سر ورق / افسانہ / ہیلمٹ…شکیل احمد چوہان

ہیلمٹ…شکیل احمد چوہان

ہیلمٹ

شکیل احمد چوہان

            ندیم عرف ”دیم“ چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی، وہ پورے گاﺅں میں سب سے دراز قد تھا۔ دیم جتنا لمبا تھا اُتنا ہی بھولا اور من موجی بھی ….دیم ایک کسان کا بیٹا تھا، اس لیے وہ بھی کسان ہی بن گیا۔ اُس کی کل دنیا اپنا ڈیرہ اور حویلی تھی۔ وہ سارا دن اپنے ڈیرے کے اردگرد کھیتوں میں اپنے کاموں میں مصروف رہتا ، شام کو اپنی بھینسوں کی دیکھ بھال کرتا اُن کا دودھ نکالتا ،اُسے اپنی بھینسوں کے ساتھ ساتھ اپنے کتے اور گدھے سے بھی بڑا پیار تھا۔ ایسے ہی اُس کی زندگی گزر رہی تھی ، وہ اپنی دنیا میں خوش تھا۔ دیم کے شوق بھی نرالے ہی تھے، وہ شان کی پنجابی فلمیں بڑے شوق سے دیکھتا ، اس کے علاوہ اُسے موٹر سائیکل چلانے کا بھی بڑا شوق تھا۔ دیم کی دوستی اپنے چچا اور تایا کے بیٹوں کے ساتھ ساتھ عرفان عرف ”مانی“ سے بھی تھی۔ مانی پورے گاﺅں میں سب کا جانی اور ہر دلعزیز تھا۔ مانی کو کام کرنے کا بڑا شوق تھا، مانی کا تعلق ایک متوسط گھر سے تھا وہ اپنے کام کے علاوہ گاﺅں کے دوسرے زمینداروں کا کام بھی پکڑ لیتا تھا، وہ محنت سے اپنے حالات بدلنا چاہتا تھا ، پھرتیلا اتنا کہ مہینوں کا کام ہفتوں اور ہفتوں کا دنوں میں کر لیتا۔ پوہ، ماگھ کی ٹھنڈ اور جیٹھ، ھاڑ کی گرمی بھی اُسے کام سے نہ روک پاتی…. اُس کا چہرہ قندھاری انار کے دانوں کی طرح سرخ تھا، متوسط قد کاٹھ مضبوط اور چُست جسامت اُس کی دوسری خصوصیات تھیں۔

            میںدسمبر کی چھٹیوں میں اپنے گاﺅں گیا گھر کے اندر داخل ہونے لگا تو ایک محبت میں ڈوبی آواز میرے کانوں میں پڑی:

            ”پاجی! کی حال اے“ میں نے پلٹ کر دیکھا تو حمزہ ہاتھ میں دودھ سے بھری بالٹی اُٹھائے میرے پیچھے تھا۔ حمزہ اور دیم چچا زاد تھے اور اُن دونوں کے گھر بھی ساتھ ساتھ ہی تھے۔

            ”تمھارا کیا حال ہے حمزہ!“ میں نے حمزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ حمزہ نے جواب دینے کی بجائے مسکراتے ہوئے اپنے سولہ سالہ معصوم سے رخسار کو پیپل کے پتے کی طرح ہلایا اور اپنے گھر کے اندر داخل ہو گیا۔ حمزہ کا گھر ہمارے گھر کے سامنے ہی تھا۔ میں اپنے گھر کے اندر آیا تو صحن میں چاچی صابرہ میری والدہ کے پاس بیٹھی ہوئی میرے چھوٹے بھائی کی شادی کے متعلق بات کر رہی تھی۔

            ”چاچی آپ بھی اب ندیم کی شادی کردو۔“ میں نے صابرہ چاچی کی بات کاٹتے ہوئے اُنہیں دیم کی شادی کا مشورہ دے ڈالا۔

            ”ابھی تو وہ 23سال کا بھی نہیں ہوا ….بچہ ہے وہ بچہ!“ صابرہ چاچی یہ بولتے ہوئے وہاں سے اُٹھی اور اپنے گھر چلی گئی۔

            ”صابرہ کی ابھی تین بیٹیا ںرہتی ہیں….ایک دیم سے بڑی اور دو چھوٹی۔“ میری والدہ نے ہلکی سی ڈانٹ کے ساتھ مجھے وہ بات بتائی جو میں پہلے ہی سے جانتا تھا۔

            ”اپنے بھائی کی شادی کی فکر کرو ،جو دیم سے تین ساڑھے تین سال بڑا ہے۔“ میری والدہ نے اپنی بات پر زور دے کر کہاتھا۔

            ”چاچا دیکھ لے ….میں تیرے کتنے کام کرتا ہوں….تو اپنی موٹرسائیکل پرجھولا بھی نہیں لینے دیتا“ دیم نے بڑی عاجزی کے ساتھ مقبول رحمانی سے درخواست کی تھی۔مقبول نے چند لمحے سوچا پھر اپنی موٹر سائیکل سے اُتر گیا۔ مقبول کہیں سے لوٹا ہی تھا کہ اپنی حویلی کے سامنے اُس کا دیم سے ٹاکرا ہو گیا تھا۔ دیم موٹر سائیکل پر بیٹھا اور مانی کے گھر پہنچا، مانی دودھ والی بالٹیاں پکڑے اپنے گھر سے نکل ہی رہا تھا۔

            ”مانی !چل لوبن پلی جلیبیاں کھانے چلتے ہیں۔“ مغرب سے کچھ دیر پہلے دیم نے مانی سے کہا تھا۔

            ”میں نے تو ابھی بھینسوں کا دودھ بھی دھونا ہے۔ “ مانی نے دیم کے پیچھے بیٹھتے ہوئے بتایا تھا۔ دیم نے موٹر سائیکل چلا دی آگے انہیں حمزہ کھڑا ہوا مل گیا ، حمزہ نے جلدی سے پوچھا:

            ”کہاں جا رہے ہو تم دونوں….؟“

            ”اڈے پر جلیبیاں کھانے۔“ مانی نے کھائے بغیر ہی جلیبیوں کا مزہ لیتے ہوئے بتایا تھا۔

            ”میں نے بھی جانا ہے۔“ حمزہ جلدی سے لپکتے ہوئے اُن دونوں کے درمیان گھس کر بیٹھ گیا۔

            ”اوئے حمزہ اُتر جا! چاچے مقبول کے بڑے ترلے ڈال کر موٹر سائیکل لی ہے۔“دیم نے حمزہ کو ٹالنے کی پوری کوشش کی تھی۔

            ”مجھے نہیں پتہ میں نے بھی تمھارے ساتھ ہی جانا ہے۔“ حمزہ نے ضدی بچے کی طرح کہا اورساتھ ہی ساتھ آنکھوں ہی آنکھوں میں مانی کو دیم سے اپنی سفارش کرنے کے لیے کہا ۔

            ”چل دیم اِسے بھی لے ہی چلتے ہیں کیا یاد کرے گا حمزہ ! چل نا دیر ہو رہی ہے ….حویلی میں بالٹیاں بھی رکھنی ہیں۔“ مانی نے دیم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔وہ تینوں لوبن پلی پہنچ گئے۔

            ”سواد آگیا….“ دیم نے اپنے اوپر اُوڑی ہوئی اپنی گرم چادر سے میٹھے والے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔

            ”دیم یار جلدی کر….حویلی میں میرا بوڑھا میری راہ دیکھ رہا ہوگا ۔“ مانی یکا یک بولا تھا۔ دیم نے موٹر سائیکل کو کک ماری وہ اسٹارٹ ہوگئی ۔

            ”دیم بھائی مجھے آدھہ کلو جلیبیاں اورلینی ہیں۔“ حمزہ نے اگلی خواہش کا اظہار کر دیا تھا۔

            ”تجھے اِسی لیے ساتھ نہیں لا رہا تھا۔“ دیم نے گھوری ڈالتے ہوئے کہا۔

            ”امّی ابّو کے لیے ….گھر جا کر پیسے دے دوں گا۔“حمزہ نے بھولی صورت بناتے ہوئے التجائیہ لہجے میں درخواست کی تھی ۔ دیم نے موٹر سائیکل کا سوئچ Offکر دیا اور مانی کی طرف دیکھ کر آنکھوں کے اشارے سے پوچھا۔

            ”میں نے بوڑھے کو نہیں بتانا کہ میں اڈے سے جلیبیاں کھا کر آ رہا ہوں….نہیں تو وہ ڈانگ لے کر میرے پیچھے چڑھ دوڑے گا۔“ مانی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

            ”یا ربھولے….کلو وکھری (علیحدہ) تے آدھ کلو وکھری اور تول دے۔“ دیم نے اپنی قمیض کی سائیڈ والی جیب سے پیسے نکالتے ہوئے جلیبی والے بھولے سے کہا تھا۔

            ”یار بھولے ! گرم گرم ڈالیں“ حمزہ نے شاپر میں جلیبیاں ڈالتے ہوئے بھولے کو دیکھ کر کہا تھا۔

            ”ٹھنڈے ٹھنڈے کینو بھی کھا لو۔“ امجد میواتی کینوں سے بھرا شاپر بیگ اُٹھائے اُن کے پاس آیا تھا، اُس کی موٹر سائیکل بھولے مٹھائی والے کے پاس کھڑی تھی۔

            ”یا ر امجد میرا سوٹ سلا کے نہیں….؟“ مانی نے امجد کو دیکھتے ہی پوچھا تھا۔

            ”فکر نہ کر تو نیا سوٹ پہن کر ہی شادی میں جائے گا۔“ امجد نے تسلی دیتے ہوئے جواب دیا تھا۔ دیم نے موٹر سائیکل کو کک ماری اور ریس دینے لگا۔ بھولے نے جلیبیوں والا شاپر حمزہ کو پکڑا دیا۔

            ”مانی تو میرے ساتھ آجا میں اکیلا ہی ہوں۔“ امجد نے اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔

            ”یار امجد ٹائم نہیں ہے ….ابھی میرے بڑے کام ہیں کرنے والے۔“ مانی نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے امجد کے ساتھ بیٹھنے سے معذرت کر لی تھی۔

            ”حمزہ تو آجا….“ امجد نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کر تے ہوئے کہا ، دیم نے اپنی موٹر سائیکل چلا دی تھی۔

            ”جن کے ساتھ آیا ہوں اُن کے ساتھ ہی جاﺅں گا۔“ حمزہ نے چلتی ہوئی موٹر سائیکل سے گردن موڑ کر امجد کو بائے بائے کیا تھا۔

            ”یہ ٹریکٹر کیوں بند ہوگیا ۔“ ٹریکٹر کے مڈگارڈ پر بیٹھے ہوئے لڑکے نے ڈرائیور سے پوچھا تھا۔

            ”پتہ نہیں دیکھتا ہوں۔“ ڈرائیو کرنے والے لڑکے نے ٹریکٹر سے نیچے اُترتے ہوئے جواب دیا۔

            ”ایک تو یہ گاڑیوں والے شامو شام ہی Fullلائٹین جلا دیتے ہیں۔“ مڈ گارڈ پر بیٹھے ہوئے لڑکے کی آنکھوں میں سامنے سے آتے ہوئے ٹرک کی لائٹس پڑی تھیں، وہ بھی اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ٹریکٹر سے نیچے اُتر آیا۔ جیسے ہی اُس ٹرک نے ٹریکٹر ٹرالی کو کراس کیا، ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ بند ٹریکٹر اور ٹرالی کے پہیوں نے گردش کی ، وہ کئی فٹ آگے کو ہوگئے تھے۔ ٹریکٹر والے دونوں لڑکے گھبرا گئے اُسی گھبراہٹ میں وہ سڑک کے کنارے چھوٹی نہر میں داخل ہوگئے۔ نہر میں پانی نہیں تھا۔

            امجد نے ٹرالی سے کچھ پیچھے ہی اپنی موٹر سائیکل کھڑی کی، کانپتے ہاتھوں سے اپنے موبائل کی لائٹ جلائی اور بوجھل قدموں سے ٹرالی کی طرف بڑھا اُس نے جھک کر ٹرالی کے نیچے دیکھا۔ امجد کے جسم پر لرزہ طاری ہوگیا، اسکی سانس اُس کی حلق میں اٹک گئی، اُس نے اپنی آنکھوں پر اپنا بائیاں ہاتھ رکھ لیا، فوراً ہی اُسے خیال آیا اُسے کچھ کرنا چاہیے اُس نے اِرد گرد دیکھا، نہر میں سے اُسے کھسر پھسر سنائی دی۔

            ”اوئے اِدھر آﺅ اور میری مدد کرو!“ امجد نے اُن ٹریکٹر والے لڑکوں کو مخاطب کیا تھا۔ وہ ڈرتے ڈرتے امجد کی طرف آگئے اُن تینوں نے ٹریکٹر ٹرالی کو دھکے سے آگے کی طرف کیا۔ تارکول کی ٹھنڈی سڑک پر گرم جلیبیاں بکھری پڑی تھیں اور سرخ خون سرمئی سڑک پر بہہ رہا تھا، تین نوجوانوں کے جسم زخموں سے چُور چُور ایک دوسرے کے اوپر پڑے تھے۔ موٹر سائیکل کباڑ بن چُکی تھی ۔ ٹرالی کے سخت لوہے پر ڈینٹ پڑ چکا تھا۔ امجد نے مانی کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ڈرائیور بول پڑا:

            ”ہاتھ مت لگاﺅ….پولیس کیس ہے۔“

            ”شاید زندہ ہوں….“ امجد نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا تھا۔

            ”جی جی لوبن پلّی سے آپ گریڈ اسٹیشن کی طرف آئیں گے تو ڈھے والی پلی سے تھوڑا پہلے ہی ….“ دوسرا لڑکا موبائل پر کسی کو وقوع کی جگہ بتا رہا تھا۔ امجد نے حیرانی سے اُس لڑکے کی طرف دیکھا۔

            ”1122والے آرہے ہیں۔“ لڑکے نے امجد کو بتایا۔

            ”یہ میرے ہی گاﺅں ”کلخانہ“ کے لڑکے ہیں….تم لوگ یہی رہنا میں گاﺅں والوں کو لے کر آتا ہوں۔ “امجد نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے فون کرنے کی بجائے گاﺅں جانا بہتر سمجھا تھا۔ اُن تینوں لڑکوں میں سے دو کی موت سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی تھی اور ایک کا پیٹ کٹنے سے ، کسی بھی ایکسیڈنٹ میں سر کی چوٹ سب سے زیادہ خطر ناک ثابت ہوتی ہے ….اور ایسا ہی اِن کے ساتھ بھی ہوا تھا ….اُس رات شاید ہی میرے گاﺅں میں کوئی سویا ہو۔

            اگلے دن ظہر کے بعد ہمارے گاﺅں سے تین جنازے اکٹھے اُٹھے تھے۔ اُس دن میں نے اپنے گاﺅں کے ہر انسان کی آنکھیں نم دیکھی تھیں۔ اتنا بڑا جنازہ بھی ہمارے گاﺅں کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

            زندگی اور موت اللہ تبارک تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔“ اس کے باوجود زندگی کی ناقدری کرنا حرام اور حفاظت کرنا اُسی مالک کے ہاں فرض ہے۔ کیا ہم اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کی حفاظت کرتے ہیں….؟ کیا ہم رات کے وقت اپنی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کوLowرکھتے ہیں….تاکہ سامنے سے آنے والوں کو بھی دکھائی دے ….؟گاڑی آہستہ چلاتے ہیں یہ سوچ کر کہیں کوئی میری گاڑی کی زد میں نا آجائے ….؟اپنی حفاظت کے لیے سیٹ بیلٹ لگاتے ہیں….؟ پچاس ہزار کی موٹر سائیکل تو خرید لیتے ہیں مگر اپنے سر کو چوٹ سے بچانے کے لیے پانچ سو کا ہیلمٹ نہیں خریدتے ….کیوں….؟ سوچنے والی بات ہے نا….؟

            ”دیر سے پہنچنا ….نہ پہنچنے سے بہتر ہے “آپ نے بھی کسی نہ کسی شاہراہ پر لگے ہوئے سائن بورڈ پر پڑھا ہوگا، مگر ہمیں تو ہر جگہ پہنچنے کی جلدی ہے ۔

            وہ تینوں لڑکے بھی جلدی گھر پہنچنا چاہتے تھے ،مگر آج تک وہ لوبن پلی سے کلخانہ گاﺅں تک پانچ کلو میٹر کی مسافت طے نہیں کر سکے۔ میں آج تک اُلجھن کا شکار ہوں ….کیا دیم ، مانی اور حمزہ کی جان تیزی رفتاری نے لی ….؟یا پھر سامنے سے آنے والے ٹرک کی تیز Highروشنی اُن کی موت کی وجہ بنی….؟کبھی کبھی تو مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ ، کاش اُن تینوں نے ہیلمٹ پہنے ہوتے تو شاید وہ بچ جاتے ….جی ہاں ….ہیلمٹ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

"ٹرررن جی صاب” … ابصار فاطمہ

"ٹرررن جی صاب” تحریر ابصار فاطمہ آپ کو پتا ہے میں کون ہوں؟ میں گھنٹی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے