سر ورق / مضامین / ننکانہ سے کرتار پور تک۔۔۔امجد جاوید

ننکانہ سے کرتار پور تک۔۔۔امجد جاوید

 

ننکانہ سے کرتار پور تک

ਨਨਕਾਣਾ ਤੋਂ ਕਰਤਾਰਪੁਰ ਤੱਕ
ਅਮਜਦ ਜਾਵੇਦ

امجد جاوید

اول اللہ نور اُپایا ، قدرت کے سب بندے

اک نور تے سب جگ اپجیا کون بھلے کو مندے

کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنا سکھ قوم کے ایک دیرینہ خواب کی تکمیل ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی طرف سے سکھ قوم کے لئے نہ صرف جذبہ خیرسگالی کا پیغام ہے بلکہ سکھوں کی مذہبی رسومات کا احترام بھی ہے۔ کرتار پور، سکھ قوم کے لئے مقدس مقام کیوں ہے؟ اس کا سیدھا جواب یہی ہے کہ یہاں سکھ مذہب کے بانی باباجی گرو نانک مہاراج نے اپنی آخری زندگی کے لگ بھگ آخری اٹھارہ سال گزارے۔ دراصل آخری ایام میں بابا جی گرو مہاراج نے اپنی سوچ اور فکر کا نہ صرف پرچار کیا بلکہ آخری گرو،گروگرنتھ صاحب کو مرتب کرنے کا بھی آغاز کردیا تھا۔ کرتار پور کی اہمیت گرو نانک مہاراج کی وجہ سے ہے۔ سکھ قوم کے لئے یہ مقام کس قدر مقدس ہے؟ وہ یہاں پر ماتھا ٹیکنے کو کیوں خوش قسمتی تصور کرتے ہیں؟ اس جگہ کو وہ اہم ترین کیوں خیال کرتے ہیں؟ اس کے لئے باباجی گرو نانک مہاراج کی زندگی کو دیکھنا ہو گا۔ اس سے یہ بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ آخر سکھ قوم کے لئے کرتارپور صاحب مقدس کیوں ہے؟

 جس وقت بابا گرو نانک مہاراج کی پیدائش ہوئی اس وقت برصغیرمیں برہمنیت اپنے عروج پر تھا۔ دوسرا بڑا عذاب عوام کیلئے یہ تھا کہ خلجی خاندان کا راج ختم ہوچکا تھا اور لودھی خاندان کی حکمرانی کا آغاز میں تھا۔ جب حکومتیں اجڑتی اور بستی ہیں، اس کا عذاب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اُس دور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے باباجی گرو نانک نے ایک اشلوک کہا تھا

کل کائی ، راجے قصائی، دھرم پنکھ لگا کر اُڈ گیا

کوڑ اماوس، سچ چندرما دسے نائیں ، کہہ چڑھیا

( ظلم کی تلوار کی دھار بڑی تیز ہے اور راج کرنے والے قصائی بن چکے ہیں۔ دھرم اور دین، جس نے طاقتوروں کو لگام ڈالنی تھی، وہ کہیں اڑ گیا ہے۔ جھوٹ کی اندھیری رات اُتر آئی ہے ۔سچائی کا چاند کہیں دکھائی نہیں دے رہا ہے۔)

15اپریل 1469ءمیں وسطی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاو ¿ں ”رائے بلار دی تلونڈی“( موجودہ ننکانہ صاحب ) میں اپنے ننہالی گھرمیں پیدا ہو ئے ۔ اسی مناسب سے ان کا نام نانک رکھا گیا تھا ۔اس سے پہلے ان کی بڑی بہن” نانکی“ کا نام بھی اسی وجہ سے رکھا گیا تھا۔

 گرو نانک کا خاندان اس گاو ¿ں میں بہت پہلے سے رہتا تھا

 بچپن میں گرو نانک عام بچوں کی طرح نہیں تھے۔ جس کی وجہ سے یہ فرض کرلیا گیا کہ انہیں کوئی کسی قسم کا روگ ہے۔ اس کے لیے انہوں نے بڑے وید وں اور حکیموں سے بھی رجوع کیا گیا تھا۔ بہرحال اس دور کو اس نظر سے دیکھا جائے کہ انہیں روگ نہیں تھا لیکن وہ عام بچوں میں اپنی انفرادیت رکھتے تھے۔

 بچپن میں گرونانک کے پہلے استاد مولوی قطب الدین صاحب تھے ۔جن سے گرونانک نے حرف شناسی سیکھی۔ اس کے بعد ان کے دوسرے استاد سید میر حسن صاحب تھے۔ اس بارے سکھ تاریخ کے مشہور دانشور گیانی سنگھ نے لکھا ہے کہ باباجی گرو نانک نے اسلامی تاریخ میں غوطہ زن ہوکر یہ پایا کہ سید میر حسن صاحب صاحب کرامت اور ولی بزرگ تھے۔ ان کا رویہ بھائی چارے والا تھا۔ لالچ اور لوبھ سے دور رہنے والی اس شخصیت کو علاقے کے لوگ ایک روحانی پیشوا کے طور پر مانتے تھے۔ آپ کالو مہتا کے ہمسائے میں رہتے تھے۔ اس لئے ہمسائیگی کا حق ادا کرتے ہوئے انہوں نے گرونانک جی کو اپنا دینی اور دنیاوی علم دیا۔ سید صاحب نے تعلیم دینے کا حق ادا کرتے ہوئے گہری رمزیں بابا گرو نانک پر کھول دی تھیں۔ بہت سارے لوگ یہ مانتے ہیں کہ گرونانک میں تعلیم حاصل نہیں کی اور ان کا کوئی استاد نہیں تھا ۔اس بارے سکھ اتہاس کے حصہ اول میں پروفیسر کرتار سنگھ اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں۔” بعض ناسمجھ لوگ دین دھرم کے بڑوں کی یہ بڑائی سمجھتے ہیں کہ انہیں ان پڑھ ثابت کر دیا جائے کہ ا نہیں کسی سے تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ گرونانک کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ گرو نانک جگت گرو بن کر آئے ہیں۔ یہ گرو صاحب کی بڑائی نہیں، انہیں ان پڑھ کہنا سمجھنا اور ماننا حق کا انکار ہے یہ سچ ہے کہ ان کے لیے اپنے وقت کی تعلیم کا بندوبست کیا گیا۔“

 بابا جی گرونانک کے بچپن میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے گاو ¿ں کے لوگوں کو ناصرف حیرت زدہ کردیا بلکہ انہیں عام بچوں سے الگ پہچان مل گئی ۔دستور زمانہ کے مطابق انہیں بکریاں چرانے کے لئے دے دی گئی۔ ایک دن بکریاں چراتے ہوئے آپ ایک درخت کے نیچے سو گئے۔ بے زبان بکرے بکریاں قریبی کھیت میں گھس گئے ۔ظاہر ہے جانوروں نے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے کھیتوں کو اُجاڑنا شروع کردیا۔ کھیت کے مالک نے اپنے اجڑے ہوئے کھیت کو دیکھا تو اپنا نقصان پورا کرنے کے لئے کالو مہتا کے پاس جا پہنچا اور اس سے اپنے نقصان کا تقاضا کردیا۔ وہاں ایک بحث چھڑ گئی ۔ جبکہ دوسری طرف سوئے ہوئے نانک کے پاس اس علاقے کا امیرکبیر مسلمان رائے بھلر کا گزرہوا ۔وہ یہ دیکھ کر ٹھٹھک گیا کہ نانک سو رہا ہے اور اس کے پاس ایک سیاہ رنگ کا ناگ پھن پھیلائے پہرا دے رہا ہے۔ یہ سب دیکھ کر وہ حیرت سے ششدر رہ گیا۔ وہ گاو ¿ں میں پہنچا جہاں کھیت کے نقصان کا جھگڑا چل رہا تھا۔ رائے بھلر نے یہ سارا ماجرا جب گاو ¿ں والوں کو بتایا تو یہ تماشہ دیکھنے کے لئے سبھی گاو ¿ں والے اس جگہ امنڈ آئے۔ جہاں پر گرونانک سو رہا تھا۔ سانپ اپنا پھن پھیلائے کھڑا تھا اور کھیتوں کی حالت درست ہو گئی تھی۔ اس واقعہ پر رائے بھلر نے کہا ،” مہتا جی، یہ بچہ آپ کی سمجھ سے باہر ہے ۔اس کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ کسی روپے پیسے کی ضرورت ہو تو مجھے کہنا۔ بچے کی خواہش کا احترام کرنا سیکھ لو۔“

 گرونانک کی سوچ اور فکر کا پہلا اظہار اس وقت ہوا جب جینﺅ پہننے کی رسم کا انعقاد کیا گیا۔ نانک نے جینﺅ پہننے سے انکار کردیا۔ جنم ساکھیوں کے مطابق یہاں ایک طویل بحث ہوئی۔ جس کا خلاصہ گرونانک مہاراج کے الفاظ یوں ہے کہ برہمن یہ دھاگہ اپنے حلوے مانڈے اور چپڑی ہوئی روٹی کے لئے تیار کرتے ہیں۔ گھر میں موج میلہ ہوتا ہے اور براہمن یہ دھاگا کسی کی گردن میں ڈال دیتے ہیں۔ اس دھاگے کو ذرا سا کھینچا جائے ٹوٹ جاتا ہے۔ لوگ نیا بازار سے لے آتے ہیں۔ اگر اس دھاگے میں کوئی کرامت ہوتی تو یہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔“ انہی خیالات کا اظہار گرو نانک نے بعد میں یوں کیا

دئیا کپاہ ، ستوکھ سوت ، جت گندھی سے وٹ

ایہہ جینﺅ ئِ تا پاڈے گھت

نہ اے ٹٹے ، نہ اے مل گلے،نہ ایہہ جلے نا جا ئِ

دھن سو مانس نانکا، جو گل چلے پائِ

( رحمدلی کی کپاس لے کر قناعت کا دھاگا بٹ لے پھر اسے اندر کی پاکیزگی والی گانٹھیں دے کر گلے میں پہن لے کیونکہ روح کو ایسے ہیں جینﺅ کی ضرورت ہے یہ دھاگا نہ کبھی ٹوٹتا ہے اور نہ میلا ہوتا ہے۔ نانک وہ بندہ بڑا خوش قسمت ہے جسے یہ دھاگا میسر آجائے کیونکہ یہی تھا گا پہننے والا سدا سکھ کے ساتھ رہتا ہے۔)

 گرو نانک جب سولہ برس کے ہوئے ان کے والد کالو مہتا نے اپنے بیٹے نانک کو بیس روپے دے کر کہا ،کوئی ایسا سودا کر کہ اگلے پچھلے سارے دکھ بھلا دے نانک بیوپار کے بارے میں جانتے نہیں تھے۔ سو باپ نے بالاجٹ نامی ایک ملازم کو ساتھ کر دیا۔ نوجوان نانک اپنے ملازم کے ساتھ کے لئے نکل پڑے۔ راستے میں انہیں چند فقیر ملے ۔کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کہی نہیں جاتیں لیکن سمجھنے والے سمجھ لیتے ہیں۔ نوجوان نے ان کے سامنے روپے رکھ دیے۔ مگر وہ گداگر نہیں، فقیر تھے۔ ہیرے جوہرات یار وپے سے بھوک ختم نہیں ہوتی ۔اس کے لیے روٹی چاہیے ہوتی ہے۔ نوجوان نانک نے اپنے ملازم بالے جٹ کو روٹی اور دوسرا کھانے پینے کا سامان لانے کے لئے بھیج دیا۔ وہ سامان لے آیا تو فقیروں نے کھایا اور ان کی بھوک ختم ہوگئی۔ نوجوان نانک نے سچا سودا کر لیا تھا۔

 جب گھر واپس آئے اور اپنے سچے سودے کے بارے میں بتایا ۔کالو مہتااپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ جنم ساکھیوں میں لکھا ہے کہ باپ کالو مہتا نے بیٹے نانک کے چہرے پر تھپڑ بھی مار دیا تھا۔ ایک باپ نے اپنے بیٹے کو نہیں مارا بلکہ بھلائی کے منہ پر تھپڑ پڑا تھا۔ ایسے موقعہ پر نیک دل رائے بھولر سامنے آیا۔ اس نے کالو مہتا کو بیس روپے دیے اور نوجوان نانک کو اپنے ساتھ لے گیا۔

ایسے ہی ایک دن تالاب سے نہا کر گرونانک واپس آرہے تھے کہ ایک درویش مل گیا۔ اس سے خوب باتیں کیں۔ جس سے گرو نانک کا من خوش ہو گیا۔ انہوں نے صرف اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا تانبے کا جھنگ بلکہ ہاتھ میں پہنی سونے اپنی سونے کی انگوٹھی بھی اس درویش کو پیش کر دی۔ یہ ایسا واقعہ تھا جس سے کالو مہتا کو اتنا غصہ آیا کہ اس نے نوجوان نانک کو اپنے گھر سے نکال دیا۔ پھر اس موقع پر رائے بھولر ہی سامنے آیا۔ اس نے فیصلہ دے دیا کہ نانک اب دوبارہ کالو مہتا کے گھر نہیں جائے گا بلکہ اسی کے پاس رہے گا ۔

 نوجوان نانک کی عمر لگ بھگ اٹھارہ برس ہو چکی تھی۔ انہیں اپنی بہن” نانکی“ کے پاس سلطان پور بھیج دیا گیا۔ ان کے ہمراہ ان کا ملازم بالاجٹ بھی تھا۔ جسے نانک کے ساتھ سلطان پور بھیجا گیا ۔وہاں ان کے بہنوئی جے رام کی ملازمت نواب دولت خان لودھی کی ہاںتھی۔ وہیں نانک جی کو بھی ملازمت مل گئی ۔ وہ نواب کے دولت خانے میں ملازم ہوگئے ۔ تقریبا ً دو برس بعد م نانک جی کی شادی گرداس پور کے ایک گاو ¿ں” پکھو کے“ میں لال چند کی بیٹی سلکھنی سے ہوگئی۔ وقت کے ساتھ ان کے ہاں دوبیٹے پیدا ہوئے۔جولائی 1494ءمیں سری چند اور فروری 1497 میں لکھمی چند پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش پر ہندو رسمیں ہوئی جو اس زمانے کا دستور تھیں۔

 پہلے بیٹے کی پیدائش پر گرو نانک نے برہمنیت سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا۔ ہوایوں کے ہندومت میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جب کسی گھر میں بچے کا جنم ہو تو وہ گھر تیرہ دن تک پلید ہو جاتا ہے ۔جس کے لئے” سوتک“ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ تیرہ دن کے بعد پنڈت آکر اس گھر کو پاک کرتے تھے ۔اس ضمن میں نانک جی کے گھر میں یہ جشن منایا جا رہا تھا۔ آپ نے پنڈتوں سے پوچھا

” یہ کیا ہو رہا ہے؟“

 اس سوال کے جواب میں پنڈتوں نے شاستروں میں لکھا ہوا بیان کیا پاکی اور ناپاکی کے بارے میں بتایا تب بابا گرونانک نے فرمایا

جے کر سوتک منیے سبھ تے سوتک ہوئے

گوہے تے لکڑی اندر کیڑا ہو ئے

جیتے دانے ”اَن“ کے جہیا باہیجھ نہ کوئے

پہلا پانی جیو ہے ،جت ہریا سبھ کوئے

سوتک کیونکر رکھیئے ، سوتک پوے رسوئے

نانک سوتک ایویں نہ اترے ، گیا اتارے دھوئے

” اگر ہم مان بھی لیں کہ سو تک والی بات سچ ہے تو پھر یہ ناپاکی ہر شے میں ہونی چاہیے ۔گوبر اور لکڑی میں کیڑے ہوتے ہیں جو مرتے بھی ہیں اور نئے پیدا بھی ہوتے ہیں۔ ان میں روح بھی ہوتی ہے۔ اناج کے ہر دانے میں زندگی چھپی بیٹھی ہے۔ پانی ہی زندگی کی بنیاد ہے اور ہر شے کو زندگی بخش دی ہے،جوہر ابھرا کر دیتی ہے۔ یوں ناپاکی ہمارے رسوائی خانے تک آکر ہمارے کھانے پینے میں بھی ناپاکی ماننی پڑے گی۔ ناپاکی ایسے دور نہیں ہوتی بلکہ رب کا ذکر ہی ناپاکی کو دور کرتا ہے۔“

 گرو نانک کا ان دنوں معمول تھا کہ وہ دولت خانہ پر اپنا کام کرتے ۔اپنے اور دوسروں کے حقوق ادا کرتے اور پوری طرح محنت کرتے تھے۔ تاہم اسی زمانے میں انہوں نے اپنی سوچ اور فکر کا پرچار کرنا بھی شروع کردیا تھا۔

 ایک دن نانک اشنان کرنے دریا پر گئے۔ غوطہ لگایا تو پھر باہر نہیں آئے۔ لوگوں نے یہی سمجھا کہ آپ ڈوب گئے ہیں۔ لیکن تین دن بعد آپ پر ظاہر ہو گئے۔ سکھ پنتھ کے مطابق یہ تین دن نانک مہاراج نے اپنے رب کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے گزارے۔ سبھی جنم ساکھییوںاور سکھ اتحاس کی مستند کتابیں یہ گواہی دیتی ہیں کہ تین دن تک نانک نے دھیان گیان میں گزارے۔ ان کا اندر روشن ہو گیا۔ اس روشنی میں انہیں سچائی کے ہر پہلو کا درشن دیا گیا۔ جب وہ اس وجدانی کیفیت سے باہر نکلے تو انہوں نے علی الاعلان یہ کہا

”نہ کوئی ہندو ہے اور نہ کوئی مسلمان ہے، بلکہ سب صرف انسان ہیں۔ تو مجھے کس کے راستے پر چلنا چاہیے؟ مجھے خدا کے راستے پر چلنا چاہیے۔ خدا نہ ہندو ہے اور نہ مسلمان، اور میں جس راستے پر ہوں، وہ خدا کا راستہ ہے۔“

نانک نے کہا کہ انھیں خدا کی بارگاہ میں لے جایا گیا تھا۔ وہاں انھیں امرت سے بھرا ایک پیالہ دیا گیا اور حکم ملا کہ

”یہ نام خدا کی عقیدت کا پیالہ ہے۔ اسے پی لو۔ میں تمھارے ساتھ ہوں۔ میری تم پر رحمت ہے اور میں تمھیں بڑھاتا ہوں۔ جو تمھیں یاد رکھے گا، وہ میرے احسانات سے لطف اندوز ہوگا۔ جاو ¿، میرے نام کی خوشی مناو ¿ اور دوسروں کو بھی اسی کی تبلیغ کرو۔ میں نے اپنے نام کی عنایات سے تمھیں نوازا ہے۔ اسے ہی اپنی مصروفیت بناو ¿۔

گرو نانک مہاراج کی زندگی کے اس مرحلے پر آ گئے تھے جہاں انہوں نے ایک لمبے سفر کی تیاری کر لی۔ یہاں اُس کردار کے بارے میں بتانا لازمی ہے جو گرونانک کے سفر میں ساتھ رہے۔ ان کا نام مردانہ تھا۔ جنم ساکھیوں کے مطابق مردانہ ایک غریب ذات کا میراثی تھا۔ وہ گا بجا کر اپنی روزی روٹی پوری کرتا تھا۔ گرو جی کی شادی پر اس نے اپنی ایسی ہی خدمت کی تھی ۔گرو جی نے موج میں آ کر اسے ”سر“ دان کردئیے ۔ یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے پنڈت کا بیٹا ترلوچن داس جب شاہ محمد غوث گوالیاری کو اچھا لگا تو انہوں نے اسکی غرض پوری کردی۔ تب وہ تان سین بن گیا۔ یوں مردانہ میراثی کو نانک جی نے اپنی نظر سے” بھائی مردانہ“ بنا دیا جو آپ کے ساتھ سفر پر روانہ ہوا تھا۔

 یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نانک جی رہبانیت کے قائل نہیں تھے ۔انہوں نے دنیا چھوڑ کر جنگلوں کا رخ نہیں کیا۔ ان کی سوچ اور فکر کرنچوڑیہی ہے کہ رب بندے کے اندر بستا ہے جنگل بیلوں میں نہیں ۔رب باہر کہیں نہیں بلکہ رب کو اپنے اندر ہی تلاش کیا جائے۔

 نانک جی نے اکتیس برس کی عمر میں سیاحت کا آغاز کیا، جو تین مختصر وقفوں کے بعد تقریبا پچیس برس پر محیط ہے۔یہ پانچ سو عیسوی کا زمانہ تھا، پہلا خوش نصیب جسے گرو جی کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ کا ایک غریب ”لالو ترکھان“ تھا۔ یوں سکھ پنتھ کی پہلی” منجی“ قائم ہوئی۔ مطلب نئے نظام کی بنیاد رکھ دی گئی۔ منجی سکھ پنتھ کے تبلیغی مرکز کو کہتے ہیں۔ سوچنے والی بات ہے یہ کہ انہوں نے تخت گدی یا کوئی دوسرا نام نہیں دیا بلکہ منجی نام کو ترجیح کیوں دی؟ یہ وہی سمجھ سکتے ہیں جنہیں پنجاب ثقافت میں منجی کی اہمیت معلوم ہے۔ بہرحال ایمن آباد میں پہلی منجی کا رکھوالا ایک غریب لالو ترکان مقرر ہو۔ا

 نا نک جی نے پنجاب کے دوسرے شہروں کا سفر کیا۔ جنم ساکھی و کے مطابق گرو جی نے مغربی علاقوں کا سفر کیا۔ مکے مدینے بھی گئے ۔یہ بھی پتہ ملتا ہے کہ وہ ترکی گئے اور وہاں کے سلطان سے ملاقات کی ۔وہ قندھار اور کابل گئے، مشہد اور کابل میں منجیاں قائم کیں ۔ سوائے کابل کے کہیں بھی نہیں ہیں۔

 اس کے بعد گرو جی مشرق اور جنوب کی جانب دھیان کیا۔ کورکیشتر،جگن ناتھ اور ہندوو ¿ں کے پوتر استھانوں پر گئے۔ بدھ بھگشوﺅں اور ہندو پنڈتوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ۔ اس سیاحت کی ساری کہانیاں پوتھیوں میں محفوظ ہیں۔سیام اور برما سے ہوتے ہوئے سری لنکا گئے ۔ وہاں راجہ شوبھ ناتھ نے انہیں مان لیا ۔راج دربار کی اس تھا اس ساری کتھا کا حال ”پران سنگلی“ نامی کتاب میں تھی جواب ناپید ہوچکی ہے۔

 سورت شہر میں نانک جی نے جین مت کے دانشوروں تک اپنے خیالات پہنچائے پھر انہوں نے سندھ دھرتی پر قدم رکھا ہے۔ یہاں سے وہ واپس پنجاب آگئے۔ سندھ میں سکھ دھرم نے بنگال دکن اور برما سے بھی زیادہ اپنا رسوخ قائم کیا۔ قندھار میں بابا ولی سے ملاقات جنم ساکھیوں میں موجود ہے۔ اس ساری سیاحت میں مردانہ ان کے ساتھ رہے لیکن خوارزم کے مقام پر مردانہ پر لوک سدھار گئے۔ تب گرو نانک واپس تلونڈی آگئے ۔یہاں سب بدل گیا تھا ۔گرو جی کے ماتا پتا کا دیہانت ہو گیا تھا ۔سارا خاندان بکھر گیا تھا۔ گرو جی پھر سلطان پور چلے گئے۔ وہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد آپ فیروزپور گئے۔ پھر پاکپتن ،مٹھن کوٹ، ملتان، تھانیسر سے ہوتے ہوئے دہلی میں قیام کیا ۔ سارے پنجاب میں ان کا مشن کامیاب دکھائی دے رہا تھا۔ دلی راج گدی پر ابراہیم لودھی براجمان تھا۔ اس نے بابا نانک کی سوچ اور فکر کو اپنی گدی کے لئے خطرے کے طور پر محسوس کیا ۔ اس نے گرونانک کو بندی خانے میں بند کردیا۔ تاہم مغل شہنشاہ بابر نے ہندوستان فتح کیا تو اس نے گرونانک کو عزت و احترام کے ساتھ رہا کردیا۔ مشہور ہے کہ نانک جی نے اسے دعا دیتے ہوئے کہا تھا کہ تمہاری سات پیڑھیاں راج کریں گی۔ بابر سے ظفر تک اگرچہ سولہ پیڑھیوں نے راج کیا تاہم 331 سال بنتے ہیں جن کا مجموعہ سات کا ہندسہ ہی ہے.

 دلی سے بابا گرو نانک اپنی سسرال گاو ¿ں ” پکھو کے “ سے کچھ دن بعد راوی کنارے آ گئے گرو نانک کے ایک عقیدت مند ا جیتا رندھاوا اور اس کے کچھ دوسرے کسان ساتھیوں نے مل کر گرونانک کو زمین کا ایک ٹکڑا پیش کیا، جہاں انہوں نے ایک گاو ¿ں کی پندرہ سو تیس عیسوی میں بنیاد رکھی۔ اس کا نام کرتارپورر کھا گیا۔ یہی کرتار پور تھا جہاں گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری اٹھارہ برس گزارے۔یہیں انھوں نے اپنے خاندان کو بلوا لیا تھا ۔

 گرو جی بڑی عمر کے ہو چکے تھے اس عمر میں انہوں نے کشمیر کا سفر کیا۔ پہاڑوں سے گزر کر وہ ہردوار پہنچے۔ پھر کمبھ میلہ بھی دیکھا۔ گنگا اشنان پر بڑا ہجوم تھا۔ لوگ وہاں گنگا میں اشنان کے بعد پانی مشرق کی طرف اچھال رہے تھے ۔جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنے والدین کے روحانی سکون کے لئے انہیں پاک صاف کر رہے تھے۔ نانک جی یہ تماشہ دیکھ کر خود بھی گنگا میں اتر گئے اور مغرب کی طرف منہ کر کے پانی اچھالنے لگے۔ لوگ بڑے حیران ہوئے انہوں نے پوچھا

”با باجی، یہ کیا کر رہے ہیں؟“

” کرتارپور میں میرے کھیت ہیں۔ انہیں پانی دے رہا ہوں۔“ نانک نے جواب دیا تو لوگ ان پر ہنسنے لگے۔ ان کا مذاق اڑانے لگے۔

” یہ کرتارپور کہاں ہے؟“ کسی نے پوچھا

” یہاں سے بڑی دور راوی کے کنارے پر ہے۔“ بابا نے جواب دیا

” بابا جی یہ تو پاگلوں والی بات ہے۔ اتنی دور کھیتوں تک پانی کیسے پہنچ سکتا ہے؟“

” جس طرح تم لوگ کروڑوں میل دور سورج تک اپنا پانی پہنچا رہے ہو۔ تم لوگ اس جگہ کے بارے میں نہیں جانتے جہاں تمہارے بزرگ ہیں، جہاں تم پانی پہنچا رہے ہو ،مگر میں تو جانتا ہوں کہ میرے کھیت کہاں پر ہیں اگر تمہارے بزرگوں تک پانی پہنچ سکتا ہے تو میرے کھیتوں تک نہیں پہنچ سکتا؟“

 گرو نانک جی سکھ پنتھ کو ایک مرکزی مقام دینا چاہتے تھے ۔وہ مرکز ی مقام کرتار پور بنا ۔کرتارپور کے مرکز کے قیام کا مقصد کسی مذہبی جماعت کی

 

 

 

تنظیم نہیں تھی بلکہ علم کا آنے والے لوگوں تک پہنچانے کا بندوبست تھا۔ منجیوں کا مرکز کرتار پور کو بنا کر ہر فرد کو اس لڑی میں پرو دیا گیا جو باباجی گرو نانک کی سوچ فکر سے متفق تھے۔ انہوں نے کرتار پور میں ڈیرے لگائے تو ان کے خیالات کی مہک چاروں طرف پھیل گئی۔ دِیے سے دیا جلنے لگا۔ پہلا روشن دِیا اس گاو ¿ں کے رہائشی ”بورا“کو مراتبے کی اونچائی پر پہنچا دیا۔ اسے ”بھائی بدھا “بنا دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بورا المعروف بھائی بدھا نے مرکزی منجیوں کے گرو کے بعد پانچ گروﺅں کو مرکزی منجی پر بٹھایا۔

 کرتار پور میں بابا جی کا دوسرا بھگت” لہنا“ تھا جو اپنے مراتب میں” بابا لہنا کہلایا۔ یہ فیروز پور کا رہائشی مورتی پوجا میںبڑا مشہور تھا۔ گرو نانک دربار پہنچا تو ”بابا لہنا“ بن گیا۔ بابا جی گرو نانک کا مشن کامیاب ہونے لگا ۔

 جب آخری وقت آیا تو انہوں نے” بابا لہنا“ کو بلایا اور اسے کرتار پور کی” منجی“ سونپ کر اسے گرو انگ دیو بنا دیا گیا۔ جنم ساکھیوں کے مطابق گرو نانک کی روح گرو انگ دیو میں حلول کر گئی تھی۔ اس لئے گروہ نانک کے سکھ انگ دیو کو نانک جی کا دوسرا روپ سمجھتے ہیں ۔ گرونانک جی نے گرو انگد یو کے سامنے جھک کر ایک نئی روایت قائم کردی۔ گرو کے سکھ گرو انگدیو کے سامنے جھک گئے۔ اس رسم کے کچھ دن بعد ہی گرو نانک جی اس دنیا میں نہیں رہے۔یہ واقعہ 22ستمبر1539ءکو پیش آیا ۔بابا ناک اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔

 کرتارپور کی دھرتی پر بابا جی گرونانک کے آخری رسومات کے لیے مسلمانوں اور ہندوو ¿ں کے مابین بحث چلنے لگی ۔ ایک جانب قبر اور دوسری جانب سے تیار تھی۔ ہندو کہتے تھے کہ بابا نانک کو ہم جلائیں گے اور مسلمان کہتے تھے کہ ہم انہیں قبر میں اتاریں گے ۔ اس سے پہلے کہ یہ بحث فساد کی صورت اختیار کرلیتی ہے ”بھائی بدھا“ سامنے آئے اور انہوں نے ایک تجویز دی۔ تجویز یہ تھی کہ بابا جی کا جس خاکی پر جو کپڑا تھا، اس کے نیچے پھول رکھ دیں ۔ جن کے پھول تازہ ہوں گے وہی اپنی آخری رسومات ادا کرے گا۔ لہذا جب صبح چادر اتاری گئی تو بابا جی کا جسدخاکی وہاں پر نہیں تھا بلکہ پھول تھے جو دونوں طرف ہیں تازہ تھے۔ یوں اس چادر کو کاٹ کر ان میں پھول رکھ کر مسلمانوں کو اور ہندوو ¿ں کو بھی دے دیے گئے ۔ مسلمانوں نے ان پھولوں کو چادر سمیت قبرمیں دفنا دیا اور ہندوو ¿ں نے اس چادر کے ٹکڑے کو پھولوں سمیت چتا میں جلا دیا۔ یوں کرتار پور کی اہمیت سکھ دھرم میں مرکزی اہمیت اختیار کر گئی۔

 کرتار پور پاکستان میں ضلع نارووال میں ہے وہ اسے بھارتی بارڈر ساڑھے چار کلومیٹر پر ہے وہاں پر وڈیرہ موجود ہے ۔جہاں سے ان کی سوچ و فکر نے پوری دنیا میں پہنچی۔کرتارپور کے اٹھارہ برس بابا نانک نے یوں بسر کیے کہ انہوں نے درویشی و فقیری والے سارے رنگ ڈھنگ کو خیر آباد کہہ دیا تھا۔ انہوں نے یہ زندگی ایک گرہست کے طور پر گزاری ۔ انہوں نے کھیتی باڑی کا پیشہ اختیار کیا اور اپنی محنت سے کے ساتھ حلال کمائی کر کے عملی نمونہ پیش کیا۔ کرتار پور میں رہنے کا یہ دور ان کی سیاحت کے تقریبا پچیس برسوں سے بھی زیادہ معنی خیز ثابت ہوا۔ ان کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ کرتار پور گاو ¿ں میں انہوں نے اپنی رہائش رکھی تاہم وہاں سے پانچ کلومیٹر دور ایک ڈیرہ بنایا جواب بھارت میں واقع ہے۔ وہاں ڈیرے پر صبح و شام کیرتن( محفل سماع) کی محافل سجنے لگیں اور یہ ڈیرہ بابا نانک کی سوچ اور فکر کے باعث روحانی مرکز بنتا چلا گیا۔ ان کیرتن میں بابا جی گرو نانک کا کلام سنایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ اس دور کے چلن کے مطابق بڑی حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہاں پر جانے والے حاضرین بلا تفریق ذات پات، امیر غریب اور مذہب کے ایک ہی لنگر خانے سے کھانا کھاتے کسی کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا تھا ۔یہی وجہ تھی بابا جی گرونانک کے بلند اخلاق اور حقیقی عشق کا اور شہرہ پھیلتا چلا گیا ۔ لوگ جوق درجوق کرتارپور کا رخ کرنے لگے ۔یوں کرتار پور آج بھی سکھ قوم کے لئے مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔

صاحب مضمون کا تعارف

 امجد جاوید ادیبوں کے میں اپنی ناول نگاری کے باعث شہرت رکھتے ہیں ان کی یہ شہرت عالمی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے بنیادی طور پر عشق اور تصوف کو اپنا موضوع بنایا اور اس پر متعدد ناول لکھے۔ خاص طور پر بے رنگ پیا، عشق کا قاف عشق کسی کی ذات نہیں اور اس کے علاوہ دوسرے ناول۔ امجد جاوید نے تقسیم پاکستان کے تناظر میں اک ناول” امرت کور“ لکھا جس سے ان کی تحقیق سکھ قوم کے لئے کافی زیادہ ہوگئی۔ بعدازاں انہوں نے پانچ جلدوں پر محیط ناول قلندر ذات میں خالصتان تحریک کے حوالے سے سکھ پنتھ کو بنظر غائر دیکھا ۔ سکھ اتحاس کو بیان کیا ۔یہ مضمون ان کی تحقیق کا عکس ہے ۔امجد جاوید اس وقت کئی ناول لکھ چکے ہیں جو ان کا اس علاقے کے حوالے سے سب سے زیادہ اور موثر کام ہے ۔(ادارہ)

قلندر لاہوری ؒکا خراج عقیدت

پھر اُٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے

ہند کو اک مرد ِ کامل نے جگایا خواب سے

بت کدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا

تو ابراہیم سے آذر کا گھر روشن ہوا

بابا گرو نانک ایک نظر میں

پیدائش…. 15 اپریل 1469ئ

نام ….نانک

والد کا نام…. کلیان داس مہتا(کالو مہتا)

والدہ کا نام….ترپتا دیوی

بہن …. نانکی

بھائی …. لال داس (لالو)

بہنوئی…. جے رام

دائی کا نام…. دولتاں

پروہت ….ہر دیال (اس نے جنم پتری نکالی تھی )

ذات…. کھشتری ۔بیدی

مقام پیدائش…. رائے بلار کی تلونڈی (موجودہ ننکانہ صاحب )

اساتذہ ….پنڈت گوپال جی ۔ مولوی قطب الدین ۔ سید میر حسن

زبان کی مہارت…. فارسی ۔عربی ۔ سنسکرت

شادی ….انیس برس کی عمر میں گرداس پور گاﺅں پکھو کے کے رہائشی مول چند کی بیٹی کے ساتھ

بیوی کانام …. سلکھنی

اولاد…. دو بیٹے ۔ سری چند۔ لکھمی داس

وفات …. 22ستمبر1539ئ

مدفن…. کہیں بھی نہیں

عمر …. تقریباً 70برس

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ایک غلط فہمی اقبال کے نام سے ..فرہاد احمد فگار

ایک غلط فہمی اقبال کے نام سے (فرہاد احمد فگار، مظفرآباد) صاحبان آج ایک اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے