سر ورق / افسانہ / معمولی : محمد جاوید انور

معمولی : محمد جاوید انور

معمولی

افسانہ نگار: محمد جاوید انور

ناقابلِ فراموش سے، میرے نزدیک ، اولاًمراد وہ واقعہ ہے جو نہ توبھُولے نہ بھُلائے جانے کے قابل ہو۔اس واقعے کا دلچسپ یا پیچیدہ ہونا ثانوی بات رہ جائے گی۔

سو جو واقعہ بیان کرنے جا رہاہوں وہ مجھے بھولتا ہے نہ بھُلائے جانے کے قابل لگتا ہے۔ میں اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں اتنا مصروف ہوں کہ گھر والوں کواُتنا وقت نہیں دے پاتا جتنااُن کا حق ہے۔ سبھی افراد خانہ اپنے طور پر مصروف رہتے ہیں۔ کبھی وقت مل جائے تو عموماً کسی اچھے ریستوران میں رات کا کھانا ہی طے پاتا ہے۔ لاہور والوں کی بڑی تفریح اب بس یہی رہ گئی ہے۔اُس روز بھی یہی ارادہ لے کرہم سب گھر سے نکلے۔چھوٹا بیٹا گاڑی چلا رہا تھا جواُسی کی ہے۔ باہم مشورے سے ایم۔ ایم۔ عالم روڈ کے ایک مشہور ریستوران جا پہنچے ۔’ویلے پارکنگ‘ کی سہولت میسر تھی۔ گاڑی سے نکل کر چابی پارکنگ کے لیے متعین نو جوان ’ جو پچیس چھبیس سال کا بظاہر معقول اور مہذب شخص تھا‘ کے حوالے کی اور کھانا کھانے کے لیے ریستوران کے اندر چلے گئے۔جب ہم کھانا کھا کر واپس آئے تو پارکنگ والانوجوان بڑی مُستعدی سے ہماری گاڑی پارکنگ سے نکال لایا، چابی میرے بیٹے کے حوالے کی اوردُزیدہ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا،

’’ سر ایک موٹر سائیکل والاکھڑی گاڑی کو پیچھے سے موٹر سائیکل مار کر ذرا سی بیک لائٹ توڑ گیا ہے۔ آپ کانقصان ہو گیا ہے۔ پر سر جی میرا کوئی قصور نہیں ‘‘۔

 میں نے پارکنگ کا جائزہ لیا تو صرف کاریں ہی کاریں پارک تھیں اور موٹر سائیکل ایک بھی نظر نہیں آرہی تھی۔ ویسے بھی یہ قدرے مہنگا ریستوران تھا جہاں موٹر سائیکل والے گاہک شاذ ہی آتے ہوں گے۔ مجھے اُسکی بات پر قطعی یقین نہ آیا۔ میں ابھی الفاظ کا چناؤکرہی رہا تھا کہ کس پہلو سے اس پر حملہ آور ہُوں کہ میں نے دیکھا ، کمال سکون اور متانت سے میرے بیٹے نے اپنے بٹوے سے سو کا نوٹ نکالا، نوجوان کے ہاتھ پر رکھا ، مسکراکر سر کو ہلکی سی اثباتی جُنبش دے کر کہا،  ’’ شکریہ‘‘

اور گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔

میں نے کہا

 ’’یار یہ لڑکا صرف اسی ذرا سے کام پر متعین ہے کہ گاہکوں کی گاڑیاں احتیاط سے پارک کرے اور واپسی پر بخیر و عافیت اُن کے حوالے کرے۔ اسی ایک کام کی یہ تنخواہ بھی لیتا ہے اور ٹپ بھی۔ ہمیں اس کے مینیجر کو بتانا چاہیے تا کہ اس کو تنبیہہ ہو اور یہ کل کسی اور کی گاڑی نہ توڑے۔ آٹھ دس ہزار رُوپے سے کم میں عقبی بتّی کیا آئے گی‘‘۔

بیٹا بولا،

 ’’پاپا آپ فکر نہ کریں۔ آپ آ جائیں، میں اپنے پیسوں سے بدلوا لُوں گا‘‘۔

وُہ پڑھنے کے علاوہ پچھلے پہر ایک فرم میں جُز وقتی کام کرتا ہے اور معقول معاوضہ پاتا ہے۔ میرے منع کرنے کے باوجود بے پناہ محنت سے دونوں کام رغبت سے کرتا ہے اور بڑی مصروف زندگی گزارتا ہے۔

میں نے کہا،

’’بھئی تُو عجیب آدمی ہے۔ جو جی میں آئے کر‘‘۔

 اندر سے میں تلملاکر رہ گیا کہ بہت بڑا ساہو کار ہو گیاہے۔ مجھے کمائی کا رُعب دیتا ہے، لیکن میں بس چُپ کر گیا۔گاڑی میں خاموشی تھی۔ ہم آہستہ آہستہ ذیلی سڑک سے نکل کر مین روڈ پر آگئے۔ جب اُس نے محسوس کیا کہ مُوڈ خراب ہونے کی وجہ سے میں مسلسل خاموش ہُوں اور باقی بھی دَم سادھے بیٹھے ہیں تو وہُ دھیرے سے بولا،

’’پاپا ہم نئی لائٹ لگوا سکتے ہیں۔ وُہ بے چارہ کہاں سے لگوا کر دے گا۔اُس کی دس بارہ ہزاررُوپے ماہانہ تنخواہ ہوگی۔ پتا نہیں گھر میں کیا کیا ضرورت مُنہ پھاڑے کھڑی ہوگی؟ پتا نہیں کون کون اُس چھوٹی سی رقم کا انتظار کرتا ہوگا؟ کس کی فیس، کس کی دوائی اُس رقم پر منحصر ہے؟ کونسا بل نہ ادا ہوا تو کیا مصیبت آئے گی؟ ہم شکایت کریں گے توہو سکتا ہے اُس کا مالک اس کو نوکری سے نکال دے۔ سوچیں پاپا اس صورت میں اس کے چھوٹے سے گھر میں کیا بھونچال آئے گا؟ ہم تو پاپا چھ سات ہزار رُوپے کھانے کا بل دے آئے ہیں۔ اللہ نے ہمیں توفیق دی ہے۔ ہم کیوں کسی کو تنگ کریں؟‘‘۔

بخدا میں دنگ رہ گیا۔ میں دہل گیا۔ ٹی شرٹ اور جینز میں ملبوس، انگریزی سکول سے پڑھا لاہور کی جدید ترین یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور مغربی یونیورسٹیوں میں وظائف ڈُھونڈتا یہ ماڈرن اور روشن خیال بچہ مُجھے ماڈرن صُوفی لگا۔ میں ہکا بکا رہ گیا کہ ہم میں اور نئی نسل میں کیا فرق ہے۔وہ مجھ سے خاصہ قد نکالتا ، جدید موسیقی اور جم کا شوقین طاقتور نوجوان تو اپنے نفس پر بھی حاوی نکلا۔ میں نے اپنے آپ کو بڑا چھوٹا محسوس کیا۔پھر مجھے لگا کہ ہم نے اپنی زندگیاں ضائع نہیں کیں۔ہمارا مستقبل ہم سے بہتر نسل کے حوالے ہو رہا ہے۔ انسانیت ، امن اور ماحولیات کی باتیں کرتے ، کانوں میں موسیقی اُنڈیلتے پلگ ٹھونسے، جنس اور ذات سے کافی بے پروا کھُلے دل والے یہ سادہ دل لوگ ہم سے کہیں بہتر ہیں۔

اگلے دن نئی، جینوئن، عقبی بتی لگی تو بارہ ہزار رُوپے میں نے بخوشی اپنی جیب سے ادا کئے۔جنوں پریوں اور بھوت پریت کے بغیر مجھ پر بیتی یہ واردات میرے لیے ناقابل فراموش ہے۔ اس نے میری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔میں فیصلے کرتے ہوئے اس کے اثر سے باہر نہیں نکل پاتا۔ میرے نزدیک یہ بظاہر معمولی واقعہ ناقابل فراموش ہے۔نہ یہ مجھے بھولاہے نہ میں اسے بھلانا چاہتاہوں اور نہ یہ مجھے کبھی بھولے گا۔

ooo

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

مکافاتِ قرض …فاطمہ عبدالخالق

مکافاتِ قرض   فاطمہ عبدالخالق  اک اضطراب ہے جو مجھے بے چین کئے رکھتا ہے …

2 تبصرے

  1. بہت عمدہ تحریر ہے.. ہماری نئ نسل ہمارا فخر ہے بعض اوقات ہم تھڑ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پہ جھنجلاتے ہیں لیکن ہمارے بچے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں.. بعض اوقات برا بھی لگتا ہے.. لیکن جب غصے کا غبار بیٹھتا ہے تو پھر اپنے بچوں پہ بہت پیار آتا ہے..

  2. خان شا ہ رخ پکھی واس

    بہت خوب سر.. ❤️❤️❤️

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے