سر ورق / ناول / درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ۔۔۔ قسط نمبر 19

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ۔۔۔ قسط نمبر 19

قسط نمبر 19

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

شہلا اسٹیج سے اتر کر سیدھی اپنی کار کے پاس گئی-خود کو رونے سے روک رہی تھی مگر جب انسان کے اندر طوفان مچا ہوا ہو تو ہر کوشش بیکار جاتی ہے-

”تم نے میری طرف دیکھا تک نہیں- میں تم سے ملنے کے لئے کتنی بے چین تھی- مگر تمہیں کیا فرق پڑتا ہے- کہنے کو تو تم مجھ سے محبت کرتے ہو- لیکن تم کو میری ذرا برابر پرواہ نہیں ہے-“ شہلا خود کلامی کر رہی تھی-

رفیق جب وہاں پہنچا تو وہ اپنی کار کا دروازہ کھول رہی تھی- رفیق نے بھاگ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا-

”کیسی ہو تم؟-“ رفیق نے پوچھا-

”ہاتھ چھوڑو میرا-“ شہلا نے بنا پیچھے مڑے کہا- وہ اپنے آنسو رفیق کو نہیں دکھانا چاہتی تھی-

رفیق نے شہلا کے ہاتھ پر اپنی گرفت اور مضبوط کر دی- ”تم رو کیوں رہی ہو؟-“

”تم نے کب دیکھا مجھے روتے ہوئے- تم نے تو مجھے بالکل نظر انداز کر دیا تھا جیسے میرا کوئی وجود ہی نہیں ہے-“ شہلا درد بھرے لہجے میں بولی-

”اس گستاخی کے لئے مجھے معاف کردو- تم سے بہت محبت کرتا ہوں-“

”مجھے کچھ نہیں سننا- چھوڑو میرا ہاتھ-“ شہلا نے زور سے ہاتھ کو جھٹکا اور رفیق نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا-

”لو چھوڑ دیا تمہارا ہاتھ- مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہارا ہاتھ پکڑنے کا-“

شہلا اپنی کار میں بیٹھی اور تیزی سے کار آگے بڑھا دی-

”لگتا ہے پاگل ہوگئی ہے- اتنی اسپیڈ سے بھاگنے کی کیا ضرورت تھی-“ رفیق بھی بھاگ کر اپنی کار میں بیٹھا اور پوری رفتار سے کار شہلا کی کار کے پیچھے دوڑا دی-

شہلا اتنے غصے میں تھی کہ اسے دھیان ہی نہیں رہا کہ وہ غلط راستے سے مڑ گئی ہے- اس نے کار جنگل کے راستے پر موڑ لی تھی- اس نے بیک ویو مرر میں دیکھ لیا تھا کہ رفیق اس کا تعاقب کر رہا ہے- اس لئے اس نے کار گھمانے کی کوشش نہیں کی- اسے معلوم تھا کہ جنگل کے دوسری طرف کی سڑک بھی اس کے گھر کی طرف جاتی ہے- اس لئے وہ بے فکر تھی-

”اب تم میرے پیچھے کیوں آرہے ہو- کل سے تو نہ جانے کہاں غائب ہوگئے تھے- میں زندگی میں پہلی بار اتنا روئی ہوں- ا س کے لئے میں تم کو کبھی معاف نہیں کروں گی-“ شہلا کار چلاتے ہوئے بڑبڑاتی بھی جا رہی تھی-

اچانک شہلا کی نظر سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی کار پر گئی- ابھی وہ اس کار سے بہت دور تھی مگر اس نے یہ صاف دیکھ لیا تھا کہ کار سڑک کے عین بیچ میں کھڑی ہے-

”یہ سڑک کے بیچ میں کس پاگل نے کار پارک کر رکھی ہے-“شہلا حیرت میں پڑ گئی-

نہ چاہتے ہوئے بھی شہلا کو بریک لگانے پڑے- اور وہ بڑے غور سے اس کار کو دیکھنے لگی-

”کار میں تو کوئی نظر نہیں آرہا-“

چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا- بس جہاں تک اس کی کار کی لائٹ جا رہی تھی وہاں تک ہی دیکھ پا رہی تھی-

اچانک اسے ایک نسوانی چیخ سنائی دی- ”بچاﺅ— آہ ہ ہ ہ- — نن— نہیں—- پلی —-ز-“

شہلا نے اپنے بیگ سے پستول نکالی اور کار سے اتر کر جنگل کی طرف بھاگی- تب تک رفیق بھی وہاں پہنچ چکا تھا- رفیق بھاگ کر شہلا کے پاس آگیا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا-

”رکو- تم کہاں جا رہی ہو؟-“

”شش- چپ رہو- کسی کو ہماری مدد کی ضرورت ہے-“

”ڈی ایس پی صاحبہ آپ کو تو ایک دھیلے کی بھی عقل نہیں ہے- پہلے دیکھ تو لیں کہ ماجرا کیا ہے-“ رفیق نے کہا-

رفیق سڑک کے بیچ میں کھڑی کار کے پاس آگیا اور اندر جھانک کر دیکھا- اگلی سیٹ پر ڈرائیور کی لاش پڑی تھی- اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا-

”اس کے سر میں گولی ماری گئی ہے-“ رفیق نے کہا-

اسی وقت دوبارہ چیخ سنائی دی- ”بچاﺅ———– بچاﺅ-“

”کسی لڑکی کی آواز لگتی ہے-“ رفیق بولا-

”تم جاﺅ یہاں سے میں سنبھال لوں گی-“

”اکیلے کیا سنبھالو گی تم-“

”پولیس پارٹی بلا رہی ہوں- تم جاﺅ اپنا کام دیکھو- یہ تمہارا سر درد نہیں ہے- بھول گئے کہ تم استعفیٰ دے چکے ہو- تمہیں یہاں رکنے کا کوئی حق نہیں ہے-“ شہلا نے سخت لہجے میں کہا-

”کیسے بلاﺅگی— یہاںجنگل میں موبائل کے سگنل ہی نہیں آتے-“ رفیق نے اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا-

”تو میں خود دیکھ لوں گی کہ کیا کرنا ہے- اب یہاں سے چلتے پھرتے نظر آﺅ-“ شہلا نے افسرانہ لہجے میں کہا-

ایک اور چیخ فضا میں گونجی- اس بار کسی آدمی کی چیخ تھی-

شہلا بھاگ کر جنگل میں گھس گئی- رفیق بھاگ کر اپنی کار کے پاس آگیا-

”میری گن کہاں ہے— یہ ڈی ایس پی صاحبہ تو میری جان لے کر ہی چھوڑے گی-“

گن سیٹ کے نیچے تھی- گن کے چکر میں ایک منٹ خراب ہوچکا تھا- گن ملتے ہی رفیق‘ شہلا کے پیچھے جنگل میں گھس گیا- اندھیرا گھپ اندھیرا تھا اور بھاگتے ہوئے رفیق کو شہلا دکھائی نہیں دی اور وہ اس سے ٹکرا گیا- شہلا گرتے گرتے بچی-

”یہ کیا بدتمیزی ہے-“ شہلا چلائی-

”شش- چپ رہو میڈم جی- غلطی سے ٹکر لگ گئی- میں نے جان بوجھ کر نہیں ماری ہے-“ رفیق نے معذرت کرتے ہوئے کہا-

اسی وقت گولی چلنے کی آواز آئی اور رفیق نے شہلا کا ہاتھ پکڑ کر درخت کے پیچھے کھینچ لیا-

”یہ کیا کر رہے ہو-“

”گولی کی آواز نہیں سنی کیا- ہوسکتا ہے ہم پر ہی چلائی گئی ہو- درخت کے پیچھے رہنا ٹھیک ہے-“ رفیق نے کہا-

شہلا بھی غصے میں تھی اور رفیق بھی غصے میں تھا- دونوں ایک دوسرے سے خفا خفا تھے- دونوں درخت کے پیچھے ساتھ ساتھ کھڑے تھے- ان کا آدھا دھیان جرم کو کنٹرول کرنے پر تھا اور آدھا اپنے درمیان ہونے والی کشمکش پر- تقریباً سرد جنگ چل رہی تھی دونوں کے درمیان-

”تم میرے پیچھے کیوں آئے-“

”آنا تو نہیں چاہتا تھا مگر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر آنا پڑا-“ رفیق نے جواب دیا-

”تم خود کو سمجھتے کیا ہو- جب دل چاہا مجھ سے دور چلے گئے اور جب دل چاہا پاس چلے آئے-“

”شش- کوئی اسی طرف آرہا ہے-“ رفیق نے شہلا کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا-

”وہ لوگ یہیں کہیں ہونے چاہئیں-“کسی کے بولنے کی آواز آئی- تو وہ دونوں خاموش ہوگئے-

”سڑک پر دو کاریں کھڑی ہیں- مجھے ڈر لگ رہا ہے- جگی چل ان دونوں کا کام تمام کرکے یہاں سے نکلتے ہیں-“

”بابل تم اچھو کے پاس جاﺅ- میں دیکھتا ہوں کہ یہ کون ہمارے کام میں ٹانگ اڑانے آگیا-“ پہلے والے نے کہا جسے جگی کے نام سے پکارا گیا تھا- ”اور ہاں ابھی لڑکی سے دور ہی رہنا- پہلے میرا حق ہے- کیا مست آئٹم ہے-“

بابل کے جانے کے بعد جگی وہیں آس پاس پستول تانے گھومتا رہا جب وہ اس درخت کے پاس سے گزرا جس کے پیچھے رفیق اور شہلا چھپے ہوئے تھے تو رفیق نے جلدی سے گن اس کے سر سے لگا دی-

”تم سدھرے نہیں جگی دادا- یہ پستول نیچے پھینک دو-“ رفیق نے سرد لہجے میں کہا-

”سر آپ-“ جگی بوکھلا کر بولا-

”ہاں میں- جلدی سے پستول نیچے پھینک کر ہاتھ اوپر کرلو ورنہ تیری کھوپڑی میں بھرا ہوا بھوسہ باہر نکال دوں گا-“

”سر گولی مت چلانا- یہ لیںپستول پھینک دی میںنے-“ جگی نے پستول پھینکتے ہوئے کہا-

”گڈ- اب بتاﺅ یہاں کیا ہو رہا ہے-“ رفیق نے سختی سے پوچھا-

”کچھ نہیں ہو رہا سر-“

”سچ بولتا ہے یا کھول دوں تیری کھوپڑی-“ رفیق نے نال سے اس کے سر پر ٹھوکا دیتے ہوئے کہا-

”میں نے سپاری لی ہے- اپنا کام کر رہا تھا بس-“ جگی بولا-

”چل مجھے اپنے ساتھیوں کے پاس لے چل- ذرا بھی چالاکی دکھانے کی کوشش کی تو تم مجھے جانتے ہی ہو-“ رفیق نے اسے آگے کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا-

”گولی مت مارنا سر- میں ان لوگوں کا ساتھ ہمیشہ کے لئے چھوڑ دوں گا-“

جگی جنگل کے اندر کی طرف بڑھنے لگا- اس کے پیچھے رفیق پستول تانے ہوئے تھااور رفیق کے پیچھے شہلا آرہی تھی- اس کے ہاتھ میں بھی پستول تھی-

انہیں زیادہ دور نہیں جانا پڑا- جب وہاں پہنچے تو انہوںنے دیکھا کہ بابل اور اچھو لڑکی کو برہنہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے-

”رک جاﺅ- ورنہ دونوں کو شوٹ کر دوں گی-“ شہلا چلائی-

شہلا کی آواز سن کر دونوں چونک کر رک گئے-

”سر آپ کے ساتھ کون ہیں-“ جگی نے پوچھا-

”ڈی ایس پی صاحبہ ہیں- اپنے ساتھیوں سے کہو کہ دونوں کو چھوڑ دیں-“

رفیق کا دھیان جگی کی طرف ہوا تو اچھو نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رفیق کے سر پر فائر کیا- گولی سر کے برابر سے ہوتی ہوئی گزر گئی- رفیق نے بھی فوراً اس کی طرف فائر کیا- موقع کا فائدہ اٹھا کر جگی نے رفیق کو دھکا دیا اور وہاں سے بھاگ نکلا- اس کے پیچھے بابل اور اچھو بھی دوڑ پڑے- اندھیرے میں دیکھتے ہی دیکھتے وہ اندھیرے جنگل میںآنکھ سے اوجھل ہوگئے- رفیق نے دو تین فائر کئے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا- شہلا بھاگ کر اس لڑکی کے پاس آگئی-

”کون ہو تم- ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے- ہم پولیس والے ہیں-“ شہلا نے کہا-

”میرا نام زینی ہے- یہ میرے شوہر ہیں اصغر- ہم کراچی گھومنے آئے تھے اب واپس بدین جا رہے تھے- -“

”تم دونوں کو مارنے کی سپاری دی گئی تھی-“ رفیق نے کہا-

”کیا – ہمیں مارنے کی سپاری دی گئی تھی؟-“ اصغر نے حیرانی سے کہا- وہ بڑی مشکل سے اٹھ پایا تھا- اسے بہت بری طرح زدوکوب کیا گیا تھا-

”ہاں سپاری- کیا تم بتا سکتے ہو کہ ایسا کون ہے جو تمہاری موت کا خواہاں ہو-“

”ہماری تو کسی سے دشمنی نہیں ہے- پتہ نہیں ہمیں مارنے کی سپاری کس نے دی ہے-“ اصغر بولا-

”اچانک جھاڑیوں میں کچھ آہٹ ہوئی اور شہلا گن لے کر اس طرف چلنے لگی-

”ارے رکو- تم کہاں جا رہی ہو؟-“

رفیق نے اپنی کار کی چابی اصغر کے ہاتھ میں رکھ دی- ”جاﺅ کسی ہوٹل میں جاکر رک جاﺅ- جب تک تحقیقات پوری نہیں ہوجاتی تم بدین نہیں جا سکتے-تم لوگوں کی کار ابھی یہیں رہے گی کیونکہ اس میں لاش پڑی ہے-“

”آپ اپنی کار ہمیں دے رہیں— آپ کو پتہ کیسے چلے گا کہ ہم کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں- موبائل نمبر تو دیں-“ اصغر نے کہا-

”میری کار میرے موبائل سے کنکٹڈ ہے- تم فکر مت کرو- میں ٹریس کرلوں گا- تم دونوں جاﺅ-“

ان دونوں کے جانے کے بعد رفیق شہلا کے پیچھے دوڑا-

شہلا دبے پاﺅں آگے بڑھ رہی تھی- رفیق اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا- ”کیا کرنا چاہتی ہو- کہاں جا رہی ہو تم-“

”شش- جھاڑیوں میں کچھ آہٹ ہوئی تھی-“

”جنگل ہے- کوئی جانور ہوگا- چلو چلتے ہیں-“

”مجھے لگتا ہے ان تینوں میں سے کوئی ہے-“ شہلا بولی-

”ارے وہ یہاں کیوں چھپے رہیں گے- اتنا بڑا جنگل ہے- وہ بہت دور نکل گئے ہوں گے-“

”تمہیں اس سے کیا میں کچھ بھی کروں- تم کون ہوتے ہو مجھے ٹوکنے والے-“ شہلا چلائی-

”تم جان بوجھ کر ناٹک کر رہی ہو تاکہ میں یہیں تم سے الجھا رہوں اور کل صبح میری ٹرین مس ہوجائے- ہیں نا-“

”تمہیں یہ ناٹک لگ رہا ہے- میں یہاں اپنی ڈیوٹی کر رہی ہوں- جاﺅ یہاں سے- مجھے اکیلا چھوڑ دو-“

”شہلا میں جانتا ہوں کہ تم مجھ سے غصے ہو- تم کو غصے میں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے- چلو خاموشی سے گھر جاﺅ-“ رفیق نے کہا-

”جب دل چاہے گا چلی جاﺅں گی- تم جاﺅ یہاں سے-“

رفیق نے شہلا کو دونوں کندھوں سے کس کر پکڑ لیا اور اسے ایک درخت سے ٹکا دیا-

”یہ کیا پاگل پن ہے- مجھے تم سے ایسی امید نہیں تھی- بنا سوچے سمجھے کچھ بھی کئے جا رہی ہو-“ رفیق غصے سے بولا-

”مجھے بھی تم سے ایسی امید نہیں تھی جیسا تم نے میرے ساتھ کیا-“

”شہلا- کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟-“ رفیق نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا-

شہلا نے رفیق کو زور کا دھکا دیا- دھکا اتنی زور کا تھا کہ رفیق لڑکھڑا کر پیچھے کی طرف گر گیا اور اس کا سر پتھر سے ٹکرایا- خون تو نہیں نکلا لیکن تکلیف بہت ہوئی تھی- ایک منٹ کے لئے تو اس کا سر ہی گھوم گیا تھا-

شہلا دوڑ کر اس کے پاس آئی- ”تمہیں چوٹ تو نہیں لگی-“

”تمہاری نزدیک میری یہی اوقات ہے- کبھی دفعہ ہوجانے کا بول دو‘ کبھی گیٹ آﺅٹ اور آج تو حد ہی ہوگئی- تم نے تو مجھے ایسے دھکا دیا جیسے میں بالجبر کچھ کرنے کی کوشش کر رہا تھا-“ رفیق نے اٹھتے ہوئے کہا-

شہلا ‘ رفیق کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی- ”سوری – میں جان بوجھ کر نہیں کیا-“

”واہ پہلے قتل کر دو پھر سوری بول دو- ارے مرنے والا تو مر گیا نا- تمہارے سوری کہنے سے کیا زندہ ہوجائے گا وہ-“رفیق نے تپے ہوئے لہجے میں کہا-

”تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھو – میں جا رہی ہوں-“ شہلا وہاں سے سڑک کی طرف جانے گلی- سڑک پر پہنچ کر شہلا نے دیکھا کہ رفیق کی کار غائب ہے-

”رفیق کی کار کون لے گیا-“ پھر شہلا نے اندازہ لگایا کہ رفیق نے اپنی کار ضرور زینی اور اصغر کو دے دی ہوگی-

”مجھے اس سے کیا کہ اس کار کو دے دی ہے- میں تو نکلوں یہاں سے-“ یہ سوچتے ہوئے شہلا کار میں بیٹھ گئی- اس نے سیلف تو مارا لیکن کار کو آگے نہیں بڑھایا- وہ بار بار جنگل کی طرف دیکھ رہی تھی- دس منٹ گزر گئے لیکن رفیق باہر نہیں آیا- شہلا چپ چاپ کار میں بیٹھی رہی- بار بار انجن اسٹارٹ کرنے کے بعد بند کر دیتی- دماغ کہہ رہا تھا کہ ا س سنسان جنگل میں رکنا مناسب نہیں ہے مگر دل وہاں سے جانے کے لئے تیار نہیں تھا- جب ایسے ہی آدھا گھنٹہ گزر گیا تو شہلا کار سے باہر نکلی اور جنگل میں اس مقام کی طرف بڑھی جہاں وہ رفیق کو چھوڑ کر آئی تھی-

رفیق وہیں بیٹھا ہوا تھا جہاں شہلا اسے چھوڑ کر گئی تھی-

”کیا رات بھر یہیں بیٹھے رہنے کا ارادہ ہے- ساڑھے بارہ بج رہے ہیں-“ شہلا نے کہا-

”اپنی کار میں نے ان دونوں کو دے دی تھی- تم جاﺅ-“

”چلو میں تمہیں گھر چھوڑ دوں گی-“

”تمہارے ساتھ نہیں جاﺅں گا میں- تم جاﺅ یہاں سے-“

”پلیز اٹھو- میں تم کو یہاں چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں-“ شہلا نے کہا-

”تم جاﺅ- میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتا-“ رفیق بھی ضد پر اڑا ہوا تھا-

”ضد مت کرو- اٹھو-“

”تم جاﺅ نا- کیوں اپنا وقت برباد کر رہی ہو-“

”اس لئے کہ مجھے تمہاری پرواہ ہے-“

یہ سنتے ہی رفیق پھر اٹھا اور دوبارہ شہلا کو کندھوں سے پکڑ کر درخت سے ٹکا دیا-

”سچ بتاﺅ یہ پرواہ ہے یا کچھ اور؟-“ رفیق نے پوچھا-

”کیا مطلب- میں کچھ سمجھی نہیں؟-“

”سمجھو گی بھی نہیں- کیونکہ تم سمجھنا ہی نہیں چاہتیں-“

”پلیز پھر سے وہی بحث شروع مت کرو-“ شہلا بولی-

رفیق کچھ دیر خاموش رہا پھر ایک گہری سانس لے کر بولا- ”پلیز ایک بار بتا دو مجھے- کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو- صرف ہاں یا نا میں جواب دے دو- یہ میں تم سے آخری بار پوچھ رہا ہوں- پھر کبھی نہیں پوچھوں گا-“

شہلا کچھ نہیں بولی- وہ شش و پنج میںپڑ گئی تھی- ہاں وہ بولنا نہیں چاہتی اور نا بولنے کی اس میں ہمت ہی نہیں تھی-

”کچھ تو بولو- میری خاطر-“

شہلا یونہی خاموش کھڑی رہی-

رفیق آگے بڑھا اور اپنے چہرے کو شہلا کے چہرے کے بالکل قریب لے آیا- دونوں کی گرم سانسیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں- رفیق نے محبت کی مہر ثبت کرنے کی کوشش کی تو شہلا نے منہ پھیر لیا- رفیق اتنا جذباتی ہوگیا کہ ا س کی آنکھیں بھر آئیں- کب اس کا ماتھا شہلا کے شانے پر ٹک گیا اسے پتہ ہی نہیں چلا- وہ بس روئے جا رہا تھا- شہلا نے رفیق کے سر پر ہاتھ رکھ لیا اور وہ بھی رو پڑی- یہ ان دونوں کی زندگی کا بہت ہی جذباتی لمحہ تھا- دونوں اس درخت کے نیچے کھڑے روئے جا رہے تھے‘ اس محبت کے لئے جو ‘ ان دونوں کے درمیان تھی-

”ایک بات پوچھوں-“ رفیق نے روتے ہوئے کہا-

”ہاں پوچھو نا-“

”چھوڑوجانے دو- تم جواب تو دیتی نہیں ہو-“

”پلیز پوچھو نا-“ شہلا سسکتے ہوئے بولی-

”تم کیوں رو رہی ہو- میں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ میں نے تم کو کھو دیا ہے-“

”میں نے کل صبح دوبارہ پاپا سے بات کی تھی- وہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں- مجھے دھمکی دی ہے کہ اگر میں نے دوبارہ تمہارے بارے میں بات کی تو میں ان کا مرا ہوا منہ دیکھوں گی- تمہیں صرف اپنی محبت نظر آتی ہے- میری محبت تمہیں نظر نہیں آتی-“ شہلا کہے جا رہی تھی-

”شکر ہے تم نے قبو ل تو کیا کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو-“ رفیق نے شہلا کے شانے سے سر اٹھا کر کہا-

”ہاں محبت کرتی ہوں- تم سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں- محبت کا اظہار کرکے اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹانا چاہتی تھی- اس لئے خاموش رہتی تھی-“ شہلا نے بھرپور انداز سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”تو پھر آج کیوں کہہ دیا-“

”کیونکہ میں نے طے کر لیا ہے کہ میں وہاں شادی نہیں کروں گی جہاں پاپا چاہتے ہیں- اگر انہیں میری پسند منظور نہیں ہے تو مجھے بھی ان کی پسند منظور نہیں -میں نے زندگی بھر شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے- اگر شادی کروں گی تو تم سے ورنہ کسی سے نہیں-“ شہلا نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کہا-

”یہ فیصلہ کب کیا؟-“

”ابھی جب تم میرے شانے سے لگے رو رہے تھے- میں کسی اور کے ساتھ نبھا نہیں کر سکتی-“ شہلا بولی-

”تم نہیں جانتیں کہ یہ کہہ کر تم نے مجھے کتنی بڑی خوشی دی ہے- تمہاری محبت کے اس اظہار کو ہمیشہ اپنے دل میں چھپا کر رکھوں گا-“ رفیق خوشی سے بولا-

”رفیق-“

”ہاں بولو-“

”آئی لو یو-“

”بس بس- اب جان لینے کا ارادہ ہے کیا- کہاں تو کہنے سے کترا رہی تھیں- اور کہاں اب محبت کی بوچھاڑ کر رہی ہو میرے اوپر-“ رفیق سرشار لہجے میں بولا-

”یہ محبت میں نے بہت دنوں سے دل میں دبا کر رکھی ہوئی تھی- آج تمہارے لئے امڈ رہی ہے-“شہلا بھی سرشار ہوئی جا رہی تھی-

رفیق دوبارہ اپنا چہرہ شہلا کے چہرے کے قریب لایا- دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے- اس بار رفیق نے محبت کی مہر ثبت کی تو شہلا نے اپنا چہرہ نہیں ہٹایا- دونوں پوری طرح ایک دوسرے میں ڈوب چکے تھے- انہیں یہ احساس بھی نہیں رہا کہ وہ اس وقت جنگل میں ہیں-شہلا نے خود کو جذبات کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا-

اچانک رفیق نے شہلا کو اپنی گود میں اٹھا لیا-

”کیا کر رہے ہو؟-“

”گھر چلتے ہیں- یہاں ہم ایک دوسرے میں کھو نہیں پائیں گے-“

شہلا نے بنا کچھ کہے اپنی آنکھیں بند کرلیں-

وہ دونوں کار میں بیٹھے اور رفیق نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر کار آگے بڑھا دی- جنگل سے باہر نکل کر شہلا نے چوہان کو فون کرکے جنگل میں سڑک پر کار میں پڑی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا کہہ دیا- دونوں پورے راستے خاموش تھے-تھوڑی دیر بعد شہلا نے اپنا سر رفیق کے کندھے پر رکھ دیا-

رفیق نے گھر کے باہر کار روک کر کہا- ”آﺅ-“

”مجھے آج پہلی بار تم سے ڈر لگ رہا ہے-“

”بہادر ڈی ایس پی صاحبہ کیوں ڈر رہی ہیں بھلا-“

”میں ایسے موقع کے لئے تیار نہیں تھی- بس اچانک ہی یہ سب ہوگیا ہے-“

”میں نے بھی اس بارے میں کہاں سوچا تھا- اور مہر کے بارے میں تو قطعی نہیں- ہر وقت یہ دھڑکا رہتا تھا کہ آپ ڈانٹ ڈپٹ کر دور بھگا دیں گی-“

”ہی ہی ہی- پھر تم نے مہر کیوں لگائی-“ شہلا کھلکھلا اٹھی-

”بہت زیادہ جذباتی ہوگیا تھا- خود کو روک نہیں سکا-“

”یہاں بھی یہی حال تھا- اگر خود کو روک پاتی تو روک لیتی-“شہلا نے اعتراف کرتے ہوئے کہا-

”اس کا مطلب ہے آپ چاہتی ہیں کہ ایک اور مہر لگا دی جائے-“ رفیق شوخ لہجے میں بولا-

رفیق کی اس بات پر شہلا شرما گئی-

”اف- ڈی ایس پی صاحبہ شرماتی بھی ہیں- سو کیوٹ-“

”دوبارہ ایسی بات مت کرنا ورنہ-“

”ورنہ کیا- سسپینڈ ہی کر دو گی نا- اب تو میں استعفیٰ دے چکا ہوں- بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا تھا میں نے-“

”تو کیا یہ مہر لگانے کے لئے ہی تم نے استعفیٰ دیا تھا-“

”اب تم چاہو تو یہی سمجھ لو-“

”رفیق— میں تمہیں کچھ کرنے سے روکنا نہیں چاہتی- کیونکہ یہ تمہاری محبت کا حق ہے مجھ پر- میں زندگی بھر تمہاری رہوں گی- میں بھی ان پیار بھرے لمحات میں کھو جانا چاہتی ہوں- جبکہ دل میں ایک ڈر سا بھی ہے- مگر بس ایک بات کہنا چاہتی ہوں-“

”ہاں ہاں بولو کیا بات ہے-“ رفیق اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا بولا- وہ دونوں اس وقت صوفے پر چپکے بیٹھے تھے-

”مجھے یقین ہے کہ جب میں کسی اور شادی نہیں کروں گی تو ایک نہ ایک دن میرے گھر والے مان جائیں گے- اس لئے میں چاہتی ہوں کہ ہم تھوڑا رک جائیں تو بہتر ہوگا- میں بھی بہک رہی ہوں اور تمہارے ساتھ ہر حد پار کر جانا چاہتی ہوں- مگر دل کے ایک گوشے میں یہ احساس بھی ہے کہ ہمیں انتظار کرنا چاہئے-“

”اس معاملے میں پوری طرح تمہارے ساتھ ہوں- مجھے بھی کوئی جلدی نہیں ہے- وہ ایک لمحہ ایسا تھا کہ ہم بہک گئے تھے ورنہ ایسا سوچتا بھی نہیں-“

”تھینکس-“

”تم بیٹھو میں تمہارے لئے چائے بنا کر لاتا ہوں-“

”ایک بات تو تم کو بتانا ہی بھول گئی-“

”اب کیا رہ گیا ہے بتانے کو؟-“ رفیق پلٹ کر بولا-

”مجھے کچن کا کوئی کام نہیں آتا- یہاں تک کہ چولہا جلانا بھی نہیں آتا-“شہلا نے شرمندہ لہجے میں کہا-

”کیا— گئی بھینس پانی میں—- ارے مجھے تو ایسی بیوی چاہئے تھی جو اچھا کھانا بناتی ہو-“رفیق سر پر ہاتھ مار کر بولا-

”تو تم کو سوچ سمجھ کر محبت کرنی چاہئے تھی نا- مجھے تو پکانا تو دور ‘ کچن میں گھسنا بھی پسند نہیں ہے-“

”کیا بات ہے بھئی- اپنی ڈی ایس پی صاحبہ کی تو ہر ادا ہی نرالی ہے-“

”یہ تعریف ہے یا مذاق؟-“

”تعریف ہے جی- واقعی میں آپ کی ہر ادا نرالی ہے-“ رفیق نے ہنستے ہوئے کہا-

”اب زیادہ طعنے مت دو- آہستہ آہستہ سب سیکھ لوں گی-“شہلا غصہ دکھاتے ہوئے بولی-

”برا مت مانو- میں تو ایسے ہی کہہ رہا تھا- ویسے تم غصے میں کیا کمال لگتی ہو-“

”جب سے تم نے مجھے آپ سے تم کہنا شروع کیا ہے مجھے اچھا لگتا ہے-“

”وہ اس لئے بھی بے دھڑک کہہ رہا ہوں کہ اب میں تمہارا ماتحت نہیں ہوں نا-سسپینڈ ہونے کا ڈر بھی نہیں ہے- اس لئے اب تو زیادہ آزادی سے کہہ رہا ہوں-“ اس بات پر دونوں ہنس پڑے-

”ویری فنی-“ شہلا بولی- ”ویسے کل کہاں غائب ہوگئے تھے- تمہاری وجہ سے پورا دن اور پوری رات پریشان رہ کر گزاری ہے میں نے- پتہ ہے میری تو بھوک بھی مر گئی تھی- پورا دن کچھ نہیں کھایا اور رات کو بھی صرف ایک سینڈوچ لیا تھا-

”تم نے مجھے ’دفعہ ہوجاﺅ‘ کہا تو مجھے بہت برا لگا تھا- اور پھر ’گیٹ آﺅٹ‘ کہا تو اور بھی برا لگا تھا- مجھے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ تم مجھے ایسے بھی کہہ سکتی ہو- فون سوئچ آف کرکے حیدرآباد چلا گیا وہیں کے ایک ہوٹل میں پڑا رہا-“ رفیق نے بتایا-

”سوری- کل صبح پاپا سے ہونے والی بحث کی وجہ سے مزاج چڑچڑا ہوگیا تھا سارا غصہ تم پر اتر گیا-“ شہلا معذرت کرتے ہوئے بولی-

”کوئی بات نہیں- ایسا ہوجاتا ہے ہمارے ساتھ-“

”میرا خیال ہے اب مجھے جانا چاہئے- بہت دیر ہو رہی ہے-“ شہلا اٹھتے ہوئے بولی-

”مگر وہ چائے؟-“

”پھر کبھی سہی-“

شہلا جانے لگی تو رفیق نے اسے دبوچ لیا-

”چائے نہ سہی- مہر کی شیرینی ہی سہی-“

رفیق نے ایک اور مہر لگانی چاہی تو شہلا نے غصے سے اسے پرے دھکیل دیا-

”جب ہم ایک بار فیصلہ کر چکے ہیں کہ انتظار کریں گے تو تم دوبارہ حد پار کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہو؟-“

”ارے یہ تو محبت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے-“

ِِ”بہت خوب ذریعہ ہے-“ شہلا ابھی بھی غصے میں تھی-

”پھر سے ناراض ہوگئیں-“

”میں جا رہی ہوں-“ شہلا جانے لگی تو رفیق نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا مگر وہ رفیق کا ہاتھ جھٹک کر باہر چلی گئی-

رفیق سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گیا- ”یا خدا یہ کس قیامت سے محبت کر لی میں- سچ میں قیامت ہے-“

شہلا سے باہر نکل کر اپنی کار میں بیٹھی اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئی- غصے کے مارے اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا-اسے غصہ تھا کہ آخر رفیق اس کی بات سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہا-

”کیا یہی محبت ہے؟—- مجھے ایسی محبت نہیں چاہئے-“ وہ سوچ رہی تھی-

تھوڑی دیر بعد رفیق باہر آیا- ”اس کی کار یہاں نہیں ہے- مطلب یہ کہ وہ واقعی میں جاچکی ہے- بنا کچھ کہے- بنا کچھ بولے- یہ کیسی محبت ہے- یہ محبت نہیں زہر ہے جو مجھے تباہ کرکے رکھ دے گا-“

٭٭٭٭٭٭٭

شہلا گھر آتے ہی اپنے بستر پر گر کر رونے لگی- ”تم جسمانی تعلق کے پیچھے ہی کیوں رہتے ہو- کیا ضروری ہے کہ جسم سے جسم کا ملن ہوتو محبت ہوگی ورنہ نہیں- میں اسے محبت نہیں مانتی- یہ تو ہوس ہے-“

وہ بہت دیر تک یونہی پڑی رہی اور اس کی آنکھوں سے رہ رہ کر اشک رواں تھے- کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے پتہ ہی نہیں چلا-

صبح پانچ بجے اچانک اس کی آنکھ کھل گئی- گھڑی میں وقت دیکھتے ہی اسے خیال آیا- ”صبح چھ کی ٹرین تھی- کہیں وہ چلا تو نہیں جائے گا-“ اب اس کا غصہ کافی سرد ہوچکا تھا-

اس نے فوراً رفیق کو فون کیا- رنگ جاتی رہی مگر دوسری طرف سے کال ریسیو نہیں کی گئی-

”فون اٹھالو- پلیز— فون اٹھالو-“ وہ بڑبڑاتی رہی-

شہلا نے کئی بار ٹرائی کیا مگر ہر بار ناکام-

”کہیں وہ مجھے چھوڑ کر جا تو نہیں رہا؟-“ یہ خیال آتے ہی شہلا فوراً بستر سے اتر گئی- اپنی کار کی چابی اٹھائی اور چپ چاپ گھر سے باہر آکر کار اسٹارٹ کی اور رفیق کے گھر کی طرف رخ موڑ لیا-جب وہ رفیق کے گھر پہنچی تو درازے پر لگا ہوا تالا اس کا منہ چڑا رہا تھا-

”تم مجھے سے بات کئے بنا چلے گئے- کیا اتنے ناراض ہوگئے ہو؟— کیا ساری غلطی میری ہی تھی— تمہاری کوئی غلطی نہیں تھی؟-“

اس نے وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور تیزی سے کینٹ اسٹیشن کی طرف کار دوڑا دی- وہاں پہنچ کر اس نے انکوائری سے پتہ کیا کہ نواب شاہ جانے والی ٹرین کون سے پلیٹ فارم پر ملے گی اور وہ جلدی سے مطلوبہ پلیٹ فارم کی طرف دوڑی-

رفیق اسے پلیٹ فارم کی ایک دور افتادہ بینچ پر گم سم بیٹھا ہوا مل گیا- اس کا سر جھکا ہوا تھا اور وہ ایک ٹک زمین کو گھورے جا رہا تھا-وہ خاموشی سے اس کے برابر میں آکر بیٹھ گئی

٭

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

حویلی کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ دالان میں بچھی دریوں پرلڑکیاں، بالیاں جمع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے