سر ورق / مزاحیہ شاعری / اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

جری ابنِ جری ہوں، وہ سدا اعلان کرتا ہے

بڑا رُستم بنا پھرتا ہے پر چوہوںسے ڈرتا ہے

وہ گنجا ہے ، لگاتا تیل ہے، رکھتا ہے کنگھا بھی

ہمیشہ آئنے کے سامنے گھنٹوں سنورتا ہے!

نظر آتی غریبوں کو ہے ایسے خواب میں روٹی

کہ جیسے چودھویںکا چاند بادل سے اُبھرتا ہے

لگا کر گوند کُرسی سے چپک جاتا ہے یوں لیڈر

اُتارے کھینچ کر پبلک تو مشکل سے اُترتا ہے

جو گھُس جاتا ہے بھوکا خر ہماری کشتِ دولت میں

دولتّی جھاڑکر وہ جلدی جلدی فصل چرتاہے

خزانہ لُوٹ کر وہ منتقل کرتا رہے باہر

غَرَض اس کو نہیں ہے،کوئی جیتا ہے کہ مرتاہے

حقیقت ہے ، کہا خرگوش نے یہ ننھی بکری سے

لگا کر غازہءخوں، شیر کا چہرہ نکھرتا ہے!

اگر باہر ملیں کُتّے ، وہ بھیگی بلی بن جائے

مثالِ ضیغمِ صحرا وہ گھر میں ہی بپھرتا ہے

کہا یہ پھول نے ، اے پھول گوبھی کے!تری قسمت!

مِری بیگم کے ہاتھوں پکنے سے پہلے بکھرتا ہے

تنویر پھول

سیلفیاں روز بناتے ہو غضب کرتے ہو

اور پھر سب کو دکھاتے ہو غضب کرتے ہو

دھن چھپاتے ہو کہیں دور جو پانامہ میں

کمپنی آف دکھاتے ہو غضب کرتے ہو

کیمرہ رکھتے ہو فوکس مرے سرداروں پر

بس مجھے آنکھ دکھاتے ہو غضب کرتے ہو

یہ ولیمہ نہیں چہلم کی دعا ہے صاحب

اس قدر شوق سے کھاتے ہو غصب کرتے ہو

رات بھر شہر میں بجلی نہیں ہوتی پھر بھی

بتیاں گھر کی بجھاتے ہو غضب کرتے ہو

دھول دھپا تو محبت میں کسی کا حق ہے

ناز بیگم کے اٹھاتے ہو غضب کرتے ہو

چھیڑ بیٹھے ہو پڑوسن کو تو بھگتو بچو

جان کیوں اپنی چھڑاتے ہو غضب کرتے ہو

سب کو چوزے کی طرح قید رکھا ہے جس نے

اس کو چوہے سے ڈراتے ہو غضب کرتے ہو

"پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے”

ناک مودی پہ چڑھاتے ہو غضب کرتے ہو

دوستی غیر سے رکھتے ہو بتاتے بھی نہیں

بے وقوف ہم کو بناتے ہو غضب کرتے ہو

اتنے ممنون سے بیٹھے ہو سرِ محفل تم

بات سنتے نہ سناتے ہو غضب کرتے ہو

سونے سے بھر کے سیاست کی تجوری اپنی

لوہے پہ آنسو بہاتے ہو غضب کرتے ہو

ایک بھی رول پہ جب خود ہی نہیں چل سکتے

اتنے قانون بناتے ہو غضب کرتے ہو

ایک دو تین نہیں چار سے آگے بڑھ کر

پنچ غزلہ بھی سناتے ہو غضب کرتے ہو

نیوز چینل پہ حسینوں کو بلا کر ہمدم

میڈیا وار کراتے ہو غضب کرتے ہو

ہاشم علی خان ہمدم

چپکے ہوئے ہیں ایسے کرپشن کے ساتھ ساتھ

جیسے کہ بوگیاں کسی انجن کے ساتھ ساتھ

دانتوں کو وہ سنوار لے گا خود ہی دیکھ کر

تحفے میں دے دو آئینہ، منجن کے ساتھ ساتھ

جانا پڑے گا چھوڑ کے اِس میزبان کو

شلجم بھی لے کے آیا ہے بینگن کے ساتھ ساتھ

سر میں جوﺅں کا ہونا تو ثابت نہیں ہوا

دیکھی مگر ہیں آٹھ نو گردن کے ساتھ ساتھ

پھیلی ہوئی جہان میں ہیں رشتے داریاں

سسرال چین میں بھی ہیں اردن کے ساتھ ساتھ

بیگم کی مار سے دے خدا سب کو ہی پناہ

اٹھتی ہیں لہریں درد کی سوجن کے ساتھ ساتھ

حضرت! مشاعرے میں کبھی تو بلائیے

سن لیں گے تھوڑے شعر بھی بھوجن کے ساتھ ساتھ

مجنوں کو ہم نے پارک میں دیکھا تھا شام کو

کرتا تھا واک ”لیلیٰءچھ من“ کے ساتھ ساتھ

ٹیکسی کے پیچھے بھاگ کے، کرتا بچت مزید

آیا ہوا جو دوڑتا ویگن کے ساتھ ساتھ

جب واسطہ پڑا تو یہ کل ہم نے کہہ دیا

درزی بھی جھوٹے ہوتے ہیں درزن کے ساتھ ساتھ

عرفان قادر

دھڑک اٹھے کسی پر دل لڑکپن میں تو واویلا

بڑھاپے میں اضافہ ہو جو دھڑکن میں تو واویلا

غبن وہ قوم و مِلّت کا کریں تو ان کو کرنے دو

اگر پکڑے اُنہیں کوئی کرپشن میں تو واویلا

گنیں گر خوبیاں بیگم کی ہم دن رات کافی نئیں

جو دیکھیں ایک بھی خوبی پڑوسن میں تو واویلا

وہ زلفیں جو کبھی شادی سے پہلے زلفِ عنبر تھیں

نظر آئیں جو اب اک آدھ سالن میں تو واویلا

سہیلی ایک جو بیگم کو جان و دل سے پیاری ہے

بدل جائے سہیلی وہ جو سوتن میں توواویلا

رقم جائز، ناجائز گھر میں لے کر آئیے قاضی

کمی آئی اگر بیگم کے فیشن میں تو واویلا

مسعود قاضی

ملتا نہیں گر اس سے چلا جائے مجھے کیا

ہے کام اگر مجھ سے تو پھر آئے مجھے کیا

میں جیت گیا فضلِ خدا سے یہ الیکشن

مرتا ہے اگر کوئی تو، مرجائے مجھے کیا

ہے فکر مجھے اپنی کرے فکر وہ اپنی

خوش فہمی سے دل اپنا وہ بہلائے مجھے کیا

اب تک جو ہوا خرچ کمانا ہے مجھے وہ

روئے کوئی یا گائے کہ چلائے مجھے کیا

میں کم نہیں دشنام طرازی میں ہوں اس سے

کہہ دو کہ وہ منہ میرا نہ کھلوائے مجھے کیا

میں قوم کا رہبر ہوں جو چاہوں وہ کروں گا

یہ طرزِ عمل اس کو نہ بھائے تو مجھے کیا

فرصت مجھے جب ہوگی تو میں اس سے ملوں گا

گر وقت نہیں اس کو چلا جائے مجھے کیا

حق میرے عزیزوں کا ہے پنشن پہ زیادہ

وہ جرم ضعیفی کی سزا پائے مجھے کیا

احمد علی برقی اعظمی

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اس ہفتے کے مزاحیہ قہقہے۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے مزاحیہ قہقہے۔ نوید ظفر کیانی   مجھے کیا دے گا عطائے نگار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے