سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 37  سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 37  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 37
سید انور فراز

ڈاکٹر اعجاز حسین ہمارے استاد ہی نہیں ، محسن بھی تھے، بے حد سادہ طبیعت اور تقریباً درویشانہ طرز زندگی پر کاربند، آگرہ (انڈیا) میں پیدا ہوئے، کراچی آنے کے بعد ابتدائی زندگی سخت محنت اور مشقت میں گزری ، ایک ہندو فیملی کو مسلمان کیا اور شادی بھی اسی فیملی میں کی، بعد ازاں اپنے نومسلم برادرز ان لا کی بھی شادیاں کرائیں، لیاقت اشرف کالونی جو محمود آباد سے ملحق ہے، ان کی رہائش اور کلینک کے لیے شاید قدرت نے مقرر کردی تھی، 1970 ء سے اپنی وفات 2006 ء تک یہیں کلینک کیا اور اب یہ کلینک ان کے صاحب زادے ڈاکٹر صادق حسین چلا رہے ہیں، ان کے پاس دوسری اور تیسری نسلیں علاج کے لیے آتی تھیں اور ایک طویل قطار مریضوں کی دیکھنے میں آتی تھی، بغیر نمبر کے کسی کو نہیں دیکھتے، ہم یا معراج صاحب کسی مریض کو بھیجتے تو اسے سمجھا دیتے کہ ہماری سفارش کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ وہ دوسرے مریضوں کو چھوڑ کر سب سے پہلے آپ پر توجہ دیں، ہم خود بھی یہ خیال رکھتے کہ اپنے کسی مسئلے میں مشورہ کرنا ہو تو ایسے وقت پر جائیں جب ان سے گھر پر ملاقات ہوسکے،ان کے کلینک کے قریب ہی، چند قدم کے فاصلے پر ان کے ایک بہت پرانے دوست کی چھوٹی سی پرچون کی دکان تھی، دوپہر تین بجے اس دکان میں آکر بیٹھ جاتے اور اپنے کلینک پر آنے والوں پر نظر رکھتے، کون پہلے آیا ہے اور کون بعد میں، ٹھیک چار بجے ان کے صاحب زادے ڈاکٹر صادق کلینک کھولتے تو وہ بھی دکان سے نکل کر کلینک پہنچ جاتے، رات 9 بجے تک ان کی پریکٹس جاری رہتی، اسی طرح صبح 8 بجے سے دوپہر 12 بجے تک کلینک میں بیٹھتے، روایتی کلاسیکل ہومیو پیتھی پر یقین رکھتے تھے اور اسی کے مطابق پریکٹس کرتے تھے،مریضوں کی کسی نامناسب بات پر بری طرح برہم ہوتے اور اکثر علاج کرنے سے انکار کردیتے،انھیں کسی اور ڈاکٹر کے پاس جانے کا مشورہ دیتے مگر ان کے مریض انھیں چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے تھے، ان کی کڑوی کسیلی باتیں برداشت کرتے اور بالآخر ڈاکٹر صاحب بھی ٹھنڈے ہوجاتے۔
جمعہ کے روز چھٹی ہوتی تھی ، اس روز اپنے گھر میں نشست جماتے اور دیگر ڈاکٹر صاحبان یا شاگرد اس میں شامل ہوتے،ہم اور معراج صاحب بھی اس نشست میں حاضری دینے لگے تھے۔
ڈاکٹر اعجاز حسین کے کلینک کے بالکل سامنے والی گلی میں علیم الحق حقی کے والد طویل عرصے سے رہائش پذیر تھے گویا علیم الحق حقی کا بچپن اور نوجوانی اسی محلے میں ڈاکٹر اعجاز صاحب کے سامنے ہی گزرا،البتہ بعد میں وہ اپنی لکھنے پڑھنے کی مصروفیات کی وجہ سے والد صاحب سے علیحدہ ہوکر اپنی پسند کی جگہ رہنے لگے تھے، حقی خود بھی اعجاز صاحب کی مسیحائی کے قائل تھے، ہماری پہلی ملاقات بھی ڈاکٹر اعجاز سے حقی صاحب ہی نے کرائی تھی اور یہ بھی بتایا کہ وہ نہایت پابندی سے سسپنس اور جاسوسی ڈائجسٹ پڑھتے ہیں، ایک بار ہم کچھ بیمار ہوئے اور کسی طرح بھی کوئی فائدہ نہیں ہورہا تھا، حقی صاحب نے ہم سے کہا کہ آپ ہمارے ڈاکٹر صاحب کے پاس چلیں، اس طرح ہم غالباً پہلی مرتبہ 1988 ء میں ان کے کلینک گئے، انھوں نے بہت توجہ سے ہمیں دیکھا اور دوا دی، چند ہی دنوں میں ہمیں کلّی طور پر شفا حاصل ہوئی اور ہم بھی ان کے معتقد ہوگئے پھر ایک بار جب ہماری رہائش اپنے دفتر کے قریب برنس گارڈن میں تھی تو ہماری پہلی بیگم کو ڈاکٹروں نے دمہ ڈکلیئر کردیا، ہمارے لیے یہ بڑی پریشانی کی بات تھی، ایک روز چھٹی کے دن ہم مع اہل و عیال ڈاکٹر صاحب کے گھر پہنچ گئے ، بڑی محبت سے ملے، خاطر تواضع بھی کی اور وائف کا معائنہ کرنے کے بعد کہا ’’کوئی دمہ ومہ نہیں ہے، میں دوا دے رہا ہوں، اسے استعمال کریں‘‘
الحمد اللہ ڈاکٹر صاحب کے علاج سے وہ مکمل طور پر شفایاب ہوئیں اور پھر زندگی میں کبھی انھیں دمے کی شکایت نہیں ہوئی،اب جب ہم ڈیفنس فیز ون میں آگئے اور دفتر ہمارا ڈیفنس فیز ٹو میں آگیا، ڈاکٹر اعجاز کا گھر اور کلینک ہم سے بہت قریب ہوگیا، چناں چہ جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا ان کے پاس چلے جاتے،ساتھ ہی ہومیو پیتھی کو سیکھنے اور سمجھنے کا شوق بھی عروج پر تھا، معراج صاحب بھی دفتر اور گھر کے اکثر لوگوں کو انہی کے پاس بھیجا کرتے اور خود بھی ان سے مشورہ کرتے اور ہومیو پیتھی کے رموز و نکات پر خوب گفتگو ہوتی، ہمارے پرچے ابن حسن پرنٹنگ پریس میں پرنٹ ہوتے تھے،اس کے مالک و منتظم حسن صاحب آج کل لاہور میں ہیں ، ایک روز انھوں نے معراج صاحب کو بتایا کہ میرا نزلہ برسوں سے میرے لیے عذاب بنا ہوا ہے،سنا ہے اب آپ بھی ہومیو دوائیں دیتے ہیں تو ہمیں بھی کوئی دوا عنایت کیجیے۔
معراج صاحب مسکرائے اور ان سے کہا کہ جمعہ کو تین بجے آجانا ، دوا مل جائے گی، حسن کچھ حیران ہوئے کہ ابھی کیوں دوا نہیں دے رہے لیکن ظاہر ہے وہ معراج صاحب سے زیادہ سوال و جواب نہیں کرسکتے تھے، بہر حال جمعہ کو جب وہ آئے تو معراج صاحب انھیں ڈاکٹر اعجاز صاحب کی نشست میں لے گئے، ان کا کیس پیش کردیا گیا ، اعجاز صاحب اپنے ہاتھ میں ایک چھوٹی ٹارچ ہمیشہ رکھتے تھے اور ایسے مریضوں کی ناک میں ٹارچ کی روشنی ڈالتے ہوئے ناک کا معائنہ بھی ضرور کرتے تھے تاکہ اندازہ کرسکیں کہ ناک میں گوشت بڑھا ہوا ہے یا نہیں، ہم بھی ان کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔
شاید پندرہ دن بعد حسن آئے اور انھوں نے بتایا کہ پتا نہیں کتنے برسوں کا جمع ہوا نزلہ سارا ہی خارج ہوگیا ہے اور اب میں بہت سکون سے ہوں، حال ہی میں لاہور جانا ہوا ، ان کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ ہم لاہور آئے ہیں تو وہ کراچی پہنچے ہوئے ہیں، ملاقات ہوتے ہوتے رہ گئی۔
اعجاز صاحب سے ہر جمعہ کی ملاقات اب معراج صاحب کا معمول بن گیا تھا اور یہ معمول اس وقت تک جاری رہا جب تک وہ ہوش و حواس میں رہے،جمعہ کے روز سہ پہر تین بجے وہ انٹرکام پر یا کسی پیون کے ذریعے ہمیں پیغام دیتے اور ہم دفتر کے دروازے پر پہنچ جاتے جہاں ان کی گاڑی تیار ہوتی، عام طور پر ڈرائیور کو بھی ساتھ نہ لیتے اور خود ہی ڈرائیو کرتے ہوئے لیاقت اشرف کالونی پہنچ جاتے، اعجاز صاحب بھی شدت سے منتظر رہتے، معراج صاحب کی وجہ سے انھوں نے اپنی نشست میں آنے والے بعض لوگوں پر پابندی لگادی تھی پھر یہ ہوا کہ دفتر میں مہینے کے کسی ایک جمعہ کو قرآن خوانی کا اہتمام ہونے لگا، ایک دیگ بریانی کی اور ایک زردے کی منگوائی جاتی اور پورے دفتر کی دعوت ہوتی، ارد گرد کے غریبوں اور فقرا میں یہ کھانا تقسیم کیا جاتا، اس نشست میں اعجاز صاحب کو خاص طور پر بلایا جاتا، یہاں تک کہ ڈاکٹر اعجاز صاحب اب ہر جمعہ کو دفتر آنے لگے اور معراج صاحب کا ان کے گھر جانا بند ہوگیا ۔
اب آ کہ قاعدۂ آسماں بدل ڈالیں
جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے دفاتر کی تبدیلی نے بہت کچھ بدل دیا تھا، پہلے ہمارے دفاتر جب تک آئی آئی چندریگر روڈ پر رہے تو دفتر میں آنے جانے والوں کا تانتا سا بندھا رہتا تھا کیوں کہ اکثر اخبارات و رسائل کے دفاتر یہاں قریب قریب تھے، کوئی بھی شہر سے یا باہر سے اس طرف آتا تو تقریباً سب ہی دفاتر میں اپنے اپنے واقفوں سے سلام دعا کرتا ہوا جاتا، اب صورت حال بدل گئی تھی، صرف وہی لوگ دفتر آتے تھے جنھیں کوئی کام ہو، ملنے جلنے والوں کی آمد بھی بہت کم رہ گئی تھی، یہ ایک اعتبار سے بہتر بھی تھا، سکون سے بیٹھ کر کام کرنے کا موقع ملتا تھا۔
ہماری زندگی میں سب سے بڑا انقلاب پہلی وائف کے انتقال اور پھر دوسری شادی کے نتیجے میں آچکا تھا، صحافتی اداروں میں ہمیشہ سے ہی ایک سخت استحصالی نظام موجود رہا ہے،خاص طور پر عام ورکرز کے لیے، تنخواہیں کم اور کام زیادہ، چناں چہ ہم نے ہمیشہ یہ دیکھا کہ ایک جگہ کام کرنے والا اپنی گزر بسر کے لیے کسی ایک تنخواہ پر قناعت نہیں کرسکتا تھا، ایڈیٹوریل اسٹاف ہو یا سرکولیشن ڈپارٹمنٹ سب کو ہی ہم نے ہمیشہ روتے دھوتے دیکھا جن میں ہم بھی شامل تھے، چند رائٹرز کے علاوہ باقی رائٹرز کا حال بھی اچھا نہیں دیکھا، وہ چند رائٹر بھی مسلسل اور بے تحاشا لکھنے پر مجبور تھے گویا ان کا اوڑھنا بچھونا ہی لکھنا اور صرف لکھنا بن گیا تھا، ان کی زندگی سے سوشل دلچسپیاں ختم ہوگئی تھیں حالاں کہ سب رنگ اور جاسوسی سسپنس وہ نمایاں میگزین ہیں جنھوں نے ماضی کی روایات کو توڑا کہ جب مصنف کو صرف یہ کہہ کر مطمئن کردیا جاتا تھا کہ جناب آپ کا نام ہمارے پرچے میں شائع ہوگا، یہ کیا کم بات ہے ! مصنفین کو خاصا معقول معاوضہ دیا جانے لگا تھا لیکن بعض ڈائجسٹ اپنی کم اشاعت اور دیگر مجبوریوں کے باعث زیادہ معاوضہ نہیں دے سکتے تھے لہٰذا عالمی ڈائجسٹ ، عمران ڈائجسٹ، مسٹری میگزین، ایڈونچر، نئے افق، نیا رُخ میں معاوضے سب رنگ اور جاسوسی ڈائجسٹ سے کم تھے۔
ڈیفنس شفٹ ہونے کے بعد ہمارے مالی مسائل بھی پریشان کن حد تک بڑھ گئے تھے،نیو کراچی میں ہمیں کرایہ نہیں دینا پڑتا تھا، گھاس منڈی پر بھی 2000 روپے ماہوار کرایہ تھا، یہاں پانچ ہزار جب کہ گیس اور بجلی کے بل علیحدہ، بچوں کی تعلیم وغیرہ الغرض ہماری پریشانیاں عروج پر تھیں۔
سال 2000 ء کا آغاز تھا کہ ایک روز اقبال پاریکھ سے ملاقات ہوئی، وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بزنس رپورٹر بن گئے تھے اور قومی اخبار سے وابستہ تھے،ہم ان کا بڑا احترام کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں، ان کی بہت سی ماضی کی خامیاں اور مجبوریاں اپنی جگہ لیکن شاید 1987 ء یا 88 ء میں ان کی زندگی میں ایک انقلاب آیا اور انھوں نے ’’جماعت المسلمین‘‘ نامی ایک تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی، داڑھی رکھ لی، نماز کی سخت پابندی کرنے لگے، جب بھی دفتر آتے، ہمیں بھی اچھی اچھی باتیں بتاتے جو یقیناً قابل قدر ہوتیں، ڈائجسٹ انڈسٹری میں وہ ہمارے اور محمود احمد مودی کے علاوہ تقریباً سب سے کٹ گئے تھے،ہم نے ان سے اپنے دکھڑے روئے اور کہا ’’اقبال بھائی ! گزارا نہیں ہورہا، کوئی مشورہ دیں‘‘
ان کا پہلا مشورہ بڑا روایتی سا تھا، بولے ’’معراج سے بات کرو کہ تنخواہ بڑھائے‘‘
ہم نے زور زور سے نفی میں سر ہلایا اور کہا ’’انھوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ آمدن کم ہے اور خرچ زیادہ، میں تو صرف اس لیے یہ ادارہ چلا رہا ہوں کہ اگر بند کردوں تو بہت سے لوگ بے روزگار ہوجائیں گے، مجھے اس ادارے سے کچھ حاصل نہیں ہورہا‘‘
اقبال پاریکھ اسی شعبے کے پرانے کھلاڑی تھے ، مسکرائے اور بولے ’’تم مجھ سے زیادہ تو معراج کو نہیں جانتے ہوگے، اچھا یہ بتاؤ کہ میں نے ادارہ کیوں چھوڑا تھا؟‘‘
ہم نے اس حوالے سے جو روایات سنی تھیں، انہی کی روشنی میں جواب دیا ’’ہم نے تو یہ سنا ہے کہ آپ کی شادی کے بعد، آپ کی بیگم نے آپ کو ورغلایا، وہ ساجدہ معراج کا عیش و عشرت دیکھ کر شاید کسی حسد میں مبتلا ہوگئیں تھیں، ان کا خیال تھا کہ چوں کہ سسپنس کو آپ ہی چلا رہے ہیں لہٰذا اگر اپنا پرچا نکالیں تو آپ بھی معراج رسول کی طرح دولت میں کھیلنے لگیں گے‘‘
ہماری بات انھوں نے بڑی تسلی کے ساتھ سنی اور پھر بڑا برا سا منہ بناکر بولے’’اس قسم کی باتیں معراج رسول کے چمچوں نے پھیلائی ہیں، اصل بات یہ ہے کہ شادی سے پہلے مجھے زندگی کا وہ شعور نہیں تھا جو شادی کے بعد ہوا اور میں نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ اس ادارے میں معراج رسول کی ملازمت میں صرف اتنا ہی ہوسکے گا کہ میں اپنے بیوی بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلاسکوں ، ان کی بہتر تعلیم و تربیت اور رہائش کا انتظام میں نہیں کرسکتا تھا، میری سسرال نے اتنا ضرور ہے کہ اس وقت میری مالی مدد کی اور میں ایک ڈائجسٹ نکالنے میں کامیاب ہوا اور تم جانتے ہو کہ وہ ڈائجسٹ ناکام نہیں ہوا تھا‘‘
****
یہ درست ہے کہ جب وہ معراج صاحب سے علیحدہ ہوئے تو معراج صاحب حقیقی معنوں میں بہت پریشان ہوئے، انھوں نے بہت کوشش کی کسی طرح اقبال پاریکھ کو روک لیں انھیں زیادہ تنخواہ دینے اور بعض دوسرے معاملات میں بھی مراعات دینے کی پیشکش کی گئی لیکن وہ راضی نہ ہوئے،اپنا پرچا نکالنے کا شوق سرپر چڑھ کر بول رہا تھا، یہ شوق انھوں نے پورا کیا اور ابتدا ہی میں انداز ڈائجسٹ نے خاصی کامیابی بھی حاصل کی،بلاشبہ اقبال پاریکھ کو معلوم تھا کہ ڈائجسٹ کی ریڈرشپ کیا چاہتی ہے؟ انھوں نے انداز ڈائجسٹ میں جبار توقیر مرحوم سے ’’کشکول‘‘ کے نام سے ایک سلسلہ وار کہانی شروع کرائی جو یقیناً ’’گمراہ‘‘ کی طرح مقبول ہوئی،اقبال پاریکھ کو یہ سہولت حاصل تھی کہ وہ ابتدا ہی سے تمام مصنفین سے اچھے تعلقات رکھتے تھے لہٰذا مصنفین کی ایک معیاری ٹیم بنانے میں انھیں کوئی دشواری پیش نہیں آئی، انھوں نے ایسے لوگوں سے بھی لکھوایا جو لکھنے کی اچھی صلاحیت رکھنے کے باوجود نہیں لکھتے تھے مثلاً افسر آذر ، منظر امام یا بعض دوسرے جن کے نام اس وقت ذہن میں نہیں ہیں۔
ابتدائی کامیابیوں نے یقیناً ان کا حوصلہ بلند کیا لیکن ان کی بعض کمزوریوں اور بدانتظامیوں نے انھیں نقصان پہنچایا، سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ اپنے اصولوں اور معاملات میں کھرے نہیں تھے، مصنفین کو یا ملازمین کو بروقت ان کا معاوضہ نہ ملے تو وہ بد دل ہوتے ہیں پھر معاوضہ بھی کم ہو، وہ ہمیشہ سے کم اجرت پر کام کرانے کے عادی تھے،دوسری کمزوری ان کے بعض شوق تھے جن کی وجہ سے وہ ہمیشہ مالی مشکلات کا شکار رہے اور پھر بالآخر انھیں انداز ڈائجسٹ بند کرنا پڑا۔
نئی شروعات
اقبال صاحب نے ہمیں مشورہ دیا کہ ہم بھی اپنا کوئی کام شروع کریں اور سوچیں کہ ہم مزید کیا کرسکتے ہیں، یوں تو ہم نے زندگی میں بے شمار کام کیے، شادی سے پہلے خاصی آوارہ گردی کی زندگی گزاری، جب بھی جو کام بھی مل گیا ، کرلیا، اس کی عادت بھی اس لیے تھی کہ بہت چھوٹی سی عمر میں یعنی تقریباً جب ہم بارہ سال کے تھے تو والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اور والدہ نے صرف اس خیال سے کہ اسکول سے آنے کے بعد ہم کسی غلط صحبت کا شکار نہ ہوں، ابتدا ہی سے ہمیں مختلف کام سیکھنے میں لگائے رکھا، مثلاً ہم نے اپنی زندگی کی پہلی ملازمت ایک موٹر رکشہ گیرج میں شروع کی، اسکول سے آنے کے بعد تقریباً ایک بجے ایک رکشہ گیرج چلے جاتے تھے، اس زمانے میں لمبریٹا رکشے ہوا کرتے تھے اور شاید ان رکشوں کا وہ آخری زمانہ تھا، اسی نوعیت کے بہت سے کام دوران تعلیم میں ہی کرتے رہے، اقبال صاحب کے مشورے کے بعد ہمیں یہی مناسب لگا کہ اپنا ایک علیحدہ ہومیو پیتھک کلینک + اکلٹ سائنسز سینٹر کھول لیا جائے۔
احمد اقبال اکثر مذاق میں ہم سے کہا کرتے تھے کہ تم یہ نوکری وغیرہ چھوڑو اور ستارہ شناسی شروع کرو تو اس نوکری سے زیادہ دولت کماؤگے مگر ہمارا رجحان کبھی اس طرف نہیں گیا تھا، اب پہلی بار اس حوالے سے ہم نے سنجیدگی سے غور شروع کیا اور ایک روز محمود احمد مودی سے بھی مشورہ کیا، وہ بھی ہومیوپیتھک کلینک کھولنے کے موڈ میں تھے کیوں کہ وہ باقاعدہ سند یافتہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے اور پہلے بھی اپنا کلینک کھول چکے تھے جو بعض مجبوریوں کی وجہ سے انھیں بند کرنا پڑا تھا۔
مودی صاحب ہمارے ساتھ کلینک کرنے کے لیے تیار ہوگئے اور طے یہ ہوا کہ ہومیو پیتھک پریکٹس مودی صاحب کریں گے اور ایسٹرولوجیکل پریکٹس ہم کریں گے،اس طرح اس کلینک میں ہم دونوں پارٹنر ہوں گے،اس وقت مودی صاحب کے مالی حالات ایسے نہیں تھے کہ وہ کوئی انویسٹمنٹ کرسکتے چناں چہ انھوں نے ہم سے کہا کہ آپ کلینک بنالیں اور جو ہمارا حصہ ہوگا وہ ہم بعد میں دے دیں گے۔
ہم ان مسائل پر غوروفکر کر رہے تھے مگر ضروری تھا کہ اس سلسلے میں معراج صاحب سے بھی بات کی جائے اور ان کی رضا مندی حاصل کی جائے، شاید یہ یکم اپریل 2000 ء کی بات ہے ، ایک روز ہم نے معراج صاحب کے سامنے اپنے مسائل رکھ دیے جنھیں سن کر انھوں نے نہایت تحمل سے جواب دیا کہ موجودہ تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ہم یہ صاف جواب سن کر خاموشی سے ان کے کمرے سے نکل آئے اور سوچتے رہے کہ اب اگلا قدم کیا ہوگا؟ اتفاق کی بات یہ ہے کہ دوسرے روز ہم دفتر نہیں گئے، چھٹی کرلی،عام طور سے پہلی تاریخ کو تنخواہ ملنے کے بعد چوں کہ پرچے آچکے ہوتے تھے ، کوئی زیادہ مصروفیت دفتر میں نہیں ہوتی تھی تو ہم لوگ ایک آدھ چھٹی کرلیا کرتے تھے لیکن اس بار یہ چھٹی خاصی ہنگامہ خیز رہی۔
معراج صاحب نے شاید یہ سمجھا کہ ان کے جواب سے ہم دل برداشتہ ہوکر جاب چھوڑ گئے ہیں، دفتر میں خاصی سنسنی پھیلی رہی، دفتر سے محمد رمضان اسی روز رات کے وقت ہمارے گھر آئے اور ہم سے پوچھا کیا جاب چھوڑ دی ہے؟
ہم بڑے حیران ہوئے اور رمضان سے کہا ’’یہ تم کس بنیاد پر کہہ رہے ہو؟، ہم نے تو آج چھٹی کی ہے اور کل ان شاء اللہ دفتر آئیں گے‘‘
لیکن رمضان کو یقین ہی نہیں آرہا تھا ، وہ بولے ’’دفتر میں تو سب یہی کہہ رہے ہیں کہ تم نے جاب چھوڑ دی ہے اور کسی بات پر معراج صاحب سے ناراض ہوگئے ہو‘‘
ہم نے وضاحت کی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور رمضان مطمئن ہوکر چلے گئے، دراصل رمضان کو خصوصی طور پر اسی لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ ہمارے آئندہ ارادوں کے بارے میں معلومات کریں، دوسرے روز ہم دفتر پہنچے تو فوری طور پر معراج صاحب نے اپنے کمرے میں بلا لیا اور ہم سے پوچھا ، کیا بات ہے؟ کل کیوں نہیں آئے تھے؟ جب ہم نے بتایا کہ بعض ضروری کاموں اور کچھ آرام کرنے کی وجہ سے چھٹی کی تھی تو انھیں اطمینان ہوا اور بہت خوش ہوئے، پھر خاصی تفصیلی گفتگو ہمارے مسائل کے حوالے سے ہوتی رہی، ہم نے گزارش کی کہ اگر ہماری تنخواہ میں معقول اضافہ نہیں ہوسکتا تو ہمیں کوئی دوسرا کام کرنے کی اجازت دی جائے،انھوں نے پوچھا ’’دوسرا کیا کام کرنا چاہتے ہو‘‘
ہم نے اپنا سیکنڈ آپشن پیش کردیا کہ ہم دفتر کے قریب ہی ایک ہومیو پیتھک کلینک کھولنا چاہتے ہیں جس میں محمود احمد مودی ہمارے پارٹنر ہوں گے، دفتر سے شام چھ بجے چھٹی ہونے کے بعد کلینک چلے جایا کریں گے اور رات دس گیارہ بجے تک وہاں رہیں گے، پہلے وہ مسکرائے اور کہا ’’کیا یہاں تم کلینک چلا لوگے؟‘‘
ہم نے جواب دیا ’’ اگر زیادہ نہ بھی چلا اور اس طرح صرف چند ہزار ماہانہ کا بھی ہمیں سہارا مل گیا تو یہ بہت ہوگا‘‘
معراج صاحب نے ہماری بات سے اتفاق کیا لیکن مودی صاحب سے پارٹنر شپ پر اعتراض کیا اور کہا ’’تمھیں جو کچھ بھی کرنا ہے ، خود کرو، پارٹنر شپ اچھی چیز نہیں ہے، اگر تمھیں کسی سپورٹ کی ضرورت ہوگی تو وہ میں کروں گا اور میں بھی کبھی کبھی کلینک آیا کروں گا‘‘
ہم بہت خوش ہوئے ، مزید ہم نے فرمائش کی کہ ماہنامہ پاکیزہ میں ایسٹرولوجی کا جو کالم ہم اپنی مرحوم وائف کے نام سے لکھتے ہیں، وہ اب ہم اپنے نام سے لکھنا چاہتے ہیں، معراج صاحب فوری طور پر اس کے لیے بھی تیار ہوگئے حالاں کہ پاکیزہ میں کسی مرد رائٹر کا نام کبھی نہیں دیا جاتا تھا، مزید خود ہی یہ تجویز بھی پیش کی کہ کالم کا نام تبدیل کردیا جائے، پہلے اس کالم کا نام ’’حال و مستقبل‘‘ تھا ، معراج صاحب نے ’’مسیحا‘‘ تجویز کیا اور کہنے لگے ’’میرے ذہن میں بہت دن سے یہ خیال ہے کہ مسیحا کے نام سے ایک ایسا میگزین نکالا جائے جو تمام مروجہ طریقہ ء علاج سے متعلق ہو، اس طرح یہ نام مشہور ہوجائے گا اور پھر اسی نام سے ڈکلیریشن لے کر ایک نیا پرچا نکالیں گے‘‘
ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا، ہم جو چاہتے تھے وہ سب معراج صاحب بھی چاہتے تھے چناں چہ ہم نے فوری طور پر دفتر کے قریب ہی جگہ تلاش کرنا شروع کردی، اتفاق سے ہمارے ایک واقف یہاں اسٹیٹ ایجنسی چلاتے تھے ، ان سے کہا اور انھوں نے فوراً ہی ایک دکان کا بندوبست کردیا جس کا ماہانہ کرایہ پانچ ہزار روپے مہینہ تھا، 25 ہزار ایڈوانس دے کر ایگریمنٹ کرلیا گیا اور کلینک کے لیے دواؤں کی مخصوص کیبنٹس بنوانی شروع کردی گئیں۔
اس کلینک کے آغاز کے لیے ہم نے بہت کم بجٹ رکھا تھا، گھر میں کافی تعداد میں دوائیں موجود تھیں وہ کلینک میں پہنچادی گئیں، تقریباً پچیس ہزار میں ہی فرنیچر کا انتظام ہوا، یہ رقم شبینہ نے اپنے آئی یو سی این کے آفس سے ایڈوانس لے کر ہمیں دی تھی،ہمارے استاد ڈاکٹر اعجاز حسین نے ہم سے کہا کہ فی الحال ہائی پوٹینسیز کی دوائیں منگوانے کی ضرورت نہیں ہے،وہ میں تمھیں گلوبیلز پر بناکر دے دوں گا کیوں کہ ان کا استعمال بہت کم ہوتا ہے اور عام طور پر صرف ایک آدھ خوراک ہی دی جاتی ہے،دوسری طرف معراج صاحب نے پانچ ہزار روپے ہمیں دیے کہ یہ میری طرف سے کلینک کے لیے ہدیہ ہے،ان پیسوں کی دوائیں منگوالو، ایک اور دوست نے بھی اس مرحلے پر مالی مدد کی، اس طرح 26 مئی 2000 ء کو کلینک کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا، شام 6 بجے ہم دفتر سے اٹھ کر چند قدم کے فاصلے پر واقع اس کلینک میں پہنچ جاتے اور رات دس گیارہ بجے تک بیٹھتے۔
اس حوالے سے روزنامہ جرأت میں ہر ہفتے شائع ہونے والا ہمارا کالم بہت معاون ثابت ہوا کیوں کہ وہ سندھ بھر میں نہایت توجہ اور پسندیدگی حاصل کرچکا تھا، اپنے کالم کے ذریعے ہم نے لوگوں کو دعوت دی کہ جو لوگ ہم سے ملنے اور اپنے مسائل پر بات کرنے کے لیے بے چین رہا کرتے تھے، فون پر رابطہ کرتے اور خطوط لکھا کرتے تھے، وہ کلینک آجائیں، اسی طرح ماہنامہ پاکیزہ میں بھی ہمارے نام سے کالم ’’مسیحا‘‘ شروع ہوچکا تھا اور اسی کالم کے آخر میں ہمارے کلینک کا اشتہار بھی لگایا جاتا تھا، ہمارے کلینک کے لیے یہ بہت بڑی سپورٹ تھی جس کے لیے ہم معراج صاحب اور روزنامہ جرأت کے مالک و مدیر جناب مختار عاقل کے شکر گزار تھے اور ہیں۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 34  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے