سر ورق / سفر نامہ / دیکھا تیرا امریکہ ۔ رضا الحق صدیقی

دیکھا تیرا امریکہ ۔ رضا الحق صدیقی

لکڑی کے دیوار و در

ایک روز ہم گھر پر ہی موجود تھے،رابعہ کہنے لگی

،، ابو آپ کو پتہ ہے ہمارا یہ فلیٹ لکڑی کا بنا ہوا ہے۔اس کی دیواریں،فرش اور چھتیں سب کچھ،،

میں بڑا حیران ہوا ،میں نے کہا

،،وڈ فلورنگ تومیںنے دیکھی ہے،اگرچہ یہاں تمہارے سارے فلیٹ میں موٹا سا قالین بجھا ہوا ہے لیکن بعض جگہ ٹھک کی سی آوازآتی ہے جیسے لکڑی کا فرش ہو،لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دس،گیارہ منزلہ عمارت ہو اور تمام کی تمام لکڑی کی بنی ہوئی ہو۔ایسا ہو نہیں سکتا،،

،،آپ کو میری بات کا یقین نہیں ہے نا ، عدیل سے پوچھ لیں جب شام کو وہ آئیں گے تو،،

رابعہ نے کہا

،،ٹھیک ہے،اس سے بھی پوچھ لیں گے،ویسے یہ بات ہضم نہیں ہوئی،کم از کم بنیادیں ہی کنکریٹ کی کہہ دیتیں،بنیاد ہی مضبوط نہ ہو تو عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی،،

میں نے بے یقینی کے سے انداز میں جواب دیا۔

رابعہ کو عنایہ نے بلا لیا اور وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی۔

شام کو جب عدیل آیا تو چائے کا دور چلا،عدیل پھر اپنا لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔اس کا کام ہی ایسا ہے،میں صوفے پر نیم دراز تھا،اتنے میں رابعہ کچن میں چائے کے برتن رکھ کر آ گئی۔میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی

،،ابو، اب عدیل سے پوچھ لیں میری بات پر تو آپ کو یقین نہیں تھا،،

عدیل نے میری اور رابعہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

،، کیا ہو گیا، آپ نے رابعہ کی کس بات کا بقین نہیں کیا،،

،،ارے یار کوئی خاص بات نہیں ہے،رابعہ کہہ رہی تھی امریکہ میں یہ جو کئی کئی منزلہ عمارتیں ہیں سب لکڑی کی بنی ہوئی ہیں جبکہ میں کہہ رہا تھا کہ ایک یا دو منزلہ تو لکڑی کی ہو سکتی ہیں لیکن یہ کئی کئی منزلہ نہیں ہو سکتیں،،

بس اتنی سی بات تھی میں نے کہا

ہم دونوں کی گفتگو سن کرعدیل کہنے لگا

،، آپ دونوں ہی ٹھیک کہہ رہے ہیں،دراصل امریکہ میں سارے گھر لکڑی کے بنے ہوتے ہیں،بیسمنٹ کی دیواریں اور عمارتوں کی ایک دو منزلوںکی چاروں دیواریں پتھر بھر کر مضبوط کی جاتی ہیں،باقی ساری عمارت،اندرونی دیواریں،چھت ،سیڑھیاں اور فرش لکڑی کے ہوتے ہیں۔دیواروں کی موٹائی دونوں طرف کی لکڑی کی شیٹوں میں فوم بھر کر کی جاتی ہے۔یہ بنی بنائی بھی مل جاتی ہیں۔آپ نے ہر وقت یہاں فائر بریگیڈ کی آوازیں سنی ہیں،لکڑی کی عمارتوں میں آگ لگنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے،یہاں عمارتوں میں سموک آلار م لگے ہوتے ہیں،آگ نا بھی لگے عمارت میںصرف زیادہ دھواں بھر جائے تو بھی یہ الارم بج اٹھتے ہیں۔کمال یہ ہے کہ فائر بریگیڈ چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ جاتا ہے۔،،

میرے لئے یہ حیرت کی بات اور اطلاع تھی کہ سارے کا سارامکان ہی لکڑی کا بنا ہوتا ہے لیکن کسی جانب سے لکڑی کا نہیں لگتا۔

میرے لئے یہ بھی حیرت کی بات تھی کہ امریکہ میں باﺅنڈری وال یا آہنی گیٹ لگانے کا کوئی تصور نہیں ہے،نہ ہی گرل یا جالی لگائی جاتی ہے۔کھڑکیاں چوڑی اور شیشے کی ہوتی ہیں،خطرے کا آلارم بڑے گھروں میں ہوتا ہے،ہر گھر میں نہیں ہوتا۔سنگل یا ڈبل بیڈ روم اپارٹمنٹس کی کھڑکیوں پر صرف شیشہ لگا ہوتا ہے،یہاں چوری کا خطرہ نہیں ہوتا۔نہ کسی دہشت گرد کے گھس آنے کا خطرہ ہوتا ہے۔لوگ پر امن فضا میں جیتے ہیں۔چھوٹی موٹی وارداتیں ہوتی ہوں گی لیکن ہمارے ہاں کی طرح نہیں۔یہاں ہمارے ہاں کی طرح اخبارات جرائم کی خبروں سے بھرے ہوئے نہیں ہوتے۔اس لئے کہ گرل اور آہنی جالی کے اندر ہماے پنجرہ گھروں میں بھی ہم محفوظ نہیں ہیں۔گرل کاٹ لینا،گھر کے اندر گھس آنا۔منٹوں میں گھر میں مزاحمت کرنے والوں کو گولیوں کا نشانہ بنا دینا،مال و متاع لوٹ کر کھلے بندوں نکل جانا ہمارے ہاں معمول کی باتیں ہیں۔ہم ایسا کرنے پر مجبور ہیں کہ انتظامیہ ہمارا تحفظ کرنے سے قاصر ہے۔

ہم انسان سے حیوان کیوں بنتے جا رہے ہیں؟ تحفظ کی خاطر گھروں کی موٹی موٹی گرلوں اور جالیوں سے پنجرے بنا کر بھی ہم غیر محفوظ ہی رہتے ہیں۔

میں،امریکہ میںجہاںبھی گیا،بڑے بڑے شیشوں والی کھڑکیاںدیکھیں،ان گھروں کے مکینوں کو ان خالی شیشوں کی وجہ سے پریشان ہوتے نہیںدیکھا۔وہاں لوگ پرسکون اور محفوظ ہیں۔انہیں اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ شیشے کی کھڑکی توڑ کر کوئی اندر آ جائے گا،گلہ گھونٹ دے گا اور لوٹ مار کرے گا۔

وہاں بھی جرائم ہوتے ہیں لیکن ہماری طرح کے نہیں۔

وہاں یا تو نفسیاتی مجرم ہوتے ہیں یا زیادہ تر کالے پسے ہوئے لوگ، کچھ بگڑے ہوئے نشہ باز نوجوان گورے۔

عام آدمی وہاں ہر طرح سے محفوظ ہے،امن و امان سے رہ رہا ہے۔زندگی کی آسائشوں اور ممکنہ سہولتوں سے بغیر کسی دھڑکے اور خدشے کے لطف اندوز ہو رہا ہے۔

عدیل نے بتایا کہ دو سال پہلے ڈسکوری چینل میں ایک نفسیاتی مریض نے اندر داخل ہو کر عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔پولیس 36گھنٹے تک اسے سمجھاتی رہی،اس سے مذاکرات کرتی رہی لیکن وہ باز نہیں آیا بلکہ یرغمالیوں کو مارنے کا ارادہ ظاہر کیاجس پر پولیس نے سامنے والی بلڈنگ پر موجود سنائپر کو اشارہ کیا اور عملے کے تحفظ کے لئے اسے گولی مار دی۔یہ رویہ بعض کی نظر میں بے رحمانہ ہو سکتا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو وہاں کا نظامِ زندگی ان کے ایسے ہی اقدامات کی بنا پر پر سکون ہے۔

ہم اپنے ہاں خلفائے راشدین کے عہد کی مثالیں دیتے ہیںکہ شیر بکری ان کے دور میں ایک گھاٹ پانی پیتے تھے،امن وامان تھا،جرائم کا تصور بھی نہ تھا،ایسا نظر تو پاکستان میں ہونا چاہیئے تھا لیکن اس کی عملی شکل ہم نے امریکہ میں دیکھی۔

ہماری بیگم کی ایک سکول کے زمانے کی دوست تھیں جب یہ کراچی میں رہتی تھیں،اس بار ہم امریکہ آئے توہماری بیگم نے 42سال بعدانہیں تلاش کر لیا،ہم ان کے گھر گئے۔ان کا گھر کوئی چار ایکڑ میں پھیلا ہوا تھا،ہماری بیگم کی اپنی سہیلی کے ساتھ باتیں تھیں کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہی تھیں،دورانِ گفتگو انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں،وہ ان کے پاس چار،چار ماہ کے لئے چلی جاتی ہیں۔پیچھے گھر خالی ہوتا ہے،مزے کی بات یہ ہے کہ وہ گھر کو لاک کر کے نہیں جاتیں۔ان کے گھر کی کوئی چار دیواری نہیں ہے،کوئی گیٹ نہیں ہے،سڑک سے ڈرائیو وے ان کے گھر کے مین دروازے تک جاتا ہے۔

کس قدر فرق ہے ہمارے اور امریکی معاشرے میں۔

میں جب پاکستانی اور امریکی معاشرے میں رویوں کے فرق کودیکھتا ہوں،وہاں کی اچھائیوں اور انسانی حقوق اور وہاں مساوات پر نظر ڈالتاہوں تو دل مسوس کر رہ جاتا ہے۔ مساوات کا جو درس ہماری میراث تھا اب غیر اس پر عمل پیرا ہیں۔

دو تہذیبیں

عدیل کے بنائے ہوئے پروگرام کے تحت سفر کرکر کے کمر تختہ ہو گئی تھی جس پر ہم نے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے کہ اب نیویارک جانے تک کوئی سفر نہیں چند روز آرام اور صرف آرام لیکن ایسا ہونہ سکا۔عدیل کے ایک امریکی دوست کو جب پتہ چلا کہ عدیل کے والدین پاکستان سے آئے ہوئے ہیں تو اس نے ہمیں ہی نہیں شازیہ اور احرار کے علاﺅہ اپنی چند دوست فیملییوں کو بھی کھانے پر مدعو کر لیا۔

عدیل نے بتایا کہ اس کا یہ دوست ورجینیا میں رہتا ہے،وہیں جانا ہے،تین کمروں کے کانڈو میںاس کی رہائش ہے،میں نے بہت انا کانی کی کہ یار ایک تو میری کمر دکھنے لگی ہے سفر کر کر کے،اوپر سے تمہارا یہ غیر مسلم گورا،بھوکا ہی آنا پڑے گا،بھئی میں وہاں کھانا نہیں کھا سکوں گا،پھر وہاں جانے کا کیا فائدہ وغیرہ وغیرہ۔لیکن وہ کہاں ماننے والا تھا ابھی میں کچھ اور کچھ کہنے والا تھا کہ رابعہ اور ہماری بیگم بھی تیار ہو کر آگئیں۔

،،کیا مسئلہ ہے ،ابو اور عدیل اور ابو آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئے،،

رابعہ نے آتے ہی پوچھا۔

،،بیٹا میں کہہ رہا تھا،،ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ رابعہ نے کہا ۔

،،ابو آپ تیار تو ہو جائیں پھر دیکھتے ہیں،احرار بھائی اور شازیہ باجی بھی تیار ہو کر نکلنے والے ہیں،ابھی فون آیا تھا ان کا،،

ان سب کو تیار دیکھ کر مجھے بھی تیار ہونا پڑا،ہم مسلمان بھی عجیب ہیں نجانے کیا کیا غیر اسلامی باتیں کرتے ہیں لیکن غیر مسلموں کے ہاں کھانا اس لئے نہیں کھا سکتے کہ وہ حلال حرام کی تمیز نہیں کرتے۔

ہم پونے گھنٹے بعدمائیکل کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے،مائیکل نے تین چار ہی فیملیوں کو مدعو کیا تھا،

مائیکل کے سیٹنگ روم میں خاصی گنجائش تھی کہ سارے گھر والے اور مہمان آسانی سے وہاں سما گئے۔کھانے میں ابھی کچھ دیر تھی کیونکہ کیٹرر ابھی کھانا لے کر نہیں آئے تھے،مائیکل نے بتایا کہ ہوٹل پر مدعو اس لئے نہیں کیا کہ آپ لوگ کھانا کھاتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں اس لئے گھر پر ایک مسلمان کیٹرر سے انتظام کیا ہے ۔یقین کریں دل ہی دل میں ہمیں بہت شرمندگی محسوس ہوئی کہ ہم کیسا گمان کئے ہوئے تھے اور یہاں معاملہ ہے دوسرا تھا۔

سیٹنگ روم میں کھانا لگنے تک گفتگو کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔اس گفتگو میں میں تقریباََ خاموش ہی رہا،عدیل،احرار،مائیکل زیادہ باتیں کر رہے تھے،خواتین علیحدہٰ بات چیت میں مصروف تھیں،کچھ دیر بعد سب کی ایک دوسرے سے بات چیت شروع ہو گئی،مائیکل کے فادر نے مجھ سے بات چیت شروع کر دی،انہوں نے عدیل کی تعریف شروع کر دی کہ مائیکل بتا رہا تھا کہ عدیل والدین کا بہت کیئرنگ ہے،یہاں بہت کم ایسا ہوتا ہے۔

،،یہاں بچے والدین کی کیئر نہیں کرتے کیا؟،، میں نے پوچھا

،،آپ نے صحیح سنا ہے یہاں کے بارے میں ۔۔ بچے ماں باپ سے اور والدین بچوں سے بیگانہ ہو جاتے ہیں۔ہر کوئی اپنی زندگی جیتا ہے،آزادی پسند کرتا ہے،یہ رشتوں کا بندھن یہاں ہم امریکیوں کو کم ہی بھاتا ہے۔لیکن مسٹر صادیقی سب لوگ ایک طرح کے نہیں ہیں،مگر اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جیسا آپ نے سنا لیکن اب بھی یہاں کچھ فیصد لوگوں میں فیملی سسٹم موجود ہے،،مائیکل کے فادر نے کہا

،،آپ بھی ان چند فیصد میں شامل ہیں ،، میں نے ہنستے ہوئے پوچھا

،،آف کورس،،

،،شادی کے معاملے میں تو یہاں ہر کوئی آزاد ہے،، برسوں سے امریکہ میں مقیم احرار نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا

،، تو کیاآپ لوگ آزاد نہیں،، مائیکل کے فادر نے حیرانی سے پوچھا

،،ہمارے ہاں عام طور پر ارینجڈ میرج ہوتی ہیں،، میں نے کہا۔

،،کیا مطلب ،، مسز جینٹ جلدی سے بولیں

،،مطلب یہ کہ پاکستان میں ماں باپ بچوں کے لئے رشتہ پسند کرتے ہیںاور بچے اگر اپنی پسند بتائیں تب بھی رشتہ ماں باپ ہی طے کرتے ہیں،، میں نے کہا

میری بات سن کر سب حیرانی سے مجھے دیکھنے لگے کچھ دیر بعد مسز جینٹ بولیں

،،کیا اس زمانے میں یہ بات ممکن ہے،،

،،بالکل ہماری شادیوں کی اکثریت ارینجڈ ہوتی ہے یہاں تک کہ لڑکی نے لڑکے کو اور لڑکے نے لڑکی کو دیکھا بھی نہیں ہوتا،وہ شادی کی رات کو ہی ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔

،،ڈونٹ سے دس،، مسز جینٹ نے سر پکڑ لیا،انہیں اس حالت میں دیکھ کر ہم سب ہنس دئیے۔

،،یہ کیسے ممکن ہے؟،، مسز جینٹ نے سر اٹھا کر ہماری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

،،ہو سکنے کا سوال نہیں،ایسا ہی ہوتا ہے،، میں نے کہا

،،پھر تو طلاقوں کا ریٹ آپ کے ہاں بہت زیادہ ہوگا،یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہاں ایسی شادیاں زیادہ دیر چل سکیں،،مائیکل کے والد جو کافی دیر سے چپ بیٹھے تھے اچانک بولے

ہم سب مسکرائے،پھر احرار نے کہا ،،ہمارے ہاں بھی طلاقیں ہوتی ہیں لیکن بہت ہی کم نہ ہونے کے برابر،اس کی وجہ بھی ارینجڈ میرج نہیں ہوتی بلکہ اور کئی وجوہات ہوتی ہیں،،

،، وہ کیا،، مائیکل کے والد بولے

،،معاشی بدحالی،شوہر یا بیوی کا آوارہ ہونا،لڑکی کا بانجھ پن وغیرہ،، ہماری بیگم نے بھی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے جواب دیا۔

،،سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،، مسز جینٹ نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا

انہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔

کافی دیر یہ گفتگو چلی ہم سب نے اپنی اپنی مثالیں دیں اور کہا بھی کہ میاں بیوی کی باہمی رفاقت اس بات کا ثبوت ہے لیکن وہ سب یقین کرنے کو تیار ہی نہ تھے۔

پھر مسز جینٹ کہنے لگیں ،، کیا آپ کا ملک بہت بیک ورڈ ہے،،

،، ہر گز نہیں،، احرار نے جواب دیا،ہمیں حدود کے اندر ہر قسم کی آزادی حاصل ہے لیکن بے راہ روی کے ہم قائل نہیں،ہمارا فیملی سسٹم بہت مضبوط اور مربوط ہے۔ہمارے بچے اگر ماں باپ کے پاس ہیں تو ان کا ادب و احترام کرتے ہیں کمائی کرنے یا نوکری کرنے کہیں چلے جائیں پھر بھی یہ احترام باقی رہتا ہے اور بچے ماں باپ کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔بوڑھے ماں باپ کی خدمت تو عبادت ہے ہمارے نزدیک،،

ان سب نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔پھر ان کی بیٹی بولی

،،آپ کے ہاں بوڑھوں کے لئے اولڈ ہومز نہیں بنے ہوئے،تو پھر وہ اولڈ ایج میں کیا کرتے ہیں،،

،،اپنے بچوں کے پاس رہتے ہیں،بچے انہیں سنبھالتے ہیں،ان کی خدمت فرض سمجھ کر کرتے ہیں۔بزرگ بھی بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں،بچے بھی ان سے بہت مانوس ہو جاتے ہیں۔،، احرار نے جواب دیا

،، گھر میں امن و سکون رہتا ہے؟،، مسز جینٹ نے پوچھا

،، بالکل ، میں سو فیصد کی بات نہیں کر رہا،لیکن اکثریت ایسی ہی ہے جیسی میں نے بیان کی،، میں نے کہا

،،پھر تو آپ کا ملک جنت ہوگا،، مسز جینٹ نے طنزیہ لہجے میں کہا

،، ہاں بالکل ہے،بہت خوبصورت،بہت پیارا، جس میں نباتات کی بھرمار ہے،اعلیٰ نسل کی اجناس اور پھل پیدا ہوتے ہیں،گندم اور چاول کاشت ہوتے ہیں،پاکستانی چاول جیسا تو دنیا میں چاول نہیں ہے۔اللہ نے ہرقسم کی نعمت عطا کی ہے،دنیا کے بلند ترین چھ پہاڑی سلسلے پاکستان میں ہیں،پاکستانی بالائی علاقوں کاحسن ایساکہ سوئزرلینڈ کاحسن شرمائے،زرخیز زمین ہے،معدنیات ہیں،دریا ہیں،ندی نالے ہیں اور خاص بات لوگ دل والے ہیں،قدرت بہت مہربان ہے ہم پر،،

احرار خاصا جذباتی ہو رہا تھا اس وقت۔

،،تو پھر آپ کے لوگوں کی بڑی تعداد دوسرے ملکوں میں کیوں جا رہی ہے،،

مائیکل کے فادر نے بڑا چبھتا ہوا سوال کیا کہ ہم چند لمحوں کے لئے چپ ہو گئے،ندامت سی محسوس ہوئی

لیکن

عدیل نے جلدی سے معاملہ سنبھالا

،،ہجرت تو ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے۔ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی انسانی فطرت ہے۔تعلیم اور رزق کے حصول کے لئے دنیا بھر میںپھیلنے کا حکم ہمیں ہمارے مذہب نے سکھایا ہے۔ہمارے ملک سے اگر لوگ باہر جا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں اپنا اتنا زرخیز اور شاداب ملک پسند نہیں ہے، عدیل کچھ دیر کو رکا

تو میں نے بات آگے بڑھائی،، بے شک ہمارا ملک نعمتوں سے مالا مال ہے لیکن ہم یہ کہتے ہوئے ندامت بھی محسوس کرتے ہیں اور دکھ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کا نظام درست نہیں ہے بلکہ بدتر ہوتا جا رہا ہے، پاکستان کی 68سالہ تاریخ میں ایسی قیادت کی کمی رہی جو بگڑے سسٹم کو سنوار سکے،ایوب خان اوربھٹو جیسے جو چندایک آئے بھی تو انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا۔سیاسی نظام میں تسلسل اور استحکام نہ رہا۔ زیادہ تر لالچی اور خود غرض آئے جنہیں اندھا دھند پیسہ سمیٹنے کے علاﺅہ کچھ سوچنے کی فرصت ہی نا تھی۔ان کی دیکھا دیکھی اوپر سے کرپشن اور بدنظمی نیچے تگ آتی چلی گئی۔عوام جو اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں اور اس کی فلاح کی امید رکھتے ہیں،مایوسی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں،پاکستان میں مجبور ہوتے ہیں تو اچھے مستقبل کی امید پر دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں،،

اس سے پہلے کے بحث سیاسی رنگ اختیار کرتی عدیل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں کسی کا دل نہیں چاہتا کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے غیروں کو مستفید کرے لیکن ملک میں ہونے والی دہشت گردی نے خوف کی ایک فضا قائم کر دی ہے،عدم تحفظ کا احساس بھی ایک وجہ ہے نقل مکانی کی۔پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں مدت سے ہو رہی ہیں،

یہ بحث اور لمبی ہو جاتی کہ مسز جینٹ نے عدیل سے قطع کلامی کے لئے معذرت کرتے ہوئے سب کو کھانے پر بلا لیا۔

مسز جینٹ کو مائیکل نے خاص طور بتا دیا تھا کہ ہم لوگ حلال کے سوا کچھ نہیں کھاتے اس لئے انہوں نے کراچی کے حلال سٹور والوں سے کیٹرنگ کرائی تھی۔کھا نابڑے مزے کا تھا اس لئے سب نے جی بھر کر کھایا۔

کھانے کے بعد پھر گفتگو کا سلسلہ وہیں سے شروع ہوگیا جہاں سے ٹوٹا تھا۔

احرار کہنے لگا میری یہاں بے شمار فیملیوں سے ملاقات رہتی ہے جن میں سے اکثر کے اپنے بچے ان سے علیحدٰہ ہو چکے ہیں اور اجنبیوں کا سا سلوک کرتے ہیںماں باپ سے۔اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ماں باپ کو جب ان کی بہت ضرورت ہوتی ہے تو انہیں اولڈ ہومز میں داخل کرا دیتے ہیں۔ہمارے ہاں پاکستان میں کوئی ایسا سوچتا بھی نہیں بلکہ والدین جتنے بوڑھے اور کمزور ہوتے جائیں بچے ان کی اتنی زیادہ کیئر کرتے ہیں،

،، ان کے پاس اتنا ٹائم ہوتا ہے،، مائیکل کی بہن بولی

،، کیوں نہیں۔ہمارے ہاں عام طور پر عورتیں نوکری نہیں کرتیں، گھروں میں رہتی ہیں۔اس لئے بوڑھوں کی دیکھ بھال کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، جسے بچے گھر کا فرد ہوتے ہیں ویسے ہی وہ بھی۔ہمارے مذہب میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ تمہارے ماں باپ اگر اس عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو۔۔،،

مائیکل کی بہن نے حیرانی کے تاثر کے ساتھ احرار کو دیکھا

اور

اپنی ہی رو میں بولی،،آپ کی عورتوں کو اپنا کچھ احساس نہیں ۔۔وہ ارینجڈ میرج کر لیتی ہیں۔۔گھروں میں رہتی ہیں،بچے پالتی ہیں،بوڑھوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔۔ اوہ مائی گاڈ ۔۔ وہ تو مر جاتی ہوں گی۔۔کوئی ان حالات میں کیسے جی سکتا ہے؟،،

 ہم اس کی بات پر ہنس دئیے۔

مسز جینٹ نے مداخلت کرتے ہوئے پوچھا،،آپ کے ہاں ایسی دعوتوں کے بعد پشاوری قہوہ پیا جاتا ہے،آپ پییئں گے ؟ ،،

اب حیرت زدہ ہونے کی ہماری باری تھی۔

ضرور،ضرور،، ہم نے بیک زبان کہا لیکن ساتھ ہی پوچھا پشاوری قہوہ آیا کہاں سے؟۔

مسز جینٹ نے سوچتے ہوئے کہا،، مجھے یاد پڑتا ہے کہ مائیکل کے فادر کے ایک دوست نے ایک بار دیا تھا،اس میں الائچی بھی ہے،،

مسز جینٹ قہوہ بنانے کچن میں چلی گئیں اور جب قہوہ بن کر آیا تو الائچیوں کی مہک ہر سو پھیل گئی۔

قہوے کے اس دور کے بعد ہم نے واپسی کی راہ لی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

مسافر تیرے شہر میں ۔۔۔ ساجد فاروق میاں

۔ گلاسکو سے آئیر لینڈ تک                 لمبا تڑنگا ”فرانکو“شاید نہیں بلکہ یقینا سپانوی ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے