سر ورق / سفر نامہ / محبت کے پروں میں گھنٹیاں باندھو۔۔۔۔۔ سفرنامہ بھارت ۔۔۔حسن عباسی

محبت کے پروں میں گھنٹیاں باندھو۔۔۔۔۔ سفرنامہ بھارت ۔۔۔حسن عباسی

            محبت کے پروں میں گھنٹیاں باندھو

حسن عباسی

سفر تو روزِ ازل سے انسان کے پاﺅں سے بندھا ہے۔

کبھی نہ ختم ہونے والا سفر۔

کبھی نہ ختم ہونے والا راستہ اُس کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔

یہ جہانِ رنگ و بو پڑاﺅ نہیں رہگذر ہے۔

یہاں ہر شخص مسافر ہے اور اُس کے پاس ایک سفر نامہ ہے۔

اچھے اور بُرے تجربات سے بھرا ہوا ایک صندوق۔

خوبصورت اور تلخ یادوں کی ایک پوٹلی۔

زیادہ تر لوگ جب سفر سے لوٹتے ہیں تو اس صندوق کو دماغ کے پچھواڑے کہیں پھینک دیتے ہیں۔

اس یادوں کی پوٹلی کو دِل کے کسی کونے میں رکھ کر بھول جاتے ہیں۔

ان کے لےے نہ تو پُرانا سفر یاد گار ہوتا ہے اور نہ ہی نیا سفر پُراسرار۔

مگر کچھ لوگ اس صندوق، اس پوٹلی کو بہت سنبھال کر رکھتے ہیں۔ وہ سفر کے اچھے اور بُرے تجربات سے بہت کُچھ سیکھتے ہیں۔ اس طرح نیا سفر اُن کے لےے بہت دلچسپ اور آسان ہو جاتا ہے۔

یہ لوگ خوبصورت اور تلخ یادوں کی پوٹلی بھی ہر وقت سینے سے لگا کر رکھتے ہیں۔ جس جگہ بھی تھوڑی دیر سستانے کے لےے رُکتے ہیں پوٹلی سے ایک ایک یاد باہر نکال کے اُس میں اپنا آپ بسر کرتے ہیں۔ اپنی یادوں میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔

سفر نامہ اپنی یادوں میں دوسروں کو شریک کرنے کا نام ہے۔

یادیں تو پُرانی ہو کر اور بھی کیف آور ہو جاتی ہیں۔

سفر نامہ بھی عجائب گھر کی طرح ہوتا ہے جس میں ہر طرف پُرانی اور نایاب یادیں رکھی ہوتی ہیں۔

حنوط شدہ پرندوں کی طرح۔

پرانی ڈاک ٹکٹوں کے مانند۔

کانسی کے برسوں پُرانے سکّوں کی صورت۔

میں ایسا ہی خوبصورت سفر نامہ لکھنا چاہتا ہوں مگر مجھے ڈر ہے میں ایسا نہیں کر پاﺅں گا یہ کُچھ نہ کر سکنے کا ڈر انسان سے بہت کچھ کرا لیتا ہے۔

ایک آدمی جو ٹانگوں سے معذور ہو وہ خواب میں بہت تیز دوڑتا ہے۔

میں بھی اسی ڈر کے حصار میں یہ سفر نامہ لکھ رہا ہوں۔ ایک شاعر کا مثبت اور منفی پہلو اُس کا شاعر ہونا ہوتا ہے کیونکہ ایک شاعر صرف شاعری کر سکتا ہے۔ شاعری کے علاوہ وہ جو کام بھی کرے گا اُس میں اُس کا شاعرانہ مزاج غالب رہے گا۔

جس طرح پیار کرنے والے کبھی کاروبار نہیں کر سکتے اس طرح ایک شاعر کبھی شاعری سے ہٹ کر نہیں سوچ سکتا۔ اُس کی آنکھوں میں ایک الگ دُنیا کے خواب ہوتے ہیں وہ ان خوابوں سے باہر نہیں آنا چاہتا۔ وہ عمر بھر ان خوابوں کی تعبیر ڈھونڈتا رہتا ہے مگر اس دُنیا میں تو روز اُس کا ایک خواب چکنا چور ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے خوابوں کی کرچیاں بھی سنبھال کر رکھتا ہے کیونکہ اُس کے پاس خوابوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا یہی خواب اُس کا اثاثہ اور یہی خواب اُس کا سرمایہ ہوتے ہیں۔

اگر ایک شاعر سفرنامہ لکھے گا تو وہ خوبصورت یادوں اور سنہری خوابوں سے آباد ہو گا۔

سفر پہ جانے سے پہلے اپنے چاہنے والوں سے بچھڑتے وقت کی بھی ایک رسم ہوتی ہے جس کو نباہنا ضروری ہوتا ہے۔ خموشی سے چُپ چاپ آمنے سامنے بیٹھے رہنا۔ لفظوں اور جذبوں کو آنکھوں کے اندر رکھ دینا۔ کچھ نہ کہہ کر بھی سب کچھ کہہ جانا۔ سب کچھ کہہ کر بھی کُچھ نہ کہنا۔

جس طرح ملنے والے ہمیشہ جدائی کے لمحوں میں ملتے ہیں کاش بچھڑنے والے بھی ملنے کی ساعتوں میں بچھڑتے تو عمروں سے لمبے روگ دلوں کو کبھی نہ لگتے۔

بچھڑتے وقت کی رسم بھی عجیب ہوتی ہے۔ کسی کو رُخصت کرنے کے آداب بھی نرالے ہوتے ہیں۔ اس رسم میں تو آنسوﺅں اور دُعاﺅں کی تقریب کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ سارے مناظر دھندلا جاتے ہیں۔ دِل و دماغ ٹھکانے پہ نہیں رہتے پھر بھی یہ رسم نبھانی پڑتی ہے۔

بچھڑتے وقت کی جو رسم ہے پوری ادا کی تھی

اُسے رُخصت کیا تھا اور پھر میں نے دعا کی تھی

رختِ سفر دُعائیں ہوں تو منزل ضرور ملتی ہے۔ دُعا سفر میں سائے کی طرح ہوتی ہے۔ دُعا پانی کے مشکیزے کی طرح مسافروں کو زندگی بخشتی رہتی ہے۔ دُعا گائیڈ میپ نہیں بلکہ گائیڈ کی طرح نہ صرف سمت دُرست رکھتی ہے بلکہ دِل کو مطمئن بھی رکھتی ہے۔

صدیوں پہلے بھی اونٹوں کے قافلے دُعاﺅں سے صحراﺅں کو عبور کرتے رہے ہیں اور آج بھی جہاز ہوا کے دباﺅ سے نہیں بلکہ دُعا کے دباﺅ سے ہی سات سمندر پار چلے جاتے ہیں۔

اگر ماں کی دُعا ساتھ ہو تو خالی ہاتھ بھی سب کُچھ ساتھ ہوتا ہے اور اگر ماں کی دُعا ساتھ نہ ہو تو سارے سفر رائیگاں ہیں۔ ماں جب بچے کو نہلا دُھلا کر یونیفارم پہنا کر سکول بھیجتی ہے تو یہ سفر بچے کی زندگی کا سب سے شاندار سفر ہوتا ہے کیونکہ اُس کے بستے میں کتابوں کے ساتھ ماں کی دُعائیں بھی ہوتی ہیں۔ وہ روشنی کے سفر پر گامزن ہوتا ہے۔ اگر بچوں کے بستوں میں ماں کی دُعائیں نہ ہوتیں تو شاید کوئی بھی بڑا سائنسدان، بڑا ڈاکٹر، بڑا انجینئر یا بڑا آدمی نہ بن پاتا۔

سفر میں دُعائیں مسافروں کو اس طرح حادثوں سے بچاتی ہیں جیسے مُرغی اپنے بچوں کو پروں کے اندر چھپا لیتی ہے۔ میں جہاں بھی گیا ہمیشہ ماں کی دُعا کے حِصار میں رہا۔

میں، جسے اپنے گھر میں بھی ڈر لگتا تھا یہ جو ملکوں ملکوں گھوم لیا ماں کی دُعا کا کرشمہ ہے۔

یہ میں جو پھرتا رہتا ہوں دُنیا میں بے خطر

کوئی نگاہ ہے جو نگہبان کم نہیں

روہڑی کے ریلوے اسٹیشن پر بیٹھے ایک بوڑھے شخص نے ٹھیک کہا تھا۔

”ماں کی دُعا بہادر بنا دیتی ہے۔ ماں کی دُعا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔ ہر مصیبت کا سامنا کرنے کا، زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنے کا۔ صدیوں کے سفر کی تھکن ماں کا چہرہ دیکھنے سے اُتر جاتی ہے۔ ماں کی نظریں سفر کے دُکھ چُن لیتی ہےں۔ ماں جب سر پر ہاتھ پھیرتی ہے تو ہزاروں بلائیں ٹل جاتی ہیں“۔

سفر شاعر اور پیغمبر کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے۔

پیغمبر کا سفر یثرب کو مدینہ بنا دیتا ہے۔

مصر کا بازار ہو یا فرعون کا دربار، کوہِ طور ہو یا کوہِ صفا سفر کے بغیر قصّہ مکمل نہیں ہوتا، حکم اُدھورا رہتا ہے، پیغام پہنچ نہیں پاتا، مقصد بے مقصد ہو جاتا ہے۔

سفر شاعروں کو اظہار ہی نہیں اعتبار بھی بخشتا ہے۔

سفر میں پُرانے رستوں پر نکل جانا مجھے اچھا لگتا ہے۔ پُرانے رستے یادوں کی چھوٹی چھوٹی اینٹوں سے بنے ہوتے ہیں۔ قدم قدم پر کوئی یاد آکے رہ جاتا ہے، قدم قدم پر ٹھہرنا پڑتا ہے، ٹھہر ٹھہر کے چلنا پڑتا ہے۔ یہ ٹھہر ٹھہر کے چلنے کا عمل بہت دلفریب ہوتا ہے۔ کسی کو اپنے ہمراہ لے کر چلنے کی خواہش جیسا۔ وہ جو ساتھ نہیں۔ اُس کو اپنے ساتھ محسوس کرنے کی طرح خوبصورت۔

قدم قدم پہ کوئی یاد آکے رہ جائے

سفر نیا ہے مگر راستہ پُرانا ہے

کچھ رستوں پر ہم عمر بھر چلتے ہیں مگر وہ پھر بھی اجنبی رہتے ہیں

وہ ہم پر کُھلتے نہیں۔ ہم سے باتیں نہیں کرتے۔ درد آشنا اور راز آشنا نہیں بنتے۔ ہم اُن سے مانوس نہیں ہو پاتے۔ ہم اُن رستوں سے بار بار گذرتے ہیں مگر بتا نہیں سکتے کہ اگلے موڑ پر کونسا پیڑ ہو گا۔

کچھ راستوں پر ہم پہلی بار قدم رکھتے ہیں مگر وہ آشنا آشنا سے اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ ہم جہاں جاتے ہیں یہ رستے ہمارے ساتھ چل پڑتے ہیں۔ ہمیں ان کے اوجھل منظروں کے بارے میں بھی پتہ ہوتا ہے شاید راستے بھی لوگوں کی طرح ہوتے ہیں۔

بچپن میں سندباد جہازی کے سفر نامے ہر وقت میرے بستے میں رہتے۔ وہ میرا ہیرو تھا۔ وہ جب بھی نئے سفر کے لےے اپنے جہاز کے بادبان کھولتا۔ میں بھی چپکے سے سوار ہو جاتا۔ طوفانوں میں گِھرنے اور مصیبتوں میں پھنس جانے کے بعد ڈٹ کر مقابلہ کرنا مجھے بہت اچھا لگتا سندباد جہازی نے مجھے سمندروں کا مسافر بنا دیا۔ میں سندباد جہازی کے سفر ناموں سے باہر نکلا تو میرے چاروں طرف صحرا تھا، ریت کے ٹیلے تھے۔ میں صحرا میں سمندر کی تلاش کرتا رہا۔ ایک شام وہ صحرائی لڑکی جس کی آنکھیں سمندر جیسی تھیں مجھے اپنی لہروں کے ساتھ بہا کر لے گئی۔

سمندروں کے مسافر تھے دربدر رہتے

تمہاری آنکھ نہ ہوتی تو ہم کدھر رہتے

ہر انسان کی زندگی سند باد جہازی کے سفر ناموں کی طرح پُراسرار، دلچسپ اور حیران کُن واقعات سے بھری ہوتی ہے۔ ان واقعات کو بیان کرنا ہی اصل ہُنر ہے۔ ”محبت کے پروں میں گھنٹیاں باندھو“ میرا پہلا سفرنامہ ہے جو کہ ہندوستان کی سیاحت پر مشتمل ہے۔

غلام محمد قاصر نے کہا تھا:

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

مجھے بھی ایسا لگتا ہے کہ محبت کے علاوہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اس لےے میں جہاں بھی گیا۔ محبت کے پروں میں گھنٹیاں باندھیں۔ میرے خیال میں ایک شاعر کو محبتوں کا پیغمبر اور سفیر ہونا چاہیے۔

میں فطری طور پر بہت رومینٹک (Romantic) ہوں۔ جب بھی کوئی خوبصورت چہرہ یا منظر دیکھتا ہوں تو میرا دل چاہتا ہے ویسی ہی کوئی خوبصورت نظم یا غزل لکھوں۔ خوبصورتی کی تعریف کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔ سفر میں بہت سے لوگ ملتے ہیں اُن کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کو نظرانداز کرکے سفرنامہ نہیں لکھا جا سکتا۔ اس سفر میں بھی بہت سی لڑکیوں سے ملاقات ہوئی، اُن میں سے کچھ اچھی بھی لگیں، دوستیاں بھی ہوئیں مگر یہ دوستیاں آئینے کی طرح صاف، شفاف اور اُجلی تھیں۔ اس لےے مجھے ان کا ذکر کرتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ اور شرمندگی نہیں ہوئی۔

ابتداءمیں اندازِ تحریر سنجیدہ تھا بعد میں شگفتہ ہوتا گیا۔ ایسا میں نے شعوری طور پر نہں کیا بلکہ حادثاتی طور پر ایسا ہوا۔ دراصل دلّی میں ایک ”مومن خسرے“ کی زیارت ہوئی تو اُس کے بعد نہ صرف اندازِ تحریر شگفتہ ہو گیا بلکہ خود کو بھی میں نے ”میں“ کی جگہ ”ہم“ لکھنا شروع کر دیا۔

تاریخی مقامات اور شہروں کا مختصر تعارف میں نے لکھا ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی مقامات اور شہروں کے متعلق معلومات اب کوئی مسئلہ نہیں۔ بے شمار کتب شائع ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کے ذریعے باآسانی سب معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ سفرنامے میں کوشش کی ہے کہ میں جہاں گیا ہوں، جن لوگوں سے ملا ہوں، جن جگہوں کو دیکھا ہے۔ اُن میں اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات قاری تک پہنچاﺅں۔ اپنے سفر کی خوبصورتی اور تلخ یادوں میں آپ کو شریک کروں کیونکہ میرے نزدیک سفرنامہ اپنی یادوں میں کسی کو شریک کرنے کا نام ہے۔

حسن عباسی

لاہور

—–٭٭٭—–

بھارت

پہلی بار

            تاج محل کی طرف جانے والا راستہ

کچھ چیزیں اپنی نہیں ہوتی مگر اُن کے کھو جانے کا بہت دُکھ ہوتا ہے۔

بچپن میں میرے ایک کلاس فیلو کے پاس ایک چھوٹا سا ٹی وی تھا۔ یہ کھلونا اُس کے والد کراچی سے لائے تھے۔ اس ٹی وی کا ہلکا سا زاویہ بدلنے سے اسکرین کی تصویر بدل جاتی تھی۔ بھالو غائب ہو جاتا، درخت پہاڑ اور سبزہ نمودار ہو جاتے۔ ہم سب کلاس فیلوز جمع ہو کر اس منظر کو بار بار دیکھتے تھے۔

ایک روز وہ ٹی وی اُس کے بھائی سے کہیں کھو گیا۔ جب اُس نے اُداس لہجے میں مجھے اُس کے بارے میں بتایا تو مجھے بہت دُکھ ہوا۔

اُس کے کھو جانے کا دُکھ اب بھی میرے دِل میں ہے۔

پتہ نہیں میرا کلاس فیلو دوست اب کہاں اور کس حال میں ہے مگر اتنے برس گذر جانے کے بعد بھی میرے دِل کی خواہش ہے کہ اگر وہ کھویا ہوا ٹی وی مجھ کو کہیں سے مِل جائے تو میں اُس دوست کو دے دوں۔

اسی طرح ایک روز تاج محل کی طرف جانے والا راستہ بھی گُم ہو گیا تھا۔ مجھے اُس کا بھی شدید دُکھ ہوا۔ میں نے کُچھ دن تک کھانا بھی نہیں کھایا اور کئی راتوں تک نیند بھی نہیں آئی۔

اپنے اسکول کے ساتھ وہ بلدیہ کی محصول چونگی، اُس کے ساتھ کےکر کا درخت، درخت کے تنے پر لوہے کی تختی، جس پر موٹے موٹے لفظوں میں لکھا ہوتا۔

”مروٹ چھتیس کلومیٹر“

کیکر کے نیچے ایک نلکا تھا۔ جس کا پانی بہت ٹھنڈا ہوتا۔ کھیل کے دوران جب ہمیں پیاس لگتی اس نلکے کا پانی پی کر روح سرشار ہو جاتی۔

ایک بار میں نے کسی کو کہتے سُنا

”مروٹ سے آگے انڈیا ہے“۔

یہ سُنتے ہی فوراً میری آنکھوں کے سامنے تاج محل کا نقشہ گھوم گیا۔

میں نے اپنے ماموں سے تاج محل کے متعلق بہت کُچھ سنا تھا۔ اُنھوں نے ایک بار تاج محل کا سراپا اس ساحرانہ انداز میں بیان کیا کہ مجھے اُس سے محبت ہو گئی تھی۔ اُٹھتے، بیٹھتے، چلتے پھرتے میرا دھیان تاج محل کی طرف رہتا رات کو نیند میں سپنے بھی تاج محل کے آتے، میں اُس کے پہلو میں بیٹھا ہوتا، سنگِ مر مر کو چھو رہا ہوتا کہ اچانک آنکھ کُھل جاتی۔ سپنا ٹوٹ جانے کا بہت دُکھ ہوتا۔

اُن دنوں میں نے اپنے گاﺅں کے میلے سے تاج محل کی ایک تصویر بھی خریدی تھی جو ہر وقت میرے بستے میں رہتی اور میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد اُسے نکال کر دیکھتا تھا۔

میں بہت دیر تک اُس تختی کو دیکھتا رہتا جس پر موٹے موٹے لفظوں میں لکھا تھا۔

”مروٹ چھتیس کلومیٹر“

اُس روز نلکے کا ٹھنڈا پانی پیے بغیر ہی روح سر شار ہو گئی اور میں منصوبہ بندی کرنے لگا کہ اگر میں مروٹ پہنچ جاﺅں تو انڈیا جا سکتا ہوں اور تاج محل کو دیکھ سکتا ہوں۔

اُس روز کے بعد میں جب بھی پانی پینے آتا میرا دھیان اُس تختی کی طرف ضرور جاتا اور میں ہر بار مروٹ جانے والے راستے کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھتا کیونکہ اب مجھے یوں لگنے لگا تھا جیسے یہی راستہ تاج محل کی طرف جا رہا ہے۔ اس راستے کے ساتھ مجھے عجیب و غریب سی اُنسیت پیدا ہو گئی تھی۔ میں نے اب اس راستے پر یونہی صبح و شام جانا شروع کر دیا تھا۔

راستے میں سب سے پہلے نہر بہاول کینال آتی سارا سال نہر کا بہاﺅ اپنے زوروں پر ہوتا۔ گرمیوں کے موسم میں بچے، جوان، بوڑھے سب ہی اس میں نہاتے، پُل پر سے نہر میں چھلانگیں لگاتے دھوبی اس کے کناروں پر کپڑے دھوتے چھوا چُھو، چھوا چُھو، کی آوازوں سے فضا بہت مترنم ہو جاتی۔

پہلے مجھے اس نہر سے خوف آتا تھا۔ اب مجھے تاج محل کے راستے میں آنے والی ہر چیز سے محبت ہو گئی تھی

محبت میں خوف کی جگہ خوبصورتی لے لیتی ہے۔

صبح کے وقت جب نہر کے ساتھ دور تک پھیلے ریت کے ٹیلوں سے سورج نمودار ہوتا تو یہ منظر بہت دیدنی ہوتا۔

صبح کی نماز پڑھنے کے بعد کئی لوگ چہل قدمی کرتے ہوئے نہر کے پُل پر آجاتے یہاں کھڑے ہو کر وہ نہ صرف مذہب اور سیاست پر گفتگو کرتے بلکہ لطیفے سُناتے اور ایک دوسرے پر زبردست و دلچسپ طنزیہ فقرے کستے مگر میں نے یہاں کبھی کسی کو تاج محل کے بارے میں باتیں کرتے نہیں سنا۔

کُچھ لوگ آگے اسٹیشن کی طرف چلے جاتے اسٹیشن کی سڑک کی حالت غریب بیوہ جیسی تھی۔

نہر پر آنے والے لوگوں میں بیشتر کے مُنہ میں مسواک ہوتا اور اگر کسی کے پاس نہ ہوتا تو وہ یہاں کسی کیکر کی ٹہنی سے توڑ کر مسواک بنا لیتا۔ یہ نہر شہر کے لوگوں کی واحد تفریح گاہ ہی نہیں بلکہ مچھیروں کی شکارگاہ، سکول سے بھاگے ہوئے طالب علموں کی پناہ گاہ اور تاش کے کھلاڑیوں کی آماجگاہ بھی تھی۔ اسے گائے اور بھینسوں کی درسگاہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ شہر والے اپنے اپنے پالتو جانور اس طرف ہانک دیتے وہ بڑے سلیقے سے اس کے کناروں پر آکر لیٹ جاتے دن بھر نہاتے اور شام کو اُسی طرح سے واپس چلے جاتے۔

میں نہر کے پُل پر بیٹھا یہ سارے مناظر دیکھتا رہتا حالانکہ میرا دھیان تو اُس راستے کی طرف ہوتا جو مروٹ سے انڈیا اور پھر تاج محل کی طرف جانے والا تھا۔

دُنیا کی سیر بھی اِنھی راہوں میں ہو گئی

حالانکہ میں نے تم سے تمہی تک سفر کیا

غریب لوگ بیوی بچوں سمیت میلوں پھیلے چولستان سے خود لکڑیاں چُن کر لے آتے۔ جو صاحبِ حیثیت تھے وہ نہر کے پُل پر آکر کھڑے ہو جاتے جب اونٹوں والے لکڑیاں لاد کر آتے تو یہ اُن سے خرید لیتے۔

سردیوں میں اونٹوں والے رات بھر کلہاڑیوں سے لکڑیاں کاٹتے اور صبح کے وقت نہر کنارے پہنچ جاتے۔ اُنھوں نے لمبے لمبے کمبل اوڑھے ہوتے اور اُن کے مُنہ سے کوئلے والے انجن کی طرح دھواں نکل رہا ہوتا یہ اونٹ جب شہر میں داخل ہوتے تو بچے ان کو دیکھنے کے لےے اکھٹے ہو جاتے وہ ڈرتے بھی تھے اور قریب بھی آنا چاہتے تھے بالکل میری طرح مجھے انڈیا کی طرف جانے والے راستے سے ڈر بھی لگتا تھا اور میں تاج محل بھی دیکھنا چاہتا تھا۔

چولستان میں رہنے والی ساری آبادی کو شہر سے ملانے والا واحد رابطہ یہی نہر کا پل تھا اور پاکستان کی مختلف چھاونیوں سے جنگی مشقوں کے لےے آنے والی فوج کی واحد گذر گاہ کا رابطہ بھی۔ میں نے اس پُل سے ہزاروں گاڑیاں اور سینکڑوں ٹینک گذرتے دیکھے۔ اس کی حالت دن بدن خراب ہوتی گئی یہ پل مجبور اور بیمار پلے دار کی طرح سب کا بوجھ ڈھوتا رہا۔ تاج محل کی طرف راستہ اسی پُل سے گذر کر جاتا تھا۔ اس لےے میں اس کی لمبی عمر کی ہر وقت دُعائیں مانگتا رہتا شاید اس لےے یہ پُل اپنی تمام تر خستہ حالی کے باوجود ابھی تک سانسیں لے رہا ہے۔

سردیوں اور گرمیوں میں نہر پر آنے والوں کے معمولات الگ الگ تھے۔ گرمیوں میں نہانا سب کا محبوب مشغلہ تھا۔

میں اور میرے دوست جب اپنے سے کم عمر بچوں کو نہر میں نہاتا دیکھتے تو رہا نہ جاتا، پانی میں شلواریں گیلی کر کے پھر اُن میں پھونکوں سے ہوا بھر کے اُنھیں پیراشوٹ بنا لیتے اور نہر میں کود جاتے۔

ڈوب جانے کا خطرہ بہر حال موجود ہوتا تھا مگر اُس وقت اس خطرے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔

اُن دنوں پتہ نہیں کیوں مجھے نہر عبور کرنے کا شوق لگ گیا تھا۔ اک روز میں نے بڑی مشکل سے نہر عبور کر لی۔ اس سے میرے اندر بڑا حوصلہ پیدا ہوا جب میں دوسرے کنارے پہنچا تو دوستوں نے تالیاں بجا کر اور گلے لگا کر میرا استقبال کیا تو میں نے سوچا کہ کسی روز یونہی اپنے اندر حوصلہ پیدا کر کے تاج محل تک بھی ضرور پہنچ جاﺅں گا۔

اُس روز میں بہت خوش تھا۔ بچپن کی خوشیوں کا نعم البدل زندگی بھر نہیں ملتا اوربچپن میں ملنے والے دُکھ بھی اُن پیڑوں کی طرح ہوتے ہیں جن کو کاٹ دیا جائے تو موسم بدلتے ہی وہ دوبارہ شاخیں نکالنے لگتے ہیں۔

نہر میں ہر سال کوئی نہ کوئی ضرور ڈوبتا جب بھی یہ سانحہ ہوتا پورے شہر میں خوف و ہراس پھیل جاتا مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ خوف کم ہو جاتا اور پھر وہاں کی رونقیں معمول پر آجاتیں۔

یہی زندگی ہے اور یہی زندگی کا حُسن کہ کسی کے چلے جانے سے زندگی کا کارواں رُکتا نہیں، کاروبارِ زیست چلتا رہتا ہے۔

میلوں تک پھیلے صحرا میں جب کوئی پنچھی اُڑتا ہوا نظروں سے اوجھل ہو جاتا تو مجھے لگتا، جیسے وہ انڈیا پہنچ گیا ہے مجھے اُس کی قسمت پر رشک آتا۔ میرا جی چاہتا مجھے بھی پر لگ جائیں اورمیں بھی اُڑتا اُڑتا تاج محل کے کسی مینار پر جا بیٹھوں۔ اور کبھی کبھی تو یوں لگتا جیسے میں واقعی ہوا میں اُڑ رہا ہوں اور اُڑتے اُڑتے انڈیا پہنچ گیا ہوں مگر تھوڑی دیر بعد وہی نہر کا کنارا وہی میں….

نہر پر مچھلی کا شکار بھی خوب ہوتا۔ کبھی کبھی مچھلی کی جگہ کُنڈی میں کچھوا پھنس جاتا اس صورتحال میں شکاری شور مچا کر سب کو اکٹھا کر لیتا اور سب لوگ خاص کر بچے اُسے اُس وقت تک پتھر مارتے رہتے جب تک کہ وہ ہلاک نہ ہو جاتا۔ یہ سیچویشن بڑی تھرلنگ (Thrilling) ہوتی۔ میں اُس معصوم کچھوے کو بہت ہمدردی سے دیکھتا رہتا جو اپنا سر اپنے جسم میں چھپائے موت کا منتظر ہوتا۔

جب سے میں نے کچھوے اور خرگوش والی کہانی پڑھی تھی مجھے کچھوے سے پیار ہو گیا تھا۔ وہ خرگوش سے دوڑ جیت کر میرا ہیرو بن گیا تھا۔ میں نے اُس سے مستقل مزاجی کا سبق سیکھا تھا اور یہی مستقل مزاجی مجھے بار بار تاج محل کی طرف جانے والے راستے پر لے جاتی تھی۔ میں جب اپنے ہیرو پر پتھر برستے دیکھتا تو بہت غصہ آتا۔ میں نے دِل ہی دِل میں عہد کیا جب میں بڑا ہو جاﺅں گا تو کچھّووں پر یہ ظلم نہیں ہونے دوں گا۔

اب جبکہ میں بڑا ہو گیا ہوں میں نے اپنے تمام ہیروز پر اُن کچھّووں کی طرح پتھر برستے دیکھے ہیں۔ ایک ایک کر کے اُن کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا مگر میں اب بھی کچھ نہ کر سکا۔ اتنے بڑے سانحوں کے بعد اب میرے دِل میں کچھّووں جیسی مخلوق کے لےے کوئی ہمدردی کا جذبہ باقی نہیں رہا۔

سرسبز درخت مدرسے کے فرمانبردار طالب علموں کی طرح نہر کنارے قطار بنائے ہر وقت حمد و ثنا پڑھتے اور جھولتے رہتے۔ مجھے اُن بچوں پر بھی اُن دنوں بڑا غصہ آتا جو ان درختوں پر چڑھ کر طوطوں کے بچے اُٹھا لیتے تھے۔ میں نے اُن دنوں دِل ہی دِل میں یہ عہد بھی کیا تھا کہ میں بڑا ہو کر یہ ظلم نہیں ہونے دوں گا اب جبکہ میری آنکھوں کے سامنے میرے کتنے بے گناہ ہم وطنوں کو غیر ملکی اُٹھا لے گئے ہیں تو اب میرے دِل سے اُن طوطوں کے لےے بھی ہمدردی کا جذبہ ختم ہو گیا ہے۔ شاید میں حقیقت پسند ہو گیا ہوں۔

”مروٹ ۶۳ کلومیٹر“ کی تختی اب کیکر پر نہیں مجھے اپنے دِل و دماغ پر لگی محسوس ہوتی۔ ہندوستان جا کر تاج محل دیکھنے کی خواہش اندر ہی اندر پنپ رہی تھی۔ اس خواہش کی پنیری لگ چکی تھی۔

پتہ نہیں کیوں مجھے اُن دنوں ایسا لگتا تھا کہ جیسے کسی روز میں پیدل چلتے چلتے تاج محل کے دروازے تک پہنچ جاﺅں گا مجھے اس بات کا قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ وہ بہت دور ہے اور ایسا ہونا ناممکن ہے۔

پس میرے دِل میں ایک منہ زور خواہش اور آنکھ میں بے چین سپنا تھا اور میرے دِل کو عجیب طرح کی تسلی تھی۔

ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں نے اسٹیشن تک جانے والی سڑک کا کچومر نکال دیا تھا۔ اب صرف پتھر ہی پتھر رہ گئے تھے۔ رنگ برنگے سانپوں کی طرح یہ پتھر بھی بہت خوبصورت تھے۔ ہم ان سے اپنی جیبیں بھر لیتے، ان پتھروں سے کھیلنے کا بہت مزہ آتا، اُن دنوں ہمارے شہر میں کھلونوں کی کوئی دُکان نہیں تھی۔ کھیلنے کے لےے صرف مٹی اور پتھر ہوتے تھے۔ ہمارے ایک مرحوم دوست حمید تسلیم کا شعر ہے

مٹی سے بھی پیار تھا مجھ کو

اور ماں سے بھی ڈر لگتا تھا

ماں کا ڈر بھی عجیب ہوتا ہے۔ نہ ہونے جیسا ڈر۔

مٹی سے ہم گھر وندے بناتے اور پتھروں سے توڑ ڈالتے۔

کیا کرتے؟

ہم بھی اپنے جبلّت کے ہاتھوں مجبور تھے۔

صدیوں سے انسان یہی تو کرتا آرہا ہے۔

شاید قدرت کی بھی یہی منشا ہے۔

اسٹیشن کی طرف جانے والا راستہ بہت اُجاڑ، ویران اور پُراسرار تھا۔ دن کے وقت بھی اُس طرف جاتے ہوئے ڈر لگتا….

تاج محل کی طرف جانے والا راستہ اسٹیشن سے ہو کر جاتا تھا۔

دیو قامت گھنے درخت، خوف سے بھری ہوئی خاموشی اور اس خاموشی میں سانپوں کے رینگنے کی سنسناہٹ مگر اُس رستے پر میرے قدم اُٹھتے ہی چلے جاتے۔

چوم کے ماتھا مرا روز جگائے کوئی

اُٹھ کے دیکھوں تو نظر بھی نہیں آئے کوئی

پاﺅں اُٹھتے ہی چلے جاتے ہیں جنگل کی طرف

مجھ کو مانوس سی آواز بُلائے کوئی

اُن دنوں بالکل میری یہی کیفیت تھی۔

یہ مانوس سی آواز اُس رستے کی تھی جو بھوت بنگلہ نما اسٹیشن سے ہو کر سیدھا تاج محل کی طرف جاتا تھا۔

اس رستے پر یونہی بے سبب جانے کی مجھے عادت پڑ گئی تھی۔ میں اکثر اوقات اس طرف آنکلتا۔ اسٹیشن کی طرف جانے والا راستہ بہت پُراسرار اور پُر خوف تھا مگر اسٹیشن پہنچتے ہی ڈر بالکل ختم ہو جاتا۔ اسٹیشن کا ماحول بہت رومینٹک تھا۔

چاروں طرف ٹیلے اور ٹیلوں میں چھوٹی اینٹوں سے بنی زردی مائل اسٹیشن کی عمارت، کُچھ فاصلے پر ایک چھوٹی سی مسجد۔

محوِ انتظار بُڑھیا کی طرح۔

تاحدِّ نظر لمبی ریل کی پٹڑی، پلیٹ فارم پر ایک خستہ بنچ اورہر طرف خاموشی کی سر سبز بیلیں، یہ سب چیزیں مل کر ماحول کو بہت رومینٹک بنا دیتی تھیں۔

شاعری کرنے کو جی چاہتا۔

نظریں بے ساختہ کِسی کو ڈھونڈنے لگتیں۔

ایک دن میں نے کسی کو کہتے سُنا کہ اسٹیشن ماسٹر کی بیٹی تاج محل سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔

میرا دِل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

ایک لمحے کو یوں لگا جیسے مجھے میری منزل مِل گئی ہو۔

گاڑی دِن میں ایک بار آتی جس میں اِکا دُکا مسافر اور باقی فوجی ساز و سامان ہوتا۔ میلوں دور سے گاڑی رینگتی ہوئی سُنڈی کی طرح دکھائی دیتی، وہ اپنی آمد کا اعلان کرتی ہوئی آتی۔ انجن کی وِسل اور چُھک چُھک کی آواز صحرا کو گیتوں سے بھر دیتی یہ بھاپ انجن ہوتا جسے ہم ”ککٹر“ انجن کہتے۔ اس کے چاروں اطراف دھواں ہی دھواں نکلتا اور اندر دہکتے ہوئے کوئلے ہوتے۔ سردیوں میں اس کے پاس کھڑے ہونے کا اپنا مزہ تھا۔

جب گاڑی آکر پلیٹ فارم پر رُکتی اسٹیشن جیسے مکمل ہو جاتا۔ اور پھر گاڑی کے جانے کے بعد وہی ادھورا پن۔

اسٹیشن کی حالت اُس بیمار، تنہا بوڑھے جیسی تھی جسے اُس کی اولاد چھوڑ کر دور دیسوں میں بس گئی ہو۔

دن میں گاڑی صرف ایک بار آتی جس دن گاڑی نہ آتی اسٹیشن بہت اُداس، بہت بے چین ہوتا۔ اِس کی آنکھیں پٹری کی طرف لگی رہتیں۔ اُس کے مسافر خانے سے اللہ خیر کی آوازیں آتی رہتیں۔ اسٹیشن ماسٹر گاڑی آنے سے تھوڑی دیر پہلے آجاتا اور وہی یہاں پر سب کچھ (All in all) تھا کبھی کوئی دوسرا ملازم نہ دیکھا۔ وہ اسٹیشن کے ساتھ ہی بنے ہوئے کوارٹر میں رہتا۔

برسوں گذر جانے کے بعد بھی اس کوارٹر کی حالت زیادہ خراب نہ تھی یہ بہت حیران کر دینے والی بات تھی۔

انگریزوں کی تعمیر کردہ خوبصورت چیزوں کو نظر نہیں لگتی ورنہ ہم تو جو کچھ تعمیر کرتے ہیں۔ نظر بد کی ”کالی کُنی“ رکھنے کے باوجود اُن کا وجود ”اُدھڑتا“ جاتا ہے۔

میں نے جب سے یہ سُنا کہ اسٹیشن ماسٹر کی بیٹی تاج محل سے بھی زیادہ خوبصورت ہے میری نظریں ہر وقت اُس کوارٹر کی طرف لگی رہتیں جو اسٹیشن پر رکھے بنچ سے بالکل صاف دکھائی دیتا تھا میرے اس تجسّس کے پیچھے بھی وہی تاج محل دیکھنے والا جذبہ کارفرما تھا۔

میں اسٹیشن پر بیٹھ کر گھنٹوں اُس کوارٹر کے دروازے کی طرف دیکھتا رہتا مگر مجھے کبھی وہ ماہ رُخ نظر نہ آئی اب میں نے تاج محل کی طرف جانے والے راستے پر بہت دور تک جانا چھوڑ دیا تھا۔ اسٹیشن سے آگے جاتے ہوئے قدم بوجھل بوجھل سے ہو جاتے کوارٹر کی عمارت نے میری آنکھوں کو جکڑ لیا تھا۔

یوں تو سارا سال فوج کی آمد و رفت رہتی مگر سردیوں میں آمد ہی آمد ہوتی ہر وقت جیپیں، ٹرک، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں گذرتی رہتیں، فوج سے پورا صحرا آباد ہو جاتا۔ بم دھماکوں سے رات دن گھروں کی کھڑکیاں بجتی رہتیں۔ کبھی کوئی خوف سے اُٹھ کر نہیں بیٹھا، شیر خوار بچے بھی ان دھماکوں کی آوازوں میں مزے کی نیند سوئے رہتے، دِل فوج کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے تھے۔ اس لےے اُن دھماکوں میں بھی موسیقیت تھی اور وہ لوری کا کام دیتے تھے۔

فوجی بہت پیارے لگتے تھے اُن کی گاڑی جہاں بھی نظر آتی ہم فوراً ”سیلوٹ“ کرتے اور وہ بھی ہاتھ ہِلا ہِلا کر ہمیں جواب دیتے۔

اُن کے Response سے دِل خوشی سے باغ باغ ہو جاتے۔ میں اور میرے تمام دوستوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد فوج جوائن (Join)کرنے کے خواب دیکھ لےے تھے۔

مجھے نیوی میں جانے کا شوق تھا۔ ایک تو اُن کی سفید یونیفارم مجھے بہت پسند تھی دوسرا سمندر میری بہت بڑی کمزوری تھا۔

جس دن میں سفید شلوار قمیض پہنتا، قمیض کو شلوار میں ڈال کر نیوی آفیسر بن جاتا۔

فوجی گاڑیاں آتیں، نہر کا پُل عبور کرتیں اور اسٹیشن سے ہوتی ہوئیں تاج محل والے رستے پر چلی جاتیں۔

کئی بار سوچا میں بھی کسی گاڑی میں چپکے سے بیٹھ کر چلا جاﺅں مگر کوئی گاڑی رُکتی ہی نہیں تھی۔

گاڑیاں آتیں، گذر جاتیں

گاڑیاں آتیں، گذر جاتیں

میں دھول اورمٹی میں اٹا اُن کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا رہ جاتا مگر ایک روز صورتحال اچانک بدل گئی۔

میں سکول آیا تو ہر طرف فوجی گاڑیاں کھڑی تھیں، درختوں کے نیچے، گراﺅنڈ میں، کمروں میں بندوقیں پڑی تھیں، بر آمدوں میں فوجی پھر رہے تھے جگہ جگہ خیمے لگے تھے۔ سکول کے ساتھ عید گاہ میں بھی فوجی گاڑیاں تھیں۔ پورا سکول چھاﺅنی بن گیا تھا۔

مجھے فوجیوں سے ڈر نہیں لگتا تھا مگر اُس دن میں پہلی بار ڈر گیا تھا۔ اُس دن کے بعد ہمیں ہمیشہ دھوپ میں بیٹھ کر پڑھنا پڑا۔ ہم اپنے کلاس روم میں جانے سے محروم ہو گئے تھے۔ جس کی دیواروں پر ہمارے ہاتھوں سے بنے رنگ برنگے چارٹ آویزاں تھے۔

جن چارٹوں کو دیکھ کر ہم بہت خوش ہوتے تھے۔ وہ چارٹ اب دیکھنے کو ترس گئے تھے۔ ایک دن میں نے جالی والی کھڑکی سے اپنے کلاس روم کے اندر دیکھنے کی کوشش کی تو دور کھڑے ہوئے فوجی نے اشارے سے وہاں سے چلے جانے کو کہا۔ مجھے بہت دُکھ ہوا۔

میں نے ماسٹر جی سے شکایت کی تو اُنھوں نے کہا:

”بیٹا یہ ہماری حفاظت کے لےے یہاں آئے ہیں۔ یہ ہمارے لےے اپنا گھربار، بیوی بچے چھوڑ کر یہاں رُکے ہیں۔ یہ ہمارے لےے اتنی مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کر رہے ہیں۔ یہ ہماری خاطر اپنی جان قربان کرنے کے لےے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ کیا ہم ان کے لےے اتنا بھی نہیں کر سکتے“۔

ماسٹر جی کی بات دل کو لگی میرا سارا غصہ کافور ہو گیا۔

وہ فوجی جس نے مجھے کلاس روم دیکھنے سے منع کیا تھا اب وہاں نظر نہیں آرہا تھا پھر بھی میں نے اُس کو سلیوٹ کیا اور اپنے دِل میں فوجی بننے کے عزم کو مزید پختہ کر لیا۔

فوجیوں نے ہمارے اسکول کے سارے گراﺅنڈز میں ٹرک ہی ٹرک کھڑے کر دیے تھے اب ہم کھیل بھی نہیں سکتے تھے۔ اُنھوں نے نہر کے پُل پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ وہاں سیر کے لےے آنے والوں، نہانے والوں، مچھلیاں پکڑنے والوں، سب کو روک دیا تھا۔ اس صورتحال پر میں جب بھی پریشان ہوتا مجھے ماسٹر جی کی بات یاد آجاتی اور میرے دِل میں فوجیوں کے لےے محبت اور بڑھ جاتی۔

ایک روز اُنھوں نے نہر میں بم پھینکا زور دار دھماکہ ہوا، چشم زدن میں ساری مچھلیاں مردہ ہو کر سطح آب پر تیر رہی تھیں۔ اُنھوں نے جال کے ذریعے اُن کو اکٹھا کیا اور ٹرک میں ڈال کر لے گئے۔ اور اسٹیشن کی طرف جانے والا راستہ بھی بند کر دیا تھا۔ اس راستے پر ہر وقت ٹینک اور گاڑیاں کھڑی رہتیں صرف مسافروں کو گذرنے کی اجازت تھی۔

اس راستے کے بند ہونے سے میں اُداس ہو گیا تھا کیونکہ یہ تاج محل کی طرف جاتا تھا یہ اُس کوارٹر کی طرف جاتا تھا جس میں تاج محل سے بھی زیادہ خوبصورت لڑکی رہتی تھی۔

مگر ماسٹر جی کی بات یاد آتے ہی میری اُداسی مسکراہٹ بن کر ہونٹوں پہ پھیل گئی۔

فوج جنگی مشقیں کرتی رہی، بادلوں اور توپوں کی گھن گرج سنائی دیتی رہی بموں کی آوازیں آتی رہیں اسی طرح کئی ماہ گذر گئے۔ صرف میں نے ہی نہیں سب لوگوں نے اُس طرف جانا چھوڑ دیا تھا۔ میں فوج کے واپس جانے کا انتظار کرتا رہا۔ پھر فوجی ٹرک اور ٹینک آہستہ آہستہ واپس جانے لگے۔ پھل فروٹ شہر کی مارکیٹ میں نظر آنے لگے۔ سبزیاں، دالیں، گوشت پھل سب کچھ سستا ہو گیا۔

پھر ایک دن وہ بھی آیا کہ شہر میں کوئی فوجی نظر نہ آیا۔

میں تاج محل کی طرف جانے والے راستے پر دوڑ پڑا مجھے کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ میں اسٹیشن کی طرف جانے والی سڑک پر ننگے پاﺅں دوڑتا گیا اور کوارٹر پر جا کر سانس لیا مگر وہاں جا کر پتہ چلا کہ تاج محل جیسی لڑکی اب وہاں نہیں۔

کچھ چیزیں اپنی نہیں ہوتیں مگر اُن کے کھو جانے کا دُکھ بہت ہوتا ہے۔

—–٭٭٭—–

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفر کاغان : اعجازالحق عثمانی

سفرنامہ: سفر کاغان سفرنامہ نگار: اعجازالحق عثمانی کے۔پی۔کے ” کے ہزارہ ڈویژن میں واقع وادی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے