سر ورق / ناول / ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر9

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر9

ڈھل گیا ہجر کا دن

نادیہ احمد

قسط نمبر9

کہیں بے کنار سے رتجگے

کہیں زرنگار سے خواب دے!

تِرا کیا اصول ہے زندگی؟

مجھے کون اس کا حساب دے

جو بچھا سکوں ترے واسطے

جو سجا سکوں ترے راستے

مری دسترس میں ستارے رکھ

مری مٹھیوں کو گلاب دے

یہ جو خواہشوں کا پرندہ ہے

اسے موسموں سے غرض نہیں

یہ اڑے گا اپنی ہی موج میں

اسے آب دے کہ سراب دے!

تجھے چھو لیا تو بھڑک اٹھے

مرے جسم و جاں میں چراغ کبھی یوں بھی ہو ترے روبرو

میں نظر ملا کے یہ کہہ سکوں

مری حسرتوں کو شمار کر

مری خواہشوں کا حساب دے

تری اک نگاہ کے فیض سے

مری کشتِ حرف چمک اٹھے

مرا لفظ لفظ ہو کہکشاں

مجھے ایک ایسی کتاب دے!

ریسٹورنٹ کے خواب ناک ماحول میں ان دونوں کے درمیان ایک طویل اور گہری خاموشی کا پردہ حائل تھا۔ فریحہ اس پل اپنے اندر چل رہی ایک تکلیف دہ جنگ سے نبرد آزما تھی۔ عمیر اس کی بے چینی کو واضح محسوس کررہا تھا کیونکہ اس سے پہلے جس فریحہ سے اس کا سامنا ہوا تھا وہ ہنستی‘ مسکراتی‘ زندگی کو زندگی کی طرح جینے والی ایک بے ساختہ اور بے تکلف لڑکی تھی۔ عمیر کا عام سا سوال اسے انتہائی مشکل میں ڈال کر اتنا الجھا دے گا‘ یہ تو خود اس نے بھی نہیں سوچا تھا اور سوچا تو فریحہ نے بھی نہیں تھا کہ اچانک کبھی زندگی میں اس سے یہ پوچھا جائے گا۔ دو چار دن کا ساتھ ہوتا تو وہ سر جھٹک کر فارس سے ملاقات کو ایک اتفاق یا حادثہ سمجھ کر آگے بڑھ جاتی پر یہ سفر تو سالوں پہ محیط تھا۔ دل نے اسے اس وقت چنا تھا جب محبت کے درست معنی بھی نہیں جانتا تھا تو کیسے اس کی سوچ‘ اس کے خیال‘ اس کی محبت کو بس کھرچ کر نکال دے۔ اور اگر کھرچ بھی ڈالا تو زخم اتنا گہرا ہوگا کہ بھرتے بھرتے عمر گزر جائے گی۔ ادھوری محبت ایسا سانحہ نہیں جسے وقت کے ساتھ فراموش کردیا جائے۔ اجڑی ہوئی بستیاں‘ دوبارہ بس بھی جائیں تو گزری ہوئی تباہ کاری کے اثرات آنکھوں کی وحشت سے جھلکتے ہیں۔ مکان آباد ہوجاتے ہیں پر سناٹا نہیں جاتا۔

”فریحہ یار اپنا کزن نہ سہی دوست سمجھ لو۔ میری شکل بری لگتی ہے۔ کوئی عادت پسند نہیں یا پھر کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو۔“ عمیر کا انداز وہی بے تکلفی لیے ہوئے تھا پر اس کی آخری بات نے فریحہ کے دل تک رسائی حاصل کرلی تھی۔ کتنی آسانی سے وہ نتیجے پر پہنچ گیا تھا۔

”دل میں جو بھی ہے صاف صاف بتادو مجھے۔ آئی پرامس آئی کین لِو وِد دیٹ۔ (میں وعدہ کرتا ہوں میں اس سچ کو قبول کرلوں گا)“ ایک پل کو تو دل میں خیال گزرا کہ سب کچھ سچ بتادے۔ ہے کوئی جس کی محبت کا آسیب اس وجود پہ حاوی ہے اور ابھی تک ایسا کوئی اِسم‘ کوئی تعویز یا ٹوٹکا ایجاد نہیں ہوا جو دل والوں کو آسیبِ محبت سے نجات دلا دے پر مصلحت نے زباں کو روک لیا۔ کس بنیاد پہ وہ یہ جنگ لڑنے جارہی تھی جس میں اس کے اپنے ہی مہرے نے اس کی شکست کا سامان کردیا تھا۔ فارس کی طرف سے جو چپ سادھ لی گئی تھی‘ اس کا دل دکھانے والا رویہ اور تکلیف دہ باتیں سننے کے بعد بھی اب کیا باقی بچتا تھا۔ ایک بات تو طے تھی اور فریحہ اس سچ کو قبول کرچکی تھی کہ جس طرح وہ فارس سے بے لوث اور سچی محبت کرتی ہے وہ اس سے نہیں کرتا تو کیوں کسی کا خلوص سے بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک کر اپنے راستے کی تکالیف میں اضافہ کرے۔

”ایسی کوئی بات نہیں۔ بس وہ آپ نے اس طرح اچانک پوچھا تو میں گھبرا گئی۔ اس سے پہلے اس ٹاپک پہ کسی نے ذکر نہیں کیا اور نہ ہی میرے گمان میں تھا تو میں….“ وہ بہت سوچ سمجھ کر بولی۔ یہ بات فقط عمیر تک محدود نہیں تھی۔ ظاہر ہے اس رشتے میں عمیر کے ساتھ ساتھ اس کی ماں کی بھی پسندیدگی شامل تھی اور پھر پھوپو سے یہ بات ممی اور ڈیڈ تک پہنچتی تو وہ کون سا اس رشتے کو ریجیکٹ کریں گے۔ یہ اس کی زندگی کا راز تھا اسے اس انداز میں تو کھولنا نہیں تھا کہ بدنامی کے جھنڈے پورے خاندان میں نصب ہوجاتے وہ بھی اس صورت جب زبیر انصاری کی فیملی سب کے لیے ایک آئیڈیل کا درجہ رکھتی ہے۔ اس نے دل کی بات نہ سنتے ہوئے دماغ سے فیصلہ کیا تھا۔ خود کو سنبھال کر محبت کے سراب میں بھٹکنے کی بجائے اپنی سمجھداری سے اپنے ماں باپ کی عزت اور اپنا بھرم دونوں قائم رکھا تھا۔

”تھینک گاڈ۔ یار تم نے تو واقعی ڈرا ہی دیا تھا۔ میں تو سمجھا لے بھئی عمیر‘ تیری گاڑی لیٹ ہوگئی۔ لیکن شکر ابھی چانس ہے۔“ عمیر کے سینے سے بوجھ سرکا‘ جب ہی ایک گہرا پُرسکون سانس خارج ہوا۔ بظاہر وہ جتنا نارمل اور خوش مزاج ایکٹ آو ¿ٹ کررہا تھا اندر سے اتنا ہی شدید اسٹریس میں تھا۔ جب کوئی دل کو اچھا لگتا ہے تو آپ اسے ہر قیمت پہ پانے کی خواہش کرتے ہیں اور اس مرحلے کے آغاز میں ہی ناکامی روگ بن جاتی ہے۔ صد شکر یہ روگ عمیر کے حصے میں نہیں آیا تھا۔

”تو پھر اگر تمہیں کوئی اعتراض نہیں تو میں مام کو سگنل دے دوں؟“ اس نے ایک نظر فریحہ کے سنجیدہ چہرے کا جائزہ لیتے اشارے سے ویٹر کو بل لانے کا کہا۔ دل ہی دل میں خود کو کوستی فریحہ نے اپنے اندر کی بے چینی اور تپش کو کم کرنے کی خاطر پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے محض سر ہلایا۔ فارس سے جھگڑے کے بعد یہ اس کی زندگی کا دوسرا بدترین دن تھا۔ کاش وہ آج عمیر کے ساتھ ڈنر پہ نہ آئی ہوتی…. کاش۔

٭….٭….٭

وہ پچھلے پندرہ منٹ سے اندھوں کی طرح ٹٹولتا بمشکل خود کو گھسیٹتا آگے بڑھ رہا تھا۔ اندھا اس لیے کیونکہ اتنی دیر سے وہ جس چہرے کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا اسے بس ایک وہی چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ پندرہ منٹ‘ ہاں صرف پندرہ منٹ پہلے ہی تو وہ اس کے ساتھ‘ اس کی انگلی تھامے چل رہا تھا۔ بس ایک لمحے کی ہی تو خطا ہوئی تھی جب وہ دکان میں کچھ دیکھنے کے لیے اندر گیا اور اس کا ہاتھ چھوٹ گیا۔ اگلے لمحے اس کا دھیان جب پلٹا تو وہ وہاں موجود نہ تھا۔ بجلی کی سی تیزی سے وہ دکان سے باہر نکلا اور اردگرد کی تقریباً سب دکانوں کو چیک کر لیا تھا پر وہ اسے نہیں ملا۔ بے بسی سے اس نے ساتھ چلتے اپنے بڑے بیٹے کی طرف دیکھا‘ وہ بہت بڑا نہ تھا مگر عمر کے اس حصے میں تھا جہاں اس پریشانی کو محسوس کرسکتا تھا۔ اس کے چہرے پہ تشویش نمایاں تھی جس نے خود اس کی پریشانی میں اضافہ کردیا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا حارث آخر ایک پل میں چلا کہاں گیا۔ دل کو ایک بات کی تسلی تھی کہ مال مکمل سیکیور تھا‘ بچہ گم ہوسکتا تھا پر کہیں غائب نہیں ہوسکتا تھا لیکن یہ تو محض ایک تسلی ہی تھی۔ کئی کلومیٹر پہ پھیلے دوہا کے اس تین منزلہ عالی شان شاپنگ مال کے ڈھیروں دروازے تھے۔ تین بیسمنٹ کار پارکنگ اور متعدد لفٹیں تھیں۔ سات آٹھ سال کا بچہ اتنا بڑا نہیں ہوتا کہ ایسی بھول بھلیوں میں درست راستہ نکال لے۔

”پاپا حارث مل تو جائے گا ناں؟“ رامس کے سوال نے اس کے دل کو عجیب انداز میں مٹھی میں جکڑا تھا۔ وہ بس ایک ٹک اسے دیکھتا رہا۔ جواب دینے کی ہمت اس پل عامر کے پاس نہیں تھی۔ ہاں کہنا چاہتا تھا پر پندرہ منٹ پندرہ صدیوں سے زیادہ جان گسل تھے کہ اپنی اولاد سے دوری کا احساس جسم سے جان نکال رہا تھا۔ نا کہنے کی اذیت تو سوچ کر ہی مار ڈالتی تھی۔ کتنے دن سے بچے آسیہ کی وجہ سے اپ سیٹ تھے۔ وہ خود ابھی باہر نہیں جاسکتی تھی تو عامر سے کہہ دیا انہیں کہیں گھومانے لے جائے۔ ان دونوں کے اصرار پہ ہی وہ انہیں مقامی مال میں موجود پلے لینڈ لایا تھا جہان بچے آکر بہت خوش ہوگئے تھے اور اب واپس جاتے ہوئے اس وسیع و عریض مال میں ونڈو شاپنگ کو انجوائے کرتا عامر اچانک حارث کو کھو بیٹھا تھا۔ ویک اینڈ کی وجہ سے لوگوں کی بھیڑ بھی بے تحاشہ تھی۔ یہ بھی تسلی تھی ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے ہیں پر خود کار دروازے جو بس سینسر سے کھل جاتے ہیں ان سے نکل کر بچہ باہر چلا جائے تو وہاں ڈھونڈنا ایک عذاب ہے اور اگر باہر نہیں بھی جاتا تو اتنے بڑے ایریا میں باپ اور بھائی کو ڈھونڈتا وہ بیچارہ کتنا ہلکان ہوگا۔ عامر کا دماغ شل ہورہا تھا۔ اسے تو سوچ کر ہی گھبراہٹ ہورہی تھی کہ اگر اس بات کی بھنک بھی آسیہ کو پڑ گئی تو اللہ جانے اپنا کیا حال کرلے گی لیکن ابھی تو خود اس کی اپنی حالت غیر تھی۔

”کیا وہ بھی علینہ آپا کی طرح ہم سے دور چلا گیا ہے؟“ چلتے ہوئے رامس نے ایک اور سوال کیا جو عامر کے وجود پہ کوڑے کی طرح لگا تھا۔ وہ معصوم بچہ اسے اس وقت وہ آئینہ دکھا رہا تھا جسے عامر نے سالوں سے ضمیر کے تابوت میں چھپا کر دفن کردیا تھا۔ آج اس پل جب اپنی سگی اولاد خود سے دور ہوئی تو آسیہ کے درد کا احساس ہونے لگا تھا۔ کس طرح وہ اتنے عرصے سے لب سیئے صبر سے اپنی اولاد کی جدائی برداشت کررہی تھی۔

”وہ کہیں نہیں گیا ابھی مل جائے گا۔“ وہ بے اختیار چلایا کہ اردگرد چلتے لوگوں نے رک کر اس کی طرف دیکھا۔

”ہم اسے ڈھونڈ لیں گے رامس وہ یہیں کہیں ہوگا۔“ اس بار لہجہ شکست خوردہ تھا بے اختیار لوگوں کو پرے دھکیلتے اس نے رامس کا ہاتھ تھامے تیز تیز چلنا شروع کردیا۔ نگاہ اب بھی حارث کی تلاش میں تھی لیکن اچانک منظر بدل گیا تھا۔ وہاں موجود ہر چہرہ اس پل علینہ کا چہرہ تھا۔ سہما ہوا‘ سسکتا‘ شکوہ کناں‘ ہر سمت اسے علینہ نظر آرہی تھی۔

”تو کیا یہ مکافاتِ عمل ہے؟“ اس نے خوف سے سوچا۔ احساسِ جرم‘ اعتراف جرم سے زیادہ خوف ناک ہوتا ہے اور اس وقت یہ احساس اسے موت سے بدتر لگ رہا تھا۔ بڑے خوف ناک انداز میں اسے اس کے گناہ کا احساس دلایا تھا قدرت نے کہ اب تو ہاتھ اپنی اولاد کے صحیح سلامت ملنے کی دعا مانگنے کو بھی نہیں اٹھا پارہا تھا۔ انکوائری کاونٹر پہ کھڑے سیکیورٹی گارڈ کو حارث کا حلیہ بتاتے ہوئے اس کے لب کپکپا رہے تھے۔ سیکورٹی گارڈ نے اسے تسلی دی اور مال کی دیگر سیکورٹی کو پیغام بھیج دیا تھا پر اس کے دل کو قرار نہیں آرہا تھا۔ ناجانے کیوں اب اسے یقین ہوگیا تھا حارث کی گمشدگی اس کے جرم کی سزا ہے جو اللہ نے اسے دی ہے۔ کسی معصوم کے دل سے نکلی آہ جو آج پوری ہورہی ہو۔

”نہیں اللہ نہیں‘ میں جانتا ہوں میں گناہ گار ہوں پر اس کی ماں کو دوسری بار اولاد سے بچھڑنے کا دکھ مت دینا۔“ خود کلامی کے سے انداز میں فریاد کرتے اسے احساس ہی نہیں ہوا آنسو کب اس کی آنکھوں سے رواں ہوئے تھے۔ مال کی سرد زمین پہ گھٹنوں کے بل بیٹھے اس وقت وہ بچوں کی طرح بلک بلک کے رونے لگا تھا۔ شاید اپنے اندر کے احساسِ ندامت کو آنسوو ¿ں کے سیلاب میں بہانا چاہتا تھا پر روح کچھ اور بوجھل ہورہی تھی۔ پاس کھڑا رامس سہم کر اس سے لپٹ گیا تھا۔ اردگرد لوگ بھی رک کر اسے تسلی دے رہے تھے۔ حارث کے مل جانے کی دعا کررہے تھے مگر یہ فقط عامر جانتا تھا وہ حارث کے لیے نہیں بلکہ اپنی کی ہوئی زیادتیوں کے لیے رو رہا تھا۔ اپنے گناہوں پہ نادم ہوکر آنسو بہا رہا تھا۔ علینہ کے لیے رو رہا تھا‘ آسیہ کے دکھ میں رو رہا تھا۔

٭….٭….٭

”تو یہاں یہ سب چل رہا ہے۔“ وہ بجلی کی سی تیزی سے پیچھے ہوئی تھی اور اس طرح اچانک اپنا بیلنس قائم نہیں رکھ پائی۔ اس سے پہلے کہ وہ پیچھے لڑھکتی سمیر نے اسے سنبھال لیا لیکن اپنے عقب سے آتی تیز اور غصیلی آواز پہ وہ دونوں ہی چونک کر دور ہوئے تھے۔ خاور کی آنکھوں کی لالی اس کے اندر کا غضب بن کہے اگل رہی تھی کہ علینہ کا پورا جسم خوف کی زد میں آگیا تھا۔ اس سے پہلے اس نے کبھی خاور کے چہرے پہ اتنی سختی اور آنکھوں میں اپنے لیے اس قدر نفرت نہیں دیکھی تھی۔ وہ قدم قدم آگے چلتا اب بالکل ان دونوں کے قریب آچکا تھا۔ سمیر اس غیر شناسا اور انجان شخص کو ایسے تیوروں کے ساتھ اپنے گھر میں دیکھ کر کچھ حیران ہوا لیکن اسی وقت خاور کی نگاہوں کے تعاقب میں اس نے علینہ کا چہرہ دیکھا۔ خاور کی شعلہ بار نگاہیں علینہ کے چہرے پہ گڑی تھیں جہاں اس وقت موت سا سکوت اور شرمندگی ہی شرمندگی تھی حالانکہ اس کا اور سمیر کا تو جھگڑا چل رہا تھا پر جس آکورڈ حالت میں خاور نے ان دونوں کو دیکھا تھا‘ علینہ کو یہ سوچ ہی زمین میں گاڑنے کے لیے کافی تھی۔ سمیر کو کسی حد تک علینہ کے تاثرات سے اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ شخص کون ہوسکتا ہے اس پہ حیران کن حد تک اس کے نقوش علینہ سے ملتے تھے۔

”وہ مونس ٹھیک کہہ رہا تھا‘ گھر میں مہمان رکھنے کے بہانے یہ گھٹیا انسان تمہارے ساتھ چکر چلا رہا ہے۔“ وہ بولا نہیں پھنکارا تھا اور اس کے جملے نے علینہ کے پیروں تلے زمین نکالی تھی تو سمیر خود حیرت کے سمندر میں ڈبکیاں لگانے لگا اور پھر بھی ایک منٹ لگا تھا اسے ساری سچویشن سمجھنے میں کہ یقینا یہ اس واہیات لڑکے کی چال ہے۔ ویسے تو اسے تھانے میں بند کرا کر سمیر نے پلٹ کر اس کی خیر خبر نہیں لی تھی نہ ہی اس کے ذہن میں مونس کا خیال آیا تھا مگر اسے اندازہ تھا آج کل میں یقینا ایس ایچ او نے اسے چھوڑ دیا ہوگا۔ علینہ سن سی کھڑی ناقابلِ یقین نگاہوں سے خاور کو دیکھتی رہی۔

”بابا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟“ وہ بمشکل کچھ کہہ پائی۔ اس کے تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا اس کا باپ ایک غیر کے جھوٹ پہ یقین کرکے اپنی سگی اولاد کو مجرم قرار دے گا۔ تو کیا خون پانی سے بھی ہلکا ہوچکا تھا‘ رشتے اتنے ہی بے اعتبار اور ناقص ہوچلے کہ ریت کی طرح مٹھی سے نکل کر بکھر جائیں۔

”وہی جو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے میں نے۔“ وہ تلخی سے بولا تھا۔ علینہ کا دل چاہا کہ اب کوئی آئے اور اس کی بے گناہی کا ثبوت دے۔ کیوں ہر بار اس کی ذات اس کے اپنوں کی بدولت گالی بن جاتی ہے۔ کیا اسے عزت سے رہنے کا کوئی حق نہیں۔ کتنی آسانی سے اس کے کردار کے بخیے ادھیڑ دئیے جاتے ہیں پھر بھلے وہ اس کا سوتیلا باپ ہو یا سگا۔ اس سے تعلق رکھنے والا ہر مرد کتنی آسانی سے اس کی عزتِ نفس مجروح کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ بے اختیار آنسو علینہ کی آنکھوں سے چھلکتے رخساروں کو بھگو گئے تھے۔ اس سے پہلے کے وہ اپنی صفائی دینے کی کوشش کرتی سمیر یک دم اسے پرے دھکیلتا اس کے اور خاور کے درمیان چلا آیا۔

”آپ نے بالکل ٹھیک کہا‘ آپ کی بیٹی سے چکر چلا رہا ہوں میں۔“ علینہ کی سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ سمیر نے بے حد کمپوز اور پورے اعتماد سے بولتے نا صرف علینہ کو حیران کیا بلکہ سامنے کھڑے خاور کے چہرے کا اشتعال حیرانی میں بدلا تھا۔ علینہ جتنی پریشان تھی سمیر اس کے برعکس اتناہی پُرسکون۔ خاور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ جیسے اسے چیلنج کررہا تھا۔

”یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟“ علینہ خائف سی اس کے عقب میں کھڑی بے یقینی سے بولی پر وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا۔ مجال ہے جو اس کے اطمینان میں ذرہ برابر بھی فرق آیا ہو بلکہ نہایت سنجیدگی سے علینہ کو دیکھتے اس نے اسے خاموش رہنے کا حکم دیا۔

”چپ کرو تم…. میرے ہوتے خوامخواہ تمہیں ایک ایسے انسان سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے جو تین میں نا تیرہ میں۔“ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے اس نے خاور کی طرف دیکھتے چیلنج کیا۔ علینہ کا دل چاہا اپنا ماتھا پیٹ لے۔ عجیب احمق انسان ہے بجائے اپنا اور اس کا دفاع کرنے کے الٹا ایک بہتان کو مزے سے قبول کررہا ہے وہ بھی اس کے باپ کے سامنے۔

”باپ ہوں میں اس کا۔“ خاور کے لہجے میں سختی تھی۔ علینہ کو لگا کہیں وہ سمیر کو کوئی نقصان ہی نہ پہنچا دے۔ گھر میں کوئی تھا بھی تو نہیں جو اس بگڑی ہوئی سچویشن کو سنبھال پاتا۔ ایک دم اسے چوکیدا کا خیال آیا تھا۔ ایسا نہ ہو کہ بات بگڑے اسے بھاگ کر چوکیدار کو بلا لینا چاہیے۔ کم سے کم ان دونوں کے بیچ کوئی بڑا جھگڑا تو نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے ذہن میں منڈلاتی سوچوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وہاں سے ہٹتی سمیر کے طنزیہ سوال نے اس کے قدموں کو روک دیا۔

”اوہ رئیلی؟“ وہ ابرو اٹھائے چبھتے لہجے میں بولا تو خاور اور علینہ دونوں ہی حیرانی سے اس کی طرف دیکھنے لگے۔

”آپ باپ ہیں اس کے۔ پھر بھی اپنی بیٹی کی ذمہ داری اٹھانے کے بجائے اسے یہاں وہاں کہیں بھی چھوڑ رکھا ہے؟“ اس کا لہجہ جتنا تحمل لیے تھا اس کے الفاظ میں اتنی ہی تذلیل اور کاٹ تھی کہ خاور تو خاور‘ خود علینہ ہکابکا رہ گئی۔ اس سے پہلے کہ خاور اپنی طرف سے کوئی بھی صفائی دینے کی کوشش کرتا سمیر نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے روکا۔

”باپ ایسے ہی تو ہوتے ہیں ناں کوئی بھی منہ اٹھا کر ان کی بیٹیوں کے متعلق الٹا سیدھا بول دے اور وہ سچ جاننے کے بجائے بیٹی کے کردار کی دھجیاں بکھیرنے چلے آئیں۔“ خاور کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔ علینہ یک ٹک اپنے جوتوں پہ نگاہ ٹکائے لب کاٹ رہی تھی۔

”باپ ہوتے تو منہ توڑ دیتے اس گھٹیا انسان کا جس نے آپ کی بیٹی پہ ایسا فحش الزام لگایا۔“ سمیر دانت پیستے ہوئے بولا۔

”اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے میں نے تمہیں….“ اس بار خاور کے لہجے میں نہ وہ اشتعال تھا نہ ملامت۔ دھیمی آواز میں کہتے وہ اپنی بات مکمل نہیں کر پایا تھا۔

”کیا دیکھا ہے آپ نے ہاں‘ بتائیں مجھے یہاں ایسا کیا دیکھا آپ نے جو آپ کو اپنی بیٹی کے کردار میں جھول دِکھا اور میری آوارگی کا یقین آگیا؟“ سمیر غصے میں تھا نا ہی اس کے لہجے میں بے ادبی کی جھلک تھی لیکن اس کا انداز دو ٹوک ضرور تھا۔ ایک مرد ہوکر اس نے آج تک اپنے کرادر پہ کسی کو انگلی نہیں اٹھانے دی تھی کجا اس سے منسوب کرکے ایک معصوم لڑکی کی کردار کشی ہو۔

”ایک بار بھی اس سے پوچھا اسے کوئی پریشانی تو نہیں؟“ اس سب کے بعد وہ علینہ کی ذہنی حالت کا اچھی طرح اندازہ کرسکتا تھا۔ وہ کس ٹراما سے گزرتی رہی ہے اور کیوں‘ خاور سے ملنے کے بعد اسے بخوبی پتا چل گیا تھا۔ ایسے ہی حالات سے گزر کر تو وہ آج بے اعتباری اور بدگمانی کے پہاڑ پہ کھڑی کسی بھی انسان کے خلوص کو مشتبہ نظروں سے دیکھتی تھی۔ ٹوٹے ہوئے خاندان نے اس کی شخصیت کو بھی توڑ کر رکھ دیا تھا۔

”کوئی تکلیف تو نہیں؟“ علینہ نے نگاہ اٹھا کر سمیر کی طرف دیکھا پر وہ اس کی بجائے خاور کی طرف متوجہ تھا جو گردن جھکائے سرخ چہرے کے ساتھ وہاں بمشکل کھڑا تھا۔

”کتنے دن ہوچکے ہیں اسے ہمارے گھر رہتے۔ اس سے پہلے تو آپ کو خیال نہیں آیا اپنی بیٹی کی خیریت پوچھنے کا۔ وہ کس حال میں ہے‘ کہیں اسے یہاں کوئی تنگ تو نہیں کررہا۔“ اس بار اس کا لہجہ کچھ دھیما تھا اور علینہ کا وجود ریزہ ریزہ ہورہا تھا۔

”ارے آپ تو یہ بھی نہیں جانتے آپ کی ناک کے نیچے مونس اس کا جینا حرام کررہا ہے۔ سرِ عام اس کی بے عزتی کرتا ہے۔“ سمیر کی بات پہ خاور نے پہلی بار سر اٹھا کر حیرت سے پہلے اسے اور پھر علینہ کو دیکھا پر شاید یہ اس کی برداشت کی حد تھی۔

”بس کردیں سمیر…. آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا میرے بابا کے ساتھ اس انداز میں بات کرنے کا اور نا ہی میں نے آپ کو اپنے ذاتی مسائل کی تشہیر کی اجازت دی ہے۔ آپ نے میری مدد کی‘ مونس سے میری جان بچائی۔ اس کے لیے میں آپ کی تہہِ دل سے شکر گزار ہوں لیکن اس سے آگے پلیز میرے لیے مسائل مت کھڑے کریں۔“ ہتھیلی کی پشت سے بے دردی سے آنکھیں رگڑتے اس نے تقریباً چیخ کر کہا تھا۔ سمیر کو حیرت ہوئی تھی نہ ہی غصہ آیا تھا کیونکہ وہ سمجھ سکتا تھا علینہ بہت ڈسٹرب ہے اور اسے ہونا بھی چاہیے تھا۔ گو سمیر نے اس کا دفاع ہی کیا تھا پر جس اسٹریس سے وہ گزر رہی تھی ایسے میں یہ رویہ انتہائی نارمل تھا اور اس کے لیے اس نے برا منائے بغیر علینہ کی بات کو درگزر کردیا تھا۔

”یہ چند دن جو آپ کے گھر پناہ گزینوں کی طرح گزرے ہیں مجھ پہ احسان رہیں گے۔“ آنسو اپنے اندر اتارتے وہ ٹوٹے لہجے میں بولی۔ سمیر نے خود پہ ضبط کرتے بے ساختہ آنکھیں بند کیں تھیں۔ یہاں وہ غلط تھی کیونکہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔

”یو جسٹ مائینڈ یور اوون بزنس۔“ سنجیدگی سے ایک گہری نظر اس نے علینہ کے سرخ اور بھیگے چہرے پہ ڈالی اور پھر بے اختیار گردن نیچے جھکالی۔ وہ اب اپنے جوتے کی ایڑھی سے گھاس کو مسل رہا تھا۔ وہ اس وقت علینہ کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا تھا اور جتنا کردیا تھا اس کے حساب سے بہت تھا لہٰذا اب سب سے اچھی تھی خاموشی۔

”اور آپ….“ وہ اب خاور کی طرف متوجہ ہوئی جو اپنے ہی ہاتھوں کھودے ذلت کے گڑھے میں بہت دیر سے خاموش کھڑا تھا۔

”علینہ بیٹا….“ اس نے کچھ کہنا چاہا پر علینہ نے اسے بولنے نہیں دیا۔

”بس کردیں بابا پلیز اب بس کردیں۔ میں جانتی ہوں آپ کی زندگی میں میری کوئی جگہ نہیں۔ مجھے تو آپ میری ماں کے ساتھ بیس سال پہلے اپنی زندگی اور گھر دونوں سے نکال ہی چکے ہیں پھر بھی ایک امید تھی کہ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں….“ یہ شکایت تو برسوں سے دل میں چھپی تھی آج خاور ہی کی بدولت زبان پہ چلی آئی ورنہ وہ تو اتنے سالوں سے اپنا بھرم قائم رکھے اس سے ہمیشہ ہی لاتعلق رہی تھی۔

”میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں علینہ میری بچی۔“ وہ تڑپ کر بولا۔

”جھوٹ مت بولیں۔ آپ جیسا شخص فقط اپنی ذات سے محبت کرتا ہے۔ اپنی ذات کے لیے سوچتا ہے۔ آپ مجھ سے محبت کیسے کرسکتے ہیں آپ نے تو میری ماں سے محبت نہیں کی جس نے آپ کے سوا کسی کو اتنی شدت سے نہیں چاہا۔“ دونوں ہاتھوں سے منہ چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ سمیر نے بے اختیار نچلا لب کاٹا پر وہ اس وقت ان دونوں باپ بیٹی کے درمیان دخل نہیں دینا چاہتا تھا۔ علینہ اگر اس وقت خاور سے کہہ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرلے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہوگا۔ گھٹ گھٹ کر جے کر آج وہ اس مقام پہ پہنچی تھی کہ اسے نارمل ہونے کے لیے اپنے اندر کا غبار باہر نکالنا ضروری ہوگیا تھا۔

”ایسے مت کہو علینہ۔ میں پہلے ہی اپنے کیے پہ بہت شرمندہ ہوں۔ ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔ بہت دل دکھایا ہے میں نے آسیہ کا اور تمہارے ساتھ تو انجانے میں بڑا ظلم کردیا میں نے۔“ خاور التجائیہ لہجے میں بولتے دو قدم آگے بڑھا پر علینہ تیزی سے پیچھے ہٹی۔

”نہیں ملے گی معافی‘ کبھی نہیں ملے گی معافی۔ جب تک میں اور میری ماما آپ کو معاف نہیں کردیتے اللہ بھی آپ کو معاف نہیں کرے گا۔“ وہ ہذیانی کیفیت میں چلائی تو خاور نے بے اختیار گہری سانس لی۔ وہ نہ بھی کہتی تو وہ جانتا تھا کہ کانٹے بوکر پھول نہیں ملا کرتے۔

”آپ کی بدولت پہلے بھی سالوں سے سر اٹھا کر نہیں چل سکی۔ آج بھی آپ نے میرے کردار کی دھجیاں بکھیر کر مجھے ان لوگوں سے نظر ملانے کے قابل نہیں چھوڑا جو غیر ہونے کے باوجود میرے اپنوں سے لاکھوں گنا بہتر ہیں۔“ روتے ہوئے اس کی ہچکی بندھ گئی تھی۔ پتا نہیں آج کے بعد وہ اب سمیر کا سامنا کیسے کر پائے گی اور کیا اس بار سمیر اتنی بڑی بات‘ خود پہ لگا اتنا بڑا الزام اپنے گھر والوں سے چھپا پائے گا۔ انہیں پتا چلے گا تو وہ سب کیا سوچیں گے اور خود علینہ ان کی نظروں کو کیسے جھیل پائے گی۔

”علینہ میری بچی مجھے معاف کردو۔ میں تمہارا دل نہیں دکھانا چاہتا تھا۔“ خاور نے آگے بڑھ کر علینہ کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ اس کا لہجہ شکست خوردہ تھا پر علینہ نے بے دردی سے اس کے دونوں ہاتھ جھٹک دئیے۔

”چلے جائیں یہاں سے۔ اللہ کا واسطہ بابا چلیں جائیں۔ میں آپ سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔“ تیز قدموں سے چلتی وہ گھر کے اندر چلی گئی۔ پیچھے خاور اور سمیر خاموش کھڑے تھے۔ خاور نے ایک نگاہ گھر کو دیکھا جہاں ابھی کچھ دیر پہلے علینہ بھاگتی ہوئی گئی تھی اور پھر معذرتی نظر سمیر پہ ڈالی جو لاتعلق سا سرد نگاہوں سے اس کو دیکھ رہا تھا اور پھر وہ قدموں کو گھسیٹتا مین گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔

٭….٭….٭

خاور کے نکلتے ہی سمیر علینہ کے پیچھے اندر آیا۔ وہ وہیں لاو ¿نج میں صوفے پہ بیٹھی تھی اور سمیر کے لیے باعثِ حیرت تھا کہ وہ اب رو نہیں رہی تھی ہاں مگر سنجیدہ اور خاموش تھی جیسے گہری سوچ میں ہو۔ کچھ سوچ کر سمیر نپے تلے قدموں سے چلتا اس کے پاس چلا آیا۔ علینہ جس صوفہ پہ رخ موڑے بیٹھی تھی اسی صوفہ پہ ذرا فاصلے پہ سمیر بھی بالکل اس کے سامنے ہوکر بیٹھ گیا۔ علینہ نے اس بار بھی سر نہیں اٹھایا۔ کچھ پل خاموشی کے گزرے اور پھر سمیر نے ایک گہری سانس لے کر کچھ سوچتے ہوئے سلسلہِ کلام کا آغاز کیا۔

”آئی ایم سوری علینہ۔ آئی ڈونٹ وانٹ ٹو ہرٹ یو اور نا ہی میرا ارادہ تمہارے والد کی انسلٹ کا تھا۔ انہوں نے بات ہی اتنی غیر مناسب کی….“ وہ بہت دھیمے اور دوستانہ انداز میں اپنی صفائی پیش کررہا تھا۔ جانتا تھا کچھ زیادہ کہہ چکا ہے پر اس وقت سچویشن بھی تو ایسی ہی تھی اگر خاموش رہتا تو مجرم قرار پاتا۔

”سوری تو مجھے آپ سے کہنا ہے۔ میری وجہ سے بابا نے آپ کی کردار کشی کرنی چاہی۔“ علینہ نے اس کی بات درمیان میں کاٹ دی تھی۔ اس کے لہجے میں تاسف اور چہرے پہ واضح شرمندگی تھی۔ سمیر نے جھٹکنے کے سے انداز میں سر ہلایا۔

”آئی کین انڈرسٹینڈ‘ یہ سب اس لڑکے کی غلط بیانی کی وجہ سے ہوا۔ ان کی نیت غلط نہیں تھی۔ مجھے بس اس بات کا افسوس ہے انہیں تم پہ ٹرسٹ کرنا چاہیے تھا۔“ سمیر نے تحمل سے کہا۔ علینہ خاموش بیٹھی اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔ وہ دونوں اب مونس کے متعلق بات کررہے تھے کہ یقینا اس نے خاور سے بہت بڑا اور گھناو ¿نا جھوٹ بولا ہے اسی لیے تو وہ اتنا طیش میں تھا۔ اسی وقت صدر دروازے سے نور فاطمہ اور زبیر انصاری اندر داخل ہوئے۔ اپنے دھیان میں مگن ان دونوں نے ہی توجہ نہ دی تھی پر سمیر اور علینہ کی ادھوری گفتگو وہ دونوں میاں بیوی اندر داخل ہوتے سن چکے تھے۔ رہی سہی تفصیل علینہ کی سرخ اور سوجی ہوئی آنکھیں بیان کر گئی تھیں۔ مجبوراً ان کے زور دینے پہ سمیر کو انہیں پوری بات بتانی ہی پڑی۔ مونس کی گرفتاری سے لے کر ابھی کچھ دیر پہلے تک کا سارا قصہ سننے کے بعد وہ دونوں ہی بے حد پریشان ہوگئے تھے۔

”یہ تم نے کیا کیا سمیر؟“ نور فاطمہ نے اپنا ماتھا پیٹ لیا۔

”ممی میں نے انہیں سچ بتایا ہے۔“ وہ تنک کر بولا۔

”سچ بتانے کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے۔“ زبیر انصاری نے ٹوکا۔

”کمال کرتے ہیں آپ لوگ بھی‘ وہ گھر سے مائینڈ بنا کر چلے تھے‘ انہیں دو ٹوک انداز میں نہ سب کچھ کہتا تو وہ مجھے ہی مجرم بنا دیتے۔“ سمیر نے اپنی طرف سے صفائی دی جبکہ علینہ سر جھکائے خاموش بیٹھی تھی۔

”یار تم ہمیں کال کردیتے ہم بات کرلیتے علینہ کے والد سے۔“ زبیر انصاری زچ ہوکر بولے۔

”اور تمہیں کیا ضرورت تھی اس لڑکے کو تھانے میں بند کرانے کی‘ ایسے ہی تو دشمن بنتے ہیں۔ اوپر سے تم دونوں نے مجھے بتایا بھی نہیں۔“ نور انصاری نے شکوہ کناں نگاہوں سے بیٹے کی طرف دیکھا۔

”میرا خیال ہے ممی یہ مسئلہ حل ہوچکا ہے۔“ سمیر اکتائے ہوئے لہجے میں بولا۔

”مسئلہ تو اب شروع ہوا ہے۔ سوچا ہے آنٹی شاکرہ کو کال کرکے بتادیا انہوں نے تو وہاں کیا طوفان مچے گا۔“ ان کے لہجے میں واضح پریشانی تھی۔

”بابا‘ نانی کو کچھ نہیں بتائیں گے آنٹی۔“ علینہ نے پہلی بار اس گفتگو میں اپنی رائے دی۔ اس کے لہجے سے جھلکتی ندامت پہ نور انصاری کچھ اور اپ سیٹ ہوگئیں۔ انہوں نے محبت سے اس سے گلے لگتے ہوئے تسلی دی۔

”میری جان انہیں نہ بھی بتائیں‘ پھر بھی سمیر کو ان سے اس انداز میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ وہ ہمارے گھر مہمان تھے۔ تمہارے والد ہیں وہ بچے۔ کیا سوچتے ہوں گے ہمارے لیے کہ کیسے کم ظرف لوگ ہیں جو گھر آئے مہمان کی انسلٹ کردی۔“ وہ بے چینی سے کہتیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور اب شاکی نظروں سے کبھی اپنے شوہر اور کبھی سمیر کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

”ایسا کرتے ہیں ہم ان کے گھر چلے جاتے ہیں۔ معذرت بھی کرلیں گے اور تفصیلی بات بھی کلئیر ہوجائے گی۔“ زبیر انصاری نے اپنی بیوی کے دل کی بات کہہ دی تھی۔ نور نے تائیدی انداز میں سر ہلایا جبکہ سمیر نے اپنا سر پکڑ لیا۔

”ہاں یہ ٹھیک ہے ہم دونوں وہاں چلتے ہیں ابھی تاکہ ساری غلط فہمی دور ہوجائے۔“ وہ فوراً تیار ہوگئیں۔ زبیر انصاری اپنی جگہ سے اٹھے پر سمیر نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔

”آپ رہنے دیں بابا‘ آپ کا جانا مناسب نہیں ہوگا۔ میں ممی کے ساتھ چلا جاتا ہوں۔ غلطی میری ہے تو معذرت بھی مجھے ہی کرنے جانا چاہیے۔“ اس کا بس چلتا تو نور انصاری کو بھی روک دیتا پر جانتا تھا وہ راضی نہیں ہوں گی۔ اب اگر معذرت کرنی ہی تھی تو اس کا ضمیر یہ کیسے گوارہ کرتا کہ اس کی طرف سے اس کے ماں باپ معافی مانگنے جائیں۔ نور فاطمہ کو یہ بات معقول لگی۔ اگلے چند منٹوں میں وہ دونوں گھر سے خاور کی طرف نکلے جبکہ پیچھے زبیر انصاری علینہ کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش میں اس سے باتیں کرنے لگے تھے۔

٭….٭….٭

گھر پہنچتے ہی وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں گھس گیا تھا۔ دونوں بچے باہر لاو ¿نج میں آسیہ اور شاکرہ کو اپنی سیر کا احوال سنانے لگے۔ کہاں سے کھانا کھایا‘ کتنا کھیلا‘ کون سے نئے کھلونے خریدے۔ پچھلے چند گھنٹوں کی ننھی سی داستان اور اپنے ایڈونچر شوق سے نانی کو سناتے وہ بے تحاشہ ایکسائیٹیڈ تھے۔ آسیہ نے ایک نگاہ ان کے پھول چہروں کو دیکھا اور پھر بیڈ روم کے بند دروازے پہ نظر ڈالی۔ اسے عامر کا رویہ بے حد عجیب لگا تھا۔ وہ ایک منٹ بھی وہاں نہیں رکا تھا پر ان لمحوں میں ہی آسیہ اس کے چہرے کی اڑی رنگت اور اس کے چہرے پہ رقم وحشت کی داستان پڑھ چکی تھی۔ اس کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ کسی انہونی کا خوف اس کی ریڑھ کی ہڈی میں لہر بن کر دوڑا تھا۔ بچے نانی کے ساتھ باتوں میں مگن تھے جب خاموشی سے اٹھ کر وہ اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کمرے کے اندر پہنچ کر اسے جھٹکا لگا۔ سامنے جائے نماز بچھائے عامر حالتِ سجدہ میں تھا۔ آسیہ دھیمے قدموں سے چلتی کمرے کے اندر آگئی اور پھر دھیرے سے اس نے بیڈروم کا دروازہ بند کردیا۔ عامر نے سجدہ سے سر اٹھایا اور پھر تشہد کے بعد سلام پھیر کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور اس پل وہ آسیہ کی کمرے میں موجودگی سے یکسر لاعلم تھا۔ دوسری طرف آسیہ اسے یوں بے وقت نماز پڑھتے دیکھ کر مخمصے میں تھی تو دعا مانگتے اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوو ¿ں نے اسے پریشان کردیا تھا۔ بے شک رب جب دلوں کو بدلنے لگے تو بس لمحہ لگتا ہے۔ انسان تو بس اس کے ”کن“ کا محتاج ہے۔ جب وہ کہہ دیتا ہے تو وہ بھی ہوجاتا ہے جس کا گمان نہیں ہوتا یہ تو آسیہ کی برسوں پرانی حسرت تھی کہ عامر پابندی سے نماز ادا کرے جبکہ وہ تو جمعہ کی نماز بھی مشکل سے پڑھتا تھا۔ لیکن آخر ایسا کیا ہوا جو وہ اس وقت اتنی آہ و زاری سے دعا مانگ رہا تھا۔ آسیہ کا صبر جواب دے گیا۔ خاموشی سے قدم اٹھاتی وہ اس کی جائے نماز کے پاس چلی آئی۔ وہ اس کے پاس جائے نماز کے کونے پہ بناءکوئی آواز کیے بیٹھ گئی۔ عامر نے اب بھی اسے نہیں دیکھا تھا۔ اس کے لب بے آواز ہل رہے تھے اور آنسو مسلسل چہرے کو بھگو رہے تھے اور پھر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ آسیہ کو سامنے دیکھ کر اس نے سر جھکا لیا۔

”سب ٹھیک ہے ناں عامر؟“ اس کا صبر جواب دے گیا تو وہ پوچھے بناءنہ رہ پائی۔

”مجھے میری اوقات پتا چل گئی ہے آسیہ۔“ وہ بھیگے لہجے میں بولا۔ آسیہ نے آج سے پہلے اسے کبھی اتنا اپ سیٹ نہیں دیکھا تھا۔

”ہوا کیا ہے؟“ اس نے پریشانی سے سوال کیا۔ آن کی آن میں ایسا کیا ہوگیا تھا جو ایک توانا مرد بکھیر کر رہ گیا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی آگہی سے بڑا طوفان اور کچھ نہیں ہوتا۔ آگہی جب دلوں پہ دستک دینے لگے تو تکبر خاک میں مل جایا کرتے ہیں۔ وجود ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں۔

”اللہ سے اپنے کیے کی معافی مانگ چکا ہوں اور مانگتا رہوں گا مگر پلیز تم بھی مجھے معاف کردو۔“ دونوں ہاتھ جوڑ تے ہوئے عامر نے التجائیہ انداز میں کہا۔ آسیہ نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں کو تھام لیا۔

”ایسے مت کہیں۔“ مرد چاہے جیسا بھی ہو‘ عورت کو اس کا مان‘ اس کا بھرم بہت عزیز ہوتا ہے۔ ایک اچھی بیوی کبھی یہ نہیں چاہتی کہ اس کا شوہر اس کے سامنے جھک جائے‘ اس کے آگے گھٹنے ٹیک دے‘ اس سے ہار جائے کیونکہ اس کی ہار عورت کی جیت کبھی نہیں بن سکتی۔ ایک بیوی کی جیت تو بس یہی ہے کہ اس کا شوہر اس کے وجود کو دل سے تسلیم کرے‘ اسے مان اور محبت دے۔ بھوک روٹی کی تو برداشت کی جاسکتی ہے پر عزت اور چاہت کی بھوک کوئی بھی بیوی برداشت نہیں کرپاتی۔ جس دن اسے اس رشتے سے عزت اور محبت ملنے لگتی ہے وہ یہ کھیل شہہ مات سے جیت جاتی ہے۔ جنہیں یہ نہیں مل پاتا ان کی ہر جیت فقط مات ہوتی ہے۔“

”کہنے دو پلیز…. کہنے دو۔ اپنے گناہ کو تسلیم کرنا بڑی ہمت کا کام ہے اور ایسی ہمت روز روز پیدا نہیں ہوتی۔“ عامر کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی جیسے آنسوو ¿ں کے سیلاب کو بڑی مشکل سے اپنے اندر روک رکھا ہو۔

”چھوڑیں عامر۔ میں نے معاف کیا‘ میرے اللہ بھی آپ کو معاف کرے۔“ آسیہ نے سر جھٹکتے دھیمے لہجے میں کہا۔

”پتا ہے آسیہ‘ صرف ایک گھنٹے کے لیے اپنی اولاد سے دور ہوکر اندازہ ہوا ہے مجھے کہ تم پہ اتنے سالوں سے کتنا ظلم کرتا رہا ہوں میں۔“ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا آخر یہ بیٹھے بٹھائے عامر کو ہو کیا گیا پر اب جو اصل وجہ سامنے آئی تو اسے بھی پیروں کے نیچے سے زمین ہلتی محسوس ہوئی۔

”ذرا سا اختیار کیا مل گیا‘ خود کو کل سمجھ بیٹھا اور یہ بھول گیا اللہ نے تو بڑے بڑوں کا تختہ الٹ کر انہیں دریا برد کردیا پھر میں عاجز انسان کیا چیز ہوں۔“ عامر نے مختصر الفاظ میں حارث کی گمشدگی کا واقعہ بتایا۔ کس طرح وہ پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈ رہا تھا‘ کیسے علینہ کا خیال اسے شرمندہ کررہا تھا اور پھر جب وہ اپنے جرم کا سوچ کر حارث کے ملنے کی امید چھوڑ چکا تھا‘ اپنے کرتوتوں کی سزا پہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوچکا تھا تو اچانک حارث ایک سیکورٹی گارڈ کے ساتھ سامنے سے آتا دکھائی دیا تھا۔ عامر نے دھندلی آنکھوں سے اپنے بچے کو تیزی سے خود تک آتے دیکھا اور پھر بے اختیار بانہیں پھیلا دیں۔ حارث بھاگ کر اس کے گلے لگ گیا۔ کمالِ حیرت وہ نا رو رہا تھا نا ہی پریشان تھا۔ وہ ڈرا سہما نہیں بلکہ انتہائی پُرسکون اور نارمل تھا۔

”یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟“ آسیہ کی تو جان ہی نکل گئی تھی۔ صد شکر بچہ جلد ہی مل گیا ورنہ ننھی سی جان کتنا پریشان ہوجاتا۔ وہ تو سوچ کر ہی کانپ گئی تھی جو اگر اس وقت جان جاتی تو شاید مر ہی جاتی۔

”ہاں آسیہ‘ حارث کو کھو کر احساس ہوا مجھے اولاد جب ایک پل کے لیے بھی ماں باپ کی نظروں سے اوجھل ہو تو کیسے دل تڑپ اٹھتا ہے۔ میں باپ ہوکر خود پہ قابو نہیں رکھ پایا تم تو ماں ہو‘ جس کی محبت بیان کرتے میرا رب اپنی مثال دیتا ہے۔“ وہ سر جھکائے ندامت سے بولا۔

”پریشان مت ہوں۔ شکر ہے اللہ کا وہ مل گیا۔“ آسیہ خود بھی اچھی خاصی پریشان ہوگئی تھی لیکن عامر اتنا بے حال تھا اسے ہرگز مناسب نہ لگا وہ اپنی پریشانی بھی اس پہ لاد دے اور پھر وہ تو خود سے اتنا شرمندہ تھا کہ آسیہ سے نگاہ اٹھا کر بات نہیں کر پارہا تھا۔ یہی سوچ کر اس نے خود کو مضبوط کرتے عام سے لہجے میں تسلی دی۔ عامر چند پل اس کی شکل دیکھتا رہا۔ آسیہ کا چہرہ بے تاثر تھا۔ جب سے علینہ گئی تھی اس نے اسے کم ہی ہنستے مسکراتے یا کوئی ردِ عمل دیتے دیکھا تھا۔ مصلحت کے تقاضا کومدنظر رکھ کر اس نے جذبات کو ایک طرف رکھ کر حالات سے سمجھوتا کرلیا تھا۔ تو بس یہی سمجھوتہ اس نے حارث اور رامس کی خاطر کر لیا تھا۔

”آج کے بعد میری طرف سے تمہیں علینہ سے ملنے یا بات کرنے پہ کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔“ وہ ایک تامل کے بعد بولا۔ آسیہ نے ناقابلِ یقین حیرت سے اس کی طرف دیکھا جیسے جو کچھ اس نے اپنے کانوں سے سنا اس کی تصدیق کرنا چاہتی ہو۔

”تم چاہو تو اسے اپنے پاس رکھ لو۔ ابھی امی کے جانے میں کچھ دن باقی ہیں جانا چاہو تو علینہ سے ملنے چلی جاو ¿۔ وہ بھی تو پریشان ہوگی تمہارے لیے۔“ عامر نے اس کے ہاتھ کی پشت تھتھپاتے یقین دلایا۔

”عامر سچ کیا میں علینہ سے ملنے جاسکتی ہوں؟“ اسے اب بھی یقین نہیں آیا تھا۔ ڈرتے ڈرتے اس نے سوال کیا۔ وہ جو مامتا کی تڑپ پہ بند باندھے اتنے سال سے ناصرف اس کی جدائی سہتی رہی بلکہ اس کی ناراضی بھی جھیل رہی تھی اب اچانک اس کرم پہ اتنی الجھ سی گئی کہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار بھی نہیں کر پا رہی تھی۔ عامر نے سر ہلا کر مسکراتے ہوئے اسے یقین دلایا تو وہ مسکراتے ہوئے رو دی۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو صبر کرنا سیکھ لیتا ہے وہ پھر منزل پالیتا ہے۔ اللہ ان کے راستے آسان کردیتا ہے جو صبر کرنا جانتے ہیں۔

”اور بے شک اللہ ہی سب سے بہترین مددگار ہے۔“

٭….٭….٭

بہت سال پہلے وہ شہباز سے نظر بچا کر ایک رات بھاگ آیا تھا۔ پچھلے چند سالوں میں زندگی اتنی تلخ اور اذیت بھری تھی کہ اب اسے رات کا اندھیرا خوف زدہ نہ کرتا تھا۔ شہباز کے ظلم نے اس کی شخصیت مجروح کردی تھی۔ وہ معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کے قابل رہا تھا نہ ہی رشتے بنانے کی اہلیت رکھتا تھا۔ آسیہ کے ساتھ اس کی شادی برا خواب ثابت ہوئی تھی اور اس سے زیادہ تکلیف آسیہ نے سہی تھی پر جس کی بدولت اس کی زندگی جہنم سے بدتر بنی تھی وہ اپنے بھیانک انجام کے ساتھ ابھی اس زمین پہ موجود تھا۔ کیونکہ قدرت کا فیصلہ ابھی ہونا باقی تھا اور ظالم اپنے انجام تک نہیں پہنچا تھا۔ یہ مکافاتِ عمل ہے اور سب کو اپنی کرنی کا پھل اسی دنیا میں مل کر رہتا ہے تو وہ کیسے بچ سکتا تھا اللہ کے انصاف سے‘ سفینہ کی دستِ فریاد سے اور نور فاطمہ کی سسکیوں سے۔

”میرے اندر بڑی بے سکونی ہے مولوی صاحب۔“ وہ آج پھر ہمت کرکے مسجد چلا آیا تھا۔ جماعت ہونے تک وہ باہر چبوترے پہ بیٹھا رہا۔ ایک ایک کرکے سب نمازی مسجد سے نکل چکے تھے۔ سب سے آخر میں امام صاحب مسجد سے نکل رہے تھے جب وہ ان کا راستہ روک کے کھڑا ہوگیا۔ وہ آج سے پہلے کبھی مسجد نہیں آیا تھا پر امام صاحب اسے جانتے تھے۔ اس چھوٹے سے محلے میں تقریباً سب ہی ایک دوسرے سے واقف تھے۔ وہ خاموشی سے اس کے پاس ہی چبوترے پہ بیٹھ گئے۔ کچھ دیر وہ سر جھکائے ان کے سامنے بیٹھا بس یہی سوچتا رہا کہ بات شروع کہاں سے کرے اور پھر بالآخر اس نے سلسلہِ کلام شروع کیا۔ آواز دھیمی اور لہجہ پشیمان تھا۔

”بڑا آسان سا نسخہ ہے میرے بچے لوگوں میں آسانیاں تقسیم کرو سکون اپنے آپ مل جائے گا۔ لوگوں کے راستے کے خار صاف کرو اللہ اپنے آپ تمہاری راہ کے کانٹے ہٹاتا جائے گا۔“ امام صاحب نے سادگی سے جواب دیا۔ خاور نے نگاہ اٹھا کر ان کے حلیم چہرے کو دیکھا جو ہر طرح کے ریا سے پاک تھا۔ ان کی سفید داڑھی اور جھریوں سے بھرا چہرہ طویل سفر کی داستان سنا رہا تھا پر وہاں سکون تھا۔ اور یہ سکون کبھی خاور کے حصے میں نہیں آیا تھا۔

”میری نگہداشت سپ گندل کی مانند زہر پہ ہوئی ہے۔ دنیا نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ سب کے رویوں نے جو زہر میرے اندر اتارا ہے میں اسے دوسروں تک منتقل کرنے سے کیسے روکوں؟“ وہ استہزائیہ لہجے میں کہتا پھیکی ہنسی ہنسا۔ لہجے کی شکست خوردگی اس کے اندر کی اذیت بیان کررہی تھی۔

”یہ دنیا جائے امتحان ہے اور اللہ کے بڑے خاص لوگ ہوتے ہیں وہ جنہیں آزمائش ملتی ہے لیکن سب اس آزمائش سے نکل نہیں پاتے اور جو اس امتحان میں پاس ہوجائے وہ ہوتا ہے کامل انسان۔ ہمارا تو دین ہی انسانیت کی زندہ جاوید مثال ہے۔ کیا تیری تکالیف میرے آقاﷺ کی تکلیفوں سے بڑھ کر تھیں۔ کیا انہوں نے صبر نہیں کیا۔ پتھر مارنے والوں کو بھی دعائیں دیں۔ راستے میں کانٹے بچھانے والوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا۔“ وہ دھیما سا مسکرائے۔

”میں تو ایک معمولی انسان ہوں اور وہ کائنات کی شان۔ ان جیسا اعلیٰ ارفع مقام تو کسی کو حاصل نہیں۔ وہ تو انسانیت کی معراج ہیں۔“ خاور نے اپنا دفاع کرتے ہوئے وہی طرزِ عمل اختیار کرنا چاہا جو ہمارا شعار بن چکا ہے۔ اپنی کوتاہیوں پہ پردہ ڈالتے ہوئے بس ایک یہی توجیہہ ہمارے دامن میں باقی رہ جاتی ہے۔ جن کے نام پہ مر مٹنے کے دعوے کرتے ہیں ان کے طرزِ عمل پہ زندگی گزارتے ہمیں اپنے بشر ہونے کا عذر نظر آجاتا ہے۔

”اسی لیے ان کے ہر عمل کی پیروی کا حکم ہے۔ ان کا طریقہ اپنانے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ کہہ کر جان مت چھڑا کہ ان جیسا نہیں بن سکتا بلکہ ان جیسا ہی تو کرنے کا حکم ہے۔ ان جیسا صبر‘ ان کی طرح شکر‘ ایثار و قربانی۔“ امام صاحب کی بات پہ اس نے بے اختیار نچلا لب کاٹا۔ کتنی آسانی سے انہوں نے آئینہ اس کے سامنے رکھ دیا تھا۔

”جو کانٹا چبھنے کی تکلیف سے واقف ہوتا ہے نا خاور وہ کسی دوسرے کے درد کا موجب نہیں بنتا۔ تو اس درد سے واقف تھا تجھے کیکر نہیں بننا چاہیے تھا۔“ ایک توقف کے بعد انہوں نے پھر کہا۔ وہ آسیہ اور خاور کی علیحدگی کے قصے سے باخبر تھے۔ خاور کی حالیہ زندگی کے متعلق جانتے تھے۔

”صحرا میں تشنہ و بے آب رہ کر انسان کیکر ہی بن جاتا ہے مولوی صاحب۔“ خاور ان کا اشارہ سمجھ چکا تھا۔ بے بسی سے کہتے اس نے امام صاحب کی طرف دیکھا کہ شاید اب وہ اس کی حالت کو سمجھ کر اسے اپنے کیے میں حق بجانب کہہ دیں۔ شاید اسی طرح اسے کچھ سکون مل جائے کہ کوئی تو اسے بری الذمہ کردے۔ وہ ضمیر کی عدالت میں چل رہے مقدمے کی سزا سے باعزت بری ہوجائے۔

”کنول بھی تو ہوسکتا تھا جو گندے جوہڑ اور کیچڑ میں بھی پھول ہی رہتا ہے۔“ امام صاحب کے سنجیدگی سے کہے جملے نے اس کی امیدوں پہ خاک ڈال دی۔

”ساری عمر ماں‘ بہن کی گالی کھائی ہے میں نے۔ میرا باپ کہتا تھا میری ماں بدکردار تھی اس نے میری بہن کو اس کے آشنا کے ساتھ بھگا دیا اس لیے میرے باپ نے اسے مار ڈالا۔ لیکن اس سب میں میرا کیا قصور تھا۔ سزا مجھ اکیلے کو کیوں ملی؟“ اس نے شکوہ کیا۔

”تو اللہ نہیں اس کا بندہ ہے‘ خدائی فیصلے مت کر۔ سزا جزا کا اختیار رب سوہنے پہ چھوڑ دے وہ تجھ سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے ورنہ اس کی پکڑ میں آجائے گا اور یونہی بے چین ہوکر مارا مارا پھرتا رہے گا۔“ اس بار ان کے لہجے میں سختی تھی۔

”پر جو ہوگیا اسے کیسے سدھاروں۔ جو غلطیاں کرچکا ہوں انہیں بدل نہیں سکتا۔“ تیر کمان سے نکل جائے تو کبھی پلٹ کر واپس نہیں آتا‘ تمام عمر روح کو چھلنی کرتے اس کے زخم نہیں بھر پائے تھے‘ کیسے سوچ لیتا جو زخم وہ آسیہ کو دے چکا ہے ان کی تشفی ہوپائے گی۔

”توبہ کر توبہ۔ توبہ میں بڑا سکون ہے۔ اپنی غلطیوں اور گناہوں کا کفارہ ادا کر۔ معافی مانگ اس رب سے جس کے بندوں کو تو نے ستایا۔ معافی مانگ ان سب سے جن کی تو نے دل آزاری کی اور معاف کردے انہیں جو تجھے تکلیف پہنچاتے رہے ہیں۔ بدلہ کبھی سکون نہیں دے سکتا۔ سکون معاف کرنے سے ملتا ہے خاور۔“ امام صاحب کی بات نے اسے سکون دیا تھا۔ وہ جیسے اس دن ہر غم سے نجات کی کنجی پاگیا تھا۔ ان کی بات اتنی دل کو لگی کہ اس دن سے خاور نے بس توبہ کا دامن تھام لیا تھا۔ وہ باقاعدگی سے مسجد آنے لگا‘ امام صاحب سے باتیں کرکے دل کو سکون ملتا۔ انہی کی بدولت اس نے قرآن پڑھنا سیکھا‘ نماز میں باقاعدگی اختیار کی۔ راتوں کو جاگ کر وہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا پر ایک بوجھ تھا جو آج بھی اسے بے چین کرتا تھا۔ اور پھر وہ ایک دن شاکرہ کے پاس چلا گیا۔ ان دنوں آسیہ کی شادی ہوچکی تھی اور وہ علینہ کے ساتھ دوہا چلی گئی تھی۔ شاکرہ سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے اس نے اس پل خود کو اتنا ہی بے بس محسوس کیا تھا جتنی کبھی آسیہ اس کے گھر ہوا کرتی تھی پر شاکرہ نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہر کرتے اسے معاف کردیا تھا۔ ویسے بھی آسیہ کی اچھی جگہ شادی ہوچکی تھی پھر وہ امید سے بھی تھی اور اب اسے خاور سے ویسا گلہ نا تھا بس اس نے خاور کو علینہ اور آسیہ سے دور رہنے کی تنبیہہ کی تھی جسے خاور نے من و عن تسلیم کرلیا تھا۔ امام صاحب کی خواہش تھی وہ دوسری شادی کرکے زندگی کو نئے سرے سے جینا شروع کرے اور اس بار وہ غلطیاں نہ دہرائے جو پہلی بار کرچکا ہے۔ وہ چاہتا تو کسی غیر شادی شدہ لڑکی سے بھی شادی کرسکتا تھا پر اس نے رخشندہ کا انتخاب کیا۔ وہ اس کی طلاق کی وجہ نہیں جانتا تھا پر رخشندہ کے ساتھ زندگی گزارنا اب اس کا امتحان تھا۔ خاور نے حتیٰ الامکان خود کو بدلتے ہوئے رخشندہ کے معاملات میں نرمی اختیار کی تھی۔ مونس کی پیدائش کے بعد رخشندہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی اور اسی وجہ سے چڑچڑی ہوگئی تھی پر خاور نے اسے بھی اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کیا اور کبھی اسے اس کی کمی کا احساس نہیں دلایا تھا۔ دوسری شادی کے بعد خاور کا کاروبار پھر سے تیزی پکڑنے لگا تھا۔ حالات بدلتے بدلتے اتنے بہتر ہوئے کہ اس نے شہر میں اپنی ورکشاپ اور ذاتی مکان بنالیا۔ رخشندہ کو کبھی مالی تنگی کا سامنا نہیں کرنے دیا۔ علینہ واپس پاکستان آئی تو خاور نے شاکرہ سے ریکوئسٹ کرکے اس کے اخراجات سنبھال لیے پر علینہ کو اپنے گھر رکھنے سے رخشندہ نے منع کردیا تھا۔ اس نے رخشندہ کو کوئی دکھ نہ دینے کا عہد کیا تھا تو اس سلسلے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔ ویسے بھی علینہ کسی صورت اس کے پاس نہ رہتی۔

٭….٭….٭

اس دن وہ اپنی ورکشاپ کے لیے کچھ سامان لے کر قریبی شہر سے لوٹ رہا تھا۔ راستے میں بس کا پہیہ پنکچر ہونے سے انہیں سڑک کے بیچوں بیچ رکنا پڑا۔ سب مسافر بس سے اتر کر اِدھر اُدھر گھومنے لگے۔ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا پر سڑک پہ سوائے ایک چھوٹے سے چائے خانے کے انہیں کوئی دکان دکھائی نہ دی۔ خاور بھی وقت گزاری کی خاطر چائے پینے اسی چھپر ہوٹل میں جاگھسا۔ دکان کے چھوٹے نے چائے کی پیالی اس کے سامنے دھری تھی اسی وقت پیوند لگے کپڑوں اور پھٹے ہوئے بوسیدہ کمبل کو اوڑھے ایک بوڑھا فقیر ہوٹل میں داخل ہوا۔ چائے والے نے پہلے تو اسے دھتکارہ پر جب وہ مستقل فریاد کرتا رہا تو اس نے باسی ڈبل روٹی کے چند ٹکڑے اس کی سمت اچھالے۔ فقیر بے ساختہ بھوکے کتے کی طرح ان ٹکڑوں پہ لپکا اور وہیں بیٹھ کر کھانے لگا۔ خاور کا دھیان خود بہ خود اس کی طرف گیا۔ اس کے بے تحاشہ بڑھے ہوئے بال اور الجھی ہوئی سفید داڑھی میں سے جھانکتا ضعیف اور جھریوں بھرا چہرہ خاور کو کچھ جانا پہچانا لگا تھا۔ پھٹی آستین سے دکھائی دیتی کلائیوں پہ جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے جو ناسور بن چکے تھے۔ منہ کے ایک کونے سے رال بہہ رہی تھی پر وہ جانوروں کی طرح ان باسی ٹکڑوں کو کھانے میں مصروف تھا۔ خاور کو اسے دیکھ کر ایک جھرجھری سی آئی تھی۔ وہ اب وہاں سے اٹھ جانا چاہتا تھا پر اسی وقت وہ بوڑھا فقیر اونچی آواز میں پانی پانی چلاتا خاور کے ساتھ والی میز کی طرف بڑھا اور لوہے کے جگ کو منہ لگالیا۔ خاور کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔ اس آواز کو تو وہ مر کر بھی فراموش نہ کرسکتا تھا جس کی گونج آج بھی اسے سوتے میں جگا دیتی تھی۔ وہ گالیاں بھلائے نہ بھولتی تھیں۔ ہاں وہ شہباز ہی تھا‘ اس کی زندگی کا سب سے بڑا خوف‘ اس کی ماں کا قاتل‘ اس کے بچپن کو نگل جانے والا اژدھا‘ اس کا سگا باپ۔

خاور پہ آج بھی شہباز کا خوف اس حد تک حاوی تھا کہ وہ اس ہوٹل سے بے اختیار بھاگا اور پھر بس کے پاس پہنچ کر پھولی ہوئی سانس کے ساتھ اس نے خوف سے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ کہیں شہباز اس کے تعاقب میں تو نہیں۔ وہ بھول چکا تھا اتنے سالوں بعد شہباز اسے کیسے پہچان پائے گا۔ اس رات گھر واپسی تک خاور خوف کے مارے بخار میں پھنک رہا تھا۔ اس رات اذیت کا ہر وہ لمحہ ایک بار پھر زندہ ہوکر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا جسے بھلانے میں خاور نے اپنا آپ برباد کرلیا تھا۔

”پہچان کر بھی وہیں چھوڑ آیا پگلے‘ وہ تیرا باپ تھا۔“ اگلے دن مسجد میں نماز کے بعد امام صاحب سے ملاقات کے دوران اس نے انہیں شہباز کے متعلق بتایا تھا۔

”وہ شخص میری ماں اور ہم سب کی خوشیوں کا قاتل ہے امام صاحب۔“ وہ بے اختیار چلایا۔

”نہیں بدل سکا ناں اب تک خود کو۔ آج بھی وہیں کا وہیں ہے۔ بدلہ لینے کی خواہش ختم نہیں ہوئی تیرے اندر سے حالانکہ میں نے سمجھایا بھی تھا معاف کردے۔“ وہ طنزیہ ہنسی ہنستے دھیمے قدموں سے مسجد کے دروازے کی طرف بڑھے۔ خاور بھی ان کے ساتھ چلتا مسجد سے باہر نکل آیا۔

”اتنا ظرف کہاں سے لاو ¿ں؟ جسے ایک نگاہ دیکھ کر ماضی کا ہر خوف واپس لوٹ آیا ہو اسے گلے کیسے لگا لیتا۔ ساری رات میری ماں کا خون میں لتھڑہ وجود اپنے قاتل کو پکارتا رہا ہے۔“ ان کے ساتھ چبوترے پہ بیٹھتے وہ دھیمے لہجے میں بولا۔ اس کی آواز میں چھپی اذیت امام صاحب سے بھی پوشیدہ نہ تھی۔

”کملے جو ظرف تجھ میں نہیں اسے اوروں میں کیونکر ڈھونڈتا ہے؟“ ان کی بات اسے لاجواب کر گئی تھی۔

”چاہتا ہے جسے تو نے دکھ دیا وہ تجھے معاف کردے‘ اللہ معاف کردے اور اپنی دفعہ تیرا ظرف کم پڑ گیا۔“ وہ زیرِلب بڑبڑاتے بے اختیار ہنسے۔

”میں کسی کا قاتل تو نہیں ہوں امام صاحب۔ ابا کی طرح کسی کی زندگی برباد تو نہیں کی میں نے؟“ اور اپنے ہی سوال کے اختتام تک خاور کا لہجہ مدہم ہوگیا تھا۔ امام صاحب نے نگاہ اٹھا کر گہری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور پھر اس کے پاس سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔

”قتل صرف جان سے مار کر تو نہیں کیا جاتا‘ جیتے جی کسی کو زندگی کی خوشیوں سے محروم کردینا بھی قتل ہی ہوتا ہے۔ پوچھتا ہے میں نے کسی کی زندگی کی برباد نہیں کی۔ اب یہ تو اپنے ضمیر سے پوچھ جو تجھے میرے پاس لے آیا ہے۔“ خاور چپ چاپ وہیں چبوترے پہ بیٹھا رہا امام صاحب خود کلامی کے سے انداز میں کہتے دھیمے قدموں سے چلتے اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئے۔ وہ سر جھکائے ان کی باتوں کا مفہوم سوچتا رہا۔ ایک احساسِ جرم تھا جو صبح سے اس کے اندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ اسے شہباز کو اس ابتر حالت میں در در بھٹکنے چھوڑ آنا چاہیے تھا یا نہیں اس سوال نے اسے شدید اذیت میں مبتلا کیا ہوا تھا۔ اپنا یہی احساسِ جرم کم کرنے وہ امام صاحب کے پاس چلا آیا تھا پر ان کی آواز ضمیر کی آواز کے مشابہہ تھی۔ خاور اس دن وہیں سے واپس پلٹ گیا تھا۔ اس قصبے کے چھپر ہوٹل پہنچ کر اس نے کل والے بوڑھے فقیر کے متعلق سوال کیا۔ ہوٹل کے مالک نے اسے اس مست بابے کے متعلق کافی کچھ بتایا تھا جو مختلف اقسام کے نشے کرنے کا عادی ہے اور ناجانے کتنے ہی موذی امراض کا شکار ہوچکا ہے۔ اسی قصبے میں لوگوں سے بھیک مانگتا پھرتا ہے اور جب کہیں سے کچھ نہ ملے تو اس چائے خانے پہ چلا آتا ہے اور اکثر اسی ہوٹل کی دیوار سے ٹیک لگائے سو جاتا ہے۔ دکان والے چھوٹے کے ساتھ مل کر اس دن خاور نے شہباز کا کھوج لگالیا تھا اور پھر وہ اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا۔ ماضی بھولنا آسان نہیں تھا پر خاور نے شہباز کی خدمت میں کمی نہیں آنے دی۔ اس کا ہر کام اپنے ذمہ رکھا یہاں تک کہ ملازمین پہ بھی کم سے کم انحصار کیا۔ وہ ایڈز کا مریض تھا اور لاعلاج تھا پھر بھی اپنے طور پہ اس کا وقتی علاج کرواتا رہا جو بہرحال اس کی موت کو نہیں ٹال سکا تھا۔

٭….٭….٭

جب سے گھر لوٹا تھا خود کو کوس رہا تھا۔ علینہ کا روتا سسکتا شرمندہ چہرہ بھلائے نہ بھول رہا تھا۔ کچھ بھی تو نہیں کر پایا تھا اس کے لیے اور آج اس کے کردار پہ انگلی اٹھا کر اسے بیٹی کہنے کا حق بھی گنوا چکا تھا۔ وہ خود کو نہ کوستا تو اور کیا کرتا۔ اپنے طور سب کوشش کرنے کے باوجود وہ اپنی اولاد کے حق میں اچھا باپ نہیں بن سکا تھا ورنہ کبھی مونس اور رخشندہ کی باتوں میں آکر علینہ کے ساتھ یہ زیادتی نہ کرتا۔ لیکن گھر پہنچ کر اس نے مونس کو بھی خوب سنائی۔ وہ جو رخشندہ کے ساتھ اس کا منتظر تھا خاور کا سرخ چہرہ دیکھ کر پہلے تو یہی سمجھا وہ علینہ سے خائف ہوکر لوٹا ہے پر جو کچھ اس نے مونس کو کہا اور اس کے حق میں بولنے پہ رخشندہ کی طبیعت صاف کی تو مونس چپ چاپ وہاں سے کھسک گیا تھا۔ البتہ خاور کی باتوں سے خفا رخشندہ اب کمرہ بند ِکیے بیٹھی جھوٹے آنسو بہا رہی تھی اور یہ پہلی بار تھا خاور کو اس کی چنداں پروا نہیں تھی۔

”میرا خیال ہے کوئی بہت بڑی غلط فہمی ہوگئی ہے۔“ نور فاطمہ نے اپنے ساتھ بیٹھے سمیر کی طرف دیکھتے مدہم لہجے میں کہا اور پھر اپنے سامنے والے صوفے پہ براجمان سر جھکائے خاموش بیٹھے خاور کو دیکھا جو اس وقت ان دونوں سے نگاہ بھی نہیں ملا پا رہا تھا۔ سمیر نے خائف نظروں سے ماں کی طرف دیکھا۔ حالانکہ وہ ساتھ اسی مقصد کے لیے آیا تھا کہ انہیں معذرت نہ کرنی پڑے لیکن انہوں نے خاور کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اسے سختی سے خاموش رہنے کا کہا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھیں اندر کیا حالات ہوں اور بات کیا رخ اختیار کرجائے۔ ایسے میں سمیر کو ہر حال میں خاموش رہنا ہے وہ خود سنبھال لیں گی۔ گھر میں داخل ہونے تک وہ خود خاصی کنفیوز تھیں اس پہ خاور کی خاموشی اور سنجیدگی سے وہ کوئی بھی نتیجہ اخذ نہ کر پائی تھیں۔

”یقین جانیں علینہ مجھے بالکل میری اولاد کی طرح عزیز ہے اور میں نے پوری ذمہ داری سے اسے اپنے گھر پہ رکھا ہوا ہے۔“ اسے خاموش پاکر انہوں نے مزید کہا۔ خاور نے نگاہ اٹھا کر پہلی بار ان کو دیکھا اور پھر ادب سے نگاہیں جھکا لیں۔

”معذرت چاہتا ہوں غلطی میری ہی تھی۔“ وہ شرمندگی سے بولا تو انہوں نے لب کاٹتے سمیر کی طرف دیکھا۔ کتنا معیوب لگتا ہے جب والدین معافی مانگیں۔

”معذرت تو ہمیں کرنی ہے‘ سمیر کو آپ سے اس انداز میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ جذباتی ہوکر اس نے الٹا سیدھا کہہ دیا۔ آپ علینہ کے والد ہیں اور اس رشتے سے آپ کا احترام لازم ہے۔“ نور انصاری کو خاور کا یہ دل گرفتہ انداز تکلیف دہ محسوس ہوا۔

”اس نے کچھ غلط تو نہیں کہا ڈاکٹرنی صاحبہ‘ مجھ جیسا انسان جو اپنی ہی اولاد پہ انگلی اٹھائے کسی طرح بھی باپ کہلائے جانے کا حق دار نہیں۔“ اپنی گود میں رکھے ہاتھوں کو تکتے وہ بھیگے لہجے میں بولا۔

”ایسے مت کہیں۔ والدین سے بڑھ کر نعمت تو شاید ہی اللہ نے اس زمین پہ کوئی اتاری ہو۔“ نور فاطمہ نے روا داری سے کہا۔ وہ تو ازالے کا سوچ کر آئی تھیں پر یہاں خاور کا رویہ اتنا شکست خوردہ تھا کہ وہ بیچاری خوامخواہ ہی شرمندہ ہورہی تھیں۔ سمیر بھی اندر ہی اندر گلٹ کا شکار ہوتے سوچ رہا تھا علینہ بلاوجہ ہی اپنے والد سے خائف ہے یہ بیچارہ شریف انسان تو سر بھی نہیں اٹھا رہا شرمندگی کے مارے۔ اسی وقت گھریلو ملازم پریشان صورت لیے کمرے کے اندر داخل ہوا اور آتے ہی خاور کو مخاطب کیا۔

”صاحب جلدی چلیں۔ بڑے صاحب کو کچھ ہوگیا ہے۔“ خاور ایک دم اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔ سمیر اور نور انصاری بھی اس کی تقلید میں کھڑے ہوئے۔

”کیا ہوا ابا جی کو؟“ اس کے لہجے میں واضح پریشانی تھی۔

”ان کی جی سانس اکھڑ رہی ہے۔“ ملازم نے گھبرا کر بتایا۔ جتنا وقت خاور اس کے کمرے میں موجود نہ ہوتا یہی ملازم شہباز کی دیکھ بھال پہ معمور تھا۔

”کیا ہوا آپ کے والد کو؟“ نور انصاری نے تشویش سے پوچھا۔

”ان کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ کچھ دن سے کھانا پینا بھی چھوڑ رکھا ہے۔“ نور فاطمہ کو جلدی جلدی بتا کر وہ اب وہاں سے جانا چاہتا تھا کہ ان کی بات پہ اس کے اٹھے قدم رک گئے۔

”آپ کو اعتراض نہ ہو تو میں چل کر معائنہ کرلوں ان کا؟“ نور فاطمہ نے رسانیت سے پوچھا۔ بحیثیت ڈاکٹر یہ ان کا اخلاقی فریضہ تھا اور اتنا تو اپنے دشمن کے لیے بھی کر ہی سکتی تھیں۔ وہ خود کو روک نہیں پائیں۔

”آپ کا احسان ہوگا ڈاکٹرنی صاحبہ۔“ خاور کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔ بے اختیار وہ عاجزانہ لہجے میں بولا۔ نور انصاری نے ایک نگاہ سمیر کو دیکھا جس کا چہرہ بے تاثر تھا اور پھر خاور کی تقلید میں گھر کے اس حصے کی طرف قدم بڑھا دئیے جہاں سے کچھ دیر پہلے ملازم آیا تھا۔ ملازم بھی ان دونوں کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔ سمیر نے ایک لمحہ سوچا اور پھر خود بھی اس کمرے کی طرف چل دیا۔ کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور وہ اندر کا منظر باآسانی دیکھ سکتا تھا۔ کمرہ وسیع و کشادہ تھا‘ اندر بڑے سے بستر پہ ایک ضعیف العمر شخص تیز تیز سانسیں لے رہا تھا۔ اس کا لباس اور صورت صاف ستھرے تھے جیسے اس کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی جارہی ہو پر عمر اور بیماری کے باعث اس کا وجود بہت کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ بستر کے پاس کھڑی نور فاطمہ نے اس کی کلائی تھام کر نبض ٹٹولنی چاہی۔ خاور تشویش سے باپ کے پاس ہی کھڑا تھا۔ نور فاطمہ چند سیکنڈ نبض محسوس کرنے کے بعد اب اس کی آنکھوں کا معائنہ کرنے اس پر جھکیں۔ ان کا بڑھا ہوا ہاتھ رک گیا تھا۔ سفید داڑھی اور جھریوں نے شناخت معدوم کرنے کی کوشش کی تھی پر کچھ چہرے آپ کبھی نہیں بھول پاتے‘ پھر بھلے وہ عمر کے کسی بھی حصے میں اور کیسی ہی بگڑی ہوئی حالت میں سامنے کیوں نا آجائیں۔ نور فاطمہ ایک ٹک اس چہرے کو دیکھتی رہیں جس کا خوف آج بھی انہیں سیاہ راتوں میں بے چین کردیتا تھا۔ اچانک شہباز نے آنکھیں کھول دیں۔

”ابا….“ نور فاطمہ کرنٹ کھا کر پیچھے پلٹی تھیں۔ جیسے انہوں نے کوئی عفریت دیکھ لیا ہو۔ خاور ان کا زیرِلب بڑبڑانا نہ سن سکا تھا پر وہ حیران ہوا۔

”ممی آر یو آل رائیٹ؟“ سمیر نے تیزی سے آگے بڑھ کر ماں کو تھام لیا۔

”ہمم….“ پسینے کے قطرے ان کی پیشانی پہ چمک رہے تھے اور چہرے کی اڑی ہوئی رنگت اس بات کی غماز تھی کہ وہ شدید اضطرابی کیفیت کا شکار ہیں۔ دھیمی آواز میں سمیر کو تسلی دیتے انہوں نے ایک دم اس کا ہاتھ جھٹک کر اسے خود سے پرے کیا اور پھر خود کو کمپوز کرتے خاور کی طرف پُر امید نظروں سے دیکھا۔

”یہ آپ کے والد ہیں؟“ ان کی آواز میں لرزش تھی۔ جواب میں خاور نے بس سر ہلایا۔ وہ گرنے کے سے انداز میں بستر کے کونے پہ بیٹھ گئیں کیونکہ اب اپنے قدموں پر کھڑے رہنا بے حد مشکل ہورہا تھا۔ لگتا تھا ابھی جسم سے جان نکل جائے گی۔ شہباز پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے کمرے میں موجود اتنے بہت سے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا سینے پہ دھرا ہاتھ تیز چلتی سانس کی بدولت ہل رہا تھا۔ نور فاطمہ کچھ پل اسے دیکھتی رہیں اور پھر بے اختیار انہوں نے شہباز کا ہاتھ تھام لیا۔ وہ اب اس جھریوں بھرے کمزور ہاتھ کی پشت پہ اپنا ہاتھ پھیر رہی تھیں۔ اس وقت وہ خود بھی نہیں جانتی تھیں اس ہاتھ کو چھوتے وہ دراصل کیا محسوس کررہی ہیں۔ یہ ہاتھ کئی بار ان کے سامنے ان کی ماں پہ اٹھا تھا‘ اسی ہاتھ سے شہباز نے سفینہ کو مارا ہوگا‘ یہ ہاتھ جو کبھی نور فاطمہ کے لیے شفقت نہ بن سکا تھا‘ سایہ نہ بن سکا تھا‘ تحفظ نہ بن سکا تھا۔

”ابا کا یہ حال کب سے ہے…. ٹیپو؟“ پیچھے دیکھے بغیر انہوں نے سوال کیا۔ کمرے میں کھڑے ان تین لوگوں میں سے اس سوال کا مفہوم بس ایک شخص جانتا تھا۔ وہ جو شہباز کے پیروں کے پاس کھڑا نور فاطمہ کو حیرت سے دیکھ رہا تھا اس ایک نام پہ اس کی آنکھیں ناقابلِ یقین حیرت سے پھیل گئی تھیں۔ نور فاطمہ نے پلٹ کر خاور کی طرف دیکھا۔ آنسوو ¿ں سے تر چہرے کے ساتھ گزرے ماہ و سال کے دکھوں کی داستان اس پل بن کہے ان کے چہرے پہ رقم تھی۔

”آپ….؟“ وہ دو قدم آگے بڑھا…. نور فاطمہ نے سر ہلایا۔

”تمہاری آپا۔“ وہ ان کے قدموں میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔ نور فاطمہ نے روتے ہوئے ان دو لفظوں میں کئی دہائیوں کی داستان کہہ سنائی تھی۔ پیچھے سمیر خاموش تماشائی سا کھڑا ان تینوں کو دیکھ رہا تھا۔ کسی پزل کے ٹکڑے ایک ساتھ پڑے کسی فریم شدہ تصویر کی طرح مکمل تھے۔

”کہاں چلے گئے تھے تم ٹیپو‘ کتنا ڈھونڈا تمہیں ہم نے….“ سسکتے ہوئے انہوں نے خاور کے سر کو چھوا۔ خاور کی آنکھوں میں اجنبیت در آئی تھی۔ چہرے پہ شکو ¶ں کی نئی داستان دکھائی دینے لگی پر اسی وقت شہباز کے حلق سے کراہ نکلی۔ وہ دونوں ہی اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔

”ابا میں نور فاطمہ…. آپ کی بیٹی۔“ شہباز کا ہاتھ تھامے وہ روتے ہوئے بولی تھیں۔ شہباز کی آنکھوں میں شناسائی کا تاثر ابھرا۔ اس وقت ایک مرتے ہوئے شخص کی بے بسی اور تڑپ نے نور فاطمہ کو گزرا ہوا ہر دکھ بھلا دیا تھا۔ یاد تھا تو بس اتنا کہ سامنے بسترِ مرگ پہ تڑپتا یہ شخص ان کا باپ ہے۔ خاور اور وہ دونوں شہباز پہ جھکے اس کے گرد بیٹھے تھے۔ خاور اپنے ہاتھ سے اس کی ہتھیلی کو مسل رہا تھا جبکہ نور فاطمہ نے اس کے خشک لبوں کو تر کرنے کے لیے چمچے سے پانی پلایا۔ شہباز نے خاور کے ہاتھ سے اپنا لاغر ہاتھ چھڑایا اور پھر بمشکل اپنا دوسرا ہاتھ اٹھا کر فضا میں بلند کرتے ان دونوں ہاتھوں کو پوری قوت سے جوڑا۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی بار خاور سے معافی مانگ چکا تھا۔ آج وقتِ رخصت قدرت نے اسے نور فاطمہ سے بھی اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کا موقع دے دیا تھا۔ نور فاطمہ نے بے اختیار نفی میں سر ہلاتے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں سے تھام لیا۔

”ایسے مت کریں ابا۔“ وہ شدتِ غم سے ایک بار پھر رونے لگی تھیں۔ سمیر بھی اب ان کے پاس چلا آیا اور ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے تسلی دینے لگا۔ کچھ نہ جان کر بھی وہ جیسے کچھ کچھ سمجھ رہا تھا۔

”یہ تمہارے نانا ہیں سمیر۔“ سمیر کا ہاتھ تھامے وہ بھیگے لہجے میں بولیں۔ جواب میں کچھ بھی کہنے کے بجائے سمیر نے فقط ماں کی پیشانی کو چومتے دلاسہ دیا۔ اس لمحے کرب میں جب سامنے والا اپنی آخری سانسیں لے رہا ہو کوئی کتنا ہی مضبوط انسان کیوں نا ہو خاموش ہوجاتا ہے۔

”معافی….“ شہباز حلق کے بل چلایا۔ کرب اس کی آنکھوں سے صاف جھانک رہا تھا۔ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے نور فاطمہ خود بھی جانتی تھیں کہ موت اس کے سر پہ کھڑی ہے۔ ہر گزرتا لمحہ اس کی تکلیف میں اضافہ کررہا ہے۔ خاور نے امید بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھا جیسے پوچھتا ہو اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ نور فاطمہ نے نگاہیں جھکا لیں۔

”معاف کیا ابا۔ ہر ظلم معاف کیا اور میری دعا ہے امی بھی آپ کو معاف کردیں تاکہ اللہ آپ کا حساب آسان کردے۔“ ہتھیلی کی پشت سے اپنی آنکھوں کی نمی پونچھتے وہ سنجیدگی سے بولیں۔ ایک مرتے ہوئے انسان کے لیے اس سے بڑھ کر وہ کچھ نہیں کر سکتی تھیں۔

٭….٭….٭

آج شہباز نے مرنے سے پہلے خاور کا ہاتھ نور فاطمہ کو تھما کر جیسے اس کی برسوں کی تلاش کو ختم کردیا تھا۔ اس کے زخموں پہ پھاہا رکھ دیا تھا۔ شہباز کی درد ناک موت کے ساتھ زندگی کا ایک اور باب دم توڑ گیا تھا پر زندگی ابھی باقی تھی۔

ژ              ژ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 6

ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 6 شفا زارو قطار رو رہی تھی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے