سر ورق / کہانی / محبت ایک ڈائن کی۔۔۔۔سید بدر سعید

محبت ایک ڈائن کی۔۔۔۔سید بدر سعید

محبت ایک ڈائن کی

سید بدر سعید

کاشف سے میری پہلی ملاقات تھانے میں ہوئی تھی ۔ وہ عادی مجرم ہرگز نہیں تھالیکن اس کے باوجود اس کی کہانی دلچسپی اور عبرت سے خالی نہیں ہے۔زندگی کی کتاب میں وہ ہیرو رہا ہو گا لیکن جب میں اس سے ملا تب وہ ذہنی طور پر اپنی شکست قبول کر چکا تھا ۔ اس علاقے کا تھانیدار میرا واقف تھا ۔ چند برس قبل ایک دو بار میں نے صحافتی تعلقات استعمال کرتے ہوئے اسے ایک دو محکمانہ انکوائریوں سے بچایا تھا جس کے بعد وہ مجھ پر خاصا مہربان تھا ۔ کرائم رپورٹنگ کے دوران اس کا تھانہ میرے لئے گھر کی مرغی کی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ اہم خبریں وہ سب سے پہلے مجھ تک پہنچا دیتا تھا ۔ اتفاق سے کاشف کا کیس اسی کے تھانے کی حدود میں تھا اس لئے اسے گرفتار کرتے ہی تھانیدار نے مجھے فون کر دیا ۔ اس وقت میں تھوڑا مصروف تھا لیکن اس نے اصرار کیا کہ ابھی تھانے پہنچ جاﺅں ۔ اس کا کہنا تھا کہ اس ملزم کی کہانی میں کافی ”سکوپ “ ہے لہذا اس سے پہلے کسی اور رپورٹر تک خبر پہنچے تم چلے آﺅ ۔ سکوپ صحافتی زبان میں دھماکہ دار خبر کو کہتے ہیں ۔ چونکہ یہ گرفتاری مغرب کے بعد ہوئی تھی اس لئے اس نے مجھے یہ لالچ بھی دیا کہ دیگر رپورٹرز تک زیادہ سے زیادہ گرفتاری کی پریس ریلیز پہنچے گی لیکن وہ میری کاشف سے ملاقات کا اہتمام کروا دے گا ۔ اس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ صبح کے اخبار میں تفصیلی رپورٹ صرف میری ہی ہو گی ۔ ظاہر ہے کسی بھی صحافی کے لئے یہ بڑا لالچ ہوتا ہے لہذا میں فورا متعلقہ تھانے پہنچ گیا ۔

تھانیدار نے مجھے مختصر سی بریفنگ دی اور پھر کاشف سے ملوا دیا ۔ وہ سلاخوں کے پیچھے سر جھکائے بیٹھا تھا ۔ مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ ابھی تک اس کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے خود تھانے آ کر اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا اور تھانیدار نے فوراً ہی تصدیق بھی کر لی تھی ۔اب وہ اس کیس کو انتہائی مضبوط اور سنسنی خیز بنانا چاہتا تھا تاکہ محکمہ میں اعلی افسران کے سامنے اس کا نام ایک بہادر اور قابل تھانیدار کے طور پر جائے ۔مجھے بلانے کی وجہ بھی یہی تھی کہ میں کوئی ایسی دھماکے دار خبر بنا لوں جس میں اس کی بہادری اور قابلیت کی بھی تعریف کی جائے ۔ اگلے دن وہ اسی خبر کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیا کو تفصیلات بتا دیتا ۔ بہرحال میں نے کاشف کو تھانیدار کے کمرے میں بلانے کی بجائے خود اس سے سلاخوں کے پیچھے ہی ملنے کا فیصلہ کیا ۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ تھانے میں قیدیوں کو زیادہ عرصہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی اس لئے وہاں جیل کی طرح زیادہ قید خانے نہیں ہوتے ۔ عارضی طور پر ملزموں کو رکھنے کے لئے ایک یا دو کمرے مخصوص ہوتے ہیں جنہیں سلاخیں لگا کر جیل کی شکل دے دی جاتی ہے ۔

اتفاق سے اس رات تھانے میں ملزم کی حیثیت سے صرف کاشف ہی موجود تھا ۔ میں نے دروازہ کھلوایا اور اس کے برابر جابیٹھا ۔ اتنا تو اسے بھی علم ہو چکا تھا کہ میری اس سے ملاقات تھانیدار کی رضامندی سے ہو رہی ہے کیونکہ مجھے اس کوٹھری تک لانےوالے اہلکاروں کے لبوں پر گالیاں نہیں تھیں اور نہ ہی کسی نے مجھے دھکا دیا تھا۔ سلاخوں کے باہر تھانے کا عملہ کھڑا دانت نکال رہا تھا جیسے میں وہاں بندر کا تماشہ دکھانے آیا ہوں ۔ ابتدا میں وہ اکھڑا کھڑا سا رہا ۔میرے سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ وہ پولیس کو تمام تفصیلات بتا چکا ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے پاس بتانے کو کچھ نہیں ہے۔تھوڑی دیر میں ہی صحافتی حربوں کے استعمال اور گفتگو کے ہیر پھیر کی بدولت وہ رام ہو گیا اور اس نے تفصیلات بتانی شروع کر دیں

کاشف کا تعلق پڑھے لکھے گھرانے سے تھا ۔ شہر کے پوش علاقے میں ان کی کوٹھی تھی جبکہ گاﺅں میں بھی کچھ زرعی زمین تھی ۔ زندگی اپنی ڈگر پر رواں دواں تھی ۔ اس کے والد ایک فیکٹری کے مالک تھے ۔ یہ ہنستا مسکراتا خوش حال گھرانہ چار نفوس پر مشتمل تھا جن میں کاشف کی بہن اور والدین شامل تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ فیکٹری کے انتظامی معاملات دیکھنے لگا ۔ چونکہ اسے عملی زندگی میں آئے زیادہ عرصہ نہ ہوا تھا اس لئے اس کے ذمہ فیکٹری کے انتظامات ، سامان کی ترسیل اور ایسے ہی دیگر معاملات تھے ۔ اس کے علاوہ حساب کتاب میں بھی وہ اپنے والد کی مدد کرتا تھا ۔ دوسری جانب اس کے والد کاروباری معاملات اور تاجروں سے معاہدوں پر توجہ مرکوز رکھتے تھے ۔ کام تقسیم ہونے کی وجہ سے فیکٹری پہلے سے کہیں زیادہ منافع دے رہی تھی اور ان کا کاروبار وسعت اختیار کرتا چلا جا رہا تھا ۔

 فیکٹری میں پیکنگ کے شعبے میں کام کرنے والی ایک لڑکی سے کاشف کو محبت ہو گئی ۔ آہستہ آہستہ یہ محبت رنگ لانے لگی ۔ والد کی موجودگی میں وہ بہت بڑا فیصلہ کرنے کے قابل تو نہ تھا لیکن اس نے پیکنگ کے شعبے کی انچارج کو ملازمت سے نکال دیااوراپنی محبوبہ فروا کو اس شعبے کا انچارج بنا دیا ۔ یہ اتنا بڑا فیصلہ نہیں تھا کہ اس کے والد کو کوئی شک ہوتا ۔ اس کے برعکس جب انہیں اس فیصلہ کا علم ہوا تو انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کا برخوردار کاروبار میں دلچسپی لے رہا ہے ۔ دوسری جانب فروا بھی کاشف کی دلچسپی بھانپ چکی تھی ۔ اس نے اسے حوصلہ افزا جواب دیا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا ۔ تحفے تحائف سے لے کر ہوٹلنگ تک فروا پر اشرف کی محبتیں جاری تھیں ۔

کاشف کے گھر والوں پر یہ کہانی اس دن کھلی جب اس نے اپنے والد کو حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے فروا سے شادی پر اصرار کیا۔ ۔ یہ خبر پورے گھرانے کے لئے کسی دھماکے سے کم نہ تھی ۔فیکٹری مالک کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اپنی ہی فیکٹری کی معمولی ملازمہ کو اپنے گھر کی بہو بنا لے۔گھر والوں نے نہ صرف کاشف کی یہ بات ماننے سے انکار کر دیا بلکہ اچھی خاصی ڈانٹ ڈپٹ بھی کی ۔ دوسری جانب کاشف کسی بھی صورت اپنی محبت سے دست بردار ہونے کو تیار نہ تھا ۔ جلتی پر تیل فروا کے اس جملے نے ڈال دیا کہ : لوگ تو اپنی محبت کے لئے جان تک دے دیتے ہیں ، تم کیسے مرد ہو جو ابھی سے پیچھے ہٹ رہے ہو ۔فروا کو فیکٹری سے نکال دیا گیا تھا اور اب وہ زخمی ناگن بن چکی تھی ۔ وہ کسی بھی صورت کاشف اور اس کی دولت سے دست بردارہونے کو تیار نہ تھی ۔کاشف کی آنکھوں پر بھی محبت کی پٹی بندھی ہوئی تھی اور اسے فروا کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس کے گھر کا ماحول کافی کشیدہ ہو چکا تھا۔ فروا فیکٹری سے تو نکل گئی لیکن کاشف کے دل و دماغ پر اسی کا قبضہ تھا ۔ آنکھوں میں آنسو لئے وہ اپنے عاشق کو جذباتی بلیک میل بھی کر رہی تھی ۔ ایک رات کاشف گھر آیا تو کافی بہکا ہوا تھا ۔ اس کے ذہن میں فروا کے طعنے گونج رہے رہے ۔ اسی رات اس نے اپنے ماں باپ اور معصوم بہن کو قتل کر دیا ۔

گلی محلوں میں پتہ بھی ہلے تو پورے محلے کو خبر ہو جاتی ہے لیکن پوش علاقوں میں کسی کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہوتا ہے ۔ اس لئے گھر والوں کی غیر موجودگی اس کے لئے زیادہ مسائل کا باعث نہ بنی ۔ چند ایک جاننے والوں نے پوچھا بھی تو اس نے یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ گھر والے دبئی گئے ہوئے ہیں۔ کچھ ہی دن بعد فروا اور کاشف نے کورٹ میرج کر لی اور فروا اسی کوٹھی کی مالکن بن گئی ۔ کاشف نے اپنی نئی نویلی بیوی کی خواہشات پوری کرنے کے لئے کاروبار میں سے رقم نکالنا شروع کر دی ۔وہ فروا پر دولت پانی کی طرح بہا رہا تھا ۔ فیکٹری پہلے ہی اس کے نام تھی لہذا ایک دن اس نے وہ بھی اونے پونے بیچ دی۔ اسی ہفتے ایک صبح اس کی آنکھ کھلی تو معلوم ہوا فروا گھر سے غائب ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ گھر میں موجود رقم ، پرائز بانڈ اور زیورات بھی غائب تھے ۔ رقم والے دراز میں ایک کاغذ تھا جس پر فروا نے لکھا ہوا تھا کہ: ” تم اپنے ماں باپ کو مار سکتے ہو تو کسی دن مجھے بھی مار دو گے ۔ اس لئے میں جا رہی ہوں ۔ مجھے تلاش مت کرنا کیونکہ اب تم مجھے کبھی نہیں ڈھونڈ پاﺅ گے “ اس روز کاشف کو احساس ہوا کہ وہ اپنا سب کچھ کھو چکا ہے ۔ نیم دیوانگی میں وہ پولیس اسٹیشن گیا اور اقبالی بیان دے دیا

مجھ سے گفتگو کے دوران اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔اس نے کہا کہ میں اس لڑکی کے عشق میں اتنا پاگل ہو چکا تھا کہ اپنے والدین اور بہن کو بھی راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہوئے قتل کر بیٹھا۔ اس نے جس کمرے میں انہیں دفن کیا وہی کمرہ اس کا حجلہ عروسی تھا۔اس کے بیڈ کے بالکل نیچے قالین ہٹا کر زمین کھودی گئی تو تینوں لاشوں کے ڈھانچے برآمد ہو گئے ۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں اسے نفسیاتی مریض سمجھتے ہوئے اس پر ترس کھاﺅں یا اسے انتہائی سنگ دل قاتل کہوں ۔ اخبارات میں یہ خبر صفحہ دو پر کرائم سیکشن میں شائع کی گئی جس میں صرف اتنا بتایا گیا کہ ایک شخص نے محبت کی شادی کے لئے اپنے والدین کو قتل کر دیا لیکن یہ کہیں نہیں بتایا گیا کہ اس نے خود ہی تھانے آ کر اقبالی بیان دیا تھا اور اس کی محبوب بیوی ہی اسے لوٹ کر چلی گئی تھی ۔ عدالتی کارروائی میں جو بیان پیش کیا گیا اس کے مطابق تھانیدار نے شک کی بنیاد پر انتہائی محنت کے بعد اس قتل اور مجرم کا سراغ لگایا تھا ۔ فروا نے درست کہا تھا کہ اسے تلاش کرنا ممکن نہیں ۔ اس کا آج تک کچھ پتا نہ چل سکا جبکہ کاشف کو عمر قید ہوئی ۔ اس کیس کی تفتیش کرنے والے تھانیدار کو آج بھی یہ شک ہے کہ کاشف نے فروا کو کسی آشنا کے ساتھ دیکھ کر قتل کر دیا تھا۔ اسی لئے اس نے اپنی بیوی کو تلاش کرنے کی بجائے گرفتاری دے دی تھی ۔ تھانیدار کا یہ شک بھی کہیں ثابت نہ ہو سکا اور کاشف بھی اپنی زبان سی چکا ہے ۔ اس لئے اس کیس سے جڑے کسی بھی شخص کو یہ علم نہیں کہ فروا آج کل کہاں ہے ؟ کسی نئے محبوب کے ساتھ بیرون ملک یا پھر کسی گمنام قبر میں ۔!!

پھولن دیوی

ادب اور صحافت میں ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ صحافت کی تیز رفتاری بہت سی داستانوں کو پیچھے چھوڑ جاتی ہے جبکہ ادب انہی تلخیوں اور سچائیوں کو اپنے اندر سمیٹتاچلا آتا ہے۔شاید اسی لئے کہا جاتا کہ کہ صحافی معاشرے کو وقتی حالات سے باخبر رکھتا ہے جبکہ ادیب خاموشی سے تاریخ بنتا چلا جاتا ہے۔ صحافتی زندگی میں ایسے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں جنہیں قرطاس پر منتقل کرنے کے لئے ادب کا دامن تھامنا پڑتا ہے ۔ اخبارات میں محض ایک کالمی خبر اپنے پیچھے کتنا طوفان لئے ہوتی ہے اس کا اندازہ ان خبروں سے نہیں ہوپاتا۔

یہ بھی ایسی ہی ایک داستان ہے جو اخبارات کے اندرونی صفحات پر کرائم کی چھوٹی سی خبر کے طور پر دفن ہو چکی ہے ۔ کہانی کے تمام کرداروں کے نام تبدیل کرنا مجبوری ہے لیکن اخبارات کے پرانے ریکارڈ دیکھنے والوں کو اس کہانی سے جڑی خبر کا علم ہو جائے گا ۔ یہ آوارگی کے دنوں کی بات ہے ۔ مجھے تحقیقاتی صحافت میں قدم رکھے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی ہوئے تھے ۔ چونکہ ہمارے یہاں تحقیقاتی صحافت کو جرائم کی دنیا سے منسلک کر دیا جاتا ہے اس لئے مجھے بھی ایسی ہی اسائنمنٹ دی جاتی تھیں ۔ کرائم سٹوریز کی تلاش کے لئے جرائم کی دنیا میں مضبوط رابطے رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ یہی رابطے یا ذرائع ”اندر کی خبر “ سے آگاہ کرتے ہیں ۔ عام طور پر کرائم رپورٹر مجرموں اور پولیس کے درمیان ”شٹل کاک“ بنا ہوتا ہے ۔ بعض اوقات وہ زیر زمین دنیا کے معاملات میں اس طرح الجھ جاتا ہے کہ پولیس سے لے کر مجرموں تک کے لڑائی جھگڑوں اور صلح صفائی کی پنچائیتوں میں باقاعدہ فریق بن جاتا ہے ۔ گھاگ رپورٹر تو اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں لیکن کچے کھلاڑی اکثر بری طرح پھنس جاتے ہیں ۔ یہ ایک الگ ہی دنیا ہے جس کے اپنے اصول اور قوانین ہیں ۔

ان دنوں میں ایک مقامی اخبار سے منسلک تھا ۔ چھوٹے اخبارات میں کام سے زیادہ تعلقات کو ترجیح دی جاتی ہے اس لئے اکثر رپورٹرز پر خبروں کے لئے ویسا دباﺅ نہیں ہوتا جیسا کہ بڑے اخبارات کے رپورٹرز پر ہوتا ہے ۔ خیر اس اخبار کا بھی یہی حال تھا ۔ مالک تو اپنے دفتر میں ہی الگ دنیا بسائے بیٹھا رہتا اور ہم چند صحافی صبح حاضری لگوانے کے بعد پریس کلب چلے جاتے اور سارا دن وہیں بیٹھے مکھیاں مارتے رہتے ۔ شام ڈھلنے لگتی تو دفتر جا کر پریس کلب سے ہی ملنے والی روٹین کی خبریں فائل کر دیتے اور اللہ اللہ خیر صلہ کا نعرہ لگاتے ہوئے دوبارہ پریس کلب پہنچ جاتے ۔میرے ذمہ چونکہ ”تحقیقاتی خبریں “ لانا تھا اس لئے اکثر جرائم پیشہ افراد کے ٹھکانوں کے گرد منڈلاتا رہتا اور ان تک رسائی کے لئے کوئی سہولت کار تلاش کرتا رہتا تھا ۔ جلد ہی شہر کے قابل ذکر بستہ ”ب “ کے مجرموں اور اشتہاریوں سے میرے اچھے تعلقات بن گئے ۔ آغاز میں تو مجھے حیرت ہوتی تھی کہ جن مجرموں کو شہر بھر کی پولیس ڈھونڈ رہی ہے وہ تو کہیں چھپے ہوئے ہی نہیں ہیں ۔ایک طرف اخبارات میں ان کی گرفتاری میں مدد کے اشتہارات چھپ رہے ہوتے تو دوسری طرف سبھی کو علم ہوتا تھا کہ کون سا ڈیرہ کس اشتہاری کا ہے ۔جوں جوں میں زیر زمین دنیا کے افراد سے مانوس ہوتا چلا گیا توں توں مجھے پولیس اور ان کے درمیان موجود ”چین “ کا علم ہوتا چلا گیا۔ یاد رہے کہ ان دنوں پولیس کے پاس آج کی طرح جدید اسلحہ نہیں ہوتا تھا جبکہ مجرموں کے پاس شاندار اسلحہ نظر آتا تھا ۔

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ بڑے جرائم میں صرف مرد ہی ملوث ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔میں اپنے صحافتی سفر کے دوران ایسی خواتین سے بھی ملا ہوں جو سونے کی سمگلنگ سے لے کر ڈکیتی اور قتل کی وارداتوں میں بھی ملوث رہی ہیں ۔ بعض مجرموں کا تو پورا خاندان جرائم کی دلدل میں سر سے پا ﺅںتک ڈوبا ہوتا ہے۔بہرحال کرائم رپورٹنگ میں یہ میرا دوسرا سال تھا جب مجھے ایک بڑے جرائم پیشہ شخص کی شادی میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا ۔ یہ اس کی دوسری شادی تھی ۔ اس شادی میں زیر زمین دنیا کے نامور لوگوں نے شرکت کی تو دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے کئی محافظ بھی شریک ہوئے ۔ شمیم حیدر کو میں نے اسی شادی میں پہلی بار دیکھا تھا ۔ وہ اسی اشتہاری کی دوسری بیوی تھی ۔ جلد ہی زیر زمین دنیا میں یہ خبر عام ہو گئی کہ شمیم حیدر اپنے شوہر اسحاق بلے کا دائیاں بازو بن رہی ہے ۔ اسحاق بلا اسے نہ صرف لڑائی بھڑائی کے داﺅ پیچ بلکہ اسلحہ چلانا بھی سکھا رہا تھا ۔ بلے کے ٹھکانے پر میرا ویسے بھی آنا جانا تھا لیکن نئی نویلی دلہن کا شادی کے ایک ہفتے بعد ہی اسلحہ اٹھا لینا میرے لئے حیرت کا باعث بن گیا ۔ میں اس کے پس منظر میں چھپی کہانی کی تلاش میں اسحاق بلے کے ٹھکانے پر زیادہ ہی جانے لگ گیا ۔شادی کے بعد اس نے اپنا ٹھکانہ بدل لیا تھا لیکن چند افراد کو اپنا نیا پتہ بتا دیا تھا ۔ ان افراد میں اس کے چند قریبی ساتھیوں کے ساتھ ساتھ مجھ ایسے ایک دو بے ضرر اخبار نویس بھی شامل تھے ۔ ہمیں معلوم تھا کہ جب تک اوپر سے حکم نہیں آئے گا تب تک بلے پر ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا لہذا خبر چھاپنے یا مخبری کرنے کا مطلب اپنے آپ کو مروانے کے سوا کچھ نہ تھا۔

دوسری شادی کے چند ماہ بعد ہی شمیم حیدر اسلحہ کے استعمال اورجسمانی لڑائی میں ماہر ہو گئی ۔ اس وقت تک ہمیں معلوم ہو چکا تھا کہ شمیم حیدر دراصل ”سلطانہ ڈاکو “ بننا چاہتی ہے ۔ وہ اپنے آپ کو پھولن دیوی بھی کہلوانے لگی تھی کیونکہ اس کا شوہر اپنے گینگ کا سردار تھا ۔ شمیم حیدر اس سے قبل لوگوں کے گھر کام کر کے چند سو روپے ماہانہ کماتی تھی وہیں امیر گھرانوں کی خاموش کوٹھیوں میں اسے مالکوں کے روپ میں بھیڑیوں سے بھی واسطہ پڑا ۔ امیر زادوں نے اس کا استحصال بھی کیا ۔ انہی میں سے کسی کوٹھی میں اس نے سلطانہ ڈاکو یا پھولن دیوی کے بارے میں کوئی فلم یا پروگرام دیکھا اور اگلے ہی ہفتے اپنی مالکن کا زیور اور رقم چرا کر فرار ہو گئی ۔ دو تین ماہ وہ مکمل طور پر منظر سے غائب رہی ۔ اس کے بعد اس نے ایک انگوٹھی بیچ دی ۔ اسے مارکیٹ ریٹ سے کافی کم قیمت ملی لیکن یہ رقم بھی اس کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھی۔اس نے کسی ”بہادر “ ڈاکو کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ۔ شاید وہ حقیقی زندگی سے دور ہو کر خود کو کسی فلم کا کردار سمجھنے لگی تھی۔ مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اسے شہر کے نامی گرامی بدمعاشوں کا علم کس سے ہوا تھا ۔ ان ڈاکوﺅں کی کہانی اور وارداتیں سنانے والے نے ہی اسے اسحاق ڈکیت کے بارے میں بھی بتایا تھا ۔ شمیم حیدر کو اسحاق بلے کی داستان زیادہ اچھی لگی ۔ اسحاق کے پولیس مقابلوں میں بچ نکلنے کو وہ بہادری سمجھتی تھی ۔ اس نے کسی نہ کسی طرح اسحاق تک رسائی حاصل کر لی۔ اس سارے معاملے میں ایک اور جرائم پیشہ خاتون نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا لیکن مجھے اس کا اصل نام معلوم نہ ہو سکا ۔

آغاز میں ہی شمیم نے اسحاق کو ساری بات بتا دی تھی ۔ اس نے خود ہی اسحاق کو شادی کا پیغام دیا اور قرآن پاک سر پر رکھ کر قسم کھائی کہ وہ کبھی اسحاق کے ساتھ دھوکا نہیں کرے گی ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر پولیس یا مخالفین سے مقابلہ ہوا تو وہ اسحاق کے شانہ بشانہ ان کا مقابلہ کرے گی اور اسحاق سے پہلے اپنے سینے پر گولی کھائے گی ۔ اسحاق بلے نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا تھا ۔ وہ تو دوستوں کی محفل میں بھی بوتل کا پہلا گھونٹ میزبان کو پلا کر خود پیتا تھا ۔ یقینا اس نے شمیم پر بھی اندھا اعتماد نہیں کیا ہو گا بلکہ دیگر ذرائع سے اس کے بارے میں تصدیق کرائی ہو گی اور خود بھی اسے پرکھا ہو گا ۔ بہرحال کچھ عرصہ میں ہی دونوں کی یہ ملاقاتیں رنگ لے آئیں اور شمیم حیدر اسحاق ڈکیت کی بیوی بن گئی ۔

اسحاق سے ٹریننگ لینے کے بعد شمیم نے اپنی قسم نبھائی ۔ وہ نہ صرف وارداتوں میں اس کے ساتھ جانے لگی بلکہ اس نے چند افراد کے خون سے بھی اپنے ہاتھ رنگ لئے۔ وہ اسحاق کے گینگ پر بھی اپنی دھاک بٹھا رہی تھی ۔ مجھے اسحاق نے ہی بتایا تھا کہ وہ لوگ اکثر وارداتوں میں کسی کی جان بخشی کر دیتے تو شمیم خود آگے بڑھ کر اس کے سینے میں گولیاں اتار دیتی تھی ۔ شمیم اپنے شکار کو زندگی بخشنے کی قائل نہیں تھی ۔ واردات کے دوران وہ اس حد تک وحشی پن پر اتر آتی تھی کہ اسحاق گینگ کے نامی ڈکیت اور وارداتیئے بھی اس سے بدکنے لگے تھے ۔ ایک بار اس نے ایک محفل میں مجھے کہا کہ جس دن وہ سو قتل پورے کرے گی اس دن سب کو پارٹی دے گی ۔ اس کی یہ بات سن کر میں لرز اٹھا کہ جانے اب وہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

جب تک اسحاق اپنے گینگ کوخود چلا رہا تھا تب تک معاملات ٹھیک تھے ۔ وہ زیادہ خون خرابے کی بجائے اپنے اصل کام پر توجہ رکھتا تھا لیکن شمیم حیدر وحشت اور بربریت کی دلدادہ تھی ۔ وہ زیر زمین دنیا پر حکومت کا خواب دیکھ رہی تھی ۔ اس نے اپنی دہشت پھیلانے کے چکر میں کئی معاملات بگاڑ لئے تھے ۔ ضلع کی پولیس پر اوپر سے دباﺅ بڑھتا جا رہا تھا ۔ ایک پولیس آفیسر اورریٹائر جج کے گھر ڈکیتی کی واردات کے بعد تو جیسے اسحاق گینگ کی فائل بند کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ ایک دن مجھے ایک پولیس آفیسر کا فون آیا ۔ اسے جرائم کی دنیا میں این کاﺅنٹر سپیشلسٹ کے طور پر جانا جاتا تھا ۔ اس نے سرد لہجے میں کہا کہ ایک دو دن اسحاق کے ڈیرے سے دور رہنا اور یہ اطلاع اپنے ساتھی صحافیوں تک بھی پہنچا دو۔ میں سمجھ گیا کہ اب معاملہ ضلعی پولیس کے دائرہ کار سے باہر جا چکا ہے۔

اگلے روز اسی پولیس آفیسر کا فون آیا ۔ اس نے بتایا کہ ایک بین الاضلاعی اشتہاری مجرم پولیس سے مقابلے کے دوران مارا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں دیگر تفصیلات مقامی پولیس اسٹیشن سے مل جائیں گی۔ میں جب پولیس اسٹیشن پہنچا تو پریس کانفرنس کی تیاریاں مکمل تھیں ۔ ہمیں بتایا گیا کہ پولیس کی بھاری نفری نے مخبر سے اطلاع ملنے کے بعد ایک گھر پر چھاپا مارا تھا ۔ گھر میں موجود افراد نے پولیس سے تعاون کی بجائے فائرنگ شروع کر دی ۔ اسی مقابلے کے دوران مشہور زمانہ بدنام اشتہاری ڈکیت اسحاق بلامارا گیا ہے جبکہ اس کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔

اسحاق بلا اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا ۔ اس نے جو بویا تھا وہی کاٹ لیا تھا لیکن اسے درندگی پر ابھارنے والی شمیم حیدر اپنی قسم کی لاج نہ رکھ سکی ۔ اسے مقابلے کے دوران زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا ۔پولیس نے اسحاق بلے اور گینگ کے دیگر افراد کے جرائم بھی اسی کے کھاتے میں ڈال دیے ۔ اس کے خلاف مضبوط چالان بنایا گیا۔ایک پیشی کے دوران اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے اس دن کی تفصیلات بتائیں۔ اس کے مطابق اس دن گھر پر گینگ کا کوئی رکن سرے سے موجود ہی نہیں تھا ۔ جب پولیس نے چھاپا مارا تو وہ اور اسحاق بلا پولیس کا مقابلہ کرنے لگے۔ اس نے اسحاق کو بھاگ نکلنے کا کہا لیکن اسحاق ڈکیت اپنی بیوی کو چھوڑ کر بھاگنے پر آمادہ نہ ہوا ۔ابتدائی جھڑپ کے دوران ہی اسحاق کے سر پر گولی لگی اور وہ مر گیا جس پر شمیم حیدر زخمی شیرنی بن گئی ۔ اس نے دو گھنٹے تنہا پولیس کا مقابلہ کیا اور گولیاں ختم ہونے پر پکڑی گئی۔

شمیم حیدر کے خلاف دہشت گردی ، قتل اور ڈکیتی سمیت کئی مقدمات درج ہیں ۔ سزائے موت یا عمر قید اس کا مقدر بن چکی ہے ۔ دوسری طرف وہ اسحاق بلے کے جس گینگ کی ”دیوی “ بننا چاہتی تھی وہ سب ایک اور اشتہاری ”چھوٹو “ کے گینگ میں چلے گئے تھے۔ اسحاق بلے کا گینگ ٹوٹ چکا ہے اورشمیم حیدر کی کہانی بھی ختم ہونے والی ہے لیکن میں آج تک نہیں سمجھ پایا کہ شمیم حیدر کو ”سلطانہ ڈاکو “ بنانے میں اس امیر طبقے کا زیادہ ہاتھ تھا جو گھریلو ملازماﺅں کا استحصال کرتے ہیں یا پھر یہ سلطانہ ڈاکو اور پھولن دیوی کو ہیرو بنانے والے فلم سازوں کا قصور ہے ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

رسپَرِیا….پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی

رسپَرِیا پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. پھنیشورناتھ رینو ۔پیدائش:۴ مارچ ۱۲۹۱ ء، اوراہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے