سر ورق / ناول / ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 6

ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 6

ساڈا چڑیا دا چنبا

نفیسہ سعید

قسط نمبر 6

شفا زارو قطار رو رہی تھی کمرے میں ردا اور احتشام صاحب کے علاوہ حمزہ، امان اور جنید بھی موجود تھے۔ سکندر نے فرداً فرداً سب کو ہی فون کرکے شفا پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ نبیرہ کو سنان کے پیغامات پہنچاتی ہے سکندر نے جو کچھ کہا وہ صرف جھوٹ کا پلندہ تھا یہ بات کمرے میں موجود ہر شخص جانتا تھا ان کی سمجھ میں ہی نہ آرہا تھا کہ سکندر کی اس گھٹیا حرکت کا مقصد کیا ہے؟ احتشام صاحب کی صالح محمد سے بھی تفصیلی گفتگو ہو چکی تھی۔ انہوں نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ وہ نبیرہ کے گھر جا کر ساری صورتحال معلوم کریں اور پھر انہیں بتائیں۔

”شفا پلیز تم چپ کرو کیوں اس طرح ہلکان ہو رہی ہو۔“ آخر حمزہ سے برداشت نہ ہوا تو بول ہی پڑا۔

”حمزہ تم سوچ نہیں سکتے سکندر بھائی نے میرے ساتھ کتنی بدتمیزی کی ہے۔“

”بات تم سے کی جانے والی بدتمیزی کی نہیں ہے، سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب وہ ہزاروں میل دور تم سے اس طرح کا گھٹیا لہجہ استعمال کر سکتا ہے تو اس کا انداز گفتگو نبیرہ کے ساتھ کیسا ہو گا؟“

”یہ ہی سوچ سوچ کر میری جان سولی پر ٹنگی ہے جانے میری بچی کس حال میں ہو گی پلیز آپ کسی طرح امان کو بھیجیں وہ جا کر اسے واپس لے آئے۔“ حمزہ کی بات نے ردا کی بے چینی میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔

”ہر مسئلہ اتنے جذباتی ہو کر حل نہیں کیا جاتا، کام سوچ سمجھ کر کرنے والا ہے غیر ملک کا مسئلہ ہے سو طرح کے پرابلم ہوتے ہیں، میں نے بھائی صالح سے کہا ہے انشاءاللہ جو بھی ہو گا اللہ بہتر ہی کرے گا۔“

پریشان تو احتشام صاحب بھی تھے مگر یہ وقت واویلا کرنے کا نہ تھا یہ ہی وجہ تھی کہ انہوں نے ردا کو اپنی طرف سے تسلی دینے کی ناکام کوشش کی۔

”میری معصوم بچی کی زندگی برباد ہو گئی آپ نے بغیر سوچے سمجھے پرائے دیس بیاہ دیا، جانے کس گناہ کی سزا تھی جو سکندر جیسا شوہر اس کا مقدر ٹھہرایا گیا بھلا وہ اس گھٹیا آدمی کے قابل تھی۔“ ردا رونے لگیں ان کا بس نہ چلتا تھا وہ اڑ کر نبیرہ کے پاس چلی جائیں۔

”یہ سب نصیب کی بات ہوتی ہے خاتون ورنہ ماں باپ جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اپنی اولاد کے بھلے کیلئے کرتے ہیں باپ یا ماں اپنی اولاد کے دشمن نہیں ہوتے۔“ احتشام صاحب نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہولے ہولے سمجھایا۔

”ماں باپ نہیں ہوتے تو کیا بھائی ہوتے ہیں؟“ ردا نے جنید پر ایک نظر ڈالتے ہوئے تلخی سے سوال کیا۔

”صاف بات تو یہ ہے سگے بھائی نے اپنی جھوٹی انا کیلئے میری بچی کو سولی چڑھا دیا ایسی کیا برائی تھی سنان میں جس کی بنا پر آپ نے اسے رشتہ دینے سے انکار کیا تھا ذرا لاابالی ہی تھا نا وقت کے ساتھ خود ہی سمجھ جاتا ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی بھلا کوئی اس طرح بھی کرتا ہے جو آپ لوگوں نے کیا وہ کون سی خوبی ہے سکندر میں جو اسے سنان سے نمایاں کرتی ہے یہ صرف جنید نے اپنی ضد کیلئے میری بیٹی کے نصیب پر سیاہی مل دی۔“ لاوا جو ردا کے دل و دماغ میں کئی عرصہ سے پک رہا تھا ابل کر باہر آگیا ردا کے الفاظ نے جنید کوجی بھر کر شرمندہ کیا وہ بنا کچھ کہے خاموشی سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا امان نے آگے بڑھ کر اپنی بلکتی ہوئی ماں کو سینے سے لگا لیا وہ خود بھی بہت پریشان تھا اس کی سمجھ میں نہ آرہا تھا وہ فوری طور پر ایسا کیا کرے جس سے نبیرہ کی کھوئی ہوئی خوشیاں اسے واپس لوٹا سکے۔

QQQQ

”اور اگر میں تمہیں نہ ملی تو….“ وہ کھکھلاتے ہوئے ہنس کر بولی۔

”تو شاید میں مر ہی جاﺅں گا مجھے وہ زندگی ہی نہیں چاہئے جس میں تم نہ ہو۔“

”جھوٹ سو فیصد جھوٹ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔“

”کیوں نہیں ہو سکتا؟ کیا تم مجھے اتنا ڈھیٹ سمجھتی ہو جو مجھ پر تمہاری دوری کا کوئی اثر ہی نہ ہو گا۔“ وہ ذرا اسی ناراضگی سے بولا۔

”تم ڈھیٹ نہیں ہو لیکن سچ تو یہ ہے کہ کوئی کسی کے بنا مرتا نہیں ہے یقین نہ آئے تو آزما لینا، آزمائش شرط ہے۔“ وہ پھر سے ہنسی اس نقرئی ہنسی کی آواز نے سنان کو بے چین کر دیا اس نے پٹ سے اپنی آنکھیں کھول دیں کمرے میں گہرا سکوت طاری تھا وہ ایک گہری سانس لیتا ہوا اٹھ بیٹھا تکیے کے نیچے سے سگریٹ اور لائٹر نکالا کھڑے ہوتے ہوئے اپنے بال دونوں ہاتھوں سے سنوارے، کمرے کا دروازہ کھول کر چاہا کہ باہر نکل جائے اسی دم رحاب کے الفاظ نے اسے ساکت کر دیا وہ غالباً کچھ دیر قبل آئی تھی اور اس وقت شبنم کو اپنے سسرال میں پیش آنے والے کسی تازہ واقعہ کی بابت بتا رہی تھی جس کا تعلق شاید نبیرہ کی ذات سے تھا یہ ہی وجہ تھی جو نبیرہ کا نام سنتے ہی سنان دروازے میں ہی رک گیا۔

”مجھے نہیں لگتا اس کا شوہر اب اسے رکھے گا۔“

”اللہ نہ کرے جو ایسا ہو، ذرا سوچ سمجھ کر بولا کرو۔“ شبنم نے ذرا سی خفگی سے رحاب کو ٹوکا جو بلا تکان اپنا تجزیہ پیش کر رہی تھی۔

”نہیں امی یہ سچ ہے سکندر بہت بدتمیز آدمی ہے جنید بتا رہے تھے اس نے فون پر شفا کے ساتھ بھی بہت بدتمیزی کی ہے۔“

”چلو اللہ جو کرے بہتر ہی کرے ہم کیوں کسی کیلئے برا سوچیں۔“

”بہرحال یہ تو کنفرم ہے کہ….“ الفاظ رحاب کے منہ میں ہی رہ گئے، سنان کمرے سے باہر نکل آیا تھا اس پر نظر پڑتے ہی رحاب نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

”امی مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔“ وہ سگریٹ سلگاتا ہوا بولا کافی عرصہ سے وہ اسی طرح سرعام سگریٹ پیتا تھا حالانکہ ان کی فیملی میں سگریٹ پینا معیوب سمجھاجاتا تھا۔

”ہاں بیٹا بولو کیا بات ہے؟“ سنان کی کیفیت نے شبنم کو ذرا پریشان کر دیا بات ضرور کچھ غیر معمولی تھی اس کی حالت دیکھ کر یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا تھا۔

”اگر سکندر نبیرہ کو طلاق دے دے تو میں اس سے شادی کےلئے تیار ہوں مجھے وہ اپنے بچوں سمیت قبول ہے۔“ یہ سب کہہ کر وہ رکا نہیں بلکہ تیز تیز چلتا گھر سے باہر نکل گیا یہ دیکھے بنا کہ اس کی اس بات نے کمرے میں موجود رحاب اور شبنم پر کیا اثر ڈالا ہے۔

”اس کا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا جو اتنی بڑی بات کہہ کر چلا گیا اپنی بیوی کا ذرا احساس نہیں ہے نبیرہ کی فکر ابھی بھی نہیں گئی۔“ رحاب بڑبڑاتے ہوئے بولی، شبنم نے کوئی جواب نہ دیا وہ اپنی ہی کسی سوچ میں گم تھیں۔

QQQQ

”کل میں کوشش کروں گی عبدالوہاب کے ساتھ آکر تمہارا بیگ دے جاﺅں۔“ ربیعہ نے اسے فون پر بتایا۔

”احتیاط سے آنا، ایسا نہ ہو وہ تمہیں سرچ کرتا مجھ تک پہنچ جائے۔“

”تم بے فکر رہو میں مکمل طور پر احتیاط کروں گی کیونکہ مجھے تمہاری اتنی ہی پریشانی لاحق ہے جتنی تمہیں خود اور میں دن رات دعا کر رہی ہوں کہ تم کسی طرح باحفاظت اپنے گھر واپس پہنچ جاﺅ۔“

”آمین۔“ وہ صدق دل سے بولی۔

”پولیس دوبارہ تو نہیں آئی تھی تمہارے گھر۔“

”فی الحال تو نہیں بہرحال تم فکر مت کرو وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور ہاں یاد آیا، آنٹی کا فون آیا تھا وہ بہت پریشان ہیں تم کسی طرح ان سے رابطہ کرکے اپنی خیریت کی اطلاع دے دو۔“

”ٹھیک ہے۔“ اس کا انداز سراسر ٹالنے والا تھا۔

”وہاب بھائی نے میرے پاسپورٹ کا پتا کیا؟“

”کیا تو ہے مگر میرا خیال ہے تمہیں اس مقصد کیلئے خود پاکستانی ایمبیسی جانا ہو گا اس کے بغیر یہ ناممکن ہے، پھر بھی جو ہو گا تم سے مل کر تمہیں وہاں سمجھا دیں گے۔ اچھا اب میں فون بند کرتی ہوں۔ اپنا اور ابوذر کا بہت بہت خیال رکھنا اللہ تمہیں اپنے امان میں رکھے۔“ ربیعہ نے ڈھیروں ڈھیر دعاﺅں کے بعد فون بند کر دیا۔

QQQQ

”دیکھو سکندر تمہارے پاس ابھی بھی وقت ہے تم اپنی بیوی سے رجوع کر سکتے ہو، ایک طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔“ صالح محمد کا یہ کوئی تیسرا چکر تھا جو انہوں نے فاطمہ کے گھر پچھلے بیس، پچیس دنوں میں لگا لیا تھا، وہ جب بھی آتے اول تو سکندر انہیں ملتا ہی نہ تھا جو اگر مل جاتا تو خاموشی سے سب کچھ سنتا رہتا کوئی جواب دینا مناسب نہ سمجھتا۔

”اللہ تعالیٰ حلال کاموں میں طلاق کو سب سے زیادہ ناپسند فرماتا ہے۔“

یہ مولانا عبد الرزاق تھے جو آج صالح محمد کے اصرار پر وقت نکال کر ایک بار پھر سکندر کے گھر موجود تھے۔ نبیرہ سر پر دوپٹہ اوڑھے بالکل خاموش بیٹھی تھی، ابوذر اپنے کمرے میں ربیعہ کی بیٹی کے ساتھ کھیل رہا تھا ربیعہ اور عبدالوہاب کے علاوہ وہاں سکینہ اور اس کا شوہر بھی تھے جبکہ فاطمہ کچن میں موجود کچھ کھڑپٹر کر رہی تھیں رفیدا بھی انہی کے ساتھ تھی روزینہ اور عمر کو بھی صالح محمد نے بلوایا تھا مگر انہوں نے آنے سے صاف نکار کر دیا تھا۔

”دیکھیں مولانا صاحب میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں مگر سچ یہ ہے کہ میں اب نبیرہ کے ساتھ ایک پل بھی نہیں رہ سکتا لہٰذا صلح کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچتی۔“ وہ دو ٹوک لہجہ میں بولا۔

”پھر بھی بیٹا اگر تم چاہو تو سب کچھ ممکن ہے۔“

”نہیں مولانا صاحب اب کچھ بھی ممکن نہیں ہے یہ میری طرف سے آزاد ہے میں آپ سب کے سامنے اسے آج دوسری طلاق دے رہا ہوں اس کے بعد یہ مجھ پر حرام ہو گئی۔“ وہ بے دردی سے بولا۔

”سکندر کچھ تو خدا کا خوف کرو کیوں اس معصوم کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کر رہے ہو۔“ عائشہ سے نہ رہا گیا اور وہ بول ہی پڑیں۔

”وہ عورتیں جو اپنے خاوند کے ہوتے ہوئے دوسرے مردوں سے تعلقات استوار کرتی ہیں معصوم کیسے ہو سکتی ہیں؟“ سکندر کا انداز استہزائیہ تھا۔

”بہرحال میں نے اسے طلاق دے دی ہے اب آپ لوگ جو بھی فیصلہ کریں مجھے منظور ہے یہ اگر پاکستان جانا چاہے تو میں ٹکٹ کروا کر دوں گا اپنے زیور کے ساتھ بری کا تمام زیور بھی یہ لے سکتی ہے مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا مگر میں اپنا کوئی بچہ اسے نہ دوں گا یہ نہ صرف حماد بلکہ ابوذر کو بھی یہاں چھوڑ کر جائے گی۔“

”یہ کیسے ممکن ہے تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا تم ڈیڑھ سال کا بچہ اس کی ماں سے چھین لینا چاہتے ہو“ سکندر کی بات سنتے ہی صالح محمد کو غصہ آگیا۔

”دیکھیں ماموں میں اس کا پاسپورٹ اسی شرط پر واپس دوں گا جب یہ پاکستان بغیر بچوں کے جانے کی ہامی بھرے گی۔“

”میں پاکستان واپس نہیں جاﺅں گی۔“ اچانک ہی نبیرہ نے سر اٹھا کر اپنا فیصلہ سنایا۔

”اچھا تو پھر یہاں کیا کروں گی کس کے گھر میڈ لگو گی۔“

”جو بھی کروں گی مگر میں اپنے بچے چھوڑ کر واپس نہیں جاﺅں گی۔“

”بہرحال وہ تمہارا مسئلہ ہے تم جہاں چاہو رہو مگر تمہارا پاسپورٹ تمہیں صرف اس وقت ملے گا جب تم اکیلی واپس جانا چاہو گی۔“

”ٹھیک ہے۔ اسے میں اپنے گھر لے جاتا ہوں تم ایک دفعہ پھر اچھی طرح سوچ لو۔“

”حد ہے بھائی صالح وہ دو طلاقیں دے چکا اب اس نے کیا سوچنا ہے۔“

فاطمہ نے کچن کے دروازے پر کھڑے ہو کر با آواز بلند کہا۔

”اماں ٹھیک کہہ رہی ہیں، تیسری طلاق اسے ایک ماہ بعد مل جائے گی اور اگر یہ پاکستان واپس جائے گی تو یہ سارا عمل میں مکمل طور پر کورٹ سے کروا کر تحریری شکل میں دوں گا تاکہ بعد میں کبھی اسے کوئی مسئلہ نہ ہو بصورت دیگر میں اسے طلاق کے پیپرز بھی نہیں دوں گا اب اگر آپ اسے اپنے گھر رہنے کیلئے لے کر جانا چاہیں تو بے شک لے جائیں مگر ابوذر ساتھ نہیں جائے گا۔“ سکندر کی سفاکی پورے عروج پر تھی۔

”جب اس کے اور ابوذر کے تمام پیپرز تمہارے پاس ہیں تو پھر تمہیں کیا خطرہ ہے جو اسے بغیر بچے کے گھر سے نکال رہے ہو۔“

عبدالوہاب کو نہ چاہتے ہوئے بھی بولنا پڑا ورنہ اس وقت وہ غصہ کی کیفیت میں سکندر کے منہ نہ لگنا چاہ رہا تھا۔

”میں ابوذر کا باپ ہوں اور میرا بچہ در در لوگوں کے گھروں میں نہیں پھرے گا یہ اگر اپنی عدت میرے گھر اپنے کمرے میں رہتے ہوئے پوری کرنا چاہے تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا اس صورت میں یہ دونوں بچوں کے قریب بھی رہ سکے گی مگر بعد از عدت اسے یہ گھر چھوڑنا ہو گا اس سے پہلے یہ فیصلہ کر لے اسے واپس جانا ہے یا یہاں رہنا ہے۔ اگر یہ واپس جانا چاہے تو میری آفر اپنی جگہ برقرار ہے۔“ وہ سب کچھ طے کئے ہوئے تھا نبیرہ کے پاس کوئی دوسرا راستہ باقی نہ تھا سوائے سکندر کی ہر بات ماننے کے۔

”ٹھیک ہے مجھے تمہاری ہر بات منظور ہے مگر میری آپ سب سے ایک درخواست ہے۔“ نبیرہ کے الفاظ نے سب ہی کو اس کی جانب متوجہ کر دیا۔

”جب تک میں اپنے گھر اطلاع نہ دوں، میری طلاق کے بارے میں کوئی بھی میرے گھر خبر نہ دے گا۔“

”یہ تمہارا ذاتی مسئلہ ہے تم انہیں اطلاع دو یا نہ دو میری فیملی کو اس بات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔“ سکندر کے جواب نے اسے کس قدر مطمئن کر دیا۔

”ٹھیک ہے انکل میں اپنی عدت اسی گھر میں کروں گی اپنے بچوں کے ساتھ اس کے بعد کاتب تقدیر نے جو میرے نصیب میں لکھا ہو گا اسے قبول کر لوں گی کیونکہ میں مشیت ایزدی سے لڑنے کی ہمت نہیں کر سکتی۔“

اپنے آنسوﺅں کو پیتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ قدرت نے اسے خود بخود ٹائم دے دیا تھا پانچ چھ ماہ کی مدت کم نہیں ہوتی اب اسے جو کچھ کرنا تھا اسی دوران کرنا تھا ورنہ ساری زندگی کی کوشش سے بھی اس کے ہاتھ کچھ آنے والا نہ تھا۔

QQQQ

ربیعہ اسے بیگ پہنچا گئی تھی جس میں اس کی ضرورت کا کچھ سامان موجود تھا

”تم پاکستان ایمبیسی جاﺅ اور اپنے پاسپورٹ کےلئے کوشش کرو کیونکہ بغیر پاسپورٹ تم یہاں سے نہیں جا سکتیں اگر ممکن ہو تو پاکستان اپنے گھر والوں سے رابطہ کرکے انہیں بھی کہو کہ وہ وہاں ایمبیسی جا کر تمہارا مسئلہ بیان کریں شاید اس طرح تمہارے لئے کچھ آسانی ہو سکے۔“عبدالوہاب جاتے جاتے اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔

”تمہارے کزن کا کہنا بالکل ٹھیک ہے تم اپنی ایمبیسی جاﺅ اور ان کو تمام سچوئیشن بتاﺅ وہ ضرور تمہاری مدد کریں گے۔“ عبدالوہاب کے جانے کے بعد آنٹی نوما نے اسے سمجھایا۔

”مگر مجھے تو نہیں پتا ایمبیسی کہاں ہے؟“ وہ تھوڑا سا شرمندہ ہو گئی۔

”وہ کوئی مسئلہ نہیں ہے میں تمہیں ٹیکسی ہائیر کر دوں گی تم اس میں با آسانی آجا سکو گی، ٹیکسی والا ہمارا قابل اعتبار بندہ ہے تمہیں اس سے کوئی پرابلم نہ ہو گا۔“

”ٹھیک ہے آپ ٹیکسی بلا دیں میں آج ہی جاﺅں گی۔“ اس نے گھڑی پر ایک نظر ڈالی ابھی صرف گیارہ بجے تھے جبکہ عبدالوہاب نے بتایا تھا اور ایمبیسی چار بجے تک کھلتی ہے۔

”اوکے تم تیار ہو جاﺅ میں ٹیکسی کیلئے کال کرتی ہوں۔“ آنٹی نے اپنے سامنے رکھے فون پر نمبر ڈائل کرتے ہوئے کہا۔

QQQQ

”کیا تم اپنے بچے چھوڑ کر پاکستان واپس چلی جاﺅ گی؟“ ربیعہ اس کے پیچھے ہی کمرے میں آگئی تھی جہاں وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی۔

”نہیں….“ اس نے مختصراً جواب دیا۔

”تو کیا تم مستقل ملائیشیا میں ہی رہائش اختیار کرنا چاہو گی؟“

”پتا نہیں یار مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا اصل میں مجھے یہ امید نہ تھی کہ سکندر میرا پاسپورٹ ضبط کر لے گا۔“

”پھر تم نے اب کیا سوچا ہے؟“ ربیعہ اپنی آواز کو دھیما کرکے بولی۔

”فی الحال تو میں نے اپنی سم نکال کر پھینک دی ہے ہو سکے تو جب دوبارہ مجھ سے ملنے آﺅ میرے لئے ایک عدد سم لیتی آنا اور ابھی جاتے ہوئے میرا یہ زیور اور کچھ رقم اپنے ہینڈ بیگ میں چھپا کر لے جاﺅ۔“ اس نے جلدی سے بیڈ کے گدے کا کونا الٹ کر ایک تھیلا برآمد کیا جس میں زیورات کے علاوہ کافی تعداد میں ملائی کرنسی بھی تھی جو وہ پچھلے دو سالوں سے جمع کر رہی تھی۔

”یہ اپنے ہینڈ بیگ میں رکھ لو۔“

اس نے وہ تھیلا جلدی جلدی ربیعہ کے بیگ کی زپ کھول کر اس میں ڈال دیا اس دوران اس کا پورا دھیان دروازے کی سمت تھا نبیرہ کوئی فیصلہ کر چکی تھی جو اس کے چہرے پر درج تھا مگر کیا؟ یہ ابھی جاننا تھا ربیعہ کو آج والی نبیرہ، اس نبیرہ سے بہت مختلف لگی جسے وہ جانتی تھی نبیرہ کے پرعزم چہرے نے ربیعہ کو حیران سا کر دیا۔

”اگر تم کہو تو میں تمہارے لئے کسی ملازمت کا بندوبست کر لوں۔“

”نہیں ربیعہ یہ تو طے ہے مجھے واپس جانا ہے اپنے وطن جو میرے تحفظ کا ضامن ہے میں اپنی زندگی ایک غیر ملک میں نہیں گزار سکتی۔“

”تو کیا تم اپنے بچوں کے بغیر جاﺅ گی؟“ اس نے اپنا سوال ایک بار پھر دہرایا۔

”میں ابوذر کو ساتھ لے کر جاﺅں گی۔“ اس کے لہجہ میں مضبوطی جھلک رہی تھی۔

”کس طرح لے کر جاﺅ گی تمہارے پاس تو اپنے کوئی پیپرز نہیں ہیں ایسے میں تم کس طرح رسک لو گی ابوذر کو لے کر جانے کا جبکہ اس کی نیشنیلٹی بھی یہاں کی ہے میری مانو تو بے کار کی ضد چھوڑو اور سکندر سے کہہ کر اپنا ٹکٹ لو، پاکستان واپس جاﺅ اگر تمہارے نصیب میں اولاد کی محبت ہوئی تو یہ بچے ایک دن تم سے ضرور آکر ملیں گے ورنہ میرا مشورہ مانو تم ابھی جوان ہو، خوبصورت ہو، واپس جا کر دوسری شادی کر لو جب وہاں بچے ہو جائیں گے تو سب کچھ بھول جاﺅ گی۔“ ربیعہ پورے خلوص سے اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔

”دیکھو ربیعہ یہ تو طے ہے کہ میں ابوذر سکندر کو نہیں دوں گی اور نہ ہی میں اپنی جوانی اس ملک کی سرزمین پر تباہ کروں گی جس طرح میں اپنی باقی زندگی حماد کےلئے تڑپتے ہوئے گزاروں گی اسی طرح ابوذر کی جدائی سکندر کا مقدر ٹھہرے گی، ہر فیصلہ اس طرح نہ ہو گا جس طرح یہ لوگ چاہتے ہیں بہرحال اب اگر تم مجھ سے رابطہ کرنا چاہو تو سنو شوبھا کو میرے لئے مسیج دے دینا جب دوبارہ آﺅ تم سم لیتی آنا ساتھ ہی کوئی ایسی جگہ کا بھی پتا کرکے آنا جہاں میں عدت کے بعد جا کر رہ سکوں۔“ عبدالوہاب ربیعہ کو بلا رہا تھا اس لئے نبیرہ نے جلدی جلدی ایک پیپرپر شوبھا کا موبائل نمبر لکھ کر اس کے حوالے کر دیا۔

”تم اسے فون کرکے میرے بارے میں بتا دینا اور کہنا کہ وہ مجھ سے آکر مل جائے مجھے اس سے بھی کام ہے۔“

”ٹھیک ہے۔“ ربیعہ پیپر اپنے ہینڈ بیگ میں رکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔

”میں کوشش کروں گی کسی اچھی مسلم فیملی میں تمہیں جاب دلوا دوں جہاں تم ان کے فیملی ممبر کی طرح رہ سکو وہاں رہ کر تم اپنے لئے بہتر فیصلہ کرسکو گی۔“ ربیعہ نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔

”تم اگر چوری چھپے ابوذر کو یہاں سے لے جاﺅ گی تو تمہیں کوئی بھی فیملی اپنے پاس ملازمت پر نہ رکھے گی کیونکہ اس طرح وہ فیملی بھی تمہارے ساتھ شریک جرم سمجھی جائے گی، جانتی ہو تم پر تمہارے بچے کے اغواءکا مقدمہ درج ہو جائے گا اور اس مقدمہ میں وہ لوگ بھی شامل کر لئے جائیں گے جو تمہیں انجانے میں پناہ دیں گے یہ ایک بہت بڑا رسک ہو گا جسے لینے کا مشورہ میں تمہیں ہرگز نہ دوں گی ویسے بھی جہاں تک میں سمجھتی ہوں کوئی فیملی بھی تمہارے پورے کاغذات دیکھے بغیر تمہیں اپنے گھر پر ایک عدد میڈ کی جاب بھی نہ دے گی۔“

QQQQ

شوبھا ربیعہ کا فون سنتے ہی اس سے ملنے آگئی تھی حالانکہ وہ کم ہی فاطمہ کی طرف آتی تھی کیونکہ اسے ان کے گھر کا ماحول پسند نہ تھا اور اب نبیرہ کے تمام حالات جان کر وہ دکھی ہو رہی تھی جب سے وہ آئی تھی فاطمہ اور ایدھا دو چار بار کمرے کا چکر لگا کر جا چکی تھیں ویسے بھی نبیرہ نے نوٹ کیا تھا جس دن سے سکندر نے اسے طلاق دی تھی فاطمہ نے اس پر کڑی نگرانی شروع کر دی تھی اس کے کمرے اور لاﺅنج کے درمیان موجود کھڑکی چوبیس گھنٹے کھلی رہتی حتیٰ کہ فاطمہ نے گھر سے باہر جانا بھی بالکل چھوڑ دیا تھا یہاں تک کہ کبھی کبھی اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے حماد بھی اس کی نگرانی پر مامور ہو نبیرہ جو یہ سمجھ رہی تھی وہ ابوذر کے ساتھ با آسانی کہیں بھی اتنا عرصہ گزار سکتی ہے جب تک پاکستان واپسی کےلئے حالات اس کے موافق نہ ہو جائیں، شوبھا کی تمام باتیں سن کر پریشان ہو اٹھی یہ سب تو اس نے سوچا ہی نہ تھا اور شاید اسے یہ سب پتا بھی نہ تھا یہاں کا قانون پاکستان کے مقابلے میں بہت مختلف اور کافی سخت تھا آزادی کا صحیح مفہوم آج نبیرہ کی سمجھ میں آیا۔

”پھر اب تم ہی بتاﺅ میں کیا کروں؟“ اس نے ایک نظر سامنے صوفے پر بیٹھی ایدھا پر ڈالی اور پھر آہستہ سے شوبھا سے دریافت کیا شوبھا اردو جانتی تھی اس لئے دونوں کے درمیان گفتگو اردو زبان میں ہی ہو رہی تھی۔ ایدھا اردو سے نابلد تھی یہ جانتے ہوئے بھی دونوں بہت آہستہ آواز میں بات کر رہی تھی۔

”یہاں ایک این جی او ہے جو بے سہارا عورتوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے انہیں قانونی طور پر بھی گائیڈ کرتی ہے میری ایک دوست اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد کچھ عرصہ وہاں رہی تھی میں اس سے بات کرکے پوری معلومات لیتی ہوں اور پھر تمہیں آگاہ کرتی ہوں۔“ شوبھا جانے کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی اس کے ساتھ ہی نبیرہ بھی کھڑی ہو گئی۔

”میں تمہارے لئے سم لائی ہوں اب اس منحوس کے سامنے کس طرح دوں ایسا کرو تم مجھے باہر گیٹ تک چھوڑنے آﺅ۔“

”اوکے….“ نبیرہ نے ابوذر کو اٹھا کر باہر جانے کیلئے قدم آگے بڑھایا ہی تھا کہ یکدم حماد اس کے سامنے آگیا۔

”آپ ابوذر کو اپنے ساتھ نہیںلے جا سکتیں۔“

اس نے چونک کر اپنے سامنے کھڑے چار سالہ حماد پر ایک نظر ڈالی جو اپنے قد کاٹھ کی بنا پر کہیں سے بھی چار سال کا دکھائی نہ دیتا تھا اپنی عمر سے نکلتے ہوئے قد کے ساتھ حماد اس کے راستے میں حائل تھا بالکل سکندر کا دوسرا روپ اس کے جیسی شکل و صورت اور ویسا ہی انداز گفتگو، کسی نے سچ ہی کہا ہے سانپ کی اولاد بھی ہمیشہ سانپ جیسی ہی خصلت رکھتی ہے، ماں ہوتے ہوئے بھی اس وقت اس کے ذہن میں سنپولے سے بہتر تشبیہ کوئی نہ آئی۔

QQQQ

ٹیکسی کے رکتے ہی وہ دروازہ کھول کر باہر نکل آئی، ایک بالکل عام سی عمارت جو بڑے بڑے ناریل کے درختوں سے گھری ہوئی تھی اس پر لگا بورڈ یہ ثابت کر رہا تھا کہ یہ ہی پاکستان ایمبیسی ہے بے اختیار ہی اسے اپنے ملک میں موجود غیر ملکی ایمبیسیز اور ان کی پر شکوہ عمارات یاد آگئیں گیٹ پر موجود گارڈ نے اس سے کوئی سوال نہ کیا وہ خاموشی سے اندر آگئی ابوذر سو چکا تھا، ٹیکسی ڈرائیور نے کہا تھا کہ وہ اسے باہر گاڑی میں ہی چھوڑ دے مگر نبیرہ اس وقت کسی پر اعتماد کرنے کی پوزیشن میں نہ تھی یہ ہی وجہ تھی وہ اسے اپنے کندھے سے لگائے لگائے اندر آگئی، جینز ٹی شرٹ پر اسکارف اور بڑے سے چشمے نے اس کے حلیئے کو خاصا تبدیل کر دیا تھا، سامنے موجود چھوٹے سے لان کا سوکھا گھاس، پھوس دیکھ کر لگتا ہی نہ تھا کہ ایمبیسی کی یہ عمارت ملائیشیا جیسے زرخیز ملک میں ہے وہ فقط ٹھنڈا سانس بھر کر سامنے موجود بڑے سے ہال نما کمرے میں داخل ہو گئی، جہاں پہلے سے ہی کچھ مرد حضرات موجود تھے۔ جو شاید ویزے کے سلسلے میں آئے تھے اکثریت پاکستانی ہی تھے۔ مختلف کاﺅنٹر پر بھی تقریباً تمام مرد ہی تھے اس کی سمجھ میں نہ آیا وہ کس سے بات کرے یہاں وہاں نظر ڈالنے پر اسے کاﺅنٹر پر لکھا ”ریسپشن“ دکھائی دیا وہ تیزی سے آگے بڑھی وہاں موجود نوجوان کمپیوٹر پر بزی تھا۔

”ایکسکیوزمی سر….“

”جی فرمایئے….“ اس نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کر نبیرہ کا طائرانہ جائزہ لیا۔

”وہ مجھے….“ اسے سمجھ نہ آرہا تھا کہ وہ کیا بات کرے وہ کچھ کنفیوز سی ہو گئی۔

”اصل میں مجھے کسی بڑے آفیسر سے ملنا ہے۔“ تھوک نگلتے ہوئے بمشکل اس نے اپنا جملہ مکمل کیا۔

”کس سلسلے میں؟“

”دراصل میرا پاسپورٹ گم ہو گیا ہے اس سلسلے میں ہی کچھ معلومات حاصل کرنی ہیں۔“

”اوکے آپ ایسا کریں اس گیٹ سے باہر نکل جائیں بالکل سامنے جو بڑا سا کمرا ہے وہاں آپ کو سرفراز صاحب ملیں گے آپ اپنا مسئلہ ان سے جاکر ڈسکس کریں ہو سکتا ہے اس سلسلے میں وہ آپ کی کچھ مدد کر سکیں۔“

جواب دے کر وہ نوجوان پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گیا نبیرہ نے کچھ سیکنڈ وہاں کھڑے ہو کر سوچا پھر خاموشی سے بڑے سے دروازے سے باہر نکل آئی، وہاں ایک چھوٹا سا گارڈن بنا ہوا تھا۔ چاروں طرف ہو کا عالم طاری تھا وہ اللہ کا نام لے کر گارڈن کو عبور کرتی سامنے موجود بڑے سے کمرے کے دروازے کے سامنے جا کھڑی ہوئی آس پاس نظر دوڑائی کوئی بھی ملازم یا گارڈ دکھائی نہ دیا وہ شش و پنج کی کیفیت میں مبتلا تھی جب پردہ ہٹا کر اندر سے کوئی باہر آیا حلیے سے ہی وہ کوئی پیون دکھائی دے رہا تھا۔

”جی میڈم کس سے ملنا ہے آپ کو؟“ باہر آنے والا ٹھٹک گیا۔

”وہ سرفراز صاحب سے۔“ نوجوان نے ایک نظر اس کا جائزہ لیا اور واپس اندر کی طرف مڑ گیا تقریباً پانچ منٹ بعد وہ نمودار ہوا۔

”اندر چلی جائیں سرفراز صاحب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔“ دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اندر داخل ہوئی۔ سامنے میز کے پیچھے ایک ادھیڑ عمر پاکستانی مرد موجود تھا اس کے سامنے موجود ٹیبل پر رکھی تختی اس کے عہدے کی نشاندہی کر رہی تھی وہ شخص نیم دراز حالت میں آرام سے کرسی پر بیٹھا تھا نبیرہ کو دیکھتے ہی سیدھا ہو بیٹھا۔

”جی آئیں تشریف رکھیں۔“ وہ خاموشی سے ٹیبل کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔

”جی بتائیں کیا مسئلہ ہے آپ کا جس سلسلے میں آپ مجھ سے ملنا چاہتی تھیں۔“

”مجھے اپنا نیا پاسپورٹ بنوانا ہے۔“ وہ دھیمی آواز میں بولی۔

”پرانا کہاں ہیں؟“ اس شخص نے اپنا چشمہ درست کرتے ہوئے سوال کیا۔

”وہ دراصل میرا ہینڈ بیگ چوری ہو گیا ہے اس میں میرے سارے کاغذات تھے اب مجھے وطن واپس جانا ہے جس کیلئے پاسپورٹ کا ہونا لازمی ہے۔“ وہ جانتی تھی کہ یہ سوال اس سے ضرور پوچھا جائے گا اسی لئے جو اب سوچ کر آئی تھی۔

”اوہ اچھا ویسے آپ ملائیشیا کیوں آئی تھیں؟“ اسے اس سوال کی امید نہ تھی، اب سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دے۔

”یہاں میری سسرال ہے، میں شادی کی بعد یہاں آئی تھی۔“

”آپ کی سسرال کہاں ہے؟ اور آپ کے ہزبینڈ وہ کیوں نہیں آئے آپ کے ساتھ؟“

”وہ یہاں نہیں ہیں جاپان گئے ہیں میرے والد کی ناسازی طبع کے باعث میرا جلد از جلد پاکستان جانا بہت ضروری ہے اسی لئے مجھے تنہا ہی یہاں آنا پڑا۔“ اپنے مفاد کیلئے ایک کے بعد ایک جھوٹ اس کی زبان پر خود بخود ہی آتا چلا گیا۔

”سوری میڈم ہم آپ کے ہزبینڈ سے ملے بغیر آپ کو پاسپورٹ بنوا کر نہیں دے سکتے ہمیں ان کی تصدیق درکار ہو گی۔“

”کیوں؟“ وہ حیرت سے بولی۔

”میں پاکستانی ہوں میرے پاس وہاں کا شناختی کارڈ موجود ہے۔“ وہ روہانسی ہو گئی اپنے ملک کی ایمبیسی میں اس سے ایسا برتاﺅ کیا جائے گا وہ سوچ بھی نہ سکتی تھی، اس نے تو نئے پاسپورٹ کے حصول کو بہت ہی آسان سمجھا تھا ویسے بھی اسے احتشام صاحب نے یہ ہی بتایا تھا کہ وہاں موجود ایمبیسی پاکستانیوں کے مسائل حل کرتی ہے یہاں تو ایک پاسپورٹ کےلئے، اپنی ہم وطن سے زیادہ، ملائی شہری کو ترجیح دی جا رہی تھی جسکی تصدیق کرنا ضروری تھا۔

”بے شک آپ پاکستانی ہیں یقینا آپ کے پاس شناختی کارڈ بھی ہو گا مگر ہماری بھی کچھ قانونی اور سفارتی مجبوریاں ہیں جن کی بنا پر ہم فی الحال آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے جب تک آپ کے ہزبینڈ آکر ہم سے نہ ملیں اس صورت میں بھی آپ کے پاس کاغذات کی گمشدگی کی ایف آئی آر کا ہونا ضروری ہے اور اگر وہ نہیں آتے تو آئندہ جب آپ یہاں آئیں ایف آئی آر درج کروا کر اس کی کاپی لیتی آیئے گا پھر شاید ہم آپ کے کچھ کام آسکیں ورنہ ہماری طرف سے معذرت، خدا حافظ۔“

پوری تفصیل بتانے کے بعد سرفراز صاحب اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ وہ اب کوئی بات سننا نہیں چاہتے وہ خاموشی سے باہر نکل آئی اس کا دل بھر آیا پہلے ہی مرحلے پر ناکامی اس کا مقدر بن گئی۔ وہ مایوس سی ہو گئی۔

”میڈم اب کہاں جانا ہے۔“ اس کے ٹیکسی میں واپس بیٹھتے ہی ڈرائیور نے سوال کیا۔

”کہیں نہیں WAO واپس چلو اور وہاں جاتے ہوئے مجھے ایمبیسی آنے کا راستہ پبلک ٹرانسپورٹ سے سمجھا دینا۔“

ٹیکسی ڈرائیور سے اس کے ایک دن کے تیس رنگیٹ طے ہوئے تھے جو خاصی بڑی رقم تھی۔ وہ اندازہ لگا چکی تھی کہ اسے اپنے پاسپورٹ کے حصول کےلئے بہت خوار ہونا پڑے گا۔ اس کے بعد شاید کہیں جا کر وہ اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہو سکے، اس ضمن میں وہ روزانہ ٹیکسی افورڈ نہیں کر سکتی تھی لہٰذا اسے اب اپنا سفر پبلک ٹرانسپورٹ سے ہی شروع کرنا تھا، جس کیلئے وہ خود کو ذہنی طور پر تیار کر چکی تھی۔

QQQQ

”جانے کیوں میرا دل کئی دنوں سے بہت گھبرا رہا ہے نبیرہ وہاں ضرور کسی مشکل کا شکار ہے، اس کا فون بھی بند ہے اور سکندر کال ریسیو نہیں کرتا۔“

سکندر کی شفا سے ہونے والی گفتگو نے اب تک ردا کو بے چین کر رکھا تھا۔

”تم خوامخواہ کے وسوسوں کا شکار ہو رہی ہو، میری ابھی کل ہی بھائی صالح سے بات ہوئی ہے انہوں نے بتایا کہ دونوں میاں بیوی کے مابین کچھ غلط فہمی ہو گئی تھی بہرحال اب وہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، نبیرہ کا فون شاید چوری ہو گیا ہے جیسے ہی وہ نیا سیل لے گی ہم سے جلد ہی رابطہ کرے گی۔“

احتشام صاحب خود بھی صالح محمد کی گفتگو سے مطمئن نہ تھے ان کا دل بھی مختلف طرح کے خدشوں کا شکار تھا وہ مرد تھے اور جانتے تھے کہ اس طرح کے مسائل جذباتی ہو کر حل نہیں کئے جا سکتے دوسری طرف اپنے کسی خدشے کا اظہار وہ ردا کے سامنے کرکے اسے مزید پریشان نہ کرنا چاہتے تھے۔

”اور امی ربیعہ نے بھی تو آپ کو یہ ہی سب کچھ بتایا تھا جو پاپا بتا رہے ہیں پھر آپ کیوں اتنی پریشان ہو رہی ہیں۔“

امان نے انہیں خود سے لگاتے ہوئے تسلی دی۔

”بس مجھے کچھ نہیں پتا آپ سکندر کو فون کرکے کہیں کہ وہ نبیرہ کو کچھ عرصے کیلئے پاکستان بھیجے ورنہ میرا ویزا لگوائیں مجھے ملائیشیا جانا ہے۔“

وہ کسی طور یہ ماننے کو تیار نہ تھیں کہ نبیرہ اپنے گھر میں خوش ہے وہ ماں تھیں اور ان کا دل انہیں کسی انہونی کی خبر دے رہا تھا جس نے انہیں بے چین کر رکھا تھا ایسے میں کوئی تسلی دلاسا ان کیلئے اہمیت نہ رکھتا تھا۔

”ٹھیک ہے میں بھائی صالح سے بات کرتا ہوں ان سے کہتا ہوں کہ وہ نبیرہ سے تمہاری بات کروائیں یا پھر تم سکندر کے گھر کے نمبر پر فون کر لو نمبر تو ہے نا تمہارے پاس؟“

احتشام صاحب نے بات کرتے کرتے رک کر سوال کیا۔

”دو دفعہ تو میں کر چکا ہوں غالباً آنٹی فاطمہ تھیں انہوں نے کہا کہ نبیرہ گھر میں نہیں ہے جیسے ہی آئے گا میں بات کروا دوں گی مگر پھر انہوں نے کال بیک بھی نہیں کی۔“

”ہو سکتا ہے وہ گھر پر نہ ہو تم ایک دفعہ پھر کوشش کرو اگر بات ہو جائے تو اچھا ہے ورنہ ربیعہ سے کہو وہ وہاں جا کر نبیرہ کی اپنی مما سے بات کروا دے۔“ احتشام صاحب نے امان کو سمجھاتے ہوئے کہا۔

”ٹھیک ہے پاپا ایک دفعہ پھر کوشش کر لیتا ہوں ہو سکتا ہے اب بات ہو جائے۔“

وہ گھر کا فون اپنے قریب کرتے ہوئے بولا۔

QQQQ

”مجھے تم سے اس قدر بے وقوفی کی امید نہ تھی۔“

ربیعہ نے جیسے ہی یہ سنا کہ ایمبیسی والوں نے نبیرہ کی کسی بھی قسم کی مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے ویسے ہی وہ عبدالوہاب کے ساتھ WAO آگئی اور اب آنٹی نوما کے آفس میں بیٹھی وہ مسلسل نبیرہ کو لتاڑ رہی تھی جو خاموشی سے سر جھکائے اس کے سامنے بیٹھی تھی۔

”غضب خدا کا تم اتنا فاصلے طے کرکے اور رسک لے کر ایمبیسی گئیں اور بنا اپنا مسئلہ حل کئے خاموشی سے واپس آگئیں۔“

”میں نے تمہیں بتایا تو ہے کہ سرفراز صاحب کا کہنا ہے کہ بغیر ایف آئی آر کے کچھ بھی ہونا ناممکن ہے اور تم جانتی ہو میرے لئے ایف آئی آر کا اندراج کس قدر مشکل کام ہے۔“

”بیوقوف لڑکی تمہیں وہاں اپنے تمام حالات بتانے چاہئے تھے تمہارا پاسپورٹ کس طرح تمہارے خبیث میاں نے ضبط کر رکھا ہے یہ بتاتیں تو یقینا وہ تمہاری مدد کرتے اپنے بچوں کے بارے میں بھی سب کچھ سچ سچ بتانا چاہئے تھا۔“

”دراصل میں وہاں جاتے ہی کچھ خوفزدہ ہو گئی تھی میں نے سوچا شاید سکندر نے میری وہاں کوئی کمپلینٹ نہ کر رکھی ہو کہ میں اس کا بچہ لے کر فرار ہو گئی ہوں اور ایسا نہ ہو کہ مجھے دھوکہ سے پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔“

”اف خدایا نبیرہ ہماری ملکی ایمبیسی ہمارے مسائل کے حل کیلئے یہاں موجود ہے اور یاد رکھو ابوذر سکندر کا ہی نہیں تمہارا بھی بیٹا ہے اپنی اولاد کی منصفانہ تقسیم تم خود کر چکی ہو، تم نے حماد اس کے حوالے کیا تو کیا ابوذر پر تمہارا حق نہیں ہے؟“ ربیعہ نے اس کے ہاتھ تھپکتے ہوئے سمجھایا۔

”ٹھیک ہے میں کل ہی دوبارہ جاتی ہوں پھر دیکھتی ہوں مجھے کیا جواب ملتا ہے؟“ اور ہاں انکل نے کچھ رقم بھیجی ہے جو عبدالوہاب کے اکاﺅنٹ میں ہے اور ساتھ ہی تمہارے لئے آنٹی کا ایک پیغام بھی ہے وہ یہ کہ تم ابوذر سکندر کے حوالے کرکے جلد از جلد پاکستان واپس پہنچو وہ بہت پریشان ہیں۔“ اس کے گھر والوں کا مسلسل اس پر دباﺅ تھا کہ وہ ابوذر سکندر کے حوالے کر دے اور خود خاموشی سے اپنے وطن واپس آجائے اسی سبب وہ ان سے رابطے میں نہ تھی۔

”اب جب تمہاری مما سے بات ہو تو بتا دینا میں کسی بھی حالت میں تنہا پاکستان نہ آﺅں گی اگر حماد کا دکھ ساری زندگی میرے ساتھ رہے گا تو سکون کی زندگی سکندر بھی نہ گزار سکے گا یہ میرا خود سے عہد ہے ربیعہ اور میں اپنے اس عہد کیلئے جان تو دے سکتی ہوں مگر ابوذر نہیں۔“ وہ اٹل لہجہ میں بولی۔

QQQQ

”تمہاری میرے گھر میں مدت رہائش ختم ہو چکی ہے اب بہتر یہ ہے کہ تم جلد از جلد اپنا کوئی دوسرا انتظام کر لو، اگر میری شرط تمہیں منظور ہے تو میری آفر اپنی جگہ آج بھی برقرار ہے میں تمہیں ایک ہفتہ میں تمہارے دیس واپس بھجوا دوں گا بصورت دیگر ایک ہفتہ تک اپنا انتظام کر لو ورنہ تمہیں یہاں سے نکالنے کیلئے مجھے پولیس سے رابطہ کرنا ہو گا۔“

دروازے پر کھڑا فرعون سفاکی سے یہ سب زہر اس کے کانوں میں انڈیل کر زمین کو اپنے پاﺅں تلے روندتا ایک شان بے نیازی سے باہر نکل گیا وہ اپنی جگہ ساکت بیٹھی رہ گئی۔

شوبھا نے پچھلے ایک ہفتہ سے اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا یہاں تک کہ وہ اس کے کسی مسیج کا جواب بھی نہیں دے رہی تھی اس نے ایک نسبتاً بڑا ہینڈ بیگ تیار کر رکھا تھا جس میں ابوذر کی ضرورت کا کچھ سامان موجود تھا جب کہ اس سے قبل اپنا اور ابوذر کا کچھ سامان وہ شوبھا کے ذریعے ربیعہ تک پہنچا چکی تھی اب مسئلہ صرف یہاں سے نکل کر کسی محفوظ مقام تک جانے کا تھا اور اس محفوظ مقام کا راستہ اسے شوبھا نے ہی بتانا تھا جو نہ جانے کہاں غائب تھی۔

”تمہارے گھر سے فون آیا ہے۔“ ایدھا نے باہر سے ہی آواز لگائی۔

”اس وقت کس کا فون آگیا۔“ اس نے بے زار ہو کر سوچا، اس کا بالکل دل نہ چاہ رہا تھا کہ وہ کسی سے کوئی بات کرے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر آگئی فاطمہ ریسیو ہاتھ میں لئے جانے آہستہ آہستہ کیا بات کر رہی تھی اسے دیکھتے ہی ریسیور ٹیبل پر رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں، اس نے آگے بڑھ کر ریسیو اٹھایا اور دھڑکتے دل سے اپنے کان سے لگا لیا۔

”السلام و علیکم۔“ مری مری آواز اس کے حلق سے برآمد ہوئی۔

”نبیرہ یہ تمہاری ساس کیا بکواس کر رہی ہے۔“ دوسری طرف یقینا ردا تھیں جنہیں شاید فاطمہ نے سب کچھ بتا دیا تھا۔

”کیا کہہ رہی ہیں؟“ ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے اس نے سوال کیا۔

”کہہ رہی ہے تمہارے کسی مرد سے ناجائز تعلقات تھے اور تمہیں سکندر نے رنگے ہاتھوں پکڑنے کے بعد طلاق دے دی، اب وہ تمہیں واپس بھیجنا چاہتا ہے اور تم آنا نہیں چاہ رہیں بلکہ عدت کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرنے والی ہو اور بھی جانے کیا کیا انٹ شنٹ بک رہی ہے پاگل تو نہیں ہے یہ عورت۔“

”وہ جو کہہ رہی ہیں بالکل ٹھیک ہے مگر جو الزام انہوں نے مجھ پر لگایا ہے وہ کرتوت خود ان کے اپنے بیٹے کے تھے جسے میں نے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔“

اب کچھ بھی چھپانے کا کوئی فائدہ نہ تھا، آخر ایک نہ ایک دن تو انہیں یہ سب پتا چلنا ہی تھا تو پھر کب تک وہ اکیلی سب کچھ برداشت کرتی۔

”نبیرہ تم نے یہ سب کچھ ہمیں خود کیوں نہیں بتایا۔“ ردا بری طرح رو رہی تھیں۔

”پلیز مما رو کر مجھے مزید پریشان مت کریں میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں۔“

”تم فوراً پاکستان واپس آﺅ میں تمہارے ٹکٹ کے پیسے بھیج رہی ہوں۔“ ردا نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔

”فی الحال میں واپس نہیں آسکتی اس لئے آپ مجھے فورس مت کریں۔“

”کیوں؟“ ردا رونا بھول کر حیرت سے بولیں۔

”وہ میں آپ کو نہیں بتا سکتی اور پلیز اب آپ اس گھر کے نمبر پر دوبارہ مجھ سے رابطہ کیلئے فون مت کیجئے گا بلکہ میرے بارے میں کچھ بھی جاننا ہو تو ربیعہ سے بات کر لیجئے گا، اگر ممکن ہوا تو میں جلد ہی اپنا کانٹیکٹ نمبر آپ کو دے دوں گی بہرحال میری طرف سے پریشان مت ہویئے گا میں اب پہلی والی نبیرہ نہیں رہی وقت نے مجھے بہت بدل دیا ہے اور انشاءاللہ میں جہاں بھی رہوں گی اپنی حفاظت خود کر لوں گی اللہ حافظ۔“

دوسری طرف سے بنا کوئی جواب سنے اس نے فون بند کر دیا جس جذباتی کیفیت کا شکار اس کی طلاق کی خبر نے ردا کو آج کیا تھا وہ اس کیفیت سے بہت پہلے نکل چکی تھی اب یہ سب کچھ اس کیلئے کوئی معنی نہ رکھتا تھا اب تو اس کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف ابوذر تھا جس کے حصول کیلئے وہ سرگرداں تھی صرف اپنی اولاد کی محبت نے ہی اسے تپتے صحرا میں ننگے پاﺅں کھڑا کر دیا تھا ورنہ تو اس کیلئے بہت آسان ہوتا اس ملک پر دو حرف بھیج کر اپنے وطن واپس لوٹ جانا۔

”کاش وہ بے اولاد ہوتی۔“ بے اختیار یہ سوچ اس کے ذہن میں ابھری۔

”اللہ نہ کرے جو ایسا ہوتا۔“ دوسرے ہی پل اس نے اپنی سوچ پر خود ہی لعنت بھیجی اس کے بچے ہی تو اس کے جینے کا سبب تھے ورنہ تو شاید وہ مر ہی گئی ہوتی۔

”چلو اچھا ہوا جو آج اس کی ماں کا خود ہی فون آگیا اب جو ان میں ذرا بھی غیرت ہو گی تو ضرور اس کی واپسی کیلئے کچھ کریں گے ورنہ تو یہ بے شرم طلاق کے بعد بھی ہم پر مسلط ہے۔“

ایدھا سے کی جانے والی گفتگو یقینا اسے بھی سنانے کیلئے تھی جس میں فاطمہ کامیاب بھی ہو گئی تھیں نبیرہ بنا کوئی جواب دیئے خاموشی سے اپنے کمرے میں آگئی جس کا اے سی پچھلے دو تین دن سے صحیح طور پر کولنگ نہ کر رہا تھا جبکہ یہاں چھت کے پنکھوں کا رواج بھی نہ تھا۔ اے سی کے فین سے اسے بالکل بھی نیند نہ آتی تھی۔ ابوذر کے سرہانے وہ اس کا چھوٹا سا فین رکھ دیتی تھی خود صبر شکر کے ساتھ دن گزار لیتی تھی ابھی بھی کمرے میں بے حد حبس تھا اس نے باہر لان میں کھلنے والی کھڑکی کھول کر پردے ہٹا دیئے باہر بارش ہو رہی تھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے کچھ ہی دیر میں کمرے کے حبس کو خاصا کم کر دیا۔

QQQQ

”دیکھیں سر میری پوری بات سن کر آپ اچھی طرح جان چکے ہوں گے کہ میرے لئے ایف آئی آر درج کروانا کس قدر مشکل کام ہے۔“

وہ آج تیسری دفعہ ایمبیسی آئی تھی، اب وہ یہ سفر با آسانی ٹرین کے ذریعے کرتی تھی جو WAO سے کچھ فاصلے پر موجود اسٹیشن سے اسے مل جاتی پھر وہاں سے وہ کے ایل سی سی آتی جہاں سے تھوڑا ہی فاصلہ طے کرکے پاکستان ایمبیسی پہنچ جاتی، دو تین بار آنے سے ہی اسے یہاں کام کرنے والا عملہ بھی پہچاننے لگ گیا تھا، ایک بار جب وہ آئی تو سرفراز صاحب کسی میٹنگ میں تھے۔ دوسری بار انہوں نے نبیرہ کے تمام حالات سن کر اسے دو تین دن کا ٹائم دیا تاکہ وہ اس سلسلے میں اوپر بات کر سکیں اور آج وہ ان کے دیئے ہوئے ٹائم کے مطابق پھر ایمبیسی میں موجود تھی۔

”وہ تو ٹھیک ہے بی بی پھر بھی قانونی طور پر یہ سب بہت ضروری ہے، دوسری اہم بات میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ اگر آپ کے شوہر نامدار نے آپ کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کر دی تو ہم آپ کی کوئی مدد نہ کر سکیں گے۔“

سکندر تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کئی عرصہ قبل کر چکا تھا، پولیس اسے تلاش کر رہی تھی مگر یہ سب کچھ وہ یہاں بتانا نہ چاہتی تھی۔

”آپ کوشش کرکے ایف آئی آر کی سلپ لے آتیں پھر ہم کچھ کرتے مس۔“

سرفراز صاحب کا انداز سراسر ٹالنے والا تھا، وہ ابوذر کی انگلی تھامے باہر نکل آئی جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا مایوسی اس کے گرد ڈیرے ڈال رہی تھی وہ پولیس اسٹیشن جاتے ہوئے ڈر رہی تھی اور یہ بات یہاں تقریباً سب ہی جانتے تھے یہ ہی وجہ تھی جو اس پر ایف آئی آر کیلئے اس قدر دباﺅ ڈالا جا رہا تھا وہ تھک چکی تھی لہٰذا باہر نکلتے ہی سوکھی ہوئی گھاس پر بیٹھ کر رونے لگی۔

”کیا بات ہے کیوں رو رہی ہو پیسوں کی ضرورت ہے کیا؟“

اس نے روتے روتے سر اٹھایا سامنے شلوار قمیص میں ملبوس شخص یقینا پاکستانی تھا جس کے دیکھنے کا انداز سراسر لوفرانہ تھا وہ اپنی آنکھیں رگڑتی اٹھ کھڑی ہوئی ابوذر کو گود میں لے لیا۔

”ارے ڈرو مت میرے پاس جگہ ہے آجاﺅ تمہاری مرضی کے پیسے دوں گا۔“ اس شخص کی بات سن کر نبیرہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی ایک غیر ملک میں مصیبت میں گھری اپنی ہم وطن لڑکی کے ساتھ کوئی اس طرح کی گھٹیا گفتگو بھی کر سکتا ہے وہ سوچ نہ سکتی تھی۔

”بے غیرت آدمی تمہیں شرم نہیں آتی۔“

وہ حلق کے بل چلائی اس کا بس جو چلتا اپنے سامنے کھڑے شخص کو گولی بھی مار دیتی۔

”آہستہ بولو آہستہ۔“ نبیرہ کے چلاتے ہی وہ شخص گھبرا سا گیا۔

”کیا ہوا؟ کیا کہا ہے تم نے اس کو؟“

اندر سے آنے والے نوجوان لڑکے نے اس شخص کو گریبان سے پکڑ کر دو تین جھٹکے دیئے جبکہ نبیرہ وہیں زمین پر بیٹھ کر پھر سے رونے لگی۔

”وہ چلا گیا ہے اب تم بھی اٹھ جاﺅ رونا دھونا بند کرو دیکھو تمہارا بچہ کتنا پریشان ہو رہا ہے۔“ وہ اپنی پریشانی میں کچھ دیر کیلئے ابوذر کو بھی بھول گئی تھی جو شاید اس وقت بہت بھوکا ہو رہا تھا جس کا اندازہ اس کے چہرے پر چھائی مردنی سے لگایا جا سکتا تھا۔ اس نے خاموشی سے ابوذر کو پھر سے گود میں اٹھا لیا۔

”میرا نام شمریز خان ہے اگر مناسب سمجھو تو مجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے تم اپنی ہر بات مجھے بتا سکتی ہو۔“ اس کی مجبوری تھی اب اسے کسی نہ کسی پر تو اعتماد کرناہی تھا وہ چلتے چلتے رک گئی، ایک پل رک کر سوچا پھر پلٹ کر شمریز کی جانب آئی۔

”مجھے اپنا پاسپورٹ بنوانا ہے اس سلسلے میں ایمبیسی میری کوئی مدد نہیں کر رہی اب بتاﺅ تم میرا یہ کام کر سکتے ہو؟“

”ہاں مگر یہ کام میں نہیں کروں گا البتہ میرا ایک دوست ایجنٹ ہے جو یہاں پھنسے ہوئے کئی لوگوں کو پہلے بھی پاکستان واپس بھیج چکا ہے اس کام کیلئے وہ ایک مناسب فیس بھی لے گا مگر تمہیں زندہ سلامت یہاں سے نکال دے گا اگر بولو تو میں تمہاری اس سے بات کروا دوں۔“

نبیرہ کے تن مردہ میں جان سی پڑ گئی اسے محسوس ہوا شاید شمریز کا اس تک آنا مدد خداوندی ہے۔

”میں اس کی منہ مانگی فیس دوں گی تم کسی طرح میری اس سے بات کروا دوں۔“ وہ جان چکی تھی ایمبیسی میں اس کی کوئی شنوائی نہیں ہے اس لئے ضروری تھا کہ شمریز کی بات پر یقین کرتے ہوئے اس ایجنٹ سے رابطہ کرے جس کا وہ ذکر کر رہا تھا اس کے ہاں کرتے ہی شمریز نے فون پر کوئی نمبر ملایا کچھ دیر آہستہ آہستہ بات کی، پھر فون بند کرکے اس کی جانب متوجہ ہوا۔

”ابھی فردوس خان یہاں نہیں ہے وہ پاکستان گیا ہوا ہے تم میرا فون نمبر لے جاﺅ اپنا کانٹیکٹ نمبر مجھے دے دو ایک ہفتہ کے بعد میں تم سے رابطہ کر لوں گا بس تم پیسوں کا انتظام کرکے رکھنا۔“

”انشاءاللہ وہ میں کر لوں گی مگر تم کوشش کرنا میرا کام جلد از جلد ہو جائے کیونکہ میں اب WAO میں بھی زیادہ وقت نہیں رہ سکتی۔“

اس نے جلدی جلدی ایک کاغذ کے ٹکڑے پر اپنے سیل نمبر کے ساتھ ہی WAO کا نمبر بھی تحریر کے شمریز کی جانب بڑھا دیا۔

”میں تم سے جب بھی کانٹیکٹ کروں گا تمہارے سیل پر ہی کروں گا اور ہاں میری آج کی اس گفتگو کا ذکر تم کسی سے مت کرنا خاص طور پر WAO میں رہائش پذیر کسی خاتون سے اور نہ ہی ایمبیسی میں اس بات کا کوئی حوالہ دینا کیونکہ ہم لوگ یہ کام غیر قانونی طور پر کرتے ہیں اور ہمارا مقصد صرف اور صرف اپنے ملک کے لوگوں، خاص طور پر خواتین کو بحفاظت یہاں سے نکالنا ہوتا ہے اور تم کوئی پہلی پاکستانی لڑکی نہیں ہو جس کے گھر والوں نے بنا سوچے سمجھے اسے دیار غیر رخصت کرکے بھیج دیا ہمیں آئے دن اس طرح کے کئی کیس ملتے ہیں لہٰذا اب تم ریلیکس ہو جاﺅ اللہ نے چاہا تو تم جلد ہی اپنے وطن واپس پہنچ جاﺅ گی۔“

وہ اس کے ساتھ پیدل ہی چلتا ہوا منی اسٹیشن کی جانب جا رہا تھا جو وہاں سے تقریباً دس منٹ کے فاصلے پر موجود تھا۔

”ایک منٹ تم رکو میں ابھی آیا۔“

جانے شمریز کو کیا یاد آگیا بات کرتا کرتا تیزی سے وہ ایک جانب بڑھ گیا وہ فٹ پاتھ سے ہٹ کر ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور کی دیوار کے پاس آکھڑی ہوئی یوں ہی بے خیالی میں کھڑے کھڑے اس کی نظر روڈ پار موجود فٹ پاتھ پر جا پڑی جہاں چینی قوم کا ایک عدد عبادت خانہ موجود تھا، اگلے ہی پل اس عبادت خانہ سے ایک بندر برآمد ہوا جس کے ہاتھ میں کیلے کے علاوہ ایک اورنج بھی تھا جسے لے کر وہ کچھ فاصلے پر جا بیٹھا نبیرہ کو بے اختیار ہنسی آگئی اسے کچھ عرصہ قبل کی ہوئی شوبھا کی گفتگو یاد آئی جب اس نے مکمل یقین کے ساتھ یہ کہا تھا ”اگر منت پوری ہونی ہو تو یہ سب پھل بھگوان آکر کھا جاتے ہیں۔“ نبیرہ نے بے اختیار ہی ایک بار پھر سامنے فٹ پاتھ پر موجود بھگوان کو دیکھا جو بڑے مزے سے کیلا چھیل کر کھا رہا تھا۔ اسے وہاں رکھنے والا آج کے دن یقینا بہت خوش ہو گا یہ سوچ کر کہ اس کی منت پوری ہونے والی ہے۔

”یہ لو۔“ یکدم اسے اپنے قریب سے شمریز کی آواز سنائی دی، اس نے پلٹ کر دیکھا، دو عدد کولڈ ڈرنک کے ساتھ ایک بڑا سا لفافہ وہ اس کی جانب بڑھا رہا تھا۔

”یہ کیا ہے؟“ وہ ہاتھ بڑھاتے ہوئے تھوڑا سا جھجکی۔

”تمہارا بچہ اور تم دونوں بھوکے ہو، شاید تمہیں تو پریشانی میں بھوک نہیں لگتی مگر اس معصوم کو تو وقت پر خوراک چاہئے نا اس کا خیال رکھا کرو۔“

”بہت بہت شکریہ۔“ نبیرہ کی آنکھیں تشکر سے بھیگ گئیں۔ اسٹیشن پر اس کی مطلوبہ ٹرین کھڑی تھی وہ خاموشی سے جا کر بیٹھ گئی صبح ایمبیسی کیلئے نکلتے وقت اس نے سوچا تھا کہ واپسی میں سیانگ جائے گی کیونکہ اسے ربیعہ سے ملے ہوئے کافی دن ہو گئے تھے۔ WAO کے قانون کے مطابق وہ کسی سے ملنے نہ جا سکتی تھی اس لئے آج اس کا ارادہ یہاں سے ہی سیانگ جانے کا تھا لیکن اپنا یہ ارادہ اسے صبح آنے والے عبدالوہاب کے فون کے سبب ملتوی کرنا پڑا اس نے نبیرہ کو بتایا کہ رات سکند پولیس کے ساتھ ان کے گھر آیا تھا اس کا کہنا تھا کہ نبیرہ اور ابوذر کو تم لوگوں نے اپنے گھر چھپا رکھا ہے اور شاید عبدالوہاب کے گھر کے نمبرپر بھی آبرزویشن لگا ہوا تھا لہٰذا اس نے نبیرہ کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ خود ربیعہ سے رابطہ نہ کرے۔ اسی سبب وہ چاہتے ہوئے بھی ربیعہ سے ملنے نہ جا سکی اور واپس WAO کی جانب چل دی جہاں آنٹی نوما نے بمشکل اسے ایک ہفتہ مزید رہنے کی اجازت دی تھی۔

QQQQ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6 چکاچوند روشنی میںیکایک قدموں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے