سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 36  سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 36  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 36
سید انور فراز

شبینہ کے والد کا معترض ہونا بجا تھا، شبینہ ان کی بہت لاڈلی اور آخری بیٹی تھی، اس کے لیے یقیناً ان کے اپنے خواب ہوں گے جب کہ رشتہ ایک ایسے شخص کا آیا تھا جو تین بچوں کا باپ اور عمر میں بھی زیادہ تھا، کچھ عرصہ یہ سلسلہ ء جنبانی جاری رہا اور جب انھوں نے دیکھا کہ ان کی بیٹی بھی اس رشتے پر رضا مند ہے تو بعض شرطیں رکھ دیں جنھیں ہم نے قبول کرلیا اور اس طرح بالآخر رشتہ طے ہوگیا۔
شیبنہ کے والد بنیادی طور پر زمیں دار تھے، زمیں دارانہ ہی مزاج کے مالک تھے لیکن ایک طویل عرصے سے ان کی کاروباری پوزیشن ٹھیک نہیں تھی لہٰذا ہمارا خیال یہ تھا کہ یہ شادی بہت سادگی سے انجام پاجائے گی، ہماری اپنی مالی پوزیشن بھی ایسی ہی تھی جیسی ایک لگی بندھی تنخواہ پانے والے کی ہوتی ہے،یہ بھی طے ہوا کہ شادی سے پہلے ہی شبینہ ادارے سے استعفی دے کر گھر تک محدود ہوجائیں گی، معراج صاحب کو اس کا بڑا ملال تھا کہ ایک اچھا کارکن ہاتھ سے جارہا ہے لیکن انھوں نے نہایت فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شبینہ کو رخصت کیا اور اس رخصتی تقریب کا دفتر میں خصوصی اہتمام کیا گیا جس میں دفتر کے تمام ہی افراد شریک ہوئے۔
کہاں سے چلے تھے، کہاں آگئے ہیں
غالباً اگست یا ستمبر 1992 ء کا ذکر ہے،دفتر میں دو لڑکیاں ہمارے پاس آئیں جن میں سے ایک کا نام شبینہ رزاق تھا اور ہمیں کہانی دی کہ آپ پڑھ لیں ، اگر قابل اشاعت ہو تو اس نمبر پر اطلاع دے دیجیے گا، ہم نے حسب معمول سرسری نظر سے مسودے کو دیکھا اور دراز میں ڈال دیا، کئی روز بعد جب فرصت ہوئی تو کہانی پڑھی اور ہم چونک پڑے، کہانی میں جان تھی، زبان و بیان عمدہ تھا چناں چہ ہم نے انھیں اطلاع دی کہ آپ دفتر آکر ملاقات کریں، اس بار شبینہ کے ساتھ ان کی ایک دوسری سہیلی شاہدہ تھیں، اب ہمارا انداز انٹرویو لینے کا سا ہوگیا جس کا لب لباب یہ تھا ۔
کہانی پڑھنے اور لکھنے کا شوق ابتدا ہی سے تھا، اسی شوق نے انھیں سچی کہانیاں میں شمیم نوید صاحب تک پہنچادیا، شمیم بھائی نے ملازمت کی آفر دے دی جو قبول کرلی گئی ، اس طرح ڈائجسٹوں سے جڑنے کا آغاز سچی کہانیاں سے ہوا، شمیم نوید نہایت نرم مزاج اور مشفق بزرگوں کی طرح تھے، بہت سے لوگوں نے کسب فیض کیا، اسی ملازمت کے دوران میں ان کے والد صاحب کو کسی ہنگامی صورت حال میں کراچی سے اندرون سندھ شفٹ ہونا پڑا لہٰذا مجبوراً سچی کہانیاں بھی چھوڑنا پڑا، خاصے طویل وقفے کے بعد کراچی واپسی ہوئی تو پرانا شوق پھر نمودار ہوا، شمیم نوید سچی کہانیاں چھوڑ چکے تھے لہٰذا انھوں نے سرگزشت کا رخ کیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم نے بھی وہی کیا جو شمیم نوید نے کیا تھا، یعنی انھیں اپنے آفس میں جاب کی پیشکش کردی جسے فوراً ہی قبول کرلیا گیا، اس طرح دسمبر 92 ء سے وہ ہماری معاون کے طور پر کام کرنے لگیں، جاسوسی اور سرگزشت دونوں کی پروف ریڈنگ ان کے ذمے تھی، گویا حسام بٹ اور بلال احمد کے ساتھ وہ بھی یہ دونوں پرچے پڑھ رہی تھیں مزید یہ کہ ان کی کہانیاں بھی شائع ہونے لگیں ، جاسوسی کے جیل نمبر میں بھی ٹائٹل اسٹوری شبینہ کی تھی، دوسری طرف پاکیزہ میں بھی ان کے لیے ایک بڑا میدان موجود تھا لیکن 1997 ء میں وقت نے ایک نئی کروٹ لی اور 5 دسمبر کو نکاح کے بندھن میں بندھ کر وہ ہمارے گھر آگئیں، اس حوالے سے بھی کچھ دلچسپ باتیں یادگار ہیں۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ہم چاہتے تھے کہ ہماری دوسری شادی نہایت سادگی اور خاموشی سے انجام پائے، شبینہ کے والد بھی اپنی کاروباری سرد بازاری کے سبب اس حوالے سے خاموش خاموش سے تھے، رشتہ طے ہونے کے تقریباً تین ماہ بعد اچانک اور بالکل غیر متوقع طور پر شبینہ کے والد کی گویا لاٹری نکل آئی، ان کی بعض زمینیں بہت اچھے داموں میں فروخت ہوگئیں، اب کہاں وہ کسی سادگی پر ماننے والے تھے ، انھوں نے کھل کر اعلان کردیا کہ یہ میری آخری بیٹی ہے اور اس کی شادی میں بہت دھوم دھام سے کروں گا اور دل کے سارے ارمان نکالوں گا، اب ہماری کیا مجال کہ ہم ان کے ارمانوں کا خون کرتے،چناں چہ کارڈ چھپوائے گئے، ہال بک ہوا لیکن ان دنوں شادیوں میں کھانے پر پابندی عائد تھی، کشمیری چائے اور ایسے ہی کچھ لوازمات لڑکی والوں کی طرف سے رکھے جاتے تھے، بہر حال ابوالصفہانی روڈ کے ایک ہال میں اس تقریب کا اہتمام ہوا، صحافت و ادب کی اہم شخصیات نے شرکت کی، ہمارے دفتر کے علاوہ قومی اخبار اور دیگر اداروں کے احباب بھی شریک رہے، وسعت اللہ خان ان دنوں بی بی سی لندن میں ہوا کرتے تھے ، اتفاقاً کسی کام سے کراچی آئے اور ائرپورٹ سے سیدھے غلام قادر سے ملنے چلے گئے کہ دونوں میں پرانی یاری تھی، قادر انھیں بھی پکڑ کر شادی میں لے آئے،گویا وہ ائرپورٹ سے قادر کے پاس اور قادر کے ساتھ شادی ہال پہنچ گئے۔
اس تقریب کی دیگر بہت سی دلچسپ باتوں کے علاوہ ایک یادگار بات یہ ہے کہ خان آصف وہ واحد شخصیت تھے جنھوں نے ہماری دونوں شادیوں میں شرکت کی، وہ معراج صاحب اور اعجاز صاحب کے ساتھ ہمارے قریب ہی بیٹھے مسلسل اپنی فقرے بازیوں سے ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے رہے۔
اس شادی خانہ آبادی نے اچانک ہماری زندگی میں تبدیلی کی ایک نئی لہر پیدا کردی، اب مستقل دفتر میں رہنا، ممکن نہیں رہا اور شبینہ کو بھی یہ بات پسند نہ تھی لہٰذا ایک بار پھر نیو کراچی سے آئی آئی چندریگر روڈ کے چکر لگنا شروع ہوئے، دفتر سے چھٹیاں بھی ہونے لگیں جس پر سب سے دلچسپ تبصرہ منظر امام نے کیا، ایک روز وہ دفتر آئے تو ہم موجود نہیں تھے اور انھیں بتایا گیا کہ ایک روز پہلے بھی ہم دفتر نہیں آئے تھے، یہ سن کر منظر برجستہ بولے’’یار! وہ بندی دفتر میں تھی تو یہ شخص گھر نہیں جاتا تھا، اب وہ گھر پہنچ گئی ہے تو یہ دفتر نہیں آتا‘‘
***
بلال احمد شاید دو تین سال پہلے ادارہ چھوڑ چکے تھے اور ان کی جگہ مکمل طور پر شبینہ نے سنبھال رکھی تھی، اب شبینہ کی جگہ لبنیٰ خیال نے لے لی، اس کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں ، ہمارے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ روزانہ نیو کراچی سے دفتر آنے اور جانے کا تھا، شادی کو شاید ایک مہینہ ہی گزرا ہوگا کہ ایک انٹرنیشنل ادارے کی طرف سے شبینہ کو جاب کی آفر ہوئی، یہ پاکستان کا مشہور ادارہ IUCN تھا جو اردو زبان میں ماحولیات کے موضوع پر ایک میگزین ’’جریدہ‘‘ کے نام سے شائع کرتا تھا، اس کے ایڈیٹر عبیداللہ بیگ مرحوم تھے، شبینہ نے ہم سے مشورہ کیا کہ یہ ایک ہاف ٹائم جاب ہے اور مجھے ماحولیات کے شعبے سے خصوصی دلچسپی بھی ہے، وہ پہلے بھی اس ادارے کی طرف سے عبیداللہ بیگ صاحب کے ساتھ جے ڈی پی کی ملازمت کے دوران میں ہی ایک ٹور پر جاچکی تھیں، شاید اسی وقت بیگ صاحب کی نظر میں آئیں اور انھوں نے جگہ نکلی تو انھیں دعوت دے دی، اگرچہ گھریلو صورت حال اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ جاب کریں، صبح بچوں کو تیار کرکے اسکول بھیجنا اور پھر دوپہر کو ریسیو کرنا لیکن چوں کہ جاب ٹائم دوپہر 2 بجے سے شام 6 بجے تک تھے لہٰذا ہم نے اجازت دے دی، شبینہ کی یہ جاب ان کے لیے بہت لکی ثابت ہوئی،ایک انوائرمینٹل جرنلسٹ کے طور پر وہ اپنا نمایاں مقام بنانے میں کامیاب ہوئیں، عبیداللہ بیگ صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد جریدے کی ایڈیٹر طویل عرصے تک رہی اور آج تک ہیں، اگرچہ اب جریدہ زیادہ پابندی سے شائع نہیں ہوتا، اسی دوران میں انھوں نے ماحولیات کے موضوع پر روزنامہ جنگ میں لکھنا شروع کیا، اس طرح آہستہ آہستہ ان کی شہرت اور مقبولیت میں اضافہ ہوا، بہت سے ایوارڈ حاصل ہوئے، خاص طور پر پاکستان کی بہترین ماحولیاتی صحافت کے حوالے سے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ایوارڈ سے نوازا، یہ شعبہ انھیں ایسا راس آیا کہ اس کی وجہ سے دنیا بھر کے مفت دورے بھی کرنے کا موقع ملا جب کہ اس سے پہلے وہ کبھی پاکستان سے باہر نہیں گئی تھیں، 2003 ء میں باقاعدہ جاب سے استعفیٰ دے کر خود کو گھر تک محدود کرلیا اور لکھنے پڑھنے کا کام گھر پر رہ کر ہی جاری رکھا، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
ہمارے بہت سے دوست احباب کا خیال تھا کہ یہ شادی کامیاب نہیں ہوگی، انھیں ڈر تھا کہ شاید بچے شبینہ کو قبول نہ کریں لیکن ان کے اندازے غلط ثابت ہوئے، دوستوں میں سب سے زیادہ منہ پھٹ اور شرارتی شعبہ ء اشتہارات سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست عامر ملک ہیں، وہ اپنی فیملی کے ساتھ شادی میں بھی شریک تھے، ان کی بیگم سے شبینہ کے اچھے مراسم قائم ہوگئے، اسی طرح روبینہ رشید سے بھی شبینہ کے دفتر کے زمانے ہی سے اچھے مراسم تھے جو بعد میں اور بھی گہرے ہوتے چلے گئے، عامر اور روبینہ نے ہمارے بچوں اور شبینہ کے تعلقات کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے اور اس بات پر ہمیشہ اطمینان کا اظہار کیا کہ انھیں کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ ہماری بیٹیاں شبینہ کی بیٹیاں نہیں ہیں، ہمارے ایک اور دوست سید اشتیاق علی جو عامر ملک کے بھی قریبی دوستوں میں ہیں، ہمیشہ معترض رہتے تھے اور شادی کی ناکامی کے فتوے دیتے رہتے تھے لیکن جب وہ ہمارے بیٹے کی شادی میں شریک ہوئے تو انھوں نے اپنی بیگم سے شبینہ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ اس خاتون نے مجھے حیران کردیا ہے ، فراز صاحب کے بچوں کو اس طرح اپنالیا کہ درمیان سے غیریت کا ہر پردہ اٹھ گیا، قصہ مختصر یہ کہ ہم اس اعتبار سے شاید خوش قسمت ترین انسان ہیں کہ ہمیں دونوں بیویاں بہت اچھی ملیں، شبینہ اس کے باوجود کہ لکھنے پڑھنے اور جاب کرنے میں مصروف رہیں مگر گھریلو ذمے داریاں بھی بھرپور طریقے سے ادا کرتی رہیں اور کر رہی ہیں۔
ہجرت در ہجرت
سال 1998 ء ہمارے لیے کافی مشکل سال رہا جس کی پہلی وجہ تو گھر اور دفتر کے درمیان طویل فاصلہ تھا، شبینہ کو بھی نیو کراچی سے IUCN کے دفتر واقع کلفٹن آنا جانا ایک عذاب تھا لہٰذا ہم نے ایک بار پھر گھر تبدیل کرنے کا ارادہ کرلیا، فوری طور پر ایک ایسے علاقے میں شفٹ ہوئے جہاں رہنے کے بارے میں شاید پہلے کبھی سوچ بھی نہ سکتے تھے کیوں کہ یہ علاقہ کراچی میں خاصا پسماندہ شمار ہوتا ہے حالاں کہ شہر کے قلب میں واقع ہے، عرف عام میں اسے ’’گھاس منڈی‘‘ کہا جاتا ہے، جرائم کے حوالے سے بھی یہ علاقہ شہرت یافتہ رہا ہے لیکن یہاں پر فلیٹوں کے کرائے بہت کم تھے چناں چہ اپریل 1998 ء میں ہم وہاں شفٹ ہوگئے، اس طرح ہمیں ، شبینہ کو اور ہمارے صاحب زادے کو جو سندھ مدرستہ الاسلام میں داخل ہوگئے تھے گھر سے قریب ہونے کی سہولت حاصل ہوگئی، پہلی وائف کے انتقال کے بعد ہم نے بیٹے کو اپنے چھوٹے بھائی سید واجد علی کے حوالے کردیا تھا، اس کا قیام آئی آئی چندریگر روڈ پر روزنامہ جنگ کے قریب ہی تھا اور وہ سندھ مدرسہ میں ٹیچنگ کر رہے تھے، گزشتہ سال ہی وائس پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔
اس سال اگر ہماری گھریلو مصروفیات میں اضافہ ہوا تو ساتھ ہی کچھ دوسری مصروفیات بھی بڑھ گئیں، قومی اخبار کے مالک و مدیر الیاس شاکر مرحوم اوران کے پارٹنر جناب مختار عاقل کے درمیان علیحدگی ہوگئی جس کے نتیجے میں روزنامہ جرأت مختار عاقل کے حصے میں آیا، اگرچہ ہمارے مراسم الیاس شاکر سے بہت پرانے تھے لیکن ہمارا مزاج مختار عاقل سے ملتا تھا، ہمارے درمیان مختلف موضوعات پر اکثر گفتگو ہوتی اور عاقل صاحب ہمیں اخبار میں پیراسائیکولوجی کے موضوع پر لکھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے لیکن ہم الیاس شاکر کی وجہ سے کبھی آمادہ نہ ہوئے، جب مختار عاقل شاکر صاحب سے علیحدہ ہوگئے تو انھوں نے ہم سے کہا کہ اب آپ جرأت میں نہ لکھنے کے لیے کون سا بہانہ تراشیں گے؟
ہمارے لیے جاسوسی اور سرگزشت کی ذمے داریاں تو ہماری ڈیوٹی کا حصہ تھیں اس کے علاوہ ماہنامہ پاکیزہ میں بھی ایسٹرولوجی کا ایک کالم ہم نے اپنی مرحوم بیگم کے نام سے شروع کر رکھا تھا، اب عاقل صاحب بضد تھے کہ پیراسائیکولوجی اور دیگر اکلٹ سائنسز پر بھی روزنامہ جرأت میں ہفتہ وار کالم لکھیں ، ہم انھیں ٹالتے رہے اور آج کل کرتے رہے، ایک روز جب اخبار ہمارے سامنے آیا تو اس میں ایک اشتہار ہمارے سر پر کسی بم کی طرح پھٹا جس میں بتایا گیا تھا کہ آئندہ ہفتے سے سید انور فراز ماہر فلاں فلاں کا کالم ’’بات سے بات‘‘ ملاحظہ کیجیے۔
اشتہار دیکھ کر ہم فوراً عاقل صاحب کے پاس پہنچے تو وہ ہمیں دیکھ کر مسکرائے ، واضح رہے کہ وہ ہنستے کم ہیں، مسکراتے زیادہ ہیں، بولے ’’اب آپ پر لازم ہے کہ کالم لکھ کر کم از کم ایک روز پہلے ہمارے میگزین ایڈیٹر جمال فریدی کو پہنچادیں، اب کسی بھی عذر کی گنجائش نہیں ہے‘‘
ہم نے بہت دائیں بائیں کی باتیں کیں ، اپنی مصروفیت کا رونا رویا مگر عاقل صاحب نہ مانے، چناں چہ مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق لکھنا شروع کردیا اور چند ہفتے بعد ہی اس کالم نگاری میں ہماری اپنی دلچسپی بڑھتی چلی گئی، پہلا کالم 8 مارچ 1998 ء کو شائع ہوا تھا، پھر یہ سلسلہ کبھی بند نہ ہوا، الا یہ کہ 2017 ء میں مختار عاقل صاحب نے جرأت اخبار کو فروخت کردیا ، اخبار کی نئی ایڈیٹر شپ کا اپنا مزاج ہے، وہ اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے کہ جو مستقل کالم گزشتہ تقریباً بیس سال سے پورے صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے اس کی کیا اہمیت ہے، اگرچہ انھوں نے ہم سے کالم بند کرنے کے بارے میں کبھی نہیں کہا کیوں کہ نئے ایڈیٹر محمد طاہر بھی ہمارے واقف رہے ہیں لیکن ان کی بعض حکمت عملیوں سے ہمیں اختلاف پیدا ہوا اور ہم نے خود ہی روزنامہ جرأت سے تعلق توڑ لیا، اس دوران میں مختار عاقل صاحب نے ایک اور پرچا روزنامہ فرض کے نام سے شروع کیا اور اب یہ کالم اس میں شائع ہورہا ہے۔
اس کالم سے ہماری آشنائی ایک نئی دنیا سے ہوئی، یہ دنیا گوں نا گوں مسائل کی دنیا ہے جس سے ہر شخص دوچار ہے، ایسا ہی ایک سلسلہ ہم نے ماہنامہ پاکیزہ میں بھی ’’مسیحا‘‘ کے نام سے شروع کیا تھا ۔
ہمارے ساتھ ایک عجیب و دلچسپ مسئلہ ساری زندگی یہ رہا کہ ہم نے جو شوق زندگی میں اپنائے وہ کبھی نہ کبھی ہمارے کام آئے اور ہمارا پروفیشن بن گئے، ابتدا سے شعر و افسانہ سے دلچسپی تھی، تمام شعرا کو پڑھ ڈالا اور خود بھی شعر گوئی کی طرف راغب ہوئے، کہانی سے لگاؤ تھا چناں چہ افسانہ یا ناول ہماری کمزوری بنا اور ہر قسم کے ناول چاٹ لیے ، ایک زمانے میں آمدنی میں اضافے کے لیے کہانیاں بھی لکھیں ، فلم ، ڈراما، موسیقی سے دلچسپی رہی اور اس حوالے سے بھی مطالعے اور مشاہدے کا فائدہ ماہنامہ سرگزشت میں کام آیا، تاریخ ابتدا ہی سے ہمارا پسندیدہ موضوع رہا، ابتدا تاریخی ناولوں سے ہوئی اور پھر مستند تاریخی کتب بھی زیر مطالعہ آئیں، 1970 ء سے اکلٹ سائنسز سے دلچسپی پیدا ہوئی اور یہ شوق کبھی کم نہ ہوا، 1985 ء میں محترم حنیف اسعدی صاحب سے مراسم ہوئے تو ہومیو پیتھی سے واقفیت ہوئی اور پھر اپنے دفتر میں بھی ہومیو پیتھی کے چرچے دیکھے تو اس طرف متوجہ ہوگئے، 1998 ء میں معراج رسول صاحب بھی ہومیو پیتھی کے مکمل طور پر اسیر ہوچکے تھے اور ہومیو پیتھی کی سیکڑوں کتابیں ان کے زیر مطالعہ رہتی تھیں، اسی طرح سیکڑوں دوائیں بھی ان کے دفتر سے گھر تک میں موجود رہتی تھیں۔
الغرض ہمارے سارے شوق ہی بالآخر ہمارا پروفیشن بنتے چلے گئے۔
ہم پہلے بھی نشان دہی کرچکے ہیں کہ ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز ان سالوں میں اپنے زوال کا سفر شروع کرچکا تھا، معراج صاحب دیگر خانگی مسائل کے علاوہ صحت کے مسائل کا بھی مقابلہ کررہے تھے،پہلی وائف کے انتقال نے ہماری دنیا بھی بدل کر رکھ دی تھی، ہمیں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ہمیں اپنی بقا کی ایک اور جنگ لڑنا پڑے گی جس کے لیے کسی نئے میدان کا انتخاب بھی ضروری ہوگا۔
رمضان چیمبرز آف آئی آئی چندریگر روڈ میں قومی اخبار کے دفاتر پھیلتے چلے جارہے تھے، الیاس شاکر ایک ایک کرکے اس بلڈنگ کے تمام دفاتر کو حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھے، اخباری سرگرمیوں کے سبب یہ بلڈنگ رات و دن جاگتی رہتی تھی، اب معراج صاحب کو بھی یہ خیال پیدا ہورہا تھا کہ جے ڈی پی کے دفاتر کسی اور جگہ منتقل کردیے جائیں چناں چہ الیاس شاکر سے بہتر خریدار کوئی اور نہیں ہوسکتا تھا، آخر کار تمام دفاتر کا سودا طے ہوگیا اور معراج صاحب نے ڈیفنس فیز ٹو 63-C ایک دوسری گراؤنڈ پلس 2 عمارت خرید لی، مارچ 1999 ء میں جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے دفاتر یہاں منتقل ہوگئے، بے شک یہ ایک بالکل الگ تھلگ ، پرسکون ماحول تھا لیکن ہمارے لیے پھر ایک نیا چیلنج درپیش تھا، ایک بار پھر گھر اور دفتر کے درمیان فاصلے بڑھ گئے تھے۔
ہماری رہائش گھاس منڈی کے علاقے میں تھی ، ہم نے دفتر کے قریب ڈیفنس ہی میں گھر تلاش کرنا شروع کیا تو کرائے سن کر طبیعت صاف ہوگئی،بہر حال آج کے مقابلے میں وہ پھر بھی سستا زمانہ تھا، ڈیفنس فیز ون میں ایک میجر صاحب کا مکان پانچ ہزار روپے مہینہ کرائے پر مل گیا اور ہم دفتر کے قریب شفٹ ہوگئے لیکن اس وقت ہماری تنخواہ 8 ہزار روپے مہینہ تھی اور ایک لمبے عرصے سے دفتر میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا تھا، عذر یہی تھا کہ پرچوں کی اشاعت ایک جگہ پر رکی ہوئی ہے، کاغذ ، پرنٹنگ اور دیگر تمام دیگر لوازمات مہنگے ترین ہوچکے ہیں لہٰذا تنخواہوں میں مزید اضافہ نہیں کیا جاسکتا چناں چہ دفتر کے اکثر لوگ ہم سمیت اپنی آمدن میں اضافے کے لیے کچھ دوسرے ذرائع بھی اختیار کرتے، ہمیں پاکیزہ میں کالم نگاری کا معاوضہ علیحدہ سے ملتا تھا پھر روزنامہ جرأت میں کالم لکھنے سے بھی فوائد حاصل ہوتے مگر اس کے باوجود گزارا بہت مشکل ہوگیا تھا۔
اسی سال 1999 ء میں آفس میں کچھ تبدیلیاں ہوئیں، ہما انصاری کو سسپنس سے فارغ کردیا گیا، اس کی وجہ ہم پہلے شاید لکھ چکے ہیں کہ وہ عذرا رسول صاحبہ کو دیکھ کر ان کے احترام میں کھڑی نہیں ہوئی تھیں، ان کی جگہ ایک نئے صاحب جعفر حسین نے لے لی، اسی سال میں سرکش کا اختتام ہوا اور اقبال کاظمی کی آتش فشاں شروع ہوئی، معراج صاحب کی صحت کے مسائل نہایت سنجیدہ ہونے لگے، ان کی اینجیو گرافی سے معلوم ہوا کہ دل کے والو بلاک ہیں، اوپن ہارٹ سرجری کا مشورہ دیا گیا جس کے لیے وہ لندن گئے اور الحمد اللہ نہایت کامیابی سے یہ مسئلہ حل ہوگیا، وہ شوگر پیشنٹ تو پہلے ہی سے تھے ، یہ ان کی خاندانی بیماری تھی، والد صاحب کے علاوہ چھوٹے بھائی اعجاز رسول بھی شوگر کے مریض تھے، اتنے سارے صحت کے مسائل کی موجودگی میں ان کی ہومیوپیتھی سے دلچسپی بہت غنیمت تھی، چھوٹے موٹے معاملات کو ہومیوٹریٹمنٹ کے ذریعے نمٹالیا کرتے تھے، ڈیفنس آنے کے بعد ہمارے ہومیوپیتھک استاد ڈاکٹر اعجاز حسین بھی ہم سے بہت قریب ہوگئے تھے، ہم نے معراج صاحب سے بھی انھیں ملوادیا ، معراج صاحب نے انھیں بہت پسند کیا اور اب صورت حال یہ تھی کہ ہر جمعہ کو معراج صاحب ڈاکٹر اعجاز صاحب کے گھر ضرور جاتے اور تقریباً دو گھنٹے کی نشست ہوتی، ہم ساتھ ہوتے اور مختلف بیماریوں اور ان کے علاج معالجے پر گفتگو ہوتی۔
ڈاکٹر اعجاز حسین ایک باکمال اور بے لوث انسان تھے، معراج صاحب کو ان کی یہی ادا پسند آگئی تھی ورنہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ محمود آباد کے قریب ایک پسماندہ بستی لیاقت اشرف کالونی جیسی جگہ معراج صاحب پابندی سے جائیں اور اعجاز صاحب کے نہایت معمولی سے گھر میں واقع ایک کوٹھری نما بیٹھک میں دو گھنٹہ بیٹھے رہیں، وہ شخص جو دفتر تو کیا اپنی کار میں بھی ائرکنڈیشن کے بغیر نہ رہتا ہو، اس کوٹھری میں دو گھنٹے خوشی خوشی گزارے، بعد میں خود اعجاز صاحب نے معراج صاحب کی اس محبت کا احساس کرلیا اور دفتر آنے پر تیار ہوگئے،چناں چہ جمعہ کے روز دفتر سے گاڑی بھیج دی جاتی اور اعجاز صاحب دفتر آجاتے، شام پانچ چھ بجے تک دفتر ہی میں نشست رہتی بعد میں ڈرائیور کے ذریعے ہی انھیں بھیج دیا جاتا۔
تمام اہل علم و فن خواہ وہ مالی اعتبار سے کتنے ہی کمزور حیثیت کے حامل کیوں نہ ہوں لیکن ان کی علمی انا بہت بلند ہوتی ہے اور یہی بات ڈاکٹر اعجاز صاحب میں تھی، اپنے محلے میں بھی وہ ایک بددماغ ڈاکٹر کے طور پر مشہور تھے، بعض لوگ انھیں ’’ڈاکٹر مرچی‘‘ کہا کرتے تھے، جب ہم نے معراج صاحب سے ان کی ملاقات کا اہتمام کرنا چاہا تو ڈاکٹر صاحب نے اپنی انا کے تحت فرمایا ’’بھئی! میں تو کہیں آتا جاتا ہوں نہیں، اگر وہ میرے چھوٹے سے غریب خانے کو رونق بخشیں تو خوش آمدید‘‘
معراج صاحب بھی بڑے جہاں دیدہ اور اہل علم و فن کی قدر کا شعور رکھنے والے انسان تھے، انھوں نے ہم سے یہ نہیں کہا کہ اپنے استاد ڈاکٹر اعجاز صاحب کو دفتر بلوائیں، وہ خود ان کے گھر جانے کے لیے تیار ہوگئے حالاں کہ ان کے اس فیصلے سے ہم تھوڑی دیر کے لیے پریشان ہوگئے تھے اور انھیں بتایا کہ ان کا گھر کہاں ہے اور اپنی جمعہ کی چھٹی وہ گھر کی چھوٹی سی بیٹھک میں کس طرح گزارتے ہیں لیکن معراج صاحب نے کسی بات کی پروا نہ کی، ان کا یہ اقدام ڈاکٹر اعجاز کو موم کرنے میں کامیاب رہا، واضح رہے کہ ڈاکٹر اعجاز صاحب جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ کے طویل عرصے سے مستقل قاری بھی تھے، معراج صاحب نے ان سے کہا کہ اب آپ پرچے بازار سے نہیں لیں گے، قصہ مختصر یہ کہ اس سال معراج صاحب کی اور ہماری مصروفیات میں یہ ایک نیا اضافہ تھا۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 34  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے