سر ورق / سفر نامہ / میٹھی جیل شاہزاد انور فاروقی پہلی قسط

میٹھی جیل شاہزاد انور فاروقی پہلی قسط

میٹھی جیل

شاہزاد انور فاروقی

پہلی قسط

٭٭٭٭٭٭٭

کسی ایکشن ہالی ووڈفلم کی طرح ہوائی جہاز کے ارد گردبجلیاں چمک رہی تھیں،جیسے ہی جہاز تیز بارش کے دوران کالے بادلوں سے گزر کر نیچے جانے کی کوشش کرتا تو جہاز کو زور دار جھٹکے لگتے اور جہاز کے مسافروں کی زبانوں پر بے اختیار کلمہ طیبہ اور درود پاک جاری ہوجاتا، یہ تاریخ تھی دس اگست دوہزار پندرہ اوررات کے دو بج کر تیس منٹ ہوچکے تھے ۔یہ اتحاد ائیرویز کی فلائٹ ای وائی ۱۰۰تھی جس کے تمام مسافر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے بے نظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر جہاز کے اترنے کے منتظر تھے جہاز اپنے مقررہ وقت کے مطابق اسلام آبادائرپورٹ کے اوپر پہنچ چکا تھا لیکن طوفانی بارش اور بادلوں کے ٹکرانے سے پیدا ہونے والی گڑگڑاہٹ اور تیز بجلیاں جہاز کی لینڈنگ میں حائل ہوگئیں، جہاز کے کپتان نے ایک مرتبہ پھر چکر لگاکر لینڈنگ اپروچ پر آتے ہوئے اپنی بلندی کم کرنے کی کوشش کی لیکن بادلوں سے ٹکراتے ہی جہاز ایک مرتبہ پھر زوردار جھٹکوں کی زد میں آگیا ،جہاز کے اندر خواتین کی چیخیں اور عمر رسیدہ مسافروں کی زبان پر دعائیہ کلمات ایک ساتھ جاری ہوئے۔ ایسے میں پرواز کی خاتون میزبان کی پبلک اناونسمنٹ سسٹم پر آواز بلند ہوئی © بیلیو ،سجنو تے مترو اسیں اسلام آباد ائیر پورٹ دی حدود وچ پہنچ گئے آں پر موسم دی خرابی دے کارن یاتریاں نو نرودن اے کہ او اپنی اپنی سیٹ تے بیٹھے رہین تے پیٹی نا کھولن۔

اس پرواز کے ساتھ اتحادائیرلائن کا یہ مذاق پسند نہیں آیا کہ جس وقت لوگوں کی جان پر بنی ہوئی تھی اور لوگ کلمہ پڑھ رہے تھے ایسی پرواز کے لئے کسی سکھنی یا ہندو میزبان کا انتخاب کیا گیا جو تقریبا پچانوے فیصد سے زائد پاکستانی مسلمان مسافروں پر مشتمل تھی ۔ نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ پر بھی اتحاد ائیر ویز کے بھارتی اور متعصب بنگالی عملے نے تین پاکستانی مسافروں کے جاری شدہ بورڈنگ کارڈ انہیں بتائے بغیر دھوکہ دہی سے تبدیل کردئیے تھے، امارات اور عرب برادر ممالک کو جب بھی خطرات درپیش ہوئے انہوں نے مدد کے لئے پاکستان کو ہی پکارا اور پاکستان کے مفاد پرست حکمرانوں نے کبھی بھی اپنے ملک اور عوام کے لئے ان ممالک سے کوئی آبرومندانہ معاملہ نہیں کیا جس کے باعث ہمیں ہمیشہ ہی کرائے کے جنگجو یا دیسی زبان میں بھاڑے کے ٹٹو سے زیادہ نہیں سمجھا گیا۔ ویسے بھی جب اپنی قومی ائیرلائن کو ہم نے ہی اس قابل نہیں چھوڑا کہ دوسرے لوگ تو کیا خود پاکستانی بھی اس سے سفر کریں تو کیسی شکایت اور کس سے گلہ ۔ ماضی میں اس قومی ادارے کومن پسند افراد کوبھاری تنخواہوں پر نوکریوں سے نوازنے ،سیاسی تعلقات کے باعث غیر ممالک میں پوسٹنگ،غیر ضروری پرزہ جات کی خریداری میں کمیشن بنانے اور پھر انہیں بیکار قرار دے کر مقامی مارکیٹ میں سستے داموں اپنے ہی لوگوں کو بیچنے کے لئے ہی استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔مسلم لیگ(ن) کی میرٹ پسند حکومت نے بھی پی آئی اے کی صورتحال کو سدھارنے کے لئے اپنی جلاوطنی کے معاہدے میں ایک کردار ادا کرنے والی جس شخصیت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اس نے بھی دو چارمہینے پہلے اسلام آباد کے مہنگے ترین کاروباری علاقے بلیو ایریا میں ایک پورا پلازہ خرید لیا ہے ۔مجھے اس بات سے غرض نہیں کہ اس خریداری کے لئے اس کے پاس پیسے کہاں سے آئے بلکہ تکلیف یہ ہے کہ طے شدہ اصول ہے کہ حکومت اور اداروں کو چلانے کے لئے منتخب افراد دنیا بھر میں اپنے کاروبار نہیں کرتے یہ صرف ہماری قسمت ہے یا چوائس کہ ایسے نابغے ہمارے ہی حصے میں آتے ہیں۔فلائٹ اسلام آباد ائیرپورٹ کے اوپر چکر لگاتی رہی اور بادلوں کے درمیان چمکتی بجلی میں جہاز کے اندر اسلامی کلمات اور غیر اسلامی اناونسمنٹ کے مقابلے پر مسافروں کے تبصرے بھی جاری رہے۔آخر تین گھنٹے بعدجہاز کے کپتان نے فیول کی صورتحال کے پیش نظر کنٹرول ٹاور سے متبادل ائیر پورٹ پر جانے کی اجازت طلب کی جس پر اسے لاہور ائیرپورٹ جانے کی ہدائت کی گئی اور جہاز نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد راولپنڈی کی فضاوں میں چکر لگانے کے بعد لاہور کا رخ کیا۔ پانچ دس منٹ کے بعد جہاز کے کپتان نے مسافروں کو مطلع کیا کہ لاہور ائیرپورٹ نے اس جہاز کے لئے لینڈنگ اور پارکنگ کی جگہ میسر نہ ہونے کی خبر دی ہے جس کے باعث اب یہ جہاز سیالکوٹ کی جانب موڑا جارہاہے۔صبح کی سپیدی نمودارہوچکی تھی اور جب جہاز لینڈکررہاتھا تو سیالکوٹ ائیرپورٹ کے اردگرد کے کھیتوںکے مناظردھندلے دھندلے سے دکھائی پڑرہے تھے کہ ایک ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ جہاز کے پہیوں نے بالاخرپاکستانی سرزمین کو چھو لیا ۔اب یہ جہاز جو امریکہ ،برطانیہ اور یورپ سے آنے والے مسافروں کےلئے پاکستان کی کنیکٹ فلائٹ تھی کو ایک طویل انتظار کرنا تھا جس میں نہ صرف جہاز کی ری فیولنگ ہونا تھی بلکہ اسے اسلام آباد ائیرپورٹ کی جانب سے موسم سازگار ہونے کی اطلاع کا بھی منتظررہنا تھا۔ چند مسافر جو زمین پر پہنچنے کے بعد بے صبری سے سگریٹ پینے کے خواہشمند تھے ،اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے کہ وہ اب مزید انتظار نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن جہاز کے عملے نے انہیں مطلع کیا کہ وہ نیچے نہیں اتر سکتے کیونکہ یہاں پر انہیں امیگریشن کی سہولت نہیں مل سکتی اور وہ کسی مسافر کے پاکستانی سرزمین پربھی کھسک لینے کا خطر ہ مول لینے کے لئے تیار نہ تھے۔

جہاز سیالکوٹ ایئرپورٹ پر کھڑا تھا جبکہ مسافر جہاز کی سیڑھی تک پہنچ گئے اور اپنے آپ کو بخیریت زمین پر موجود پانے کی خوشی میں بے مقصد سی باہمی گفتگو میں مصروف ہوگئے۔وقت گزرتا رہا ایک گھنٹہ ،دو گھنٹے اسی طرح چار گھنٹے گزر گئے مسافروں کی بے چینی اپنے عروج پر تھی اور انہیں کسی جانب سے اچھی خبر نہیں مل رہی تھی بالاخر جہاز کے کپتان نے طویل خاموشی کو توڑتے ہوئے مسافروں کو مخاطب ہونے کے اعزاز سے نوازا ۔ کپتان نے بتایا کہ انہیں لاہور یا اسلام آباد سے بدستور لینڈنگ کی اجازت نہیں مل رہی اور باوجود اس کے کہ موسم سازگار ہوچکا ہے انہیں اسلام آباد نہیں لے جایا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ کپتان نے یہ بھی بتایا کہ کیونکہ اس کے مروجہ فلائٹ آورز(جہاز اڑانے کےلئے مخصوص وقت) ختم ہورہے ہیں اور وہ اب سیالکوٹ سے جہاز کو لے کر روانہ ہورہاہے اور یہ فلائٹ واپس ابوظہبی ائیرپورٹ جائے گی جہاں سے اس جہاز کے مسافروں کو کسی اور فلائٹ کے ذریعے واپس اسلام آباد روانہ کردیا جائےگا۔اس اعلان نے جہاز میں موجود مسافروں کی قوت برداشت کو ختم کردیا اور بے ساختہ کئی مسافر اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔اب جہاز میں کسی سبزی منڈی کا سا سماں تھا اور بے شمار لوگ اپنی اپنی بولی بول رہے تھے ۔ جہاز میں گنتی کے دو چار بدیسی مسافر خاموشی سے اس سارے منظر کوتک رہے تھے کیونکہ وہ ان اردو اور گاڑھی پنجابی کی منہ سے بے ساختہ نکلنے والی گالیوں سے متعارف نہ تھے لیکن انہیں بہرحال یہ پتہ لگ گیا تھا کہ یہ سارے مسافر اس اعلان سے خوش نہیں ہیں۔

تھوڑی دیر کے بعد جہاز کے مسافر تین گروپس میں تقسیم ہوگئے ، سب سے بڑا گروپ کسی صور ت اس جہاز کو واپس ابوظہبی لیجانے کے حق میں نہ تھا دوسرا گروپ جو تعداد میں نہ ہونے کے برابر تھا جہاز کو کسی بھی سمت روانہ کرنے کے حق میں تھا جبکہ ایک بڑی تعداد ان دونوں گروپس کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی کہ ان کے درمیان کیا معاملہ ہوتا ہے۔ ان تینوں گروپس کے مسافر اپنے ماضی کے تجربات اور سنے سنائے واقعات سے اخذ کردہ نتائج کے تحت باہمی بحث میں مبتلا تھے۔ جن لوگوں کے پاس فرسٹ کلاس کے ٹکٹ تھے ان کے خیال کے مطابق طیارے کو واپس ابوظہبی لیجانے میں کوئی حرج نہ تھا ان کے ساتھ چند اکانومی کلاس کے مسافر بھی شریک تھے لیکن یہ گروپ کوئی زیادہ بڑا نہ تھا ، جبکہ اکانومی کلاس کے زیادہ تر مسافر کسی صورت اس جہاز کو پاکستان سے واپس امارات لیجانے کے حق میں نہ تھے۔ پہلے گروپ کے لوگوں کا لب ولہجہ نسبتا دھیما تھا جبکہ دوسرے گروپ کے لوگ بلند آہنگ تھے۔دراصل دونوں گروپس کی رائے کی بنیاد اس مفروضے پر تھی کہ اگر یہ طیارہ واپس ابوظہبی چلا گیا تو ان تمام مسافروں کی پاکستان کو دوبارہ روانگی فورا ممکن نہ ہوگی اوریہ تمام مسافر چھوٹے چھوٹے گروپس کی صورت میں مختلف فلائٹس میں ایڈ جسٹ کیے جائیں گے اور اس سارے عمل میں تین چار دن بھی لگ سکتے ہیں۔ اب ایک گروپ کے خیال میں ائیر لائین کے خرچے پر امارات میں ایک دو دن گزارنے میں کوئی حرج نہیں تھا بلکہ وہ اس ممکنہ اضافی تفریحی دورے کے لئے دل ہی دل میں مختلف پروگرام اور مقامات سوچ رہے تھے جبکہ دوسرے گروپ کے لوگوں کو مزید دو تین دن سفر میں گزارنے کے تصور سے بھی ہول اٹھ رہے تھے کہ یہاں سے ائیر لائن واپس لیجاکر واجبی سے ہوٹلز کے ایک ایک کمرے میں تین تین ،چار چار مسافروں کو ٹھونس دے گی اور کھانے کے لئے دئیے گئے واوچرز پر سوائے دھکوں کے کچھ نہیں ملے گا۔جہاز میں موجود اکثریت تیسرے گروپ کے ایسے لوگ تھے جو ایسی کسی صورتحال سے پہلے کبھی دوچار نہیں ہوئے تھے اسی لئے انہیں کسی ممکنہ تفریح یا خواری کے تصورات تنگ نہیں کررہے تھے لہٰذاوہ خاموشی سے اس ساری بحث کو دیکھ رہے تھے جو کاک پٹ سے ملحق خالی جگہ،جہاز سے منسلک سیڑھی کی سب سے پہلی پائیدان اور فرسٹ کلاس کی راہدایوں میں جاری تھی۔جہاز کا کپتان واپس جانے کامتمنی تھا جبکہ وہ مسافر جو اس کے حق میں نہیں تھے انہوں نے ری فیولنگ کے دوران کھل جانے والے جہاز کے دروازے اور سیڑھیوں پر قبضہ کرکے دروازہ بند کرنے اور جہاز کے پرواز کرنے کے تمام امکانات کو ختم کر دیاتھا۔

سیالکوٹ ائیرپورٹ گراونڈ سٹاف کے لوگ جو پہلے اس جہاز کے دروازے بند ہونے اور روانگی کے منتظر تھے اب بے چینی سے اس بڑھتی ہوئی بحث کے ختم ہونے کے خواہشمند تھے جو شیطان کی آنت کی طرح لمبی ہوتی چلی جارہی تھی۔ بحث کرنےو الوں کے لہجے بلند ہوتے جارہے تھے جبکہ جہاز کے عملے کے لہجے میں تلخی آتی جارہی تھی جو اس بات کی واضح نشانی تھی کہ اب فریقین دلائل سے ہٹ کر دستی معاملت کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ اس سارے قضیے سے قطع نظر جہاز رکنے کے فورا بعد سگریٹ نہ پی سکنے کی کوفت نے اس سارے جھمیلے کو میرے لئے غیردلچسپ بنا دیا تھا گو کہ نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیر پورٹ سے روانگی کو تو محض چھبیس گھنٹے ہی ہوئے تھے لیکن اس سے پہلے بالٹی مور سے نیویارک ،کیٹنزویل سے ڈاون ٹاون اور بستر سے واش روم تک کے وقت کو شمار کیا جائے تو یہ سفر اکتالیس گھنٹے کھا چکاتھا اور ابھی معلوم نہیں تھا کہ یہ سفر پندرہ بیس منٹ کی مسافت پر موجود اسلام آباد ائرپورٹ پر ختم ہوگا یا ہمیں ایک مرتبہ پھر ابوظہبی ائیرپورٹ سکیورٹی کے سوئی کے ناکے سے گزرنا ہوگا ۔ ابوظہبی کا سوچ کر میرے لبوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ آگئی کہ امریکہ سے پاکستان واپسی کے سفرکے دوران پاکستانیوں کو بھول بھلیاں جیسے راستوں سے گزارنے کے علاوہ سخت سکیورٹی مراحل سے گزارا گیا تھا۔ویسے تو یہ سب ہمارا اپنا ہی کیا دھرا تھا کیونکہ گزرے برسوں میں پاکستانی شناختی کارڈاور پاسپورٹ کا حصول اتنا آسان رہا تھا کہ چند ٹکوں کے عوض کوئی بھی انہیں حاصل کرسکتا تھا سو بہت سارے لوگوں نے ایسا ہی کیا اور نجانے کتنے انڈین ایجنٹ اور افغان شہری پاکستانی دستاویز کے ساتھ دساور کا سفر کرنے کے دوران سبز پاسپورٹ کی ایسی کی تیسی کرتے رہے۔اب بالاخر وہ وقت آگیا تھا کہ چند لوگوں کی جیب بھرنے کی قیمت سب نے بلا استثنااداکرنی تھی اور سب کررہے ہیں۔مسافروں کی چیخ و پکار اور میری جانب سے چند ٹی وی چینلز کے اہم نمائندوں عامر الیاس رانا ،اعزاز سید، اعجاز احمد اور ہمایوں سلیم کو اس تمام صورتحال سے آگاہی کے بعد ٹی وی چینلز پر ٹکرز چلنے کے باعث معاملہ سنجیدہ ہوگیا تھا اور ائیر پورٹ منیجر سمیت سول ایوی ایشن اور ائیر پورٹ سکیورٹی سٹاف کے اعلیٰ حکام سیالکوٹ ائیرپورٹ پر موجود اس جہاز تک آگئے تھے اور گفت وشنید کے بعد بالاخر یہ طے پایا کہ یہ فلائٹ اب واپس اسلام آباد ہی جائے گی۔دن دس بجے کے بعد خدا خدا کرکے ٹیک آف ہوا اور بیس منٹ کے بعدہم اسلام آباد کے بے نظیرشہید انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اتر رہے تھے۔

تقریبا چار ماہ بعد میں گھر واپس آیا تھا اور اپنے ستائیس سالہ صحافتی کیرئیر میں پہلی مرتبہ اتنا طویل عرصہ وطن سے باہر رہنے کا اتفاق ہوا تھا کہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لئے وفود اور کوریج کے معاملات تو تین چار روز سے زیادہ کے نہیں ہوتے۔ایک عامل صحافی کے طور پر جب میں کہتا ہوں کہ صحافت روزگار کے لئے مناسب شعبہ نہیں تو سننے والے حیرت سے میری شکل دیکھنے لگتے ہیں کہ کوئی صحافی خود سے یہ کیسے کہہ سکتا ہے اور پھر موجودہ دور میں جب کہ حالات کاراور معاوضوں کی صورتحال ماضی کی نسبت بہت بہتر ہے یہ تبصرہ کچھ زیادہ مناسب معلوم نہیں ہوتا مگر حقیقت یہی ہے کہ

ہاں وہ نہیں خدا پرست جاﺅ وہ بیوفا سہی

جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں

فی زمانہ پاکستان کے معروضی حالات میں میڈیا کی طاقت نئی زمینی حقیقت ہے اور میری رائے میں پاکستان میں راتوں رات امیر ہونے اور پھر امیر رہنے کے لئے جتنے بھی راستے ہیںان کو بروئے کار لانے کے لئے اپنا میڈیا ہاوس ہونا شرط اولین ہے۔ جس جس کو سمجھ آتی جارہی ہے وہ اپنا میڈیا ہاوس کھڑا کرتا جارہاہے۔ نئے میڈیا ہاوسز کا قیام اصل صحافی کو اتنا فائدہ نہیں دیتا جتنا صحافی نما کو دیتا ہے۔صحافی نما کیا ہے ؟یہ بھی بتاتا ہوں تفصیل لمبی ہے مختصرا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی خبراور اپنی تنخواہ کاپیچھا نہیں کیا ۔چند مستثنیات کو چھوڑ کر اب صحافی بننے کے لئے کسی تیشے سے جوئے شیر لانے کی ضرورت نہیں رہی۔خوش شکلی ، چرب زبانی اور تگڑی سفارش وہ میرٹ ہے جس کی بنیاد پر نودولتئے میڈیا مالکان اینکر کی طرز پر نام نہاد بڑے صحافیوں کی وہ فوج جن رہے ہیں جو ان کی ٹی وی سکرین کاایک گھنٹہ روزانہ استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ سے حاصل شدہ معلومات کی علم و بصیرت سے خالی ٹوپی ناظرین کو پہناکر پوری نسل کو دولے شاہ کے چوہے بنانے میں مصروف ہیں۔ شاہ جی نے بہت دیر سے بتایا کہ صحافت کوئی مشن نہیں ہے اور نہ ہم کوئی سماج سدھار کے عمل سے وابستہ ہیں ۔یادش بخیر سرخیوں کے شہنشاہ عباس اطہر مرحوم جنہیں پیار سے سب شاہ جی کہا کرتے تھے جب اپنے کینسر کے ناکام علاج کے بعد بیرون ملک سے لوٹے تو ان کی ماضی کی بے پناہ محبت اور شفقت نے اسلام آباد سے کئی مرتبہ لاہور کے سفر پر مجبور کیا ،چند ملاقاتوں میں برادرم ساجد گل بھی ہمراہ تھے تو ایک دن اپنی کئی سال کی بے چینی دور کرنے کے لئے شاہ جی سے یہ سوال کیا کہ صحافت کے دشت کی تقریبا تمام عمر سیاحت کے بعد اب کے خیال میں صحافت کو مشن کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے یا کاروبار کے تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ کاکا یہ تو صرف ایک نوکری ہے نوکری،جس طر ح سیکرٹری اپنی نوکری کرتا ہے اور سیکشن آفیسر اپنی تو اس میں بھی فقط یہی رویہ درکار ہے کہ بطور رپورٹر یا سب ایڈیٹر اور نیوز ایدیٹر سب اپنا اپنا کام کریں باقی سب بکواس ہے۔میں حیران رہ گیا یہ وہ شخص تھا کہ جس کے سگریٹ پینے کے انداز کی نقل کرتے کرتے ہم یہاں پہنچے تھے اور جس کی سرخیاں مرنے کے بعد بھی بڑے بڑے سیاستدانوں کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھیں(ملاحظہ کیجیئے ادھر ہم ادھر تم)اور جس کے سفید چمکدار بالوں کو دیکھ کر ہم لوگ وائٹنر لگا کر اپنے بڑھاپے کو چشم تصور سے تصویر کرتے تھے بستر مرگ پر یہ بتارہا تھا لیکن کیا کیا جائے کہ اس وقت تک واپسی کی تمام راہیں مسدودہوچکی تھیں۔اگر آپ اس شعبہ سے وابستہ ہونے کے خواہشمند ہیں اور ظاہر ہے کہ اپنی صنف کے انتخاب کے معاملے میں بے بس ہیں تو دعا کیجیئے کہ آپ کا فلوک لگ جائے۔ اس کو آپ فلوک یا تکا لگ جانا بھی کہہ سکتے ہیں لیکن میری بات پنجابی کے ایک ہم معنی لفظ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ خیر اس موضوع پر تفصیلی بات چیت کسی اور موقع کے لئے اٹھا رکھتے ہیں ۔

امریکا کی اس طویل یاترا کے دوران وہاں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ ملاقاتوں نے مجھے اس روداد کو تحریر کرنے پر مجبور کیا ہے کیونکہ پاکستان کے دیگر ممالک میں روزگار کے لئے مقیم پاکستانیوں کے متعلق یہاں پاکستان میں جو کچھ سوچا اور کہا جاتا ہے اور امریکہ یا برطانیہ میں روزگار کے لئے جانے والے خواہشمندوں کے جذبات اور زمینی حقائق میں اتنا فرق ہے کہ خدا کی پناہ،یہاں پاکستان میں ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ بس پاکستان سے باہر نکلنے کی دیر ہے اور بس روپوں ،ڈالروں،یووروز اور پونڈوں کی بارش ہونے لگے گی۔یہی وہ غلط فہمی ہے جو آئے دن ایک ہی قسم کے المیے کو سرخی بدل بدل کر ہمارے سامنے لے آتی ہے۔غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے افراد کی کشتی الٹ جاتی ہے ،کینٹینر میں دم گھٹ کر بھوکے پیاسے مر جاتے ہیں یا کسی ملک کے سرحدی محافظوں کی اندھی گولیوں کا نشانہ بننے والوں سے متعلق خبریں آئے روز چھپتی ہیں لیکن جوان اور بےروزگار پاکستانیوں کی مجبوریاں انہیں مکان جائیداد ،زیورات خواہ وہ ماں بہن کے ہوں یا بیوی کے بیچ باچ کے کسی نہ کسی طور پاکستان سے فرار ہونے والے افراد پر مجوری اور بے بسی کی پٹی نہیں کھلتی۔

خان سے میری پہلی ملاقات لانگ آئی لینڈ میں اس گھر میں ہوئی جسے گزشتہ روز ہی میں نے شراکت داری میں کرایہ پر حاصل کیا تھا ،خان اس گھر میں پہلے سے موجود تھا۔گزشتہ سہ پہر ہی تو میں نے نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائرپورٹ پر لینڈکیا تھا،چار بجے کے لگ بھگ جب میں نے امریکا کی سرزمین پر قدم رکھا تو دھوپ کی شدت کم ہوچکی تھی اور روشنی کم ہوتی جارہی تھی،یہ امریکا کا موسم گرما تھا لیکن ہوا میں خنکی صاف محسوس ہورہی تھی۔یہ امریکا میں میری پہلی شام تھی اور مجھے ابھی تک یہ پتہ نہیں تھا کہ مجھے رات کہاں بسر کرنی ہے،ٹیلی فون پر میں نے اپنے سابق کولیگ اور دوست ناصر قیوم سے کہا تھا کہ میں وہاں کسی کے گھر نہیں ٹھہروں گا بلکہ میرے لئے کسی کرائے کے ٹھکانے کا بندوبست کررکھے تاکہ میں آزادانہ رہ سکوں اور میری وجہ سے نہ تو کسی کو زحمت اٹھانی پڑے اور نہ ہی کوئی زیر بار آئے۔اس انتظام کی وجہ یہ تھی کہ چند دن تک تو آپ مہمان کہیں بھی رہ سکتے ہیں لیکن مہینوں پر محیط مہمانداری یقینا قابل برداشت نہیں ہوتی ،یوں بھی اس دیار غیر میں محنت کی غرض سے مقیم پاکستانیوں کو اجرت گھنٹوں کے حساب سے ملتی ہے تو ان کا ہر منٹ واقعی قیمتی ہوتا ہے تو دوستوں کا دوہرا نقصان نہیں کرنا چاہیے۔رن وے سے ائر پورٹ کی عمارت میں داخل ہونے پر معلوم پڑا کہ ہمیں ڈومیسٹک ٹرمینل کے ذریعے شہر میں داخل ہونا تھا کیونکہ ہمارا امیگریشن ابوظہبی ائر پورٹ پر ہی ہوچکا تھا اور ہماری اور سامان کی جانچ وہیں کی جاچکی تھی۔امیگریشن سے مجھے یاد آیا کہ اس وقت تک امریکیوں سے متعلق میرا سارا علم ہالی ووڈ کی فلموں سے شروع ہوکر سفارتی تقاریب میں محدود ملاقاتوں پر ختم ہوجاتا تھالیکن نجانے کیوں کسی بھی قومیت سے متعلق فرد کی شخصیت کے بارے میں اپنے ابتدائی تاثر سے مجھے ہمیشہ سے درست اندازے لگانے کی خطرناک عادت ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ذاتی حیثیت میں ،اس سفر سے پانچ سال قبل جب میں نے پہلی مرتبہ امریکی سفارتخانے میں ویزا انٹرویو کے لئے علی الصبح قدم رکھا تھاتو انتظارگاہ میں بیٹھے بیٹھے میں نے یہ رائے قائم کرلی تھی کہ مختلف انٹرویو والی کھڑکیوں میں بیٹھے ہوئے ویزا افسران ہال میںموجود ویزے کے خواہشمندوں سے کیا سلوک کریںگے۔ کس کھڑکی میں بیٹھی خاتون سڑیل ہے اور کون تمیز سے بات تو کرے گا لیکن ویزہ کسی کو نہیں دے گا اور کون ہے جو نہ بات ڈھنگ سے کرے گا اور نہ ویزا دے گا ،صرف تین کھڑکیوں سے متعلق میری رائے ہی یہ تھی کہ اگر میرا ٹوکن نمبر ان کے پاس آیا تو ویزا مل جائے گا اور اسے قسمت کی یاوری کہیے کہ مجھے ان تینوں میں سے ہی ایک پر بلا لیا گیا اور پندرہ،بیس منٹ کے انٹرویوکے بعد میرا پا سپورٹ جمع کرلیا گیا،انتظارگاہ میں میرے ساتھ والی نشست پر موجود سیالکوٹ کے ایک بزنس مین نے تو باقاعدہ مجھے مبارک دی کہ اس صبح وہاں گزارے ڈیڑھ دو گھنٹوں میں وہ پہلا پاسپورٹ تھا جو جمع ہونے کی سعادت حاصل کرپایا تھا۔ ابوظہبی ائرپورٹ کے امریکن امیگریشن کاونٹر کی لائن میں کھڑے ہوکر مختلف کھڑکیوں پر بیٹھے مختلف رنگ ونسل اور صنف سے تعلق رکھنے والے امیگریشن افسران کو دیکھ کر ایک مرتبہ پھر رائے قائم کرنے کے شغف میں مصروف تھا چونکہ اس قدر طویل قطار میں اس کے علاوہ کرنے کو اور کچھ تھابھی نہیں۔قطار سست روی سے آگے بڑھ رہی تھی رات کا آخری پہر تھا اور مختلف رنگ ونسل کے لوگ اس قطار میں موجود تھے جہاں میرے پاکستانی بھائی اس مرحلے سے قبل ایک اضافی فارم بھرنے اور اضافی انتظار کے باعث بڑبڑا رہے تھے ۔ خدا خدا کرکے اس قطار میں سب سے پہلی جگہ ملی کہ اب کسی بھی وقت کسی بھی کھڑکی کی پیشانی پر میرا ٹوکن نمبر روشن ہوسکتا تھا۔میں نے گہرا سانس لے کر آخری مرتبہ تمام کھڑکیوں کا جائزہ لینا شروع کیا ، میں دیکھ ہی رہا تھا کہ کھڑکیوں کے برابر میں موجود دروازہ ایک بزر کی آواز کے ساتھ کھلا اورایک باوردی اہلکار باہر نکل کر سیدھا میری طرف بڑھا،مجھ پر نظریں جمائے وہ بڑھتا چلا آیا اور اس کے ہر قدم کے ساتھ میرے دل کی دھڑکن بھی بڑھتی جارہی تھی۔

                ایسی کسی صورتحال سے میرا کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا کہ ماضی میں کئی ساتھی سفر میں ہمراہ ہوتے اور وفد کے پروٹوکول اہلکار بھی ،بالاخر وہ لمحہ آگیا جب وہ میرے بالکل روبرو تھا میں نے اس کا بغور جائزہ لیا ۔وہ درمیانے قد کا منڈے سر والا ایک افسر تھا جس کی شخصیت سے خوشگواری چھلک رہی تھی،چہرے مہرے سے ہسپانوی لگ رہاتھا بالکل سامنے آکر اس نے پوچھا ”کین یو سپیک اردو“۔ طمانیت کی لہر میں ڈوبے ہوئے لہجے میں ہامی بھری تو اس نے مجھے ایک امیگریشن کے کاونٹر پر مترجم کے ”مفت “ فرائض انجام دینے کی درخواست کی۔ متعلقہ کھڑکی پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ ساہیوال سے تعلق رکھنے والا ایک معمر پنجابی جوڑا ” گلابی اردو/ انگلش “ میں اپنا مافی الضمیربیان کرنے کی کوشش کررہا تھا بلکہ بڑی بی خاموش تھیں اور انکے پنجاب پولیس سے ریٹائرڈ شوہر بات کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔ اصل میں ان کے پاس گرین کارڈ تھا اور وہ اپنے بچوں سے ملنے کےلئے امریکا جارہے تھے معاملہ یہ تھا کہ ان کے پاسپورٹ پر ان کے صرف نام درج تھے جبکہ گرین کارڈ پر ان کے نام سے پہلے چوہدری بھی لکھا ہوا تھا جس کی وجہ سے امیگریشن افسر کو الجھن ہورہی تھی کہ نام ایک ہے یا نہیں اور یہ ”چوہدری“ کیا ہے یا کون ہے۔جو افسرمجھے وہاں تک لائے تھے وہ غالبا سپروائزر تھے،اس نے کہا کہ آپ یہاں مدد کریں اس کے بعد آپ کی امیگریشن بھی یہی افسر کردیں گے۔دس پندرہ منٹ کی گفتگو کے بعد بھی متعلقہ افسر مطمئن نظر نہیں آیا اور محسوس ہوا کہ وہ اس جوڑے کو امریکا جانے کی اجازت نہیں دینا چاہتا تھا صاف طور پر وہ ”چوہدری“ کے رعب میں آنے کو تیار نہیں تھا کیونکہ یہاں چوہدری وہ خود تھا،لیکن کسی ضابطے کے باعث صاف جواب بھی نہیں دے سکتا تھا ۔ ان کے سامان میں کچھ زیورات تھے جسے چوہدری صاحب گولڈ بتا رہے تھے جس پر ایک مرتبہ پھر امیگریشن افسر نے چونک کر ان کی جانب دیکھا، جس پر میں نے وضاحت کی کہ یہ زیورات ہیں جو ہماری خواتین پہنا کرتیں ہیں اور یہ کوئی باقاعدہ سونا لے کر نہیں جارہے ،جب بات نے طول پکڑا تو سپروائزر ایک مرتبہ پھر وہاں آموجود ہوا جسے پوری تفصیل سے چوہدری اور سونے کے زیورات کا معاملہ سمجھایا اس دوران امیگریشن افسر نے ایک اور اعتراض بھی سامنے رکھا کہ ان کے سامان میں چالیس سگریٹ کے پیکٹ بھی موجود ہیں ۔سپروائزر نے پوری بات سننے کے بعد فیصلہ سنایا کہ اس جوڑے کو گرین کارڈ پر درج نام کے مطابق انٹری دے دی جائے اور سگریٹ کے پیکٹ دونوں میاں بیوی کے سامان پر تقسیم کیے جائیں کیونکہ قانونی طور پر ایک مسافر صرف بیس پیکٹ ہی اپنے سامان میں لیجا سکتا ہے،ساتھ ہی ساتھ اس نے مجھے کہا کہ ان دونوں کو بتا دیں کہ یہ اپنے کاغذات میں درستی لائیں یا تو دونوں میں چوہدری لکھوائیں یا بالکل چوہدری بننے سے تائب ہوجائیں مزید یہ کہ ان کاامریکا میں قیام سال میں بہت کم مدت کے لئے ہوتا ہے جبکہ گرین کارڈ کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے وقت کا زیادہ حصہ امریکا میں گزاریں اگر یہ اپنے قیام کو امریکا میں نہیں بڑھاتے تو ان کا گرین کارڈ ختم کردیا جائےگا کیونکہ اگر یہ صرف اپنے بچوں سے ملاقات کے لئے آنا چاہتے ہیں تو انہیں دوسرا ویزا آسانی سے دیا جاسکتا ہے۔سپروائزر کی رائے نے بالاخر اس جوڑے کی مشکل آسان کی اور اس کے بعد میری باری بھی آگئی۔امیگریشن افسرکو معمر جوڑے کی مدد میں میرے اضافی جملے شاید پسند نہیں آئے تھے ،تیکھے اور تابڑتوڑ سوالات کے بعد اس نے اپنے کمپیوٹر کے مانیٹر کا رخ میری جانب موڑتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ سامان آپکا ہے؟ نظریں اٹھاکر دیکھا تو جہاز کے اندرکارگو کے حصے میں موجوداپنا سامان پہچان لیا۔ جس کے بعد مجھے انتظار کرنے کے لئے کہا گیا اگلی منزل پھر وہی انتظار گاہ تھی جہاں سے اٹھ کر وہاں پہنچا تھا۔ بھانت بھانت کے لوگ وہاں آتے اور امیگریشن کے مراحل طے کرکے جارہے تھے ، اس دوران ایک صاحب اپنی بیوی کو وہیل چیئرپر لے کر آئے یہ نوجوان پاکستانی جوڑا تھا جن کے ساتھ ایک شیر خوار بچہ بھی تھا جسے ایک تابع مہمل قسم کا خالص پاکستانی شوہر سنبھال رہا تھا اب بچہ سنبھالنے کے ساتھ ساتھ بیوی کی وہیل چیئر بھی دھکیل رہا تھا ۔یہ نوجوان جوڑا ترجیحی بنیادوں پر امیگریشن کاونٹر پر پہنچایا گیا اور بڑی آسانی سے گذر بھی گیا، جوانی میں اس بچی کو وہیل چیئر پر دیکھ کر میرے دل میں رحم اور ترس کا ایک بحربیکراں رواں ہو گیا تھا۔اسی طرح ایک نوجوان نے اپنے معمر والدکے ساتھ بھی وہیل چیئر کے ساتھ امیگریشن کے مراحل طے کیے۔ دو گھنٹے گذر چکے تھے میری فلائٹ میں اب صرف آدھ گھنٹہ رہ گیا تھا ،اٹھ کر ادھر ادھر نظریں دوڑائیں اور امیگریشن کے افسران کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا مگر بے سود ، اتنے میں اس عملے کا وہی سر منڈا سپروائزر وہاںنظر آیا لپک کر اس کے پاس پہنچا اور بڑے گلوگیر لہجے میں فلائٹ مس ہونے کے اندیشے کا ذکر کیا ، اس نے تسلی دی اور مجھے انتظار کرنے کا کہا ،کچھ منٹوں کے بعد وہ واپس آیا اور بتایا کہ آپ کا نام کسی اور نام کے ساتھ مل رہا کلیرنس کے لئے ارجنٹ ای میل دوبارہ کردی ہے بس جواب آتا ہی ہو گا۔وہ وقت جو پہلے کاٹے نہیں کٹ رہا تھا اب گویا پر لگاکر اڑ رہا تھا ، ہر دو چار منٹ کے بعد امید بھری نظروں سے کاونٹرز کی جانب دیکھتا اور پھر کسی کی آنکھ میں مروت نہ پاکر سر جھکا لیتا ۔ فلائٹ کے وقت سے پانچ منٹ پہلے ایک مرتبہ پھر دیکھا تقریبا تمام کاونٹر بند ہوچکے تھے ایک افسر جو جہاز کو جانے والی راہداری کے سامنے کھڑا تھا کے پاس جاکر اپنا رونا رویا، اس نے زبردست طریقے سے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بات نہیں اگر یہ فلائٹ مس ہوگئی تو یہاں سے اور بہت سی فلائٹس جاتی ہیں کسی اور سے چلے جانا۔بوجھل قدموں سے واپس آکر بیٹھ گیا کہ فلائٹ کا وقت نکل چکا تھا ، مختلف قسم کے خیالات دماغ میں آرہے تھے مثلاً یہ کہ گھر والے سمجھ رہے ہوں گے کہ امریکا کی فلائٹ میں ہوں ، ناصر قیوم اور ندیم ہوتیانہ مقررہ وقت پر ائر پورٹ سے لینے کی تیاری کرچکے ہوں گے اوریہاں ابوظہبی ائرپورٹ پر بیٹھے پانچ گھنٹے بیت گئے تھے کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ اب کیا ہوگا،بورڈنگ کارڈ کے مطابق جہاز کو روانہ ہوئے ایک گھنٹہ ہوگیا تھا۔

دس منٹ اسی ادھیڑبن میں رہا کہ پہلے کہاں فون کروں،ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ جہاز کے راستے میں کھڑے امیگریشن افسر نے خالصتا امریکی انداز میں پکارا © ©ہے ” مسٹر اینوار پلیز کم “ بے دلی کے ساتھ اس کے پاس پہنچا ،اس نے پاسپورٹ طلب کیا اور وہیں کھڑے کھڑے انٹری سٹیمپ لگا تے ہوئے کہا ویل کم ٹو یو نائٹیڈ سٹیٹس، میں نے کہا کہ شکریہ جناب لیکن میری فلائٹ تو چلی گئی۔ جس پر مسکراتی آنکھوں کے ساتھ اس نے بتایا کہ فلائٹ ابھی نہیں گئی اور مجھے جلدی کرنی چاہیے یہ سن کر بھاگم بھاگ جہاز کی طرف روانہ ہوا © ،دروازے پر موجود سٹاف نے نہایت سرد مہری سے استقبال کیا جونہی میں جہاز میں داخل ہوا پہلے سے موجود ہر مسافر نے مجھے کھاجانے والی نظروں سے دیکھا ،جس کا نتیجہ یہ اخذ کیا کہ یہ فلائٹ میری وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی ہے کیونکہ ائیر لائن مجھے بورڈنگ کارڈ جاری کرچکی تھی ۔اپنی نشست کی تلاش میںمستنصر حسین تارڑ کے سفر نامے اور نثار ناسک کا واقعہ بھی یاد آیا کہ نثار ناسک نے تارڑ صاحب کے سفر نامے پڑھ کر یہ فرض کرلیا تھا کہ جس ملک کی سیر پر وہ جارہے ہیں وہاں کی خواتین آنکھیں راہ میں بچھائے منتظر ہوں گی ،توقعات اتنی بلند تو نہ تھیں مگر پھر بھی دل کے کسی گوشے میں یہ خیال ضرور چٹکیاں لے رہا تھا کہ کاش ساتھ والی نشست پر پہلے ہی کوئی ماہ جبیںبراجمان ہو اور جس کی بدولت پندرہ گھنٹے سے زائد کا یہ سفر خوشگوار گزر جائے ۔تاہم اکانومی کلاس میں جوں جوں آگے بڑھ رہا تھا توں توں میری امیدیں دم توڑتی جارہی تھیں کہ حالات خراب سے مخدوش ہوتے جارہے تھے ،پھر وہی ہوا کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی کہ جس سیٹ نمبر کا بورڈنگ پاس لہراتے ہوئے پیسیج سیٹ پر پہنچا وہاں ایک انتہائی ” چٹا سیاہ “موٹا تازہ افریقی ساتھ والی نشست پر براجمان تھا ۔سلمی آغا نے بہت پہلے گارکھا ہے

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفر نامہ بھارت۔۔۔حسن عباسی

سفر نامہ بھارت حسن عباسی             آپ آئے بہار آئی امرتسر پہنچے تو امرتسر کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے