سر ورق / کہانی / سو تولے سونا ۔۔۔ سید بدر سعید

سو تولے سونا ۔۔۔ سید بدر سعید

سو تولے سونا

سید بدر سعید

 

اگر آپ اخبارات کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ہمارے یہاں زیادہ تر انہی وارداتوں کی خبریں شائع ہوتی ہیں جن کا تعلق عوام سے ہو ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خواص یا ایلیٹ کلاس جرم ہی نہیں کرتی۔ سچ پوچھیں تو ہمارے یہاں شہر کے پوش علاقوں میں رہنے والے اور بڑے بڑے فارم ہاﺅسز کے مالکان کی اکثریت جرائم پیشہ ہی ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے اپنے جرائم پردولت کا پردہ تان رکھا ہے۔ میں لاہور کے ہی ایک ایسے حاجی صاحب کو بھی جانتا ہوں جو ہر سال حج اور عمرے کرتے ہیں ۔ وہ نہ صرف خود حج کرتے ہیں بلکہ علاقے کی درجنوں غریب خواتین کو بھی عمرے کے لئے ساتھ لے جاتے ہیں ۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ ہر سال چند ماہ ایسے بھی آتے ہیں جب تقریبا خالی جہاز سعودی عرب جا رہے ہوتے ہیں مثال کے طور پر حج کے فورا بعد پاکستان سے سعودی عرب جانے والے بیشتر جہاز تقریبا خالی ہی ہوتے ہیں لیکن واپسی پرحاجیوں سے بھرے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح محرم اور دیگر چند ہفتے بھی ایسے ہی ہیں جب پاکستان سے سعودی عرب جانے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ان دنوں عمرے کے اخراجات بہت کم ہوتے ہیں ۔ یہ وہی دن ہیں جب حاجی صاحب درجنوں خواتین کو ” فی سبیل اللہ “ عمرے کرواتے ہیں ۔ یہ خواتین پاکستان سے جاتے وقت خالی ہاتھ ہوتی ہیں لیکن واپسی پر زیورات سے لدی پھندی ہوتی ہیں۔ پاکستان پہنچنے پر حاجی صاحب یہ زیورات اتروا لیتے ہیں ۔ یہی حاجی صاحب کا اصل کاروبار ہے ۔ وہ زیورات کی سمگلنگ کرتے ہیں ۔ چونکہ ایک خاص مقدار میں پہنے ہوئے زیورات پر پوچھ گچھ نہیں ہوتی لہذا حاجی صاحب آج بھی حاجی صاحب ہی ہیں ، علاقہ بھر میں نیک نامی اس کے علاوہ ہے۔ صحافت کی بدولت ایسی درجنوں مثالیں میرے پاس موجود ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے جرائم دولت کے پردے میں چھپا لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر اس امیر طبقے کا کوئی جرم منظر عام پر آ جائے تو لوگ دنگ رہ جاتے ہیں ۔ عموما ایسے جرائم کو ”ہاٹ سٹوری“ کے طور پر چھاپا جاتا ہے

اسلام آباد میں سنگاپور کی مس ورلڈ کا قتل اتنی معمولی بات نہیں تھی کہ اسے نظر انداز کر دیا جاتا۔ اطلاع صرف اتنی سی تھی کہ سنگا پور کی مس ورلڈ پاکستان آ کر قتل ہو گئی ہے ۔ اس کے پیچھے چھپی داستان نے مجھ سمیت کئی صحافیوں کو چونکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ میں اس داستان میں بھی فرضی نام ہی لکھوں گا لیکن اگر آپ اخبارات کا ریکارڈ دیکھیں تو آپ کو نہ صرف اس لڑکی کے قتل کی اصل خبر مل جائے گی بلکہ ایک دو اخبارات میں اس کی تصاویر بھی نظر آ جائیں گی ۔ فہمینہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر پاکستان آئی تھی ۔ اس کے ہزاروں چاہنے والے ہوں گے ۔ وہ مقابلہ حسن جیت چکی تھی ۔ اسے دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ دو بچوں کی ماں ہے ۔

فہمینہ کی موت کا سفر اس وقت شروع ہوا جب وہ اپنے ملک میں تعینات پاکستانی آفیسر سے ملی ۔ یہ ملاقات ایک اعلی سطح کی تقریب میں ہوئی تھی ۔ اس تقریب میں فہمینہ بھی بجلیاں گرا رہی تھی اور پاکستانی آفیسر بھی اپنی افسری کا اظہار کر رہا تھا ۔ تقریب میں ہونے والی جان پہچان تیزی سے دوستی میں ڈھل گئی ۔ دوستی بڑھی تو گھر آنا جانا بھی شروع ہو گیا ۔ ایک دوسرے کے گھر تک بات پہنچی تو فہمینہ کی ملاقات اس پاکستانی آفیسر کے بیٹے وقار خان سے بھی ہوئی ۔ جلد ہی فہمینہ اور وقار میں محبت کا رشتہ استوار ہو گیا ۔ کم از کم فہمینہ اسے محبت ہی سمجھی تھی ۔وہ شادی شدہ تھی اور دو بچوں کی ماں تھی لیکن سر چڑھ کر بولنے والی محبت اسے کسی اور ڈگر پر لے گئی۔

وقار خان پاکستان آیا تو کچھ ہی عرصہ بعد فہمینہ بھی اس کے پیچھے پیچھے پاکستان چلی آئی ۔اس کے پاس 100 تولے سونا تھا جو وہ وقار خان کو دے چکی تھی ۔ اس کا محبوب اس سے وعدہ کر چکا تھا کہ وہ سو تولے سونے کے بدلے اسے اسلام آباد میں اچھا سا پلاٹ خرید دے گا جس پر وہ اپنی مرضی سے گھر بنوا سکے گی ۔ بدقسمتی سے وقار خان نے اپنے وعدے پر عمل نہ کیا اور آہستہ آہستہ فہمینہ سے جان چھڑانے لگا ۔شاید دولت کا لالچ محبت پر غالب آ چکا تھا ۔ اس بات پر دونوں پریمیوں میں جھگڑا بھی ہوا ۔ اس وقت تک ان کے عشق کی یہ داستان کسی پر نہ کھلی تھی اور بظاہر وہ دوست ہی تھے ۔ ہماری اعلی سوسائٹی میں ایسی دوستیوں کو ناپسند نہیںکیا جاتا بلکہ الٹا انہیں باعث فخر سمجھا جاتا ہے۔ ان کی محبت کی داستان تب سامنے آئی جب فہمینہ اسلام آباد پہنچی اور رات کے وقت ہوٹل والوں نے اسے کمرہ دینے سے انکار کر دیا ۔ اس نے وقار کو فون کیا اور ساری صورت حال بتائی ۔ وقار نے ہوٹل فون کر کے اپنا تعارف کروایا اور یہ بھی کہا کہ فہمینہ اس کی بیوی ہے جس پر ہوٹل والوں نے کمرہ دے دیا ۔

فہمینہ فیصلہ کر کے آئی تھی کہ وہ وقار خان سے کھل کر بات کرے گی ۔اس نے اپنے محبوب کو ہوٹل بلا لیا ۔ ہوٹل ریکارڈ کے مطابق وقار رات12 بجے فہمینہ کے کمرے میں گیا تھا ۔ اس رات فہمینہ نے وقار کو بتا دیا کہ وہ مزید اس پر بھروسہ نہیں کر سکتی اس لئے اسے اس کا سونا اور رقم واپس کر دی جائے ۔ وہ واپس سنگا پور اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی تھی ۔ محبت کابھوت اتر چکا تھا ۔ اب اسے اپنے شوہر اور بچوں کی یاد ستا رہی تھی ۔ محبوب کا لالچ اور بے رخی اس پر عیاں ہو چکی تھی ۔

َاس رات وقار نے ایک بار پھر اسے اپنی چکنی چپڑی باتوں میں الجھا لیا اور اسے اس کی رقم واپس دلوانے کے لئے ساتھ چلنے پر راضی کر لیا۔ فہمینہ کی والدہ کے مطابق ان کی بیٹی نے انہیں فون کر کے بتایا تھا کہ وہ کسی مشروب ساز ادارے کے ڈائریکٹر سے میٹنگ کرنے جا رہی ہے ۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان میں آدھی رات کو ایسے کسی ادارے کا ڈائریکٹر اپنے دفتر میں نہیں بیٹھتا۔ وہ وقار خان کے ساتھ اس کی اسی گاڑی میں بیٹھ گئی جو اس کی لاعلمی میں اسی کے پیسوں سے خریدی گئی تھی ۔ اس رات وقار خان کے ساتھ اس کا دوست بھی تھا ۔ وہ فہمینہ کو لے کر اسلام آباد کے مضافات میں ایک جنگل میں لے گئے اور اسے قتل کر دیا ۔ گاڑی میں پہلے سے ایک رضائی موجود تھی ۔ انہوں نے اسی رضائی میں اس کی لاش لپیٹی اور اسے پہاڑی جنگل میں لڑھکا دیا ۔ سنگاپور کی مس ورلڈ آدھی رات کو پاکستان کے ایک جنگل میں قتل ہو چکی تھی۔

بظاہر قتل کی یہ داستان مکمل ہو گئی لیکن ملزم ابھی آزاد تھے ۔ اتفاق سے فہمینہ اس قدر بددل ہو چکی تھی کہ اس نے سنگا پور واپسی کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا ۔ وہ اپنے بچوں اور شوہر کے پاس جاکر وقار خان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بھول جانا چاہتی تھی ۔ اس مقصد کے لئے اس نے سنگا پور کی ٹکٹ بھی خرید لی تھی ۔ اب وہ آخری بار وقار خان سے مل کر اپنی رقم اور سونا واپس لینا چاہتی تھی ۔ جب وہ مقررہ تاریخ کو سنگا پور نہ پہنچی تو اس کی والدہ نے ایئر لائن کے دفتر فون کیا ۔ تب انہیں معلوم ہوا کہ فہمینہ کے نام سے ٹکٹ تو لی گئی تھی لیکن وہ جہاز پر سوار نہیں ہوئی تھی ۔ اس سے کسی بھی طرح رابطہ بھی نہیں ہو پا رہا تھا لہذا اس کی ماں اپنی بیٹی کی تلاش میں پاکستان آ گئی ۔ انہوں نے اس ہوٹل سے بھی معلومات حاصل کیں جہاں فہمینہ ٹھہری تھی ۔اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے تھانے میں فہمینہ کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کروا دی گئی ۔

فہمینہ کی والدہ کے پاکستان آنے کے بعد وقار خان کی بربادی کی کہانی بھی شروع ہو گئی ۔ اس نے جس آسانی سے فہمینہ کے سو تولے سونے پر قبضہ کر لیا تھا اس سے اس کی دولت کی ہوس مزید بڑھ گئی تھی ۔ اس نے فہمینہ کی والدہ کو اغوا کار بن کر فون کیا اور بتایا کہ ان کی بیٹی اس کے قبضہ میں ہے ۔ اگر وہ اپنی بیٹی کی سلامتی چاہتی ہیں تو دو کروڑ کا بندوبست کریں ۔ فہمینہ کی والدہ کے ذہن میں پولیس کا وہی خاکہ تھا جو سنگاپور کی پولیس کا تھا ۔ لہذا انہوں نے فورا پولیس کو وقار خان کے فون کا بتا دیا ۔ یہ معاملہ چونکہ پہلے ہی کافی حساس نوعیت کا تھا اور خطرہ تھا کہ کہیں سنگاپور کی حکومت بھی اس میں دلچسپی نہ لینے لگ جائے ۔ اس لئے ملکی وقار کے تحفظ کے لئے پولیس افسران اس کیس کو براہ راست دیکھ رہے تھے ۔ انہوں نے اس نمبر کا ڈیٹا نکلوایا جس نمبر سے وقار خان نے فہمینہ کی والدہ کو فون کیا تھا ۔ وہ نمبر وقار خان کے کزن کا تھا ۔ پولیس نے کڑی سے کڑی ملانی شروع کی اور بالآخر اس قتل کے ڈانڈے وقار خان سے جا ملے۔ اسکے موبائل کی لوکیشن چیک کی تو پہلے اسلام آباد اور پھر فیصل آباد کی لوکیشن آئی ۔ وہ مسلسل سفر کر رہا تھا تاکہ گرفتاری سے بچ سکے ۔

پولیس کو ایک کلیو ملا کہ وقار خان کی والدہ کچھ عرصہ قبل بیمار ہوئیں تھیں اور انہیں ایک ہسپتال داخل کروایا گیا تھا ۔ پولیس نے اس ہسپتال کے ریکارڈ سے اس کے گھر کا ایڈریس معلوم کیا لیکن وہاں جا کر معلوم ہوا کہ وہ اس گھر میں کرایہ پر رہ رہا تھا اور اب یہ گھر بھی چھوڑ چکا ہے ۔ بہرحال پولیس نے اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کی مدد سے وقار خان کو گرفتار کر لیا ۔ اس سے تھوڑا سا زیور بھی برآمد ہوا جبکہ باقی زیور کے بارے میں اس نے بتایا کہ وہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے جیولرز کو سستے داموں بیچ چکا تھا۔ اس رقم سے اس نے ہنڈا گاڑی خریدی اور باقی رقم عیاشی میں اڑا دی ۔

سنگاپور کی مس ورلڈ جس عشق کی خاطر پاکستان آئی اس عشق نے اسے دوبارہ اپنے ملک میں جانے سے قبل ہی موت کے منہ میں دھکیل دیا ۔ اسلام آباد کے قریب موجود مارگلہ کی جنگل نما پہاڑیوں سے اس کی لاش کبھی نہ مل سکی اور 100 تولے سونا بھی اس کے جسم کی طرح جڑواں شہر کی صرافہ مارکیٹ میں بکھر گیا ۔ نہ تو مس ورلڈ کو اپنا محبوب مل سکا اور نہ ہی وقار خان کو محبت کے بدلے حاصل کیا گیا وہ سونا ہضم ہو سکا ۔ عشق کی اس داستان کا ایک کردار پردیس میں محبوب کے ہاتھوں قتل ہوا جبکہ دوسرا کردار اب جیل میں سڑ رہا ہے ۔ دونوں کے ہی خوابوں کو کبھی تعبیر نہ مل سکی ۔

مخبر

محکمہ پولیس سے وابستہ افراد بخوبی جانتے ہیں کہ مجرموں کو پکڑنے کے لئے ”مخبر“ کتنا اہم کردار ادا کرتاہے۔ مخبروں کی کئی اقسام ہیں اور ان کے نزدیک مخبری کی وجوہات بھی مختلف ہوتی ہیں ۔پولیس سے تعلقات، پرانے بدلے ، پیسوں کا لالچ اور ایسی ہی دیگر کئی وجوہات کی بنا پر یہ لوگ مخبری کرتے ہیں ۔ میں نے بہت کم مخبر ایسے دیکھے ہیں جو کسی لالچ اور مفاد کے بغیر مخبری کریں ۔ عام تھانوں میں تو مخبر کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی اس کی وجہ یہ ہے کہ مخبری کے نظام پر انگریز حکومت زیادہ زور دیتی تھی ۔ہمارے یہاں روایتی تھانیدار کو عموماً مجرم پکڑنے یا جرائم کو بے نقاب کرنے کا یا تو شوق ہی نہیں ہوتا یا پھر اس کا تبادلہ ہی اتنی تیزی سے ہوتا ہے کہ اسے اپنا مخبری کا سیٹ اپ بنانے کا موقع ہی نہیں مل پاتا ۔ اسے صرف اس وقت ہی مخبر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جب کوئی پیچیدہ کیس حل نہ ہو رہا ہو اور اوپر سے مسلسل دباﺅ ڈالا جا رہا ہو ۔ عین ممکن ہے کہ آپ کسی روایتی تھانیدار کو جا کر اطلاع دیں کہ کسی اور علاقے کا خطرناک مجرم اس کے تھانے کی حدود میں ہے اور اسے گرفتار نہ کیا گیا تو وہ شام تک یہاں سے کہیں اور چلا جائے گا ،تو وہ تھانیدار بجائے آپ کو اس اطلاع پر شاباش دے الٹا تھانے سے ہی بھگا دے گا ۔ ویسے اب محکمہ پولیس نے مجرموں کا ریکارڈ آن لائن کر کے جدید سافٹ ویئر کی مدد سے ان کی نشاندہی کا اچھانظام ترتیب دے لیا ہے ۔ کبھی ان سافٹ ویئرز کے نظام سے متعلق کوئی کہانی ملی تو یقینا وہ بھی لکھوں گا ۔ بہرحال عام طور پر تھانیدار کو مخبری کی ضرورت ڈکیتی ، چوری ،یا قتل کے مقدمات میں ہی پڑتی ہے۔ اس وقت وہ علاقہ کے جرائم پیشہ افراد کی ٹھکائی کر کے کوئی نہ کوئی کلیو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ عام تھانوں کی نسبت سی آئی ڈی اور سپیشل برانچ میں مخبر کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں آنے والے اکثر کیس مخبر کی ”مہربانی “ سے ہی حل کئے جاتے ہیں ۔

ان دنوں میں کرائم رپورٹنگ میں تھوڑی بہت جان پہچان بنا چکا تھا ۔ کم از کم اتنا ضرور تھا کہ شہر کے اکثر تھانیدار اور مجرم مجھ سے واقف تھے ۔ چند ایک سے دوستی کا دعوی بھی تھا تو کئی ایک مجھ سے نالاں تھے ۔ مجھے کرائم رپورٹنگ کے دوران زیادہ تر خبریں پولیس کی بجائے مجرموں کے اڈوں سے ہی ملی ہیں ۔ یہاں ایک مکمل دنیا آباد ہوتی ہے ۔ کون کب کہاں کیا کارروائی کرے گا ، کس کا کس کے ساتھ جھگڑا ہے اور کس واردات میں کون سا گروپ ملوث ہے ، یہ سب یہاں بیٹھے نجومیوں کے ہاتھ پر لکھا ہوتا ہے ۔ یہیں سے معلوم ہوا کہ کچھ پولیس افسران کو کرائم فائٹر کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ یہ افسران مجرموں کے لئے ہلاکو خان سے کم نہیں ہیں ۔ ان کا مجرموں سے رابطہ بھی رہتا ہے اور وقت آنے پر یہ ان کا این کاﺅنٹر بھی کر دیتے ہیں ۔ مجھے زیر زمین دنیا کے ایک مجرم نے ہی بتایا تھا کہ اگر جائزہ لیں تو ان کرائم فائٹرز نے ایک مخصوص مدت کے بعد لازمی ایک این کاﺅنٹر کرنا ہوتا ہے ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کی اپنی زندگی کی ضمانت بھی تب تک ہی ہوتی ہے جب تک مجرموں پر ان کا رعب قائم رہے ۔ اگر مجرموں کو معلوم ہو کہ فلاں این کاﺅنٹر سپیشلسٹ ان دنوں” ڈھیلا “ہے تو وہ اس کو مارنے کی کوشش تیز کر دیتے ہیں ۔ بہرحال ایک روز مجھے ایسے ہی ایک آفیسر کے بارے میں معلوم ہوا کہ گذشتہ ہفتے ہونے والا پولیس مقابلہ جعلی تھا۔ اس افسر نے مجرم کو گرفتار کر لیا تھا اور پھر بعد میں جعلی پولیس مقابلے کے دوران مار دیا تھا ۔ میں اسی سلسلے میں اپنی نیوز سٹوری مکمل کرنے کے لئے اس افسر سے ملنے سی آئی اے کے دفتر گیا تھا ۔ وہاں سے واپسی کے وقت میری ملاقات وقاص گجر سے ہو گئی ۔ وہ اسی ڈیپارٹمنٹ میں انسپکٹر تھا اور میرا پرانا ہم جماعت بھی تھا۔ ہم نے ایم اے کی ڈگری ایک ساتھ لی تھی ۔ یونی ورسٹی کے بعد میں صحافت میں چلا آیا اور اس نے پولیس سروس جوائن کر لی ۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ اس کا تبادلہ سی آئی ڈی میں ہو چکا ہے ۔

وقاص گجر نے مجھے دیکھتے ہی میرا ہاتھ تھاما اور اپنے دفتر لے گیا۔ چائے پینے کے دوران معلوم ہوا کہ ایک ماہ پہلے اس کا تبادلہ یہاں ہوا تھا لیکن ابھی تک وہ محض مکھیاں مار رہا ہے ۔ اس نے مجھے کہا کہ اسے یہاں کسی ایسے شخص سے ملوا دوں جو چند ایک جرائم پیشہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کر دے اور کسی ایسی جگہ چھاپہ مارنے میں اس کی مدد کرے جہاں مجرم ثبوت سمیت موجود ہوں ۔ دیگر الفاظ میں وہ مجھ سے کسی قابل مخبر کا معلوم کر رہا تھا ۔ ایک ماہ میں ایک بھی کیس پر ہاتھ نہ ڈالنے کا مطلب واضح تھا کہ وہ نالائق انسپکٹر ہے اور سی آئی اے کا اہل نہیں ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ میں ایسے چند افراد سے واقف تو ہوں جو اپنے مفاد کے لئے اپنے ساتھیوںیا کسی اور گروہ کے اراکین کو گرفتار کروا سکتے ہیں لیکن ایسے لوگ قابل اعتماد نہیں ہوتے ۔ وہ اپنے مفادات کے لئے ہمیں بھی دھوکا دے سکتے ہیں لہذا ان سے معلومات لیتے وقت میں لازما” ڈبل چیک “کرتا ہوں۔ انسپکٹر کے اصرار پر میں نے اس کی مدد کرنے کی حامی بھر لی۔

کچھ دن بعد میں نے انسپکٹر اور ایک جرائم پیشہ شخص کی ملاقات کا بندوبست کیا ۔ مجھے علم تھا کہ وہ شخص دو تین مرتبہ پولیس کے مخبر کے طور پر کام کر چکا ہے ۔ انسپکٹر نے اسے کہا کہ بہت بڑاگینگ نہیں تو بھی کوئی چھوٹا موٹا گینگ موقعہ واردات پر پکڑوا دے ۔ میں اپنے پرانے دوست کے لئے مکمل طور پر اس سارے معاملے میں ملوث ہو چکا تھا ۔ میں نے بھی اس شخص سے انسپکٹر کی سفارش کی اور اسے یقین دلایا کہ انسپکٹر قابل اعتماد ہے ۔ وہ پہلے تو روایتی ٹال مٹول سے کام لیتا رہالہذا میں نے کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا ۔ میں نے اسے کہا کہ تم انسپکٹر صاحب کا کام کر دو ،یہ اس کارروائی میں تمہارے حصہ کا خاص خیال رکھیں گے ۔ اس بار تو تمہیں حصہ ملے گا ہی لیکن آئندہ بھی تم پر شفقت کی جائے گی ۔ یاد رہے کہ یہ ساری گفتگو مکمل طور پر پولیس اور مجرموں کے مخصوص ماحول کے مطابق ”کچھ لو، کچھ دو“ کی پالیسی کے تحت ہو رہی تھی ۔

کچھ دیر بحث کے بعد اس شخص نے کہا کہ میں آپ کو جعلی نوٹ چھاپنے والا پورا مافیا پکڑوا دیتا ہوں لیکن آپ کو بھی میری بات ماننا پڑے گی ۔ انسپکٹر نے اس کی شرط پوچھی تو اس نے کہا ہم دس لاکھ جعلی نوٹ خریدیں گے اور عین وقت پر آپ چھاپا مار دیں گے لیکن وہ دس لاکھ جعلی نوٹ میرے ہوں گے ۔ آپ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ میں وہ نوٹ استعمال میں لاﺅں یا بیچ دوں ۔آپ ان لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے ٹھکانے سے پوری مشین برآمد کر چکے ہوں گے لہذا دس لاکھ روپے کم ہونے سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ تھوڑی سی بحث کے بعد یہ طے پایا کہ مخبر 9 لاکھ جعلی نوٹ اپنے ساتھ لے جائے گا جبکہ ایک لاکھ موقعہ واردات پر ضبط کئے جائیں گے ۔

مجرموں کو گھیرنے کے لئے کم از کم ایک لاکھ روپے کی ضرورت تھی تاکہ پولیس کا چھاپہ پڑنے تک وہ مطمئن رہیں اور فرار نہ ہو جائیں ۔ ظاہر ہے یہ ایک لاکھ روپے انسپکٹر نے فراہم کرنے تھے جو بعد میں اسے واپس مل جاتے ۔اب ایک طرف انسپکٹر رقم اکٹھی کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کر رہا تھا تو دوسری طرف مخبر متعلقہ پارٹی سے رابطہ کرنے میں مصروف تھا ۔ ایک ہفتے بعد ہمیں مخبر کی جانب سے گرین سگنل مل گیا ۔ ادھر انسپکٹر نے بھی ایک لاکھ روپے اکٹھے کر لئے جس کے لئے کچھ رقم میں نے بھی فراہم کی تھی ۔ مجھے بھی لالچ تھا کہ ایک بڑی خبر سب سے پہلے میرے ہاتھ ہی لگنے والی ہے ۔ جس دن مخبرنے ان مجرموں کو نئی ”پارٹی “ سے ملوانا تھا اس سے ایک دن قبل ہم نے ڈیل والی جگہ کا معائینہ کیا اور ہر زاویہ سے اپنی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا ۔ بظاہر سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا ۔ جیسے ہی دوسری پارٹی جعلی نوٹ لے کر آتی تو پہلے سے چھپی پولیس پارٹی محتاط ہو جاتی ۔ ہمارے مخبر کے ساتھ ایک رضاکار ہوتا جسے مخبر رقم والی پارٹی کے طور پرمجرموں سے ملواتا ۔ اسی رضاکار نے ایک لاکھ روپے مجرموں کے حوالے کرنے تھے ۔ یہ ہماراقابل اعتبار شخص تھا ۔ دراصل انسپکٹر اور میںرقم مخبر کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہتے تھے ۔اصل رقم لے کر جیسے ہی مجرم پارٹی جعلی نوٹ اس رضاکار کے حوالے کرتی وہ اپنی تسلی کر لیتا ۔ اتنا ہی وقت دوسری پارٹی کو بھی اصل رقم کی تصدیق کے لئے لگنا تھا ۔جعلی نوٹوں کی تصدیق ہوتے ہی مخبر وہیں ہمارے رضاکار سے اپنا حصہ مانگتا اور اسی دوران دونوں جان بوجھ کر غصہ ظاہر کرتے ہوئے اونچی آواز میں بولنے لگتے ۔ اونچی آواز میں ہونے والی گفتگو پہلے سے طے شدہ تھی ۔ اس میں کوڈ ورڈز یعنی خفیہ پیغام رکھا گیا تھا جس سے پولیس کو معلوم ہو جاتا کہ جعلی رقم اور اصل مجرموں کی تصدیق ہو گئی ہے ۔ پولیس پارٹی فورا آ دھمکتی اور انہیں موقعہ پر گرفتار کر لیتی ۔ مخبراور رضاکار کو بھی دو چار تھپڑ مارتے ہوئے گرفتار کر لیا جاتا جو بعد میں اصل مجرموں پر یہی ظاہر کرتے کہ انہوں نے تگڑی ضمانت کروا کر رہائی حاصل کی تھی۔ اس طرح مجرم پارٹی ان کی مخالف نہ بنتی ۔ بظاہر ہمارا منصوبہ بالکل ٹھیک تھا اور کامیابی کے پورے امکانات تھے ۔

اگلے دن سب کچھ ویسے ہی ہوا ۔ مجرم پارٹی ، مخبر اور رضاکار مطلوبہ مکان کے اندر چلے گئے تو پولیس کی چھاپہ مار پارٹی کے دو افراد بھی اس کھڑکی کے ساتھ کھڑے ہو گئے جس کی نشاندہی پہلے سے کر دی گئی تھی ۔ اس کھڑکی کے دوسری جانب ہی معاملہ طے ہونا تھا ۔ بازی ہر طرح سے ہمارے ہاتھ میں تھی اور چند ہی لمحوں بعد جعلی نوٹوں کی موجودگی کی تصدیق ہوتے ہی پولیس مجرموں کو گرفتار کرنے والی تھی ۔ابھی مخبر اور رضاکار کے طے شدہ جھگڑے کی آواز سنائی نہیں دی تھی کہ اچانک مکان کے اندر سے گولیاں چلنے کی آواز سنائی دینے لگی جس پر پولیس نے بھی گھبرا کر ہوائی فائرنگ شروع کر دی ۔ انسپکٹر کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں ۔ مکان کے اندر ہمارے دو ساتھی تھے اور ہم اندر کی اصل صورت حال سے مکمل طور پر لاعلم تھے ۔ جب تک پولیس اندر پہنچتی تب تک مکان خالی ہو چکا تھا ۔ مکان کے اندر ہمارے مخبر اور رضاکار کی لاشیں پڑی تھیں ۔ یہ مکان اندرون شہر کی بے ہنگم آبادی میں تھا ۔ پولیس پارٹی سامنے تو موجود تھی لیکن پچھلی جانب مکانات آپس میں ملے ہوئے تھے ۔پولیس جب تک احتیاطی طور پر گولیاں چلاتے ہوئے مکان کے اندر پہنچی تب تک مجرم چھتوں کے ذریعے جانے کس جانب نکل چکے تھے ۔ اب ان کی تلاش کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔ بظاہر یہی لگتا تھا کہ جس طرح ان کا ایک بندہ ہمارا مخبر تھا اسی طرح ہمارے درمیان بھی ان کا کوئی مخبر موجود تھا جو مجرموں کے لئے کام کر رہا تھا ۔ ہم کسی پر شک بھی نہیں کر سکتے تھے اور نہ ہی ہمارے پاس کسی کے خلاف کوئی ثبوت تھا۔ مجرموں نے نہ صرف ایک لاکھ روپے کی رقم اڑا لی بلکہ اپنے غدار یعنی ہمارے مخبر اور رضاکار کو بھی جان سے مار کر ”غداری “ کی سزا دے دی ۔ پولیس کا مخبر مارا جا چکا تھا جبکہ مجرموں کا مخبر شاید اب بھی پولیس کی نوکری کر رہا ہو ۔اس کا نام کبھی سامنے نہیں آسکا ۔ انسپکٹر کو اس ناکام چھاپے پر محکمانہ سزا کا سامنا کرنا پڑا ۔ اگر دو لاشیں نہ گرتیں تو شاید وہ سزا سے بچ جاتا ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ماسی منظورہ۔!…عروسہ وحید

ماسی منظورہ۔! عروسہ وحید                 ”ہائے ہائے قسمت پھوڑ ڈالی میری ماں نے مجھے یہاں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے