سر ورق / افسانہ / رہے نام اللہ کا …رضوانہ سیدعلی

رہے نام اللہ کا …رضوانہ سیدعلی

رہے نام اللہ کا

 رضوانہ سیدعلی۔اسلام آباد ۔پاکستان

مہرو نے اپنی چادر ٹھیک کرتے ہوئے بازار پہ ایک نظر ڈالی ۔ دورتک سر ہی سر نظر آرہے تھے ۔ اس نے قریب رکھی تھالی کو دیکھ کر سوچا اگر میں اسے گھما کر پھیکوں تو جانے کہاں تک یہ سروں سے ہی گزرتی چلی جائے گی ۔ جب حکومت نے یہ سستابازار کھولا تھا تب اس وسیع میدان میں چند اسٹال تھے اورتھوڑے بہت خریدار ۔ اب تو رحیم بتا رہا تھا کہ اخبار میں آیا ہے کہ رمضان میں تو اتوار بازار کے خریداروں کی تعداد لاکھ سے اوپر ہوگئی ہے ۔ بازار بھی تو تیزی سے پھیل رہا تھا ۔ بہت اچھی چیزیں بھی یہاں مل جاتی تھیں ۔ سبزی ، پھل، سلے ان سلے کپڑے ، چائنہ کا مال ، گوشت ، مچھلی، انڈے ،فرنیچر، نئی پرانی کتابیں اور خشک اجناس سے لے کر لنڈے کی مصنوعات تک کون سی چیز تھی جو یہاں دستیاب نہ ھو ۔

لوگ بھی دل کھول کر خریداری کرتے تھے ۔ جسے دیکھو اسکے پیچھے مزدور ہتھ ریڑھی لئے یا ٹوکرا سر پہ لادے چلا جا رہا ہے ۔ خود بھی جانے کیا کیا الم غلم اٹھائے ہوئے ہیں ۔ ہر چیز پہ یوں ٹوٹے پڑتے ہیں جیسے مفت مل رہی ہو ۔

آخر اس قدر سامان کا یہ کرتے کیا ہیں ؟ میں تو جب دن بھر اس کھوکھے پہ سر کھپاکر گھر جاتی ہوں تو اس چادر کے پلو بھر سامان ہی میرے پاس ہوتا ہے اور وہ بھی بس کھانے پینے کی چیزیں ۔ مہرو نے حیرانی سے سوچا ۔

ہونہہ ! تو کیا اور تیری اوقات کیا ؟ اندر بیٹھی ہمزاد کبھی شرلی چھوڑنے سے باز نہ رہتی تھی ۔

” باجی ! کچھ پیسے آ گئے ہوں تو دے دے ۔ ” انور اچانک سامنے سے اچک کر بولا ۔ ” اماں ڈاکڑ کے پاس جانے کو بیٹھی ہے ۔ بھائی اوندھا پڑا خون تھوک رہا ہے ۔”

” تو میں کیا کروں ؟ کہاں سے لاؤں پیسے ؟؟ جوس اور بوتلیں تو ہاتھوں ہاتھ بکتے تھے تو اچھی کمیشن بن جاتی تھی ۔ اب رمضان میں تو ان پہ پابندی ہے ۔ کچھ رقم ہوتی تو مہندی چوڑیاں رکھ لیتی ۔ لے دے کے یہ سڑے ہوئے عید کارڈ کوئی بغیر پیسے لئے رکھ گیا ہے ۔ انہیں اب بھلا خریدتا ہی کون ہے ؟ ویسے بھی عید ابھی دور ہے ۔

” عید دور ہے ۔ عید دور ہے ۔” کارڈ پہ بیٹھی تتلی گنگنائی ۔

” عید پاس ہو بھی تو کیا ؟ عید پاس ہو بھی تو کیا ؟؟ ” کارڈوں پہ بنے رنگ برنگے پھول قہقہے پہ قہقہہ مارنے لگے ۔

تیر دلوں کے گھاؤ مزید چھیدنے لگے ۔

اوٹ پٹانگ اردو انگریزی میں لکھے بناوٹی جملے آپس میں گڈ مڈ ہونے لگے ۔

مہرو کا جی چاہ کہ سب کارڈ اٹھا کر گندے نالے میں پھینک دے اور خود منہ چھپا کر ایسی نیند سوئے کہ پھر کبھی نہ اٹھے ۔

وہ برسوں سے چین کی نیند کو ترس رہی تھی ۔

رات بھر ان کی تاریک کوٹھری طرح طرح کی کھانسیوں سے گونجتی رہتی تھی ۔

اماں کے چھلنی سینے سے ٹھاؤں ٹھاؤں اٹھتی کھانسی

بھائی کے زخمی جگر سے گھائیں گھائیں ڈکراتی کھانسی

چھوٹے بہن بھائیوں کے ٹھنڈ کھائے گلوں سے کھوں کھوں کرتی کھانسی

مہرو کا سر جیسے درد سے پھٹنے لگا ۔

باجی کچھ تو ہو گا گلے میں ۔ دیکھ تو سہی ۔ میں چاء کے لئے دودھ ہی لے جاؤں ۔

انور مچل کر بولا ۔

قریب کے کھوکھے سے الیاس نے تان اڑائی ۔ ” کچھ نہ دیجیو مہرو ! کچھ نہ دیجیو ۔ اری اپنے لئے بچا کے رکھ ۔یہ سب مطلبی بس پیسے کے یار ہیں ۔ آج میرے جھڑوس باپ نے بھی طیفے کو میرے ہاس بھیجا تھا کہ ہزار روپے کی ضرورت ہے ۔ میں نے کہا بھاگ یہاں سے ۔ ہزار پیسے بھی نہ دوں گا ۔ بچپن میں ہی فٹ پاتھ پہ پھینک دیا ۔ فاقے کاٹے، ڈانٹ پھٹکار سہی ، ماریں کھا کھا کر آج چار پیسے کمانے لگا ہوں تو سب آگے پیچھے ہوتے ہیں ۔ جب کبھی گھر جاؤں روٹی پانی پوچھتے ہیں ۔ پر میں ان کے کھانے پہ تھوکتا بھی نہیں ۔ سامنے بیٹھ کر گولڈ فلیک کے سوٹے لگاتا ہوں ۔ سالم چرغہ ڈکار جاتا ہوں ۔ سب منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔ کیوں منہ لگاؤں سب سال ل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "مہرو جانتی تھی اب گالیاں ہی ابلیں گی ۔ ڈانٹ کر بولی ۔

” چپ کر ۔خبردار جو اب ذرا بھی ٹر ٹر کی جب دیکھو یہی بکواس لگاے رکھتا ہے۔

سامنے سے بیگم صاحبہ آتی دکھائی دیں ۔ یہ مہرو کی سہیلی بن گئی تھیں ۔ اچھی خاصی دولت مند تھیں پر جانے اتوار بازار آنے کا کیا چسکہ تھا ۔ آج بھی دو دو مزدوروں پہ سامان لدوا رکھا تھا ۔ ڈرائیور بھی خوب لدا پھندا تھا ۔ مہرو کے کھوکے کے پاس آکر ڈرائیور کو اشارہ کیا کہ سامان گاڑی میں رکھوائے اور خود کھوکھے میں آ بیٹھیں ۔ یہ ان کا معمول تھا ۔ خریداری کے بعد مہرو کے پاس بیٹھ کر ٹھنڈا جوس پیتیں اور گپ شپ لڑاتیں ۔ مہرو کو اپنے سب حالات سے باخبر کر دیا تھا ۔

وہ ایک بڑے گھر کی بیٹی تھی جس کی پوری کائنات حویلی کے اندر تھی ۔ پڑھنے بھی جاتی تو سخت پردے میں ڈرائیور باہر انتظار کرتا رہتا ۔ شادی بھی ہوئی تو بس پنجرہ ہی بدلا جو سونے چاندی کی تیلیوں سے بناتھا ۔

پھر وقت کا پہیہ الٹا گھوما ۔ اسمبلیوں میں بیٹھنے کے لئے ڈگریاں مانگی جانے لگیں۔ قوم کی گاڑی چلانے والوں نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہ دی تھی ۔ یہ پڑھنا وڑھنا ، ڈگریاں شگریاں لینا تو عوام کے لئے ہوتا ہے تاکہ نیچے کے کام خوش اسلوبی سے چلتے رہیں ۔ یا پھر گھر کی عورتیں وقت گزاری کے لئے بی اے ، ایم اے کرتی رہتی تھیں ۔ پر اچانک ہی جانے کیسی کایا کلپ ہو گئی ۔ اسمبلی میں آنا ہے تو ڈگری دکھاؤ ۔ چٹے ان پڑھ یا نیم خواندہ وڈیروں ، سرداروں ، چودھریوں اور جاگیر داروں کے تمام فلسفے راتوں رات بدل گئے ۔ تعلیم نسواں اور عورت کی آزادی کے گیت گائے جانے لگے ۔ گھر وں میں مقید مہارانیاں گلی گلی جا کر ووٹ مانگنے لگیں ۔ اور رعیا تو ہوتی ہی کھونٹے کی گئیا ہے ۔ چوہدری ووٹ مانگے یا چوھدرائن اسے تو بس سر جھکا کر ٹھپہ لگانا ہے ۔

سو جہاں پہلے اسمبلی میں عورتوں کی گنی چنی سیٹیں ہوا کرتی تھیں اب اجلاسوں میں دھیمی خوشبوئیں اور رنگین آنچل سرسرانے لگے ۔ بیگم صاحبہ کا میاں بھی مجبوراً انہیں اسمبلی میں لایا تھا ۔ خود معیار پہ پورا نہ اترا ، بچے ابھی پڑھ رہے تھے ۔ موروثی سیٹ ہاتھ سے جائے یہ گوارہ نہ تھا ۔ مجبوراً بی بی کو آگے لانا پڑا ۔ وہ بھی اب تمام ارمان پورے کر رہی تھی ۔ زندگی بھر کی گھٹن نکل رہی تھی ، چاہے میاں کے سینے پہ سانپ لوٹتے رہیں ۔ شائد اتوار بازار آنا بھی اسی ساسلے کی کڑی تھی ۔ ویسے پہچانے جانے کے ڈر سے چادر لپیٹ کر آتی تھی ۔

بیگم صاحبہ ! اب کی بڑے عرصے بعد چکر لگا ؟ مہرو نے پوچھا ۔

” کیا بتاؤں مہرو ! بیگم صاحب نے لاکھوں روپے کے کنگن بے نیازی سے گھمائے۔ ” دورے ہی جان نہیں چھوڑتے ۔ بس اب دل بھر گیا ہے ۔ کبھی لندن تو کبھی آسٹریلیا ، کبھی کہیں تو کبھی کہیں ۔ ابھی بھی امریکہ اور ملائشیا سے دعوت نامے آئے رکھے ہیں ۔ چھوڑو ۔ جوس پلاؤ ٹھنڈا سا ۔”

ارے بیگم صاحبہ ! رمضان ہے ۔

بھئی یہ تو تم لوگوں کے لئے ہوتا ہے تاکہ صبر اور برداشت کی عادت رہے ۔

ویسے ہر ہفتے افطار پارٹی ہوتی ہے ہمارے ہاں ۔ غریبوں کے لئے الگ انتظام ہوتا ہے ۔ کسی دن تمہیں بھی بلاؤں گی ۔ ارے یہ اتنا بڑا بیگ ؟ عید کی شاپنگ ابھی سے کر لی ؟ ذرا دکھاؤ تو کیا کیا لے ڈالا ؟

نہیں بیگم صاحبہ ! ہمارے ہاں عید کا کیا کام ؟ یہاں تو بارہ مہینے رمضان ہی ڈیرے ڈالے رکھتا ہے ۔ یہ آپ جیسی کوئی بیگم رکھوا کر جوتوں والے بازار تک گئی ہیں ۔ بس آتی ہی ہوں گی ۔

نہیں مہرو ! یہ تو بہت خطرناک ہے ۔ تم نے کیوں رکھا یہ بیگ ؟ تم نہیں جانتی آجکل حالات کیسے جا رہے ہیں ؟ میں کہتی ہوں اسے فوراً باہر نکالو ۔ فوراً ۔۔۔ جلدی کرو ۔۔۔۔۔ جلدی

ڈھائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈھائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بڑا بھیانک دھماکہ تھا ۔ بہت تباہی ہوئی ۔ ان گنت لوگ مارے گئے ۔ بلڈوزر سے ملبہ اٹھایا گیا تو بیگم صاحبہ کے لاکھوں روپے کے کنگنوں بھری کلائی ، مہرو کا کھوکھلا سینہ جس میں بیٹھی ہمزاد شرلیاں چھوڑتی رہتی تھی ، الیاس کا گولڈ فلیک پینے والا منہ اور سالم چرغہ ڈکارنے والا پیٹ ، انور کی زندگی اور شرارت سے بھر پور آنکھیں ، سب ایک ہی گڑھے میں دفن ہو گئے ۔

رہے نام اللہ کا ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بانو زلیخا ۔۔طلحہ کھرل

                              …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے