھاتی تھی،رنگ تو اللہ پاک نے بہت سفید دیا تھا لیکن اسے خبط تھا کہ میں حسیِن لگوں اس لئے رنگ گورا کرنے والی کریمیں دل کھول کے لگاتی ،لیکن مجھے سوچ کے افسوس ہوتا کہ کیا یہ وہ ہی خاتون ہے جو اتنی گوری تھی ؟کیونکہ اب اسے دیکھ کے گمان ہوتا جیسے کوئی پکھی واس عورت ہے ۔ اور کوئی جان بوجھ کر تو تماشا نہیں بنتا ،یہ بہت خطرناک حالت تھی ،دن تو جیسے تیسے گزر گیا لیکن رات بھی جاگتے ہوئے ہی گزری،سب رشتے داروں ،عزیزوں کے فون آ رہے تھے ،جوہمارے شہر گوجرانوالہ سے تھے وہ بھی دھڑادھڑ آ رہے تھے،خالہ نویدہ کے پہلے شوہر سے دو لڑکے تھے وہ بھی رات کو پہنچ گئے تھے ،ان میں سے ایک کو جنوں پریوں سے شغف تھا،اس لئے ہمیں اطمینان ہو گیا کہ چلو عثمان بھائی آ گیا ہے اب سنبھال لے گا رات بھیگی تو خالہ نے زیادہ ستانا شروع کر دیا ۔خالہ کے میاں لاہور کام کرتے تھے وہ ابھی نہیں پہنچے تھے اورجہاں تک میرا خیال تھا خالہ ایک بار خالو محمود کو بھی ناکوں چنے چبوائے گی ،کیونکہ ان دونوں کی آپس میں نہیں بنتی تھی اور اب تو خالہ ہوش و خرد سے یوں بھی بے گانہ تھی،میں رسوئی سے فارغ ہوکے نکلنے ہی والی تھی ،بس چائے آگ پہ دھری تھی کہ خالہ کے چیخنے کی آواز آئی میں چونک گئی ،اب کیا ہو گیا ؟میں سوچ ہی رہی تھی کہ چھوٹاحمزہ بھاگتا ہوا آیا،چاچی چاچی انھوں نے خالہ نویدہ پہ کچھ پڑھ کے پھونک ماری ہے اور وہ رونے لگ گئی ہے ،میں نے اسکی بات کا جواب دینے کی بجائے جلدی سے چائے کپس میں ڈالی اور اندر لے گئی،اندرواقعی حالات نا گفتہ بہ تھے۔ موٹی اور لال لال آنکھیں نکالے خالہ بیٹھک میں بنی شیلف پہ چڑھی بیٹھی تھی دوسری طرف عثمان نے آسن مارا ہوا تھا،آنکھیں بند تھیں اور کچھ پڑھ رہا تھا ،باقی افراد بھی دم سادھے بیٹھے تھے ،علی کی مجھ پہ نظر پڑی تو فوراًمجھ سے چائے کی پیالیاں پکڑ لیں اور باہر چلے جانے کو کہا ،میں نے کچھ کہنے کو لب وا کئے ہی تھے کہ انھوں نے مجھے بازو سے پکڑا اور تقریباً مجھے دھکیلتے ہوئے باہر لے آئے،تم ،امی یا بچوں میں سے کوئی بھی کمرے میں نہ آئے عثمان نے خالہ نویدہ کے جن کو حاضر کیا ہوا ہے ،یہ سننا تھا کہ میری رگِ زیارت جاگ گئی،دیکھیں مجھے ڈر نہیں لگتا آپ ایک موقع۔۔۔۔ تو دیں ،دروازہ کھٹاک سے بند ہوا اور میرے الفاظ مجھ سمیت کمرے سے باہر ہی رہ گئے ،میں جھنجھلا کر اپنے کمرے میں آ گئی جہاں خالدہ ساجدہ مزے سے ٹی وی دیکھ رہی تھیں ،مجھے دیکھ کر دونوں اچھل کر بیٹھ گئیں بھابھی اب کیا ہو رہا ہے باہر ؟ میں نے تکیہ اٹھا کر ان دونوں کو دے مارا،تمھاری اماں بیٹھک والی شیلف کے اوپر چڑھی بیٹھی ہیں اور تمھارے پنڈی والے سوتیلے بھائی صاحب نے کچھ پڑھ کر ان کے اندر والے جن موصوف کو باہر برآمد کر لیا ہے ۔میں نے اور بھی کھری کھری انکو سنائیں جو لکھنے میں نہیں آسکتیں،بہر حال میرا اور انکا ایسا ہی مذاق تھا ،ابھی ہم ساری صورتحال پہ غور کر ہی رہے تھے کہ خالہ نویدہ کی چیخیں سنائی دینے لگیں،بچے دن کے تھکے ہوئے ابھی لیٹے ہی تھے کہ شور شرابے سے پھر اٹھ کھڑے ہوئے،اب کے خالہ یوں آواز نکال رہی تھی جیسے کسی نے الٹا لٹکا رکھا ہوآوازیں اونچی ہونا شروع ہو گئیں،ابھی یہ شکر تھا کہ ہمارا گھر بند تھا باہر آواز نہیں جا سکتی تھی ورنہ کتنی سبکی ہوتی ۔خالہ ایسے ڈکرا رہی تھی گویا ،وڈی قربانی ،سے پہلے بھینس ڈکرا رہی ہو ،ہم لوگ کمروں میں بند تھے اور ادھر دھما چوکڑی مچی ہوئی تھی،بستروں سے سرِ یاں نکال کر ایک دوسرے کوخوف بھرے ڈیلوں سے دیکھ رہے تھے اور میری طرح سب یقیناً سوچ رہے تھے کہ ابھی خالہ رسے تڑوا کے آئے گی اور خالَو ساجو پہ چڑھ دوڑے گی ،چند لمحوں بعد ایساہی ہوا خالہ کے ڈکرانے کی آواز قریب سنائی دی تو سب نے اپنے سر بستروں میں گھسا دیے،باہر ہال میں ایک شور مچا تھا عثمان کی آواز بلند ہوئی تجھے چھوڑوں گا نہیں ،جہاں سے آیا ہے ادھر دفعہ ہو جا ورنہ۔۔۔۔۔ورنہ۔۔۔۔۔؟کیا کرے گا ورنہ تُو؟کسی نے اسے غصے سے جواب دیا ،میں اور ساجو دروازے کی طرف آئیں تو دیکھ کر حیران رہ گئیں وہ مردانہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ خالہ نویدہ کی تھی ،عثمان آنکھیں بند کئے کچھ پڑھنے لگا اور اس کے ساتھ ہی خالہ تو لگی چیخیں مارنے،وہ تڑپ رہی تھی سارے اسے قابو کرنا چاہتے تھے لیکن وہ قابو آ ہی نہیں رہی تھی ۔اچانک وہ جواد کی دسترس سے نکلی اور چھت کی طرف بھاگ نکلی ،وہ اس قدر اونچی آواز میں روتی تھی کہ خوف تھا آس پاس کی آبادی نہ ڈر جائے،ہمارے گھر قیامت کا منظر تھا ،سارے چھت پہ بھاگتے چلے گئے،اب کے میں خود ہی دہل گئی تھی اس لئے میں چھت پہ نہ گئی،سیڑھیوں کا دروازہ وکی بھائی نے بند کروا دیا تھا ،اوپر سے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی،یوں لگتا تھا جیسے اوپر کوئی ذی روح موجود نہیں ،امی کو بھی علی اور جواد نے نیچے بھیج دیا تھا،افف کیا بنے گا؟کیسی بیٹھے بٹھائے قیامت آ گئی تھی ۔کچی نیند سے اٹھنے پہ سارے بیزار تھے ،ڈر اور بے اطمینانی سبکی آنکھوں میں واضح تھی خالدہ کو خوف کے مارے پیاس لگی تو کچن میں چلی گئی،ہم سارے ایک ہی روم میں اکٹھے ہو گئے تھے،گھر کی چھت کا اگلا حصہ ٹیرس کی طرح بڑھا ہوا ہے اور عین اس کے نیچے باہر کی سائڈ پہ باورچی خانہ ہے،ہم سہمے ہوئے تو پہلے سے تھے اوپر سے خالدہ کی دلدوز چیخ سنائی دی ،بچے بھی اسکی آواز سن کر رونے لگے،میں نے ہمت کی کہ جا کر اسے دیکھوں کیا ہوا ہے اتنے میں ہانپتے کانپتے وہ خود ہی کمرے میں آ گئی ۔سارے اسکی طرف لپکے،خالدہ۔۔۔خالدہ کیا ہوا،چیخ کیوں ماری تم نے؟امی نے اس سے پوچھا تو وہ سینے پہ ہاتھ رکھ کے لمبے لمبے سانس لینے لگی ،ساجو اپنی بہن کو دیکھ کے رونے لگی،وہ آ کر امی کے بازو سے چمٹ گئی،میں نے آگے ہو کر اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا،خالو تم ڈر گئی تھی؟کیا دیکھا تھا تم نے؟بتاﺅ مجھے،وہ چپ چاپ مجھے دیکھتی رہی میں اسے چمکار کے پھر بو لی ڈرو نہیں پیاری کچھ نہیں ہوتا میں ہوں ناںاب بتاﺅ کیا ہوا تھا ۔۔۔بھابھی میں باورچی خانے میں گئی ہوں ،فریج کھولا اور پانی کی بوتل کو اوپرکر کے منہ کے ساتھ لگایا تو میری نظر ٹیرس پہ پڑ گئی وہاں ایک ایسا منظر دیکھا کہ میری تو چیخیں نکل گئیں میں نے پانی بھی نہیں پیا اور بھاگتے ہوئے ادھر آ گئی ہوں ،تو آخر تم نے ایسا کیا دیکھا وہاں؟میں نے بے چینی سے پوچھا ،وہ ۔۔۔وہ جب میں نے اوپر دیکھا تو امی چھت کے جنگلے پہ چڑھی ہوئی تھی اور چیخیں مار مار کے کہہ رہی تھی کہ میں نے یہاں سے چھلانگ لگانی ہے ،عثمان پیچھے کھڑا کچھ پڑھ رہا تھا اور امی ڈر رہی تھی میںنے دیکھا تو میں بھی ڈر گئی اور پانی پیئے بغیر اندر آ گئی ،ہم منہمک ہو کے اسکی بات سن رہے تھے کہ ایک دھماکے سے دروازہ کھلا یک لخت گھبرا کے سب نے ادھر دیکھا تو جواد کالی چادر کی بکل مارے اندر داخل ہوا ،سارے اسے بولنے لگ گئے ،خالو کوبات سناتے سناتے غصہ آگیا اوئے چادر کیوں پاﺅں تک پھیلا کے اوڑھی ہوئی ہے تجھے نہیں پتہ پہلے ہی گھر میں جن گھسے ہوئے ہیں،اوپر سے تیرے ڈرامے۔۔۔آہو جی جن تو گھسے ہوئے ہیں پر جدھر اتنی بڑی بڑی چڑیلیں ہوں ادھر تو بیچارے جنوں کی بھی نہیں گلتی ،اس نے بکل کھولی اور دھپ سے صوفے پہ جا بیٹھااس کے جواب پہ ہم سب مسکرا دیئے،اماں تیری بہن نے بہت ستایا ہوا ہے اوپر وہ ڈرامے ہو رہے ہیں کہ نہ ہی پوچھ ،اسکا اشارہ خالہ نویدہ کی طرف تھا،یہ سن کر خالدہ ساجدہ کے ماتھے پہ بل تو آئے لیکن دونوں میں سے کوئی بھی نہ بولی،ہا ہائے جواد پتر ایسے تو نہ کہہ ،آج تیری خالہ پہ مصیبت آئی ہے کل کو ہم پہ بھی وقت آ سکتا ہے ۔وہ پیچھے سر ٹکا کے آنکھیں موند کے پڑ گیا،نا کہتی کیا ہے اب،وہ جن جاتے ہیں کہ نہیں؟اماں اس خالو کے بھائی عثمان سے جن جانے والے نہیں ہیں،اس نے حاضر تو کر لئے ہیں لیکن اب اس سے واپس نہیں جا رہے،یہ کچا پیر ہے،خالہ جنگلے پہ چڑھ کے نیچے چھلانگ لگانے لگی تھی، ہم سب نے مشکل سے ہی اسے پکڑا ہے ،وہ آنکھیں کھول کے غصے سے بتانے لگا ،ناں بھابھی مجھے بتاﺅ صبح دن چڑھے بھی خالہ کی یہ حرکتیں رہیں تو ہماری کیا عزت رہ جانی ہے ،اب وہ میری طرف دیکھ کے بولا تو مجھے ترس آ گیا کیونکہ رات کا ایک بج رہا تھا اور یہ لوگ اب تک بھاگم بھاگ تھے ،جواد بچے تم لوگ اس طرح کرو کہ آرام کرو صبح بھی اٹھتے ہی پتہ نہیں کہاں کہاں جانا پڑے اور خالہ نویدہ کے پہرے پہ ایک بندہ بیٹھے جو اسکی رکھوالی کر سکے ،کیوں امی؟میں نے ساس کی طرف دیکھا تو انھیں میری بات اچھی لگی ،پراں ہٹ نی ساجو،میں اوپر جا کے دیکھوں تو سہی اس نویدہ مرن جوگی کے جن کیا کہتے ہیں ؟انھوں نے پاس بیٹھی ساجدہ کو پیچھے ہٹایا اور جوتی پہن کے چل پڑیں،ان کے پیچھے پیچھے ساجو،خالو،اور میں بھی چل دی ،سہج سہج ہم اوپر گئے تو خالہ کا سہہ شاخہ ڈنڈاچھت کے درمیان میں پڑا تھا اور کسی چیز کے جلنے کی سخت بو پھیلی ہوئی تھی ۔لگتا تھا سب کمرے میں تھے،ممٹی سے آگے ہو کے دیکھا تو کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور خالہ فرش پہ بیٹھی تھکی ہوئی سی ہنسی ہنس رہی تھی ،امی بے دھڑک اندر چلی گئیں،یہ کمرا عموماً کم ہی استعمال ہوتا تھا اس لئے اس میں فرنیچر بھی کم ہی تھا،خالہ نویدہ کے لئے فرش پہ ہی بستر لگایا ہوا تھالیکن وہ اس پہ نہیں بیٹھی تھی،نویدہ پتر کیا بات ہے نیچے کیوں بیٹھی ہو،چل اوپر بسترے پہ بیٹھ،امی خالہ کو اٹھانے لگی تو وکی بھائی نے منع کر دیا،میں نے علی سے پوچھا خالہ بستر پہ کیوں نہیں بیٹھے گی؟ تو انھوں نے آہستہ آواز میں کہا کہ اس کے جن کو غصہ تھا اس لئے اس نے بستر گیلا کر دیا ہے ،خالہ بہت بے حال تھی عثمان کی طرف دیکھ کے کہنے لگی کہ مجھے چھوڑ دو،وہ بھی ضد پہ تھا کہ تجھے تب چھوڑوں گا جب تو اس عورت کو پکا چھوڑ کر جائے گی اور اسی بات پہ تصفیہ نہیں ہو پا رہا تھا ،اس کے کپڑے بہت غلیظ ہو رہے تھے ،بھائی عثمان بھی اب تو پڑھائی کر کر کے تھک گئے تھے،لیکن نہ تو خود ہی آرام کرتی اور نہ دوسروں کو کرنے دے رہی تھی ،وکی بھائی نے کہا آپ سب جا کر آرام کر سکتے ہیں میں خالہ کے ساتھ جاگوں گا مبادا کوئی نقصان نہ کر بیٹھے،ڈھلی ہوئی رات میں کس کو نیند آنی تھی،ہم لوگ لیٹ تو گئے لیکن نیند ندارد۔بند آ نکھوں میں اسکی ڈراﺅنی شبیہہ پھرتی تھی اور کانوں میں ہیبت ناک آواز۔

                                     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     زندگی کے عجیب و غریب دن کی نوید سنائی دی اور ہم آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے حالانکہ رات والی نیند ابھی تک آنکھوں میں چبھ رہی تھی پر آج زندگی عام ڈھب سے مختلف تھی سو چھ بجے بستر چھوڑا ،لڑکیاں اور بچے سبھی سو رہے تھے میں نے کسی کو بھی جگانا مناسب نہ سمجھا ،کیونکہ میرا شروع سے یہ خیال ہے کہ گھر میں رش ہو،شادی ہو یا کوئی سی بھی گیدرنگ،بچوں وغیرہ کو صبح ذرا دیر سے جگایا جائے کیونکہ سارا دن بھاگ دوڑ کرنا ہوتی ہے اس لئے صبح ذرا لیٹ بھی اٹھ جائیں تو حرج نہیں،آج بھی یہ ہی سوچ کے میں نے سب کو سونے دیا اور ساس کے کمرے میں چلی گئی کیونکہ مجھے پتہ ہے وہ جاگ رہی ہوتی ہیں ،ان کے مشورے سے ناشتہ بنانے چلی گئی ،علی کو جاب پہ جانا تھا،ظاہر ہے اب اپنی روٹین تو خراب نہیں کر سکتے تھے میں نے جلدی جلدی کام سمیٹا کیونکہ ابھی مہمانوں نے آ جانا تھا اور کھانا پینا ادھر کا ادھر رہ جاتا۔نو بجے تک سب کو جگا کر ناشتہ کرا کر فارغ کر دیا ،اب یہ طے ہوا تھا کہ خالہ کو باوا زاہد شاہ بخاری صاحب کے پاس لے جایا جائے۔عثمان نے شوشہ چھوڑا کہ میں اپنے پیر صاحب کو بلواﺅں گا،ہم لوگوں نے بھی بلوانے دیا کیونکہ وہ بیٹا تھا اور پہلا حق اسی کا تھا ،وہ دونوں بھائی اپنے پیر صاحب کو بلانے چلے گئے ،مہمان خالہ کا پتہ لینے آتے رہے اور ہم خاطر داری بھی کرتے رہے اور مشورے بھی سنتے رہے ،کرتے کراتے شام ڈھلی لیکن عثمان اور اس کے بھائی کا کوئی پتہ نہ تھا ۔دماغ اس قدر پریشان اور مصروف تھا کہ یہ یاد ہی نہ تھا کہ انھیں فون بھی کیا جا سکتا ہے ،جب وکی بھائی رابطہ کیاتوپتہ چلا کہ وہ واپس راولپنڈی اپنے گھر چلے گئے تھے ۔ہم سب کو ان پہ بہت غصہ آیا کہ جب کام نہیں کرنا تھا تو بتا تو دیتے ،ماں کو اذیت میں چھوڑ کر چلے گئے،خالدہ بولنے لگ گئی ،دیکھا بھابھی ،ان لوگوں نے شروع سے ہمارے ساتھ ایسا ہی کیا ہے ،اب جب جن حاضر کر لئے تھے تو واپس کیوں نہیں بھیجے،اگر اس سے واپس نہیں جاتے تھے تو کم از کم اپنے ِپیروں کو لے ہی آتا ،اب ہم کیا کریں گے،ہائے ساجو ہماری امی۔۔۔۔اررے ارے کیا ہو گےا پیاری؟تم کیوں پریشان ہوتی ہو ،ہم سب ہیں ناں،اور پھر وہ بیٹے ہو کے اپنی ماں کو چھوڑ گئے تو تم لوگ بیٹوں کی جگہ لو،شاباش ہمت کرو،کہیں اور تمھاری امی کو لے جائیں گے میں نے کندھے کے ساتھ لگا کے بھیں بھیں روتی خالَو کو چپ کروایا ۔کرتے کراتے اب یہ صلاح بنی تھی کہ بھیلووال[جہلم کا قصباتی علاقہ]باوا جی زاہد شاہ کے پاس لے جاتے ہیں وہ میرے سب سسرال والوں کے مرشد ہیں اُن پہ سب کو یقین بھی تھا سو پچھلے پہر قریب چار بجے گاڑی ارینج کی ۔وکی بھائی اورجواد خالہ کو لے کے جانے کے لئے تیار ہو گئے ،چونکہ وہ عورت تھی اسلئے ساتھ ایک خاتون کا جانا لازمی تھا،خالدہ کو کہا کہ تمھاری ماں ہے تم اچھے سے سنبھال سکتی ہو ،ساتھ چلو وہ تو یہ سن کر دو فٹ دور جا کھڑی ہوئی،کہنے لگی مجھے تو امی سے ڈر لگتا ہے کہیں مار ہی نہ ڈالے ،میں تو قطعاً نہیں جاﺅں گی،خالدہ کورا جواب دے کر اندر چلی گئی،اس کے پیچھے پیچھے ساجدہ اٹھ کر جانے لگی تو جواد نے بازو سے پکڑ کر بٹھا لیا ،اے رک ادھر،تیری اماں ہے تو تجھے ہی جانا پڑے گا ساتھ،کل سے ہم ذلیل ہو رہے ہیں تم لوگوں کی تو موجیں لگی ہوئی ہیں ،آں۔۔۔چھوڑو میرا بازو،نہیں جانا میں نے ،مجھے اس کے ساتھ نہیں رہنا ،ڈر لگتا ہے،یہ کہہ کر وہ اندر بھاگی تو بھائی وکی نے کہا بیٹا ،جواد ٹھیک کہہ رہا ہے ،تمھیں ساتھ جانا ہو گا ،اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہم سب ساتھ ہی تو ہیں ،یہ کہہ کر وہ گاڑی میں جا بیٹھے،مجبوراً ساجو کو بھی بات ماننا پڑی اور خالہ نویدہ کا ہلکے ہاتھ سے بازو پکڑ کر دو قدم پیچھے رکھ کر چلنے لگی ،اس سے پیچھے جوادتھا وہ اس طرح چوکنا ہو کر چل رہا تھا کہ کہیں ساجو اپنا ارادہ بدل کر کمرے میں نہ بھاگ جائے

وہ جس وقت نکلے تھے مجھے نہیں لگتا تھا کہ وہ وقت سے پہنچ پائیں گے،چند کلو میٹر پہ بیراج تھا اورانھیں ادھر ہی اندھیرا ہو جانا تھا ۔میں نے کام ختم کئے اور کچھ دیر کو ہم سب کمر سیدھی کرنے کو لیٹ گئے،

                                   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

       گیٹ دھڑادھڑ پیٹا جا رہا تھا ،گلی سنسنان اور اندھیری تھی ،آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھنے پر بھی نظر نہیں آ رہا تھا کہ گیٹ کھٹکھٹانے والا کون ہے،بجلی چمکی اور میں نے بیک وقت آسمان کو دیکھ کے گیٹ کی طرف دیکھا تو میں سر تا پا لرز اٹھی ،جیسے ہی میں نے آسمان دیکھنے کو نظر اوپر اٹھائی تو وہاں بہت ہی لمبا کوئی آدمی کھڑا تھا جس کا جسم ہی نظر آ رہا تھا سر تو کہیں آسمان کے ساتھ لگ رہا تھا شاید، اس کی وجہ سے مجھے آسمان نظر نہیں آ رہا تھا ،میں نے گھبرا کر اپنے گیٹ کی طرف دیکھا تو نیچے کسی ذی روح کا وجود نہ تھا،میرا دل بری طرح تیز تیز دھڑکنے لگا،یوں جیسے اندر سے پھڑکتا ہوا ابھی باہر آ گرے گا، سارا وجود پسینے پسینے ہو رہا تھا ،میں سر ادھر ادھر گھما کر خالی گلی دیکھ ہی رہی تھی کہ نادیدہ ہاتھوں نے پھر دروازہ بجایا،اب کے دستک کی آواز اتنی تیز تھی کہ ۔۔۔۔ڈر کے مارے میں اپنے آپ میں سمٹ گئی لیکن دستک تو گویا پگھلے سیسے کی مانند میری سماعت میں گھسی جا رہی تھی ،یقینا یہ کارستانی خالہ نویدہ کے جنوں کی ہے ،میں نے سوچا ہی تھا کہ اچانک کسی نے میرا پلو کھینچ لیا ،میری دہشت کے مارے گھٹی گھٹی سی چیخ نکلی آنکھوں میں روشنی کاتیز جھماکا ہوا میں نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں اپنے اوپر علی کو جھکے ہوئے دیکھ کر میرا دماغ کام کرنا چھوڑگیا،شاید انھیں دیکھ کر میں ریلیکس ہو گئی انھوں نے مجھے پانی پلایا اور ساتھ ہی میں ان کے بازو پہ لٹک گئی،لیکن بے ہوش ہونے سے پہلے میں گیٹ پہ سچ مچ دستک کی آواز سن رہی تھی ۔

         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      ہوا یہ کہ جتنی پریشانی میں کل کا دن گزرا تھا ،وقت ملتے ہی میں بے سدھ ہو کے سوئی اور وہی واقعات دماغ میںخواب بن کر گھومتے رہے ،رات سچ مچ گیٹ بج رہا تھا اور سوتے جاگتے وہ بھی خواب کا حصہ بن گیا،تقریباً دو بجے رات کو ان لوگوں کی واپسی ہوئی تھی اور خالہ نویدہ کو یہ لوگ ادھر ہی چھوڑ آئے تھے ،کیوں؟میں نے حیران ہو کر پوچھا تو جواد کہنے لگا کہ بھابھی کچھ نہ پوچھیں ادھر کیا تماشہ ہوا تھا ،میں جس نے کبھی بھی کسی چیز سے خوف محسوس نہیں کیا آج تو میں بھی ڈر گیا تھا،ہائیں وہ کیسے؟میں نے چائے کے کپ سب کو دئیے اور ٹرے گود میں رکھ کر اس کے پاس ہی بیٹھ گئی ، جب خالہ کو لے کر باوا جی کے ڈیرے پر گئے تو جیسے جیسے ہم اس جگہ سے قریب ہو رہے تھے ویسے ویسے خالہ کوجو دورہ پڑتا ہے وہ تیز ہو رہا تھا،یہ اپنا آپ چھڑاتی تھی اور اس کا دل کرتا تھا کہ ہم اسے وہاں سے دور لے جائیں ۔میں حیرت زدہ سی انکی باتیں سن رہی تھی،خالدہ اور امی بھی پاس آ کے بیٹھ گئیں ،بھابھی کچھ نہ پوچھ،جب اماں کے اندر باوا جی نے جن حاضر کیا تو وہ اصل آواز میں بولا تھا،میں تو چیخنے لگ گئی تھی ،پھر مجھے ان لوگوں نے اس کمرے سے نکال کے باوا جی کے گھر بھیج دیا تھا ،میں تو اتنی دیر انکی بیوی اور بچوں کے ساتھ گپ شپ کرتی رہی،ساجو بولی تو جواد اسے گھور گھور کر دیکھنے لگا ،ہاں ہاں تم ادھر ماں کے علاج کے لیے گئی تھی کہ گپ شپ کرنے گئی تھی ؟ اس نے ساجو کو کھری کھری سنائیں تووہ منہ مروڑتے ہوئے وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی،کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اب اسکی خیر نہیں،میں جواد کے پاس ہی صوفے پہ آ بیٹھی،علی بھی ادھر چلے آئے۔ بولو ہینڈسم ادھر کی کیا رپورٹ ہے؟ انھوں نے جواد کے کندھے پہ ہاتھ مارتے ہوئے پوچھا ،علی بھائی بہت ڈراﺅنا منظر تھا،میں ایک بے ہوش نہیں ہوا باقی خالہ نے کسر نہیں چھوڑی،جب ہم پکڑ کے باوا جی کے پاس لے گئے تو ادھر اس جن نے بہانہ کر لیا وہ اس طرح محسوس کرائے جیسے خالہ کے اندر نہیں ہے،لیکن جب باوا جی نے پڑھائی شروع کی تو پھر تووہ آپے سے باہر ہو گیا،میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا تھا بھابھی ،کہ خالہ کا پڑھائی کے ساتھ ساتھ چہرہ بگڑ رہا تھا ۔باوا جی آیتیں پڑھ رہے تھے اور خالہ سرخ آنکھوں سے انھیں گھور رہی تھی،اسے باوا جی کے کلام پڑھنے سے تکلیف ہو رہی تھی ،مجھے تو سچی بات یہ ہے کہ اپنے قرآن پاک کی رحمت اور برکت کا ابھی یقین ہوا ہے وہ مجھ سے مخاطب ہوا تو میں نے کان سے دوپٹہ اٹھا کے اوپر اڑس لیا کہ کہیں کوئی جملہ سننے سے رہ نہ جائے ،واہ سبحان اللہ ہماری اصل طاقت اور ایمان یہ ہے کہ ہم صدق دل سے کامل ایمان ہو کر قرآن پاک کو پڑھیں تو معجزہ آج بھی ہو سکتا ہے،مجھے اپنے خدا رسول اور اس کے کلام پہ پیار آنے لگا ساتھ ہی آنکھوں سے جھڑی لگ گئی ،بھابھی سنو تو سہی،وہ جھنجھلا گیا،علی نے کہا تم اپنی بات جاری رکھو اسکی فکر نہ کرو روتے روتے بھی سن لے گی ،میں نے ناراضی سے انکو دیکھا تو مسکرانے لگے کیونکہ انھیں پتہ تھا کہ اسکو چڑائیں تو پہلی بات بھول جاتی ہے بعد والی پہ غصہ کرنے لگتی ہے ،یہی ہوا میں نے جب انکے چہرے پہ مسکراہٹ دیکھی تو سمجھ گئی کہ میرا ذہن بدلنے کو اس طرح کہہ رہے ہیں ۔بہرحال میں جلد ہی جواد کی طرف متوجہ ہو گئی جو خود تو رات والے واقعات میں گم تھا لیکن ہمیں بھی اسی طرف لے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔جب باوا جی نے زور زور سے پڑھائی شروع کی تو خالہ کا منہ لمبا ہونا شروع ہو گیا ،کیا کہہ رہے ہو تم؟خالدہ نے کمرے میں قدم رکھتے رکھتے یہ جملہ سنا تو ہم سب کی طرح وہ بھی حیران ہو گئی ،ہاں ہاں بتاﺅ سچ کہہ رہے ہو؟میں نے بھی ٹہوکا دیا تووہ اٹھ کھڑا ہوا،ناں میں پاگل ہوں؟یا تم سارے مجھے جھوٹا کہہ رہے ہو،وکی بھائی سے پوچھ لو یا باوا جی کا نمبر لے کے فون پہ تصدیق کر لو اور فون کرنے سے پہلے میری بات سن لو پھر نہ کہنا کہ یہ بات نہیں بتائی،وہ ہاتھ جھٹک جھٹک کر خالدہ سے کہہ رہا تھا،اچھا اچھا سکون سے بیٹھو اور بتاﺅ کیا کہہ رہے تھے،اب کوئی بھی اسکی بات کے درمیاں میں نہ بولے بھئی ،علی نے سب کو سرزنش کی،خَالو میڈم وہاں میں گیا تھا اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا خالہ کاچہرہ بگڑ گیا جبڑے آگے پیچھے ہو گئے اور اوپر والے دانت لمبے ہوتے ہوتے ٹھوڑی تک آ گئے تھے،آنکھیں یوں سرخ انگارہ تھیں کہ اگر وہ باوا جی کی بجائے ہم میں سے کسی کو نظر جما کر دیکھتی تو عجب نہیں کہ جسم میں گھورنے کی جگہ سوراخ ہی ہو جاتا ۔حلق سے مردانہ آواز میں چیخیں بلند ہوتی تھی اور وہ بار بار کہتی تھی باوا زاہد بخاری تجھے تیرے باپ کا واسطہ مجھے چھوڑ دے،میں اس عورت کو تنگ نہیں کروں گی ،اور باوا جی کہہ رہے تھے تو مرتد ہے تیری سزا معاف نہیں ہو سکتی،بعد میں وکی بھائی نے بتایا کہ جو جن خالہ نویدہ پہ آتا ہے وہ پہلے باوا ریاض شاہ بخاری کے ڈیرے پہ ہوتا تھا انکے موئکل کے طور پہ تھا،لیکن داﺅ لگا اور نکل گیا اور آج اسے قسمت پھر اسی ڈیرے پہ لے آئی تھی ۔۔۔۔۔۔ہم سب آنکھیں پھاڑے یک ٹک اسکی طرف دیکھے جا رہے تھے ،کسی کے منہ سے تبصرے کے لئے ایک لفظ تک نہ نکلا،ہماری حیرت دیکھ کے جواد کا غصہ ذرا کم ہوا اور وہ کرسی پہ جا بیٹھا،حمزہ کو کہہ کر اس نے ساجدہ کو بھی بلوا لیا ،وکی بھائی شاید مردان خانے میں کسی مہمان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ساجو باوا جی کے ڈیرے سے اندر زنان خانے میں جب تم گئی تو واپس کب ہماری طرف آئی تھی ؟جواد کے پوچھنے پہ اس نے کہا کہ جب روانہ ہونے لگے تھے، میں تو تب گاڑی میں ہی آ کے بیٹھی تھی،ڈیرے کی طرف دوبارہ میں نہیں گئی ،تمھیں یاد ہے ناں رستے میں ہمارے ساتھ کیا ہوا تھا؟ ہاں ہماری گاڑی کے آگے درخت کسی نے ڈال دیا تھا،اس نے عارضی سا بتایا تو میں کسی بچے کی طرح پر اشتیاق لیکن خوفزدہ سی ہو کر جواد کی طرف مڑی،یہ کیا قصہ ہے؟بھابھی جب رات بھیگنے لگی تو ہمیں باوا جی نے کہا کام لمبا ہے تم لوگ رات یہیں رک جاﺅ،صبح خالہ کو ساتھ لے جانا،تب تک میں ان ملعونوں [جنوں] سے رات بھر میں نپٹ لوں گا ،لیکن وکی بھائی نے کہا نہیں باوا جی ہمیں راتوں رات نکلنا ہے،اور ویسے بھی گاڑی والے نے صبح لاہو ر بکنگ پہ جانا ہے ،تب ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ خالہ کو یہیں چھوڑتے ہیں اور خود نکل جاتے ہیں،ایک دو دن میں آ کر لے جائیں گے (باوا جی کا ہمارا اس طرح ملنا جلنا ہے کہ ہم ان کے گھر جا کے رہ لیتے ہیں اور وہ بھی ہمارے گھر کو بیوی بچوں سمیت رونق بخشتے رہتے ہیں) ،اس لئے یہ تسلی تھی کہ خالہ نویدہ کو یہاں کسی چیز کی کمی نہ ہو گی اور خالہ انکی نظر میں رہے گی تو طبیعت جلدی سنبھل جائے گی ،ہم یہ سوچ کر وہاں سے اٹھے اور گاڑی میں آ بیٹھے،ساڑھے بارہ بجے ہم وہاں سے نکلے تھے ، ایک گھنٹے کا سفر خاموشی سے کٹ گیا،وکی بھائی نے مجھے کہا تھا کہ سونا نہیں ہے،سفر جاگ کے گزارنا ہے ایک تو علاقہ بہت ویران ہے اور دوسرے آج کا سفر بھی کچھ خاص صعوبتوں کے ساتھ ہے ،(باوا جی نے خاص مہربانی سے بھائی وکی اور علی کو روحانی علم کے دریا میں سے چند بوندیں عطا کی ہیں ،اس لئے کچھ نہ کچھ انھیں بھی محسوس ہو جاتا ہے )میں کیونکہ سارے

خاندان میں بہادر مشہور تھا اس لئے بھائی نے بھی مجھ پر اعتبار کیا ساتھ ہی میری آنکھوں کے سامنے خالہ نویدہ کا کالا سیاہ ڈراﺅنا چہرہ گھومنے لگا اور مجھے جھرجھری آ گئی ،ماحول دیکھا تو اس سے بھی زیادہ خوفناک،سناٹا چھایا ہوا تھا ویران سڑک اور جہلم کے اونچے پہاڑ،آبادی بھی نہ ہونے کے برابر تھی ،میں آیت الکرسی کاورد کرنے لگا ،وکی بھائی نے خاموشی سے سگریٹ سلگا رکھا تھا اور گہری سوچ میں کھوئے ہوئے ونڈ اسکرین پہ دیکھ رہے تھے ،ساجو ہلکے خراٹوں سے نیند کے مزے لوٹ رہی تھی اور میں؟میں نے ٹی شرٹ میں سے جھانکتے اپنے خوبصورت ڈولوں پہ ہاتھ پھیرا،کیونکہ ان ڈولوں نے بہت انعام جیتے تھے اور بہت سے مقابلے جیت کر مردانگی کو آزمایا تھا ،جب میں نے خود کو خود ہی شرم دلائی تو پھر تو میں بیٹھے بیٹھے کروٹیں بدلنے لگا میرا دل کرے کہ رستے میں کوئی جن یا چڑیل آج مل جائے ،اور۔۔۔۔شاید میری دعا کی قبولیت کا وقت آ پہنچا تھا ،اچانک تیز سپیڈ سے گاڑی جھٹکا کھا کے رک گئی ،بجلی کی سی تیزی سے ہم لوگوں نے ٹیک چھوڑی اور سامنے دیکھا اچھی خاصی چوڑی جرنیلی سڑک تھی جس کے آگے سفیدے کو کاٹ کے کسی نے ڈال رکھا تھا تقریباً ساری سڑک اسپیشل بلاک کی ہوئی تھی،میں نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ،چھلانگ لگا کے گاڑی سے نکل آیا،وکی بھائی مجھے روکتے رہ گئے ،بدتمیز دیہاتی لوگ۔۔۔انکو اندازہ ہے کہ کسی کو رات کے اس پہر کتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے میں بڑبڑا رہا تھا اور غصے سے سفیدے کے پرانے تنے کو دونوں ہاتھوں میں لے کر میں نے ایک ہی بار میں گھما کے سڑک کے ایک طرف رکھ دیا ،وکی بھائی نے دیکھا کہ گاڑی اب آسانی سے ایک طرف سے نکل سکتی ہے تو مجھے سختی سے پاس بلایا،میرا ارادہ تھا کہ ساری سڑک صاف کر دوں تا کہ ہمارے بعد آنے والی گاڑیوں کو پریشانی نہ ہو ،لیکن بھائی کے بلانے پہ میں واپس گاڑی میں جا بیٹھا ،انھوں نے غر ا کر ڈرائیور کو کہا کہ جلدی گاڑی چلاﺅ خطرہ ہے یہاں،اس نے بھی بھانپ لیا اور زن سے سڑک کے بائیں طرف سے گاڑی نکالی،میں حیران تھا کہ کس بات کا خطرہ ہے؟لیکن اس وقت ہم سب بری طرح چونک گئے جب آس پاس کی فصلوں میں کسی کے پیدل چلنے کی سرسراہٹ محسوس ہوئی ،یوں لگ رہا تھا کہ کوئی بڑی سرعت سے کھیتوں میں سے نکل کر سڑک پہ آ رہا ہے اور یہی وہ وقت تھا جب ہمارے ڈرائیور کی عقلمندی کام آئی اور اس نے کسی کے بھی سڑک پہ رونما ہونے سے بہت پہلے گاڑی زن سے اس حدود اربعہ سے نکال کر بیراج والی سڑک پہ ڈال دی جیسے ہی گاڑی بیراج والے روڈ پہ آئی تو میں نے ساجو کے منہ سے ہاتھ ہٹا لیا کیونکہ یہ چیخنا چاہ رہی تھی،جیسے ہی میں نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو یہ تو مجھے کاٹنے کو دوڑی،کیا تکلیف ہوتی ہے تمھیں؟کیوں میرا سانس بند کر رکھا تھا؟یہ غرائی تو میں نے آہستگی سے کہاچیخنے کی ضرورت نہیں بھائی نے بولا خطرہ ہے اس لئے میں نے تمھیں بچانے کی خاطر تمھارے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا تھا تا کہ تم شور مچا کے نہ خودپریشان ہو اور نہ ہمیں کرو ، ورنہ میرے بس میں ہوتا تو تمھیں اٹھا کے یوں گاڑی سے باہر مارتا جیسے سفیدے کے تنے کو ٹھکانے لگایا ہے ،بھائی وکی نے پیچھے گھوم کر دیکھا اور نظروں میں ہی سوال کیا کہ کیا مسئلہ ہے؟میرے سے پہلے یہ بول پڑی بھائی جواد نے میری ناک دبا کر مجھے مارنے کی کوشش کی ہے،اسکو یہاں سے اٹھا دیں ،وکی بھائی نے مجھے آنکھیں نکالیں اور پھر ونڈ اسکرین پہ متوجہ ہو گئے یوں جیسے وہاں ٹی وی چینل پہ ہمارے ساتھ ہونے والے واقعہ کی بریکنگ نیوز چل رہی ہو ، جواد تم جانتے ہو سڑک پہ وہ موٹا تنا کیوں پڑا ہوا تھا،بھائی نے مجھے بلایا تو میری توجہ ساجو سے ہٹ کر بھائی کی طرف ہو گئی،مجھے لگتا ہے کہ دن بھر یہاں کے لوگ جنگل میں مزدوری کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی جاہل دیہاتی سفیدے کا یہ تنا سڑک پہ چھوڑ کر چل دیا ہو گا ،،میرے اس جواب پہ انھوں نے حیرت سے کہا اچھا؟اور وہ جوا بھی ہمیں کھیتوں میں کسی کے چلنے کی آواز آئی تھی جس کی وجہ سے ہم لوگ تیزی سے گاڑی بھگا کر یہاں تک آئے ہیں اس کے بارے میں کیا کہو گے؟ یار بھائی جان وہاں کوئی جانور بھی تو ہو سکتا ہے ،میں نے جھنجھلا کر کہا ،جواد صاحب طاقت کا مظاہرہ اچھا ہوتا ہے لیکن اگر ساتھ عقل کا استعمال بھی کیا جائے ،اس بات پہ میرے دائیں پہلو میں بیٹھی ساجو کی کھی کھی کی آواز سنائی دی جسے سن کر میںغصے سے باﺅلا ہو نے لگا ،یار جب پنڈدادن خان والے روڈ سے ہم مصری موڑ کی طرف آئے تو یہ سڑک پہ آتے ہی میرا دل کہنے لگا کہ کچھ ہونے والا ہے ،خیر ہو جب موڑ مڑے اور سامنے یہ درخت سڑک پہ دھرا نظر آیا تو میرے اوسان خطا ہونے لگے اور مجھے کسی خطرے کی بو آنے لگی،میںابھی کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ ڈرائیور نے گاڑی کھڑی کر دی،تم پتہ نہیں کس سوچ میں تھے کہ فٹا فٹ نیچے اتر آئے ،میں منع بھی کرنے لگا لیکن چاروں طرف دیکھ کے ماحول چیک کیا اور یوں محسوس ہوا کہ سفیدے کا تنا ہٹانے تک کی ہمارے پاس مہلت ہے سو جیسے ہی تم نے تنا ایک طرف کیا ،میں نے تمھیں واپس بلا لیا ،اور اس کے بعد جب ہماری گاڑی سڑک کی خالی سائیڈ سے گزری تو اس کی آواز محسوس کر کے جو لوگ کھیتوں میں گھات لگا کر بیٹھے تھے وہ چوکنے ہوئے اور یہ ہماری بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ ان کے سڑک تک آنے تک ہم انکی رینج سے بہت دور نکل آئے ،میں دم سادھے بھائی کی باتیں سن رہا تھا،انکی آواز پھر گونجی ،جواد میاں آپ بھی بدمعاشوں اور غنڈوں سے تعلق داریاں رکھتے ہیں ان سے پوچھنا ،یہ بہت پرانا طریقہءواردات ہے ،سڑک پہ درخت یا کوئی بھی رکاوٹ ڈا لکر ڈاکو چور خود ساتھ کے کھیتوں یا آبادی میں گھات لگا کر بیٹھ جاتے ہیں جیسے ہی کوئی مسافر گاڑی یا بائیک پہ یہاں سے گزرتا ہے تو لازمی بات ہے وہ نیچے اتر کر بالکل ہماری طرح سب سے پہلے رکاوٹ دور کرے گا،اب یہ بندہ مسافر نہیں بلکہ ان چوروں یا ڈاکوﺅں کے لئے شکار ہوتا ہے اگر تو گھات لگائے زیادہ دیر نہیں گزری تب تو وہ خالی ہو کر جائے گا یا ضرور مارا جائے گا ،لیکن گھات لگائے کافی وقت گزر گیا ہے تو پھر ہو سکتا ہے ڈاکو حضرات تھوڑی لاپرواہی برتیں اور ریلیکس ہو جائیں اس صورت میں مسافر بچ کے نکل بھی سکتے ہیں ،جیسے کہ ہم۔اسی لئے کہہ رہا ہوں کہ ہم موت کے منہ سے بچ کے آئے ہیں ۔۔۔آخری جملہ سن کر ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہوئی،کیونکہ ہم تو پچھلے پچیس ،تیس گھنٹوں سے موت کو بھُگت رہے تھے اور میں جتنا بھی بہادر تھا لیکن بہرحال لاشعور میں کہیں خوف بھی میری گھات میں تھا،اور ساجو تو تھی ہی لڑکی،وہ بھی آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھ رہی تھی ،گھمبیر خاموشی کے بعد بھائی کی آواز گونجی،اوکے گائیز،چھوڑو ان خوفناک کہانیوں کو،اب ہم خطرے سے باہر ہیں۔ رسول بیراج کے اطراف میں بھی گھنا جنگل ہے اور بہتر کلو میٹر کے علاقہ میں پانی ہی پانی چاروں طرف ہوتا ہے لیکن ایک فائدہ یہ ہے کہ پولیس عملہ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہوتا ہے،چیک پوسٹس بنی ہوئی ہیں ۔۔۔اسلئے یہاں تک پہنچتے ہی ہم لوگ سست ہو گئے،لیکن میرے ذہن میں کئی طرح کے سوال اٹھ رہے تھے ،میں بار بار کچھ دیر پہلے گزرے واقع کے بارے میں سوچ رہا تھا ، آخر پوچھ ہی بیٹھابھائی وکی ہم ادھر سے کیوں اتنی تیزی سے نکلے ہیں؟ ہو سکتا ہے کسی کو ہماری مدد کی ضرورت ہو؟ ہو سکتا ہے وہ کوئی ڈاکو نہ ہو،مصیبت زدہ ہی ہو؟میرے ذہن میں ابھی اس واقعہ کی باقیات موجود تھیں، تبھی میری بات سن کر بھائی نے تیز نظروں سے مجھے دیکھا،ساجو کھڑکی سے باہر جھانک کر بیراج کے نظاروں میں کھوئی ہوئی تھی،ابے گھامڑ،تیرا پورا دل تھاکہ ہم پکڑے اور مارے جاتے ،دنیا میں للو کی کمی نہیں ہے اور تم جیسے لوگ ہی جرائم پیشہ لوگوں کا شکار بنتے ہیں ،جب میں نے جھاڑ کھا لی تو کان لپیٹ کر پڑ گیا تبھی پسلی میں زور کا گھونسا لگا۔۔۔۔۔۔

میں تلملا اٹھا گھونسے کی تکلیف تھی اس لئے پورے قہر کے ساتھ دیکھا تو ساجو مجھے دیکھ کے فرضی مونچھوں کو تاﺅ دے رہی تھی ۔۔۔۔۔

          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     خالہ کو بھیلووال چھوڑنے کے بعد ہم سب نے سکون کا سانس لیا ، لیکن صرف ایک دن خیریت سے گزرا ،جب اگلا دن آیا تو وہ قیامت صغری سے کم نہ تھا ،باوا جی کا فون آیا کہ خالہ نویدہ ادھر نہیں ہے وہ چپ چاپ ڈیرے سے نکل گئی ہے ۔علی نے جب یہ خبر سنائی تو ہمارا ناشتہ دھرے کا دھرا رہ گیا ،یہ تو پہلی پریشانی سے بھی بڑھ کے تھی ،اب کیا کریں ؟سب کی نظریں سوال کر رہی تھیں ایک دوسرے سے ،ادھر باوا جی نے بھی بندے پھیلا دئیے تھے،ان کے گاﺅں میں خال خال ہی گھر تھے ،آبادی کے پچھلی طرف گھنا جنگل تھا اور خالہ کے بارے میں بابا سیدا (باوا جی کے والد کے زمانے سے مرید)نے بتایا کہ آخری بار بڑے باوا جی کے مزار پہ انکو فاتحہ کے لئے جاتے دیکھا گیا تھا ،اس کے بعد وہ نہ ڈیرے پہ آئی اور نہ ہی گھر واپس پلٹی تھی،امی اپنی بہن کی گمشدگی کا سن کر رونے لگ گئیں،ہم بھی پریشان،یا اللہ کیا ماجرہ ہے ،مجھے لگتا ہے میری بہن جنوں کے کہنے میں آ کر جنگل کی طرف نکل گئی ہو گی اور۔۔۔اور اسے جنگلی جانوروں نے چیر پھاڑ کر کھا لیا ہو گا ،ہائے اللہ میری بہن پہ رحم فرما،وہ تو پہلے ہی ہوش سے بیگانی ہے ۔۔۔امی رو رو کے دعائیں کر رہی تھیں، ہم لوگوں نے ادھر ادھر فون کرنے شروع کر دئیے ،پریشانی سے برا حال تھا،پنڈ دادنخان میری خالہ اور خالو تھے،انھیں فون کر کے تھانے رپورٹ جمع کرائی ،کیونکہ خالہ نویدہ اسی علاقہ میں لاپتہ ہوئی تھی ،جواد نے سارے دوستوں اور کزنوں کو اکھٹا کیا،مختلف سمتیں متعین کیں اور خالہ نویدہ کی تصویر کی کاپیاں کروا کے سب نے بانٹ لیں اور بیراج رسول کی سمت نکل گئے ۔ابھی تک خالہ کے شوہر صاحب کا کہیں کوئی پتہ نہ تھا ۔حالانکہ انکو بتایا بھی تھا کہ خالہ نویدہ بہت سیرئس حالت میں ہیں وہ تب بھی دیر کر رہے تھے بلکہ اب تو جو دیر ہونی تھی وہ ہو چکی تھی ،سارے لڑکے نکل چکے تھے گھر آج ایسے لگ رہا تھا جیسے ابھی ابھی جنازہ اٹھایا گیا ہو ،امی نے کسی سے استخارہ کروایا انھوں نے کہا کہ جس علاقہ میں لاپتہ ہوئی ہیں اسی میں تلاش کرو،باوا جی کو فون کیا تو ان کے حساب میں بھی کچھ نہیں آ رہا تھا ،دوپہر ڈھلنے والی تھی لیکن خالہ کا سراغ نہ مل سکا ،میرے میکے میں ایک خالہ بہت عبادت گزار ہیں ان سے استخارہ کرایا ، انھوں نے کہا کہ جس شہر یا گھر میں بھی ہیں اس وقت خیریت سے ہیں،انکی جان کو کوئی خطرہ نہیں یوں جانئیے کہ اپنے گھر میں ہیں ،یہ الفاظ سچ تھے یا جھوٹ لیکن ہماری ڈھارس بندھا گئے ۔شام چار بجے سارے لڑکے ناکام و نامراد گھرکو لوٹنے لگے ،کچھ دیر بعد جواد بھی بےزار سا واپس آ رہا لیکن اسے خالہ کے بارے میں چند کلیو ملے تھے جس کا مطلب تھا کہ خالہ کو جنگلی درندوں نے نہیں کھایا بلکہ وہ بیراج تک ضرور آ ئی ہے ۔بیراج کا نام سن کر خالدہ نے نے پر جوش ہو کر کہا اس کا مطلب ہے امی کو گھر کا رستہ یاد تھا اور وہ بالکل درست رستے پر آ رہی تھی ،جواد تم نے کیسے پتہ کیا خالہ کا؟وکی بھائی نے بیچ میں سوال کیا تو وہ کہنے لگا بھائی یار آتی جاتی گاڑیوں والے کہاں اتنا ٹائم دیتے ہیں ،میں نے بیراج پہ جا کے پہلے تو دوپہر کا کھانا کھایا جو کہ اچھی سی تازہ فرائی مچھلی تھی اس کے بعد مچھلی والے سے کہا کہ کسی کے بارے میں معلوم کرنا ہے ،میرا لہجہ رازدارانہ تھا گھبرا کے کہنے لگا بھائی جی آپ خفیہ والے ہیں یا پولیس والے ؟میرا جسم اور قد دیکھ کر اس نے جو اندازہ لگایا میں نے ایک لمحے میں سو چ لیا کہ اسی بات کا فائدہ اٹھانا ہے ،سر کھجاتے ہوئے میں نے ادھر ادھر دیکھ کر آہستگی سے کہا کہ پولیس میں ہوں اور تم۔۔۔۔۔میری بات ختم نہیں ہوئی اور اس نے میرا تماشہ بنا دیا ،صاحب قسم لے لو پرسوں سے بھنگو میرے ٹھئیے پہ نہیں آیا ،اس سے پہلے آتا تھا ،جب سے چھاپہ پڑا ہے میں نے اسے ادھر گھسنے نہیں دیا،اب تو اسے اور بھی سختی سے منع کر دوں گا۔۔۔آپ کے لئے چائے منگاتا ہوں آپ نے فِش کھائی ہے صاحب چائے اچھی رہے گی،ابے او دِیمے،صاحب کے لئے ڈبل کپ دودھ پتی ملائی مار کے لے کر آ۔۔۔میں ہونقوں کی طرح اس کا منہ دیکھ رہا تھا،چائے کا آرڈر بیٹھے بٹھائے ہو گیا تا میں بھی چپ چاپ بیٹھ گیا کیونکہ یہاں سے اٹھ کر مجھے چائے خانہ ہی جانا تھا ۔سنو۔۔۔یہ بھنگو۔۔۔آجکل کیا کرتا ہے؟ارے صاحب کیوں پوچھتے ہو؟میں نے بولا نہ کہ اب اس کا اور میرا کھلاس ہے ،ایک نمبر کا دو نمبر بندہ ہے ،اے ے ے۔۔۔۔ٹر ٹر نہ کر جتنا پوچھا ہے اتنا بول،مجھے غصہ دلا کے خود ڈر گیا اور اس نے بھنگو کی داستان جھٹ پٹ سنا دی،میرا خیال ہے آپ سب کے لئے وہ کہانی بیکار ہوگی،بہرحال جب اس کا کچھ اعتماد بحال ہوا تو میں نے پھر بات شروع کی ،یار آج میں بھنگو کی انکوائری کرنے نہیں آیا تھا ،آج ایک اور کام سے بڑے صاحب نے بھیجا تھا،پہلے اسکی آنکھیں حیرت سے پھیلی اور بعد میں سکڑ کے ذرا چھوٹی ہوئیں،لالی سے اب کیا کام پڑ گیا صاحب کو؟معنی خیز انداز میں سوال ہوا تو مجھے لگا کہ کوئی لمبی گیم ہی چل رہی ہے،یار ادھر اڈے سے معلومات لینی ہیں کسی کی گمشدگی کے بارے میں،چائے کا کپ آ چکا تھا میں نے آدھی بات کہہ کے کپ اٹھا کے چسکی بھری ،کون گم ہوا صاحب؟ایک عورت آج صبح سے نہیں مل رہی ،پنڈ دادنخان سے آ رہی تھی یہاں سے گزرنا تھا ،ذہنی توازن درست نہیں،رنگ سیاہ ،عمر تقریباً پچاس سال،میں نے تصویر اسکے سامنے رکھ کے بیراج کے لہریں کھاتے پانی کو دیکھنا شروع کر دیا،ارے صاحب یہ خالہ تو بہت گوری ہے ،تم کہتے ہو کالی ہے،ہاں لیکن اب یہ بالکل کالی سیاہ ہو گئی ہے ،یار نقص نہ نکالو صرف غور سے دیکھو اور بتاﺅ اگر ذہن میں ہے تو ۔۔وہ سوچ میں گم ہو گیا، میں نے بھی اسے موقع دیا ،جب تک ڈبل دودھ پتی ختم ہوتی تب تک اسکی آنکھوں میں شناسائی کی جھلک میں دیکھ چکا تھا ۔ہاں استاد یاد آیا؟جی صاحب جی جی ،یہ آج کی بات ہے؟اس نے جوش سے کہا تو میں نے بھی پر جوش ہو کر کہا بالکل آج ہی کی بات ہے،یہ بیراج سے گزری ہے کیا؟ ہاں صاحب آج تقریباً گیارہ بجے یہ سامنے کی سڑک سے گزری ہے،پیدل تھی اور اسکا حال بہت خراب تھا،سر پہ چادر بھی نہیں تھی اور ۔۔۔اور کیا؟میں نے غرا کے پوچھا۔صاحب اس کی ٹانگیں ۔۔۔اوئے بول نہ اسکی ٹانگوں کو کیا ہوا،گاڑی کے نیچے آ کے ٹوٹ گئی تھیں ؟نہیں صا حب جی اس نے صرف قمیض پہن رکھی تھی ،نچلا دھڑ عریاں تھا ،اور چہرے پہ کھرونچے لگے ہوئے تھے جیسے یہ بی بی کانٹوں میں پھنسی رہی ہو ،اسے پانی پلایا اور پوچھا کہ کہاں جاﺅ گی تو بولی نہیں صرف اشارہ کر دیا کہ میں نے ادھر جانا ہے،وہ ۔۔۔ادھر،صاحب جہاں سے آپ آئے ہو،اس نے اشارے سے بتایا تو میں نے پوچھا پھر وہ ادھر چلی گئی تھی ؟ہاں صاحب وہ تو ادھر ہی چلی گئی،میں اسے بٹھا تو لیتا یا کسی عورت کا انتظام کر کے اس کے کپڑے بدلواتا لیکن مجھے اس سے بڑا عجیب سا خوف محسوس ہوا۔اسکی آنکھیں لال کبوتر تھیں اور ان میں پتہ نہیں کیا تھا کہ میرا دل ہی نہیں کیا اسے روکنے کو، چڑیلوں کی طرح بال بکھرے ہوئے تھے ،اب پتہ نہیں کہاں ہو گی بیچاری۔۔۔ویسے صاحب وہ کہاں کی ہے؟تھانے والے اسے ڈھونڈ رہے ہیں ؟ میں نے اسکی باتوں کا جواب نہیں دیا اور بل اس کے سامنے رکھ کر میں سرعت سے اٹھا اور گھر آ گیا

            ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواد کی باتوں سے ثابت ہوتا تھا کہ خالہ نویدہ بیراج سے آگے کیطرف آئی ہے یعنی اس کا رخ گھر کی طرف تھا ،اور جو حلیہ لالی نے بتایا تھا بالکل وہی حلیہ آجکل خالہ نویدہ کا تھا ،ہم اسی پریشانی میں تھے کہ علی کے خالُو علیم چار بجے کے قریب گھر آئے اور آتے ہی امی کو رازداری سے علیحدہ بلایا،وہ بھی ہمارے نزدیک ایک ٹاﺅن میں رہتے ہیں ،امی کو کہتے آپا جی آپ کے لئے ایک خوش خبری ہے ،کیا علیم بھائی،اب تو خوش خبری کے لئے بھی ترس ہی گئے ہیں،بے دلی سے مروت کے مارے امی نے کہا،نہیں نہیں آپا جی یہ اصل خوشخبری ہے،در اصل وہ نویدہ بہن صبح بارہ بجے کے قریب ہمارے گھر آ گئی تھی ،اب بھی ادھر ہی ہے ۔میں گھر سے بتائے بغیر آیا ہوں ،وہ نویدہ قابو نہیں آ رہی ،علی یا جواد کو ساتھ بھیجیں تا کہ اسے میں آپ کے پاس چھوڑ دوں ،ہائیں،میری بہن مل گئی؟علی چل مجھے اس کے پاس لے چل،امی تو تیار ہو گئیں لیکن یہ سن کر علی کو غصہ آ گیاجھٹ سے بولے ،خالُو جی میری امی کیوں سنبھالیںخالہ سیماں(انکی بیوی)کو کہیں وہ اب بہن کو سنبھالیں ،علی کے اس طرح کہنے سے امی خفا ہونے لگیں ،انکو الگ لے جا کے سمجھایا تو خالہ کو لے کر آ نے پر راضی ہو گئے۔

جاری ہے

           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خوشی … شیکھا گپتا/عامر صدیقی

خوشی شیکھا گپتا/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. آج جیسے ہی گھر سے آفس کے لئے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے