سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ ضٰیاء شہزاد ٭ قسط نمبر 2

ست رنگی دنیا ٭ ضٰیاء شہزاد ٭ قسط نمبر 2

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی!
٬٬ آندھیاں غم کی یوں چلیں
باغ اجڑ کے رہ گیا،،
٭
قسط نمبر 2
مجھے اس بات کا شعور تھا کہ ہم مسلمان تھے اور میں مولوی صاحب کے پاس سپارہ پڑھنے جاتا تھا جہاں اڑوس پڑوس کے اور بھی بچے قرآن پاک پڑھنے آتے تھے۔ مولوی صاحب نے ہم سب بچوں کو ذہن نشین کرا دیا تھا کہ ٬٬ اللہ ایک ہے اور محمدصلی اللہ و علیہ وسلم اس کے پیارے رسول اور آخری نبی ہیں۔ اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ ہندو بتوں کی پوجا کرتے ہیں وہ کافر ہیں اور ایک بت کو اپنا بھگوان مانتے ہیں،، ۔ میری عمر پانچ سال ضرور تھی لیکن گھر کا ماحول خالص مذہبی تھا، دادا، تایا، ان کے بڑے بیٹے بھائی اسلام اور میرے ابا سمیت سب کے داڑھی تھی، سب پانچ وقت کی نماز پڑھتے تھے ۔ مولوی صاحب جب ابا سے بات کر رہے تھے تو میں غور سے سن رہا تھا۔ مولوی صاحب کی تعلیم نے اس بات کی بھی سمجھ دی تھی کہ ہندو بت پرست ہیں اور ہم ایک خدا اور اس کے رسول کے ماننے والے ہیں لیکن گاﺅں کا ماحول ہی ایسا تھا کہ سب مل جل کر رہتے تھے۔ ان میں کوئی جھگڑا نہیں تھا مگر مولوی صاحب نے ابا سے جو کہا تھا، ان کی بات نے مجھے بھی چونکا دیا تھا۔ میرے کانوں میں مولوی صاحب کے الفاظ گونجنے لگے٬٬مسلمانوں کو خبر دار کر دو ،،۔
میں فوراً ہی بھاگ کر گھر کے اندر چلا گیا اور چیخنے لگا ۔!! خبر دار خبردار۔مولوی صاحب نے کہہ دیا، خبردار،،
٬٬ ہیں! کیا بک رہا ہے ، کہاں ہیں مولوی صاحب؟،، تایا ابا نے مجھے ڈانٹتے ہوئے پوچھا۔ وہ صحن میں ہی کھڑے ہوئے تھے اور ابھی دوکان پر نہیں گئے تھے بھائی اسلام بھی ان کے ساتھ تھے، شاید ابا کے باہر سے آنے کا انتظارکر رہے تھے۔
٬٬ وہ، وہ باہر ہیں ، ابا سے بات کر رہے ہیں،،میں نے سہمے ہوئے لہجے میں کہا ۔ میں تایا ابا سے بہت ڈرتا تھا وہ ہر وقت ڈانٹتے رہتے تھے۔ دادا ابا کے بعد میں ان سے بھی بہت ڈرتا تھا۔
اسی اثنا میں ابا بھی باہر سے گھر میں آگئے۔
٬٬ کیا بات ہے فخر الدین؟ ،، تایا نے پوچھا ٬٬ مولوی صاحب کیوں آئے تھے؟۔ اور یہ ضیاءالدین کیا خبر دار خبردار کر رہا ہے،،۔ تایا نے اپنی تیوری پر بل ڈالتے ہوئے ابا سے پوچھا۔
٬٬ہاں بھائی بدرالدین، مولوی صاحب آئے تھے،، ابا نے گردن ہلاتے ہوئے کہا۔٬٬ حالات بگڑ رہے ہیں بھائی، سمجھ میں نہیں آ رہا ،ایسا کیوں ہو رہا ہے، مولوی صاحب پنڈت جی کا پیغام لے کر آئے تھے،،
ہوں، کچھ نہیں ہوگا ، پریشان ہو نے کی بات نہیں ہے ،، تایا نے ابا کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
٬٬ نہیں بھائی، کچھ نہ کچھ بات تو ہے ورنہ مولوی صاحب کو کیا پڑی تھی تھی جو ہمارے گھر آتے، وہ کبھی اچانک نہیں آئے انہیں کہا گیا ہے تو وہ ہماری اور ہم مسلمانوں کی بھلائی کے لئے ہی پیغام لے کر آئے تھے ، ہمیں سوچنا ہوگا،،۔ ابا نے کہا اور اسی لمحے دادا بھی اپنے کمرے سے باہر آگئے۔٬٬ ارے چھورا کیا بات ہو گئی ؟،، دادا نے تایا اور ابا کو ساتھ دیکھ کر کہا۔٬٬ کیا دوکان نہیں کھولو گے، ابھی تک سب یہاں پڑے ہوئے ہیں،،
٬٬ ابا دوکان تو کھلے گی مگر حالات کچھ بگڑ تے جا رہے ہیں،،۔تایا بولے
٬٬ حالات بگڑ رہے ہیں؟۔ کس کے حالات بگڑ رہے ہیں، ابے کچھ بتاﺅگے بھی کیا ہوا ہے،، دادا غصے میں آگئے
٬٬ بابا پریشان نہ ہو، ،، ابا بولے ۔ وہ دادا ابا کو بابا کہتے تھے۔ ٬٬ تسلی سے بیٹھ کر بات کریں گے ، دوکان پر تو دیر سے بھی جا سکتے ہیں ، ویسے بھی بہت مندی چل رہی ہے گراہک کم آ رہے ہیں ۔،،
میرے دادا بڑے لمبے ،چوڑے اور پہلوان جیسے تھے۔ بڑے بڑے بال تھے ان کے جوہر وقت ان کے کندھوں پر پڑے رہتے تھے ، ان کی آواز بھی بڑی کڑیل تھی جب وہ غصے میں آتے تھے تو ان کی آواز سن کر سب ہی سہم جاتے تھے ۔ بڑا رعب تھا ان کا سب گھر والوں پر، وہ کھڑے کھڑے تایا اور ابا کے چہروں کو غور سے دیکھتے رہے، پھر کڑک کر بولے۔٬٬ سرج الدین کے بیٹے ہو تم لوگ، کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے ساری بات بتاﺅ، اگر کسی نے کچھ کہا ہے تو ایک ایک کو دیکھ لوںگا۔،،
اور بات بھی ایسی ہی تھی پورے گاﺅں پر دادا کا بڑا رعب تھا سب ان کی بہت عزت کرتے تھے ۔ ہماری دوکان کے سامنے راجہ ٹھاکر داس کی بلڈنگ تھی۔ٹھاکر جی بھی دادا کو جھک کر پرنام کرتے تھے ۔ حالانکہ پورا گاﺅں ٹھاکر جی کو پرنام کرتا تھا ، یہی وجہ تھی کہ ہمارے دادا کا گاﺅں میں بڑا نام تھا۔ مسلمانوں یا ہندوﺅں میں کوئی صلاح مشورے کی بات ہوتی تھی تو سب کا اس بات پر اتفاق ہوتا تھا کہ دادا سراجو سے پوچھ لیتے ہیں ، ان کی کیا رائے ہے ۔ ہمارے گھرانے کی داداکی وجہ سے بڑی عزت تھی۔
دادا کو چلاتے ہوئے سن کر اماں، تائی اور بھائی سلام کی بیوی جو میری بھابی تھیں، سب صحن میں آگئے تھے اور پریشانی سے ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہے تھے۔ ٬٬کیوں آگئے ہو ، کچھ نہیں ہوا جاﺅ اپنے کمروں میں ، دادا نے ڈانٹا اور سب لوگ کائی کی طرح سے چھٹ گئے۔
لیکن کھچڑی پک رہی تھی۔کسی کو بھی چین نہیں تھا، تایا اور ابا دوکان پر توچلے گئے تھے لیکن جلد ہی واپس آگئے ۔دن تو جیسے تیسے گزرگیا مگر رات کا کھاناکھانے کے بعد بیٹھک لگی ۔دادا نے عورتوں کو چھوڑکرسب مردوں کواپنے کمرے میں جمع کر لیا تھا۔تائی اماں اور بھابی
محمودن اماںکے پاس اکٹھی ہو گئی تھیں ۔وہاں بھی ظاہر ہے یہی بات زیر غور تھی کہ ہندوﺅں نے مسلمانوںکوگاﺅں چھوڑنے کے لئے کہہ دیا تھا۔ دادا اپنی چارپائی پربیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی ٹانگوں پر لحاف ڈالاہوا تھا جبکہ تایا، ابا اور بھائی سلام ایک چارپائی پربیٹھے ہوئے تھے اوران تینوں نے ایک ہی لحاف ڈالا ہوا تھا ۔سردی بہت تھی اور دونوں چارپائیوں کے بیچ میں انگیٹھی سلگ رہی تھی ، میں بھی ان کے ساتھ ہی لحاف میں دبکا ہوا تھا۔ مجھے تایا نے ڈانٹا بھی تھا کہ ٬٬ تو کیا کر رہا ہے یہاں جا اپنی ماں کے پاس جا لیکن جب میں منہ بسورنے لگا تو دادانے منع کردیا ۔٬٬چھوڑ دے بدرو اسے، تیراکیا لے رہا ہے لحاف میں لپیٹ لے اسے بھی، سردی بہت ہے،، ۔میں بہت خوش ہوا تھا اوراپنی آنکھیں بند کئے ان کے ساتھ پڑا ہوا تھا۔ میرے کان لگے ہوئے تھے کہ وہ کیا بات کرتے ہیں۔ ٬٬ہاں فخرواب مجھے بتا کہ مولوی نظام نے تجھے کیا کہا تھا ،، ۔ابا نے صبح والی بات دہرا دی۔ ٬٬ مولوی کہہ رہا تھا کہ اسے گنگوتیلی نے پنڈت جی کا سندیسہ دیا ہے کہ مسلمانوں کو خبر دار کردو کہ وہ گاﺅں چھوڑ کر چلے جائیں ، ورنہ لاشیں گر جائیں گی ۔ ۔ ۔
٬٬ اچھا ، کیا یہ پنڈت کے باپ کا گاﺅں ہے ؟۔ ہمارے بھی تو باپ دادا یہاں ہی پیدا ہوئے تھے ۔ ہم نے توہندوﺅں سے نہیں کہا وہ گاﺅں چھوڑ کر چلے جائیں ، دو برس پہلے بھی دسہرے پر پنڈت نے ایسی ہی شرارت کی تھیاور سبمسلمانوں کو گاﺅں سے چلے جانے کی دھکی دی تھی ۔ تو کیا مسلمان چلے گئے ،، ۔ دادا اپنی کڑک دار آواز میں بولے ۔
٬٬یہ جب سے پاکستان کا چکر چلا ہے ہندوﺅں کی نظریں بدل گئی ہیں،، تایاابا بولے
٬٬کیا ہم نے کہا تھا کہ پاکستان بناﺅ ، یہ تودلی والوں سے پوچھو،، دادا نے کہا۔ ٬٬پاکستان یہاں تھوڑی بنا ہے ، اس سے ہمارا کیا واسطہ ،،۔
٬٬ نہیں بابا، ہمارا واسطہ تو ہے پاکستان سے ، وہ مسلمانوں ہی کے لئے بنا ہے ۔ قائد اعظم نے مسلمانوں کو آزادی دلوائی ہے ،، ابا نے کہا تو دادا ان سے تیز آواز میں بولے۔٬٬ابے تجھے چار جماعتیں کیا پڑھوادیں تو سیاست کی بات کر رہا ہے۔دلی والے جانیں اور پاکستان جانے، ہمارا تو یہیں جینا مرنا ہے اور یہ پنڈت سندیسہ بھیجنے والا کون ہے اس سے تو میں صبح میں بات کروں گا، وہ پھر شرارت پر اتر آیا ہے۔ جاﺅں گا میں راجہ ٹھا کر کے پاس کہ بھئی یہ کیا جھگڑا ہے ہمارا تو کسی سے بھی جھگڑا نہیں ہے ۔،،
٬٬نہیں ابا ، بات سمجھنے کی ہے، پنڈت نے یوں ہی تو سندیسہ نہیں بھجوایا،،۔ تایا بولے
٬٬چھوڑومیں سب بات سمجھتا ہوں ،دھمکی میں نہیں آﺅں گا میں کسی کی، ذرا مجھے راجہ ٹھاکر سے تو بات کر لینے دے پھر بات کروں گا میں پنڈت سے ، جاﺅ سب سوجاﺅ رات کالی ہو رہی ہے اور سردی بھی بڑی ہو رہی ہے ، جاﺅ صبح دیکھوں گا ، اس کی تو ایسی کی تیسی،، ۔دادا نے اپنی کڑک دار آواز میں کہا توسب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ، ابا نے مجھے بھی اپنی گود میں بھرا اور ہمارے کمرے میں آگئے۔ تائی ، بھائی سلام کی بیوی محمودن بھی چلی گئیں اور میں اماں کے ساتھ دبک کرسوگیا۔
دھوپ سینکنے کے لئے گھر سے باہر نکلا تو میرا دوست گلو نہیں آیا تھا ۔میں نے اسے ادھر ادھردیکھا مگر وہ کہیں نظر نہیں آیا۔ میں چاہتا تھا کہ اسے رات والی بات بتاﺅں ۔ پھر مجھے خیال آیا کہ کہیں وہ کٹارے والی حویلی کی طرف تو نہیں چلا گیا ۔دور سے ہی وہ حویلی نظر آ رہی تھی
۔ وہاں کٹاروں کے پیڑ لگے ہوئے تھے اور ہم جب جی چاہتا وہاں چلے جاتے اور زمین پر پڑے ہوئے کٹارے چنتے تھے ۔ بڑا مزا آتا تھا ۔ لیکن میں وہاں کبھی اکیلا نہیں گیا تھا۔ وہاں بندر بہت تھے اور وہ لپکتے تھے ۔ اسی لئے جب بھی جانا ہوتا تھا تو بھائی اسلام بھی ساتھ ہوتے تھے ۔ گلو کے نہ آنے پر میں اکیلا ہی کٹارے والی حویلی کی طرف چل دیا۔ مجھے بندروں کا بھی خیال نہ رہا ۔ میں وہاں پہنچا تو گلو مجھے وہاں بھی نظرنہیں آیا اور آس پاس بہت سے بندر بیٹھے ہوئے تھے جو مجھے آتا ہوا دیکھ کر گھور رہے تھے اور کچھ کھی کھی کر کے دانت بھی دکھا رہے تھے مجھے ان سے ڈر لگا تو میں زمین پر پڑے کٹارے چنے بغیر واپس لوٹا۔ مجھے گلو کے بغیر اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔ تھوڑی دیر تک میں دھوپ میں کھڑا اس کی راہ دیکھتا رہا پھر دل میلا کر کے گھر کی طرف پلٹا۔ ہمارے گھر کی ڈیوڑھی میں دن کے وقت بھی اندھیرا رہتا تھا لیکن کچھ باہر کی روشنی بھی پڑتی تھی ۔ دیوڑھی کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا تھا ۔ چوری چکاری کا ڈر نہیں تھا بس اندر کے کمروں کو کنڈی لگائی جاتی تھی وہ بھی بندروں کی وجہ سے ۔ بندر بہت تھے ہر وقت دیوار پر بیٹھے رہتے تھے ان کا جی چاہتا تو کود کر صحن میں آجاتے تھے اورکوئی پڑی ہوئی چیز اٹھا کر بھاگ جاتے تھے لیکن ایسا اس وقت ہوتا تھا جب بھابی محمودن یا اماں چولہے کے پاس بیٹھی ہوئے روٹیاں پکاتی تھیں۔ وہ روٹیاں ہی اٹھا کر بھاگتے تھے ۔ اماں یا بھابی اپنا کام بھی کرتی جاتیں اور ہاتھ کے اشارے سے پاس پڑے ہوئے ڈنڈے کو اٹھا کر انہیں بھگا تی بھی رہتی تھیں۔ ڈیوڑھی میں دن ہونے کے باوجود ہلکا ہلکا اندھیرا تھا۔ جیسے ہیں میں نے قدم رکھا تو میری نظر ایک طرف کونے پر پڑی ۔ ایک سیاہ بھجنگ آدمی بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کی لال لال آنکھیں صاف نظر آ رہی تھیں جیسے ان میں سے آگ نکل رہی ہو۔ اس کے بڑے بڑے الجھے ہوئے بال تھے جو اس کے کندھوں پر پھیلے ہوئے تھے ۔ کالے رنگ کے کپڑے ہی پہنے ہوا تھا وہ اور زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھا ہوا مجھے گھور رہا تھا۔ میں ٹھٹک کر رہ گیا ۔ پھر اس کے منہ سے ایک کرخت سی آواز نکلی اور اس نے زورزور سے اپنے سر کو جھٹکے دینا شروع کیا تو اس کے بالوں سے خون ٹپکنے لگا ۔ اس کے ساتھ ہی اس کی لال لال آنکھوں سے بھی خون ٹپکا ۔ میری گھگی بندھ گئی اور میں چیختا چلاتا ہوا تیزی سے گھر کے اندر کی طرف بھاگا ۔ میرے منہ سے چیخنے چلانے اور بچاﺅ بچاﺅ کی آوازیں نکل رہی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز قسط نمبر 48

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے