سر ورق / افسانہ / ’سفید انقلاب..نعیم بیگ ۔

’سفید انقلاب..نعیم بیگ ۔

 

 ’سفید انقلاب

نعیم بیگ ۔

لاہور ، پاکستان

بہت بڑے پنڈال میں ہزاروں لوگ اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے ہیں۔ سفید سٹیج پر پھولوں کے ایک گلدستے سے سجی مختصر میز کے پیچھے دو خواتین اور دو مرد جلسے کے انعقاد پر پرُجوش اور تمتمائے چہروں کے ساتھ فروکش ہیں۔ درمیان میں ایک کرسی خالی دھری ہے۔ ایک نوجوان ہاتھ میں کاغذ تھامے روسٹرم پر کھڑا سرکار کے خلاف نعرے لگا رہا ہے ،جس کے جواب میں ہال میں بیٹھے لوگوں نے پُرتپاک تالیوں اور جوابی نعروں سے ہال کو سر پر اٹھا رکھا ہے۔

پنڈال کے کے ایک کونے میں ملکی اور غیر ملکی چینلز کے کیمرے اور صحافی لائیو نشریات کے ذریعے پورے ملک میں جلسے کی کاروائی پہنچا رہے ہیں۔۔۔ آج اہم اعلان متوقع ہے۔ لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں ۔ ملک کی تمام بڑے شہروں کی کشادہ سڑکیں بلاک ہو چکی ہیں، عوام ایک ساتھ مل کر اس اہم اعلان کو سننا چاہتے ہیں یہ ملک کی حالیہ سیاسی تاریخ میں تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ظلم و جبر کی سرکار کے خلاف ایک یادگار تاریخی اجتماع بن چکا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں وہ اپنی تحریرو تقریر سے یونیورسٹی سٹوڈنٹ سے ایک عالمی سٹیٹسمین کے طور اپنے سیاسی تشخص کوتصورات سے حقیقی دنیا تک کھینچ لایا تھا۔ دارالحکومت میں اِسکی پہلی تقریر نے ہی اسے مزاحمتی لیڈر کے طور پر قابل اعتبار سیاسی اور سماجی لیڈر کی پہچان دے دی تھی۔ لوگ اُس کی باتوں کو جابجا حوالوں میں بیان کرنے لگے تھے ۔ وہ جانتا تھا کہ ظلم و جبر کی فضا میں عوام کے دلوں میں کیسے اترا جاتا ہے۔ وہ ملک میں سخت ترین سنسر میں بھی عوام تک پہنچ رہا تھا۔ اسی لئے آج وہ ملک کا کامیاب اور باہمت نوجوان لیڈر بن چکاہے۔ اسکے متوسط خاندان کا پس منظر پوری دنیا جانتی ہے۔ لوگوں کو یقین ہے کہ اگلے دِنوں ہونے والے الیکشن میں وہ بھاری اکثریت حاصل کرکے عنانِ مملکت سنبھال لے گا ۔۔۔

اُس کا پہلا ہی نعرہ ’’ ہم ایک قوم ہیں، اور عظیم بن کر دکھا ئیں گے‘‘ پورے ملک میں معروف ہو چکا ہے۔ آج کے بعد ملک کے غریب عوام انقلابی تبدیلی کے خوابوں کی تعبیر پا لیں گے، لیکن اس کے دل میں کسک سی ہے، یقین اور جنون یکسوئی نہیں پا رہے ہیں۔ کیوں؟ اس کا جواب اس کے پاس نہ ہے۔ تاہم وہ اپنے آپ کو سچا لیڈر سمجھتا ہے۔

اسے دیکھ کر ہال اورسٹیج پر بیٹھے سب لوگ کھڑے ہوکر تالیاں بجاتے والہانہ استقبال کرنے لگتے ہیں۔ وہ دھیرے قدموں سے چلتے ہوئے سٹیج پر پہنچ جاتاہے۔ روسٹرم پر کھڑے نوجوان نے اسکی آمد پر کئی ایک جذباتی نعرے لگائے، جس کے جواب میں وسیع پنڈال لگاتار کئی منٹ تک ہیجان خیز نعروں سے گونج اٹھا۔ اِے محسوس ہونے لگا کہ آج وہ اپنی منزل پر پہنچ گیا ہے۔اب سفید انقلاب کو روکنے میں دنیا کی کوئی طاقت حائل نہ ہو سکے گی۔ اس ملک کے کروڑوں عوام اب اس کی ایک پکار پر بوسیدہ نظام کو تہس نہس کر دیں گے۔ لیکن ایک انجانا خوف ابھی تک اس کے ذہن میں چِپکا ہوا تھا۔

دشمنوں کی طرف سے اسقدر خاموشی؟ کیا وہ بند نہیں باندھیں گے؟ کیا ہم پر امن مزاحمت سے اپنے مقاصد کی پایہ تکمیل کر پائیں گے؟ کیا ہم’ سٹیٹس کو‘ کو بدل پائیں گے؟ اسکے ذہن میں ابہام اور خوف کے کئی ایک سانپ لہرا رہے تھے، کیونکہ اس نے دنیا بھر کے انقلابات کی تاریخ پڑھ رکھی تھی۔ سفید انقلاب اس کی نئی اختراح تھی۔ تسوید اس کے ذہن میں ہے لیکن بے رنگ ۔ اندر کے سوالات نے اسے مسلسل بے چین کئے ہوئے ہیں۔

سٹیج پر پہنچتے ہی چاروں خواتین و حضرات احتراماً اسکی نشست کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ۔ سٹیج پر موقع کی مناسبت سے سفید قالین بچھا ہوا ہے۔

روسٹرم پر کھڑے نوجوان نے اسکے قریب پہنچ کر سرگوشی کی۔ اس کے چہرے پر ایک رنگ آکر چلا گیا۔

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے اثبات میں سر ہلایا اور نوجوان کو جلسے کے باقاعدہ اعلان کا کہا۔۔ نوجوان واپس روسٹرم پر گیا اور جلسے کا باقاعدہ اعلان کرنے لگا۔

وہ گھر سے نکلتے ہوئے جگر کے کینسر میں مبتلا بیمار بیوی کو دلاسا دے کر آیا تھا کہ جلد ہی واپس آکر اسکی مکمل دیکھ بھال کرے گا۔ اسے معلوم تھا کہ اسکی لاپرواہی اس عورت کی جان لے لے گی،.لیکن اس کے آدرش بلند تھے اور مقاصد پوری انسانیت کے لئے تھے نا کہ ایک انسانی جان کے لئے۔

وہ اپنی سوچوں کو مجتمع کرنے لگا، چند سیکنڈز کے بعد پوری دینا کے سامنے ایک اہم اعلان ہونے جا رہا ہے ۔ وہ ایک نئے نظام کی بنیاد رکھنے جا رہا ہے جس کا راستہ سرخ انقلاب سے نہیں نکلتا بلکہ سفید انقلاب سے ۔ اِ س کے رفقاء کار بے یقینی میں بھی یقین کی حدوں کو چھو رہے تھے۔

جب اُسے روسٹرم پر دعوت دی گئی تو وہ پر وقار قدموں سے چلتا ہوا روسٹرم پر پہنچ گیا۔ لوگوں کا جوش دیدینی ہے جو استقبالی نعروں سے اسکا خیر مقدم کر رہے ہیں ۔اُس نے لیڈرانہ انداز اپنایا اور ایک ہاتھ کی جنبش سے انہیں خاموش رہنے کی تلقین کی۔ لمحہ بھر میں پورے پنڈال میں پِن ڈراپ خاموشی چھا جاتی ہے۔

’’ پوری دنیا میں پھیلے امن کے سفید انقلابیو! ۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں اپنے تاریخی اعلان کو آپ کے پیش کروں ۔ میں چند اہم کلمات کہنے جا رہا ہوں۔۔۔

ایک بار پھر پورا پنڈال جذبات میں بے قابو ہو گیا۔ ولولے موج در موج متحرک ہو گئے اور لوگوں نے کھڑے ہو کر والہانہ تائیدی نعرے لگائے۔

’’ ۔۔۔آج پوری دنیا جان جائے کہ ہم ظلم و جبر ، آمریت کی آڑ میں چھپنے والی نادیدہ طاقتوں کے خلاف سفید انقلاب کی پہلی اینٹ رکھ رہے ہیں۔ انقلاب ہمیشہ سرخ ہوتے رہے ہیں، لیکن یاد رہے کہ ہم سفید انقلاب کے راستے پر گامزن ہیں، جو نیو جمہور کی سفید شاہراہ سے نکلتا ہے۔ یہ محبت کا سیلاب ہے،آرزؤں کا سمندر ہے، امن و شانتی کی چھم چھم گرتی بارش ہے۔ ہم کسی کا خون نہیں بہنے دیں گے، لیکن ہم اپنی شخصی و آزادیِ تحریر و تقریر کو قربان بھی نہیں ہونے دیں گے۔۔۔آپ کے ووٹ سے سفید انقلاب لائیں گے ۔

وہ ابھی صرف یہی کہہ پایا تھا کہ پنڈال کے داخلی دروازے سے ایک عورت لڑکھڑاتی ہوئی اندر داخل ہوتی ہے۔ اسکے چہرے پر کرب و ابتلا نمایاں ہے۔لوگ پہچان جاتے ہیں وہ اِسکی بیوی ہے۔ اسے سٹیج کی طرف جانے کا راستہ دے دیا جاتا ہے۔ سٹیج پر موجود دونوں خواتین تیزی سے تھامنے کے لئے اس کی جانب بڑھتی ہیں ۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے تھام لیتیں وہ سٹیج کے قریب پہنچ کر لڑکھڑا کر گرتی ہے اور خون کی قے کر کے ساکت ہو جاتی ہے ۔

سفید قالین پر پھیلے خون کے سرخ چھینٹے سفید انقلاب کی نیو میں پہلی سرخ اینٹ بن جاتے ہیں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بانو زلیخا ۔۔طلحہ کھرل

                              …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے