سر ورق / افسانہ /  خواب نما … عطاءالرحمٰن خاکیؔ

 خواب نما … عطاءالرحمٰن خاکیؔ

خواب نما

عطاءالرحمٰن خاکیؔ ۔ کراچی ، پاکستان

میں نے دیکھا کہ ایک جنگل میں ہوں جہاں چاروں جانب تاریکی ہے ۔ تاریکی سے مجھے خوف محسوس ہوتا ہےا ور میں احتیاط کے ساتھ سنبھل کر چلنے لگتا ہوں۔۔۔ کوشش یہی ہے کہ کسی طر ح ا س جنگل سے نکل جاوں ۔۔۔لیکن نکل نہیں پاتا۔ میں کئی ہزار قدم چلتا ہوں لیکن اس جنگل کا اختتام نہیں ہوتا اور جب میں ایک درخت سے ٹیک لگا کر سانس لینے کے لئے رکتا ہوں تو مجھے پتہ چلتا ہے کہ دراصل میں تو وہیں آگیا ہوں جہاں سے چلا تھا۔ کیا میں چلا بھی تھا؟۔ مجھے خوف محسوس ہوتا ہے اور پھر مجھےایک شخص کی پشت نظر آتی ہے جو تھوڑے فاصلے پر ایک ہاتھ میں کلہاڑا اور دوسرے ہاتھ میں لالٹین لئے چلا جارہا ہے۔ میں اسے آواز دیتا ہوں لیکن وہ نہیں سنتا ۔ تب میں پوری قوت سے اس کی جانب دوڑنے لگتا ہوں ۔ وہ چل رہا ہے اور میں دوڑ رہا ہوں ۔۔۔۔لیکن ہمارا درمیانی فاصلہ کم نہیں ہوتا ۔ دوڑتے دوڑتے میرا پائوں ایک پتھر سے ٹکراتا ہے اور میں گرجاتا ہوں۔ چہرہ خون سے بھر جاتا ہے۔ جسے میں آستین سے پونچھ کر لڑکھڑاتے ہوئے اس جانب چلنے لگتا ہوں جہاں وہ شخص گیا ہے۔

کچھ دوری پر ایک بوسیدہ مکان ہے۔ وہ شخص اس مکان میں داخل ہوجاتا ہے اور میں کافی دیر بعد اس مکان تک پہنچتا ہوں ۔ ۔۔۔اور دروازہ بجاتا ہوں۔ دروازہ کھلتا ہے اوریہ دیکھ کر میری سانسیں رکنے لگتی ہیں کہ دروازہ کھولنے والاایک عام قد کاٹھی کا مرد ہے ۔ لیکن اس کے چہرے پر نہ ناک ہے، نہ آنکھیں، نہ منہ نہ ہونٹ ۔ وہ مجھے پیچھے ہٹ کر اندر آنے کا راستہ دے دیتا ہے۔ میں جھجکتے ہوئے کمرے میں داخل ہوجاتا ہوں۔ کمرہ بوسیدہ ہے اور وہاں سیلن کی بو ناقابل برداشت ہے۔ دائیں طرف ایک پلنگ بچھا ہوا ہے اور بائیں طرف تپائی اورچند کرسیاں رکھی ہوئی ہیں اور میں ایک کرسی پر بیٹھ جاتا ہوں۔

میں اسے گھور رہا ہوں۔ ۔۔۔لیکن مجھے پتہ نہیں چلتا کہ میرے گھورنے سے اسےکیسا محسوس ہورہاہےاور مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ وہ ایک دہشتناک منظر تھا اورانتہائی مضحکہ خیزبھی ۔ میں نے زندگی بھر چہرے والے لوگوں کا سامنا کیا تھا۔ چوکور چہرے۔ تکونے چہرے۔ گول چہرے۔ لمبوترے چہرے ۔ چپٹی ناک ۔ آریائی طوطے جیسی ناک ۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اُسے گھورتے ہوئے مجھے صدیاں گزر گئی ہیں ۔ پھر وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا چولہے کی جانب بڑھتا ہے اور چولہے پر رکھی کیتلی سے پیالی میں مجھے چائے نکال کردیتاہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آنکھیں نہ ہونے کے باوجودہ ایک صاحبِ بصیرت انسان کی طرح نہ صرف چل سکتا ہے بلکہ چائے بھی پیالی میں اس طرح سے نکال سکتا ہے کہ ایک قطرہ بھی ادھر اُدھر گرنے نہیں پائے۔

خاموشی سےپیالی ساتھ رکھی تپائی پر رکھ کر واپس پلنگ پر بیٹھ کر میری طرف دیکھنے لگتا ہے ۔ چائے گرم اور مزیدار تھی ۔ جب میں نے چائے کا آخری گھونٹ بھی حلق میں اتارلیا توپیالی کو تپائی پر رکھ کر اُ س سے پوچھا۔

’’تم کون ہو؟ ‘‘

کچھ دیر خاموشی رہی پھر مجھے ایک باریک سی غیر انسانی آواز سنائی دی۔

’’میں لکڑ ہارا ہوں۔‘‘

میں نے ایسی آواز پہلے کبھی نہیں سنی تھی ۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کسی کا گلا گھونٹا جارہا ہو اور وہ پھنسی پھنسی آواز میں کراہ رہا ہو۔ لیکن اُس سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ منہ نہ ہونے کے باوجود بھی بول سکتا تھا۔

’’ تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

’’میرا نام‘‘؟؟

میرا نام کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔ مجھے لگا وہ کچھ سوچ رہا ہے۔ شائد اُس کا کوئی نام نہیںتھا۔ لیکن ایسے کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔ خاموشی کے طویل وقفے کے بعد میں نے اگلا سوال کیا۔

’’تمہارے چہرے کا کیا ہوا؟‘‘

’’یہ بونوں کا کام ہے ۔ ‘‘

’’بونے۔۔۔؟ میں نے حیرت سے سوال کیا۔

’’ہاں ! بونے۔۔۔۔۔ کیا تم نے کبھی بونے دیکھے ہیں؟‘‘ وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا۔

’’نہیں وہ تو بس قصہ کہانیوں میں ہوتے ہیں‘‘۔ میں نے اُس سے پوچھا۔ پھر خاموشی کا ایک طویل وقفہ آگیا اور مجھے اُس سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہ پڑی ۔ پھر مجھے وہی پھنسی پھنسی باریک سی آواز سنائی دی۔

’’بونوں کو تم کئی ناموں سے جانتے ہو۔ ان کے کئی نام ہوتے ہیں۔ وہ ہر جگہ رہتے ہیں۔انہیں روشنی کی بجائے اندھیرا پسند ہےاور تم انہیں آرام سے وہاں ڈھونڈ سکتے ہو جہاں روشنی کا گزر نہیں ہوتا ۔ میری کہانی کے جو بونے ہیں وہ دریا کے قریب اپنی بستیاں بساتے ہیں ۔ اور تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ تم نے کنارے پر جو ایک مٹیالاسا کیچڑ نما پتھر دیکھا تھا دراصل وہ پتھر نہیں بلکہ ایک زندہ بونا تھا۔ وہ راتوں میں نکلتے ہیںاورجتنے معصوم اور شریف نظر آتے ہیں اتنے ہی خطرناک بھی ہوتے ہیں۔ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ وہ ننھے ڈاکو ہیں جو چھوٹی چھوٹی حرکتیں کرکے بہت خوش ہوتے ہیں۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ انہوں نے ننھے جبران کو بچایا تھا ۔ جب وہ جنگل میں بھٹک گیا تھا اور اُس کی ماں پاگلوں کی طرح رو رہی تھی ۔ شکاری کتوں کے ذریعے اس کی تلاش کی جارہی تھی ۔ اور بونے اُن کتوں سے پہلے ہی جبران تک پہنچ گئے اور اسے بحفاظت ندی کے کنارے تک پہنچایا جہاں بالآخر تلاش کے لئے آئے لوگوں کو وہ مل گیا۔ ‘‘

’’کیا تم جبران ہو؟‘‘۔ اس نے گردن نفی میں ہلائی اور کہنے لگا۔

’’بونے دراصل قدیم روحیں ہیں ، صبح کی ہلکی کہرے نما دھند کی طرح جو بستیوں اور پانیوں پر تیرتی ہے اور خوشنما دھنک جو گرمیوںکی بارشوں کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ ‘‘ اور یہ کہہ کر اس نے لالٹین کی زرد روشنی دھیمی کردی اور مجھے اشارے سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ مجھے لگا وہ خوف زدہ ہے۔وہ کھڑکی سے باہر جھانک کر اندازہ لگانے کی کوشش کررہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے واپس روشنی بڑھادی اور ہاتھوں پر ہاتھ دھر کر بیٹھ گیا۔

’’ہاں تو بس اتنا ہی؟ ‘‘ میں نے پوچھا۔

جس پر اس نے گردن ہلاکر کہانی واپس شروع کی۔ ’’میں یقیناً ایک بیوقوف لکڑہارا تھا۔ میں نے چند بونوں کو پھندا لگا کر پکڑا اور انہیں اپنے گاوں لے آیا اور اپنے کارخانے میں ان کے چہروں پر لکڑی تراش کر خرگوشوں، لومڑیوں اور بندروں کے چہرے بنائے اور ان کے منہ پر چسپاں کردئیے۔ جب رات اتری ۔ انہیں ایک پنجرے میں قید کرکے گھر آگیا تھا۔ اُس کے بعد آزاد بونے اپنے دریا والے پڑائو اور گھنے جنگل کو چھوڑ کر باہر نکل آئے اور اپنے رشتے داروں کی تلاش شروع کردی۔ وہ ڈھونڈتےہوئے میرے کارخانے تک پہنچے اور اپنے بچھڑے ہوئے بونے رشتہ داروں کو گریہ کرتے اور شرم سے اپنے چہروں کو چھپاتے ہوئے دیکھا۔

اس رات بونوں نے اپنی پنچائیت بٹھائی اور اس پنچائیت کو نتیجہ خیر فیصلہ کرنے کے لئے اتنا کافی تھا کہ میں نے ان کے رشتہ داروں کو اغوا کرکے ان کے چہروں پر جانوروں کے چہرے لگانے کی کوشش کی تھی۔ بونے دریا کے کنارے مقدس سرخ آگ کے گرد بیٹھے ۔ جہاں مچھروں کی افراط تھی۔ وہاں انہوں نے فیصلہ کیا کہ مجھے سبق سکھانا چاہیے ۔اور سب سے پرزور تائید جس نے کی تھی اس کے بیٹے کے منہ پر میںنے اُس رات کتے کا منہ لگانے کی کوشش کی تھی۔پھر ایک ذہین بونے نے یہ رائے دی کہ اس لکڑ ہارے کو صرف خوف زدہ کر کے چھوڑدیا جائے تاکہ وہ آئندہ ہمارے لوگوں کے قریب آنے کی کوشش نہ کرے۔ ۔ جو مجھے کڑی سزا دینے کے حق میں تھے انہوں نے ایک ایک ٹہنی اس مقدس سرخ آگ میں ڈال دی حتی ٰ کہ اس نے آگ پکڑلی ۔وہ جو محض خوف زدہ کرنے کے حق میں تھے انہوں نے اپنی اپنی ٹہنیاں کیچڑ میں گاڑ دیں حتیٰ کہ وہ سیا ہ ہوگئیں۔ پھر انہوں نے انتظار کیا اور سیاہ ٹہنیاں ، سرخ ٹہنیوں پر غالب آگئیں ۔ اس رات وہ میرے گاوں آئے تھے۔ میں جب دوسرے دن کارخانے پہنچا تو میں نے جلی ہوئی سیاہ ٹہنیاں ہر طرف بکھری ہوئی دیکھیں۔ لیکن میں نے اس دھمکی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

اُ س رات سرخ ٹہنیوں والے پورے گاوں کو سبق سکھانے کا عہد کرچکے تھے۔ وہ چلارہے تھے ۔۔۔۔

’’نہ گاوں ہوگا، نہ لکڑ ہاراہوگا ، نہ ہی کوئی مسئلہ جنم لے گا۔ ‘‘

لیکن سیاہ ٹہنیوں والوں نے ان کی خوشامدکی کہ مجھے ایک اور دھمکی دی جائے شائد میں اپنی حرکتوں سے باز آجائوں ۔ اگلی صبح، گاوں میں سب نے سیاہ ٹہنیاں اٹھائے بونوں کو دیکھا ۔ اور گاوں والے جانتے تھے اس کا مطلب کیا ہے۔ وہ جان چکے تھے کہ میں نے کیا کردیا ہے۔ تو وہ قاضی کے پاس گئے اور بونوں کے سردار نے قاضی سے کہا ۔

’’ٹھیک ہے ہم بونے ہیں اور تعداد میں کم ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارے چہرے پر جانوروں کے چہرے لگادئیے جائیں‘‘۔ قاضی نے یہ سن کر گہری سانس بھری اور بونوں کےسردار کے کندھے پر ہاتھ کر دلاسہ دیا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ اس کے ہمراہ پورا گاوں میرے کارخانے چلا آیا۔ وہ چلا رہے تھے۔

’’بونوں کو ایذا دینا بند کرو۔ اور جو قیدی ہیں انہیں رہا کرو ‘‘۔ قاضی نے مجھ سے درخواست کی اور کہا ۔

’’دیودار کا درخت کاٹو، بلوط کا درخت کاٹو ، لیکن بونوں کو کچھ مت کہو‘‘۔ لیکن میں نے ان کا کہا نہیں مانا اور قاضی کو جواب دیا کہ ’’بونے کچھ نہیں یہ محض قصہ کہانیاں ہیں ، وہ مجھے کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں؟‘‘۔ یہ کہہ کر بے چہرہ انسان خاموش ہوگیا۔

مجھے لگا وہ رو رہا ہے کیونکہ اس کا جسم ہولے ہولے لرزرہا تھا۔ سسکیوں کی آواز بھی سنائی دیں۔ میں نے جلدی سے اُٹھ کرپانی کا گلاس بھر اور اس کے نزدیک جا کھڑا ہوا۔ وہ مجھے یوں دیکھنے لگا جیسے میں پاگل ہوں اور اسی وقت مجھے اپنی بیوقوفی کا احساس ہوا اور میں معذرت کرتے ہوئے واپس اپنی جگہ پر جاکر بیٹھ گیا۔

وہ پھر گویا ہوا۔

’’اس رات ، چند اور انسانی چہروں والے بونے کارخانے میں پائے گئے اور پنچائیت نے اس رات واپس سرخ آگ جلائی اور بدقسمتی سے اس میں ایک بھی سیاہ ٹہنی نہیں تھی اور اگلی صبح ، جب میں نیند سے بیدار ہوکر اپنا چہرہ دھونے کے لئے اٹھا، تو مجھے پتہ چلا کہ میرے پاس شفاف پانی تو موجود ہے لیکن چہرے کے خدوخال نہیں اور اُس رات گاوں والے ایک دوسرے کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے پھر رہے تھے کہ بونوں نے اپنا انتقام لے لیا۔

میری آنکھ موبائل کے الارم بجنے سے کھلی ۔ سورج طلوع ہوئے دیر ہوچکی تھی۔ میں نے ایک انگڑائی لی اوراس خواب کے بارے میں سوچنے لگا۔ عجیب سا خواب تھا۔پھر سرہانے پڑی کتاب سائیڈ ٹیبل پر رکھ فریش ہونے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ واش بیسن کے پاس جاکر جب میں نے خود کو آئینے میں دیکھا۔ لکڑ ہارے کی طرح میرا چہرہ بھی غائب ہوچکا تھا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بانو زلیخا ۔۔طلحہ کھرل

                              …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے