سر ورق / سفر نامہ / میٹھی جیل شاہزاد انور فاروقی دوسری قسط۔

میٹھی جیل شاہزاد انور فاروقی دوسری قسط۔

میٹھی جیل

شاہزاد انور فاروقی

دوسری قسط۔

دل کے ارماں آنسووں میں بہہ گئے

مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا مگر فلائٹ تھی کہ پھر بھی روانہ نہیں ہوئی ،ابھی بھی کوئی مسافر رہتا تھا تھوڑی دل کو تسلی ہوئی کہ اس فلائٹ کی تاخیر کا تنہا ذمہ دار نہ تھا ۔ تھوڑی دیر بعد ایک پاکستانی شناسا صورت نظر آئی جو غالبا میڈیکل فورتھ ائیر کا طالبعلم تھا اور اپنے والد سے ملنے امریکا جارہا تھا ،امیگریشن سے قبل اضافی فارم بھرتے وقت اس سے لاونج میں ملاقات ہوچکی تھی ،وہ ائیر ہوسٹس کے ساتھ اسی نشست پر آکھڑا ہوا جس پر بیٹھے ”چٹے سیاہ“ ایفریقن امریکن کو میں دل ہی دل میں کوس چکا تھا۔ معلوم پڑا کہ ساتھ والی نشست اس نوجوان کی تھی،آج سمجھ میں آیا تھا کہ موت کا منہ دیکھ کر بخار کیسے قبول ہوجاتا ہے ۔اتنی طویل فلائٹ کے باعث جہاز کی اکانومی کلاس بھی ایک مڈل کلاس کے محلے کی صورت اختیار کرچکی تھی،جس میں سب کے پول کھل رہے تھے ،وہیل چیئر والی جوڑی جہاز کے اندر پہنچ کر یکسر اپنے کردار تبدیل کرچکی تھیں۔وہ بیگم جس کو شوہر بڑی احتیاط کے ساتھ شوہر دھکیل کر امیگریشن کاونٹر پر مسمسی شکل بنا کر لایا تھا ،اب پورے جہاز میں بھاگی پھر رہی تھی کبھی بچے کا دودھ کا فیڈر تو کبھی ٹوائلٹ کے چکر لگ رہے تھے جبکہ شوہر نامدار ،روایتی شوہریت چہرے پر سجائے اپنی سیٹ پر ٹانگیںپھیلائے سورہاتھا یا سونے کی ایکٹنگ کررہا تھا۔وہ بڑے میاں جن کے بیٹے ان کی وہیل چیئر کے آگے پیچھے بچھے جارہے تھے،یوسف بے کارواں کی طرح پورے جہاز میں ڈولتے پھرتے تھے۔

خدا خدا کرکے فلائٹ نے ٹیک آف کیا اور تقریبا پندرہ گھنٹوں بعد اسی تاریخ میں نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائر پورٹ پر لینڈ کیا جس تاریخ میں پاکستان سے روانہ ہوا تھا ،معلوم پڑا کہ امریکا کا وقت پاکستان سے دس گھنٹے پیچھے تھا جس کی وجہ سے چوبیس گھنٹے سے زائد وقت سفر میں گزارنے کے باوصف اسی تاریخ میں لینڈنگ ممکن ہوئی تھی۔یہ بات بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ امریکا میں سات ٹائم زون ہیں اور خود امریکا کی شرقی ریاستوں اور مغربی ریاستوں کے وقت میں تین گھنٹے کا فرق ہے کیونکہ دونوں ساحلوں میں ا ٹھائیس سو میل کا فاصلہ حائل ہے جبکہ پاکستان سے امریکا کا فاصلہ ساڑھے بارہ ہزار کلومیٹربنتا ہے ۔پچاس ریاستیں اور ایک واشنگٹن ڈی سی (ڈسٹرکٹ آف کولمبیا)کو ملا کر ہم ریاست ہائے متحدہ امریکا بولتے ہیں جبکہ ان میں سے ہوائی اور الاسکا زمینی طور پر ساتھ جڑی ہوئی ریاستیں نہیں ہیں۔پچھلے دنوں ہمارے ہاں جو ”گھنٹہ تبدیلی “کا بہت شور سنتے رہے ہیں اس تبدیلی کو وہاں چلتے ہوئے بہت عرصہ ہوگیا ہے اور اس کے ذریعے وہ دن کی روشنی کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہیں اور کوئی شور نہیں کرتا اور نہ ہی احسان جتلاتا ہے کیونکہ وہاں پر کام کرنے والے افراد خواہ اپنی گاڑی پر کام پر جائیں یا ایک ،دو یا تین بسیں اور ٹرینیں بدل کر جائیں انہیں سات بجے اپنے کام کی جگہ پر پہنچنے کا ہنر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ انہیں بہانے بنانے یا جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی ،ان فنون میں صرف ہم مسلمان ہی طاق ہیں ۔

نیویارک ائیرپورٹ پر اندرون ملک آمد کے ٹرمینل سے باہر نکلے صرف سامان کی وصولی میں کچھ منٹ صرف ہوئے جس کے بعد ڈھلتی روشنی میں ہم ادھر ادھر دیکھ رہے تھے کہ شاید کوئی شناسا چہرہ نظر آجائے کیونکہ ہمدم دیرینہ ناصر قیوم کے ساتھ ساتھ واشنگٹن ڈی سی کے پاکستانی سفارتخانے میں متعین پریس اتاشی ندیم ہوتیانہ کو بھی احتیاطا اپنی آمد کی پرواز سے آگاہ کررکھا تھا کہ ناصر قیوم اگر کسی وجہ سے وہاں نہ پہنچ پائیں تو کم از کم ایک آدمی وہاں ضرور موجود ہو،بھائی !امریکا میں لوگوں کے پاس وقت نہیں بھی تو ہوتا ۔ فون کرنا ضروری تھا کہ اس کے بغیر چارہ نہ تھا جبکہ فون کے لئے کھلے پیسے درکار تھے چارو ناچار ائیرپورٹ کے اندر ہی سے سو ڈالر کا کھلا لینے کے لئے ایک دو سٹالز سے منہ کی کھانے کے بعد خریداری کی تو معلوم پڑا کہ سو ڈالر مجھ جیسے غریب ملک کے مسافر کے لئے تو ایک بڑی رقم تھی ہی خود امریکن سو ڈالر کا نوٹ بہت جانچ پڑتال کے بعد وصول کرتے ہیں کیونکہ ان کی کرنسی کا یہ سب سے بڑا نوٹ تھا۔مارکر اور الٹرا وائلٹ لائٹ سے چیک کرنے کے بعدنوٹ قبول کرلیا گیا تھا ۔ ایک طویل عرصے تک دنیا کا واحد سپر پاور رہنے والے اس ملک میں کسی کو پانچ ہزار کا کرنسی نوٹ اور چالیس ہزار کا پرائز بانڈ متعارف کرانے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی، کہتے ہیں کہ بڑا کرنسی نوٹ کرپشن کے فروغ کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے یہ جو کروڑوں روپے کے کمیشن کھانے والے سرکاری افسران اور عوامی نمائندے ہیں ان کی سہولت بھی تو اسی میں ہے کیو نکہ اربوں کی بات ایک طرف اگر کسی کوصرف ایک کروڑ روپے رشوت یا کمیشن لینا ہے تو سو روپے کے نوٹ میں اسے لیجانے ، دینے اور پھر پانی کی ٹینکی میں چھپانے تک دانتوں پسینہ آجائے گا ۔ بہرحال باہر نکل کر ناصر کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ انٹرنیشنل آمد کے ٹرمینل پر خاصی دیر سے موجود تھے بلکہ ان کے ساتھ ساتھ پاکستان قونصلیٹ نیویارک سے خالد محمود بھی منتظر تھے کہ ندیم ہوتیانہ جو واشنگٹن ڈی سی میںتھے نے مسعود انورکو درخواست کی تھی جنہوں نے خالد محمود کو بھجوارکھا تھا ، ان کا شکریہ ادا کیا اور سامان ناصر کی گاڑی میں رکھا اور لانگ آئی لینڈ کی جانب روانہ ہوئے کہ میرے لئے کرائے کے کمرے کا نتظام لانگ آئی لینڈ کے ڈئیرپارک میں تھا ۔

امریکا جانے والے تارکین وطن بھی روزانہ ایک نئے امتحان سے گذرتے ہیںکہ وہاں درختوں پر پیسے اور فون نہیں اگتے لیکن پاکستان میں بیٹھ کر ہم سب یہی سوچتے ہیں کہ کل ہمارادوست، بھائی،باپ ،شوہراور چچا وغیرہ صبح اٹھیں گے اور اپنے امریکا والے گھر کے صحن میں لگے درخت سے سام سنگ یا آئی فون،ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ اتار کر ہمیں کورئیر کردیںگے۔درحقیقت جتنی سخت اور تکلیف دہ زندگی ان تارکین وطن کی گذرتی ہے وہ ،وہ جانتے ہیں یا ان کا خداجانتا ہے ۔ نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیر پورٹ سے ناصر کے ساتھ لانگ آئی لینڈ کے لئے روانہ ہوئے جہاں میرے ایک اور دوست اور سابق کولیگ عاطف محمود نے میرے لیے کرائے کی رہائش کا بندوبست کرکھا تھا ،ناصر قیوم تو خیر نوے کی دہائی میں اسلام آباد میں گاہے صحافت سے منسلک رہے یا بیرون ملک چلے گئے پھر واپس آکر پہلی محبت سے تجدید وفا کرتے رہے۔ 2008کے لگ بھگ وہ ایک ٹی وی چینل سے بطور رپورٹروابستہ ہوئے جہاں میں پہلے ہی سے موجود تھا جبکہ عاطف محمود نے بھی اسی ادارے میں میرے ساتھ کام کیا تھا وہ بنیادی طور پر پروڈیوسر تھے بعدازاں ایک اور ادارے میں 2012میں بھی ہم اکٹھے رہے جہاں وہ نسیم زہرہ صاحبہ کی ٹیم کا حصہ تھے ۔سات سال بعد ہم تینوں ایک مرتبہ پھر انکل سام کے دیس میں اکٹھا ہونیوالے تھے جہاں عاطف اور ناصر موبائیل فونز کے کاروبار سے اپنے اپنے طور پر روزگار کمارہے تھے، عاطف ایک کمپنی کی فرنچائز میں نوکری کررہے تھے اور آخری اطلاعات تک وہیں کام کررہے ہیں جبکہ ناصر فری لانس کام کررہا تھا۔دونوں غم روزگار کے باعث وہ کام کررہے تھے جو ،ان کی پہلی کیا شایدتیسری چوائس بھی نہیں تھا لیکن مچھندر کو روزی کمانے سے غرض ہوتی ہے اور بالخصوص امریکا میں جہاں کی بودوباش میں عموما والدین سولہ سترہ سال کی عمر تک بھی بمشکل اولاد کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور جوابا بڑھاپے میںاولاد بھی ان کو سوشل سکیورٹی کے رحم وکرم پر چھوڑجاتی ہے تارکین وطن میں سے وہاں کام کرنے کے لئے گئے کم ہی لوگ ہوں گے جن کو اپنی مرضی کاکام ملتا ہے، ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر پروفیشنل، مقامی ڈگریوں کے ساتھ مطابقت تک مشکل کاٹتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کی زندگی بہت اچھی ہوجاتی ہے ۔ موبائل سٹور پر عاطف سے ملاقات ہوئی جو اپنے آخری گھنٹے کا کام تیزی سے نمٹا رہا تھا۔ یاد رہے کہ امریکا میں آپ کے کام کی اجرت آپ کو گھنٹوں کے حساب سے ہفتہ وار بنیادوں پر ادا کی جاتی ہے ،جس کے باعث ہمارے یہ مہربان کوشش کرکے کم از کم بارہ گھنٹے ضرور کام کرتے ہیں تاکہ اپنے جسم وجاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ پاکستان میں بیٹھے افراد خانہ کی اچھی گذر بسر کی رقم بھیج سکیں ۔ ہماری ناجائز فرمائشیں پور ی کرنے کے لئے یہ بارہ گھنٹے ،سولہ یا اٹھارہ گھنٹوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ،جن کی بیٹیاں جوان ہورہی ہو ں اور سر پر اپنی چھت بھی نہ ہو تو پھر ہفتے میں سات دن اٹھارہ گھنٹے روزانہ کی بنیادوں پر کام کیے بنا چارہ نہیں ہوتا، جبکہ یہاں جوان بھائی یا بیٹا سونے کی چین اور گاڑیوں یا موبائلز کے ماڈلز میں پھنسے ہوتے ہیں۔ عاطف کی معیت میں ہمارا قافلہ ڈئیر پارک کی جانب روانہ ہوا جہاں ہمیں وحید اقبال سے ملناتھا جس کے گھر کے ایک حصے میں کرائے کے لئے جگہ خالی تھی،پانچ دس منٹ کی ملاقات کے بعد پانچ سو ڈالر ماہانہ کرایہ طے کیا جو ایڈوانس اداکرکے چابی حاصل کی ،سامان وہاں رکھا اور پھر ہم تینوں وہاں سے رخصت ہوئے ۔اب ہمارا رخ پورٹ واشنگٹن کی جانب تھا جہاں ناصر کے ایک اور دوست احتشام ہمارے منتظر تھے۔پورٹ واشنگٹن لانگ آئی لینڈ کے شمالی ساحل پر نیویارک، نسواوکاونٹی میں واقع ہے ۔فوربس میگزین کے مطابق، پورٹ واشنگٹن 2017 میں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں مہنگی رہائشی جگہوں میں شمار ہوتی ہے یہاں ایک یاٹ کلب سو سال سے بھی پرانی تاریخ رکھتا ہے ۔ نسواو کاونٹی بالخصوص پورٹ واشنگٹن میں ریت کے بڑے ذخائر تھے جو نیویارک کی ایمپائر اسٹیٹ جیسی اپنے وقت کی اونچی ترین بلڈنگز کی تعمیر میں استعمال کیے گئے۔اس کا نام ضرور پورٹ جیسا ہے لیکن اس علاقے اور پانی کے کنارے میں پورٹ جیسی کوئی بات نظر نہیں آتی کہ یہ پورٹ کبھی تجارتی مقاصد کے بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے میں کام آئی ہو۔ یہاں بیٹھ کر سب کو سفر سمیت پاکستان کااحوال دیا ، سب نے ایک دوسرے کے گزرے ہوئے کچھ وقت کے بارے میں بتایا۔جس کے بعد کھانے کا نعرہ لگا اور مجھ سے پوچھا گیا کہ نیویارک میں پہلا کھانا کیا کھایا جائے جس پر چوبیس گھنٹے سے زیادہ مرضی کا کھانا نہ ملنے کے باعث ملول اور قدرے شرمندہ انداز میں دیسی کھانے کی فرمائش کی ،جس پر باقاعدہ میری کلاس لی گئی اور کہا گیا کہ یہاں آکر بھی اگر دیسی ہی کھانا تھا تو اتنا سفر کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟بہرحال آخر مہمان کی ایک ، دو دن تو مرضی چلنی ہی تھی پھر عاطف نے جیکسن ہائٹس کا مشور دیا پر بات نہیں بنی، ان سب نے طے کیا کہ اب ہکس ول کے علاقے کی طرف جایا جائے کہ وہ دیسی فوڈ کے لئے قریب ترین جگہ تھی ، سفر کا سلسلہ جاری تھا اور ابھی مزید کچھ عرصہ یہ یونہی چلنا تھا کہ پیر میں آیا چکر اتنی آسانی سے نہیں نکلتا۔

یورپ اور امریکا کی ریاستوں تک پہنچنا اور وہاں زندگی بسرکرنے کی خواہش دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستانی نوجوانوں کےلئے بھی ایک طرح سے مقصد حیات بنتی جارہی ہے۔ ان ممالک میں پہنچنے کے لئے ہمارے نوجوان ہرطرح کے حربے استعمال کرتے ہیں ،کاغذات میں ہیر پھیر،کشتی کا غیر قانونی سفر ، مسلح سرحدی محافظوں کی موجودگی میں جان کا جوا کھیلتے ہوئے ایک سے دوسرے پھر وہاں سے تیسرے اور چوتھے ملک کی سرحدیںعبورکرنا مذاق نہیں ،جان جوکھم میں ڈالنی پڑتی ہے،چند خوش نصیب ہی اپنا گوہر مقصود حاصل کرنے یا امریکا پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں،امریکا پہنچنے کے بعد بھی امتحان ختم نہیں ہوتا کہ غیر قانونی طور پر وہاں چلے تو آپ جاتے ہیں لیکن پھر یہ ایک میٹھی جیل کی قید ہے جس میں آپ اپنی مرضی سے قید ہی رہتے ہیں ماں ،باپ ،بہن ،بھائی اور دیگر پیاروں کے ساتھ رشتہ صرف فون کا ہی رہ جاتا ہے کہ امریکا میں صرف عام مزدوری کرکے آپ کو ماہانہ جتنے پیسے کمانے کاموقع ملتا ہے وہ پاکستان میں تو ممکن ہی نہیں ہوتا لیکن شدید ضرورت کے تحت بھی آپ امریکا چھوڑ کر پاکستان نہیں آتے کہ اس کے بعد آپ کو یقین نہیں کہ آپ دوبارہ اس زمین پر واپس آبھی پائیں گے یا نہیں۔اس میٹھی جیل میں آپ کو اپنے پیاروں کی ضرورتیں قید رہنے پر مجبور کرتی ہیں کچھ وہاں کی آزادی بھی دل کو اچھی لگتی ہے ،سمجھ لیجئے کہ اکثر لوگ وہاں سے واپس نہیں آتے۔آج اس میٹھی جیل امریکا میں رہنے والے لاکھوںپاکستانیوں میں سے وحید اقبال کی داستان آپ کو سناتے ہیں۔

وحید اقبال کا تعلق یکہ توت پشاور سے ہے،اسے آٹھویں کلاس سے ہی امریکا سے یک طرفہ محبت ہوگئی تھی،سوتے جاگتے امریکا اس کے حواس پر سوار تھا لیکن کوئی خاص وسائل نہیں تھے،بہت ہی عام سا گھرانہ تھا اور وحید کے پاس سوائے شوق کے اور کوئی زاد راہ نہ تھا ۔1995میں وحید نے اکیس سال کی عمر میں فیصلہ کیا کہ اسے امریکا جانا چاہیے ،سو اس نے پہلا ویزا تھائی لینڈ کا حاصل کیا اور بنکاک پہنچ گیا ،اس زمانے میں ملائیشیا کو بھی روزگار کمانے کے لئے اچھے ممالک میں شمار کیا جاتا تھا تو اس نے طے کیا کہ وہ یہاں سے ملائیشیا جائے گا، اس نے خالصتا پاکستانی انداز میں وہاں سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوشش کی اور پکڑا گیا ،اس کی خوش قسمتی کہ وہاں بھی پیسے کے ساتھ معاملات حل کیے جاسکتے ہیں سرحدی محافظوں نے پیسے لے کر اسے واپس تھائی لینڈ میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی لیکن وحید نے پھر حوصلہ کیا اور کچھ پیسے دے کر دونمبر ملائی ویزا پاسپورٹ پر لگوایا اوراس کی بنیاد پر ایک نمبر ملائی انٹری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تاہم ملائیشیا پہنچ کر پتہ چلا کہ یہاں پر حالات اس طرح سازگار نہیں جیسے اس نے پاکستان میں سنے تھے ویسے بھی ان دنوں ورک پرمٹ حکام نے بند کررکھے تھے ،ادھر ادھر دھکے کھاکر اسے واپس پاکستان آنا پڑا لیکن اس دوران اس نے ہمت نہیں ہاری تھی ،پاکستان واپسی کے بعد اگلی مرتبہ اس نے سیدھا ملائیشیا کا ویزا اپلائی کیا جو اسے مل بھی گیا تاہم اس کا خیال یہی تھا کہ وہ وہاں سے امریکا جانے کے لئے کچھ پیسے کمائے گا اور پھر وہاں سے امریکا جائے گا۔ کوالالمپور کے ہوئی اڈے پر اترتے وقت اس مرتبہ اس کے پاس پشاور کے ایک دوست کا نمبر تھا جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ کوئی مدد کرے گا۔ وحید نے مجھے بتایا کہ جب وہ لینڈ کرنے کے بعد ائیر پورٹ کے پاس موجود فون بوتھ سے نمبر ملا رہا تھا تو اس کے دماغ کے کسی گوشے میں ا ن حالات کا تصور نہ تھا جن سے بعد میں اسے نبردآزما ہونا پڑا ۔ جو نمبر اس کے پاس موجود تھا وہ کسی نے اٹینڈ نہیں کیا جس کے بعد وہ ائر پورٹ کے باہر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا اور سوچا کہ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد نمبر ٹرائی کرتا رہے گا ۔ اتنے میں اس کے پاس سے ایک سکھنی کا گذر ہوا جو اس کی فلائٹ میں اس کو ملی تھی، اس نے پوچھا کہ یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہو، جس پر اس نے بتایا کہ جس دوست کا نمبر اس کے پاس ہے اور جہاں اسے ٹھہرنا ہے وہ نمبر اٹینڈ نہیں ہورہا، سکھنی نے بطور ہمدردی اسے مدد کی پیشکش کی جو وحیدنے ٹھکرا دی کہ اسے ماں نے کسی انجان آدمی کے ساتھ جانے سے منع کیا تھا ۔ وہ خاتون وہاں سے چلی گئی اور وحید ایک مرتبہ پھر فون اور انتظار کے کھیل میں مصروف ہوگیا ۔ تین گھنٹے گذرنے کے بعد بھی رابطہ نہ ہوسکا تھا اور وحید کو یہ رات فٹ پاتھ پر گذرتی نظر آنے لگی۔ ایسے میں وہ سکھنی اپنے شوہر کے ساتھ ایک مرتبہ پھر وہاں پر آئی اور اس نے وحید کو ساتھ چلنے کو کہا، کوئی چارہ نہ دیکھ کر وحید بھی اس مرتبہ جانے پر آمادہ ہوگیا ،گاڑی میں سامان رکھا اور وحید ان انجان لوگوں کی گاڑی میں بیٹھ گیا کہ جو جانا پہچانا آدمی تھا وہ تو فون اٹھانے کا بھی رودار نہ تھا گاڑی کی رفتار کے ساتھ ساتھ وحید کے دل کی دھڑکن بھی بے ترتیب ہوتی جارہی تھی کہ نئے شہر میں اسے انجان لوگوں کے ساتھ جانا پڑ گیا کہ اس کے پاس اور کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔

وحید آج بھی اس مہربان خاتون کو یاد کرتا ہے جس کا نام اسے یاد نہیں ،وہ اس کی ہم وطن تو کیا اس کی ہم مذہب بھی نہیں تھی لیکن اس دیار غیر میں اس نے اپنے شوہر کے ہمراہ انسانیت کے رشتے سے اس کی مدد کی تھی۔دونوں میاں بیوی نے وحید کو سر چھپانے کا ٹھکانہ مہیا کیا ،رات کے کھانے اور صبح کے ناشتے کے بعد انہوں نے اس فون نمبر کے ذریعے متعلقہ شخص کا پتہ حاصل کیا اور اسے اس پتے پر اپنی گاڑی میں چھوڑنے بھی گئے۔اب وحید کو سر چھپانے کا ایک آسرا مل گیا تھا لیکن کام ابھی نہیں ملا تھا۔ تلاش پر لاہور کے ایک شخص ندیم نے جو وہاں یونین پیپر انڈسٹری میں کام کرتا تھا کوالالمپور کے بجائے بین تونگ میں فیکٹری کے کام کی پیشکش کی،اندھے کو ایک آنکھ بھی بہت لگ رہی تھی لہذا وحید نے بین تونگ میں کام کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس فیکٹری میں معمولی سی اجرت پر کام بھی نعمت غیر مترقبہ معلوم ہورہا تھا ۔ بارہ یا پندرہ دن اس طرح سے گذرے کہ ایک ہاتھ میں لکڑی کا ڈنڈا رکھنا پڑتا کہ راستے میں اتنے سانپ تھے کہ ڈنڈے کی مدد سے انہیں ادھر ادھر کرکے فیکٹری تک پہنچنا پڑتا تھا ،ایک رات امیگریشن حکام نے فیکٹری پر چھاپہ مارا ۔ چھاپے سے افراتفری کا عالم یہ تھا کہ جس کا جدھر منہ تھا ادھر کو بھاگ نکلا، بہت سے پکڑے گئے کچھ بچ نکلنے میں کامیاب رہے، وحید کو شفٹ انچارج نے ٹشو پیپرز کے ایک بڑے ڈھیر کے نیچے چھپا دیا اور ہدایت کی کہ حرکت اور آواز نہ ہو۔ کئی گھنٹوں تک تلاشی کا عمل جاری رہا اور وحید دم سادھے ٹشو پیپرز کے ڈھیر میں پڑا رہا ، آخر ایک لمحہ ایسا آیا کہ اسے لگا کہ اب وہ کھڑکی سے چھلانگ لگا کر فرار ہوسکتا ہے ، سو اس نے اللہ کا نام لے کر چھلانگ لگادی اور چوٹوں خراشوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھاگا۔ قسمت نے یاوری کی اور وہ نکل گیا، ایک دن شفٹ سپروائز رکے گھر چھپا رہا اور بالاخر بس کے ذریعے واپس کوالالمپور پہنچ گیا۔ایک مرتبہ پھر وہ بے روزگار اور بے گھر تھا ، ندیم نے ایک مرتبہ پھر اس کی مدد کی اور اسے ایک فوٹوشاپ میں فوٹوگرافر کے طور پر کام دلادیا ۔ شاپ کا مالک بااثر تھا جس نے کسی اور نام سے وحید کی تصویر لگا کر کسی پرانے ورک پرمٹ پر اسے کام دیا تھا ،جس کے بدلے اس نے وحید کا پاسپورٹ اپنے قبضے میں لے کر اسے کم اجرت پر ملازم رکھا تھا۔ کہانی سناتے ہوئے وحید کی آواز بھرا گئی اور اس نے کہا کہ ملایئشیا مزدوری کے لئے جانے کی جگہ نہیں خدا کے لئے اپنے پیاروں کو یہاں مت بھیجیں، یہ صرف اور صرف غلامی کی جدید شکل ہے ۔ بغیر کاغذات کے پکڑے جانے پر صرف خدا ہی آپ کو اپنے پیاروں سے واپس ملا سکتا ہے کہ حکومتی نظام اتنا ناقص ہے کہ آدمی زندہ ہے یا مر گیا پاکستان میں کسی کو پتا بھی نہیںچلے گا۔ پاکستانیوں کو پکڑکر ڈی پورٹ نہیں کیا جاتا بلکہ کیمپ میں پھینک دیا جاتا ہے جہاں کسی سے کوئی رابطہ ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی سفارتخانے کے حکام ان کیمپوں میں پڑے لوگوں کی خبر لیتے ہیں۔ لوگ خارش ،دمہ،اور جلدی و دیگر متعدی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں جن کا موت کے سوا کوئی علاج میسر نہیں ہوتا ، صرف ایک وقت کے لئے خشک مچھلی کا راشن ملتا ہے یہ سڑی ہوئی بدبودار خوراک جسم وجاں کا رشتہ برقرار رکھنے کا واحد ذریعہ ٹھہرتی ہے۔ صرف بنگلہ دیش کی حکومت نے ملائی حکومت سے معاہدہ کررکھا ہے جس کے تحت اگر بنگالی پکڑا جائے تو اسے فوری طور پر ڈی پورٹ کیا جاتا ہے جبکہ بنگلہ دیش کی ائیر لائن اپنے شہریوں کو بغیر رقم کے بھی واپس اپنے ملک لے جاتی ہے لیکن پاکستانیوں کاوہاں کوئی پرسان حال نہیں ،کراچی ، لاہور ایبٹ آباد اور اندرون سندھ اور پنجاب کے کئی لوگ ہیں جو سالہا سال سے وہاں کیمپوں میں موجود ہیں لیکن ان کے پاکستان میں اہل خانہ کم وسیلہ ہونے کے باعث ان کی زندگی یا موت سے واقف نہیں ہیں۔وحید کے مطابق اس نے اڑھائی سال وہاں کسی دوسرے کے نام اور پرمٹ پر ملازمت کی لیکن امریکا جانے کا خیال ایک لمحے کے لئے بھی اس کے ذہن سے محو نہیں ہوا،اس نے فوٹو شاپ کے مالک کا اعتماد حاصل کیا اور اس کے دفتر تک رسائی حاصل کرلی موقع پاتے ہی لیٹر ہیڈ اور اپنے پاسپورٹ و دیگر کاغذات اپنے قبضے میں لے لئے ۔ اب اسے اپنی موجودہ ملازمت کے ذریعے امریکی سفارتخانے میں ویزے کے لئے درخواست جمع کرانا تھی مگر افسوس کہ

 قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند

کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گی

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفر نامہ بھارت۔۔۔حسن عباسی

سفر نامہ بھارت حسن عباسی             آپ آئے بہار آئی امرتسر پہنچے تو امرتسر کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے