سر ورق / افسانہ / نیلگوں گلاب…فاطمہ عمران

نیلگوں گلاب…فاطمہ عمران

نیلگوں گلاب

 فاطمہ عمران ، لاہور ، پاکستان

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ جھک کر نیلگوں ہوتا گلاب دیکھنے لگی۔اس نے پتیوں کو چھو کر باہر کی طرف موڑا۔ گلاب کے کناروں پر لال رنگ آہستہ آہستہ ضم ہو رہا تھا جبکہ اندر کی طرف نیلاہٹ واضح تھی۔ پھر اسکی نظر کیاری میں پڑی مٹی پر پڑی۔ گہرے رنگ کی مٹی دیکھ کر اسے یاد آیا کہ اسکا ہاتھ لگنے سے روشنائی کی بوتل میز سے گر کر ایک کونے سے ٹوٹ گئی تھی۔ہڑبڑا کر اس نے ٹوٹی ہوئی روشنائی کی بوتل اٹھائی اور کھڑکی سے باہر پھینک دی۔ وہی روشنائی اب اس گلاب کو نیلا کر رہی تھی۔

اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور اندر کی طرف چل دی۔

°°°° °°°°°

پچھلے نومبر کی بات ہے جب ان دونوں نے اپنے ہاتھوں سے اس گلاب کی کونپل زمین میں لگائی تھی۔ اور پہلے گلاب کی آمد کے ساتھ اس نے کہا تھا”مدھو! دیکھو تو اس گلاب کو نرمی تمہارے ہاتھوں سے ہی ملی ہے” اور وہ کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔

"اس گلاب کا نام بھی مدھو ہونا چاہیے۔ تمہارے رخسار بھی اسکی طرح لال ہیں”

"چلو ہٹو۔۔بے شرم کہیں کے۔۔۔ مدھو نے شرما کر کہا۔

ویسے ماں نے اسے گلاب کی طرح ہی سینت سینت کر رکھا تھا۔ اسکی ممتا کی جھلک مدھو کے نام سے ہی چھلکتی تھی جو پچیس سال پہلے ماں نے اسے پیار سے گود میں لیتے ہی دیا تھا۔ماں کے بعد تو مدھو بالکل ہی اکیلی ہوجاتی اگر وہ نہ ہوتا۔ جب ماں زندہ تھی تو اس کا آنا بالکل پسند نہیں کرتی تھی۔ جانے کیوں ماں کو "محبت” لفظ سے ہی چڑ تھی .مگر مدھو کو بس سمجھاتی۔کبھی اسکی راہ کا کانٹا نہیں بنی کہ مبادا اتنے برسوں سے سنبھالا ہوا مدھو کا نازک دل ٹوٹ نہ جائے۔ماں کے بعد مدھو کا جی اکیلے گھبرا جاتا تو وہ مدھو اور اس گھر کی تنہائی بانٹنے اکثر آ جایا کرتا تھا اور اسکا جادو مدھو پر سر چڑھ کر بولتا۔

….. ۔۔۔۔ ۔

وہ بہت کتابی باتیں کیا کرتا تھا۔۔۔ اور مدھو انہیں محبتوں کی افسانوی باتیں کہا کرتی۔۔ "محبت ہر قید سے آزاد ہے۔۔۔محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔۔۔ محبت میں سب جائز ہے.. محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے "

اور اس طرح کی ہزاروں باتیں جو مدھو کے کمرے میں شیلف پر رکھی محبت کی ہر دوسری کتاب میں لکھی تھیں۔

"مجھ سے محبت کا مطلب جانتے ہو؟”

مدھو کسی انجانے خوف سے گھبرا کر کہتی۔۔۔

"محبت جنس کی قید سے بھی آزاد ہے۔میری پیاری مدھو۔۔دنیا تمہیں جو مرضی کہے مگر میرے لیے تم صرف میری محبوبہ ہو اور میں تمہارا چاہنے والا”

اس کے پاس جیسے مدھو کے ہر سوال کا جواب تھا۔۔

"مگر جس محبت کی بنیاد تم رکھ رہے ہو ۔۔اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ تم مجھے چھوڑ تو نہ جاؤ گے؟”

مدھو اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہتی اور وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دیتا۔

۔۔۔

جاڑے کی ہی کسی دوپہر اس نے مدھو کے ہاتھ میں وہ لفافہ پکڑایا۔

"یہ کیا ہے؟” مدھو نے پوچھا

میری شادی کا کارڈ”

"شادی؟”

"مگر تم تو مجھ سے محبت کرتے تھے؟”

"ہاں۔ "

"تم تو کہتے تھے کہ محبت ہر قید سے آزاد ہوتی ہے؟”

"ہاں”

"پھر شادی”؟”

"دیکھو محبت نہیں صرف شادی کر رہا ہوں ۔ویسے بھی تم سے شادی کر کے بچے تو نہیں پیدا کر سکتا نا. اس کے لیے تو شادی کرنا ہی پڑے گی۔”

"مگر میرا کیا ہو گا؟” اس کے لہجے میں التجا تھی۔۔

تم سے محبت تو میں ہر حال میں کرتا ہی رہوں گا۔ میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا محبت جنس کی قید سے آزاد ہے میری پیاری مدھو۔۔۔”

مدھو دم سادھے اس کے چہرے کی جانب دیکھتی رہی۔ اس کے ہونٹوں سے ادا ہوتے یہ الفاظ مدھو کے کانوں سے ہوتے ہوئے اس کے جسم میں زہر بن کر اتر رہے تھے اور اسے لگ رہا تھا کہ یہ کڑوا زہر آہستہ آہستہ اس کے جسم میں سرایت کر رہا ہے۔ اتنا زہر تو تب بھی اس کے جسم میں نہیں اترا تھا جب اسکی سگی ماں نے اسے پیدا ہونے کے دوسرے ہی روز گرو ماں کی گود میں ڈال دیا اور گرو ماں نے اسے گلے سے لگا لیاتھا۔ گرو ماں نے دنیا کی ہر آسائش اسکی جھولی میں ڈال دی۔مگر ہونی کو گروماں بھی کیسے ٹال سکتی تھی بھلا۔ یہ زہر تو اسے کبھی نہ کبھی پینا ہی تھا۔۔۔

مدھو کو اچانک وہ نیلگوں ہوتا گلاب یاد آ گیا۔ اور اس کے ہونٹوں سے ایک سسکاری سی نکلی ” سالا! ہیجڑہ کہیں کا”!!!

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بانو زلیخا ۔۔طلحہ کھرل

                              …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے