سر ورق / کہانی / کولڈ فیئر  شبیہہ مظہر رانجھا،بھل آخری حصہ

کولڈ فیئر  شبیہہ مظہر رانجھا،بھل آخری حصہ

                                                 کولڈ فیئر

 شبیہہ مظہر رانجھا،بھل

آخری حصہ

بیرونی دروازہ کھلا تو ہم سب ڈر گئے ،حال یہ تھا کہ خالہ نویدہ نے لمبی سی مردانہ قمیض پہن رکھی تھی شاید خالو علیم کی تھی، شلوار گہرے سبز رنگ کی تھی ،سر پہ چھوٹا سا پرانادوپٹہ اور چہرے پہ وہی وحشت اور بربریت،ایک طرف سے علی نے بازو پکڑا ہوا تھا اور دوسری طرف سے علی کے خالہ زاد بلال بھائی نے تھاما ہوا تھا ،افففف،خالہ نے آتے ہی طوفان بدتمیزی مچا دیا ،چیخیں مارتے ہوئے ہم سب کی طرف دوڑی،وکی بھائی کو دیکھا تو گالیاں دینے لگی،تیرے باوے کی ماں تیرے باوے کی بہن۔۔۔اور وہ مغلظات کہ ہم لڑکیاں تو خوف کے مارے اندر چھپ گئیں،بھائی بلال کو خالہ کی باتوں سے ہنسی آئے، لیکن امی نے اشارہ کیا کہ نہ ہنسو یہ اور غصے میں آ ئے گی ،اچھی خاصی گالیاں دینے کے بعد معاملہ کچھ اعتدال پر آیا تو ہم سب چور سے بنے اپنے کاموں میں لگ گئے،خالہ پہ کسی نے توجہ نہ دی تو چپکی سی ہو کے لیٹ گئی،لیکن نامحسوس طریقے سے ہم سب اس پہ نظر رکھے ہوئے تھے مبادا کوئی غلط حرکت نہ کر بیٹھے ،بعد اس کے خالو علیم نے بتایا کہ صبح صبح ہمارا دروازہ اس قدر زور سے دھڑدھڑایا کہ ناشتہ کرتے ہوئے میرے ہاتھ سے چائے کی پیالی چھلک گئی ،میں دوڑتا ہوا گیا گیٹ کھولا تو ساتھ ہی حیرت سے میری آنکھیں بھی کھل گئیں ،نویدہ ہاتھ میں پتھر اٹھائے لوہے کے گیٹ پہ مار رہی تھی ،اور کیا بتاﺅں شرم آتی ہے اس کے لباس کی حالت ناگفتہ بہ تھی ،نچلا دھڑ عریاں ہونے کے ساتھ ساتھ زخمی بھی تھا،اسے بہت خراشیں آئی تھیں ، میں نے سیماں کو آواز دی،سیماں سیماں۔۔۔آﺅ دیکھو کون آیا ہے ،وہ بیمار تھی ابھی اٹھنے میں ہی لگی ہوئی تھی کہ نویدہ نے بائیں ہاتھ کے پتھر اٹھا کے نیچے پھینکے اور جھٹ سے چھلانگ لگا کے اندر چلی گئی میں پیچھے بھاگا کہیں سیماں کو پتھر ہی نہ مار دے،لیکن اندر جا کے اس کے گلے لگ کے رونے لگ گئی میں اسے حیران ہو کے دیکھنے لگا،سیماں بھی رو رہی تھی ہائے نویدہ تو کدھر چلی گئی تھی ،سارے تجھے ڈھونڈ رہے تھے ،میری چھوٹی بہن تیرا کیا حال ہو گیا،کچھ دیر تک دونوں بہنیں ایسے ہی باتیں کرتی رہیں ،پھر نویدہ کو کھانا کھلایا اورسیماں نے اس کو نہلایا کیونکہ اس سے بہت بدبو اٹھ رہی تھی میرے کپڑے پہننے کے لئے دیئے،بعد میں آپ لوگوں کو میں نے اطلاع دی ،ابھی خالو علیم یہ بپتا سنا ہی رہے تھے کہ اوپر سے خالہ نویدہ کے شوہر خالو عنایت آ گئے،ہم سب میں کھلبلی مچ گئی ،کیونکہ لگ رہا تھا کہ بہت ہنگامہ ہونے والا ہے ،خالہ نیچے کمرے میں تھی اس لئے خالو عنایت کو چھت پہ لے جایا گیا ،تھوڑی دیر بعد جواد ڈاکٹر کو لے آیا کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ خالہ کو بے ہوشی کا انجکشن لگا دیا جائے تا کہ کچھ دیر خود بھی ریلیکس ہو جائے اور ہم سب بھی سکون محسوس کریں ،ڈاکٹر نے جب انجکشن نکالا تو وہ جانوروں والا تھا ۔امی کو تو فکر لاحق ہو گئی جواد پتر نویدہ کو کچھ نہ ہونے دینا میری بہن حواس میں نہیں ہے،اسے کچھ ہو گیا تو میں اماں مرحومہ کو کیا منہ دکھاﺅں گی ،اس نے امی کو تیز نظروں سے دیکھا تو وہ چپ ہو گئیں ،آﺅ ڈاکٹر صاحب،وہ ڈاکٹر سے مخاطب ہوا تو دونوں اندر کمرے کی طرف بڑ ھ گئے ،اس کے ہاتھ میں اتنا موٹا انجکشن دیکھ کر خالہ کی تو آنکھیں سرخ انگارہ ہو گئیں ،سارے لڑکے الرٹ ہو کر خالہ کی چارپائی کے آس پاس کھڑے ہوگئے تا کہ بر وقت خالہ کو پکڑ سکیں ،ڈاکٹر نے جب ٹیکہ لگایا تو مانو تھرتھلی مچ گئی ،خالہ تو تڑپنے لگی،ہم سب بے بسی سے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے ،امی رونے لگی ،ارے یہ کیا خالہ تو لٹک گئی ہے ،میرے منہ سے یہ نکلنا تھا کہ سارے گھبرا گئے ،ڈرتے ڈرتے ہم لوگ آگے ہوئے کہ دیکھیں خالہ واقعی بے ہوش ہو رہی ہے یا اس کا جن ڈرامے کر رہا ہے ،میں ذرا سا آگے ہوئی تو خالہ ڈکرانے لگی پہلے تو گردن کھڑی کر کے زور زور سے ڈکار لئے بعد میں اٹھ کے بیٹھ گئی اور دونوں بازو فضا میں بلند کر کے پنجابی فلموں کے ہیرو سلطان راہی کی طرح بڑھکیں مارنے لگی ،اوئے اج سانوں تے طاقت دا پتہ لگیا اے،ایہہ جیہڑی خوراک دتی آ،سانوں روز ایہہ ای دیا کر۔۔۔آآآخ ۔۔۔۔اج مزہ آیا اے ۔۔۔یہ باتیں کر کے جب خالہ نے کروٹ لے کر پہلوانوں والی انگڑائی لی اور چارپائی سے نیچے اترنا چاہا تو۔۔۔۔ہمارا ڈاکٹر جو جمعہ ہونے کی وجہ سے بہت مشکل سے ملا تھا وہ ڈر کر بھاگ گیا ۔ہم سب بھی کونوں کھدروں میں چھپ گئے اب تو علی کو بہت غصہ آنے لگا کہ کمال ہے ہمارے گھر کا سکون برباد ہو گیا خالہ سیماں نے اپنے گلے کی مصیبت ہمارے گلے منڈھ دی ہے ،ادھر خالہ نے ظالم انگڑائی لی اور صحن میں کسی کو نہ پا کر سیدھا چھت کا رستہ ناپا ،علی اپنے کمرے میں کھڑے ہو کر بول رہے تھے انھوں نے خالہ کو بجلی کی تیزی سے چھت کی طرف بڑھتے دیکھا تو ماتھے پہ ہاتھ مار کر پیچھے بھاگے ،ارے اب کیا ہوا،میں نے چیخ کر پوچھا ،تو دوڑتے ہوئے کہنے لگے خالُو عنایت بھی چھت پہ ہے یہ اسے چیر پھاڑ کھائے گی ،خالہ نے آخری سیڑھیوں پہ اوپر جاتے جاتے علی کی یہ بات سنی تو فوراً پیچھے پلٹی،اوئے کیا کہا تم نے ،اوپر عنایت بیٹھا ہوا ہے ؟نن نہیں خالہ میں تو آپکو یہ کہنے آیا تھا کہ نیچے بیٹھک میں خالو عنایت آ کے بیٹھا ہوا ہے اسکی بھی خبر لو کہیں ہاتھ سے نہ نکل جائے،یہ سنتے ہی خالہ کی آواز ڈبل ہو گئی ،کہاں بیٹھا ہے اوپر یا نیچے،مجھے سچ سچ بتا ،ابھی علی کچھ بول بھی نہ پائے تھے کہ اوپر سے بلال بھائی بھی نیچے آتے دکھائی دیئے ، وہ سیڑھیوں میں خالہ نویدہ اور علی کو کھڑے دیکھ کر سوال کرنے ہی لگے تھے کہ علی نے چالاکی دکھائی ،یار بلال نیچے بیٹھک میں خالو عنایت آئے ہیں میں کہہ رہا ہوں کہ خالہ جا کر انکی خبر لے لیکن یہ ادھر سوال جواب کر رہی ہیں،باتوں باتوں میں وہ کہیں نکل ہی نہ جائیں یہ سنتے ہی بلال بھائی نے چھت کی طرف منہ کر کے سب کو مخاطب کیا،اوئے بھائیو سارے آﺅ خالو عنایت آئے ہیں انکو مل کر قابو کریں،اور ہاں دھیان کرنا کسی پڑوسی کی سیڑھیوں سے نہ اتر کے بھاگ جائے یہ کہہ کر وہ تیزی سے سیڑھیا ں پھلانگنے لگے ،ساتھ ہی علی کو آنکھ مار دی کیونکہ کوڈورڈ میں انھوں نے کہہ دیا تھا کہ ہو سکے تو چھت سے دوسری طرف والے پڑوسیوں کی سیڑھیوں سے خالو کو بھگا دینا ۔۔۔ آﺅ خالہ آج تو اسکو چھوڑنا نہیں،دیکھو تو کبھی میری خالہ کا خیال ہی نہیں کیا ، بلال بھائی بڑبڑا بھی رہے تھے اور خالہ کوبھی نیچے لے آئے یہ تینوں صحن میں آئے تو اوپر سے جواد نے حمزہ کو بھگایا کہ صورتحال کا پتہ کرے،میں نے اسے کہا

 کہ جتنا جلدی ہو سکتا ہے اوپر جا کر خالو کو سب سے اوپر والے چھت پہ چڑھا دو تا کہ وہ خالہ کی دستبرد سے محفوظ رہیں ،اگر یہ ممکن نہیں تو جواد کو بولو کہ ساتھ والوں کی سیڑھیوں سے اسے بھگا دے ورنہ مارا جائے گا ،حمزہ ایسے ہی پیغام لے کر اوپر چلا گیا،علی اور بلال بھائی خالہ کو کمرا کمرا گھما رہے تھے ،وہ غصے سے تھر تھرا رہی تھی،اسے انجکشن کا کوئی اثر نہ ہوا،بلکہ خالہ پہلے سے زیادہ ہشاش بشاش لگ رہی تھی ،کتھے گیا اے عنایت،اج اینوں میں قتل کر دیاں گی ،اینے میرے تے ظلم کیتے نیں مینوں خرچہ نئیں دیندا،اج مار دینا اے ،اج نئیں چھڈنا،سارے کمرے دیکھ کے خالہ کو اور غصہ آنے لگا ،صحن میں چکر لگانے لگی،اور پتہ نہیں کہاں سے پھر اسے ایک ڈنڈا ہاتھ آ گیا ،وہ زمین پہ مارتی اور سارے افراد کو قہر آلود نظروں سے دیکھتی ،اب وہ بلال بھائی کی طرف بڑھ رہی تھی اور وہ نا محسوس انداز میں بیرونی گیٹ کی طرف سرک رہے تھے ،کوئی لمحہ تھا کہ بلال بھائی کا بہتا خون ہم لوگوں نے دیکھنا تھا اور ایک حادثہ ہونے والا ہو تو مانو کس بری طرح دل دھڑکتا ہے یہ کسی کمزور دل والے سے پوچھ کے دیکھنا ،چوہے بلی کا کھیل نہ جانے کب تک چلتا کہ اوپر سے علی کا چھوٹا بھتیجا بھاگتا ہوا آیا ،چاچو چاچو خالو عنایت کو پتہ نہیں کیا ہوا ہے وہ ناں سب ۔۔۔۔سے اوپر والی چھت پہ چڑھ کے بیٹھے ہوئے ہیں ۔اس نے سب کو اتنا لمبا کیا کہ خالہ نویدہ نے بہت آسانی سے ساری بات سن کر سمجھ لی اور بلال بھائی کو بھول کر وہ یوں اوپر کی طرف بھاگی جیسے کراچی جانے والی بزنس کلاس زوں کر کے آنکھوں کے آگے سے گزر جاتی ہے ۔ساتھ ہی علی نے کہا کہ لڑکے سارے چھت پہ چلو کیونکہ اوپر اچھا خاصا دنگل متوقع تھا ، مجھے ڈر لگنے لگا لیکن اس کے باوجود دل کرتا تھا کہ جا کر دیکھیں تو سہی کہ آخر خالہ نویدہ اپنے شوہر کا کیا حشر کرنے والی ہے ،امی نے مجھے کہا کہ تو ہانڈی چڑھا جلدی سے ،بیچارے عنایت نے تو کھانا بھی نہیں کھایا کہ یہ عذاب اس پہ آن پڑا ہے،میں نے پوچھا ،امی ویسے خالُو عنایت نے کیا کیا ہے جو خالہ کو اس پہ اتنا غصہ ہے ،کیا تو بہت کچھ ہے ایویں تو میری بہن بیچاری کا دماغ خراب نہیں ہوا ناں ،لاہور جاتا ہے تو پلٹ کے خبر تک نہیں لیتا ،خرچہ نہیں بھیجتا،بچے بیچارے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ،امی تو شروع ہو گئیں لیکن میں نے ٹوک کے پھر سوال داغا ،لیکن یہ یہاں کیوں نہیں رہتے ؟انکو چاہئے کہ اپنے بیوی بچوں کے پاس رہیں ،ارے وہی تو بتا رہی ہوں ناں،یہاں لوگوں سے قرضہ لے کر بھاگا ہوا ہے ،لاکھوں روپے ہمارے بھائیوں کے نام پہ لوگوں سے قرضے کے نام پہ بٹورے ہوئے ہیں،پٹھانوں کے پیسے دینے ہیں شہر میں داخل ہوتا گیا تو پکڑا جائے گا ،کتنے لاکھ تو بھائی غفور نے اسکا قرضہ اتارا ہے یہ پھر چڑھا لیتا ہے ،اور نویدہ کو اندر سے وہی غصہ ہے اس نکھٹو پہ،آں ۔۔۔پھر تو خالہ سچی ہے بھئی ،ہانڈی چڑھاتے ہوئے میں نے خالہ سے ہمدردی کی ،لیکن کان اوپر سے آنے والی آوازوں پہ لگے ہوئے تھے ،کافی شور و غوغا تھا،امی نماز پڑھنے کے لیئے اندر چلی گئیں ،میں کچن سے نکلی تو سوچا ایک نظر اوپر دیکھ آﺅں کیا صورتحال ہے ،چھت پہ پہنچی تو منظر عجب تھا ،خالو عنایت پہلے نمبر والے چھت پہ ٹنگے ہوئے تھے،اور خالہ نے انھیں مارنے کے لئے روڑے اٹھائے ہوئے تھے نشانہ تاک کے خالہ مارتی اور کئی روڑے کھا کے خالو بیچارے کا چہرہ دیکھنے والا تھا ۔کچھ دھوپ کی وجہ سے پسینہ بہت آیا ہوا تھا اور خوف نے اسے اور بھی سہمایا ہوا تھا ،پہلی نظر میں تو دیکھ کے میری ہنسی چھوٹ گئی سارے بولائے ہوئے تھے، ایک ہاہاکار مچی ہوئی تھی ،خالو یار دائیں ہو جاﺅ،تھوڑا پیچھے ہو جاﺅ،روڑا آنے لگا ہے نیچے بیٹھ جاﺅ ،لیفٹ والے پڑوسیوں کی چھت پہ بھاگ جاﺅ ،اور وہ پیچارے اسی طرح کر رہے تھے جیسے جیسے سارے کہہ رہے تھے ،ادھر خالہ کا یہ حال تھا کہ تابڑ توڑ حملے کر رہی تھی زبان سے بھی اور ہاتھوں سے بھی ،چھت تو یوں جیسے میدان کارزار بنا ہوا تھا ،میں صورتحال دیکھ کر نیچے آ گئی کیونکہ کھانا بنانا تھا ،میں نے روٹی توے پہ ڈالی اور دوسرا پیڑا بنانے لگی اسی اثناءمیں پھر حمزہ بھاگتا ہوا آیا،آنٹی آنٹی خالہ نے اوپر آگ لگا دی ہے،ہائے میرے اللہ،خالو عنایت کو آگ لگا دی کیا؟جی خالو کو کپڑوں کے ساتھ۔۔۔۔حمزہ پتہ نہیں کیا کہہ رہا تھا لیکن میں ساس کو آوازیں دینے لگی وہ کمرے میں جا چکی تھیں ،میں پیچھے بھاگی امی امی اوپر جائیں فوراً، حمزہ کہہ کر گیا ہے کہ خالہ نویدہ نے خالُو عنایت کو آگ

 لگا دی ہے،خالدہ ساجدہ اپنے گھر کپڑے لینے گئی ہوئی تھیں ،امی اور میں اوپر بھاگیں کیونکہ واقعتاًجلنے کی بو آ رہی تھی ۔جب اوپر پہنچی تو میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ،خالہ نے سچ مچ آگ لگائی ہوئی تھی اور اس قدر زیادہ آگ تھی کہ شعلے لپک کر اوپر کی طرف جا رہے تھے ،کالا سیاہ دھواں اٹھ رہا تھا ،میں نے اوپر دیکھا جہاں خالو عنایت کو آ خری بار میں دیکھ کے گئی تھی ادھر جگہ خالی تھی ،میں بھونچکا رہ گئی ،آخر کار خالہ کے اندر پلنے والے ناگ کو سکون مل ہی گیا ،ڈس ہی گئی اپنے خاوند کو،امی ابھی سیڑھیاں چڑھ ہی رہی تھی،میں چیخنے لگی امی امی خالہ نے سچ مچ خالو عنایت کو جلا دیا ،وہ ان جلتے شعلوں کے اندر ہے ،اس نے خالُو کو مار ڈالا ہے ،امی اور میں تو اونچا اونچا رونے لگیں ۔جواد بھاگتا ہوا ہمارے پاس آیا ،بھابھی کیا ہو گیا ہے خدا کا خوف کریں ،شور نہ مچائیں لوگ کیا کہیں گے ،جواد جواد دیکھو ناں خالہ کتنی ظالم ہے اس نے اپنے شوہر کو جلا ڈالا ہے ،میں نے روتے ہوئے کہا تو وہ آنکھیں نکال کے بولا کس نے شوہر کو جلایا ہے ،آپ اور امی کمال کرتی ہیں ،وہ زندہ سلامت اندر بیٹھا ہوا ہے ،علی بھی ہمارا شور سن کر پاس آ گئے ،ہم دونوںحیران ہو گئیں، پھر خجالت سی محسوس ہونے لگی کہ بچے کی بات کو لے کر اتنا شور مچایا وہ واپس پلٹ گیا تو ہم دونوں بھی مطمئن ہو گئیں ،جواد نے علی کو ہمارا بلنڈر سنایا تو وہ ہنسنے لگے ،او یار خالو کو اندر بٹھایا ہوا ہے ۔میں نے بات کاٹ کر پوچھا تو پھر یہ کیا جل رہا ہے ؟میں خالو کو خود دیکھنا چاہتی ہوں،ارے نہیں نہیں ابھی ان سے تم نہیں مل سکتی، نیچے چلو میں آ کر سب بتاتا ہوں ،کہتے ساتھ ہی مجھے سیڑھیوں کی طرف موڑ دیا مجبوراً میں ڈھیلے قدموں سے پھر واپس آ گئی

         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     بعد کے واقعات کے مطابق علی نے بتایا کہ خالو عنایت کو جب خالہ نویدہ پتھر اور اینٹیںمار مارکر تھک گئی تو ہار پھر بھی نہیں مانی ،دائیں سائیڈ کی دیوار کی بڑھی ہوئی اینٹوں سے اوپر چڑھنے لگی اس کوشش میں کتنی ہی بار گری کبھی بالکنی اور کبھی جنگلے پھلانگتی،ہم سب منع کرتے تو ہمیں چھڑی لے کر پڑ جاتی ،آخر وکی بھائی نے کہا خالہ ہم خاُلو کو نیچے لے آتے ہیں لیکن ایک شرط پر ؟کیا شرط ہے تیری ٹکلو؟خالہ نے وکی بھائی کے بڑھے ہوئے پیٹ کی طرف اشارہ کیا ،ہم پھسپھسی ہنسی ہنس پڑے تو انھوں نے شرمندہ ہو کے کہا خالو کو اس شرط پہ نیچے لایا جائے گا کہ تم اسے کچھ نہیں کہو گی ،منظور ہے؟میں اسے جلا دوں گی،یہ بہت برا ہے ،اس نے شدیدغصے سے جواب دیا،تب بلال نے کہا تو پھر ٹھیک ہے خالو کو ہم چھت کے اوپر سے بھگا دےتے ہیں ،خالہ کسی شعلے کی طرح اسکی طرف لپکی ہی تھی کہ خالو علیم نے خالہ نویدہ کو ڈانٹا ، اپنی حد میں رہو اور اس بات کی گارنٹی دو کہ عنایت کو کچھ نہیں کہو گی پھر وہ نیچے آئے گا اور ہم اسے کوئی اور سزا دیں گے ،خالہ نے سر نیچے کر کے خاموشی اختیار کی جس کا مطلب تھا کہ وہ ہماری بات مان رہی ہے ،جیسے ہی خالُو عنایت کو نیچے اتارا گیا خالہ نے اچانک اس پہ جھپٹا مارا اور سیدھا اس کے گریبان پہ ہاتھ ڈال دیا ہم سارے ہونقوں کی طرح یہ سب ہوتا دیکھ رہے تھے ،کہ خالہ نے اس کا گریبان چاک کر ڈالا ،وہ خالُو کو ایسے بھنبھوڑ رہی تھی کہ گویا مار ہی ڈالے گی بازوﺅں سے بھی قمیض تار تار ہو گئی اور ساتھ ہی اس نے خالو کی شلوار کے پائنچے بھی ادھیڑ ڈالے ،ہم لوگ حیران تھے کہ بظاہر تو خالہ ہاتھوں سے حملہ کر رہی ہے لیکن یوں کپڑے پھٹنے پہ لگتا تھا کہ اس کے ہاتھوں میں چھریاں لگی ہیں،خالہ جب شلوار کے پیچھے پڑی تو خالُو عنایت آگے بھاگ پڑا ،خالہ پیچھے پیچھے،اور ہم سب کا ہنس ہنس کر برا حال تھا ،اوہ وہ تو اسکی عزت کی دشمن بن گئی ،آپ نے روکا نہیں خالہ کو؟میں نے غصے سے کہا تو علی کہنے لگے ہم کیا روکتے اسے ،یوں لگتا تھا کہ خالہ کے ہاتھ میں کوئی نادیدہ چھری ہے جو کسی کا سینہ بھی چاک کر دے گی،اس لئے ہم نے خالُو کو ایک بھیانک مشورہ دیا ،کیا؟میں نے ہولناک انداز سے پوچھا،وہ یہ کہ خالُو اپنے کپڑے خالہ کو اتار کے دے دیں ،چھی چھی،اتنے گندے مشورے؟ضرور آپ نے ہی دیئے ہونگے ،میں نے شک بھری نظروں سے علی کو دیکھا تووہ تلملا ہی گئے ، بیوی صاحبہ ،ہم سب نے یہ فیصلہ خالہ کی نفسیات کے پیش نظر کیا تھا ،اس لئے کہ وہ بار بار کہہ رہی تھی میں عنایت کو جلا دونگی ،اور جب وہ اس کے کپڑوں کو جلائے گی جو کہ پہلے ہی پھٹ چکے تھے تو خودبخود اسے سکون آ جائے گا ، اس لئے اوپر والے کمرے میں خالو کو گھسا کے اسے وکی کے کپڑے دیئے اور خالو کے کپڑوں کے سارے ٹکڑے خالہ نویدہ کے حوالے کر دیئے اس نے فٹا فٹ کام والے میلے کپڑوں کو آگ دکھائی اور ساتھ ہی خوشی سے نعرے مارنے شروع کر دیئے کہ میں نے عنایت کو جلا ڈالا ہے ،اسی اثناءمیں تم اور امی اوپر آگئے اور باقی کہانی وہی ہے یہ سب سن کر مجھے تو خالہ نویدہ سے شدید خوف محسوس ہوا کیونکہ وہ تو کسی کو بھی آرام سے مار ڈالے اور ٹینشن بھی نہ ہو ،جھرجھری آتے ہی میں اپنے آپ میں سمٹ کر سونے لگی کیونکہ صبح بھی ٹائم سے اٹھنا تھا

          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      زندگی عجب ڈھنگ پہ تھی ،نہ کوئی سکون تھا اور نہ ہی خوشی تھی ،گھر میں پریشانیوں کا ڈیرا تھا ،خالہ ساری رات بین کرتی تھی ،نہ خود سوتی تھی اور نہ ہمیں سونے دیتی ،اونچا اونچا روتی رہتی،خالو عنایت کو اب بھی بہت اذیت دیتی تھی ،کبھی کہتی کھڑے ہو جاﺅ اور کبھی کہتی بیٹھے رہو،ایک دن تو اس نے حد کر دی، دوائی کھانے لگی تو خالو عنایت نے پانی کا گلاس پکڑایا ،بس بیٹھے بٹھائے خالہ کا دماغ گھوما اور اس کو گُدی سے پکڑ کر پاس بٹھا لیا،ہاں اوئے تو مجھے دوائی کھلاتا ہے؟تیرے کہنے سے میں دوائی کھا لوں گی؟نہیں کبھی نہیں،میں یہ دوائی آج تیرے سنگھے (حلق)میں اتاروں گی،اس پہ وحشت طاری ہوئی اور خالو کو چارپائی پہ بٹھا کے خود کھڑی ہوگئی، پڑیا پہلے سے کھلی ہوئی تھی اس نے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کے خالو کو رعب سے کہا عنایت منہ کھول،خالو جی تھوڑا جھجکے تو خالہ نے دوسرے ہاتھ سے جبڑے پکڑ کے خود کھولے اور دوائی حلق سے پار ہو گئی خالو تڑپنے لگے ۔عنایت ہوش کر ،ساری دوائی کھا،ابھی تو ایک خوراک رہتی ہے،اٹھ جا شربت پی،لیکن خالو دنیا مافیہا سے بے خبر ہو گئے ،انکی گردن ڈھلک گئی اور آنکھیں بند ہوگئیں،ہائیں اسے کیا ہوا ؟سو بھی گیا،اس دوائی میں اتنا سکون ہے تو پہلے ہی لے لیتا ایک خوراک،جاہل آدمی۔۔۔۔وہ بڑبڑاتی ہوئی باہر کی طرف چل دی ۔

                       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      تقریباً ایک ہفتہ ہونے کو آیا تھا،آرام آ کے نہیں دے رہا تھا ،ہم روحانی علاج کروا رہے تھے لیکن پیر فقیر بھی ہمیں تو لوٹنے والے ہی ملے ،کوئی کہتا کہ انھیں پچھل پیری چڑیل ہے کوئی کہتا کہ خالہ نویدہ کے ساتھ پوری سوا لاکھ جنوں کی پکھی ہے ،کسی نے کہا کہ خالہ کسی پکی جگہ(جہاں جنوں چڑیلوں کے ڈیرے ہوتے ہیں)سے گزری ہے یا اس سے کوئی بے ادبی ہوئی ہے ،غرض جتنے منہ اتنی باتیں اور جتنی بیماریاں اتنے علاج بتائے جاتے ،ہم لوگ اکتا گئے لیکن خالہ کے جوش جذبے میں ابھی تک فرق نہیں آیا تھا،جس گھر میں خالہ رہتی تھی وہاں کسی بزرگ کے زمانے سے پرانا پیپل لگا ہوا ہے ،سنا ہے ایک گھمستان نامی بزرگ نے وہ درخت لگایا تھا ،وہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک بار اس درخت والی جگہ پہ وہ بابا جی بیٹھے ہوئے غالباًاپنے مویشیوں کے لئے کِلہ گاڑ رہے تھے انکا یہ روٹین کا کام تھا، پاس سے کچھ ہندو عورتیں گذریں اور مذاق سے کہا بابا جی آپ تو ادھر کِلہ اس طرح روزگاڑ تے ہیں جیسے یہاں کِلہ نہیں پیپل کا درخت اگے گا،یہ کہہ کر وہ ہنسی ٹھٹھول کرتی آگے چلی گئیں لیکن بابا جی نے لوگوں کے سامنے جلال میں آکر کہا کہ اگے تے نئیں پر ہن کڑیئے ایتھے پیپل ای اگے گا ،وہ پانی بھر کر واپس آئیں تو ٹھیک اسی جگہ ہرا بھرا گھنا پیپل کا درخت اُگا کھڑا تھا ،تب لوگو ں کے سامنے بابا جی کا پردہ ظاہر ہوا ،زمانے بیتے لیکن اس درخت کو وہاں سے کوئی بھی اکھاڑ نہ سکا بلکہ اس کی چھال کو پانی میں بھگو کر رکھیں اور وہ پانی بعد از کچھ وقت پی لیں تودائمی بخار سے آرام آ جاتا ،کرتے کراتے وہ گھر خالہ نویدہ کے والد نے خریدا اور وہی پیپل کا درخت آج خالہ نویدہ کے گھر میں تھا،سنا ہے کہ وہاں متعدد بار کسی بزرگ کو دیکھا گیا ہے چھت پہ اس پیپل کی چھاﺅں میں کبھی سیڑھیوں میں،کبھی درخت کے اوپر،کئی دفعہ بچوں کو اس بزرگ نے کھانے کی چیزیں بھی دیں،ایک بار کی تو میں خود گواہ بھی ہوں،خالہ نویدہ کے گھر میلاد پہ ہم لوگ گئے تھے راولپنڈی سے مہمان آئے ہوئے تھے انکے بچے چھت پہ کھیل رہے تھے میلاد ختم ہونے والا تھا ابھی کھانا کسی کو بھی نہیں ملا تھا ،بچے چھت سے نیچے آئے تو ان کے ہاتھوں میں بہت سی کھانے کی چیزیں تھیں،انکی ماں کی نظر پڑی تو اس نے ڈانٹا خاور یہ کس نے چیز لے کر دی ہے؟تم نے پھر کسی سے پیسے لے کر چیز لی ہے؟نہیں امی مجھے تو بابا جی نے چیز لے کر دی ہے ۔ہائیں،کونسے بابا جی؟امی وہ چھت پہ بیٹھے ہیں انکی بہت سفید داڑھی ہے آئیں میں آپکو دکھاتا ہوں ،اسکی امی ساتھ گئی کہ دیکھوں تو سہی کونسے بابا جی اس پہ مہربان ہو گئے ہیں،جا کر دیکھا تو چھت خالی تھا کوئی بابا جی کہیں پہ بھی نہ تھے ،جب انھوں نے نیچے آ کر یہ واقعہ سنایا تو خالہ نویدہ کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ محلے والوں نے بھی گواہی دی کہ یہ بابا گھمستان ہیں کیونکہ وہ متعدد لوگوں کو بے خبری میں مل چکے تھے ،ہر جمعرات کو چھت پہ چراغ کئے جاتے اور وہاں خصوصی طور پہ مناجات کی جاتیں پاکیزگی کا بہت خیال رکھا جاتا ،صفائی ستھرائی ہوتی اگر بتیاں جلتیں دور دور سے لوگ سلام کے لئے آتے اور واقعی کسی دربار کا گمان ہوتا ۔۔۔۔ زیادہ تر لوگوں کا کہنا تھا کہ نویدہ نے پاکیزگی کا خیال نہیں کیا اور یہاں حاضر ہونے والی جنات نے نویدہ کو سزا دی ہے اس لئے اس کا یہ حال ہوا ہے ۔ایک دن لاہور سے کسی آدمی کو بلوایا کہ وہ آ کر خالہ کا علاج کرے ،سب نے یہ فیصلہ کیا کہ خالہ نویدہ کے اپنے گھر میں اس بندے کو بلاتے ہیں کیونکہ جو مسئلہ بھی ہوا تھا ادھر ہی ہوا تھا چلو اسی بہانے گھر میں جو بھی پر اسرار چیز ہو گی وہ بھی چلی جائے گی اور خالہ کا علاج بھی ہو جائے گا ،اس لئے علی اور جواد خالہ کو چھوٹے گھر(خالہ نویدہ کا گھر )لے جانے کے لئے آئے تو خالہ کا پارہ ہائی ہو گیا ،میں نے کہیں نہیں جانا مجھے یہیں رہنا ہے ،حسب عادت خالہ نے انکار کرتے ہوئے جواد کی کمر میں دھپ رسید کی اور اوپر پیٹی پہ چڑھ کے بیٹھ گئی ،دونوں بھائیوں کو شدید غصہ آیا ،سردی کا موسم تھا غالباً اوائل فروری کے دن تھے ،جواد زیادہ غصے والا اور جذباتی ہے اس نے علی کے کان میں کہا استاد میں ڈرامہ کرنے لگا ہوں مجھے آپ نے منع نہیں کرنا ،اوئے تو اب کیا کرے گا دیکھ کچھ ایسا ویسا مت کرنا یہ اتنی بڑی خالہ مجھ سے تو سنبھالی نہیں جائے گی ،جواد بائیں آنکھ دبا کر سٹور میں چلا گیا۔علی بیزار ہو کر بیٹھ گئے ،تھوڑی دیر بعد جواد سٹور سے نکلا تو سر سے لے کر پاﺅں کے ٹخنے تک اس نے کالی گرم شال لپیٹی ہوئی تھی ،ذرا سا منہ نکال کر علی کو کہتا یار علی بھائی دیکھنا میں ڈراﺅنا لگ رہا ہوں ناں؟انھوں نے یہ مضحکہ خیز حلیہ دیکھا تو ہنسنے لگے ،جواد میاں تم ڈراﺅنے کم اور مزاحیہ زیادہ لگ رہے ہو اور اگر تم سمجھتے ہو کہ تم سے خالہ نویدہ کے جن ڈر جائیں گے تو یہ تمہاری بھول ہے بچے ،چل خالہ کی ویسے ہی منت سماجت کریں علی نے ناصحانہ انداز سے کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے ،انکی باتیں سن کر جواد کے چہرے پہ مایوسی پھیل گئی ،چپ چاپ دونوں خالہ والے کمرے میں داخل ہوئے تو وہاں انکے داخل ہوتے ہی بھونچال آ گیا،خالہ نے بہت عجیب حرکت کی ،پیٹی پہ بیٹھے بیٹھے نیچے فرش پہ چھلانگ لگائی اور سیدھا جواد کے قدموں میں جا گری ،مرشد مرشد میرے مرشد میں آپکو ہی یاد کر رہی تھی ،آپ کہاں چلے گئے تھے؟ان لوگوں نے مجھے بہت ستایا ہے ،میں آپکی ہر بات مانوں گی میرے بچے چھت پہ لٹکے ہوئے ہیں آپ ان کو قید سے چھڑائیں میں آپکو کہیں جانے نہیں دوں گی ،میرے تن بھاگ میرے مرشد،میرے تن بھاگ میرے سائیں ۔۔۔۔۔مجھے یہاں سے دور لے جائیں میں آپکی باندی ہوں میں آپکی داسی ہوں میرے آقا چلو چلیں یہاں سے دور چلیں ،آ آپ مجھے لینے آئے ہیں ناں،اس کی تو حالت سمجھ سے باہر تھی ،جواد اور علی بھونچکے کھڑے تھے سارے گھر والے یہ تماشہ دیکھ کے ششدر ہو گئے ،وہ آہ و زاری کرتی رہی ،ہاڑے ڈالتی رہی ۔اور تبھی علی نے جواد کے کان میں کہا یار تم نے کیا ڈرامہ کرنا تھا ادھر تو نیا سین شروع ہو گیا ہے،تجھے تو بیٹھے بٹھائے فقیری مل گئی ہے ،بڑے تگڑے مرید ملے ہیں ،او بھائی علی یار کیا آئیڈیا دیا ہے ،بس آپ چپ رہنا،جواد نے نظر بھر کر خالہ کی طرف دیکھا جو کہ اس کے پاﺅں میں لوٹ رہی تھی ،اور تبھی اس کے سر پہ ہاتھ رکھ دیا،وہ دیوانہ وار اوپر ہو کر اپنے مرشد کا ہاتھ چومنے لگی ،میں صدقے میں واری میں قربان میرے پیر پہ میں ان سب کی جان قربان کر دوں اس نے ہم سب کی طرف اشارہ کیا تو ڈر کر ہم چند قدم پیچھے ہو گئے ، بھلا ہماری جان کیوں قربان کر دے گی ،اپنی کرے ناں، اب جواد پہ سب کی نظریں گڑی ہوئی تھیں کہ پتہ نہیں اس نے کیا سوچا ہوا تھا جو یہ واقعی پیر بن گیا تھا،اس نے ایسے ہی لمبی سی کالی چادر اوڑھ رکھی تھی اور اس میں سے ذرا سا منہ نکال کر دیکھ رہا تھا ،اے نویدہ بی بی چل اٹھ کھڑی ہو جا،بڑے ناٹک کر لئے ہیں تم نے ،اس نے موٹی آواز نکال کر کہا تو ہم سب کی ہنسی چھوٹ گئی لیکن حیرت کی بات تھی کہ اب کی بار خالہ نویدہ نے ہماری ہنسی کو نوٹس نہیں کیا تھا ۔اچھا سرکار جی میں کھڑی ہو گئی ساتھ ہی خالہ تن کر فوجیوں کی طرح کھڑی ہو گئی ،انکی یہ حرکتیں دیکھ کر ہم ہنستے ہنستے پاگل ہو رہے تھے ،میں نے غور کیا کہ جواد بھی اندرسے مسکرا رہا تھا ،اسی لئے اس نے منہ پہ شال کر رکھی تھی ،نویدہ میں تجھے جو حکم دونگا تو مانے گی ؟جواد نے بھاری آواز سے پوچھا ۔جی مرشد آپ کہو نویدہ کنویں میں چھلانگ لگا تو نویدہ ذرا بھی دیر نہیں کرے گی ،چلو پھر ایک جگہ جانا ہے تیاری کرو ہمارے پاس وقت کم ہے،یہ کہہ کر جواد کمرے سے نکلا بمشکل ہنسی روکتے ہوئے جدھر ہم سب تھے ادھر آ کے شال اتار ی اورپرے پھینک دی ،ہم سب اس پہ جھپٹ پڑے،جواد تم نے تو کمال کر دیا اتنی بڑی بلا کو چھوٹے سے ناٹک سے قابو کر لیا،اور پتہ ہے تم تو ایکٹنگ بھی خوب کر رہے تھے میں نے داد کے ڈونگرے برسائے توخالدہ کہتی واہ جواد اداکاری تو کوئی تم سے سیکھے ،امی کو تو تم نے اپنا دیوانہ بنا لیا ہے ۔ہنن، ہے جوسدا کا ڈرامے باز،ساجو نے لقمہ دیا تو جواد اکڑ گیا اگر ماں کا علاج کرانا ہے تو میری عزت اور قدر کرو ،ورنہ بھیج کے دیکھ لو اگرتمھارے کہنے سے چھوٹے گھر گئی تو میرا نام بدل دینا،اس نے بگڑ کر کہا تو خالدہ کومعاملے کا احساس ہوا،نہیں نہیں میرے بھائی ایک تمھاری بات ہی تو امی نے مانی ہے تم پلیز ساجو کی باتوں میں مت آنا یہ تو ہے ہی بیوقوف،پلیز ہماری ہیلپ کرو،وہ منت سماجت کر رہی تھی کہ خالہ کی آواز گونجی مرشد پاک آپ کہاں ہیں آﺅ چلیں،میں نے نئے اور صاف کپڑے پہن لئے ہیں ،جواد تو آواز سن کر بھی ٹس سے مس نہ ہوا ،وہ آنکھیں پھیر پھیر کے ساجو کی طرف دیکھ رہا تھا ،خالدہ نے اسے جھڑکا ،کم بخت وہ اٹھ نہیں رہا تو نے اسے کیوں ایسا بولا ہے چل سوری کہہ اس کو ،ساجو چیخ پڑی ،کیا؟میں سوری کہوں اس کو؟کبھی نہیں خالَو،میں نے کبھی کسی سے معافی نہیں مانگی اور جواد سے؟یہ تو بھول ہی جائے کہ میں اس سے معافی مانگوں گی،اس نے حتمی انداز سے کہا اور اٹھ کے چلی گئی،خالہ اب اس طرف ہی آ رہی تھی،خالدہ نے جواد کی منت کی پلیز پلیز پلیز ہم پہ رحم کرو تم ساجو کو چھوڑو مجھ پہ ہی رحم کھاﺅ اور شال اوڑھ کے بیٹھ جاﺅ ،تجھے اللہ کا واسطہ میرے بھائی میری ماں کو ٹھیک کرنے میں ہماری مدد کرو،اس کے گڑگڑانے پہ جواد نے غصے سے شال اٹھائی اور سر پہ اوڑھ کے بیٹھ گیا ،اسی وقت خالہ اندر داخل ہوئی اور جواد کے پاس ادب سے کھڑی ہو گئی ،سرکار ،سرکار چلو چلیں ،خالدہ دھڑکتے دل کے ساتھ جواد کو دیکھ رہی تھی کہ وہ اب کیا کرے گا لیکن کچھ دیر بعد اس نے ہاتھ فضا میں بلند کر کے خالہ نویدہ کو اشارہ کیا کہ وہ خاموش ہو جائے ،ساتھ ہی باہر جانے کا اشارہ کیا اور وہ اس طرح باہر گئی کہ جواد کی طرف کمر نہ ہو،جب باہر چلی گئی تو جواد اٹھا اور پہلے کی طرح شال لپیٹ کر خالہ کواپنے ساتھ چھوٹے گھر لے گیا اور وہ اسکی بات یوں مان رہی تھی گویا ہپناٹائز مریض ہو،لیکن جانے سے پہلے وہ بے خبر کھڑی ساجو کی چٹیا مروڑ کر اسے بدلہ لینے کی دھمکی دینا نہیں بھولا تھا

         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      وہ جو لاہور سے پیر صاحب آئے تھے انھوں نے خالہ نویدہ کا علاج کافی دیر تک کیا ،لمبا حساب کتاب چلتا رہا اورانھوں نے بتایا کہ خالہ کے اوپر ایک دو جنوں کا سایہ نہیں بلکہ انکے گھر کی گلی کے دونوں اطراف دور تک جنات کھڑے ہیں ۔انکا پورا گھر جنات کے حصار میں ہے ،خاندانوں کے خاندان کا خالہ کے گھر میں بسیرا ہے اور یہ کہ علاج تو ہو جائے گا لیکن خرچہ بھی کافی آئے گا اورپوری رات پڑھائی کرنی پڑے گی ،علی ،وکی اور عثمان بھائی نے کہا ٹھیک ہے آپ کام شروع کریں ہم خرچہ بھی دیں گے اور آپ کے ساتھ تعاون بھی کریں گے ،قابل ذکر بات یہ کہ خالُو عنایت ہر جگہ خالہ کے ساتھ تھے وہ انکو سنبھال بھی رہے تھے اور ان کی جھڑکیاں بھی کھا رہے تھے ۔ لیکن خالہ کا رویہ وہی ہٹ دھرمی لئے ہوئے تھا ،جواد اب باہر بیٹھا تھا کیونکہ کمرے میں جاتا تو خالہ اسے پڑ جاتی اس لئے اس نے اور بلال بھائی نے باہر بیٹھنا ہی مناسب سمجھا ، پہلے تو پیر صاحب نے سارے گھر کی صفائی کرائی اس کے بعدکونوں کھدروں میں جا کر کچھ پڑھائی کی ، مقرر وقت کے بعد اس پیر نے کہا کہ اب سارے گھر کی الماریاں اور دراز وغیرہ چیک کرواور جو تعویز یا کوئی پرانی پرچی نکلے تو وہ اکھٹی کر کے میرے پاس لے آئیں ،یہ دلچسپ کام سن کر سارے ہی تعویز ڈھونڈنے اٹھ کھڑے ہوئے،تقریباً پندرہ بیس منٹ بعد سب نے پانچ چار تعویز نما پرچیاں اٹھائیں ہوئیں تھیں اور کمرے میں داخل ہو رہے تھے،انھوں نے کہا کہ یہ وہ تعویز ہیں جو خالہ نویدہ کو کسی رشتے دار نے ڈالے ہیں ،جب میں نے پڑھائی کی تو یہ خودبخود ظاہر ہو گئے اور کچھ ان میں وہ تعویز ہیں جو خالہ خود پیروں فقیروں سے لے کر آتی رہی ہے وہ گھر میں پڑے پڑے آسیب کی صورت اختیار کر گئے ہیں اور باقی یہ کہ کسی بزرگ کی شان میں بھی نویدہ بی بی سے گستاخی ہوئی ہے ۔ہم سبھی منہ اور آنکھیں کھولے پیر صاحب کی انکشاف بھری باتیں سن رہے تھے ،تقریباً سبھی کو پیر کی باتوں پہ ےقین تھا،کیونکہ اس نے ساری باتیں سچ ہی تو کہی تھیں ۔

اتنی دیر میں خالہ کو پھر دورہ پڑ گیا وہ غرانے لگی اور خالُو عنایت کی سختی آ گئی ،اسے بری طرح کُوٹنے لگی ،چل اٹھ میرے کولوں،تجھ سے بُو آتی ہے ،آخ۔۔۔۔تھو ،گندا نہ ہو تو ۔ساتھ ہی چارپائی سے اسے دھکا دے کے گرا دیا ،وہ بیچارہ لڑکھنیاں کھاتا کمرے کے دروازے میں جا گرا اور دروازے کے دونوں پٹ کھل گئے ،باہر جواد اور بلال ایزی ہو کر بیٹھے ہوئے تھے ،انھوں نے جب دیکھا کہ دروازہ دھڑام سے کھل گیا ہے اور خالہ نویدہ کی حالت غیر ہو رہی ہے وہ تو اٹھ کر کونوں میں چھپنے لگے جواد اپنی شال ڈھونڈ رہا تھا ،مباد اخالہ کو مرشد کی یاد نہ آ جائے ،بلال بھائی نے اسے شال ڈھونڈ کے اوڑھا دی ۔خالہ نے اتنی دیر میں عجیب کام کیا ،جا کر پیر صاحب کا گریبان پکڑ لیا ۔یہ دیکھ کر وکی بھائی اور علی بھاگ کرگئے اور ان کی جان چھڑائی ،تو مجھ پہ تعویز کرتا ہے،تو نے کیا پڑھا ہے میرے جسم میں آگ لگ رہی ہے خالہ چیخ رہی تھی اور پیر صاحب پہ جھپٹنے کی کوشش کر رہی تھی ،ایک دم سے صورتحال بہت خراب ہو گئی تھی ،علی نے باہر جا کر جواد کو کہا کہ یار صرف تو ہے جو خالہ کو کنٹرول کر سکتا ہے،جا کے اسکو سنبھال اور پیر صاحب کی جان چھڑا،وہ اتنی دور سے گجرات آئے ہیں تو کس کے لئے؟ظاہر ہے خالہ کی اور ہماری بھلائی کے لئے ،جواد نے موبائل استعمال کرتے ہوئے شکوے بھری نظروں سے علی کی طرف دیکھا تو انھوں نے اسے کندھے سے پکڑ کر مسکرا تے ہوئے جواباً دیکھا ،یار ہانیا (جواد کی منگیتر)سے پھر بات کر لینا ابھی جو مجبوری ہے اسے سمجھو ،جواد کے دل میں شاید رحم آ گیا اس نے دوبارہ شال کو اپنے گرد لپیٹا اور اس دروازے کے بیچوبیچ جا کر کھڑا ہو گیا،اب سارے یوں اطمینان اور دلچسپی سے سارا کھیل دیکھ رہے تھے جیسے ابھی جادو گر چھڑی گھمائے گا اور سارا منظر بدل جائے گا ۔۔۔اور ہوا بھی یہی،خالہ پیر کے ساتھ گتھم گتھا تھی اسکی پٹائی خوب زوروں پہ کر رہی تھی کہ اچانک خالہ نویدہ کی نظر دروازے میں کھڑے جواد پہ پڑی، اس کے ہوا میں بلند بازو نیچے گر پڑے گویا جان ہی نہ ہو ،کچھ دیر ساکت رہنے کے بعد وہ دوڑتی ہوئی باہر کی طرف بھاگی،مرشد میرے مرشد آپ کہاں تھے اس نے مجھے بہت مارا ہے وہ مجھے تعویز کرتا ہے اور مجھے آگ لگاتا ہے،خالہ نے لاہور والے پیرصاحب کی طرف اشارہ کیا اور جواد کے پاﺅں سے لپٹ کر زار وزار رونے لگی ،وہ بیچارہ شرمندہ ہو رہا تھا کہ خالہ ماں برابر ہو کر اس کے قدموں میں بیٹھی ہے ،کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا ،آ خیر رعب دار آواز میں بولا ،اے نویدہ۔۔۔چل نیچے سے اٹھ ادھر کرسی پہ بیٹھ کے غور سے میری بات سن،نہیں سرکار نہیں ،پہلے اس کو واپس بھیجیں ،جواد کو غصہ آ گیا ،تیرا یہ دل ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ میں بھی یہاں سے چلا جاﺅں؟جواد کے اس طرح مصنوعی غصہ کرنے سے ہم لوگوں کا ہنستے ہنستے براحال ہو رہا تھا ،نہیں نہیں،سرکار آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے ،میں آپ کی بات مانوں گی ،وہ سرعت سے کرسی پہ جا بیٹھی اور برداشت کرتے کرتے ہمارے منہ سے ہنسی کے فوارے پھوٹ پڑے ،کان کھول کر میری بات سنو،اس بندے نے تجھے کچھ بھی نہیں کہا،یہ میرے ساتھ ہی ہوتا ہے اور جو پڑھ رہا ہے ہم نے ہی کہا ہے کہ پڑھ کے تجھ پہ دم کرے،اس دوران اگر تجھے کوئی پریشانی آتی ہے تو اس میں تیرا ہی فائدہ ہے جھلئیے،آخری بات کہتے کہتے جواد نے لہجہ دھیما کر لیا اور خالہ نویدہ کے کان کے ساتھ منہ لگا کے نہ جانے آہستہ آہستہ کیا کہا کہ وہ نا صرف رام ہوگئی بلکہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کے نیم دراز ہو گئی ،مرشد پاک! آپ بھی میرے پاس بیٹھ جائیں مجھے اس کالے منہ والے پہ یقین نہیں ہے یہ کچھ الٹاسیدھا نہ پڑھے آپ میرے پاس ہی بیٹھ جائیںخالہ نے بیچارے اصلی پیر صاحب کی اچھی خاصی بے عزتی کی لیکن وہ خاموشی سے اپنے کام میں مگن تھے،جواد بھی مجبوراً ہانیہ کا فون آف کر کے خالہ کے پاس بیٹھ گیا،ہم لوگ صحن میں بیٹھے آہستہ آواز میں گپ شپ کر رہے تھے ،جواد پیروں تک شال اوڑھے دوسری کرسی پہ بیٹھا باہر ہم لوگوں کو دیکھنے لگا تھوڑی دیربعد بور ہوا تو فیس بک کھول کے بیٹھ گیا ،پیر صاحب نے دم کر کے پانی خالہ کے منہ کو لگا دیا وہ اب شور نہیں کر رہی تھی ،بلکہ چپ چاپ انکی باتوں کو مان رہی تھی ،اب شاید کوئی حصار کھینچا جا رہا تھا ،خالہ پرسکون کرسی پہ آنکھیں موندے لیٹی تھی،جواد نے دیکھا کہ اب خالہ حصار سے باہر نہیں نکل سکتی تووہ آہستہ آہستہ اٹھا کمرے سے غیر محسوس طریقے سے باہر نکلا اور ہم لوگوں کے پاس سے تیزی سے گزر کر باہر چلا گیا ،علی نے آواز دی،اوئے جواد کدھر جا رہے ہو،وہ پیچھے دیکھے بغیر تیزی سے آگے بڑھتا گیا ،علی بھی اس کے تعاقب میں چلے گئے،جواد ۔۔۔جواد یار رکو تو سہی،کہاں جا رہے ہو؟اس کے نزدیک پہنچ کر علی نے اکھڑی سانسوں میں بات کی،نہیں علی بھائی میں نہیں رک سکتا عجیب ڈرامہ ہے میں ہانیا کو وقت نہیں دے پا رہامجھے گھر جا کر اسے بھی منانا ہے،یہ مسئلہ تو پتہ نہیں کب ختم ہو گا ،بات کرتے کرتے وہ سست روی سے چلنے لگا،ٹھیک ہے یار،مجھے تو خود نیند آئی ہوئی ہے،چل میں بھی گھر چلتا ہوں،علی اور جواد واپس گھر چلے گئے،بہت سکون آور ماحول تھا کیونکہ سارے ادھر چھوٹے گھر گئے ہوئے تھے اور پہلی بار یہ خاموشی دونوں بھائیوں کو بہت بھائی،علی جاتے ہی سو گئے اور جواد ہانیا کے ساتھ بات کرنے لگا تقریباًایک گھنٹہ اس کے ساتھ بات کی اور تب جا کر اسکی ناراضگی ختم ہوئی ،وہ چونکہ باہر رہتی تھی اس لئے وقت کا فرق تھا ادھر رات بھیگ رہی تھی دس بجے عموماًسب سونے چلے جاتے اور وہ ڈیوٹی آف کر کے اس وقت ٹرام پکڑ کے گھر جا نے والی ہوتی،کچھ دیر بعد بات کرنے کے وعدے کے ساتھ دونوں نے فون آف کر دیا،اپنے کمرے میں شال لپیٹے جواد فیس بک چلا رہا تھا کیونکہ اسے ہانیہ کے فون کا انتظار جو کرنا تھا، کچھ دیر بعد علی نے اس کے دروازے کو ناک کیا ،جواد جواد،یار دروازہ کھولو تمھارے لئے فون ہے ،کس کا فون ہے ؟ہانیہ سے ابھی تو بات ہوئی ہے بڑبڑاتے ہوئے اس نے بے دلی سے دروازہ کھولا تو علی جلدی سے اندر چلے گئے یار ہم ادھر سے آ تو گئے ہیں لیکن خالہ نویدہ پھر قابو سے باہر ہو گئی ہے،ان پیر صاحب نے کہا ہے کہ انھیں کھانا کھلاﺅ وہ کھانا نہیں کھا رہی بس مرشد مرشد کہہ کے روتی جا رہی ہے ،اب وکی بھائی نے فون کیا ہے کہ ایک دفعہ جواد کو بولو آ کے خالہ کو کھانا کھلا جائے ،سنتے ہی اس نے تو بات کرنے سے انکار کر دیا علی نے کافی منت سماجت کی لیکن وہ وہاں جانے سے انکاری رہا ،آخر وکی نے کہا کہ تم نہ آﺅ لیکن خالہ سے فون پہ تو بات کر لو،کیا پتہ وہ مان ہی جائے اس تجویز سے جواد نے اتفاق کیا اور فون کان سے لگا لیا ،اے نویدہ بی بی سنا ہے تو کھانا نہیں کھاتی؟جواد کی اتنی موٹی آواز سن کر علی ہنستے ہنستے بیڈ پہ لیٹ گئے اور منہ پہ تکیہ رکھ لیا ،جی سرکار جی جی آپ کہاں چلے گئے ہیں آپ کے بغیر میں کیا کھاﺅں پیوں،آپ آ جائیں اور اس کالے منہ والے سے میری جان چھڑائیں ،آ پ آئیں گے تو روٹی کھاﺅں گی ،اے پاگل عورت ہمیں اور کام بھی ہوتے ہیں،ضروری کالیں کرنا ہوتی ہیں ،لوگوں سے رابطے رکھنے ہوتے ہیں ،ساری دنیا پہ نظر رکھنی پڑتی ہے،ساتھ ساتھ بائیں ہاتھ سے وہ تیزی سے فیس بک کے کسی گروپ چیٹ میں کمنٹ ٹائپ کر رہا تھا ،اب ہم صرف تیرے لئے تو اپنا وقت ضائع نہیں کر سکتے،دیکھ کچھ کمینے لوگوں کو جواب دینا بے حد ضروری ہوتا ہے ،تو روٹی کھا اور میں دشمنوں کے منہ بند کر کے ابھی آتا ہوں ،جی مرشد پا ک میں ابھی کھانا کھاتی ہوں آپ جلدی سے آ کے مجھے ۔۔۔لائین کاٹ کے جواد اور علی کا ہنس ہنس کر برا حال ہونے لگا ،دونوں بیڈ پہ گرے یوں دھاڑ دھاڑ کے ہنس رہے تھے کہ کمرا بھی دہلنے لگا

          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      خالہ کو رات کی نسبت کچھ آرام تھا ،اس کا اندازہ اس بات سے ہوا کہ رات کو کھانا کھا کے وہ فوراً سو گئی تھی ،اور دن کے دس بج رہے تھے ابھی تک نہیں جاگی تھی ،ہم لوگ خوش تھے کہ چلو آرام کر لے خالہ ،ہم بھی اتنے میں اپنے کام نبٹا لیں ،علی کی پھوپھو بھی ان دنوں ملنے آئی ہوئی تھیں وہ گاﺅں سے تھیں اس لئے حقہ پیتی تھیں ،چھت پہ ایک سائیڈ پہ آگ جلا کر وہ حقہ بنا رہی تھیں ،میں نے جلدی جلدی صفائی ستھرائی کر لی کیونکہ لوگ خالہ نویدہ کی خیریت پوچھنے صبح صبح آ جاتے تھے ،میں فرش صاف کر رہی تھی کہ کمرے سے اونچی آواز میں کچھ پڑھنے کی آواز آئی ،یوں جیسے سبق پڑھا جا رہا ہو ،یہ کون پڑھ رہا ہے؟میں اندر جھانک کر دیکھ ہی رہی تھی کہ خالہ نویدہ کی گرجدار آواز گونجی اے کون ہے تو؟میں ڈر کے پیچھے ہٹ گئی تو بجلی کے کوندے سے بھی تیزی سے خالہ میرے پیچھے ہال میں آ گئی میں نے دیکھا تو دیکھتی رہ گئی اس کے ہاتھ میں معجزوں والی وہ کتاب تھی جو میری ساس جمعرات کو پڑھا کرتی تھیں،ایک ہاتھ میں وہ معجزہ پکڑے ہوئے تھی اور دوسرے ہاتھ میں جوتا پکڑ کے مجھے ڈرانے کھڑی تھی،یہ دیکھ کے مجھے اس سے ڈر کیا لگتا اللہ پاک سے ڈر لگنے لگا کہ وہ ہمیں بھی اور اسے بھی معاف کریں ،جو بھی تھا معجزے کی کتاب میں پاک ہستیوں کے نام تھے ،لیکن وہ ہوش سے بیگانہ پاکی ناپاکی میں فرق نہ کرتے ہوئے مجھ سے مخاطب تھی،اے کڑئیے،میری کتاب تو پڑھ میں بیٹھ کے سنوں گی ،جب تک میرے مرشدوں کا اور دس بیبیوں کا ظہور نہ ہو جائے اسکو پڑھتے جانا ہے پڑھتے جانا ہے پڑھتے تے تے تے ۔۔۔۔جانا ہے ،اور یاد رکھ ،جس وقت تو رک گئی میں تجھے جلا دونگی۔کسی صورت بھی رکنا نہیں ہے،میری تو گھگھی بندھ گئی ،معجزہ پکڑ کر میں تھر تھر کانپنے لگی ،خالہ نے دوبارہ مجھے زور سے ڈانٹا تو میں الٹا سیدھا پڑھنا شروع ہو گئی ،مجال ہے کہ وہ مجھے فالتو سانس بھی لینے دے رہی ہو ،نہ بیٹھنے دے رہی تھی نہ رکنے دے رہی تھی ،میں سب کو کوس رہی تھی کہ کہاں چلے گئے ہیں میری جان ہی نہیں چھُٹ رہی تھی ،معجزے بھی پڑھ پڑھ کر ختم ہو گئے تھے میں نے بتانا چاہا۔۔۔خخ۔۔ خا۔۔خالہ،معجزے پڑھ لئے ہیں،کیا کہا؟تو پھر رک گئی؟بولا ہے زور سے اس کو پڑھ۔۔۔۔جب خالہ پھر دھاڑی تو میں نے روتے ہوئے دوبارہ پڑھنا شروع کر دیا،اتنے میں باہر کا گیٹ زور سے کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی ،تھوڑی دیر بعد ہال میں انکل علیم اور بلال بھائی داخل ہوئے انکل نے آکر میرا حا ل دیکھا تو خالہ کو ڈانٹنے لگے کہ لڑکی کو کس چیز کی سزا دے رہی ہو؟ خالہ جواباً کہتی ہے یہ پڑھے گی تو میرے مرشد آ جائیں گے،اے ے ے۔۔۔تو پھر رک گئی؟چل پڑھ معجزہ،میں جلدی جلدی پڑھنے لگی ،چھت کی سیڑھیوں سے پھوپھو حقہ ڈال کر نیچے اتر رہی تھی،خالہ نے جب اسے دیکھا تو شور مچا دیا وہ دیکھو میری بی بی آ گئی ہیں ،میری پاک بی بی(نعوذ باللہ) آپ کدھر تھی اوپر کہاں گئی تھیں آپ؟دیکھو دیکھو سب،یہ میری پاک بی بی آ گئی ہیں،علیم پاءجی میں نے سچ کہا تھا کہ یہ لڑکی معجزہ پڑھے گی تو میرے سارے بچھڑے ہوئے مجھ سے آن ملیں گے ،یہ سن کر بھائی بلال سے تو ہنسی نہ روکی گئی وہ اونچے قہقہے لگا نے لگا،میں نے بلال کو اشارہ کیا کہ میری جان چھڑواﺅ،وہ اٹھا اوراس نے ایک غیر متوقع حرکت کر ڈالی دانتوں میں انگلی دابے میں حیرت سے دیکھتی رہی،وہ خالہ نویدہ کے اردگرد لڈیاں ڈالنے لگا ،پتہ نہیں کیوں خالہ کوشدید دورہ پڑ گیا ادھر بھائی بلال ناچ ناچ کے ناچتا رہا شاید اس لئے کہ اس وقت ہم سب خود کو بے بسی کی عجیب انتہا پہ محسوس کر رہے تھے،اسے اس عالم میں اور تو کچھ نہ سوجھا اٹھ کے لڈی ڈانس شروع کر دیا جب بھائی بلال باز نہ آیا تو خالہ اس پہ حملہ کرنے کو دوڑی،وہ یقینااس صورتحال کے لئے تیار تھا ،تیزی سے چھلانگ لگائی اور سیڑھیوں سے نیچے آتی سمارٹ سی پھوپھو کوحقے سمیت اٹھا کر واپس چھت پہ بھاگ گیا،خالہ پیچھے دوڑی تو انکل علیم نے انکو پکڑ لیا،میں بھی اس سارے ڈرامے سے چپکے سے نکل کے سامنے والے کمرے میں بھاگ گئی ،خالہ تو بوڑھے سے انکل علیم سے قابو ہی نہ آئے ،سوئے ہوئے سب جاگے اور پھروہ ہاتھا پائی ہوئی کہ رہے نام اللہ کا ،

           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کل خالہ نویدہ کے بھائی کا باہر سے فون آیا تھا،وہ اس کے لئے بہت پریشان تھے،چونکہ باہر (انگلینڈ)رہتے تھے اس لئے جن یا بھوت پریت پہ انکا کوئی یقین نہیں تھا ،ساری کیس ہسٹری سن کر انھوں نے فتویٰ دیا کہ میری بہن پاگل ہو گئی ہے اس لئے اسے راولپنڈی کے بڑے ہسپتال میں علاج کے لئے بھیجا جائے،کوئی پیر فقیر نہیں اور کوئی دم درود نہیں،بس آج ہی نویدہ کو راولپنڈی لے جاﺅ،تم لوگوں نے بہت وقت ضائع کر دیا ہے،میں پیسے بھیجتا ہوں اور تم لوگ گاڑی کا ارینج کر کے نکلنے کی تیاری کرو،یہ ساری باتیں سن کر خالُو علیم نے کہا بھائی جان بات تو صحیح کہتے ہیں ،امی نے کہا جیسے بھائی کہتے ہیں ویسے ہی کر لیتے ہیں گھر پہ تو کافی علاج کروائے ہیں ،جن نکلنا ہوتا تو اب تک نکل چکا ہوتا ۔اسے اب بجلی کے جھٹکے لگوانے کی ضرورت ہے،جواد نے کہا امی بجلی کے جھٹکوں کے بعد خالہ ٹھیک ہو جائے گی؟ہاں بیٹا میری بہن کے دماغ پہ جو بوجھ ہے وہ بجلی کے جھٹکوں کے بعد ختم ہو جائے گا،اسکا دماغ ہلکا پھلکا ہو جائے گا ،امی اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑانے میں مگن تھیں ،اوہ ،شکر ہے،میری تو جان چھوٹ جائے گی ،کیوں تیری جان کیوںچھوٹ جائے گی؟جواد کے جواب پہ امی نے گھور کر سوال کیا ،وہ ہر وقت مجھے جو اپنا مرشد کہتی رہتی ہے ،مرشد پاک مرشد سائیں اور پتہ نہیں کیسی کیسی باتیں کرتی ہے سچ کہہ رہا ہوں امی میں اب اس سب سے تنگ آ گیا ہوں ،خالہ کو جلدی ہسپتال بھیجیں ،اس کے اس طرح کہنے پہ امی بھی خاموش ہو گئیں،کیونکہ وہ بھی تو سچ ہی کہہ رہا تھا ۔

                        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     شام تک خالہ کے کپڑوں کی ساری پیکنگ ہو گئی ،خالَو ،ساجو نہیں جا رہی تھیں،انھیں ڈر لگتا تھا ،ان کے علاوہ باقی سارے بڑے جا رہے تھے،امی کچھ دن خالہ کے پاس رہ کے آجائیں گی پھر دوسری خالہ جائیں گی ،خالُو عنایت ساتھ ہی جا رہے تھے ،وہ دونوں بہنیں میرے پاس ہی رک گئیں،علی اور جواد بھی گھر ہی تھے ،جس دن یہ لوگ گئے تھے علی اس دن کوئی پڑھائی کرنے چھت پہ بیٹھے تا کہ خالہ نویدہ کے ساتھ اس کے اثرات بھی ہمارے گھر سے چلے جائیں (وظیفے یا چِلے کرتے رہتے ہیں)، ہم سب نیچے میرے کمرے میں تھے ،علی نے مجھے اوپر بلوا بھیجا ، میں گئی تو وہ دیا جلائے کچھ پڑھ رہے تھے ،میں نے تو کمرے میں جانے سے انکار کر دیا ،وہ مجھے اشارہ کر رہے تھے کہ اندر آﺅلیکن میں سخت وحشت زدہ ہو رہی تھی،میں نے تو صاف انکار کر دیا،انھیں بھی شدید غصہ آیا اور دیا جلا کے جو حصار بنایا تھا اپنے اوپر لی ہوئی شال کا پلو ڈال کے وہ آدھی پڑھائی درمیان میں چھوڑ کے اٹھ کھڑے ہوئے ،حصار توڑ دیا تو میں اور ڈر گئی ،تجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں بول نہیں سکتا تھااشارے سے یہ بتانا چاہ رہاتھا کہ۔۔۔اوہ کمرے کی چھت سے اینٹوں والے مو ٹے موٹے کنکر نیچے گرے تو لوہے کی بڑی چادر پہ گرنے کی وجہ سے بہت اونچی آواز پیدا ہوئی،میرا فوکس علی کی بات سے ہٹ گیا ،اوہو یہ پڑوسیوں کے بچے رات کے وقت بھی آرام نہیں کرنے دیتے ابھی کل ہی تو امی نے انکی شکایت انکے گھر والوں سے کی تھی آپ رکیئے میں انکو ڈانٹ کر آئی ،میں اٹھنے ہی لگی کہ انھوں نے سرعت سے مجھے پکڑ کے اپنے ساتھ لگا لیا میں نے متوقع خطرے کے پیش نظر لرز کے پوچھا کیا ہوا؟انھوں نے کہا کہ باہر ہر گز نہیں نکلنا جب تک میں نہ کہوں ،باہر کون ہے؟میں نے گھگھیاتے ہوئے پوچھا تو علی جھنجھلا گئے ،جو حصار باندھ کے تمھاری وجہ سے توڑا ہے ،وہ ہی اب حساب لینے آ گئے ہیں،میں نے جب یہ سنا تو میری ٹانگوں میں جان ختم ہو گئی ،میں علی کے بازﺅوں میں جھولنے لگی،میرے لئے تو یہ بات ہی جان لیوا تھی کہ جنات نے چھت سے پتھر پھینکے ہیں،ابھی وہ مجھے سنبھال ہی رہے تھے کہ دوبارہ ایک بوچھاڑ آئی ،میں نے انھیں زور سے پکڑ لیا،لیکن اب کے وہ مجھے خود سے الگ کر کے باہر جانے لگے میں نے روک لیا تو کہتے کہ مجھے کچھ نہیں ہو گا میں نے پڑھائی کی ہوئی ہے صرف تمہاری فکر ہے ،اور جب تک میں نہ کہوں باہر مت آنا،وہ چھت پہ سامنے کھلے میں چلے گئے اور میں دروازے کے پیچھے دیوار کے ساتھ چپک کے کھڑی ہو گئی ،پانچ منٹ گزر گئے لیکن علی کمرے میں نہیں آئے تھے،میں سخت بے چین تھی ،کچھ ہمت پیدا کی اور باہر دیکھنے کے لئے تھوڑا آگے ہوئی ،وہ چھڑی پکڑ کے کچھ پڑھ رہے تھے اور اس طرح چھڑی کو حرکت دے رہے تھے جیسے کسی کو ہانک رہے ہوں ،یا رستہ صاف کر رہے ہوں کچھ دیر بعد کمرے میں آئے ،مجھ پہ کچھ پڑھ کے پھونکا اور میرا ہاتھ پکڑ کے مجھے کہا کہ دیوار کے ساتھ ساتھ جگہ صاف ہے تم کنارے کنارے چلتی نیچے چلی جاﺅ ،میرا ہاتھ پکڑے پکڑے مجھے سیڑھیوں تک چھوڑا،میں نے بھیگی آنکھوں سے انھیں دیکھ کے کہا آپ بھی آ جاﺅ ،تو مسکرا کے کہتے پریشان مت ہو میں ٹھیک رہوں گا اور بس تھوڑی دیر میں نیچے آ رہا ہوں ،ساتھ ہی مجھے ہلکا سا ایک سیڑھی نیچے دھکیل دیا ،میں نیچے آئی تو سارے خوش گپیوں میں مگن تھے ،میرے آتے ہی ساجو کہتی بھابھی اوپر شور کیسا تھا،میں نے چونک کر پوچھا کیسا شور؟وہ ہی ،جیسے بہت زیادہ کنکر یا پتھر ایک ساتھ گرے ہوں ۔۔۔۔سب نے وہ آوازیں سنی ہیں؟میرے احمقانہ سوال پہ جواد نے قہقہہ لگایا،بھابھی کیسی بات کرتی ہیں،اتنی زوردار آوازیں تھیںظاہرہے ہم سب نے ہی سنی ہیں،بلکہ میں تو سمجھ رہا تھا کہ جاتے ہی آپ نے بھائی کے ساتھ پھڈا ڈال دیا ہے ۔اس کی بات پہ خالو ساجو گلا پھاڑ کے ہنسنے لگیں ،تب میں نے دھیرے دھیرے ساری بات ان لوگوں کو بتائی سب پہ سکتہ طاری ہو گیا ۔لڑکیاں تو باقاعدہ تھرتھرا رہی تھیں ،اب تو خالدہ کی حالت مجھ سے بھی زیادہ خراب ہو گئی ،بات ہی بہت خوفناک تھی کیونکہ آج تک جنوں یا چڑیلوں سے واسطہ جو نہیں پڑا تھا ،یوں لگ رہا تھا کہ اوپر سے اتر کے یہ نادیدہ مخلوق ہمارے درمیان آ بیٹھی ہے ،دل بہت گھبرا رہا تھا اور مجھے تو علی کی فکر تھی ،پتہ نہیں اب تک نیچے کیوں نہیں آئے،میں بڑبڑائی تو جواد کہتا بھابھی آپ پریشان نہ ہوں میں دیکھ کے آتا ہوں ،اب اتنا بھی ڈرنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ،وہ اٹھ کر دروازے تک ہی گیا تھا کہ علی سیڑھیوں سے نیچے آتے دکھائی دئیے تبھی ہم سب کی جان میں جان آئی ،آپ نے اتنی دیر کیوں لگائی ؟میں نے فوراًکہا تو آ کے میری بات اگنور کر کے کہتے اوئے تم لوگوں کے بوتھے کیوں بنے ہوئے ہیں ،لڑائی تو نہیں ہوئی آپس میں ؟ یار کھانا کیا بنایا ہے بہت بھوک لگی ہے جو بھی بنا ہے لے آﺅ جلدی سے ،وہ مسلسل بول رہے تھے اور میں منہ دیکھ رہی تھی ،جواد نے کہا۔بھائی اوپر جو کچھ بھی ہوا ہے بھابھی نے ہمیں بتا دیا ہے ،آپ نہ چھپائیں اور یہ بتائیں کہ اب کیا صورتحال ہے ،علی نے طویل سانس خارج کی اور جواب دیا اب بالکل ٹھیک ہے سب ، گھر کے جس کونے میں مرضی آپ جائیں ڈرنے جھجکنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب تو ہمیں بہادر ہو جانا چاہئے۔۔۔باتیں کرتے کرتے ہم کھانے کی میز پہ آ بیٹھے،یہ ہی موضوع ڈسکس ہوتا رہا لیکن کچھ دیر بعد ہی علی کو نیند آ گئی وہ سونے چلے گئے،تسلی تو انھوں نے ہمیں بہت دی تھی لیکن ڈر دلوں میں بیٹھ سا گیا تھا ،ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک ہی روم میں سوئیں گے ،ہم لڑکیاں بیڈ پہ ہو گئیں اور جواد کو ساتھ صوفے پہ میں نے لٹا دیا ،اسکا بہت آسرا تھا،یہ بتاتی چلوں کہ علی سیڑھیوں کے پاس چار پائی بچھا کے سوئے تھے،ہم لوگ تقریباً ایک دو بجے تک جاگتے رہے ،پھر ایک ایک کر کے سب سو گئے،اس طرح کی نیند میں انسان تھکن سے چور ہوتا ہے نہ کوئی خواب آتا ہے اور نہ ہی آنکھ کھلتی ہے ،اس لئے صبح سارے لیٹ جاگے،پہلے میری ہی آنکھ کھلی جلدی سے اٹھی ،منہ دھویا اور کچن میں گھس گئی ،ناشتہ بناتے بناتے میں نے سب کو آوازیں دے دے کر جگا دیا تھا ۔جب ہم لوگ ناشتے کی ٹیبل پہ بیٹھے تو ساجو کو ابھی بھی نیند کے جھٹکے لگ رہے تھے،جواد نے سب کو چپ رہنے کا اشارہ کیا اور اس کے پیچھے کھڑے ہو کرلمبی لمبی جمائیاں لیتی ہوئی ساجو پہ پانی کا پورا جگ انڈیل دیا،فروری کے درمیانی دن تھے اورٹھنڈ بھی آج کافی تھی ،ساجو چیخیں مارنے لگی،جن جن جن۔۔۔۔ہائے مجھ پہ چڑیل نے پیشاب کر دیا ہے ،ہائے خالَو میں مر گئی ،وہ تو اٹھ کر کودنے لگی اور ہم سب کی آنکھوں سے ہنس ہنس کے پانی بہہ رہا تھا ،پھر خالدہ کو خیال آیا اس نے اٹھ کر بہن کا چہرہ خشک کیا اور اندر لے جا کر خشک کپڑے دیئے ،جواد میرے بچے ایسی شرارتیں تھوڑی کرتے ہیں اگر اب اسے بخار ہو گیا تو۔۔؟علی نے سرزنش کی تو جواد مسکرا کر کہنے لگا بھائی کچھ نہیں ہوتا اس کی نیند ایسے ہی ختم ہونا تھی ،اب دیکھنا ڈٹ کر ناشتہ کرے گی ،کیونکہ ایک تو پورے ہوش میں ہے دوسرے وہ پورے غصے میں ہے ،ہم سب اس کی لاجک پہ مسکرا دئیے،

           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     ساجو نے جواد کی پیشین گوئی کے مطابق واقعی پوری طرح جاگ کے اور منہ پھلا کے فل غصے میںتگڑا ناشتہ کیا تھا،میں نے اچھی سی سٹرانگ چائے بنا کے دی تو اس کا غصہ پل میں ختم ہو گیا ،بھابھی رات کو علی بھائی جاگ رہے تھے ؟اس نے مجھ سے پوچھا،کیوں؟وہ تو ہم سب سے پہلے سونے چلے گئے تھے ،یاد نہیں ہے کیا؟ نہیں اس کے بعد جب ہم سو رہے تھے تو کمرے میں جب وہ آ ئے تھے،شاید آپ سے انھیں کچھ کام تھا؟اور آپ سو رہی تھیں ،پتہ نہیں ،مجھے واقعی علم نہیں ہے ،ویسے تم کیوں اتنی ٹینشن لے رہی ہو؟میں نے ازراہ مذاق پوچھا،بھابھی شاید تہجد کے بعد کا وقت تھا اور کمرے میں بھائی علی آئے ہیں انھوں نے لائٹ بھی جلائی تھی اور کافی دیر ہم سبکو گھور گھور کر دیکھتے رہے تھے ،میں جاگ گئی تھی،جب میں نے دیکھا تو خاموشی سے باہر چلے گئے تھے ،اسکی بات سن کر دل کو کچھ ہوا تو ضرور لیکن میں نے کہا وہ رات کو اکثر جاگ جاتے ہیں اور چکر وغیرہ لگاتے رہتے ہیں ،پریشان مت ہو آتے ہیں تو میں ابھی پوچھ لیتی ہوں ،ابھی ہم لوگ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ علی بھی آفس جانے کے لئے کمرے سے باہر آئے ،میں نے سب کے سامنے من و عن یہ سوال ان کے سامنے دھرا تو وہ حیرت سے میرا منہ تکنے لگے ،زہرا تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں تھکا ہو ا لیٹوں تو نہیں جاگتا اور پھر تین چار بجے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،خوامخواہ کے وہم دل میں نہ پالا کرو اور پلیز اب ریلیکس ہو جاﺅ،رات والا واقعہ بھول جاﺅ ،دھیمے لہجے میں اپنی بات کہہ کے جب وہ باہر چلے گئے تو ہم سب پھر سر پکڑکر بیٹھ گئے ،سب کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ وہ علی نہیں تھے تو پھر آخر ان کے روپ میں کون تھا جو ہم سوئے ہوﺅں کو بغور دیکھ رہا تھا،ساجدہ کہہ رہی تھی کہ کمرے کی بتی بھی بند تھی اور ملحقہ باتھ روم کی بتی آن تھی ،دروازے میں کتنی دیر وہ کھڑا بھی رہا تھا ،جسے وہ علی سمجھ رہی تھی ،آخر وہ کون تھا جو ہمارے کمرے تک آ پہنچا تھا ،خالہ نویدہ پہ ہمارے علم کے مطابق جن تھے،لیکن انکی بعض حرکتوں سے لگتا تھا کہ وہ محض ذہنی بیمار ہے ،اسی لئے وہ ہسپتال بھیج دی گئی تھی ،ہم چند گھنٹوں کے لئے ہی ریلیکس ہوئے تھے ،نا معلوم یہ کون تھا جو خالہ کے جاتے ہی ہمارے گھر ظاہر ہو گیا تھا ، کیا واقعی یہ خالہ نویدہ کے جنوں کی باقیات تھی جو اب ہمیں خوفزدہ کر رہی تھی ؟ساجو کی بات کے بعد ہم سب شدید متاثر ہوئے ،مجھے تو اس حد تک خوف محسوس ہو رہا تھا کہ کہ اگر علی جاب پہ ہوں اور ان کے روپ میں پھر کوئی اور میرے گھر آ گیا تو۔۔۔؟ خالدہ ساجدہ اپنے گھر چلی جائیں جواد بھی گھر نہ ہو اور امی لوگ اتنی دور راولپنڈی گئے ہوئے ہوں ،اس صورت میں وہی سب وقوع پذیر ہو تو کیا مجھے زندہ چھوڑ دیا جائے گا؟کیا مجھے اذیت نہیں دی جائے گی ؟ہال کے وسط میں کھڑی ہو کر میں گہری سوچوں میں گم تھی ،کچن سارا سمیٹنے والاتھا،باہر کا دروازہ بجا تو میں دوڑتی ہوئی گئی اور دروازہ کھول دیا ،ساتھ والوں کا لڑکا باہر کھڑا تھا ،باجی ،باجی اگلے موڑ پہ علی بھائی کی کسی کی بائیک کے ساتھ ٹکر ہوئی ہے اور وہ سڑک پہ گرے ہوئے ہیں مزمل یہ کہہ کے بھاگ گیا اور میں جس حال میں تھی پریشانی کے مارے ایسے ہی اس کے پیچھے دوڑی،گھر میں کسی کوبھی بتانا ذہن میں نہ رہا،موڑ پہ پہنچی تو پانچ چھ لوگ اکھٹے ہوئے تھے ،میں انکو ہٹا کے درمیان میں پہنچی تو علی زخمی حالت میں زمین پہ گرے ہوئے تھے ،میں نے نیچے بیٹھ کے انکا سر گود میں رکھ لیا ،کیا ہوا آپکو ،صبح تو اچھے بھلے گھر سے نکلے تھے ،اور یہ آپکے کپڑے۔۔۔۔؟علی نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور میری کلائی پہ اپنا ہاتھ رکھ کے میری آنکھوں میں آنکھیںڈال دیں ،میں انکے ماتھے پہ آئی چوٹ کو پریشانی سے دیکھ رہی تھی ،جان کیوں ہلکان کر رہی ہو میں ٹھیک ہوں ،ادھر دیکھو میری طرف،میں نے جب علی کی آنکھوں میں دیکھا تو بڑی عجیب الجھن ہوئی ،یوں جیسے یہ علی نہ ہوں،تبھی میں نے انکے کپڑے دیکھے تو اور پریشان ہو گئی کیونکہ صبح جب گھر سے گئے تھے تب تو کپڑے نیلے رنگ کے تھے اور اب براﺅن رنگ کے تھے ،آپکے کپ۔۔ کپڑے۔۔؟میں ششدر تھی،یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔آپکے اپنے کپڑے کہاں ہیں؟میں نے چلا کر پوچھا تو انھوں نے میری کلائی سے پکڑ کے مجھے کھینچا اور نزدیک کر کے سرگوشی کی ،رات میں تمھارے کمرے میں آیا اور تم سوئی ہوئی تھی ،تمھیں میرا انتظار کرنا چاہیئے تھا ،ساجدہ نہ جاگتی تو میں نے تمھیں آواز دینا تھی۔۔۔۔وہ علی نہیں تھے ،بلکہ یہ وہی سایہ تھا جو رات کو ساجو کو نظر آیا تھا اور اب مجسم میرے سامنے میری کلائی پکڑے بات کر رہا تھا میں بت بنی اسکی باتیں سن رہی تھی اور بند دماغ کے باعث حرکت بھی نہیں کر پا رہی تھی،سنو آج میں پھر آﺅں گا اور تم نہ جاگی تو ساجو سے ہی بات کر لوں گا،مجھے علی نے بہت تنگ کیا ہے کل ،اس کا بدلہ مجھے تم دو گی ۔۔۔اس نے جب یہ بات کی تو میرا ذہن غصے کے مارے کام کرنے لگا،کیونکہ میرا ماننا ہے کہ غصے میں انسان کی طاقت عود کر آتی ہے ،اس سے بازو چھڑایا اور پسینے سے شرابور میں الٹے قدموں واپس بھاگی،اس کے بھیانک قہقہے میرا تعاقب کر رہے تھے ،سانس بری طرح پھول گیا ،بمشکل تمام میں اپنے دروازے تک پہنچی تو جواد مجھے ڈھونڈتا ہوا باہر کی طرف آ رہا تھا،بھابھی ۔۔بھابھی کہاں چلی گئی ہو آپ؟ مجھے اپنے براﺅن کپڑے نہیں مل رہے ڈھونڈ کے پریس۔۔۔وہ بول رہا تھا اور میںدروازے میں جا گری،کیا ہوا آپکو،کہاں سے آ رہی ہو آپ؟چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا اور رنگ ہلدی کی طرح ۔۔۔اس نے مجھے دروازے کی چوکھٹ سے اٹھایا ،جواد ادھر ۔۔۔ادھر علی کے روپ میں۔۔۔ساجو ٹھیک کہتی تھی ،وہ علی کی شکل میں تمھارے کپڑے اس نے پہنے ہوئے ۔۔۔۔اسے آدھی ادھوری بات سمجھ آئی اور مجھے دروازے کے اندر دھکیل کر باہر کی طرف بھاگا۔۔۔میں نے کمزور لہجے میں اسے پکارا۔۔۔مت جاﺅ جواد۔۔۔وہ تمھیں کچھ کہہ دے گا۔۔۔میں خود کلامی کر رہی تھی لیکن اتنی سکت نہیں تھی کہ میں خود سے اٹھ سکوںاور جا کے دیکھوں وہ جواد کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے ،ابھی تو خاَلو ساجو کو بھی پکارنے کی ہمت نہ تھی ،جواد انھی قدموں سے بھاگتا ہوا واپس آیا بھابھی کمال کرتی ہو مجھے تو کوئی چیز بھی کہیں نظر نہیں آئی ،سڑک ویران پڑی ہے ،آپکو کسی نے بہکایا ہے ،آں۔۔۔ہاں ہاں جواد یہ ساتھ والوں کا مزمل بلانے آیا تھا ،اس سے پوچھو ذرا،یہ گواہی دے گا کہ میں سچ کہہ رہی ہوں،وہ پھر پلٹ کر ساتھ والوں کے گیٹ پہ پہنچ گیا ،ناک کیا اندر سے کسی نے پوچھا کون ہے تو جواد نے کہا آنٹی ذرا مزمل کو بلا دیں اس سے کام ہے انھوں نے کہا بیٹا وہ تو کل سے اپنی خالہ کی طرف گیاہوا ہے،یہ سننا تھا کہ جواد چونک اٹھا ،وہ بھاگتا ہوا گھر آیا اورمجھے اندر ہونے کا کہہ کر جلدی سے گیٹ بند کر دیا ،بھابھی وہ کون تھا مجھے سچ سچ بتائیں کہ واقعی بھائی علی کے روپ میں کوئی ہمارے گھر پہ نظر رکھے ہوئے ہے؟میں نے ہال میں آ کر جواد اور خالَو ساجو کے سامنے ساری بات بتائی ،آخر وہ کون ہے ،کیوں ہمارے پیچھے پڑ گیا ہے اور وہ چاہتا کیا ہے؟ہم سر جوڑے اسی سوچ میں تھے کہ چھت پہ کسی کے چلنے کی آواز آئی،قدم گھسٹ رہے تھے ،سا۔۔۔جو میں نے رات کو آنا تھا تو ابھی آ گیا،چھت کے درمیان میں جو روشندان تھا اس کے قریب آواز آئی ،خوف کے مارے ہم لوگ اندر بھاگے ، اور جواد چھت پہ بھاگ نکلا ،میں پکارتی رہ گئی لیکن وہ ان سنی کرتے ہوئے جا چکا تھا۔۔۔ہم تینوں چیخ رہی تھیں ،قیامت بپا تھی لیکن اوپر سناٹا طاری تھا ایسے لگ رہا تھا جیسے اوپر کوئی بھی موجود نہیں ہے ،میں نے ایک لمحے کے لئے سوچا اور روتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگی،خالدہ مجھے پکڑنے کو لپکی ،لیکن مجھے جواد کی فکر تھی ،میں نے اسے جھٹکا اور چھت پہ جا پہنچی ،میری آنکھوں نے جو منظر دیکھا وہ دنیا کے آٹھویں عجوبے سے کم نہ تھا ،گنگ ہو کر میں آنکھیں پھاڑے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔کاش میں جواد کو اوپر نہ آنے دیتی ،میرے سر میں دھواں جمع تھا اور جو میں دیکھ چکی تھی جگر پھٹ جاتا تو بھی عجب نہ تھا ،میری زندگی کا شاید اختتام قریب تھا ،سارے مناظر دیکھ دیکھ کے آخیر میں نیچے گر پڑی لگ رہا تھا کہ آج ہم سب مارے جائیں گے ،شاید میں بے ہوش ہو رہی تھی ،سارے مناظر دھندلا رہے تھے ،دھند گہری ہوئی تو اندھیرا چھا گیا اور۔۔۔میرا وجود مکمل تاریکی کا حصہ بن گیا ۔

……………………………………………………………………………………………………………………………………………….

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

 کولڈ فیئر …  شبیہہ مظہر رانجھا… پہلا حصہ

                                                 کولڈ فیئر  شبیہہ مظہر رانجھا،بھلوال پہلا حصہ COLD FEAR  میں نے آج تک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے