سر ورق / سفر نامہ / مسافر تیرے شہر میں ۔ ساجد فاروق میاں ۔ آخری قسط

مسافر تیرے شہر میں ۔ ساجد فاروق میاں ۔ آخری قسط

                استاد تیجا سنگھ اور مادام تساﺅ

                میرے ساتھ والے کمرے میں استاد تیجا سنگھ آن آباد ہوئے۔ تیسرے دن کی شام تک ہمارے درمیان خوشگوار تعلقات اس قدر گہرے ہو گئے کہ گویا برسوں کے یارانے ہیں۔ استاد تیجا پڑھے لکھے اور غیر سنجیدہ انسان تھے۔ گرونانک یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔ چھوٹی موٹی ملازمتیںبھی کی مگر من کو نہ بھائیں۔تب پھر یورپ کا ارادہ کیا۔ استاد تیجا سنگھ سنجیدہ نہ سہی لیکن ایک تجربہ کار انسان تھے۔ شائد اسی بنا پر انہیں ”استاد“ کا غیر رسمی خطاب مل چکا تھا۔جرمنی ، فرانس اور بیلجیم میں کچھ وقت گزار چکے تھے۔ زیادہ تر وقت خاموشی میں گزارتے ۔ کوئی بات پسند نہ آئی ہوتی تو بالکل خاموش ہو جاتے۔ زیادہ اصرار کرنے پر یہی جواب ملتا،”جس طرح تمہاری مرضی کر لو ہم تو یونہی لبوں پر خامشی کے تالے لگائے رکھیں گے۔ جھوٹ نام کی کوئی چیز ان کے قریب سے نہیں گزری تھی۔ تھوڑی بہت شاعری بھی کر لیتے تھے۔ انہیں بھولنے کی بیماری تھی۔ پہلے تو ہمیں شک رہا کہ شائد ان کی غیر سنجیدہ طبیعت کا یہ بھی ایک پہلو ہو گا۔لیکن ایک واقعہ نے اس شک کو یقین میں بدل دیا۔ ہوایوں کہ استاد جی بلیک برن میں ہونے والے ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے گئے۔ واپس آئے تو معلوم ہوا کہ اپنی عینک بھل آئے ہیں۔ فوراً منتظم مشاعرہ کو فون کیا گیا کہ بھئی میں آپ کے ہاں عینک بھول آیا ہوں۔ شام تک تین چار فون کر دیئے۔ ادھر منتظم مشاعرہ کا یہی جواب مسلسل مل رہا تھا کہ ہر جگہ چھان ماری ہے لیکن عینک نہیں مل سکی۔اگلے دن استاد جی نے میرے سامنے منتظم مشاعرہ کو فون کر کے بتایا کہ عینک مجھے اپنے کوٹ کی جیب سے مل گئی ہے۔ استاد جی کی ضروریات زندگی میں بئیر ایک لازمی جز کی حیثیت رکھتی تھی۔ اکثر مجھے بھی بڑے رسان سے دعوت دی جاتی کہ ”آﺅ گھٹ “لگا لو۔میں جواباً یہی کہتا رہا کہ نہیں سردار جی عادت پڑ جائے گی۔ میری اسی بات پر وہ ہمیشہ چڑ جایا کرتے اور بھڑک کر جواب دیتے۔ ”او کاکا پچیس سال ہو گئے ہیں مجھے تو عادت نہیں پڑی۔“

                استاد تیجا سنگھ کو مادام تساﺅ کا مومی مجسموں کے عجائب گھر دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ کسی بھی موضوع پر گفتگو سے اپنی خواہش کا اظہار کرنے میں ملکہ رکھتے تھے۔ اکثر مجھے اکساتے تھے کہ اس عجائب گھر جانا ہے۔ پھر جب ایک دن مسیولینی نے بھی خواہش کا اظہر کیا تو میں نے ان کا ساتھ دینے کی خاطر پروگرام بنا لیا۔ طے یہ پایا کہ آنے والے اتوار مادام تساﺅکا عجائب گھر دیکھا جائے گا۔

                مادام تساﺅ کا عجائب گھر بیکرا سٹریٹ پر شرلاک ہومز کے اس فرضی مکان کے پاس ہے، جسے سر آرتھر کانن ڈائل کے ناولوں کے قارئین جیتی جاگتی حقیقی دنیا میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ٹکٹ کے حصول کے لئے کافی جدوجہد کرنا پڑی۔ مجھے یوں لگا جیسے پورا یورپ آج ہی مادام تساﺅ کے شاہکار دیکھنا چاہتا ہے۔ استاد تیجا سنگھ اور مسیولینی تو دور کھڑے تماشا کرتے رہے اور وہاں آئے ہوئے لوگوں پر تبصرہ آرائی فرماتے رہے۔ آخر خدا خدا کر کے نمبر آیا۔ سب سے پہلے ہمیں ستاروں کی دنیا دیکھانے کے لیے ایک بڑے ہال میں بٹھا دیا گیا۔ اس گول ہا ل کی چھت اس طرح بنائی گئی تھی کہ آسمان کا گمان ہو۔ روشنیاں گل ہوتے ہی استاد تیجا بڑبڑانے لگے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ وہ ستاروں کے بارے میں بھی جانتے ہیں۔ مصنوعی آسمان پر مصنوعی ستاروں کی گردش میں وہ چند معروف قسم کے ستاروں کے نام بتاتے رہے۔ اگرچہ اس نئی اطلاع پر مجھے بھی حیرت ہو رہی تھی لیکن میں نے اظہار کر کے اک نئے لیکچر کی بنیاد نہیں رکھی۔ ستاروں کا کھیل ختم ہوا تو ہال کی روشنیاں جلا دی گئیں۔ تب ہمیںعجائب گھر کی طرف لے جایا گیا۔

                عجائب گھر کے باقاعدہ ہال سے پہلے کافی سارے مجسمے نصب ہیں۔ پہلی ہی نظر میں عالمی طور پر مشہور کرکٹرز اور اداکاروں کے مجسمے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی استاد تیجا سنگھ کچھ بڑبڑانے لگے میں نے اس بڑ بڑاہٹ کو غور سے سننے کی کوشش کی۔ چند لفظ جو پلے پڑے ان سے اندازہ ہوا کہ کرکٹ پسند نہیں کرتے۔ لیکن ان اداکاروں میں سے چند ایک کی فلمیں انہوں نے دیکھی ہوئی ہیں۔ میں اس سلسلے میںمزید باتیں کرنا چاہ رہا تھا لیکن وقت مناسب نہیںتھا۔ استاد تیجا سنگھ کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ پر کشش نظر آنے والا ہر شخص مجسمہ ہی ہو سکتا ہے۔ اس وقت میں ذرا پیچھے تھا۔ استاد تیجا سنگھ کے ساتھ مسیو لینی کاندھے سے کاندھا ملا ئے جا رہا تھا کہ اچانک اس نے استاد کے کان میں کچھ کہا۔ اگلے ہی لمحہ وہ ایک پری چہرہ کے برہنہ کاندھے پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔ نجانے موم کی سختی کا اندازہ کر رہے تھے کہ وہ خاتون حرکت میں آ گئی۔ استاد نے قطعاً شرمندگی محسوس نہیں کی۔ اس حرکت پر لے دے ہوئی۔میری منت سماجت پر اس نقلی مجسمے نے سردار صاحب کی جان چھوڑی۔ میں نے مسیولینی کی طرف دیکھا اور دانت نکال رہا تھا۔چند قدم کے فاصلے پر مسیولینی ایک پولیس مین کے پاس سے بڑے مہذب انداز میں گزرا۔ استاد تیجا سنگھ نے بھی اس کی تقلید کی۔ کافی دیر تک پولیس مین نے آنکھ نہ جھپکی تو مجھے شک ہوا۔ ذرا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ تو مجسمہ ہے۔ بعض لوگ اس کے قریب سے بڑے ادب اور احتیاط سے گزررہے تھے۔ ہال میں پہنچنے پر اچانک استاد تیجا نے سوال داغ دیا۔

                یہ مادام تساﺅ کون ہے؟“ تب فوراً ہی مسیولینی نے کہنا شرو ع کر دیا۔

                ”مادام تساﺅ اصل میں سوئٹرلینڈ کی ہے۔ اس کا چاچا مومی مجسمہ ساز تھا۔ جو انقلاب فرانس سے کچھ عرصہ قبل فرانس آ گیا تھا۔ وہ اپنے ساتھ اپنی بھتیجی کو بھی لے آیا۔ فرانس آنے کے بعد دونوں نے مل کر معروف شخصیات کے مجسمے محفوظ کرنے شروع کر دیے۔“ وہ اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا۔

                ”پھر۔۔۔۔پھر کیا“ استاد تیجا سنگھ نے پوری دلچسپی سے پوچھا

                ”انقلاب کے وقت بہت سے مجسمے برباد ہو گئے۔ ان میں بہت سے مجسمے ان انقلابیوں کے تھے جو انقلاب کی بھینٹ چڑھ رہے تھے۔ نپولین کے دور میں جب تھوڑا امن ہو ا تو اس لڑکی نے موسیو تساﺅ سے شادی کر لی اور ان مجسموں سمیت لندن منتقل ہو گئی۔“

                ”کیا میں اس سے مل سکتا ہوں۔“ استاد نے مونچھوں پر ہاتھیرتے ہوئے کہا۔

                ”آﺅ ملواتا ہوں۔“ مسیولینی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ میں آنے کا اشارا کرتے ہوئے ایک طرف چل پڑا۔ کچھ دیر بعد وہ ایک مجسمے کے سامنے تھا۔ اس طرف کچھ کر بولا”آپ ہیں مادام تساﺅ“

                تب میں نے دیکھا استاد نے واضح طور پر اپنا ہاتھ اس انداز سے ہلایا کہ وہ مادام تساﺅ سے ہاتھ ملائے گا لیکن شائد اسے احساس ہو گیا تھا کہ اس کے سامنے مجسمہ ہے۔ اپنی حقت مٹاتے ہوئے سوال جڑ دیا۔”یہاں کا انتظام کون چلا تا ہے۔“

                ”اس کی اولاد“ مسیولینی نے سنجیدگی سے کہا اور آگے بڑھ گیا۔

                عجائب گھر کئی حصوں میں تقسیم ہے۔ غیر معروف شخصیات کے مجسمے تہہ خانے میں رکھ دیئے جاتے ہیں۔ اور مقبول زمانہ شخصیات کے مجسموں سے عجائب گھر کو سجایا جاتا ہے۔ اس عجائب گھر میں اسٹالن، لینن، ماﺅزے تنگ ، جمال عبدالناصر ، برژنیف ، شاہ ایران ، مہاتما گاندھی، بے نظیر ، ڈیگال ، بکرومہ ، دلائی لامہ کے علاوہ برطانوی شاہی خاندان اور برطانیہ کے وزیراعظم اور امریکی صدر کے مجسمے بھی رکھے ہوئے ہیں۔ ہم وہاں تقریباً چار گھنٹے تک رہے ۔ استاد نے اپنی پسندیدہ شخصیات کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔مسیولینی نے انہیں گاندھی جی کے ساتھ تصویر بنوانے کا کہاتو کافی دیر ناراض رہے۔ اپنی ناراضگی کا اظہار ایسی باتوں سے کیا جن کا لب لباب یہ تھا کہ گاندھی اوراس کے پیروکار ‘ خاندانوں کو تقسیم کرنے کا سبب بنے تھے۔ اور اب مشرقی پاکستان میں خون خرابہ کر رکھا ہے۔خیر تصویر والی تجویز پہ ان کا موڈ کافی دیر خراب رہا اور چپ سادھے رہے۔ میں نے بھی حالات بھانپتے ہوئے ان کا دھیان ادھر ادھر لگانے کی کوشش کی لیکن ان کے موڈ خراب ہونے کا گراف اونچا ہی رہا۔ تب مجھے مادام تساﺅ کے عجائب گھر میں یہ احساس ہوا کہ استاد تیجا سنگھ کتنا جذباتی ہے۔ لندن میں ان کا زیادہ لوگوں کے ساتھ ملنا جلنا نہ تھا۔ سوائے بالم پردیسی کے۔ میں نے ان کے پاس کبھی کسی کو نہیںدیکھا تھا۔ پھر ایک دن جب وہ بیئر کے ساتھ ”موڈ“ میں تھے اور باتوں کا رخ کہیں سے کہیں جا رہا تھا کہ وہ اچانک بولے۔”تمہارے مسیولینی نے اس دن میرے چھڑی مار دی تھی۔“

                ”کب؟“ میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔

                ”اواس دن جب مادام تساﺅ کے عجائب گھر گئے تھے۔ وہ اس کے ساتھ تصویر بنانے کا کہہ کر“

                ”اﺅ۔۔۔۔!“میرے منہ سے افسوس ملی سرد آہ نکلی۔

                ”سردار جی میں معذرت۔۔۔۔۔۔“ میں نے کہنا چاہا تو اس نے میری بات کاٹ دی۔

                ”اونہ کا کا معذرت نئیں۔۔۔۔۔“یہ کہا اور پھر وہ خالصتان تحریک کے حوالے سے ان شہیدوں کو یاد کرنے لگے جو آزادی اور خودمختاری کی جنگ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے تھے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ مسیولینی کا چھوٹا سا بے ضرر مذاق انہیں کس قدر جذباتی کر گیا ہے۔ اکثر ملاقاتوں میں خالصتان اور سکھوں پر مظالم سے متعلق باتیں کرتے کرتے استاد تیجا سنگھ کی آنکھیں تنہا ہو جاتیں۔میرے اندر سے بہت سارے سوال اٹھتے جن کے پوچھنے پر جواب دیتے ہوئے گفتگو اس فقرے پر تقریباً ختم ہو جاتی کہ ”قتل گائیں اب تازہ خون مانگتی ہیں اور آزادی کا چہرہ خون سے ہی نکھرتا ہے۔“کبھی کبھار تو وہ مجھے بالکل ایک پھٹے ہوئے انسان دکھائی دیتے اور ان کے چہرے پر کرب اور بھی نمایاں ہو جاتا۔ کبھی کبھی یوں تنہا ہو جاتے کہ کردار سے روٹھی ہوئی کہانی محسوس ہوتے۔ ایسے میں بالم پردیسی بھی انہیں تنہا چھوڑجاتا۔ تنہائی اور زیادہ واضح ہو جاتی۔ تب استاد تیجا سنگھ کے سارے مکالمے تنہا رہ جاتے۔ میں انہیں اکثر اس کرب سے نکالنے کی کوشش کرتا۔ اور یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا کہ وقت بدل گیا ہے تو وہ میرے ساتھ کبھی بھی ہم خیال نہ ہوتے بلکہ ان کا ہمیشہ یہ ہی جواب ہو تا کہ وقت ابھی نہیں بدلا انسان بدل جاتے ہیں۔ وہ اکثر اپنے آپ کو کمرے میںمقفل کر لیتے۔

                ”ایک دن صبح صبح میرے دروازے پر دستک ہوئی سردی کی شدت ہونے کے باعث دروازہ کھولنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ تب میں نے بسترپہ کمبل کے اندر سے پوچھا۔” کون ہے۔“

                ”میں آں تیجا سنگھ“

                ”سردار جی خیریت تو ہے۔“ تب میںنے بستر سے نکلنے کے لئے خود کو تیار کرتے ہوئے پوچھا۔

                ”اٹھ مینوںمل لے میں انڈیا نوں چلیا آں۔“ (اٹھ مجھے مل لے میں انڈیا جا رہا ہوں) آواز میں ایک خاص لوچ اور کرارپن تھا کہ جو مجھے سمجھ نہ آ سکا۔ کیونکہ سردار صاحب کی سچ گوئی پر یقین تھا۔ اس لیے فوراً اٹھ کر باہر آ گیا۔ انہوں نے چھوٹا سا بیگ ہاتھ میں اٹھایا ہوا تھا۔ پوری گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔ اس اچانک فیصلے پر میں ابھی تک حیران تھا۔میںسوالیہ نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا کہ سردار جی یہ کیسا فیصلہ ہے؟ شائد انہوں نے میری نظریں پڑھ لیں تھیں۔میرا کاندھا تھپتھپاتے ہوئے بڑے جذب سے بولے”گرونے بلایا ہے۔“

                آخری اطلاعات آنے تک پتہ چلا کہ استاد تیجا سنگھ سرکاری فورسز کی گولی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اب مجھے یقین آ رہا ہے کہ وہ کیوں اتنی سرعت کے ساتھ یہاں سے گئے تھے انہیں واقع ہی گرو نے بلایا تھا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

مسافر تیرے شہر میں ۔۔۔ ساجد فاروق میاں

۔ گلاسکو سے آئیر لینڈ تک                 لمبا تڑنگا ”فرانکو“شاید نہیں بلکہ یقینا سپانوی ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے