سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 35  سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 35  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 35
سید انور فراز

ابتدائی قسطوں میں ہم نے اپنے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ پبلشنگ کے شعبے میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ بندہ خود مصنف یا شاعر نہ ہو کیوں کہ یہی ہمارا مشاہدہ رہا ہے،ڈائجسٹ انڈسٹری میں کامیاب پبلشرز میں سرفہرست معراج رسول کا نام آتا ہے، ان کے چار ڈائجسٹ نہایت کامیابی سے طویل عرصے تک اپنی مقبولیت لوگوں سے منواتے رہے، ان کا تحریری سرگرمیوں سے کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا، شکیل عادل زادہ اس وقت تک کامیاب رہے جب تک خود کہانی لکھنا شروع نہیں کیا تھا، عالمی ڈائجسٹ کی کامیابی میں بھی شکیل صاحب کا اہم کردار رہا لیکن وہاں بھی وہ خود کچھ نہیں لکھتے تھے، اسی طرح سہام مرزا، مشتاق احمد قریشی اور غلام محمد غوری وغیرہ کی مثال بھی دی جاسکتی ہے کہ یہ لوگ اپنے پرچے کے لیے دوسرے رائٹرز پر زیادہ انحصار کرتے تھے اور پرچے کے انتظامی معاملات پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔
تخلیق کاری ایک فل ٹائم جاب کی طرح ہے، یہ آپ کو کسی اور طرف متوجہ نہیں ہونے دیتی، ہم نے ضیا شہزاد صاحب کی مثال بھی دی تھی، ان کی تخلیقی صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا لیکن ہم نے لکھا تھا کہ وہ کاروباری اور انتظامی ذہن کے مالک کبھی نہیں رہے، خوش آئند بات ہے کہ وہ بھی اپنی یاد داشتیں لکھنے پر آمادہ ہوگئے ہیں، یقیناً ان کے تجربات و مشاہدات قابل قدر ہوں گے اور ڈائجسٹ انڈسٹری کے بہت سے پہلو نمایاں ہوں گے۔
1995 ء ایسا سال ہے جس میں معراج رسول صاحب کو اپنا بہت زیادہ وقت ملک سے باہر گزارنا پڑا ور انتظامی نوعیت کے اکثر معاملات مکمل طور سے اقلیم علیم صاحب کو سنبھالنا پڑے، اگرچہ وہ ٹیلی فون پر ادارے سے رابطے میں رہتے تھے اور پل پل کی صورت حال انھیں بتائی جاتی تھی لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ کسی ادارے کو سنبھالنے کے لیے یہ کافی نہیں ہوتا، ادارے کے مسائل سے متعلق جو معلومات ان تک پہنچتی ہوں، ضروری نہیں ہے کہ وہ صورت احوال کی حقیقی اہمیت کو اجاگر کرسکیں، ہر شخص موقع محل اور اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر ہی بات کرتا ہے اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو خود کسی مسئلے کی اہمیت و نزاکت کو اس طرح نہیں سمجھتے جس طرح سمجھنا چاہیے، ادارے کے مالک سے زیادہ ادارے کے نفع و نقصان کو ہمارے خیال سے کوئی دوسرا بہت زیادہ اہمیت نہیں دے سکتا۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ سال 1995 ء ایک ایسا سال ہے جس نے ادارے کے پرچوں کی ترقی کو روک دیا تھا، وہ اگر پیچھے نہیں جارہے تھے تو آگے بھی نہیں جارہے تھے، انھیں آگے لے جانے کے لیے معراج صاحب جیسے ذہین اور غیر معمولی فیصلے کرنے والے شخص کی کمی اس سال محسوس ہوئی اور پھر یہ سلسلہ بہت آہستہ روی سے بڑھتا ہی چلا گیا۔
شاید اسی سال لاہور کے ایجنٹ نسیم کی تبدیلی بھی عمل میں آئی، بے شک نسیم مالی معاملات میں نادہندہ ہونے کی وجہ سے قصور وار تھے لیکن ادارے سے مخلص تھے، لاہور اور ارد گرد کے علاقوں میں اپنا اچھا نیٹ ورک رکھتے تھے، ان سے ماضی کی روایات کے خلاف نہایت سخت انداز میں رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا جو وہ پورا نہیں کرسکتے تھے، معراج صاحب کو مالی معاملات میں بھی خاصی دشواریوں کا سامنا تھا، اس صورت حال کا فائدہ نسیم کے ایک پرانے حریف نے اٹھایا اور دفتر میں اثرورسوخ بڑھا کر لاہور کی ایجنسی حاصل کرلی،اس بندے کا پورا نام ذہن میں نہیں ہے ، سیٹھی کے نام سے مشہور تھا لیکن زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ اس کی ناقص کارکردگی سامنے آگئی، ہم نے بھی کچھ وقت اس کے ساتھ گزارا تھا، لاہور میں اس نے ہماری بڑی آؤ بھگت کی تھی،گویا ہمیں بھی شیشے میں اتارنے کی کوشش کی لیکن عام طور سے ہم اس قسم کے معاملات میں ملوث ہونا کبھی پسند نہیں کرتے تھے۔
اب قرۂ فعال کراچی کے ایجنٹ جناب احمد حسین کے نام نکلا، احمد بے حد شریف اور معقول آدمی تھے، مالی طور پر بھی بہت مضبوط تھے اور اپنا کاروبار لاہور تک پھیلانا چاہتے تھے،انھوں نے معراج صاحب کے مطالبات پورے کردیے اور اس طرح لاہور کی ایجنسی انھیں مل گئی، یہ تمام اکھاڑ پچھاڑ پرچوں کی ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے بہتر ثابت نہیں ہوئی، مزید خرابی یہ ہوئی کہ ایک نیا راستہ کھل گیا کہ جو زیادہ رقم دے گا ایجنسی اسی کے حوالے کردی جائے گی، اس کی صلاحیت کیا ہے ، آگے وہ پرچوں کو کس طرح ڈسٹری بیوٹ کرتا ہے، یہ سب بعد میں دیکھا جائے گا۔
1996 ء بھی ایسا ہی بحرانی سال ہے جس میں معراج صاحب زیادہ تر ملک سے باہر ہی رہے،اچھی بات یہ تھی کہ ایڈیٹوریل سائٹ پر صورت حال بہتر تھی، تمام پرانے لکھاری پوری جاں فشانی اور ایمان داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے تھے، سسپنس ڈائجسٹ نے دیوتا اور موت کے سوداگر نے مضبوطی سے اپنے قدم جما رکھے تھے جب کہ جاسوسی میں شکاری اور سرکش قارئین کے دلوں کی دھڑکن تھیں، علیم الحق حقی سسپنس کے آخری صفحات یا جاسوسی کے ابتدائی صفحات یا کبھی کبھی سرورق کے رنگوں میں جلوہ افروز ہوکر قارئین سے داد حاصل کرتے، الغرض ادارتی میدان بھرپور طریقے سے اپنا کردار ادا کر رہا تھا۔
ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ کی ایک اہم خصوصیت ہمیشہ سے یہ بھی رہی کہ تمام کام کرنے والوں اور لکھنے والوں کو ان کا مقررہ معاوضہ وقت پر مل جایا کرتا تھا، تنخواہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو مل جایا کرتی تھی، مصنفین کا ماہانہ مشاہرہ انھیں وقت پر پہنچ جاتا، اسی طرح تمام افراد کو سال میں دو بونس بھی دیے جایا کرتے تھے اور یہ دونوں بونس عید اور بقر عید سے پہلے دیے جاتے تھے تاکہ عید کے اضافی خرچے پورے ہوسکیں، ہم جیسے تنخواہ داروں کے لیے یہ بہت بڑا سہارا تھا، بونس ملنے کے بعد ہی ہم عید کی خریداری شروع کرتے تھے۔
سال 1997 ء میں دفتر کے چند افراد کا بونس روک دیا گیا اور کہا گیا کہ اس سال ان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی لہٰذا انھیں بونس نہیں دیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ یہ رپورٹ بیرون ملک مقیم معراج صاحب کو دفتر ہی سے پہنچائی گئی ہوگی، ان افراد میں ہمارا نام بھی شامل تھا اور ہمارے لیے یہ نہایت صدمے کی بات تھی، یقیناً کسی کینہ پرور نے معراج صاحب کے کان بھرے تھے ورنہ انگلینڈ میں بیٹھ کر اور ہم سے مسلسل فون پر رابطے میں رہتے ہوئے بھی وہ یہ کام کیسے کرسکتے تھے ؟ اگر انھیں کوئی ہم سے شکایت ہوتی تو وہ فون پر ہماری کلاس لے لیتے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔
شاید طویل عرصے میں یہ پہلا موقع تھا کہ ہم نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا، دفتر میں اختر بیگ اور توصیف احمد (اکاؤنٹنٹ) نے سختی سے ہمیں اس فیصلے سے روکنے کی کوشش کی، انھوں نے ہمیں سمجھایا کہ یہ عارضی بات ہے، معراج صاحب اپنے فیصلے پر خود ہی نظرثانی کرلیں گے، وہ جانتے ہیں کہ تم دفتر کی ذمے داریوں کے سبب اپنے بیوی بچوں سے بھی دور رہتے ہو، انھوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ تم خود کسی وقت معراج صاحب سے اس مسئلے پر بات کرو، اگر کوئی غلط فہمی انھیں ہوئی ہے تو اس کی وضاحت کردو لیکن ہم نے انکار کردیا کہ ہم اس مسئلے پر معراج صاحب سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتے، اگر وہ اپنی آنکھیں بالکل بند کرچکے ہیں اور ادارے سے مخلص افراد کی پہچان کھوبیٹھے ہیں تو پھر خدا حافظ۔
بہر حال اختر اور توصیف کے اصرار پر ہم نے فوری طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور اسی طرح کام کرتے رہے جیسے کر رہے تھے ، اس دوران میں کئی بار معراج صاحب سے ملاقات ہوئی ، وہ کراچی آئے ہوئے تھے،ہم توقع کرتے کہ وہ اس مسئلے پر ہم سے کوئی بات کریں گے لیکن شاید انھیں یہ توقع تھی کہ ہم ان سے کچھ کہیں گے مگر ایسا نہیں ہوا، ہر بار ضروری کام کی بات ہوتی اور ہم اٹھ کر چلے آتے، شاید ایک ماہ عید میں باقی تھا کہ ایک روز ضروری بات چیت ختم ہوئی تو خود ہی بول پڑے ’’توصیف سے اپنا بونس لے لینا‘‘
’’جی بہتر، شکریہ‘‘ ہم نے بھی صرف اتنا کہا اور باہر آکر توصیف سے کہا کہ بونس نکالو، وہ بھی تیار ہی بیٹھے تھے، مسکرائے اور بونس کی رقم ہمارے حوالے کردی، توصیف احمد رضوی ایک طویل عرصہ دفتر میں اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کرتے رہے،وہ ہر منیجر کے اسسٹنٹ بھی رہے، آج کل امریکا میں ہیں، دفتر کے حالات جس رُخ پر جارہے تھے اس کا اندازہ شاید انھیں ہوگیا تھا، چناں چہ انھوں نے امریکا جانے کے لیے کوششیں شروع کردی تھیں اور بالآخر وہ امریکا چلے گئے، کبھی کبھی ان سے ہیلو ہائے ہوجاتی ہے، بنیادی طور پر وہ ایک شریف اور ہمدرد انسان ہیں۔
پہلے یہ تذکرہ ہوچکا ہے کہ ہماری رہائش مستقل طور پر دفتر ہی میں تھی، پیر کے روز ہم اپنے نیو کراچی کے گھر سے دفتر آتے اور پھر ہفتے کی شام کو واپس گھر جاتے، گویا ایک اتوار کا دن بیوی بچوں کے ساتھ گزارنے کا موقع ملتا، ہماری اس طویل غیر حاضری کا ایک بڑا نقصان بیوی بچوں کو ہورہا تھا، بیوی کی صحت کی طرف پوری توجہ نہیں دے پاتے تھے،کسی دکھ تکلیف میں گھر کے قریب ہی ایک ڈاکٹر جو خاصے معقول آدمی تھے ، ان سے علاج معالجہ چلتا، مزید یہ کہ ہمارا بیٹا بھی اب بڑا ہورہا تھا اور گھر سے باہر نکلنے لگا تھا، ڈر تھا کہ کسی خراب صحبت میں نہ پڑجائے، ہمارے سسر بھی ہمارے ساتھ ہی رہا کرتے تھے،شاید 1996 ء کے آخر میں ان کا انتقال ہوا اور ہماری وائف نے اس کا بہت صدمہ لیا، ان کا بلڈ پریشر ہائی رہنے لگا، جہاں تک ہومیو پیتھک دواؤں سے اسے کنٹرول کرنا ممکن ہوتا سو کیا جاتا یا پھر محلے کے ڈاکٹر سے رجوع کیا جاتا، گھر کی تمام ذمے داری جس میں سودا سلف لانا بھی شامل تھا، وائف کے ہی ذمے تھی، البتہ اتوار کو ہم گھر پر ہوتے تو ایسے کام نمٹادیا کرتے جو ان کی بساط سے باہر ہوں۔
15 مارچ ہماری زندگی کا وہ منحوس ترین دن ہے جب ہماری 17 سالہ ازدواجی رفاقت کا خاتمہ ہوا، اس روز ہفتہ تھا اور حسب معمول ہمیں شام کو دفتر سے گھر پہنچنا تھا، تقریباً شام پانچ بجے گھر سے وائف کا فون آیا، انھوں نے بتایا کہ لائٹ نہیں ہے، آپ اپنے دوست کو فون کرکے کہیں کہ یہ مسئلہ حل کرادے، ہمارے ایک بہت عزیز دوست زاہد حسین کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن میں اچھی پوزیشن پر تھے ، ان سے ہماری دوستی توصیف احمد رضوی کے ذریعے ہوئی تھی ، وہ یاروں کے یار ہیں اور آج بھی ہمارے بہترین دوستوں میں شامل ہیں لیکن اب ان سے ملاقات صرف فیس بک پر ہوتی ہے۔
ایسے موقعوں پر ہم اکثر زاہد کو فون کرتے اور وہ فوری طور پر مسئلہ حل کرادیتے تھے،ہم نے جواباً بیوی کو تسلی دی اور پوچھا ’’آج کیا پکانے کا ارادہ ہے؟‘‘
انھوں نے بتایا کہ ان کے بڑے بہنوئی اور بہن بھی حیدرآباد سے کراچی آئے ہوئے ہیں اور آج وہ بھی گھر آئیں گے، میں پائے لے کر آئی ہوں، وہی پکیں گے کیوں کہ بھائی صاحب (اپنے بہنوئی کو وہ بھائی صاحب ہی کہا کرتی تھیں) کو پائے بہت پسند ہیں، ہم خوش ہوگئے ، پائے ہمیں بھی پسند ہیں۔
شاید مشکل سے آدھا گھنٹہ گزرا ہوگا، فون کی گھنٹی بجی تو دوسری طرف ہماری بڑی بیٹی تھی، نہایت گھبرائی ہوئی اور پریشان آواز میں اس نے بتایا کہ امی کچن میں گر گئی ہیں اور بے ہوش ہوگئی ہیں، محلے کے لوگ انھیں لے کر اسپتال گئے ہیں، ہمارے پیروں تلے سے زمین نکل گئی لیکن یہ خوش امیدی بھی دل میں تھی کہ ممکن ہے کام کی زیادتی یا بلڈ پریشر بڑھنے کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی ہوں، بہر حال ہم فوراً آفس سے نکلنے کے لیے تیار ہوگئے اور اقلیم صاحب کو بتایا تو انھوں نے کہا کہ بس میں بھی نکل رہا ہوں ، آپ کو اپنی گاڑی میں چھوڑ دوں گا، اقلیم صاحب ان دنوں نارتھ ناظم آباد میں رہتے تھے اور کبھی کبھی ہمیں نارتھ ناظم آباد تک لفٹ دے دیا کرتے تھے لیکن اس روز وہ ہمیں سیدھا نیو کراچی لے گئے، ہمارے گھر کے باہر محلے کے لوگ جمع تھے، ہم اندر داخل ہوئے تو لوگ انھیں اسپتال سے واپس لے آئے تھے، کمرے میں ایک چارپائی پر انھیں چادر اڑا کر لٹا دیا گیا تھا، ہماری والدہ اور بہنیں بھی گھر آچکی تھیں، والدہ وہاں قریب ہی بیٹھی تھیں، ہماری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کریں، ہم نے ایک نظر چادر ہٹاکر چہرے پر ڈالی اور پھر باہر آکر اقلیم صاحب کو بتایا کہ قصہ ختم ہوچکا ہے،آپ دفتر میں اطلاع پہنچادیجیے گا،اقلیم صاحب نے حسب معمول تسلی دی اور روانہ ہوگئے۔
بعد میں دفتر کے ساتھی اور دیگر احباب بھی پہنچنا شروع ہوگئے، دوسرے روز تجہیز و تدفین کا سلسلہ رہا، اس طرح زندگی کا ایک باب عجیب طرح سے اپنے اختتام کو پہنچا،وہ رات قیامت کی رات تھی،کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اب کیا ہوگا؟ ہماری سب سے چھوٹی بیٹی چار سال کی تھی اور ساری رات ایک شعر ذہن میں گونجتا رہا ؂
اب کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
رستے میں کوئی سایہ ء دیوار بھی نہیں
یہ ملال اپنی جگہ تھا کہ کئی سال سے دفتر میں رہنے کی وجہ سے ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت کم بات چیت کیا کرتے تھے،کسی مسئلے پر فون پر مختصر بات چیت ہوتی، ویسے بھی مرحومہ اس معاملے میں دنیا کی تمام خواتین سے مختلف تھیں کہ بہت کم بولتی تھیں، اگر ہم سارا دن اور ساری رات گھر پر بھی ہوں تو وہ کوئی غیر ضروری بات یا کوئی خوامخواہ کا قصہ کبھی بھی نہیں چھیڑتی تھیں، کم گوئی طرۂ امتیاز تھا، اکثر تو پورے دن میں صرف اتنی بات چیت ہوتی کہ انھوں نے کھانے کے لیے پوچھ لیا یا ہم نے کھانا یا چائے وغیرہ مانگ لیا، اپنے والد کے انتقال کا غم تو چند ماہ سے تھا ہی لیکن ہمارا گھر سے دور رہنا بھی ان کے لیے مستقل تکلیف کا باعث تھا، اس حوالے سے کئی بار بات ہوئی اور ہم نے وعدہ کیا کہ ہم بہت جلد اس گھر کو بیچ کر دوبارہ دفتر کے قریب کوئی فلیٹ لے لیں گے اور ایک بار ایک فلیٹ کا سودا ہوتے ہوتے رہ گیا تھا جو دفتر کی گلی ہی میں تھا۔
ایک ہفتہ قبل پیر کی صبح جب ہم دفتر جارہے تھے تو ہم سے پوچھا ’’وہ دفتر کے قریب فلیٹ کا کیا ہوا؟‘‘
ہم نے جواب دیا کہ وہ سودا نہیں ہوسکا، اب کوئی دوسرا فلیٹ ڈھونڈ رہے ہیں، تم فکر نہ کرو،اگر جلد ہی کوئی بندوبست نہ ہوسکا تو ممکن ہے میں یہ جاب ہی چھوڑدوں‘‘
ہم دونوں کے درمیان اس گفتگو کے بعد آخری بات چیت ان کے انتقال سے آدھا گھنٹہ قبل فون پر ہوئی تھی، پھر ایک ہفتے بعد ہم گھر آئے تو وہ کچھ کہنے سننے کے قابل ہی نہیں تھیں اور ہم ان کے چہرے پر نظریں جمائے سوچ رہے تھے ؂
بس اُٹھ کے چل دیے چُپ چاپ کچھ کہا نہ سنا
کوئی طریقہ ہے یہ! اس طرح بچھڑتے ہیں؟
1997 ء ہمارے لیے بھی ایک غیرمعمولی اور زندگی کو بدل دینے والا سال ثابت ہوا، کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اب کیا کیا جائے، لوگوں کے مشورے ، نصیحتیں جاری تھیں، شاید چوتھے پانچویں روز جمال احسانی دفتر آئے، انھیں اس سانحے کی خبر کچھ دیر سے ہوئی، جمال رسمی گفتگو کے عادی نہیں تھے پھر ہم سے جو بے تکلفی کی فضا تھی وہ اپنی جگہ لہٰذا تھوڑی سی گفتگو کے بعد ہم سے کہا ’’فراز! دوسری شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے؟‘‘
ہم نے حیرت سے جمال کی طرف دیکھا ’’کیا کہہ رہے ہو، یہ وقت ایسی باتیں سوچنا کا ہے؟‘‘
’’ہر وقت ، ہر بات سوچنے کے لیے ہی ہوتا ہے اور جو لوگ صحیح وقت پر نہیں سوچتے ، وہ بعد میں پچھتاتے ہیں، ابھی تمھارے بچے چھوٹے ہیں، خاص طور پر دونوں بیٹیاں چھوٹی ہیں، چند سال بعد یہ کسی دوسری عورت کو اپنی ماں کے کچن میں برداشت نہیں کریں گی‘‘
بے شک جمال کی بات سچی تھی، ہم نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ یہ کہتے ہوئے رخصت ہوگئے، ’’یہ کام جتنی جلدی کرلوگے، اچھا ہوگا‘‘
ہمارے لیے سب سے پہلا مسئلہ یہ تھا کہ دفتر کے قریب فوری طور پر کسی رہائش کا انتظام ہوسکے، سوئم کے فوراً ہی بعد ہم دفتر آگئے تھے، گھر پر والدہ اور بہن بچوں کو سنبھال رہی تھیں لیکن بچوں کو خاص طور سے بیٹیوں کو ہماری ضرورت تھی، ان دنوں دل و دماغ کی جو حالت تھی وہ بیان سے باہر ہے، دفتر کے قریب رہائش بہت مہنگی تھی۔
چند ماہ بعد لاہور سے آفاقی صاحب کراچی آئے ، ہم سے تعزیت کی، ہم نے بچوں کے حوالے سے اور رہائش کے حوالے سے اپنی تازہ پریشانیوں کا ذکر کیا اور انھوں نے جو پہلی بات کی وہ یہی تھی کہ آپ کو فوری طور پر شادی کرلینی چاہیے، ہم نے جواباً کہا ’’آفاقی صاحب! یہ کام اتنا آسان نہیں ہے ، تین بچوں کے باپ سے کوئی ایسی ہی بندی شادی کرے گی جس کے اپنے بھی ایک یا ایک سے زیادہ بچے ہوں اور اس صورت میں گھر میں جو خانہ جنگی ہوگی ، اسے کون سنبھالے گا؟‘‘
آفاقی صاحب نے جواباً کہا ’’کسی بچے والی سے شادی کرنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنے بچے سنبھالے گی یا آپ کے؟‘‘ پھر انھوں نے ایک اشارہ دیا کہ فلاں لڑکی آپ کے لیے بہتر رہے گی، ہم نے جواباً کہا کہ ضروری نہیں وہ اور اس کی فیملی راضی ہوسکے، اس کے ساتھ بہت سے خاندانی مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں جو اکثر وہ ہم سے بھی شیئر کرتی رہتی ہے، اگر وہ راضی بھی ہوجائے گی تو اس کے گھر والے راضی نہیں ہوں گے مگر آفاقی صاحب اس بات پر بضد تھے کہ وہ ضرور راضی ہوجائے گی اور جب وہ راضی ہوجائے گی تو اس کے گھر والوں کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی، اس لڑکی کا نام شبینہ رزاق تھا اور تقریباً چار سال سے دفتر میں ہمارے معاون کے طور پر فرائض انجام دے رہی تھی، والدہ کا انتقال ہوچکا تھا، والد ضعیف تھے گویا گھر کا بوجھ وہ اکیلی ہی اٹھا رہی تھی۔
غلام قادر اور شہلا رضا ہمارے بہت زیادہ قریبی احباب میں شامل تھے، ایک روز ہم قادر کے گھر پہنچے اور اس حوالے سے ان سے مشورہ کیا، قادر نے فوراً ہی مخالفت کردی اور کہا وہ بہت ایمبشس ہے ، اس کے خواب بہت اونچے ہیں، بہت آگے جانا چاہتی ہے، ایک گھریلو بیوی ثابت نہیں ہوگی جب کہ تمھیں ایک گھریلو بیوی چاہیے جو گھر اور بچوں کو سنبھال سکے، شہلا رضا کا مؤقف اس کے برعکس تھا، اس نے قادر کی بات سے اختلاف کیا جس کے نتیجے میں دونوں میاں بیوی میں جو نوک جھونک شروع ہوئی تو ہمیں خطرہ ہوا کہ دونوں کہیں حدود سے تجاوز نہ کرجائیں لہٰذا جیسے تیسے معاملے کو ٹھنڈا کیا ، دوسرا مشورہ معراج صاحب سے کیا، انھوں نے بھی مخالفت کی اور وہی بات کی جو قادر نے کی تھی، دوسری طرف ہماری والدہ ، بہنیں اور ہماری سسرال میں ہماری ساس وغیرہ بھی ہمارے لیے رشتے ڈھونڈ رہی تھیں کیوں کہ سب جانتے تھے کہ بچوں کو سنبھالنے کے لیے ایک گھر والی ضروری ہے، والدہ بہت معمر تھی ، بیمار بھی رہتی تھیں ، بہن کب تک ہمارے گھر بیٹھی رہتی، اس ساری صورت حال میں ہم نے اپنے ایک بہت ہی عزیز دوست گوہر اصطفیٰ اور ان کی بیگم کے ذریعے شبینہ کے گھر رشتہ بھیج دیا ، آفاقی صاحب کا اندازہ درست ثابت ہوا ، اس رشتے پر شبینہ نے کوئی اعتراض نہیں کیا لیکن ان کے والد معترض ہوئے۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 34  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے