سر ورق / کہانی /  مجرم۔۔۔مہتاب خان

 مجرم۔۔۔مہتاب خان

 

 

 

 مجرم

مہتاب خان

چودھری افضل اپنے چھوٹے بھائی چودھری انور اور اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ڈیرے پر بیٹھا تھا-جب نذیرا اس کتے کو لے کر اس کے قریب آیا تھا-اسی وقت ایک بوڑھا شخص جو پھٹے پرانے لباس میں تھا ہاتھ جوڑے چودھری افضل کے قریب آیا تھا- "تو تو پیچھے مر” اس نے غصے سے اسے دیکھا تھا- "ہاں تو بتا وہ اس کا کیا مانگ رہے ہیں؟”

"دو لاکھ تو وہ مانگ رہا ہے چودھری صاحب مگر میرا خیال ہے ڈیڑھ میں سودا ہو جائے گا-"نزیرے نے کہا –

"ٹھیک ہے ٹھیک ہے………” وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر بولا”سن نزیرے اس کی تیاری تیری زمہ داری ہو گی-اس سال ہماری ہار نہیں ہونی چاہیے -"

"خوراک آپ کی محنت میری پھر کیسے ہارے گا……..اصل نسل کتا ہے چودھری صاحب -"نزیرے نے عاجزی سے کہا تھا –

"کیا خیال ہے نکے؟”اس نے چھوٹے بھائی انور کی طرف دیکھا –

"لگتا تو ٹھیک ہے بھائی …………..میرا خیال ہے یہ آپ کو پسند آ گیا ہے………….ایسا کر نزیرے اگر وہ ڈیڑھ میں نہ مانے تو کچھ اوپر دے دینا مگر سودا آج ہی کر لینا -"نزیرے نے سر ہلایا-بوڑھا جو قریب ہی کھڑا تھا دوبارہ چودھری افضل کے قریب آیا –

"اس کا کیا مسئلہ ہے؟”افضل نے کڑے تیوروں سے ایک ملازم سے پوچھا-

"اس کی بیٹی بیمار ہے سرکار کچھ پیسے لینے آیا ہے-"ملازم نے کہا –

"منشی بابا جان کے ساتھ شہر گیا ہوا ہے-بغیر کھاتے میں اندراج کیے کیسے دے دیں اسے پیسے-"

"چل بھئی پیچھے ہٹ آج تجھے پیسے نہیں مل سکتے……..سنا نہیں منشی شہر گیا ہوا ہے-"ملازم نے بوڑھے کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا اور پیچھے دھکیل دیا-

"نکے ایک تو یہ کمی ہمیں ساں نئیں لینے دیتے جہاں بھی دیکھو منہ اٹھائے اور جھولی پھیلائے چلے آتے ہیں-"افضل نے ناگواری سے کہا –

"آپ کے مزارعے ہیں چودھری صاحب آپ کے پاس نہیں آئیں تو اورکہاں جائیں؟”بوڑھا رندھی ہوئی آواز میں بولا-

"جا جا یہاں سے ………جان چھوڑ ہماری……..جگو لے کر جا اسے -"انور نے ایک ملازم کو اشارہ کیا-

جگو اس کے قریب گیا اور کہا "سنا نہیں چودھری صاحب کیا کہہ رہےہیں………..کملے بڑے لوگوں کے بڑے خرچے ہوتے ہیں………..منشی آ جائے گا تو مل جائیں گے پیسے………آ میرے ساتھ-” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا-

افضل جو کتے کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا اس کے قریب ہی زمین پر بیٹھ گیا اور کہا "دیکھ نزیرے ……….اس کی تیاری بہت اچھی ہونی چاہے ………..سمجھ گیا نہ تو-"

"آپ کا حکم سر آنکھوں پر چودھری صاحب-"نزیر نے کہا -"چل اب لے جا اسے-"نزیرے نے زنجیر کھینچی اور اسے لے کر چلا گیا-افضل دور تک اسے جاتے دیکھتا رہا-

دو تین دن گزرے تھے جب بڑے چودھری صاحب اس سہہ پہر حویلی پہنچے تھے-ڈرائیور نے اس شاندار گاری کا دروازہ کھولا تھا-تقریبآ ساٹھ سالہ چودھری غفور جو سفید براق شلوار قمیض اور بڑی سی پگڑی باندھے جس کا شملہ بہت اونچا تھا نے زمیں پر اس طرح قدم رکھے تھے کہ ان کا کرو فر ہی نرالا تھا-پچاس سالہ دبلا پتلا لیکن پھرتیلا منشی بھی لپک کر پچھلی سیٹ سے اترا تھا اور ان کے قریب آ کھڑا ہوا تھا-

"زمین کے کاغذات والا بیگ سنبھال لیا منشی؟”چودھری غفور نے کہا –

"جی چودھری صاحب…….یہ رہا بیگ-اس نے ہاتھ میں تھا ما بریف کیس انہیں دکھاتے ہوئے کہا –

وہ جیسے ہی مہمان خانے میں داخل ہوئے-دونوں بیٹے لپک کر ان کے قریب آ گئے-

"اسلام و علیکم بابا جان-"افضل ان سے بغلگیر ہوتا ہوا بولا-

و علیکم اسلام………..سب خیریت ہے نہ؟”چودھری غفور ان دونوں سے مل کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے-

"یہاں سب خیریت ہے………ہم تو آپ کی طرف سے فکر مند تھے-ایک ہفتہ ہو گیا آپ کو شہر گئے -کچھ خیر خبر ہی نہیں تھی-افضل نے کہا تھا-

"دو دن سے آپ کا فون بھی نہیں لگ رہا تھا-"انور نے کہا –

"تم دونوں کے لیے ہی تو شہر گیا تھا……….کچہری کے معاملات آسان نہیں ہوتے-میں نے تمام جاگیر اور زمینیں  تقسیم کر دی ہیں-” پھر کچھ دیر ٹہر کر انہوں نے کہا تھا-تم لوگ اپنی مرضی سے اپنی بہن کا حصہ اسے دے دیتے تو اچھا تھا-"

"بابا جان یہ ہماری روایت کے خلاف ہے عورتوں کو جائیداد میں سے حصہ نہیں دیا جاتا پھر آپ نے بھی تو…………..”

"بس…….گڑے مردے اکھاڑنے کی ضرورت نہیں ہے-"وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ وہی بوڑھا اندر داخل ہوا اور چودھری غفور کی سمت بڑھا –

"او …………. تو پھر آ گیا………..ساں تو لینے دے بابا جان کو………..جگو ……..شیرا …………کہاں مر گئے سارے …………نکالو اسے یہاں سے-کس نے اسے اندر آنے دیا؟”افضل پھرتی سے اٹھ کر بوڑھے کے قریب گیا تھا-

"میری بات تو سنو چودھری………..مجھے بڑے چودھری صاحب سے بات کرنے دو -وہ گھگھیا تا ہوا بولا-

"سنتے ہیں……….. ابھی سنتے ہیں ………کہہ دیا نہ کچھ کرتے ہیں-…….ادھر بیٹھو جا کر-"اس نے دیوار کی سمت اشارہ کیا-بوڑھا مایوسی سے سر جھکائے دیوار کے سہارے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا-

"چمٹ ہی جاتے ہیں جان کو……….” وہ بڑ بڑاتا ہوا باپ کی طرف بڑھتے ہوئے بولا-اسی وقت اچانک حویلی کے اندر سے چیخنے چلانے کی بلند آوازیں آنے لگیں-

"الله خیر کرے-"چودھری غفور مضطرب انداز میں کھڑے ہو گئے-وہاں موجود سب افراد ہکا بکا تھے-حویلی کے اندر سے ایک ملازمہ دوڑتی ہوئی وہاں آئ تھی-اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی کہ الفاظ صحیح طور سے اس کے منہہ سے نہیں نکلتے تھے-وہ پورے وجود سے کانپ رہی تھی-

"بڑے چودھری صاحب…………….وہاں حویلی میں……….میراں بی بی ……….”

"کیا ہوا میراں کو؟”وہ تیزی سے اندر کی سمت بھاگے ان کے پیچھے افضل اور انور بھی متوحش انداز میں لپکے تھے-

جوں جوں وہ حویلی کی سمت بڑھ رہے تھے-چیخ و پکار اور آہ و بکا کی صدائیں بلند ہوتی جا رہی تھیں-وہ جیسے ہی صحن میں پہنچے وہاں ایک جانب حویلی کی عورتوں اور ملازمین کا جمگھٹا نظر آیا وہ تیزی سے وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ان کی بیٹی میراں زمین پر پڑی تھی اس طرح کے اس کے اس پاس خوں کا ایک چھوٹا سا تالاب سا بن گیا تھا-

"کیا ہوا میری میراں کو؟”  وہ تیورا کر وہیں گرنے والے تھے کہ افضل نے انہیں سنبھال لیا–انور میراں کے قریب بیٹھ گیا اور اسے ہلایا جلایا اس کی نبض چیک مگر وہاں زندگی کی کوئی رمق نہیں تھی-میراں مر چکی تھی-

"میراں گئی بھائی ………….میراں مر گئی……….سارے جھگڑے ختم ہو گئے-"میراں کی لاش کے پاس بیٹھی ایک ادھیڑ عمرعورت چودھری غفور کی طرف دیکھ کر چلائی تھی-وہ سارا معاملہ سمجھ گیا تھا–اس کا دل خوں کے آنسو رو رہا تھا-میراں اس کی واحد بیٹی تھی-

"اس نے چھت سے کود کر جان دے دی…………سارے جھگڑے مک گئے……..ہائے میری بچی تو نے یہ کیا کیا؟”بوڑھی عورت دوبارہ بین کرنے لگی-وہ زا ر و قطار رو رہی تھی-دیگر عورتیں بھی آہ  و بکا کر رہی تھیں-افضل اور انور کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا-وہ دونوں سکتے کے عالم میں تھے-پھر افضل نے چونک کر بوڑھی عورت سے کہا تھا-

"ایسی بات نہ کر پھوپھی…………. وہ غلطی سے گری ہو گی-"

"وہ غلطی سے نہیں گری -"چودھری غفور نے گھمبیر مگر دھیمے لہجے میں آنسو پونچھتے ہوئے کہا-

ذرا سی دیر میں پوری حویلی آہوں اور سسکیوں میں ڈوب گئی-اور آن  کی اآن میں یہ خبر پورے گاؤں میں پھل گئی تھی کہ چودھری غفور کی بیٹی اور چودھری افضل اور انور کی اکلوتی بہن حویلی کی چھت سے گر کر مر گئی ہے-رات گئے تک اسے آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا تھا-تدفین کے موقع پر میراں کا شوہر اس کی ساس اور اسکا ڈیڑھ سالہ بیٹا بھی موجود تھا-اس کی جوان سال موت پر ہر آنکھ اشکبار تھی-

رات کا وہ نہ جانے کونسا پہر تھا جب چودھری غفور گاؤں کے اس واحد تھانے میں آیا تھا-ایک حوالدار وہاں موجود تھا جو زمین پر چادر بچائے سو رہا تھا-چودھری جھکا اور اسے جگانے کے لیے اس کا ہاتھ ہلایا-

"کون……….کون ہے…….رات کے اس پہر ؟”وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا-

"میں ہوں چودھری غفور -"

"اوہ…………….. چودھری صاحب آپ؟” وہ پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوا-"آئیے آئیے سرکار -"اس نےانہیں کرسی پیش کی-"بیٹھیے …….سب خیر تو ہے نہ؟”

"تھانیدار کہاں ہے؟” چودھری صاحب نے گھمبیر لہجے میں کہا –

"وہ جی……….وہ تو اس وقت اپنے کوارٹر میں ہیں………میں ابھی ان کو بلواتا ہوں…….دین محمدا………….او دین  محمد-"اس نے کسی کو آواز دی تھی-

"آیا جی”دور کہیں سے کسی کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز ای تھی-

"چھیتی جا…….تھانیدار صاحب کو بتا-چودھری غفور آئے ہیں-"اس نے بلند آواز سے کہا تھا-"آپ بیٹھیں نہ چودھری صاحب……..”حوالدار کی آواز اس کی سماعتوں تک پہنچی ہی نہیں تھی وہ تو دور کہیں اپنے خیالوں میں کھویا ہوا تھا-

"چودھری صاحب-"اس بار اس نے تیز آواز میں اسے پکارا تو وہ چونکا تھا-

"آپ بیٹھیں میں تھانیدار صاحب کو خود بلا کر لاتا ہوں-"یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا-

چودھری کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح کرسی پر ڈھے سا گیا تھا-اس نے اپنا سر سامنے میز سے ٹکا دیا تھا-

"چودھری صاحب آپ؟”……….اتنی رات گئے؟…….اور آپ نے خود آنے کی زحمت کیوں کی کوئی بندہ بھیج دیا ہوتا……..میں حاضر ہو جاتا-"تھانیدار جو تیزی سے کمرے میں آیا تھا اس کے مقابل کرسی پر بیٹھا کہہ رہا تھا-وہ یونہی میز پر سر ٹکائے بیٹھا رہا-

"چودھری صاحب سب خیر تو ہے ؟” اس نے فکر مندی سے کہا تو چودھری غفور نے سر اٹھا کر اسے خالی خالی نظروں سے دیکھا-

"سوالات نہ کر……… ایف آئ آر کاٹ ……….قتل کی-"اس نے عجیب سے لہجے میں کہا –

"ایف آئ آر………قتل کی؟…………مگر کس کے خلاف اور کس کے قتل کی؟”تھانیدار حیرانی سے بولا-

"تو لکھ………..میں تجھے بتاتا ہوں کہ قاتل کون ہے؟”

"میں سمجھ نہیں پایا چودھری صاحب ………آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟”وہ حیران رہ گیا تھا-"آپ ذرا مجھے تفصیل سے بتائیں-"

"کاغز قلم اٹھا………”چودھری صاحب کی آواز اسے کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی تھی- اس نے روزنامچہ کھولا-"جی فرمائیے -"تھانیدار نے کہا-

"تھانیدار یہ کہانی بیس سال پرانی ہے جب میں دولت اور جوانی کے نشے میں مست تھا………..”

         ****************************************************

 چودھری غفور ان دنوں چوبیس سال کا گھبرو جوان تھا-اور اس کی چھوٹی بہن دلشاد اٹھارہ سال کی تھی-دولت کی ریل پیل نے اسے لاابالی ،بےپرواہ اور عیاش بنا دیا تھا-وہ تمام وقت اپنے آوارہ قسم کے دوستوں کے ساتھ موج مستی میں گزارتا تھا- اس دن شام ڈھلے جب وہ حویلی پہنچا تھا تو مہمان خانے میں پڑوسی گاؤں کے ملک دلاور کی ماں کواپنے والد سے گفتگو کرتے پایا تھا-

"اسلام و علیکم-” کہتا وہ کمرے میں داخل ہوا تھا-

"وعلیکم اسلام-"اس کے والد اور دلاور کی ماں بیک وقت بولے تھے-وہ باپ کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گیا تھا-ان کے درمیان گفتگو کا سلسلہ پھر جڑ گیا جو اس کی آمد کی وجہ سے منقطع ہوا تھا-

"بس چودھری صاحب ہمیں تو اس گھر سے آپ کی بیٹی چاہیے ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے ایک ہی تو میرا بیٹا ہے دلاور ……اور الله کا دیا ہمارے پاس بہت کچھ ہے-"

چودھری صاحب مسکرائے تھے-"میں جاننتا ہوں بہن آپ جدی پشتی رئیس ہیں مگر ہم اپنی بیٹی کو خالی ہاتھ تو رخصت نہیں کریں گے نا ………..جو اس کا حق ہے اسے دیا جائے گا-اس کے حصے کی جائیداد اور زمینیں اس کو ملیں گی …….دو ہی تو میرے بچے ہیں غفور اور دلشاد ساری جائیداد ان دونوں کی ہی تو ہے-"

جائیداد کی تقسیم کا سن کر اسے اچنبھا ہوا تھا-یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ بہن کی شادی ہو گی تو وہ اپنے ساتھ اپنے حصے کی جائیداد بھی لے جائے گی-یہ اسے کسی طرح گوارا نہیں تھا-

"اچھا آپ یہ بتائیں رشتہ تو پکا ہے نا ؟”

"ہاں ہاں ………… غفور مٹھائی لے کر آؤ -"چودھری صاحب نے بیٹے کی طرف دیکھا-وہ ناگواری کا احساس لیے اٹھ گیا تھا-

بے حد خوبصورت شا دو کا رشتہ گھبرو جوان ملک دلاور سے پکا ہو گیا تھا-حویلی میں شادی کے ہنگامے جاری تھے-مگر غفور کو ان ہنگاموں سے کوئی سروکار نہیں تھا-اسے تو کسی لمحے چین نہ پڑتا تھا- اس کی آبائی زمینیں شادو اپنے ساتھ غیر خاندان میں لے جا رہی تھی-لیکن وہ سوائے ہاتھ ملنے کے کچھ نہیں کر سکتا تھا-جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا -چودھری صاحب زبان دے چکے تھے-

شادی کے دن قریب آ رہے تھے جب ملک دلاور نے اپنی کزن کو شادو کے پاس بھیجا تھا-

"دلاور شادی کے جوڑے اور سامان لینے کل شہر جا رہا ہے -اس نے معلوم کروایا ہے کہ تمھاری کوئی خاص پسند ہو تو بتا دو-"کزن نے اس سے کہا تھا-

"میں کیا بتاؤں ان سے کہنا اپنی پسند سے لے آئیں-"شا دو نے شرماتے ہوئے کہا تھا-غفور باہر جا رہا تھا جب اس نے انہیں یہ گفتگو کرتے سنا تھا-

"تو پھر ٹھیک ہے میں تمہاری طرف سے اسے بہت سی چیزوں کی فرمائش کر دوں گی-” اس نے شرارت سے کہا تھا-

"ہائے الله وہ کیا سوچیں گے-ایسا نہیں کرنا-"اس نے جلدی سے کہا تھا-

"وہ کچھ نہیں سوچے گا بلکہ خوش ہوگا-"کزن نے ہنستے ہوئے کہا تھا پھر کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کر کے وہ چلی گئی تھی-

ملک دلاور کو آخری بار گاؤں  کے اسٹیشن سے ٹرین میں سوار ہوتے دیکھا گیا تھا-پھر اسکا کچھ پتا نہیں چلا تھا-اسے شہر میں اپنے جس دوست کے پاس ٹہرنا تھا-وہ وہاں بھی نہیں پہنچا تھا -شادی کے دونوں گھر ماتم کدہ بن گئے تھے-کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ کسی لٹیرے نے اسے پسے کے خاطر مار ڈالا ہے کیونکہ اس کے پاس اچھی خاصی رقم تھی-کچھ کا خیال تھا کہ اسے اغوا کیا گیا ہے اور جلد ہی تاوان کا مطالبہ سامنے آئے گا -پولیس بھی حرکت میں آ گئی تھی-اور دونوں طرف کے افراد اور اس کے دوست وغیرہ بھی اسے تلاش کر رہی تھے ان میں غفور اور اس کے دوست بھی شامل تھے مگر وہ تو ایسا غائب ہوا تھا کہ کہیں سراغ نہ ملتا تھا-اس کی اور اس کے خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی بھی نہیں تھی-

پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا پرچہ درج کر لیا تھا-اسی سلسلے میں وہ تفتیش کر رہی تھی تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے انہوں نے غفور اور اسکے دوستوں سے بھی پوچھ گچھ کی تھی جس کا غفور نے بہت برا منایا تھا-بہرحال دلاور کا کچھ پتا نہیں چلا تھا کہ اسے آسمان کھا گیا تھا یا زمین نگل گئی تھی -شا دو کا رو رو کر برا حال تھا-اس کی تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی-

وقت کچھ آگے سرکا تھا کئی سال بیت گئے تھے-شادو نے پھر کبھی شادی کے لیے ہامی نہیں بھری تھی اس نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا-کچھ عرصہ بعد چودھری غفور کی بھی دھوم دھم سے شادی ہو گئی تھی-اس کے یکے بعد دیگرے دو بیٹے پیدا ہوئے تھے شادو نے بھائی کے بچوں پر اپنی محبتیں نچھاورکر دی تھیں حویلی اور ڈیرے کے تمام انتظامات شادو کے ہاتھ میں تھے-اس کے حصے کی زمینیں بھی اس کے پاس تھیں چودھری غفور پہلے سے بڑھ کر اسکا خیال رکھنے لگا تھا-

انہی دنوں چودھری غفور کی بیوی نے ایک بچی کو جنم دیا تھا-اور اسی دوران کچھ ایسی پیچیدگی ہوئی تھی کے وہ جان کی بازی ہار گئی تھی-نومولود بچی کو پھوپھی شا دو نے سینے سے لگایا تھا پھر اسے ماں بن کربڑے ناز و نعم سے پالا تھا-وقت گزرتا رہا اور میراں بڑی ہوتی گئی-وہ اپنی پھوپھی کو ہی اپنی ماں سمجھتی تھی-شادو اب بیمار رہنے لگی تھی-غفور اس کی صحت کی طرف سے بہت پریشان رہتا تھا-ان دنوں بھی وہ بہت بیمار تھی-اس کا بخار ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا-

میراں اس کے سرہانے بیٹھی سر دبا رہی تھی-چودھری غفور بھی قریب ہی بیٹھا تشویش سے اسے دیکھ رہا تھا-

"شہر چلنے کی تیاری کرو-"غفور نے بہن سے کہا تھا-

نہیں مجھے شہر نہیں جانا -"شا دو نے نحیف آواز میں کہا تھا-

"بس بس………زیادہ باتیں نہ کرو ہمیں تسلی کرنے دو-…….میراں بیٹا اپنی پھوپھی کو تیار کرو ہم انہیں ابھی شہر کے بڑے اسپتال لے کر جایں گے-"یہ کہتا ہوا وہ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا تھا-

چودھری غفور کی دونوں بہوویں اس بات پر بہت ناراض رہتی تھیں کہ حویلی اور ڈیرے وغیرہ کے تمام انتظامات  غفور کی بہن کی ہاتھ میں تھے -اسی لیے وہ پھوپھی کو دشمن سمجھتی تھیں-بہرحال غفور شا دواور میراں کو لیے شہر کے اس بڑے اور مشھور اسپتال لے کر آیا تھا جہاں شادو کا علاج شروع ہو گیا تھا-

اس رات ڈاکٹر نے میراں سے کہا تھا "میں کچھ میڈیسن لکھ رہی ہوں یہ منگوا لیں-"

"ملازم کھانا کھانے گئے ہیں میں لے آتی ہوں اس نے پرچہ ڈاکٹر کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا تھا-"نہیں میراں تم اکیلی نہ جاؤ شیرا آجائے گا-تو منگوا لیں گے-"پھوپھی نے جلدی سے کہا تھا-

"میں بس یوں گئی اور یوں آئ پھوپھی دوائیوں کا اسٹور اسپتال کے اندر ہی ہے-"وہ بولی تھی-

"اچھا دھیان سے جانا اور جلدی آنا-"پھوپھی نے کہا تھا-وہ تیزی سے باہر نکل گئی تھی-

وہ اسٹور سے دوائیاں خرید رہی تھی جب اس کی نظر اس کے گاؤں کے ایک نوجوان پر پڑی تھی جو اسے ہی حیرت سے دیکھ رہا تھا-وہ دوائیاں لے کر تیزی سے مڑی تھی اس کا رخ پھوپھی کے کمرے کی جانب تھا-کہ اچانک  اسے اپنے پیچھے کسی کی آواز سنائی دی-

"سنیے- وہ رکی اور پلٹ کر اسے دیکھا وہی نوجوان وہاں کھڑا تھا-"آپ میران بی بی ہیں نا چودھری صاحب کی بیٹی-"وہ ہچکچاتے ہوئے بولا تھا-اس نے اثبات میں سر ہلایا اور آگے قدم بڑھا دیے-وہ تیزی سے اس کے قریب آیا اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا-"سب خیر تو ہے…….کون بیمار ہے؟ "

"پھوپھی کی طبیعت ٹھیک نہیں -"

"اوہ کون سے وارڈ میں ہیں؟”

"پرائیویٹ ونگ روم نمبر پانچ میں -"

"میری امی بھی ایڈمٹ ہیں…………میں کسی وقت آؤں گا انھیں دیکھنے -اس نے کہا تھا-اس نے سر اٹھا کر اس خوبرو نوجوان کو دیکھا تھا پھر سر جھکائے آگے بڑھ گئی تھی-وہ دور تک اس حسین لڑکی کو دیکھتا رہا تھا-جو اس کے دل پر قیامت ڈھا گئی تھی-

غفور کو کچھ اہم معاملے نمٹانے تھے-اسی لیے وہ بہن کے پاس میراں اور دو ملازمین کو چھوڑ کر گاؤں چلا گیا تھا-

حویلی میں بیٹے اور بہویں خوش گپپیوں میں مشغول تھے جب چودھری غفور وہاں پہنچا تھا-

تم لوگ اپنی پھوپھی کے پاس شہر چلے جاؤ  وہاں میراں اکیلی ہے-"

"اکیلی کہاں ہے بابا ملازم ہیں ان کے ساتھ-پھر ان کا علاج بھی لمبا ہے ہم سب کام دھندے چھوڑ کر وہاں کیسے رہ سکتے ہیں-"

"تمہاری بیویاں تو جا سکتی ہیں-"

"بابا یہاں حویلی اور ڈیرے کا انتظام کون سنبھالے گا-"بڑی بہو نے کہا تھا-

"اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر ہم کیسے جائیں؟”چھوٹی بہو نے کہا -"انہیں ساتھ لے کر تو نہیں جا سکتے-"

"ہاں بھئی سب کو اپنے بچے پیارے ہوتے ہیں-"سب نے اپنی مجبوریاں بیان کر دی تھیں وہ دکھے دل سے وہاں سے اٹھ گیا تھا-

شادو کو اسپتال میں ایڈمٹ ہوئے دو ہفتے ہو گئے تھے- شیراز اور اس کی ماں نے ان دونوں کا بڑا خیال رکھا تھا اور ان کے بہت کام آئے تھے-چودھری غفور نے بھی اطمینان کی سانس لی تھی-میراں پھوپھی کے پاؤں دبا رہی تھی-

"سدا خوش رہو-الله نصیب -پھوپھی نے اسے دعا دی تھی- اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی تھی-میراں نے جا کر دروازہ کھولا سامنے شیراز اور اس کی ماں کھڑے تھے-وہ دونوں اندر آئے تھے-

کسی طبیعت ہے اب آپ کی ؟”شیراز کی ماں نے شا دو سے پوچھا تھا-

شکر ہے الله کا کافی بہتر ہے-"انہوں نے کہا تھا-میراں  اور شیراز کچھ فاصلے پر بیٹھے ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے-جبکہ دونوں خواتین نہ جانے کیا کھسر پھسر کر رہی تھیں- شیراز کی ماں نے میراں کے لیے اپنی پسندیدگی ظاہر کی تھی-یہ سن کر شادو سوچ پڑ گئی تھی -اس  نے فی الحال یہ کہہ کر ٹا ل دیا تھا کہ وہ بھائی سے بات کرے گی-شیراز کا گھرانہ گاؤں کا ایک معزز گھرانہ تھا کھاتے پیتے کاروباری لوگ تھے مگر چودھری صاحب کی ٹکر کے نہیں تھے-

شادو صحت مند ہو کر حویلی آ گئی تھی-اور بھائی کے کان میں اس رشتے کی بات ڈال دی تھی-کچھ عرصہ گزرا تھا جب شیراز کی ماں حویلی آئ تھیں-شادو اور چودھریغفور نے ان کا استقبال بڑی گرمجوشی سے کیا تھا-

"آپ کے بیٹے نے جو خدمت میری بہن کی کی ہے وہ میں نہیں بھول سکتا-"

"یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں اس نے تو صرف اپنا فرض ادا کیا ہے-ہم اس تعلق کو رشتے میں بدلنے کے لیے آپ کے در پر آئے ہیں-میرا مطلب ہے شیراز کو اپنا بیٹا بنا لیں-"انہوں نے اپنا مدعا بیان کیا – تو چودھری غفور نے سنبھل کر کہا تھا کہ "میں اپنے بیٹوں سے مشورہ کروں گا اگر وہ راضی ہوئے تو مجھے اس رشتے پر کوئی اعترض نہیں ہے-"

"شیراز بڑا  نیک بچا ہے-"شا دو  نے انہیں چائے پیش کرتے ہوئے کہا تھا-پھر کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کر کے وہ بولیں تھیں-"ہم آپ کی ہاں کا انتظار کریں گے اب ہمیں اجازت دیجیے-یہ کہہ کر وہ اٹھ گئیں تھیں-

"نا  بابا جان نا ……….نہ وہ لوگ ہماری ذات کے ہیں نہ ہمارے برابر کے-ہم اپنی بہن کی شادی اس سے نہیں ہونے دیںگے-ہم تو کتا بھی نسل دیکھ کر خریدتے ہیں-اور مجھے تو یہ لوگ لالچی معلوم ہوتے ہیں -"اس نے اپنے بیٹوں سے مشورہ کیا تھا تو چودھری افضل نے جواب دیا تھا-

"شیراز بہت شریف اور نیک لڑکا ہے-اور وہ گھرانہ اتنا گیا گزرا بھی نہیں -انہیں دولت کا کوئی لالچ نہیں ہے-"چودھریغفور نے کہا تھا-

"بابا جان آپ بہت سادہ ہیں-یہ دیکھیں کے علاج کے لیے داخل چند دنوں میں وہ اتنا متاثر ہوئے کہ رشتے کے لیے گھر پہنچ گئے-ان کی نظر ہماری زمینوں پر ہے-"

"او بد نصیبوں ……اتنی بری جائیداد میں سے کچھ تمہاری بہن لے جائے گی تو کیا قیا مت آ جائے گی-"وہ صدمے سے بولا تھا-

"بابا جان اگر جائیداد اسی طرح تقسیم کرتے رہے تو تیسری پیڑھی تک ایک کنال بھی نہیں بچے گی-"چھوٹا بیٹا بولا تھا-

"کیوں لڑ رہے ہو تم لوگ؟”پھوپھی شادو کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولیں-"کس بات کا جھگڑا ہے؟”

"زمین اور جائیداد ہی ان کے لیے سب کچھ ہے ……..بہن سے انہیں کوئی محبت نہیں-"چودھری غفور غصے سے بولاتھا –

"آپ فکر نہ کریں بھائی مجھے معلوم ہے وہ لوگ لالچی نہیں ہیں اور نہ ہی میراں کو زمین کا کوئی ایسا ٹکڑا چاہیے جس پر نفرت کی فصل اگتی ہو-میں تم لوگوں کو ایک مشورہ دینا چاہتی ہوں جائیداد کو مسئلہ نہ بناؤ بس اس شادی پر سب راضی  ہو جاؤ -میراں کی شادی نہ روکو-"

"پھر تو جھگڑا ہی مک گیا پھوپھی -"افضل خوش ہوتا ہوا بولا شادی کی تیاری کریں بابا -"

میراں بہت خوش تھی-شادی کے بعد ایک سال تو بہت ہنسی خوشی گزرا تھا-وہ ایک بیٹے کی ماں بن گئی تھی-پھر نہ جانے کیا ہوا کہ شیراز کے کاروبار میں زوال آ گیاتھا -اسے سنبھالا دینے کے لیے سرمایے کی ضرورت تھی جو اس کے پاس نہیں تھا-وہ ان دنوں بہت پریشان تھا-

"کاروبار ختم ہو گیا تو ہم تباہ ہو جایں گے-تم کہیں سے رقم کا انتظام کرو-"شیراز کی ماں نے کہا تھا-

"کہاں سے انتظام کروں میرے پاس کوئی الہ دین کا چراغ نہیں ہے-"شیراز نے جھنجھلا کر کہا تھا-

اپنی عقل استعمال کرو…………..اگر بہو چاہے تو یہ مسئلہ منٹوں میں حل ہو سکتا ہے-"

"وہ کیسے؟” میراں اور شیراز بیک وقت بولے تھے-

"وہ ایسے کے بہو اپنے باپ اور بھائیوں کے پاس جا کر زمینوں میں سے اپنا حصہ لے آئے-اس کی قیمت اتنی تو ہو گی کہ تم اپنے کاروبار کو سنبھالا دے سکو گے-"

"ہاں بھائی جان یہ ہو سکتا ہے-"شیراز کی بہن نے کہا تھا-

"نہیں……….یہ میں نہیں کر سکتی-” میراں نے کہا تھا-

"کیوں نہیں کر سکتیں بھابھی -"نند نے تیزی سے کہا آپ کے حصے کی جائیداد آپ کے بھائیوں کے قبضے میں ہے اور آپ آرام سے بیٹھی ہیں -یہ موقع ایسا ہے کہ آپ کو اپنے شوہر اور بیٹے کے بارے میں سوچنا چاہیے -"

"میں آپ لوگوں کو کیا بتاؤں -"میراں نے بے چارگی سے کہا تھا-

"ہاں ہاں بتاؤ نہ کیا مجبوری ہے-"اس کی ساس نے کہا –

"شادی کے موقع پر بھائیوں نے یہ بتا دیا تھا کہ وہ میرا حصہ مجھے نہیں دیں گے-اسی شرط پر وہ راضی ہوئے تھے-"

"ان کے کہنے سے کیا ہوتا ہے-وہ تمہیں تمہارے حق سے محروم نہیں کر سکتے………دیکھو میراں انسان کو اپنا حق کسی قیمت پر نہیں چھوڑنا چاہیے-تم ابھی وہاں جاؤ اور اپنے حصے کا مطالبہ کرو-یہ میرا حکم ہے-"اس کے محبوب شوہر کی نظریں بدلی ہوئی تھیں-وہ حیرت سے اسے تک رہی تھی-وہ جا ننتی تھی کے بھائی اس کی بات کبھی نہیں مانیں گے-بہرحال وہ حویلی آ گئی تھی اور جب اس نے اپنے سسرال والوں کا مطالبہ اپنے باپ سے بیان کیا تھا تو وہ اپنے بیٹوں کے پاس آیا تھا-

"یہ کیا کہہ رہے ہیں وہ لوگ ………ایسا سبق دوں گا کہ ساری زندگی یاد رکھیں گے-"چودھری افضل یہ سب سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گیا تھا-

"ہم نے انہیں اپنی بیٹی دی ہے اور بیٹی کا سر اسکے سسرال کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے -"چودھری غفور نے بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کی تھی-

"ہم اپنا سر انکے سامنے نہیں جھکائیں گے…….اور اپنی زمین کا ایک ٹکڑا بھی انہیں نہیں دیں  گے…….. میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ لالچی لوگ ہیں-"

افضل جائیداد کی خاطر اپنی بہن کا گھر مت اجاڑوتھوڑی سی زمین اس کے حصے کی چلی جائے گی تو کوئی قیامت نہیں آئے گی- "چودھری غفور غصے سے بولے تھے-

"میرا منہہ نہ کھلوانا بابا ……….آپ نے بھی تو اپنی بہن کے ساتھ انصاف نہیں کیا …………. بے چاری آج تک کنواری بیٹھی ہے……….اس کے حصے کی جائیداد آپ ہڑپ کر چکے ………کبھی آپ کا دل تو نہیں پسیجا اسکے لیے-"چودھری غفور یہ سنتے ہی غصے سے کانپنے لگا-

"میں تم سب کو عاق کر دوں  گا اوراپنیبیٹی کا حق اسے ضرور دوں گا-"چودھری غفور چلایا تھا-

"کسی بھول میں نہ رہنا بابا……..اگر آپ نے ایسا کیا تو ہم عدالت میں جایں گے-"

"بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں بابا جان -"انور نے کہا تھا-"چل نکے -"افضل نے کہا اور وہاں سے چلا گیا-غفور جہاں کا تہاں کھڑا رہ گیا تھا-

"نہیں…………نہیں میں اتنی آسانی سے ہار نہیں مانوں گا-"وہ بڑبڑایا تھا-

"ہار تو ہو چکی بھائی -"اس کی بہن شادو نہ جانے کب وہاں آئ تھی-"آپ کے ما ننے یا نا ماننے سے کیا ہوگا-"

"نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا-"غفور کی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی تھی-

"وقت بڑا ظالم ہوتا ہے بھائی ………..سب کو سبق پڑھاتا ہے……..کسی کا سر بلند نہیں رہنے دیتا……..”

"میں اتنا کمزور نہیں ہوا کے میرے بیٹے میرے مقابلے کے لیے کھڑے ہو جایں -"

"کمزور………..کمزور تو میں تھی بھائی……….ہمارے باپ تھے…………ہمیں سب پتا تھا-"

"کک……..کیا پتا تھا؟”وہ اچھنبے سے بولا-

"یہی کے دلاور کے غائب ہونے میں کس کا ہاتھ تھا-"

غفور کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا-"کیا تمہیں مجھ پر شک تھا-"

"مجھے تو کیا بابا کو بھی شک نہیں پورا یقین تھا………..مگر نہ وہ اپنا بیٹا کھونا چاہتے تھے اور نہ میں اپنا بھائی ……….ہم تو خاموش رہے مگر الله تو ظالم کو نہیں چھوڑتا نا ………..اپنا انتقام لے کر چھوڑتا ہے……..”

"الله نے انتقام لینا ہے تو مجھ سے لے شا دو میری بیٹی تو معصوم ہے ……….نہیں نہیں میں اس کے ساتھ نہ انصافی نہیں ہونے دوں گا-"یہ کہتا ہوا وہ تیزی سے وہاں سے چلا گیا تھا-

میراں کے سسرال والوں نے اس کا جینا مشکل کر دیا تھا-اور اس سے اس کا بیٹا بھی چھین لیا تھا-وہ حویلی میں اپنے باپ بھائیوں کے در پر آ پڑی تھی-اس کے شوہر نے کہہ دیا تھا کے جب تک وہ اپنی جائیداد لے کر نہیں آئے گی اس کے دروازے اس پر بند رہیں گے-ادھر حویلی میں بھی اس کے لیے حالات سازگار نہیں تھے-دونوں بھابھیاں اس سے خارکھاتی تھیں اور اسے باتیں سناتی تھیں-اس پر بچے کی جدائی اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی-شوہر کی دھمکیاں الگ تھیں-ایک پھوپھی کا دم غنیمت تھا جو اسے دلاسے دیتی رہتی تھیں-

ان دنوں بابا شہر گئے ہوئے تھے-بھائیوں اور بھابھیوں نے اس کا جینا حرام کیا ہوا تھا-وہ ساری ساری رات روتی رہتی تھی-کب صبح ہوتی تھی کب شام اسے پتا نہیں چلتا تھا-اور اس دن افضل نے اسے سخت سست سنائی تھیں- حالات نے اسے اتنا دل برداشتہکر دیا تھا کےاسے صرف موت میں ہی پناہ نظر  آئ تھی -اور اس نے حویلی کی چھت سے کود کر جان دے دی تھی-جوان بیٹی کی موت نے چودھری غفور کو توڑ کر رکھ  دیا تھا-

"تجھے بہت جلدی تھی میراں ………….. میرا انتظار تو کیا ہوتا………….یہ دیکھ میں تیری زمین لے آیا ہوں……..”اس نے کاغذات اس کی لاش کے پاس رکھتے ہوئے کہا تھا-اٹھ میراں ……….شا دو یہ اٹھتی کیوں نہیں……..جرم میں نے کیا اور سزا ملی میری بیٹی کو یا الله یہ کیسا انصاف کیا ہے تو نے………”وہ پھوٹ پھوٹ  کر رو رہا تھا-

              *************************************************************************

"دلاور کو میں نے قتل کروایا تھا-اس کا قتل میرے حکم پر ہوا تھا-میں قاتل ہوں انسپکٹر مجھے گرفتار کرو -"غفور پولیس اسٹیشن میں بیٹھا کہہ رہا تھا-

"چودھری صاحب آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگتی……آ پ کی بیٹی کی چھت سے گرنے کی اطلاع ہمیں ملی تھی اور آپ برسوں پرانا قصہ سنا رہے ہیں-"اسی وقت غفور کے دونوں بیٹے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تھانے پہنچے تھے-

"بابا جان آپ یہاں پہنچے ہوئے ہیں اور ہم آپ کو پورے گاؤں میں تلاش کرتے پھر رہے ہیں-چلیں گھر چلیں-"چودھری افضل تیزی سے ان کے قریب آیا تھا-اور انہیں تھام کر اٹھانے کی کوشش کی تھی-

"چھوڑ مجھے-"انہوں نے اس کے ہاتھ جھٹکے تھے-"انسپکٹر…….تو ایف آئ آر لکھ……پرچہ درج کر………..میرا اقبالی بیان لکھ میں قاتل ہوں…….”

"ارے انسپکٹر صاحب بیٹی کی اچانک موت کے صدمے سے بابا کا دماغی توازن ……..”انور نے اپنی کنپٹی پر انگلی گھمائی -انسپکٹر اس کا اشارہ سمجھ گیا تھا –

"آپ لوگ انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جایں ان کی طبیعت ٹھیک نہیں لگتی -"انسپکٹر نے کہا "

دونوں بیٹوں نے انہیں بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا اور زبردستی کھینچتے  ہوئے باہر کی سمت چلے اس طرح کے وہ گھسٹتا ہوا ان کے ساتھ چلا جا رہا تھا اور چیخ رہا تھا "میں قاتل ہوں……. میں قاتل ہوں……”اور انسپکٹر بیٹھا سوچ رہا تھا-کہ بیٹی کے صدمے سے بوڑھے باپ کا دماغ الٹ گیا ہے-(ختم شد )

               *************************************************************

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خوشی شیکھا گپتا/عامر صدیقی

خوشی شیکھا گپتا/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. آج جیسے ہی گھر سے آفس کے لئے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے