سر ورق / مکالمہ / محترمہ روبینہ رشید سے مکالمہ۔۔۔سیف خان

محترمہ روبینہ رشید سے مکالمہ۔۔۔سیف خان

محترمہ روبینہ رشید سے مکالمہ

سیف خان

جے ڈی پی میں اپنی تیکھی, کرائم کہانیوں کیلئے مشہور محترمہ روبینہ رشید صاحبہ کا ہلکا پھلکا انٹرویو لیئے میں سیف خان آپ سب کی خدمت میں حاضر  میں    ہوں…

روبینہ صاحبہ نے اپنے مصروف شیڈول میں سے کچھ لمحے ہم قارئین کے نام کیئے….اس کیلئے بہت بہت شکریہ تمام قارئین کی جانب سے. اس ایونٹ کے انعقاد میں امجدجاوید صاحب نے قاری و لکھاری کے بیچ پُل کا کردار ادا کیا جس کیلئے ہم سب ان کے بھی انتہائی شکرگزار ہیں۔.

 انٹرویو کا آغاز کرتے ہیں..

روبینہ صاحبہ پہلے آپ اپنی پیدائش, ابتدائی تعلیم وغیرہ کے بارے میں اپنا مختصر سا تعارف کرائیں۔. سب سے پہلے تو میں آپ سب کی بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا۔امجد جاوید صاحب کی بھی میں بہت مشکور ہوں۔ میری پیدائش کراچی کی ہے اور تمام تعلیم بھی یہیں سے حاصل کی ہے۔ ہم پانچ بہن بھائی ہیں جن میں میں سب سے بڑی ہوں۔ میں نے کراچی یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹرز کیا ہے اس کے علاوہ ڈوئچے ویلے اکیڈیمی جرمنی سے جرنلسٹ ٹریننگ کے حوالے سے بہت سے کورسز ٹریننگز وغیرہ حاصل کیں۔ باقاعدہ عملی زندگی میں جنگ اخبارکے سنڈے میگزین کی ایڈیٹرکی حیثیت سے پہلا قدم رکھا۔ اس کے بعد جنگ میں جنگ فورم ایڈیٹر بھی رہے اور میگزین ایڈیٹری بھی کی ۔ان سالوں کے دوران مختلف وقفوں میں اخبار جہاں میں بھی کام کرنے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملتا رہا۔ اس کے بعد بحثیت میگزین ایڈیٹر ایکسپریس اخبار جوائن کیا جہاں تین سال کام کے بعد ایف پی سی سی آئی کا بزنس میگزین سنبھالا اور سات سال تک اس کی ایڈیٹر اور پبلشر رہی۔ اس دوران خواتین انٹرپرینورز کے ساتھ کافی کام کیا ۔ کراچی کے پہلے وومن چیمبر کے قیام میں کافی ایکٹیو رہے اور پھر اس کے فاونڈر سینئر وائس پریزیڈنٹ مقرر ہوئے۔ اب اپنے ادارہ سکسس (کامیابی) گروپ کی صدر ہوں جو پبلیکیشنز ،ٹریننگز ، سیمینارز اور کانفرنسز کے ساتھ ہم اکیڈیمیا اور انڈسٹری کے اشتراک اور اس کے ذریعے ملکی معشیت اور نوجوانوں کے لئے بہت مواقع پر کام کرتے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان میں اخبارات کی مدیران کی واحد تنظیم کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز میں ڈاریکٹر پروجیکٹس کی ذمہ داری بھی ادا کر رہی ہوں۔میرے تین بچے ہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔جن میں سے ایک بیٹی میں لکھنے کا شوق اور صلاحیت موجود ہے ۔

*ساگر تلوکر چشمہ بیراج پہلی کہانی کب لکھی؟ اور اب تک کتنی کہانیاں لکھ چکی ہیں؟

*پہلی کہانی طالب علمی کے دور میں لکھی تھی وہ ایک افسانہ تھا اور شعاع ڈائجسٹ میں شایع ہوا تھا سن شائد 89 یا 90 تھا۔

*جعفر حسین چینوٹ کس نیوز پیپر میگزین میں کام کرنے کا تجربہ باقیوں کی نسبت اچھا اور خوشگوار رہا ؟

* سب میں ہی اچھا رہا، جنگ میں چونکہ زیادہ وقت گزارا اس لئے زیادہ دوست اور ساتھی وہیں کے ہیں مگر ایکسپریس میں بھی معاملات بہت اچھے رہے ۔ یہ تو میں نوکریوں کی تفصیل بتا رہی ہوں باقی جاسوسی ڈائجسٹ تو میرے لئے گھر کی طرح ہے۔

* طلعت مسعود دبئی جاسوسی ڈائجسٹ میں روبینہ صاحبہ کے رنگ اور ابتدائی صفحات پہ شائع ہونے والی کہانیاں کرائم و جاسوسی کے مزاج والی اور تھرلنگ ہوتی ہیں.. میرا سوال ہے کہ جے ڈی پی کے لئے ہم ان سے کوئی طویل سلسلہ وار ناول کی توقع کر سکتے ہیں ؟… مستقبل قریب میں ؟؟

*بالکل ، میں اس فورم کے ذریعے آپ کو بتا رہی ہوں کہ میرا ایک ناول جلد ہی شروع ہو رہا ہے اور آپ اسے جاسوسی ڈائجسٹ کے صفحات میں پڑھ پائیں گے۔ اب تک ناول نہ لکھ پانے میں بھی میری ہی کوتاہی ہے کیونکہ میں کافی سارے دیگر کاموں میں اور گھریلو مصروفیات میں بیک وقت مصروف رہی مگر اب جلد ہی آپ یہ ناول پڑھ سکیں گے ۔

* طلعت مسعود دبئی عام طور پہ ہم دیکھتے ہیں کہ جاسوسی ڈائجسٹ جیسے رسالوں میں خواتین رائٹرز کم نظر آتی ہیں.. آپ کی نظر میں اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟

*ہا ں یہ ہے تو سہی کہ خواتین کم ہیں مگر کافی ہیں بھی جو اچھا لکھ رہی ہیں۔

*عظمی ناز لندن, یوکے روبینہ رشید بہت اچھی رائٹر ہیں, بہت سادہ انداز میں لکھتی ہیں .. کچھ ماہ پہلے ایک بہترین ہارر سا رنگ پڑھنے کو ملا تھا ان کا. سوال میرا یہ ہے کہ آپ کس رائٹر سے انسپائرڈ ہیں؟

*آپ کا بہت شکریہ عظمی ، یہ آپ کا حسن ظن ہے ، میں ذاتی طور پر اسی طرح لکھنے کی کوشش کرتی ہوں جیسے کہ عام زندگی میں اور خاص طور پر اس کردار کو بولنا چاہیے۔ یوں تو میں بہت زیادہ پڑھتی ہوں ،اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں اور تراجم بھی اور تمام اچھی تحریریں مجھے انسپائر کرتی ہیں مگرمیں کوشش کرتی ہون کہ انسپائریشن ذہنی طور پر ہو ۔ لکھتے وقت اپنے انداز میں( اگرچہ کہ من آنم کہ من دانم )لکھا جائے۔ویسے میں نے ابن صفی کو بہت پڑھا ہے ۔ کیا خوب رائٹر تھے ان کے علاوہ اقلیم علیم میرے پسندیدہ مصنف ہیں ، میری دعا ہے کہ وہ پھر لکھیں ، پھر محمود احمد مودی بہت اچھا لکھتے ہیں میرے پہلے ایڈیٹر بھی وہ ہی تھے ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔

* اعتزاز سلیم وصلی فیصل آباد آپ اپنی اسٹوری پر کئے گئے تبصرے پڑهتی ہیں؟؟ اگر هاں تو تنقید یا تعریف آپ کی نیکسٹ اسٹوری کو کتنا متاثر کرتی ہے؟

* بالکل، سب سے پہلے تبصرے پڑھتی ہوں۔قارئین کی رائے سب سے اہم ہے۔ تعریف سے سچی بات ہے کہ خوشی ہوتی ہے اور مزید لکھنے کی موٹیویشن بھی ملتی ہے ، تنقید سے انسان اپنی اکاونٹیبیلٹی کر سکتا ہے اور اس سے آپ کا کام بہتر ہوتا ہے تو میں تنقید پر بھی بہت توجہ دیتی ہوں مگر جب کہانی لکھتی ہوں تو وہ اپنے فلو میں مجھے ساتھ لے کر جاتی ہے ۔

* مظہر سلیم ہاشمی بہاولپور آپ قسط وار کہانی کیوں نہیں لکھ رہی ہیں؟

*مظہر صاحب میں قسط وار کہانی لکھ رہی ہوں آپ جلد ہی زندگی کے نام سے میری قسط وار کہانی پڑھ سکیں گے مجھے آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔

* طلعت مسعود دبئی کونسے موضوع پہ لکھنا آپ کو زیادہ پسند ہے ؟ اور کونسا ایسا موضوع ہے جس پر لکھنا چاہتی ہیں لیکن…… لکھ نہیں پائیں!!

* مجھے ہر موضوع پر لکھنا پسند ہے ہر وہ موضوع جو زندگی سے متعلق ہو کبھی کبھی تو کسی کے ایک جملے سے کہانی بن جاتی ہے میں کچھ الگ ہٹ کر مگر علامتی سے ہٹ کر لکھنا چاہتی ہوں اور جلد وہ بھی آپ کے سامنے ہوگا، ایک موضوع ہے جس پر لکھنا چاہتی ہوں کینسر یا کسی جان لے جانے والے مرض کا ہو جانا ،اس کا علم ، اپنے پیارے کو روز گھلتا دیکھنا، علاج اور مسیحاوں کا سلوک ، احساسات، تکلیف ، درد ، بے بسی میں اس سب سے گذر چکی ہوں میرے پاپا کو کینسر ہوا تھا مگر اب تک میں اس پر لکھنے کی طاقت جھٹا نہیں پائی ہوں۔

* جعفر حسین چینوٹ کیا یہ پرسیپشن درست ہے کہ نیوز پیپرز اس وقت بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ؟

*بالکل ، یہ حقیقت ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں ایک تواب تک ہمارا پرنٹ میڈیا الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں اپنی الگ پہچان جو کہ صرف کانٹنٹ سے بن سکتی ہے نہیں بنا پایا پھرمقامی صحافت کو وہ ترقی نہیں مل سکی ۔ ڈمی اخبارات نے بھی انڈسٹری کو نقصان پہونچایا ہے ۔ پھر ایک ہی مالک کا ٹی وی بھی ہے اور اخبار بھی اس سے بھی پرنٹ کو نقصان ہوا ہے۔اب جو ہو رہا ہے وہ ہونا ہی تھا ۔اس پروسس سے گذر کر ایک نیا سیٹ اپ بنے گا۔

* جعفر حسین چینوٹ صحافت پہ آجکل سیلف سنسرشپ اور دوسری پابندیوں کے بادل چھائے رہتے ہیں.. کیا یہ تاثر درست ہے ؟ ایسے میں کوئی صحافی اپنے ضمیر کی آواز پہ لبیک کہتا ہوا سچی خبر اگر عوام تک پہنچانا بھی چاہے تو کیسے پہنچا سکتا ہے ؟

* ضابطہ اخلاق پر عملدرامد بہت ضروری ہے۔ میں اس کی قائل ہوں ۔ صحافت کو آزاد ہونا چاہیے اور صحافیوں کو بھی میڈیا ایتھکس کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ ویسے اب تو سوشل میڈیا سب سے آگے ہے ۔ *قدیراحمد ہوسٹن, ٹیکساس روبینہ رشید صاحبہ کے سرورق اور ابتدائی صفحات کے ناول بہت زبردست ہوتے ہیں .. میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم مستقبل میں آپ سے جاسوسی میں کوئی طویل ناول کی توقع کر سکتے ہیں ؟

*بہت شکریہ قدیر احمد صاحب، آپ بہت جلد جاسوسی میں میرا ناول "زندگی”پڑھ سکیں گے ۔

*طاہرمحمودریاض اٹک ہمارے رائٹرز یہ گلہ بہت کرتے ہیں کہ مغرب میں جو لکھتا ہے اسے سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے اور یہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں. صورتحال ہے بھی ایسی… کیا اس میں قصور وار صرف پڑھنے والوں کا ہے یا رائٹر بھی اس شدت سے اپنا آپ منوا نہیں سکے جتنی ہونی چاہیئے ؟

* ہمارے ہاں بہت اچھے اچھے رائٹرز رہے ہیں اصل میں پڑھنے کا رحجان کم ہے اور کیوں کم ہے اس کی الگ کئی وجوہات ہیں ۔پھرشکوہ یوں بھی ہوتا ہے کہ یہاں رائلٹی وغیرہ اس طرح ہے نہ ہی معاوضے ایسے ہیں کہ رائٹر صرف لکھنے پر اکتفا کر سکے ۔

*آفشین بیگ اونٹارئیو کینیڈا واہ بہت خوب سوال: کبھی طنز و مزاح پر مبنی کوئی تحریر لکھی ہے یا لکھنے کا ارادہ ہے؟

*ہاں افشین لکھی ہے، مضامین بھی لکھے ہیں مگر اگر آپ کی فرمائش ہو تو میں ایک کہانی مزاح پر مبنی لکھتی ہون جلد ہی آپ پڑھیے گا اور رائے دیجیے گا۔

*غزالہ یاسمین لاہور جاسوسی ادب کے کئی شاندار لکھاری اب اس دنیا میں نہیں رہے آپ کیا سمجھتی ہیں کہ اس خلا کو نئے رائٹرز پورا کر پائیں گے؟

*ہاں ان چند برسوں میں بہت سے روشن ستارے اپنی حقیقی زندگی کی جانب سفر کر گئے ہیں اللہ ان سب کی مغفرت فرمائے اور ان سے رحمت کا معاملہ کرے آمین۔ غزالہ بہت سے اچھے رائٹرز ہیں مگر میں سمجھتی ہوں کہ کوئی کسی کی جگہ نہیں لے سکتا ۔

*غزالہ یاسمین لاہور آپ نے لکھنے کا اغاز کب کیا؟ عموما صحافی حضرات ناول نگاری کی طرف نہیں آتے.. آپ کے اس رحجان کی کوئی خاص وجہ ؟

*مجھے کہانی لکھنے کا شوق رہا ہے ۔ پڑھنا لکھنا شروع سے میرا مشغلہ رہا ہے۔ صحافت سے آپ کو لکھنے میں مدد ملتی ہے۔

* ساگر تلوکر چشمہ بیراج زیادہ تر لکھاریوں کی کہانیوں کا پسِ منظر پنجاب سندھ کے پی کے کا ہوتا ہے۔ بلوچستان کے پسِ منظر میں کہانیاں نہیں لکھی جاتیں.. اس کی کوئی خاص وجہ ؟

*آپ کا شکوہ بجا ہے ، آپ کا سوال پڑھ کر میں نے اپنا جائزہ لیا تو شرمندگی ہوئی ، شائد معلومات کی کمی اس کی وجہ ہو مگر یہ کوئی جواز نہیں ہے ، میں اگلی کہانی میں اس تجویز کو یاد رکھون گی اور پھر آپ کی رائے کی منتظر بھی رہوں گی۔

*انصر علی چنیوٹ السلام علیکم آپ کے لکھنے کا انداز بہت بہترین ہے.. جاسوسی ڈائجسٹ میں جتنی خواتین رائٹرز لکھتی ہیں ان میں قارئین کی اکثریت آپ کے لکھے کو زیادہ پسند کرتی ہے. لکھنے کا سفر کس ڈائجسٹ یا ناول سے شروع کیا ؟

* انصر صاحب آپ کا بہت شکریہ، میں نے جاسوسی، سرگزشت ،سسپنس سب میں لکھا ہے ۔پہلی کہانی ایک افسانہ تھا مگر صحیح معنوں میں جاسوسی ڈائجسٹ میں کہانیاں لکھیں۔

*کبیر عباسی مری جاسوسی میں موجودہ لکھنے والوں میں مجھے سب سے زیادہ دلچسپ آپ ہی کا انداز تحریر لگتا ہے, خالص جاسوسی اور معاشرتی پہلو لیئے.. جیسا کہ عام طور پر مغربی ناولز میں ہوتا ہے. بلکہ اکثر ایسا لگتا ہے کہ آپ نے کسی مغربی ناول سے انسپائر ہو کر لکھا یا اس کی تلخیص کی.. کیا یہ محض میرا اندازہ ہے یا آپ واقعی مغربی ناولز سے انسپائرڈ تحریریں لکھتی ہیں؟

*کبیر بہت شکریہ، آپ خود بہت اچھا لکھتے ہیں میں پڑھتی بہت ہوں مگر لکھتے ہوئے کوشش کرتی ہوں کہ اپنے ارد گرد کے تجربات اور مشاہدات کو دیکھ کر لکھوں ۔ جیسا کہ آپ میری آنے والی قسط وار کہانی میں دیکھیں گے اس کردار کی ابتدائی کہانی بالکل حقیقت ہے۔ بحثیت صحافی بھی مجھے مشاہدے کے کافی مواقع ملتے ہیں ۔ کہانی کاری یا لکھنے کے انداز میں تھوڑا تجربہ پسند ہے مجھے اور اس میں کبھی کبھی انسپائریشن کام آتی ہے۔

*کبیر عباسی مری آپ عام طور پر کہانیوں میں بہت دلچسپ اور نئی ٹرمز استعمال کرتی ہیں کیا ایسی ٹرمز آپ روزمرہ بول چال میں بھی استعمال کرتی ہیں یا صرف لکھتے وقت؟

*ہاں ، یہ عام بول چال میں بھی ہوتا ہے ۔بعض اوقات کردار رائٹر کے عکاس بھی ہوتے ہیں جیسے گہری نیند کے عالم میں الارم کی وجہ سے جاگنے اور جاگنے پر مجبور ہونے والےجتنے دکھ آپ کو میری کہانی میں نظر آتے ہیں وہ بالکل میرے ذاتی ہیں ۔ :ـ)

* انصر علی چنیوٹ جاسوسی و سسپنس ڈائجسٹ کے علاوہ آپکا کوئی ناول کتابی شکل میں موجود ہے؟

* نہیں بس زندگی کی بھاگ دوڑ میں توجہ نہیں ہو پائی اب کچھ کام کر رہی ہوں ۔ ویسے سرگزشت میں کرکٹ کے چار بڑے کھلاڑیوں کی بائیوگرافی جو سرگزشت میں چھپی تھیں کو کتابی شکل دی گئی تھی ۔

*پرویز احمد لانگاہ جدہ, سعودی عرب السلام علیکم… دیکھا جائے تو میل رائٹرز اکثر ٹریول کرتے ہیں پھر جا کر اپنی کہانیوں میں ان مقامات کا ذکر کرتے ہیں میرا سوال ہے کہ کیا آپ نے بھی کسی کہانی کے لئے ٹریول کیا ہے یا صرف اپنے زور تخیل پہ بھروسہ کرتی ہیں ؟

* پرویز صاحب میں ویسے بھی کافی سفر کرتی ہوں اور اگر کسی جگہ کے بارے میں لکھنا ہو اور وہاں کے بارے میں معلومات لینی ہو اور وہاں جایا نہ جا سکے تو پھر نیٹ سے مدد لی جاتی ہے۔اب تو پوری دنیا آپ کے ہاتھ میں ہوتی ہے ، آپ جو جاننا چاہتے ہیں جان سکتے ہیں۔ریسرچ ضروری ہوتی ہے۔

*ساگر تلوکر چشمہ بیراج سقوطِ ڈھاکہ ہماری تاریخ کا دلخراش واقعہ ہے کیا آپ نہیں سمجھتیں کہ اس موضوع پہ بھی ڈائجسٹ لکھاریوں کو لکھنا چاہیئے ؟

* بالکل اور اس موضوع پر بہت لکھا بھی گیا ہے ۔ مزید بھی لکھا جا سکتا ہے ۔

*کبیر عباسی مری آپ عام طور پر ایک رنگ لکھتے ہوئے کل کتنا وقت لگاتی ہیں؟ اور کتنی دیر تک آپ مسلسل لکھ سکتی ہیں؟

*اگر کسی اور کام میں نہ پھنسے ہوئے ہوں اورموڈ بنا ہواہو تو تین سے چار دن میں لکھ لیتی ہوں۔ میں کئی گھنٹے مسلسل لکھ سکتی ہوں اور کبھی کبھی تو پوری رات بھی ، حالانکہ میں نیند کی پکی ہوں ۔ *ساگر تلوکر چشمہ بیراج ڈائجسٹ لکھاری کو اردو ادب میں وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ حقدار ہیں… ایسا رویہ کیوں ؟

* یہ بات درست ہے اصل میں ڈائجسٹ کو ادب میں شامل کم کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈائجسٹ ہی ہیں جنہوں نے مطالعے اور کہانی کو زندہ رکھا ہے۔

*جعفر حسین چینوٹ پاپولر فکشن اور لٹریچر میں آپ بنیادی فرق کیا سمجھتی ہیں ؟

*میں سمجھتی ہوں کہ پاپولرفکشن اور لٹریچر میں صرف ایک بنیادی فرق ہے، شاید آپ اس سے اتفاق کریں، اوروہ ہے اظہار۔ یعنی آپ اظہار کس پختگی سے کرتے ہیں۔ پاپولر یا لٹریچریا ادب اورغیرادب عام آدمی کا مسئلہ نہیں ہے۔ اسے جو چیزیں دل چسپ لگتی ہے، وہ پڑھ لیتا ہے۔ جسے آپ پاپولر لٹریچر کہتے ہیں، یا جسے ڈائجسٹ ادب کہا جاتا ہے تو اس سے متعلق بحث البتہ ہوتی رہتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ادب نہیں، یا کم تر درجے کا ادب ہے۔ بعض بڑے ادیبوں کی تخلیقات پر بھی یہ اعتراضات ہوئے، مثلاً کرشن چندر کے ”ایک گدھے کی سرگزشت “کو پاپولر لٹریچر میں رکھا گیا، مگر بعد میں وہ ادب تسلیم کر لیا گیا۔ ڈائجسٹوں میں موپساں، ایڈگر ایلن پو کی کہانیاں چھپتی رہی ہیں، جو مسلمہ طور پر ادب ہیں ۔

* خالد شیخ طاہری جام شورو کہتے ہیں انسانوں میں کچھ صلاحیتیں ایسی ہوتی ہیں جو عطیہ خداوندی ہوتی ہیں. اللہ تعالی کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا تو کچھ صلاحیتیں انسان محنت سے حاصل کرتا ہے. آپ ماشاءاللہ اتنا اچھا لکھتی ہیں۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ آپ کے لکھنے کی صلاحیت کا راز کیا ہے؟

* عطیہ خداوندی یا مسلسل محنت ؟ اللہ کے کرم کے بغیر ہم کیا ہیں جو کچھ بھی ہے وہ سب اس کا عطا کردہ ہے ہاں محنت لازم ہے ،

* ناصر حسین رند کیا یہ درست ہے کہ آپ نے لکھنے کا آغاز سرگزشت ڈائجسٹ کے "شہر خیال” سے کیا ؟

*سرگزشت میں میں نے بائیوگرافیز سے لکھنا شروع کیا تھا، ساتھ کہانیاں یعنی سچ بیانیاں اور سرورق کی کہانیا ن بہت لکھیں خصوصا عالمی حالات کے پس منظر مین بہت سی کہانیاں لکھیں ، وہاں چونکہ زیادہ تحاریر ہوتی تھیں تو سچ بانو اور دیگر قلمی نام بھی استعمال کئے۔

*ماہ رخ ارباب کراچی آپ کے متعلق سنا ہے کہ آپ مستقل سلسلہ (قسط وار) نہیں لکھنا چاہتیں …. جبکہ لوگ پڑھنا چاہتے ہیں .. اس کی کیا وجہ ہے؟

*میں لکھ رہی ہوں اب ماہ رخ، اور لطف بھی آ رہا ہے ۔آپ جلد اسے پڑھ سکیں گے۔

*ماہ رخ ارباب کراچی کہا جاتا ہے نئے رائٹرز اس قدر محنت نہیں کرتے جس طرح پہلے رائٹرز کیا کرتے تھے اس متعلق آپ کی کیا راۓ ہے؟ *سید ظفر علی نجمی راولپنڈی آپ کی پچھلی سالگرہ پر ہم نے آپ سے ایک تحفہ مانگا تھا کہ آپ کوئی ایسی کہانی ضرور تحریر کریں جو قسط وار ہو چاہے تین یا چار اقساط پر ہی مشتمل کیوں نا ہو… تو میم ہمارا انتظار کب ختم ہو گا؟

*بہت جلد ، میں نہ صرف ایک قسط وار کہانی لکھ رہی ہوں بلکہ ایک سیریز کے لئے کردار بھی ڈولپ کر رہی ہوں ۔ جنوری کے جاسوسی ڈائجسٹ کے نمبر میں اس سلسلے کی پہلی کہانی شائع ہو رہی ہے اگر قارئین نے پسند کیا تو مزید لکھوں گی۔

*ماہ رخ ارباب کراچی کیا یہ حقیقت ہے کہ فکشنل ادب زوال کا شکار ہورہا ہے ؟؟

* وار گل گجرخان عام طور پر خواتین رائٹرز زیادہ تر خواتین ڈائجسٹس میں لکھتی ہیں.. اور فیملی کہانیاں لکھتی ہیں. آپ کا ذہن کرائم و جاسوسی اسٹوریز کی طرف کیسے آیا ؟

*وارگل صاحب میری دلچسپی رہی ہے اس سمت ،ویسے یہ سب بھی معاشرے کی کہانیاں ہوتی ہیں۔ بچپن میں ابن صفی کی کہانیاں خوب پڑھی ہیں ایک زمانے میں تو علی عمران کی طرح ایکسٹو بننے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا J۔

* ایمانے زارا شاہ اسلام آباد کیا آپ خواتین ڈائجسٹس پڑھتی ہیں ؟ اگر ہاں تو ان شماروں میں لکھنے والی آپ کی پسندیدہ رائٹرز کونسی ہیں ؟

 عمران علی جھنگ خوش آمدید۔ سلامتی ہو۔ ماشااللہ آپ بہت اچھا لکھتی ہیں بہت ساری کہانیاں پڑھی ہیں آپ کی۔.

*عمران صاحب بہت شکریہ ، خوش رہیں ہمیشہ اور ہماری کہانہیوں پر رائے دیتے رہیں۔ آپ کی رائے بہت اہم ہے۔

* نوارگل گجرخان کوئی ایسا کردار لکھا جس میں آپ نے اپنے آپ کو دیکھا ہو ؟

*کہانی کار کہیں نہ کہیں اپنی کہانی میں جھلکتا ضرور ہے مکمل طور پر تو نہیں مگر کہانی میں کہیں کہیں عکس آتا ہے خصوصا وہاں جہان آپ جملے بازی دیکھتے ہیں مگر اب میں ایک ایسا کردار ڈولپ کر رہی ہوں جس میں آپ کہ سکتے ہیں کہ میں خود کو کافی زیادہ دیکھتی ہوں ۔

*ناہید اختر بلوچ ڈیرہ اسماعیل خان السلام علیکم ۔ کرائم لکھنا میرے جیسی ایک گھریلو لڑکی کے لیے بہت مشکل ہے کیونکہ اس میں تکنیکی پہلوؤں پہ نظر رکھنی پڑتی ہے… تو سوال یہ ہے کہ آپ اس کمی کو کیسے پورا کریں گی یا آپ نے کیسے پورا کیا ؟؟؟

* ناہید ایک تو عام طور پر مطالعہ میرا مشغلہ ہے۔ دوسرے میں کہانی کے مطابق ریسرچ کرتی ہوں کبھی کبھی ماہرین سے مشورہ بھی کرتی ہوں۔ آپ بھی یہ ضرور کیا کیجیے اس سے نہ صرف آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا بلکہ کہانی میں بھی بہتری آئے گی۔حقیقی کرایم کی خبروں کو بھی فالو کیا کیجئے۔

*ایمانے زارا شاہ اسلام آباد میں بس اتنا ہی مزید کہوں گی کہ کئی مرد لکھاریوں سے کہیں اعلی لکھتی ہیں آپ یونہی ہمیں انٹرٹین کرتی رہیں…

* گڈ لک!! ایمانے بہت شکریہ، آپ کا نام بہت خوبصورت ہے میں آپ کی اجازت سے اگلی سرورق کی کہانی میں مرکزی کردار کا یہ ہی نام رکھوں گی۔

*حسینہ عباسی مری اتنی ٹف روٹین میں آپ لکھنے جیسا مشکل کام کیسے کر لیتی ہیں حسینہ بس بھاگم دوڑ میں۔۔

*وہ جو ہوتا ہے کہ خاموشی ، الگ جگہ ، سکون درکار ہوتا ہے وہ کم کم ہی ملتا ہے ، بچے جب چھوٹے تھے تو ہم با جماعت کہانی لکھتے تھے۔ بیٹیاں کلر پنسل سے لکیریں بنا کر اعلان کرتی تھیں کہ میں کہانی لکھ رہی ہوں۔ اب بھی ایسا ہی رہتا ہے۔

* سید ذیشان حیدر کاظمی نارووال آپ کاپسندیدہ کرائی ٹیریا کیا ہے رائٹنگ کے لیے؟

*سید ذیشان حیدر کاظمی نارووال آپ کے خیال میں رائٹر کا ذاتی پروفیشن کس حدتک رائٹنگ پہ اثر انداز ہوتا ہے؟

*ذیشان صاحب میرا خیال ہے کہ پروفیشن لکھنے پر تھوڑا بہت اثر انداز ہوتا ہے مگر بہت زیادہ نہیں۔ مثلا جیسے میں صحافی ہوں یا سول سوسائٹی سے تھوڑا بہت تعلق رہا ہے تو اس کے اثرات تحریر پر آتے ہیں۔

* شاہد اعوان ڈیرہ اسماعیل خان السلام و علیکم۔۔۔۔ زبردست!! رائیٹنگ کے ساتھ ساتھ صحافت بھی جو کہ کافی ٹف ہے. آپکی طرز تحریر بہت نیچرل لگتی ہے … تو کیا آپ دونوں کو ایک دوسرے پہ اپلائی کرتی ہیں یا کوئی اور چیز انسپائر کرتی ہے کہانیوں کیلئے ؟ *شاہد صاحب خود زندگی ، تجربات اور مشاہدات انسپائر کرتے ہیں کہانی لکھنے کے لئے، بعض اوقات کہانی خود ہنٹ کرتی ہے اور آپ سے خود کو لکھوا کر دم لیتی ہے۔ صحافت سے صرف یہ فائدہ ہے کہ بہت کچھ دیکھنا اور اس سے گذرنا آسان ہوجاتا ہے۔

*جی روبینہ جی میں حمیرا ثاقب ہوں فیصل آباد سے!! (دانت دکھاتے ہوئے) میں شارٹ سٹوریز لکھتی ہوں زیادہ تر معاشرتی موضوعات پر ۔۔۔ اب جی چاہ رہا ہے کہ جاسوسی کہانی لکھی جائے پلاٹ بھی ہے میرے ذہن میں …. آپ سے پوچھنا ہے کہ پلاٹ کو کہانی میں تبدیل کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل ہونا چاہیئے؟

*حمیرا یہ تو بہت اچھی بات ہے ضرور لکھیے ۔پہلے اس پلاٹ میں کوئی ایک سچویشن ابتدا کے لئے نکالیں کوشش کریں کہ ابتدا تھوڑی دلچسپ ہو تاکہ قاری کہانی کے ساتھ جڑ سکے۔پھر اسے آگے لے کر چلیں کردار نگاری پر تھوڑی زیادہ توجہ دیں۔

*کبیر عباسی مری آپ ادارے کی طرف سے کہانی کی فرمائش آئے تو لکھتی ہیں یا جب وقت ملا، موڈ بنا لکھ کے بھیج دیتی ہیں؟

*دونوں صورتوں میں کام ہوتا ہے،

* ساگر تلوکر چشمہ بیراج ڈائجسٹ میں کہانی کا جتنا معاوضہ ملتا ہے اس سے بطور لکھاری مطمئن ہوا جاسکتا ہے ؟

* اللہ کا شکر ہے۔

*ساگر تلوکر چشمہ بیراج سرورق کی کہانی کا ٹائٹل دیکھ کر کہانی لکھتی ہیں؟ یا کہانی کو پڑھ کر ادارے والے ٹائٹل بناتے ہیں؟

*عمومی طور پر ٹائٹل دیکھ کر کہانی لکھی جاتی ہے۔

*عائشہ عباسی اسلام آباد ایک خاتون ہوکر بھی آپ اتنی ساری مصروفیات کیسے نمٹالیتی ہیں ؟ صحافت , رائٹنگ وغیرہ ….

* جب آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کر لیتے ہیں۔ وقت کبھی کم نہیں ہوتا ہماری ٹائم مینیجمنٹ میں گڑبڑ ہوتی ہے۔ اپنی پرائرٹیز طے کریں اور فالتو وقت ضایع نہ کریں ۔اور خواتین تو ویسے بھی ملٹی ٹاسکنگ کی ماہر ہوتی ہیں۔

*جعفر حسین چینوٹ پاکستان میں ادب اور خاص کر اردو ادب …. جمود کا شکار ہے یا آپ اس میں بہتری کے امکانات دیکھ رہی ہیں ؟ *ادب میں جمود نہیں ہے لوگ بہت اچھا لکھ رہے ہیں بس بعض اوقات ان کا کام سامنے نہیں آپاتا۔ کیونکہ مواقع کم ہیں اس کے لئے اسکول لیول سے کام ہونا چاہیے ،پڑھنے لکھنے کا شوق پیدا کیا جانا چاہیے۔

*آمنہ رانا راجن پور کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ نے بہت محنت سے اور دل لگا کر کوئی کہانی لکھی ہو … اور ادارے نے ایڈیٹنگ کرکے اس کا نقشہ ہی اتنا بگاڑا کہ کہانی کا مقصد ہی فوت ہوگیا ہو ؟

*نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا، ایک بار بھی نہیں ، شکر ہے اللہ کا۔

(ختم شد)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈاکٹر عبد الرب بھٹی ۔۔۔ یاسین صدیق

   ڈاکٹر عبد الرب بھٹی  یاسین صدیق ٭٭٭ ڈاکٹر عبد الرب بھٹی صاحب کسی تعارف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے