سر ورق / افسانہ / بانو زلیخا ۔۔طلحہ کھرل

بانو زلیخا ۔۔طلحہ کھرل

                              "بانو زلیخا "

:طلحہ کھرل !

                       شرقپور شریف!

اکثر اوقات آپ کے چہرے کی کشش ڈھلتی عمر کے ساتھ ساتھ کم پڑنے لگتی ہے لیکن بہت سے چہرے اس قدر پر کشش ہوتے ہیں کے ان پر ڈھلتی عمر کا کوئ واضح فرق نمایاں نہیں ہوتا___________

دسمبر کا مہینہ ہے ____دسمبر سے یاد آیا جب میں دس برس کا تھا. میری نانی ماں کو مجھ سے بہت دلی لگاؤ تھا. ان کی اسی بے پناہ محبت کی بنا پر میرے ماں باپ نے مجھے میری نانی ماں کو سونپ دیا. میں اپنے ماں باپ کا اکلوتا ہی وارث تھا پھر جانے کیوں وہ مجھے نانی ماں کے پاس چھوڑنے پر آمادہ ہو گئے….. شاید اس لیے کے میری بہتر پرورش ہو سکے _______

جی تو میں پرکشش چہروں کے حوالے سے بات کر رہا تھا…….

یہ ان دنوں کی بات ہے جب دسمبر کے مہینے کی تازہ تازہ آمد تھی…… دسمبر کی اس صبح موسم بے تحاشہ سرد……… فضا میں شدید خنکی اور ہر طرف دھند نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا………

نانی ماں کے بارہا اصرار پر میں نے اپنا گرم گرم اور نرم نرم بستر چھوڑا اور صبح کے ناشتے کے لیے غسل کی غرض سے ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ واش روم کی طرف چل دیا……………

دروازے پر دستک ہوی!!

"ارے طلحہ بیٹا”!

"دروازے پر دیکھو تو کون آیا ہے”

بائیں جانب کے کمرے میں شدید ٹھنڈ کی وجہ سے لحاف میں لپٹی نانی ماں کی بوکھلائ ہوی آواز آی _______

"جی نانی ماں "!

یہ کہہ کر میں اب انگڑایاں برتا ہوا واش روم کی بجاے دروازے کی طرف چل دیا ________

دروازے کی دہلیز پر ایک ادھیڑ عمر آدمی جسے میں بڈھا ہی کہہ دوں تو بجا ہو گا ہاتھ میں لاٹھی کا سہارا لیے کھڑا ہانپ رہا تھا ______قدم ڈگمگا رہے تھے اور ہاتھوں میں فقط ایک لچکدار لاٹھی کا سہارا تھا ____عمر یہی کوئ تقریباً 65 برس کے قریب, چہرے کی کھال لٹکی ہوئ, سر کے بال بلکل سفید نمایاں تھے, منہ میں سے چھ سات دانت گرے ہوے اور انکھوں کے گرد گہرے اور بڑے بڑے سیاہ حلقے واضح طور پر نمایاں تھے…………………

"جی بابا جی! آپ کو کس سے ملنا ہے "؟؟

میں نے تفسیشی انداز میں مخاطب ہوتے ہوے پوچھا____

ان کے موٹے موٹے ہونٹ کچھ کہنے کی غرض سے تھوڑی دیر کے لیے اک مختصر سی جنبش میں مبتلا رہے لیکن ایک دم خاموش ہو گئے _________

"آپ کو کس سے ملنا ہے بابا جی "؟؟؟

میں نے ایک بار پھر سے اپنا سوال دہرایا

"بیٹا خدا کے واسطے ہمارا مدد کرو …..ہمارا اس دنیا میں کوئ نہیں…….. ہم کافی دنوں سے بھوکا ہے اور یونہی ویران راستوں پر دربدر بھٹک رہا تھا کے ہم کو تم لوگوں کا گھر دکھائ دیا __________

"بیٹا خدا کے لیے ہمارا مدد کرو "!!

یہ کہہ کر بڈھا اپنے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ دروازے کی دہلیز پر ماتھے کے بل جا گرا اور لاٹھی بھی پرے جا گری _____

اس سے پہلے کے میں مزید کوئ تفسیشی سوالات کرتا میں نے آو دیکھا نہ تاؤ اور ان کو اپنے کاندھوں کا سہارا دیتے ہوے قدموں کے وزن پر کھڑا کر دیا ___

"میری لاٹھی "؟؟؟

"یہ لیجیے بابا جی "!!!

خدا تم پر مہربان ہو بیٹا جیتے رہو "_____

میں نے بڈھے کا ہاتھ تھاما اور انہیں دروازے کے نزدیک پڑی ایک گنبد نما کرسی پر بیٹھا دیا………. کرسی کے بلکل سامنے ایک  جالی دار کھڑکی تھی جس سے باہر کا منظر با آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا…………………

باہر تو اللہ اللہ __________موسم اپنی حالت مزید بگاڑتا چلا جا رہا تھا…. سورج اپنی ہلکی سی جھلک دکھاتا اور پھر سے بلند و بالا بادلوں کی آغوش میں چھپ جاتا………………….

جونہی سورج کی ہلکی سی کرن جالی دار کھڑکی سے اندر آتی تو بڈھے کے چہرے پر ایک مانوس سی مسکراہٹ کھیلنے لگتی جسے با آسانی محسوس کیا جا سکتا تھا _________

لیکن سورج بھی آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہا تھا……… اپنی ہلکی سی جھلک دکھاتا اور پھر پانچ دس منٹ کے لیے اللہ حافظ ہی رہتا___________

بڈھا ابھی تک میرا ہاتھ تھامے ہوے تھا اور میں بھی کھڑا سورج کے اس تماشے کو دیکھنے میں اس قدر مشغول تھا کے نانی ماں نے جانے مجھے کتنی آوازیں دیں __________لیکن میرے کان ان کی سماعت سے محروم ہی رہے __________

آخر نانی ماں نے اپنا لحاف ہٹاتے ہوے مجھے نہایت وحشیانہ اور غضب ناک لہجے میں متوجہ کیا!!

"ارے طلحہ! او طلحہ”!

"کہاں مر گیا تو "؟؟

"کون ہے دروازے پر "؟؟؟؟

اس وحشیانہ انداز میں تو نانی ماں بلکل جھانسی کی رانی کا عکس دکھائ دیتی تھی واللہ _________

اس سے پہلے میں نانی ماں کو اس بڈھے کا تعارف اور اس کی آمد کے بارے میں آگاہ کرتا ______کمرے کی طرف آتے ہوے کسی کے منحوس قدموں کی آہٹ آنے لگی ________

"یہ شور کیسا ہے "؟؟؟

"رکو طلحہ "!!

"یہ آہٹ! یہ آہٹ تو کسی کے قدموں کی معلوم ہوتی ہے”_____ نانی ماں نے یہ الفاظ ادا ہی کیے تھے کے بڈھا کھانستے ہوے آگے بڑھا اور کمرے کی دہلیز پر آ کھڑا ہوا____تھؤڑی بہت سمجھ میں بھی رکھتا تھا _____

جیسے ہی بڈھے کی پہلی نظر نانی ماں کے پر کشش چہرے پر پڑی بڈھا تو جانے کہیں کھو کر ہی رہ گیا ______

نانی ماں کی عمر قریباً  پچپن کے لگ بھگ ___سر کے بال ہلقے ہلقے سفید یہ سب بالوں کو کلر لگانے کا کمال تھا کیونکہ اکثر میں نے نانی ماں کو کلر لگاتے دیکھا تھا ____دانت بھی ابھی تک سلامت تھے…….. چہرے پر کوی جھری یا کوئ دھاگ دھبہ نہیں تھا…… غرض وہ اپنی عمر کی دوسری مایوں کی نسبت ابھی جوان معلوم ہوتی تھیں ________

میں نے بڈھے کو ہلکی سی تھپکی دی

"بابا جی او بابا جی "!!

بڈھا دھیمی آواز میں کچھ بڑابڑایا جو الفاظ یہ تھے….

"کیا معصوم نگاہیں اور چاند کی مانند روشن چہرہ”!

"ہاے انتہائ دل فریب آواز "!!

یہ کہہ کر بڈھا خاموش ہو گیا اور کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئ ________لمحے کی خاموشی کے بعد بڈھے نے لاٹھی کو پرے دھیکلا اور بنا لاٹھی کے ہی سکسکتا ہوا آخر نانی ماں کے پلنگ پر جا بیھٹا ________

"ویسے عزیز محترمہ آپ کا نام کیا ہے "؟؟؟؟

"براے کرم نوازش فرمایے "!!!

"جی میرا نام ______میرا نام "بانو زلیخا ” ہے "!!!!

(نانی ماں نے اپنے ڈوپٹے کے گھونگھٹ کو اوڑتے ہوے معصومیت سے جواب دیا __

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بالغ عورت شکیلہ رفیق ۔ ٹورنٹو ، کینیڈا

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 141 بالغ عورت شکیلہ رفیق ۔ ٹورنٹو ، کینیڈا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے