سر ورق / افسانہ / مرتد۔۔۔ابصارفاطمہ

مرتد۔۔۔ابصارفاطمہ

 مرتد

ابصارفاظمہ

” اسلام سے پھر جانے والے کے لیے معافی کی بالکل اجازت نہیں۔ ارے کیسا بدنصیب ہے وہ شخص جو سلامتی کا دین چھوڑ کے در در بھٹکنا شروع کردے۔”

مولانا حضرت جمعہ کا خطبہ ختم کر چکے تو غلام مصطفی ذرا عجلت میں مسجد سے نکلا۔ آفس میں آدھا کام چھوڑ کے نماز کے وقفے میں نکلا تھا۔ جتنی دیر نماز پڑھتا رہا ذہن پہ بکھری فائلیں سوار رہیں۔ خطبہ بھی غائب دماغی سے سنا کچھ سمجھ آیا کچھ نہیں۔ اور جو سمجھ آیا اس میں سے بھی بس آدھا یاد رہا، اپنی ڈیسک تک پہنچتے پہنچتے وہ باقی آدھا بھی بھول چکا تھا بس آخری جملہ ذہن میں گونجتا رہ گیا۔

اس نے کام وہیں سے شروع کردیا جہاں سے روکا تھا مگر کچھ ہی دیر گزری کہ اسے احساس ہوا کہ وہ کام نہیں کر رہا بلکہ پین ہاتھ میں پکڑے مولانا صاحب کے آخری جملے کے بارے میں سوچے جارہا ہے۔ اسلام کو چھوڑ دینے کے خیال سے ہی اس کے بدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔ کتنا کراہیت آمیز خیال ہے۔ ہم لاکھ گناہ گار سہی مگر یہ گناہ؟ نعوذبااللہ۔ اس نے اس نے سختی سے نفی میں سر جھٹکا اور دوبارہ خود کو فائلوں میں مصروف کر لیا۔

 ”ڈئیر ٹیم”

اس کا ارتکاز اپنے مینیجر کی آواز پہ ٹوٹا۔ وہ ہال کے دروازے پہ کھڑے مینیجر کی طرف متوجہ ہوگیا۔ ان کے ساتھ ہی ایک اور نوجوان کھڑا تھا۔

 ”آج سے ہمیں مسٹر زیب نے ایز اے جونئیر فیلڈ آفیسرجوائن کیا ہے۔ پلیز ویلکم ہم”

  ”(please welcome him)”

 اس نے سب کی طرح مسکرا کر زیب کا استقبال کیا اور معمول کے کاموں میں لگ گیا۔ زیب کو اس کے قریب ہی ایک ڈیسک مل گئی۔ گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ اسے احساس ہوا کہ زیب آفس کے کئی لوگوں سے زیادہ با صلاحیت ہے۔ جو اسائمنٹ سینئیرز درست نہ کرپاتے تھے وہ بہت جلد اور بہت معیاری انداز میں کرلیتا تھا۔ ہر موضوع پہ اس کی معلومات حیرت انگیز تھی۔ غلام مصطفی بھی اس سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ پایا۔ وہ خود بھی ادارے کے ہونہار ارکان میں سے تھا۔ کبھی کبھی زیب کی ذہانت سے اسے اپنی اہمیت خطرے میں لگتی۔ مگر زیب کی کچھ عادتیں اسے بے چین کردیتی تھیں غلام مصطفی نے اسے کبھی نماز پہ جاتے نہیں دیکھا تھا۔ نہ ہی وہ کھانا شروع کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھتا، پانی بھی دل چاہا تو کھڑے ہو کے پی لیا چاہا تو بیٹھ گیا۔ اسے افسوس ہوتا کہ اتنی عقل رکھنے والا مذہب کو کتنی بے عقلی سے برتتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کے دل میں پسندیدگی کی جگہ ناپسندیدگی نے لے لی۔

وہ بھی ایک عام سا ہی دن تھا۔ لنچ بریک ہوئے کافی دیر ہوچکی تھی مگر اسے کچھ کام نپٹاتے نپٹانے کافی وقت گزر گیا۔ اس کے علاوہ صرف زیب اپنی ڈیسک پہ نظر آرہا تھا۔ وہ کام مکمل کر کے اٹھا ہی تھا کہ دوسرے ڈپارٹمنٹ کا ایک ساتھی زاہد، زیب کو لینے آگیا۔ اس کی چند ہی دن میں زیب سے کافی اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ غلام مصطفی اس دوستی پہ بھی حیران تھا کیونکہ زاہد خود کو کافی مذہبی ظاہر کرتا تھا اور وہ غلام مصطفی کی بھی بہت سی چھوٹی چھوٹی غفلتوں کی طرف توجہ دلاتا رہتا تھا جو کہ گناہ کا باعث تھیں۔ اس میں اور غلام مصطفی میں ایک ان دیکھی فرقہ وارانہ چپقلش تھی۔ غلام مصطفی نے ناگواری سے ان دونوں کو دیکھا۔ اسے اندر ہی اندر زاہد کے دوغلے پن پہ بہت دکھ تھا۔

وہ تینوں آگے پیچھے ہی کیفے ٹیریا میں داخل ہوئے۔ عموما لوگ لنچ کر کے جاچکے تھے۔ پورا ہال تقریبا خالی تھا بس چند ایک ٹیبلز پہ کچھ لوگ بیٹھے تھے اور دیکھ کے لگ رہا تھا کہ وہ بھی فارغ ہونے والے ہیں۔ غلام مصطفی آگے ہی موجود ایک صاف ٹیبل دیکھ کر وہاں بیٹھ گیا جبکہ زیب اور زاہد ہال کے نسبتًا ویران گوشے کی ٹیبل کی طرف چلے گئے۔

وہ تینوں ہی اپنا اپنا لنچ خاموشی سے کر رہے تھے۔ نا چاہتے ہوئے بھی غلام مصطفی کی توجہ ان کی طرف تھی کیوں کہ ان کی خاموشی بہت مصنوعی لگ رہی تھی۔ اس کی نظریں اپنی پلیٹ پہ تھیں مگر کان ان کی طرف تھے۔ آہستہ آہستہ ہال خالی ہوتا گیا۔ جیسے جیسے لوگ جارہے تھے ہال پہ خاموشی طاری ہوتی جارہی تھی۔ ایک ایک آواز واضح ہورہی تھی۔ کرسیاں کھسکانے سے لیکر گلاس میں پانی ڈالنے تک کی آواز بخوبی سنی جاسکتی تھی۔ اور پھر ہال میں صرف تین پلیٹوں سے چمچے ٹکرانے کی آواز رہ گئی۔

اسے ایک گہری سانس کی آواز آئی۔

 ”پھر کیا سوچا تم نے” دوسرے ساتھی کی آواز آئی۔ اس نے سرگوشی کی کوشش کی ہوگی مگر غلام مصطفی کو بہت واضح سنائی دی۔

 ”یار سوچ تو لیا ہے مسئلہ صرف یہ ہے کہ ایسا فیصلہ مجھے میری برادری سے نکلوا سکتا ہے۔ برادری کی بھی خیر ہے مگر ماں باپ کو چھوڑنا آسان تو نہیں؟” زیب کی آواز بہت مدھم تھی مگر شایدانہیں احساس نہیں تھا کہ غلام مصطفی کو ان کا ہر ہر لفظ واضح سنائی دے رہا تھا۔

 ”دیکھو تم پہ زبردستی نہیں ہے اگر تمہیں جان کا خوف ہے تو پہلے اپنی حفاظت کو ترجیح دو۔”

 ” نہیں یار زبردستی کی بات نہیں ہے۔ ایک دفعہ جب احساس ہوگیا کہ سچ کیا ہے پھر بھی آنکھیں بند کر کے غلط عقیدے پہ چلتے رہنا؟ یہ میرا ضمیر گوارا نہیں کر رہا۔” غلام مصطفی کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی۔ کتنی گھٹیا حرکت کی اس کے کولیگ نے اپنے فرقے سے متاثر کرنے کے لیے اسے مذہب سے دور کر رہا ہے۔

 ”ٹھیک کہہ رہے ہو یہ تمہارا قانونی حق ہے کہ جو نظریہ تمہیں درست لگے اسی پہ چلو مگر تمہارے رشتہ دار اور باقی ہم مذہب تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔”

 ”مجھے اندازہ ہے مگر میں ایسے عقیدے پہ کیسے قائم رہ سکتا ہوں جو واضح طور پہ بالکل غیر منطقی ہے۔ جس مذہب کے پیشوا کا کردار ایسا ہو وہ مذہب سچا کیسے ہوسکتا ہے۔ حیرت یہ ہے کہ میرے ہم مذہب اپنی تاریخ پڑھ کے بھی اندھے بنے ہوئے ہیں مگر میں یہ نہیں کرسکتا۔” زیب کی آواز فرط جذبات سے کچھ بلند ہوگئی۔ زاہد نے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا تو اسے احساس ہوا۔

کچھ لمحے خاموشی کے گزر گئے۔ غلام مصطفی کے ذہن میں آندھیاں سی چل رہی تھیں۔ اس کے دماغ میں بار بار مولانا صاحب کا جملہ گونج رہا تھا۔

 ”اسلام سے پھر جانے والے کے لیے معافی کی بالکل گنجائش نہیں۔” اسے زیب کی باتوں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ فرقہ نہیں مذہب ہی چھوڑ دینے کے در پہ ہے اور زاہد اس کا بھرپور حامی۔ اسے آج یقین ہوگیا کہ کیوں اس فرقے کے لوگوں کو کافروں کا ساتھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی پلیٹ چھوڑ کے کھڑا ہوگیا۔ اسے اپنے اردگرد ہر چیز رکی ہوئی لگنے لگی لمحوں کی رفتار تھم گئی۔ ایک طرف اس کی نیک نامی تھی کہ آفس میں وہ کبھی کسی تو تکار کا حصہ نہیں رہا تھا۔ اور دوسری طرف اس کا ایمان تھا جو بار بار اسے احساس دلا رہا تھا کہ جو کچھ ہورہا ہے بہت غلط ہورہا ہے۔ یک دم اسے محسوس ہوا کہ اس کا یہاں ہونا اس کے لیے غیبی اشارہ ہے۔ بہت دیر سے دل میں چلتی دنیاوی نیک نامی اور ایمان کی جنگ میں سے ایمان کی جیت ہوگئی۔

وہ ان دونوں ہے سر پہ پہنچ گیا۔

 ”تمہیں شرم نہیں آ تی لوگوں کو کفر کی طرف لے جاتے ہوئے؟”

اس نے زاہد کا گریبان پکڑ لیا۔

 ” دیکھو غلام مصطفی یہ بات کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ پہلے گریبان چھوڑو تمیز سے بیٹھ کے بات کرو۔”

زاہد کے چہرے پہ ایک دم طیش کے آثار نظر آنے لگے۔ زیب ہکا بکا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔

 ”اور کون سے کفر کی بات۔ لوگوں کو حق بات سکھانا کفر کب سے ہوگیا؟”

 ” لعنت ہے تم پہ یہ شخص رسول اللہﷺ کے بارے میں اتنے غلط الفاظ استعمال کر رہا ہے اسلام چھوڑنے کی بات کر رہا ہے اور تم بے ضمیروں کی طرح اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہو؟ تم اور تمہارا پورا فرقہ ہی جہنمی ہے۔ اور تم”

اس نے غصے سے زیب کو مخاطب کیا

 ”جانتے ہو اسلام چھوڑدینے والا کیا کہلاتا ہے۔ مرتد کہلاتا ہے مرتد۔ جس کی سزا صرف موت ہے۔” طیش کے باعث غلام مصطفی کا جسم کانپ رہا تھا۔ اس کے ماتھے پہ پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ اس کا ذہن آندھیوں کی زد میں تھا کہ کسی طرح یہ گناہ ہونے سے روک لے۔

 ”ایک منٹ، ایک منٹ آپ کو بہت شدید غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں غیر مسلم ہوں اور زاہد کے کہنے پہ اسلام قبول کرنے والا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا۔” زیب کی بات ختم ہوتے ہی کینٹین میں دبیز خاموشی طاری ہوگئی۔

تحریر ابصار فاطمہ

کمیٹی آرگنائزر، ینگ ویمین رائٹرز فورم اسلام آباد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دوڑ ۔۔۔ صغیر رحمانی

دوڑدوڑ صغیر رحمانی ”آپ کا خون سفید ہو چکا ہے۔“ ڈاکٹر کی حیران کن بات …

2 تبصرے

  1. Avatar

    آپی ابصار فاطمہ کو طلحہ کھرل کی جانب سے سلام
    آپی آپ مجھے اپنی افسانوں کی کتاب "افسانے کی حقیقی لڑکی "ارسال کر سکتی ہیں براے مہربانی کر دو میں منتظر رہوں گا بڑی نوازش ہو گی آپی ابصار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے