سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر 6

چکاچوند روشنی میںیکایک قدموں کی چاپ گونجنے لگی…. خوبصورت مخملی پیر نظر آنے لگے….ننگے تنہا پیر، خوبصورت سی پائل میں قید اجنبی راستے کی جانب سے دوڑتے اسے اپنی جانب بڑھتے دکھائی دینے لگے…. وہ پیروں سے اوپر نظر اٹھانے لگا کہ کسی نے اس کو جھنجھوڑ کر چونکا دیا…. اس کے کانوںنے سنا….

”الحان…. الحان…. تم ٹھیک ہو؟…. الحان!“

اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا، چہرے پر بے پناہ پریشانی سجائے بیٹھی مانہ اسی کی جانب دیکھ رہی تہی…. اس کے گلابی ہونٹ کانپ رہے تھے…. اسے لگا کہ شاید وہ کسی خواب میں گم ہے…. الحان نے اپنی آنکھیں پھر سے بند کر لیں…. پھر کھولیں اور منہ پھیر کر مانہ کے بیگ کی جانب دیکھنے لگا…. وہ حیرانگی سے اس کے بیگ کی جانب تکنے لگا…. پھر اس نے نظریں لوٹائیں اور مانہ کے پریشان چہرے پر گاڑھ دیں….

”آر یُو اوکے؟“

بنا جواب دئیے وہ خاموشی سے اس کے چہرے کی جانب دیکھتا رہا…. مانہ اس کی نظروں کی تاب نہ لا سکی…. اس کی آنکھیں جھپک جھپک گئیں….

”یس! آئی ایم فائن!“

اس کی آواز میں کپکپی واضح طور پر عیاں تھی…. اگلے ہی پل اس نے مانہ کی نازک، نرم اور مخملی سی ہتھیلی اپنی پیشانی پر محسوس کی تھی….

”کتنا جھوٹ بولتے ہیں آپ…. بخار میںتپ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ٹھیک ہیں؟“

”آپ؟“

وہ بیماری کی حالت میں بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہا تھا….

”عزت راس نہیں شاید آپ کو!“

وہ پھر سے بھڑکنے لگی…. الحان اس کے بھڑکنے پرایک دم مسکرا دیا….

”کبھی اتنی عزت دیتی ہو…. کبھی ذلیل کر کے رکھ دیتی ہو…. بہت عجیب سی مخلوق ہو تم….“

”بس ایسی ہی ہوں….“

”ایسی ہی ہو…. جانتا ہوں…. اس لیے تو اس قدر پسندہو….“

”اچھا بس…. پھر سے ڈرامہ شروع کرنے کی ضرورت نہیں….“

”میں سچ کہہ رہا ہوں….“

”اوکے فائن!….“

وہ اس کی باتوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرتی اپنے شولڈرز کے گرد پھیلی ویلوٹ کی خوبصورت بلیک شال اُتارنے لگی….

”اس کی ضرورت نہیں ہے مانو!…. میں ٹھیک ہو جاﺅں گا….“

وہ اک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا تھا…. مانہ نے وہ شال اس کے گرد لپیٹ دی تھی….

”بالکل خاموش بیٹھے رہیں گے آپ، سمجھے…. بخار سے تپ رہے ہیں جناب اور مزید ڈرامے سوجھ رہے ہیں انہیں…. میرے بیگ میں دوا ہے….“

وہ بیگ اٹھاکر ٹٹولنے لگی…. اگلے ہی پل وہ ایک ہاتھ میں ٹیبلیٹ اور دوسرے ہاتھ میںپانی کی بوتل پکڑے اس کی جانب بڑھاتی حکمرانہ انداز میں بولی….

”اسے کھائیں….“

الحان خاموشی سے اس کے حکم کی تعمیل کرنے لگا…. وہ خود حیران تھا کہ ایک دم سے بیمار کیسے پڑ گیا….

”بہت شوق تھا ناں بیمار ہونے کا…. دیکھ لیا…. اسے کہتے ہیں کارمہ….“

وہ ٹونٹ کر رہی تھی….

”ویل!…. اس بار سچ میں بیمار ہوں….“

وہ دھیمے سے بولتا مسکرا دیا….

”کارمہ بولتے ہیں اسے الحان ابراہیم صاحب!“

وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتی گھورتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی…. الحان اس کی خشک مزاجی پر خاموش ہو رہا….

”خیر!…. اب آپ آرام کیجیے….“

”تم چاہو تو میرے ساتھ یہ شال شیئر کر سکتی ہو….“

چاندکی مدھم نیلی روشنی میں مانہ کا تپتا چہرہ اور شعلہ بھڑکاتی نگاہیں دیکھتے ہی وہ اگلے پل سرزنش کرتے ہوئے بولا….

”اوکے…. میں ریسٹ کرتا ہوں….“

وہ جلدی سے لیٹ گیا….

ض……..ض……..ض

دوا نے اپنا کام کر دکھایا تھا…. الحان گہری پُرسکون نیند سو رہا تھا…. مانہ، الحان کی پیشانی اپنی نرم و نازک ہتھیلی سے چیک کرنے لگی تھی…. بخار پہلے کی بہ نسبت قدرے کم ہوتا محسوس ہوا تھا…. مانہ سکون کا سانس لیتی الحان کے بغل میں اپنے بیگ کے قریب سیدھی لیٹ گئی تھی…. چہرہ وسیع آسمان کی جانب کیے وہ خوبصورت آسمان پر اُمڈتے ٹمٹماتے تاروں کی بارات کی جانب دیکھنے لگی…. چاند کی نیلی مدھم روشنی ان دونوں کے چہروں کو منور کیے دے رہی تھی….

”ہر انسان ہر دوسرے انسان سے متاثر ہوتا رہتا ہے…. ایک انسان دوسرے کے پاس سے خاموشی سے گزر جائے تو بھی اپنی تاثیر چھوڑ جاتا ہے…. انسان دوسرے انسان کے لیے محبت، نفرت اور خوف پیدا کرتے ہی رہتے ہیں….“

لمبی سانس کھینچتی وہ ہنوز وسیع آسمان کا نظارہ کرتی دل ہی دل میں محو گفتگو تھی….

”ایسا بھی تو ہوتا ہے…. کہ انسان صرف نظر ملا کے دوسرے انسان کے مسائل حل کر دے…. اسے باشعور کر دے…. اپنے قریب آنے والے، پاس سے گزرنے والے اور نگاہوں میں رہنے والے انسانوں سے انسان بہت کچھ حاصل کرتا ہے…. مگر خاموشی کے ساتھ….“

اگلے ہی پل وہ دھیرے سے کروٹ لیتی اپنے بغل میں دنیا جہاں سے بے خبر سوئے الحان کی جانب دیکھنے لگی….

”آرزو کا پیدا ہونا فطری بات ہے….“

وہ سوچتے سوچتے بغوراس کے چہرے کا جائزہ لینے لگی تھی….

”اور انسانوں میں آرزوئیںپیدا ہوتی ہی رہتی ہیں…. کوئی آرزو،شکستِ آرزو تک کا سفر کرتی ہے…. کوئی آرزو انسان کو بے نیاز آرزو کر دیتی ہے، کوئی آرزو اسے بکو پھراتی ہے…. کوئی آرزو اس کو اپنی ذات کے روبرو لاتی ہے اور کبھی کوئی آرزو اسے خوش قسمتی سے سرخرو کر دیتی ہے….“

وہ ایک لمحہ کو اپنی سوچوں کو بریک لگاتی لب بھینچتی پھر سے آسمان کی جانب چہرہ کیے سیدھی ہو لیٹی تھی…. نظروں کا محور اس بار بھی ننھے منے سے ٹمٹماتے تارے تھے….

”کون سی آرزو کیا کرتی ہے….اس کا علم انسان کو اچھی طرح سے ہونا بہت ضروری ہے…. ورنہ آرزو، جگر کا لہو بن کر خون کے آنسو بن جایا کرتی ہے….“

بالوںکو بینڈ سے آزاد کرتی وہ اپنے لمبے گھنے بال بائی جانب کے شولڈر پر بکھیرتی،ہنوز دور اُفق کی جانب تکتی پُرسوچ انداز میں لب بھینچنے لگی….

”ٹاپ (4)….“

وہ اپنی نرم و نازک انگلیاں اپنے گھنے بالوں میں پھنسائے فیصلہ کن اندازمیں زیرلب بڑبڑائی….

”ٹاپ (4) بہت دور ہے…. تب تک میںاس کی نوٹنکیاں کیسے برداشت کروں گی؟…. مجھے کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرنا ہو گا کہ جس کی بنا پر یہ نواب صاحب مجھ سے تنگ آ کر مجھے میری جاب سمیت واپس گھر کے لیے روانہ کر دے….“

وہ نظریں گھما کر بے خبر سوئے الحان کی جانب دیکھتی ایک بار پھر سے دور اُفق کی جانب تکنے لگی…. چند ثانیے یونہی دور اُفق کی جانب تکتے رہنے کے بعد ایک ٹھوس اور پُراثر آئیڈیا ذہن کی دیواروں سے ٹکراتے ہی وہ کھلکھلا کر مسکرا اٹھی….

”یس!…. یہی بیسٹ آئیڈیا ہے….“

مسکراتے ہوئے لب دانتوں تلے بھینچتی وہ کروٹ بدلے الحان کی جانب دیکھنے لگی….

ض……..ض……..ض

قدآور درختوں پر اور ان کے درمیان کی زمین پر دھندلکے ابھی محوخواب تھے…. سورج کی کرنوں کی چاپ نے انہیں جگا دیا…. انہوں نے انگڑائی لی…. ان کے چہرے تمتمائے…. انہوں نے کرنوں کے مقابلے میں قدم جمانے کی بہت کوشش کی…. مگر فرارکے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا…. کرنوں نے دھندلکوں کو مغرب کی طرف دھکیلنا شروع کیا…. اس دھکم پیل میں دھندلکوںنے دم توڑ دیا…. اب مشرق سے مغرب تک، شمال سے جنوب تک، زمین کی سطحوں سے آکاش کی بلندیوں تک روشنی ہی روشنی تھی…. اس روشنی میں دور کے مناظر بھی واضح ہو رہے تھے…. ہوا میں خنکی ابھی بھی شامل تھی…. فضا میں پرندوں کی آواز تھرکنے لگی تھی…. جنگل اور دور اُفق کے درمیان کی فضاجاگ اٹھی تھی…. ہوا جاگ پڑی تھی…. ہر سوئی ہوئی راہ جاگ اٹھی تھی…. مگر ان دونوں پر ابھی تک نیندکے آثار چھائے تھے…. وہ دونوں صبح کے وجود سے انکار کرنےکی کوشش میں سرگرداں تھے…. ہوا ان دونوں کے گرد پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی تھی کہ وہ دونوں اناپرست جاگ نہ اٹھیں سورج کی کرنیں درختوں کی اوٹ میں چھپی سوچ رہی تھیں کہ آگے بڑھیں کہ نہ بڑھیں….

سورج کی ایک شرارتی کرن اٹھلاتی بل کھاتی دبے قدموں آگے بڑھتی الحان کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے لگی…. دھیرے دھیرے تانتا سا بندھ گیا…. صبح کے وجودسے بے خبر سویا الحان، کھلکھلاتی سورج کی کرن سے کسمساتا آنکھیں دھیرے سے وا کیے اجنبی نگاہوں سے دور اُفق کا دیدار کرنے لگا۔ اس نے دونوں بازو اٹھا کر انگڑائی لینی چاہی لیکن اگلے ہی پل اسے اپنی دائیں بازو پر انجانے سے وزن کا احساس ہوا…. گردن گھمائے وہ اپنی دائیں جانب دیکھنے لگا…. اک وجود بکھرے بالوں سمیت اس کے ازحد قریب، اس کے بازوﺅں پر سرٹکائے نیند کی وادیوں میں گم تھا…. وہ پُرسوچ نگاہوں سے اس وجود کی جانب دیکھنے لگا…. اسے کچھ بھی یادنہ آ رہا تھا…. اگلے ہی پل مانہ کسمساتی ہوئی اس کے بازووں سے سر ہٹاتی سیدھی ہولیٹی تھی…. بکھرے بالوں کی لٹیں اس کے آدھے چہرے کو ڈھانپے ہوئے تھیں…. الحان یکایک چونک اٹھا…. شاید اس کا ذہن بیدار ہو چکا تھا….

”مانو!“

زیرلب اس کا نام پکارتا وہ اک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا…. اس کی نگاہیں مانہ کے خوبصورت چہرے پر مرکوز تھیں…. وہ دھیمے سے مسکرا دیا…. سورج کی کرنیںاب براہ راست مانہ کے چہرے کو منور کیے دے رہی تھیں…. سوتے میں وہ کسی قدر معصوم دکھائی دے رہی تھی…. الحان ٹکٹکی باندھے بغور اس کے چہرے کی جانب تکے لگا…. اگلے ہی پل اسے کل رات کا تمام واقعہ یاد آ چکا تھا، تبھی وہ اپنی نظروں کا زاویہ بدلے اردگرد کا نظارہ کرنے لگا…. اپنی ہتھیلی پیشانی پر رکھتے ہی اس نے سکون کا سانس لیا….

”شکر ہے…. اب بخار نہیں ہے….“

مانہ کی جانب دیکھتا اب وہ اسے جگانے لگا تھا….

”مانو!….“

اس کا گلا خشک ہو رہا تھا…. خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کرتا وہ ایک بار پھر سے اسے پکارنے لگا….

”مانو!“

مانہ کسمساتی دھیرے سے آنکھیں کھولتی اجنبی نگاہوں سے اپنے سامنے بیٹھے اس اجنبی شخص کی جانب دیکھنے لگی…. خود کی جانب دیکھتی، نیند سے بوجھل نگاہیں اسے اپنے دل میں اُترتی محسوس ہوئی تھیں….وہ مسحورکن انداز میں مانہ کے چہرے کی جانب تکتا چلا گیا…. اگلے ہی پل مانہ کے لبوں پر بکھرتی خوبصورت مسکراہٹ نے اسے یکایک چونکنے پر مجبور کر ڈالا…. وہ اپنی جگہ ساکت بیٹھا حیران کن نگاہوں سے مانہ کی جانب دیکھنے لگا….

”یہ مجھے دیکھ کرمسکرائی؟‘

”گڈ مارننگ!“

وہ ابھی ایک جھٹکے سے نہ نکلا تھا کہ مانہ کی نیند سے بوجھل میٹھی سریلی آواز نے اس کے ذہن کی وادی میں اک اور دھماکہ کر ڈالا….

”آر یُو آل رائٹ؟…. تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ہو…. میرے بخار کا اثر تم پر تو نہیں ہو گیا مانو!“

الحان گہری تیوری چڑھائے ہاتھ بڑھا کر مانہ کی پیشانی چیک کرنے کو ہی تھا کہ مانہ اپنی نازک کلائیوںپر تھوڑا زو دیتی اٹھ بیٹھی….

”نہیں…. میں ٹھیک ہوں…. انفیکٹ…. میں بہت فریش فیل کر رہی ہوں….“

وہ شگفتہ اندازمیں بولتی مسلسل مسکرائے چلی جا رہی تھی…. الحان ایک محتلف کیفیت میں آن گھرا تھا…. مانہ کا خوشگوار رویہ اور چہرے پر سجی مستقل مسکراہٹ اسے سوچوں کی دنیا میں غرق کیے دے رہی تھی….

”میں یقینا کوئی خواب دیکھ رہا ہوں…. کون ہے یہ لڑکی؟ یہ میری مانو نہیں ہے….“

مانہ کی جانب دیکھتا وہ دل ہی دل میں ہمکلام ہوا تھا….

”ہمیں اب اس جگہ سے نکلنا چاہیے الحان!“

وہ اپنے اندازمیں بولتی بیگ کی جانب بڑھنے لگی…. الحان حیران کن نگاہوں سے اس کی جانب تکنے لگا تھا…. مانہ اپنا بیگ اٹھا کر پلٹی تھی….

"What?”

اسے ٹکرٹکر اپنی جانب گھورتے دیکھ کر وہ کندھے اُچکا کر بولی…. حیرانگی سے اس کی جانب دیکھتا وہ بنا جنبش کےے بالکل ساکت ہوا کھڑا ہوا….

”ایسے کیا دیکھ رہے ہیں آپ؟…. لیٹس گو…. میں مزید آپ کے ساتھ اس جنگل میں قید ہرگز نہیں رہ سکتی!“

”مانو! تم…. ٹھیک ہو ناں؟“

”افکورس میںٹھیک ہوں…. مجھے کھجلی ہو رہی ہے!“

وہ منہ بناتے ہوئے بولی…. الحان ایک جھٹکے سے دور ہو کھڑا ہوا…. مانہ اچانک سے Island پر موجود ان پانچ بیوقوف لڑکیوں جیسا بی ہیو کرنے لگی تھی…. الحان اب کے عجیب نگاہوں سے اس کی جانب گھورنے لگا تھا….

”تمہیں آخر ہو کیا گیا ہے؟ بہت عجیب سا بی ہیو کر رہی ہو "You don’t act like yourself!

”یہ میں ہی ہوں…. Look!…. مجھے معلوم ہے کہ میں نے آپ کے ساتھ بہت Bad بی ہیو کیا ہے…. جومجھے ہرگز نہیں کرنا چاہیے تھا…. مجھے اس بات کا اچھے سے اندازہ ہو گیا کل رات…. میں وہ سب کچھ جان بوجھ کرکر رہی تھی…. کل رات میں نے بہت سوچا اس بارے میں…. بس…. اب مجھ سے اور ایکٹنگ نہیں ہوتی الحان…. بس اب میں نے فیصلہ کر لیا ہے…. میں جو ہوں…. وہ میںہوں…. انسان کچھ کر لے مگر اپنی اصلی پہچان زیادہ دیر تک چھپا کر نہیں رکھ سکتا…. بہت مشکل سے کنٹرول کیے ہوئے تھی اب تک…. بٹ ناﺅ فائنلی…. مجھے کسی بات کا ڈر نہیں…. یہ میرااصل ہے جو اس وقت آپ کے سامنے موجودہے الحان!“

مانہ منہ لٹکائے اس کی جانب دیکھنے لگی تھی…. الحان ازحد خاموش کھڑا گہری نگاہوں سے اس کے چہرے کا جائزہ لیتا دکھائی دیا تھا….

”یہ مانو نہیں ہے….“

وہ ایک بار پھر سے دل ہی دل میں ہمکلام تھا….

”چلیں؟“

وہ پوچھ رہی تھی….

الحان لبوں کو قفس لگائے اثبات میں سر ہلاتا، سر تا پا اس کاجائزہ لیتے ہوئے نڈھال قدموں سے زمین کو پیچھے کی طرف دھکیلتا آگے کی جانب بڑھنے لگا تھا….

مانہ، الحان کی کیفیت پر ایک زوردار قہقہہ لگانے کو بیقرار تھی…. یہ گیم اتنی آسان نہ تھی جتنی اسے کل رات پلاننگ کرتے وقت لگ رہی تھی…. آنکھوں کے کارنر سے الحان کو اپنے پیچھے پیچھے چلتے اور خود ہی کی جانب گھورتے دیکھ کر وہ لبوں پر مسکان سجائے دل ہی دل میں ہمکلام ہوئی تھی….

”پلان بُرا نہیں تھا میرا…. لیکن یہ جوکیریکٹر اس وقت میں پلے کر رہی ہوں…. یہ مجھے بالکل پسند نہیں…. مگر ان نواب صاحب سے جان چھڑانے ے لیے اس کیریکٹر سے بہتراور کوئی راہ فرار نہیں….یہی کیریکٹر مجھے اس چپکو سے نجات دلائے گا…. ایسا ہی ہوتاہے اکثر…. کہ جس چیز سے ہمیں بے پناہ نفرت ہو…. وہی چیزہمارے لیے راہ فرار کا ذریعہ بن جایا کرتی ہے….“

من ہی من میں باتیں کرتی وہ یکایک اپنا پیٹ پکڑے زور سے چلّا اٹھی….

”آ آ آ…. میرے پیٹ میں بہت تکلیف ہو رہی ہے…. اور اور عجیب عجیب سی آوازیں بھی آ رہی ہیں….“

وہ بڑھا چڑھا کر بولے چلی جا رہی تھی….

”تمہیںبھوک لگ رہی ہے؟“

الحان درہم برہم دکھائی دے رہا تھا….

”یقینا!“

چہرے پر زبردستی کی مسکان سجائے وہ اسی کی جانب دیکھنے لگی تھی….

”میںاس راستے سے واقف ہوں…. مجھے یقین ہے کہ ہمارا کیمپ یہیں کہیں آس پاس ہی موجود ہے…. میرے بیگ میں کچھ ڈرائے فروٹ اور چپس وغیرہ موجود ہیں…. بس تھوڑا اور صبر کر لو….“

”لعنت ہے….“

"What?”

”اس راستے پر…. ختم ہی نہیں ہوتا….“

”مانو! تم بہت عجیب بی ہیو کر رہی ہو…. بہت عجیب باتیں بول رہی ہو….“

”الحان! میں ایسی ہی ہوں…. میں ایسی ہی باتیں کرتی ہوں…. اٹس می!“

وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی….

”نہیں مانو!…. یہ تم نہیں ہو….“

وہ برجستہ بول اٹھا….

”الحان ابراہیم صاحب! کیا آپ مجھے مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں؟“

وہ آئی برو اُچکائے بغور اس کی جانب دیکھنے لگی….

”اوکے…. میں اس وقت کسی قسم کی بحث کے موڈ میں ہرگز نہیں….“

وہ اُکھڑے لہجے میں بولتا آگے کی جانب بڑھنے لگا….

”لیٹس گو!“

مانہ معنی خیز نگاہوں سے اس کی پیٹھ کی جانب دیکھتی اس کے تعاقب میں چلنے لگی تھی….

ض……..ض……..ض

جنگل کا سینہ چیرتے وہ دونوں کچھ ہی دیر بعد واقعی اپنے کیمپ کے سامنے موجود تھے…. الحان نے جلدی سے اپنا بیگ ٹٹول کر، چپس، ڈرائی فروٹ اور چاکلیٹ کے کچھ پیکٹس باہر نکالے تھے….

”یہ سب کچھ فل آف فیٹ ہے…. آپ نے کچھ شوگر فری یا لو فیٹ چیز کیوں نہیں ڈالی اپنے بیگ میں؟“

وہ زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھی ان سب چیزوں کو دیکھتی منہ بنائے گلہ کرنے لگی تھی…. الحان پر یقینی طور پر ایک اور بلاسٹ ہو چکا تھا…. تبھی وہ منہ کھولے تعجب بھری نگاہوں سے مانہ کے منہ لٹکائے چہرے کی جانب دیکھنے لگا تھا….

”تم کب سے لو فیٹ اور شوگر فری چیزیں کھانے لگی ہو؟“

”کب سے کیا مطلب؟…. میں کھاتی ہی لو فیٹ اینڈ شوگر فری….“

”اوہ رئیلی؟“

الحان نے اس کی بات کاٹتے ہی زور دیتے ہوئے کہا….

”جی ہاں…. بالکل….یقینا….“

وہ ہار ماننے والی نہ تھی….

”ہاں تبھی آپ محترمہ…. اس دن کوسٹا کافی….دب دب کر ویلوٹ کیک نوش فرما رہی تھیں….“

اس نے یاد دلانے کی کوشش میں ہی ٹونٹ کر ڈالا….

”وہ کیک بھی لو فیٹ اور شوگر فری تھا….“

”اوہ اچھا اچھا…. لو فیٹ اینڈ شوگر فری….“

وہ گھورتی نگاہوں سے اس کی جانب گھورتا اسی کے الفاظ دہرا رہا تھا….

”جی ہاں….“

وہ اپنے کہے پر برقرار تھی…. الحان چند ثانیے ہنوز اس کے چہرے کا جائزہ لیتا رہا….

”اینی ویز! مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ محترمہ پرایک دم سے شوگر فری اور لو فیٹ کا بھوت سوار ہو جائے گا…. اگر معلوم ہوتا تو یقینا اپنا پورا بیگ لو فیٹ اور شوگر فری چیزوں سے بھر لاتا…. اب جو سامنے موجود ہے…. وہی کھاﺅ چپ چاپ….“

”نہیں کھاﺅں گی…. میں ڈائٹ پر ہوں….“

”کیا؟…. کس پر ہو؟“

وہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”میں نے کہا…. میں ڈائٹ پر ہوں…. آپ پلیز جلدی سے مجھے واپس Island لے چلیں…. وہاں کچن میں بہت اچھے اچھے اینڈ لذیذ سیلڈ موجود ہیں…. مجھے سچ میں بہت بھوک لگ رہی ہے….“

”تم اپنی فرینڈ کو نہیں ڈھونڈناچاہتیں؟“

الحان بے اعتمادی کے عالم میں اس کے چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا….

”الحان!…. میں بہت تھک چکی ہوں…. ہم ان دونوں کو ڈھونڈنے کے چکر میں کل رات خود ہی کھو چکے تھے…. باقی تمام ٹیمز میں سے کوئی نہ کوئی یقینا ان دونوں کو ڈھونڈ نکالے گی….“

وہ اپنی ہی موج مستی میں بولے چلی جا رہی تھی…. الحان اسے اگنور کرتا،ریڈیو اٹھائے اپنے منہ کے قریب کر بیٹھا تھا….

"Base! This is Nano Team. Over—"

وہ ازحد سنجیدگی سے گویا ہوا تھا….

اگلے ہی پل ریڈیو سپیکرمیں سے مس فاطمہ کی آواز اُبھرنے لگی تھی….

”الحان! مسکان اور جینی مل چکی ہیں….تم لوگ واپس آ جاﺅ….“

”شکر الحمدللہ! اللہ کا لاکھ لاکھ شکر…. اب ہم فائنلی واپس جا سکتے ہیں….“

الحان کے برابر میں بیٹھی مانہ ایک لمبی سانس کھینچتی پُرسکون انداز میں گویا ہوئی تھی….

”کب اور کہاں پر ملیں وہ دونوں؟“

الحان اب ڈیٹیل پوچھ رہا تھا….

”کل رات ہی مل گئی تھیں…. الحان! تم یقین نہیں کرو گے…. وہ دونوں نشے کی حالت میںیاٹ میں سو رہی تھیں….“

مس فاطمہ کی اواز اُبھری…. الحان اپنا سر تھام کر رہ گا….

”تو آپ لوگوں نے یاٹ پہلے چیک نہیں کی تھی؟“

”تم تو جانتے ہو الحان! ہم سب لوگ کس قدر گھبرا گئے تھے…. یاٹ چیک کی تھی مگر ان دونوں پر نگاہ نہیں پڑی…. فوٹیج میںبھی یاٹ کی جانب جاتی دکھائی نہیں دی تھیں…. نجانے یہ سب کیوں اور کیسے ہو گیا…. خیر…. تم لوگ کہاں ہو اس وقت؟“

”ہم لوگ بس نکلنے لگے ہیں….“

”اوکے!“

ریڈیو جینز کی پاکٹ میں گھساتا وہ جلدی سے ٹینٹ پیک کرنے لگا تھا…. ٹینٹ پیک کرتے ہی وہ دونوں واپسی کے لیے روانہ ہو چکے تھے….

” مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا ہے کہ مسکان اور جینی اس قدر بےوقوف ہو سکتی ہیں….“

بغل میں چلتی مانہ کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تھی…. الحان اسے مکمل طور پر نظرانداز کیے واپسی کے راستے پر قدم بہ قدم آگے کی جانب بڑھتا چلا جا رہا تھا….

ض……..ض……..ض

ایک دوجے کے تعاقب میں چلتے چلتے، گھنٹوں کا طویل سفر طے کرنے کے بعد وہ دونوں بالآخر جزیرے کی زمین کو سلام کر چکے تھے…. شام گہری ہو گئی تھی…. مگر ابھی مغرب کے آخری اُفق پر شفق کے آثار نمایاں تھے…. ہلکی ہلکی خنک ہوا چلنے لگی تھی…. چوب محل کے گرداگرد عالم مضطرب میں گردانتا عاشرزمان، سامنے سے ان دونوں کو آتا دیکھ کر لپک کر ان دونوں کی جانب بڑھا تھا….

”الحان! کہاں رہ گئے تھے تم دونوں؟…. کل رات ہم لوگوں نے کتنی کوشش کی تمہیں کونٹیکٹ کرنے کی مگر تمہاری طرف سے کوئی جواب ہی نہیں ملا….“

عاشرزمان کے چہرے اور لہجے سے ٹپکتی پریشانی واضح طورپر عیاں تھی….

”ایکچوئلی عاشر! ان دونوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم خود ہی کھو چکے تھے….“

بے باکی سے قہقہہ لگاتی وہ بڑے مزے سے عاشر کو اپنے کھو جانے کی خبر بتانے لگی تھی…. الحان کو شروع دن سے بے باکی سے قہقہہ لگاتی لڑکیاں ایکدم زہر لگتی تھیں۔ تبھی وہ مانہ کے قہقہہ لگانے پر تیوری چڑھائے لمبی سانس کھینچ کر رہ گیا تھا…. عاشرزمان بھی مانہ کے بدلے رویے پر اچنبھے سے اس کی جانب دیکھتا دکھائی دیا تھا…. عاشر کو اس طرح اپنی جانب گھورتے دیکھ کر اس کا دل چاہا کہ کسی طرح زمین پھٹے اور وہ اس میں سماجائے…. لیکن وہ مجبور تھی…. اسے ہر حال میں الحان اور اس رئیلٹی شو سے نجات چاہیے تھی۔ اسے اپنی جاب بھی عزیز تھی…. اس کے پاس اور آپشن نہ تھی….

”اوکے…. میں چلتی ہوں…. بہت تھکاوٹ ہو رہی ہے۔“

تیوری چڑھائے الحان اور ہکا بکا کھڑے عاشر کو ہاتھ کے اشارے سے بائے بولتی وہ ہاتھ ہلاتی چوب محل کے مین دروازے کی جانب بڑھتی چلی گئی تھی…. لاﺅنج میں داخل ہوتے ہی اس نے سکون کی سانس لی تھی…. مسکان کے سوا تمام لڑکیاں اسے لاﺅنج میں ہی چلتی پھرتیں،باتیںکرتی دکھائی دی تھیں…. وہ سب کی سب اسے دیکھتے ہوئے بھی اَن دیکھا کر چکی تھیں…. مانہ کو ان سب کی پرواہ بھی نہ تھی…. جلدی سے سیڑھیاں پھلانگتی وہ تیزی سے اپنے روم کی جانب بڑھی تھی…. ہینڈل گھما کر دروازہ کھولتے ہی اسے سامنے بیٹھی مسکان کا دیدار ہوا تھا….

”مسکان؟“

مانہ کی آواز سماعت سے ٹکراتے ہی اپنے بیڈ پر نیم دراز آنکھیں موندی مسکان جلدی سے سیدھی ہو بیٹھی تھی….

”مانہ!…. اوہ مائے گاڈ…. آئی ایم سو سوری…. ہم دو سٹوپڈ لڑکیوں کی وجہ سے تم سب لوگوں کو کس قدر پریشانی ہوئی ناں…. رئیلی سوری یار!“

مانہ اپنا بیگ اپنے بیڈ پر پھینکتی، مسکان سے بغلگیر ہوتی اسی کے بیڈ پر اس کے عین سامنے آبیٹھی….

”میں تمہارے لیے بہت پریشان تھی مسکان!“

وہ تکان بھرے لہجے میںبولی….

”میں بھی تمہارے لیے بہت پریشان تھی مانہ!…. پتہ ہے کل رات عاشرزمان نے تم دونوں کو کانٹیکٹ کرنے کی بہت کوشش کی…. مگر تم دونوں تھے کہ کانٹیکٹ میں ہی نہیں آ رہے تھے….“

”اچھا اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں…. اب سب ٹھیک ہے…. جینی کیسی ہے؟“

مانہ دھیمے سے مسکرائی ….

”وہ بھی ٹھیک ہے…. ایکچوئلی اس رات آشلے نے شرارت میں ہم سب لڑکیوں کو تھوڑی تھوڑی پلا دی تھی…. اور پھر پتا ہی نہیں چلا کہ کب اور کیسے میں اور جینی باتیں کرتی کرتی یاٹ میں سوار ہوگئیں…. اوہ گاڈ…. تمہیں پتا ہے…. عاشرزمان نے کس قدر ڈانٹ پلائی ہم سب لڑکیوں کو…. اور پھر جب تم دونوں آﺅٹ آف کانٹیکٹ ہوئے تو ایک بار پھر سے ہم سب لڑکیوں کی کلاس لگی…. رئیلی سوری…. ہماری وجہ سے تم سب کو اس قدر پریشانی اٹھانا پڑی….“

مسکان ازحد نادم دکھائی دے رہی تھی….

”اب سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے مسکان! …. پریشان ہو کر خود کو ہلکان نہیں کرو….“

مانہ شائستہ لہجے میں بولتی اٹھ کھڑی ہوئی….

”اچھامجھے بہت بھوک لگ رہی ہے…. تم نے کچھ کھایا؟“

”نہیں…. تمہارے آنے کا انتظار کر رہی تھی…. میری وجہ سے تمہیں اتنی تکلیف اٹھانا پڑی…. مجھے اچھا فیل نہیں ہو رہا تھا سوچا کہ تم آ جاﺅ…. تو ساتھ میں کھائیں گے….“

”اوکے! تو پھر چلویار…. میرے پیٹ میں تو چوہوں نے کل رات سے ڈانس پارٹی شروع کی ہوئی ہے…. ناچ ناچ کر بُرا حال کر دیا ہے….“

اپنی ہی کہی گئی بات پر وہ کھلکھلا کرمسکرا دی تھی…. مسکان نے بھی اس بار مسکرانے میں مانہ کا بھرپور ساتھ دیا تھا….

”چلو ناں!“

اگلے ہی لمحے مسکان جمپ لگاتی بیڈ سے نیچے اُتر آئی ….

ض……..ض……..ض

جاری ہے ۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 6

ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 6 شفا زارو قطار رو رہی تھی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے