سر ورق / افسانہ / ” وردان ” … مشتاق احمد نوری

” وردان ” … مشتاق احمد نوری

” وردان "

مشتاق احمد نوری پٹنہ، بہار انڈیا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر قدآدم آئینے پر پڑی۔ آئینے کو شاید جان بوجھ کر اس زاویے سے رکھا گیا تھاکہ ہرآنے والے کو اپنا سراپانظر آجائے۔ اس نے لمحہ بھر کو آئینے میں دیکھا پھر ٹیبل پر رکھے ہوئے پیتل کے گلدان کو اُٹھاکر اسے پوری طاقت سے آئینے پر دے مارا۔ ’’چھناک‘‘ کی زور دار آواز کے ساتھ آئینے کی کرچیاں بکھرگئیں۔ وہ اُلٹے پاؤں لوٹی اور تیز تیز قدم بڑھاتی ہوئی باہر نکل گئی۔

اس کی اس خلافِ توقع حرکت سے دوسرے مہمان ششدر رہ گئے۔ اس سے قبل کہ کوئی کچھ دریافت کرتا آشا اندر سے باہر دورٹی ہوئی آئی اور اسے جاتے ہوئے دیکھ کر اس کی جانب تیزی سے لپکی۔

’’چندا چندا رُک جاؤ تمھیں میری قسم۔‘‘

لیکن چندا نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔ اس کے ذہن میں تو بگولے چل رہے تھے وہ بار بار ایک ہی بات سوچے جارہی تھی۔

’’آشا نے آخر کس جنم کا انتقام لیاہے؟ اس نے اچانک مجھے آئینے کے روبرو کیوں کردیا؟

چندا آشا کی بہت پیاری سہیلی تھی۔ چندا کہیں آتی جاتی نہ تھی لیکن آج آشا کی خوشامد کے سامنے وہ پگھل گئی تھی۔

’’چندا ڈیئر۔ آج میری خاطر ہی سہی سہ پہر تک ضرور آجانا کچھ نہیں تو ہاتھ ہی بٹادینا۔ ہم نے بڑے ارمانوں سے اپنا فلیٹ بنوایاہے۔ آج اس نئے گھر میں شفٹ کررہے ہیں۔ ایک چھوٹی سی تقریب ہے سب اپنے ہی لوگ ہوں گے۔‘‘

حسب وعدہ وہ آ تو گئی تھی لیکن اسے کیا معلوم تھاکہ آشا اس کے ساتھ ایسا بھیانک مذاق کرے گی اور اس طرح اسے آئینے کے روبرو کردے گی۔

اسے صرف آئینے سے نہیں بلکہ اپنے نام سے بھی چڑ تھی اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی کہ اس کے والدین نے اس کا نام چندا کیوں رکھا؟ کیا دنیا میں ان کے لیے کوئی دوسرا نام نہیں تھا؟

وہ دو بہنوں اور ایک بھائی میں سب سے چھوٹی تھی۔ بڑی بہن کی شادی ہوچکی تھی اور وہ بس اپنے بال بچوں کی ہوکر رہ گئی تھی۔ ہاں خط و کتابت کے ذریعے اب بھی رشتہ قائم تھا۔ دوچار محبت بھرے خطوط سا ل چھ ماہ میں ضرور آجاتے تھے۔ ماں بے چاری تو پانچ سال کی عمر میں ہی اس کا ساتھ چھوڑ گئی تھی۔ بڑی بہن سے ملنا ہوتا نہ تھا لہٰذا تنہائی کا کرب جھیلنا اس کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا۔بوڑھا باپ اس کی قسمت پر رونے کے سوا کیا کرتا؟ دن رات گھر میں پڑا کھانستا رہتا۔ ایک وہی تھی جو باپ کی دیکھ بھال کرتی۔ بھائی کا نام سریندرسنگھ تھا اس پر کسی کا زور نہ چلتا تھا۔ اکلوتا ہونے کے باعث باپ نے کچھ زیادہ ہی آزادی دے دی تھی اور اب نتیجہ سامنے تھا۔ بی.اے میں لگاتار چار سال فیل ہونے کے بعد اس نے کالج جانا چھوڑ دیاتھا اور موجودہ نظامِ تعلیم کو گالیاں دیتا تھا۔ اسے اتنی فرصت کہاں تھی کہ اتنا سوچے کہ اس چھت کے نیچے ایک بوڑھے باپ کے علاوہ ایک دُکھیا بہن بھی رہتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ بچپن سے ہی کسی نے چندا کا خیال نہ رکھا تھا۔ ماں کا لاڈ پیار اسے ضرور ملا تھا لیکن ماں اسے پانچ برس کا چھوڑکر چل بسی تھی۔ بھائی بہن نے اسے کبھی قابلِ اعتنا نہ سمجھا لیکن اس میں اس کا قصور کیا تھا؟ یہ تو اوپر والا جانے جس نے بدصورتی کی تمام حدیں اسی پر تمام کردی تھی۔

کالی ہونا کوئی بری بات نہیں، لیکن اس کے جسم میں گوشت نام کی کوئی شے ہی نہ تھی۔ ایسا لگتا تھاکہ ہڈی پر چمڑا مڑھ دیا گیا ہو۔ اس پر طرہ یہ کہ ہونٹ موٹے اور بھدّ ے تھے اوپر کے دو دانت بڑے اور باہر نکلے ہوئے تھے لہٰذا اس کا منھ ہمیشہ تھوڑا سا کھلا رہتا۔ اس کی ناک بھی ذرا پھولی ہوئی تھی۔ ہاں اس کے بال ریشم کی طرح ملائم اور بے حد لمبے تھے۔ آنکھیں بڑی بڑی سیاہ بھونرے کی طرح تھیں اور اس کے کولہے کی ہڈی بھی خاصی بھاری تھی پرانی سنسکرت شاعری کی معشوقاؤں کی طرح اس کی کمر چلنے میں بل کھا جاتی اور چال نشیلی ہوجاتی لیکن کالا رنگ حد درجہ دبلاپا اور بڑے دانت؟ توبہ توبہ۔

دس پندرہ سال کی عمر تک تو اسے اس بات کا احساس بھی نہ تھاکہ وہ بدصورت ہے لیکن سولہ سال کی عمر میں اس پر چیچک کا حملہ ہوا۔ بچپن کا ٹیکہ شاید مؤثر نہ ہوا تھا وہ اچھی تو ہوگئی تھی لیکن اس کے گڑھے نما رُخساروں میں چیچک کے جابجا گہرے داغ پڑگئے۔ بائیں آنکھ جاتی رہی اور آنکھ کا اجلا حصہ اندر سے پھول کر باہر نکل آیا۔ بیمار ی سے اچھی ہوکر جب اس نے پہلی بار آئینہ دیکھا تو رو روکر اس نے اپنے آپ کو ہلکان کرڈالا۔ وہ چیخ چیخ کر کہتی رہی۔

’’ہے بھگوان! تم نے مجھے زندہ کیوں رکھا؟ مجھے اُٹھالو اب بھی اُٹھالو۔ ہائے میری ماں تو مجھے اپنے ساتھ کیوں نہ لیتی گئی؟‘‘

اس دن اس نے پہلا آئینہ توڑا تھا۔ آئینوں کے ساتھ وہ بھی کرچیوں میں بکھرتی رہی۔ تب سے آج تک اس نے آئینہ نہیں دیکھا تھا لیکن آج آشا نے اسے آئینے کے سامنے لاکر اسے اندر تک چور کرکے رکھ دیا تھا۔ پیچھے سے کسی کار کے ہارن نے اسے چونکا دیا اسے احساس ہواکہ وہ سڑک کے بیچوں بیچ چل رہی ہے، اس نے اپنے اِردگرد نظر دوڑائی۔ وہ بے خیالی میں بازار کی طرف نکل آئی تھی۔ بازار سے بہت گھبراتی تھی۔ ہرکوئی اسے یوں دیکھتا جیسے وہ کوئی عجوبہ اشتہار ہو۔ عقب سے دیکھنے والے کولھے پر اس کے لمبے چمکیلے بالوں اور نشیلی چال سے دھوکا کھا جاتے اور دیر تک اس کا پیچھا کرتے لیکن جب بعد میں اس کے چہرے پر نظر پڑتی تو گھبراکر نظر پھیر لیتے پھر اس کا جی چاہتاکہ دیکھنے والے کی آنکھیں پھوڑ دے اور آنکھ پھوڑنے سے پہلے زبردستی اس کا منھ اپنی طرف کرکے کہے۔

’’لو دیکھو اور دیکھو، جی بھر کے دیکھو پھر کچھ نہ دکھ پاؤگے۔‘‘ لیکن بے بسی کا کڑوا گھونٹ اپنے حلق میں اُتارنے کے سوا وہ کرہی کیا سکتی تھی وہ اندر ہی اندر کھولتی رہتی اور اس کا تعاقب کرنے والا لونڈا اپنی راہ لیتا۔

زندگی کے ستائیس برس گزارنے کے بعد بھی وہ کنواری تھی۔ وہ نوجوانی اور بلوغ کے عالم سے بے خبر نہ تھی۔ پیٹ کی آگ تو بجھ جاتی تھی لیکن جسم کی آگ کے لیے برف کا کوئی ٹکڑا اسے نصیب نہیں ہوسکا۔ اس کی قسمت میں وہ سنگ در بھی نہ تھا جہاں سر پھوڑا جاسکے۔ آج تک اسے کوئی ایسا مرد بھی نہ ملا جو ہنس بول کر دو گھڑی اس کے ساتھ گزار لیتا۔

اس کی شادی کا ارمان اپنے دل میں لیے اس کا بوڑھا باپ آخر سانسوں کے جھولے پرعقبیٰ سدھارا۔ بیٹی کی ڈولی اُٹھنے سے پہلے اس کی اَرتھی اُٹھ گئی۔ باپ کو مرے دوسال ہوچکے تھے۔ سریندرسنگھ کو اتنی فرصت بھی نہ تھی کہ وہ سوچے کہ اس گھر میں اس کے علاوہ کوئی دوسرا وجود بھی رہتاہے۔ وہ اپنے بڑے بھائی سے شدید نفرت کرتی تھی حتیٰ کہ اس نے اسے راکھی باندھنا بھی چھوڑ دیاتھا۔ اسے اپنے بھائی سے یہ توقع ہی نہ تھی کہ وہ راکھی کی لاج رکھ سکے گا۔ وہ رات گئے نشے میں چُور گھر آتا پھر کب نکل جاتا اور کہاں جاتا اس کا اسے علم بھی نہ ہوپاتا۔ وہ کیا کرتا ہے، کہاں کھاتاہے، پیسے اس کے پاس کہاں سے آتے ہیں چنداکو ان باتوں کی خبر تھی نہ پروا تھی۔

چندا کو معلوم تھاکہ زندگی بھر اسے کنوارپن کی صلیب پر سِسک سسک کر مرناہے۔ کبھی کبھی تو اس خیال سے اسے اتنی وحشت ہوتی کہ اس کا بدن اکڑ جاتا وہ بالکل بے حس و حرکت بیٹھی کی بیٹھی رہ جاتی۔ ایسا لگتا جسم سے جان ہی نکل گئی ہو۔ برسات کی کالی راتیں اس کے لیے بہت جان لیوا ہوتیں۔ کبھی کبھی تو وہ رِم جھم بارش میں گھنٹوں کھڑی بھیگتی رہتی۔ وہ اوپر سے جتنی گیلی ہوتی اندر سے اتنی ہی سلگ رہی ہوتی۔ راتوں میں وہ اکثر شاور کے نیچے کھڑی ہوجاتی کہ کچھ ٹھنڈک پڑے۔ باپ اکثر کہتاکہ بیٹی اتنا زیادہ کیوں نہاتی ہو۔ برسات ہو تو، جاڑا ہو تو تمہارا نہانا کم ہی نہیں ہوتا۔ اس طرح تو سردی لگ جائے گی، نمونیا ہوجائے گا۔ نہانا ہی ہے تو پانی گرم کرلے بیٹی۔

وہ باپ کو کیسے سمجھاتی کہ اس کے اندر کی آگ برفیلے پانی سے بھی سرد نہیں ہوسکتی۔ اسے نمونیا ہی سہی ہو تو جائے، لیکن کاؤ کادِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ۔

ایک دن بازار میں اس نے ایک عجیب واقعہ دیکھا۔ ایک برقع پوش خاتون کے پیچھے ایک نوجوان لڑکا بہت دیر سے لگا ہوا تھا۔ برقع پوش کا صرف ہاتھ نظر آرہاتھا۔ ہاتھ کی خوب صورتی پر فریفتہ وہ لڑکا اس پر مرمٹا تھا اور بے حیائی سے عورت کا پیچھا کررہا تھا۔

اچانک وہ پلٹی اور اس نے اپنی نقاب اُلٹ کر لڑکے سے کہا۔

’’حرام زادے۔ لے جی بھر کے دیکھ میں تمہاری ماں کے برابر ہوں۔‘‘

خاتون کی اس پھٹکار پر لڑکا اس طرح بھاگا جیسے بندوق کی گولی سے بچ کر بھاگ رہا ہو۔ وہ خاتون تو بکتی جھکتی چلی گئی لیکن چندا کو ایک آئیڈیا دے گئی۔ اسی وقت چندا نے ایک خوب صورت ریشمی سیاہ برقع خریدا۔ اگلے دن نہا دھوکر برقع اوڑھ کر وہ بازار کو چلی۔ اس کی چال یوں ہی دل کش تھی، اور آج تو اس نے کچھ خاص اہتمام بھی کیا تھا۔ لونڈے دھوکا کھاکر اس کی جانب لپکنے لگے لیکن اس کا مقصد تو اپنی بدصورتی کے بجائے اپنی شناخت چھپانا تھا۔ وہ جان بوجھ کر بھیڑ میں گھس جاتی۔ لونڈے بلکہ بعض اوقات عمر رسیدہ لوگ للچائی نگاہوں سے دور تک اس کا تعاقب کرتے یا پیچھے پیچھے چلتے، کبھی کبھار وہ بھیڑ کا فائدہ بھی اُٹھالیتے اور وہ جان بوجھ کر اَنجان بن جاتی۔ اپنے آپ میں گم ہونے کا یہ سلسلہ کچھ دن برقرار رہا لیکن پھر وہ اس کھیل سے اُکتاگئی کہ اس سے آتش شوق اور بھڑک جاتاتھا۔

سمندرکو پی جانے والی پیاس کے سامنے قطرے کی بساط ہی کیا؟ راتوں کی نیند اڑا دینے والے اندر کے جلن کا علاج بھی کیا؟

وہ ایک ایسے صحرا میں بھٹک رہی تھی جہاں ہرجگہ سراب کے سائے لہراتے تھے۔ اس کا کوئی دوست نہ تھا کوئی سہیلی نہ تھی۔ باپ نے اس کے نام مکان اور کچھ رقم چھوڑی تھی۔ گزارہ تو ہوجاتا تھا لیکن انسان کو گزارے کے لیے کچھ سہارا بھی تو چاہیے۔ لے دے کر ایک آشا تھی جو اس کی غمگسار بھی تھی، رازدار بھی لیکن وہ رشتہ بھی آج آئینے کی کرچیوں کی طرح پارہ پارہ ہوگیا تھا۔

چلتے چلتے اس نے ٹھوکر کھائی اور گرتے گرتے بچی۔ پیچھے سے کسی کی آواز آئی۔ ’’ہائے جان ذرا سنبھل کے‘‘ اس نے مڑکر دیکھا اس کے مڑتے ہی لونڈے کی ہنسی کا فیوز اُڑگئے۔ چندا نے نفرت سے اس کی جانب منھ کرکے تھوکا اور تیز تیز آگے بڑھ گئی۔

وہ بھٹکتے بھٹکتے پارک تک آگئی تھی۔ بھیڑ بہت تھی لیکن پارک شاید بند ہونے والاتھا کیوں کہ باہر نکلنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ وہ اندر داخل ہوگئی اور دور کنارے ایک خالی بنچ پر اپنی سانسیں درست کرنے لگی۔ آنکھیں بند کرکے اس نے اپنے ماضی کا جائزہ لیا جیسے کوئی خاموش فلم دیکھ رہی ہو، اسی طرح فلم دیکھتے دیکھتے وہ چپکے سے اپنی روح میں اُترگئی۔

روح میں اُترنے کے لیے کسی زینے کی ضرورت نہیں ہوتی صرف احساس کی زنجیر ہی کافی ہوتی ہے۔ یہ زنجیر جتنی لمبی ہوگی روح کا سفر بھی اتنا ہی طویل ہوگا۔

وہ زنجیر تھامے اندر بہت اندر اُترتی چلی گئی۔ اندر کا سفر جاری تھا وہ اپنا آپ پانے کے لیے گم ہوتی جارہی تھی کہ اچانک عقب سے کسی نے اسے دبوچ لیا۔ ڈر سے اس کی چیخ نکل گئی۔ ایک بالوں بھرے ہاتھ نے سختی سے اس کا منھ بھینچ دیا۔ اس نے کن اَنکھیوں سے دیکھا کوئی لمبا تڑنگا مرد تھا۔ اچانک اس کے احساس نے پلٹا کھایا۔

’’کوئی مرد اسے اٹھاکر اس طرح اپنی بانہوں میں دبوچ بھی سکتاہے؟‘‘

’’نہیں۔ ایسا کہیں ہوسکتاہے؟ ضرور یہ کوئی سپنا ہوگا۔‘‘

اس کی آنکھیں بند ہوگئیں اس پر ایک عجیب سی بے ہوشی کی کیفیت طاری ہونے لگی۔

پھر کوئی اس کے کپڑے، اس کا بدن، اس کی روح سب کچھ نوچنے بھنبھورنے لگا۔ اس جانور نما شخص نے اس پر حاوی ہوکر اسے روئی کے گالے کی طرح دُھن کر رکھ دیا۔ نیم غنودگی کے عالم میں اسے محسوس ہوا جیسے آج وہ اپنے آپ پر منکشف ہوتی جارہی ہو۔

’’تو سریندرسنگھ کی بہن ہے نا کتیا کہیں کی؟‘‘

بھائی کا نام سن کر اس کا ذہن تلخیوں سے بھرگیا۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ وہ مڑی تڑی گٹھری کی طرح گھاس پر پڑی تھی، اس کا سارا وجود پارہ پارہ لیکن ساکن تھا۔ اچانک اسے یاد آیاکہ ایک رات جب وہ گھر میں اکیلی تھی تو یہی شخص اس کے بھائی کو گالیاں دیتا ہوا تلاش کرنے آیاتھا اور اس کے ’’بھیا گھر پر نہیں ہیں۔‘‘ کہنے پر اس نے یہی سوال پوچھاتھا۔

’’تو سریندرسنگھ کی بہن ہے نا۔ میں تم دونوں حرامیوں کو خوب پہچانتا ہوں۔‘‘

وہ دُھنی ہوئی روئی کی طرح پڑی ہوئی تھی شرم اور زیاں کا احساس اسے دبائے جارہاتھا، لیکن زندگی میں کہیں کوئی چیز اور بھی تھی۔ وہ کچھ نہ بولی۔

اس مرد نے اس کی جانب حقارت سے تھوکتے ہوئے کہا۔

’’آج میں نے اپنی بہن کا انتقام لے لیاہے جو تمہارے حرامی بھائی کا شکار ہوکر کنویں میں کود پڑی تھی۔ دیکھتا ہوں، تو کس کنویں میں گرتی ہے۔ کس آگ میں جلتی ہے۔‘‘

یہ سن کر وہ چونکی اور اس کا کمینہ بھائی ایک ہی پل میں اس کی نظروں میں مہان ہوگیا پھر وہ آنکھیں بند کرتی ہوئی ایک ٹھنڈی سانس لے کر بولی۔

’’میرا بھائی بہت اچھا آدمی ہے اس نے جو بھی کیا اچھا ہی کیا۔‘‘

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بانو زلیخا ۔۔طلحہ کھرل

                              …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے