سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ۔۔۔  ضیاء شہزاد۔۔۔قسط نمبر 1

ست رنگی دنیا ۔۔۔  ضیاء شہزاد۔۔۔قسط نمبر 1

                ست رنگی دنیا

                میری کہانی!

                 ضیاء شہزاد

قسط نمبر 1

                یہ 1947 ءکی بات ہے ۔

                یوں تو اب سب کچھ قصّہ پارینہ ہو چکا ہے لیکن یاد کے نشتر اب بھی کچوکے لگاتے ہیں اور جو دل پر گزرتی ہے وہ میں ہی جانتا ہوں۔ یہ تقسیم ہند و پاک سے پہلے کا دور تھا ، اس وقت تک ہجرت کا عمل شروع نہیں ہوا تھا۔ ہمارا آبائی گاﺅں باول تھا جو ہندستان اور موجودہ بھارت کی ریاست ہریانہ کے ضلع ریواڑی کی ایک تحصیل ہے۔ گاﺅں میں ہمارا حویلی نما مکان تھا جس میں ہمارے دادا، تایا ابا ، ان کی فیملی اور ابا ، بڑے بھائی اور اماں اور میں سب مل جل کر رہتے تھے ۔سب کے الگ الگ حصے تھے لیکن کھانا پینا مشترکہ تھا اور پورے گھر پر دادا کا ہی کنٹرول تھا۔ میرے بڑے بھائی منظور کا (اماں مرحومہ کے مطابق ) میری پیدائش سے قبل ہی نو سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا ، وہ پیدائشی مجذوب تھے اور جو اپنے منہ سے کہہ دیتے تھے وہ ہو جاتا تھا اسی لئے ہمارے گھر پر ہر وقت کوئی نہ کوئی اپنا مسئلہ لے کر کھڑا ہوتا تھا کہ ٬٬منظور سے پوچھ کر بتا دو،، ۔ بھائی منظور نے ایک دن جلال میں آ کر یہ بھی کہا تھا کہ٬٬ نکل جا ، نکل جا، بھاگ جا ،، مگر ان کی بات کوئی نہ سمجھ سکا تھا، سب لوگ یہی سمجھے کہ وہ اپنے جذب کی کیفیت میں بڑبڑا رہے ہیں ۔ بھائی منظور ہمہ وقت جس کیفیت میں رہتے تھے وہ کچھ ایسی تھی کہ انہیں کسی بات کا ہوش ہی نہیں رہتا تھا ، ان کے منہ سے رال تپکتی رہتی اور کپڑے لاکھ کوشش کے باوجود میلے ہو جاتے تھے ۔ اس ساری صورت حال سے ہمارے گھر میں صرف تایا ابا ہی سب سے زیادہ پریشان ہوتے تھے ۔ وہ اٹھتے بیٹھتے بھائی منظور کو ڈانٹتے ڈپٹتے تھے کہ اس گندے کو میرے پاس سے ہٹاﺅ۔ ایک دن بھائی منظور نے اماں کو بتایا تھا کہ میں اللہ میاں کے پاس جا رہا ہوں ، میں گندہ ہوں نا اب اچھا ہو کر آﺅں گا اور وہ سچ مچ اللہ میاں کے پاس چلے گئے ۔ اس کے بعد میں پیدا ہوا تو سب کی آنکھ کا تارا بن گیا ۔ دادا کا تو میں بہت ہی لاڈلا تھا وہ ہر صبح جب اپنے لئے چائے بناتے تو مجھے بھی پیالے میں بھر کر دیتے تھے ۔کسی کی مجال نہیں تھی کہ مجھے کچھ کہتا ۔ جن دنوں کی میں بات کر رہا ہوں میری عمر اس وقت تقریباًً پانچ سال رہی ہوگی اس لئے شعوری اعتبار سے واقعاتی تسلسل کا اعادہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی وثوق سے کوئی دعویٰ کر سکتا ہوں تاہم ایک بات ضرور ہے جو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میری یاد داشت عام بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پختہ رہی ہے ۔ مجھے اس سے بھی کم عمری کی باتیں یاد ہیں جوکل کی سی بات لگتی ہے لیکن یہاں کہنا یہ مقصود ہے کہ جس زمانے کی میں بات کر رہا ہوں یہ وہ تھا کہ جب ہندستان کی تقسیم اور بعد ازاں ہجرت کا عمل شروع ہونے ہی والا تھا ۔ اس کااندازہ مجھے ان دنوں اس وقت ہوا جب میں ایک روزبضد ہو کر اپنا ابا کے ساتھ رحمان حلوائی کی دوکان پر ریوڑی لینے گیا ۔ پرانے قلعہ کے چوک کے قریب ہی میرے ابا کی جنرل اسٹور ٹائپ کی دوکان تھی ۔ قریب ہی بڑے تایا کی دوکان تھی جہاں راشن سمیت ضرورت کی ہر چیز ملتی تھی اور رحمان حلوائی کی دوکان کچھ دور ہی ایک گلی میں واقع تھی ۔ ہمارا مکان بھی زیادہ دور نہیں تھا ، بس گھر اور دوکان کے درمیان ایک میدان سا تھا اور اس کے ایک کونے پر سرائے تھی، سرائے کے دوسرے کونے پر ہی ذرا چڑھائی پر ہمارا مکان تھا ۔ میں اکثر و بیشتر ابا کی دوکان پر اکیلا ہی آجاتا تھا اور جب آتا تھا تو میری

 موج ہو جاتی تھی ۔ دوکان میں اگرمیرے مطلب کی کھانے کی کوئی چیزہوئی تو اس کے مزے لیتا تھا یا پھر رحمان حلوائی کی دوکان سے ریوڑی لینے کی ضد کرتا تھا ۔اس روز بھی میں مچلا ، رویااور ریوڑی کی ضد کی تو ابا مجھے رحمان حلوائی کی دوکان پر لے گئے ۔

                 چونکہ ہمارا گاﺅں زیادہ بڑا نہیں تھا اس لئے تقریباً سب ہی لوگوں سے جان پہچان اور ملنا جلنا تھا لیکن رحمان حلوائی سے تو گھر کی سی بات تھی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی جو میں نے اکثر گھر والوں سے سنی تھی رحمان نے ایک دن بھائی منظور سے جب وہ سرائے میں مسجد کے پاس لیٹے ہوئے تھے تو یہ پوچھا تھا ٬٬ بیٹا مجھے کبھی نمبر بھی بتا دے کہ کس پر لگاﺅں ،، پہلے تو بھائی منظور نے رحمان کو عجیب سی نظروں سے دیکھا پھر اپنے مخصوصانداز میں ہنستے ہوئے کہا تھا ٬٬ چا۔ چا ۔چار ،، بس رحمان وہاں سے فورا! بھاگا اور اس نے پانچ نمبر پر سٹہ کھیل دیا اور اس کا مٹکا کھل گیا ۔ پورے گاﺅں میں بھائی منظور اور رحمان کی دھوم مچ گئی اور گاﺅں کے لوگ نے ہمارے گھر کا رخ کرنا معمول بنا دیا لیکن تایا ابا ان سب کو بھگا دیتے تھے ۔

                رحمان کا نقشہ آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے ۔ کالا بھجنگ ،اوپر سے ہر وقت ایک لنگی اور میلے کچیلے بنیان میں ہی رہتا تھا۔ ان دنوں رحمان کی پورے گاﺅں میں بڑی دھوم تھی ۔ وہ دہلی سے گراموفون خرید کر لایا تھا اور اس پر ہر وقت فلمی گانون کے ریکارڈ بجاتا رہتا تھا۔ گاﺅں والوں کے لئے گراموفون نئی چیز تھی لوگ اس کی دوکان پر بس گانا سننے جاتے اور اس کے ساتھ ہ وہ کچھ نہ کچھ مٹھائی یا ریوڑی بھی خرید یتے تھے۔

                لیکن اس روز اس کی دوکان پر زیادہ رش نہیں تھا بس ایک ہی گاہک کچھ مٹھائی لینے آیا تھا اور ہمارے پہنچتے ہی وہ بھی چلا گیا۔ اس کے گراموفون پر فلمی گانے کا ریکارڈ بج رہا تھا۔٬٬آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا،، ابا نے لطف لیتے ہوئے گردن ہلا کر تعریفی انداز میں رحمان حلوائی سے کہا ۔٬٬ یار رحمان ،، کیا آواز ہے نور جہاں کی ، بھئی کانوں میں رس گھل جا تا ۔،،

                ٬٬ ہاں بھائی فخرو آواز تو غضب کی ہے ، ایک ہی بنائی ہے اللہ نے مگر سچ گا رہی ہے ، باغ تو سچ مچ کا اجڑتا نطر آرہا ہے ۔اب لوگوں نے میری دوکان پر بھی آنا چھوڑ دیا ہے ساری دوکانداری ختم ہوتی نظر آرہی ہے ۔،،

                ٬٬ ابا نے ایک ٹھنڈی سانس بھر اور چہرے پر سنجیدگی لاتے ہوئے کہا٬٬ ہاں رحمان، آثار اچھے نہیںلگ رہے، جب سے پاکستان بننے کا اعلان ہوا ہے حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔گاﺅں کے بہت سے ہندو بھی اب کھنچے کھنچے سے رہنے لگے ہں ۔ حالانکہ پہلے ہم کیسے بھائیوں کی طرح ملتے جلتے تھے ۔اب وہ بات ہی نظر نہیں آتی،، رحمان نے ایک ڈونے میں مجھے ریوڑیاں دیدی تھی اور میں کھانے میں مگن تھا لیکن رحمان اور ابا کی باتیں بھی نہ سمجھتے ہوئے بھی کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پھر میرے ذہن سے بات بھی نکل گئی اور میں ریوڑیاں کھانے میں گم ہو گیا۔

اسی لمحے ایک اور شخص آیا ابا اور رحمان بھائی سے سلام دعا کے بعد آہستگی سے بولا٬٬ بھئی سنا ہے ! پڑوس کے گاﺅں میں ہندو بلوائیوں نےایک مسلمان کو مار دیا ۔وہاں پولیس آگئی ہے ،،

                ٬٬اچھا ؟،،۔ ۔ ۔ ٬٬ کس سے سنا؟،، رحمان بھائی چونک کر بولے

                ٬٬ یار تو اس گرامو فون اور نورجہاں میں ہی لگا رہے گا، بند کرو اسے ذرا پتا کرتے ہیں ،،

                ابا بولے اور میرا ہاتھ پکڑ کر دوکان کی طرف چلے آئے ۔

                چوک میں بھی کچھ گڑ بڑ سی نظر آئی ۔ پڑوس کا دوکاندار جگن ناتھ نے ابا کو اشارے سے بلایا اور بولا ٬٬ بھائی فخرو، ڈوسو گاﺅں میں بلوہ ہو گیا ۔ خیال رکھنا اپنا ،،

                ٬٬ہاں جگن ناتھ میں نے بھی ابھی سنا ہے اللہ خیر کرے گا،، ابا نے کہا

                ٬٬ رام بھلی کرے بھائی،، جگن ناتھ بولا

                ابا نے مجھے گھر بھجوادیا ،اور پھر خود بھی کچھ دیر کے بعد گھر آگئے ۔ بازار میں دکانیں بند ہونے لگی تھیں

                رات کے کھانے کے بعد سب لوگ بیٹھ کر اسی واقعہ پر گفتگو کرتے رہے لیکن دوسرے دن سب کچھ ٹھیک ہو گیا اور دکانیں بھی کھل گئیں ۔

                ٭

                 اس بات کو کچھ ہی دن ہوئے ہوں گے ۔ میں اپنے پڑوس کے بچے گلو کے ساتھ گھر کے باہر ایک ٹیلے پر بیٹھا ہوا دھوپ سینک رہا تھا۔ گلو میرا واحد بے تکلف دوست تھا۔ ہم اکثر دھوپ میں آکر بیٹھ جاتے تھے اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے خوش ہوتے تھے ۔ سردیاں شروع ہو چکی تھیں اس لئے مزا آرہا تھا۔ ابا ابھی دوکان پر نہیں گئے تھے ۔ گھر ہی میں تھے ،گاہکی کم ہونے کی وجہ سے اب وہ دیر سے ہی دوکان پر جاتے تھے ۔ بڑے تایا بھی نہیں گئے تھے ۔اسی اثنا میں گاﺅں کے مولوی صاحب آگئے ۔وہ سرائے کے میدان میں بنی ہوئی چھوٹی سی مسجد میں نماز پڑھاتے تھے اور میں بھی مسجد میں ان سے سپارہ پڑھتا تھا ۔ جیسے ہی وہ آئے گلو اور میں دونوں کھڑے ہوگئے ۔ ہم دونوں نے انہیں سلام کیا ۔انہوں نے گردن ہلاتے ہوئے وعلیکم السلام کہا اور ایک لمحے بعد بولے ۔ ٬٬ کیا بھائی فخرو ابھی گھر میں ہےِِ،، میںنے گردن ہلا دی۔ میرے ابا کا نام فخر الدین تھا لیکن گاﺅں والے انہیںفخرو کہتے تھے ۔ مولوی صاحب نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ جلدی سے ابا کو بلا کر لا ، ضروری بات کرنا ہے ۔میں دوڑا دوڑا اندر گیا اور ابا کو مولوی صاحب کے آنے کی خبر دی ۔ابا شاید دوکان کے لئے تیار تھے ۔ وہ فوراً ہی باہر نکل آئے اور مولوی صاحب سے حیرت سے پوچھا٬٬ خیر تو ہے مولوی صاحب ،کیا بات ہے ،، مولوی صاحب آہستہ سے بولے ٬٬ بھائی فخرو مجھے سندیسہ بھیجا گیا ہے کہ گاﺅں خالی کر وادوورنہ لاشیں گریں گی،،

 ٬٬ہیں ! کیا کہہ رہے ہو مولوی صاحب؟،، ابا کے چہرے پر پریشانی دوڑ گئی

                 ٬٬ ہاں ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گنگوتیلی آیا تھا میرے پاس، اسے پنڈت جی نے میرے پاس بھیجا تھا اور کہا ہے کہ گاﺅں کے مسلمانوں کو خبردار کردو ،، مولوی صاحب نے گردن ہلاتے ہوئے کہا

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز :قسط نمبر 39 

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے