سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 38  سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 38  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 38
سید انور فراز

یاد داشت رقم کرنا کتنا مشکل اور پیچیدہ کام ہے اس کا اندازہ اب ہمیں ہورہا ہے، کوئی بات ، کوئی واقعہ جب ذہن کے پردے پر نمودار ہوتا ہے تو ذہنی رو اسی سمت میں دوڑنا شروع کردیتی ہے اور پھر اسے کسی اور سمت موڑنا مشکل ہوجاتا ہے،ایسا اکثر ہوتا ہے، نتیجے کے طور پر بہت سے واقعات اور باتیں کسی ایک جانب دھری کی دھری رہ جاتی ہیں، ایک بار علی سفیان آفاقی کراچی آئے ہوئے تھے، ہم ان کے ہمراہ معراج صاحب کے کمرے میں بیٹھے تھے ، ساتھ ہی محی الدین نواب بھی موجود تھے، نواب صاحب بھی آفاقی صاحب کی فلمی الف لیلہ باقاعدگی سے پڑھتے تھے، انھوں نے آفاقی صاحب سے پوچھا ’’آپ کو ماضی کے سارے واقعات اور تمام باتیں یاد کیسے رہتی ہیں؟‘‘
آفاقی صاحب نے مختصر سا جواب دیا ’’ہماری یاد داشت اچھی ہے‘‘
نواب صاحب نے فرمایا ’’یاد داشت تو ہماری بھی اچھی ہے لیکن اس قدر تفصیل کے ساتھ باتیں ہمیں یاد نہیں رہتیں‘‘
آفاقی صاحب بولے ’’یاد داشت کا تعلق انسان کی دلچسپی سے ہے، جن باتوں سے اسے دلچسپی ہوتی ہے، وہ اسے یاد رہ جاتی ہیں اور جن باتوں سے دلچسپی نہیں ہوتی، وہ انھیں بھول جاتا ہے‘‘
معراج صاحب نے ان کی بات کی تائید کی اور ہم بھی قائل ہوگئے کہ آفاقی صاحب بالکل درست فرمارہے ہیں، اس کا تجربہ ہمیں آج کل بطور خاص ہورہا ہے، بہت سی ایسی باتیں اور واقعات بلکہ لوگوں کے نام تک اب ہمیں یاد نہیں آتے کیوں کہ ان سے ہماری دلچسپی کم تھی یا بالکل بھی نہ تھی، بہت سے مصنف ، دفتر کے ساتھی وغیرہ حافظے سے اس طرح محو ہوگئے ہیں کہ جب کوئی ان کا ذکر کرتا ہے تو ہمیں سوچنا پڑتا ہے۔
ڈائجسٹوں کی دنیا میں بہت سے نام ایسے بھی ہیں جن سے ہماری کبھی ملاقات ہی نہیں ہوئی یا بہت ہی کم ملنا جلنا ہوا، ایسے ہی لوگوں میں ایک مشہور نام انوار مجتبیٰ صدیقی کا ہے،وہ ابتدائی زمانے سے ہی معراج صاحب کے ساتھی رہے، حالاں کہ ان کی شہرت کا آغاز سب رنگ ڈائجسٹ سے ہوا جہاں انھوں نے ’’سونا گھاٹ کا پجاری، غلام روحیں، انکا، اقابلا، امبر بیل‘‘ جیسی مشہور سلسلہ وار کہانیاں لکھیں، یہ الگ بات ہے کہ ان کہانیوں کے حوالے سے بعض تنازعات موجود ہیں یعنی یہ کہانیاں کس حد تک جناب انوار صدیقی کا شاہکار ہے اور کس حد تک شکیل عادل زادہ کے حسن تدوین کی مرہون منت ہیں۔
ہم نے جب ادارہ جے ڈی پی میں قدم رکھا تو انوار صدیقی صاحب ماہنامہ سسپنس میں ایک سلسلہ وار کہانی ’’افشاں‘‘ لکھ رہے تھے جو ان کی روایت کے مطابق ہندو دیو مالا سے متعلق تھی، انوار صاحب کو ایسی کہانیاں لکھنے میں ملکہ حاصل تھا لیکن یہ کہانی زیادہ مقبول نہیں تھی، اس زمانے میں سسپنس اپنی دوسری کہانیوں کے سبب مقبولیت حاصل کر رہا تھا جن میں سرفہرست دیوتا تھی، اس کے علاوہ الیاس سیتا پوری کی تاریخی کہانی اور تصوف کی کہانیاں یا سسپنس کی آخری صفحات کی کہانیاں قارئین کے لیے زیادہ اہم تھیں، ایک حادثے کی وجہ سے ’’افشاں‘‘ کو بند کرنا پڑا اور اس کی جگہ ’’موت کے سوداگر‘‘ نے لی، اس واقعے کا ذکر ہم اپنی گزشتہ یاد داشتوں میں کرچکے ہیں۔
اس کے علاوہ انوار صاحب ماہنامہ پاکیزہ میں بھی کوئی قسط وار ناول اپنی بیگم کے نام سے لکھ رہے تھے، معراج صاحب سے ان کے مراسم جیسا کہ پہلے عرض کیا ، بہت پرانے تھے، وہ معراج صاحب کی ساجدہ معراج سے شادی میں بھی اہم کردار ادا کرچکے تھے اور ہمیں یہی معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے کی منگنی معراج صاحب کی صاحب زادی سبین معراج سے ہوچکی ہے، اس رشتے کے سبب سے بھی دونوں کے مراسم کی پختگی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے لیکن آنے والے وقت کے انقلابات پر کس کا بس چلتا ہے ، اللہ بس ، باقی ہوس۔
ہمیں نہیں معلوم کہ کن وجوہات کی بنیاد پر یہ منگنی ختم ہوئی لیکن اس کے باوجود معراج صاحب سے انوار صاحب کے مراسم قائم رہے، البتہ ملنا جلنا بہت ہی کم ہوگیا تھا، البتہ جب سرگزشت کا آغاز ہوا تو سچ بیانیوں میں ایک ایسی کہانی کی ضرورت بھی محسوس ہوئی جو کسی روحانی شخصیت کے ذاتی تجربات و مشاہدات پر مشتمل ہوں، اس طرح ہمارے معاشرے کے ایک مخصوص پہلو کی عکاسی مقصود تھی، اس حوالے سے معراج صاحب کے ذہن میں انوار مجتبیٰ صدیقی صاحب کا نام آیا، چناں چہ ایک ’’بابا صاحب‘‘ کی کہانیاں انوار مجتبیٰ صدیقی صاحب سے شروع کرائی گئیں جو بلاشبہ بہت ہی مقبول ہوئیں، ایسی کہانیوں کے حوالے سے لوگ خطوط کے ذریعے بابا صاحب کا فون نمبر یا پتا پوچھتے ہیں اور اکثر وہ دفتر بھی پہنچ جاتے ہیں کہ ہم ایسے اللہ والے برگزیدہ بندے سے شرف ملاقات چاہتے ہیں، چناں چہ لوگوں سے جان چھڑانا مشکل ہوجاتا ہے،اس معاملے میں بھی صورت حال ایسی ہی ہوگئی تھی، لوگ تو عبدالقیوم شاد کے مشہور کردار مرزا امجد بیگ اور ملک صفدر حیات کا بھی پتا اور فون نمبر معلوم کرنے کے لیے بے چین رہا کرتے تھے، بہر حال ان سب سے یہی کہا جاتا تھا کہ وہ کسی سے نہیں ملتے اور نہ ملنا چاہتے ہیں۔
انوار مجتبیٰ صدیقی صاحب سے ہمارا رابطہ اسی دوران میں ہوا لیکن صرف اس حد تک کہ اکثر فون پر بات ہوجاتی تھی یا کبھی بھولے بھٹکے وہ دفتر آجاتے تو ملاقات ہوجاتی، عزیز الحسن قدسی جنھوں نے مجاہد لکھی ہمارے قریبی دوستوں میں شامل تھے، انھوں نے بتایا کہ انوار صاحب ان کے سگے ماموں ہیں لیکن ان سے زیادہ ملنا جلنا نہیں ہے، انوار صاحب نے کبھی بھی اپنے بھانجے کے بارے میں ہم سے کوئی تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہم نے کبھی ان سے کچھ پوچھا۔
انوار صاحب کا تعلق ایک علمی اور مذہبی گھرانے سے تھا، شاید ان کی پیدائش بھی انڈیا میں تھانہ بھون کی ہو اور ان کی رشتے داری کسی حوالے سے مولانا احتشام الحق تھانوی سے ہو کیوں کہ عزیز الحسن قدسی کے والد کی رشتے داری مولانا احتشام الحق تھانوی سے تھی، کراچی میں انوار صاحب محکمہ آب کاری میں ملازم رہے، یہ محکمہ اپنے وقت میں خاصا بدنام رہا ہے،بالکل اسی طرح جیسے پولیس کا محکمہ بدنام ہے،انوار صاحب چوں کہ علمی اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لہٰذا اس محکمے میں رہتے ہوئے بھی عزت سے ریٹائر ہوئے، کہانیاں لکھنا یقیناً ان کا شوق رہا ہوگا جو وہ اپنی ملازمتی سرگرمیوں کے باوجود پورا کرتے رہے، ماہنامہ سب رنگ میں ان کی آخری کہانی ’’ امبر بیل‘‘ تھی جس کے بارے میں شکیل عادل زادہ کہتے ہیں کہ شروع انھوں نے کی اور باقی تمام اقساط میں نے لکھیں، مناسب ہوگا کہ شکیل صاحب کے ایک تازہ انٹرویو سے ایک اقتباس یہاں پیش کردیا جائے،باقی خود انوار صاحب کا اس حوالے سے کیا مؤقف ہے یہ ہم نے کبھی معلوم نہیں کیا، اتنا ضرور جانتے ہیں کہ دونوں کے درمیان شدید اختلافات ہوگئے تھے۔
سوال: بازی گر آپ کی تخلیق ، یہی معاملہ انکا، اقابلا ، امبر بیل کا مگر کچھ اور لوگ بھی اس کے دعوے دار ہیں؟
شکیل عادل زادہ: دراصل یہ کہانیاں پہلے انوار صدیقی لکھتے تھے، سونا گھاٹ کا پجاری تو تقریباً انھوں نے ہی لکھی، ہم کرتے یہ تھے کہ جو کہانی ہمارے پاس آتی، اس پر کام بہت کرتے، انوار صدیقی کی دیگر ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والی کہانیوں کو سامنے رکھیں تو فرق نظر آجاتا ہے،انکا کا معاملہ یہ ہے کہ احمد صغیر صدیقی ڈیڑھ صفحے کی ایک کہانی لائے کہ ایک صاحب کا قتل ہوگیا، قاتل کہتا تھا ، میرے سر پر ایک عورت بیٹھی ہے اس نے قتل کروایا ہے، میں نے کہا ، ڈیڑھ صفحے کی کہانی کیا چھاپیں گے؟ہم تیرہ تاریخ کی شام کو بیٹھ جاتے، ڈسکس کرتے تھے، وہ (انوار صدیقی) پوائنٹ لیتے رہتے پھر کہانی لکھتے تھے، جب لکھ کر لاتے تو ہم اس پر بہت کام کرتے، ڈیڑھ سال انکا کا سلسلہ چلتا رہا پھر مجھے لگا کہ ان کا ذخیرۂ الفاظ محدود ہے،نئی نئی کیفیات کے لیے نئے نئے الفاظ ہونا چاہئیں تو وہ میں نے لکھنا شروع کردی، آخری دو سال میں نے لکھی، اب اس المیے کو کیا کہیے کہ انوار صدیقی نے وہ تمام سلسلے جن پر ان کا ضمیر جانتا ہے کہ کتنی انھوں نے لکھیں، کتنی میں نے لکھیں، کتابی صورت میں اپنے نام سے چھاپ دیں، امبر بیل شروع انھوں نے ضرور کی تھی، بعد کی سب میں نے لکھی، سنا ہے انھوں نے کسی پبلشر سے 90 ہزار روپے لے کر اس کی آخری قسط لکھ دی اور اس کے پیش لفظ میں میری برائی بھی کی ، اقابلا، عربی ڈکشن کی کہانی تھی جو عذرا اور عذرا کی واپسی، تائیس، دیگر عربی تراجم اور جون صاحب کی وجہ سے میرا پسندیدہ طرز تحریر تھا، میں بچپن ہی سے اس ڈکشن سے آشنا ہوگیا تھا، اقابلابھی انھوں نے پوری اپنے نام سے چھاپ دی اور میں دیکھتا رہ گیا۔
سوال: ان واقعات کے بعد کبھی انوار صدیقی سے ملاقات ہوئی ؟
شکیل عادل زادہ: نہیں، میں ان سے نہیں ملتا اور ملنابھی نہیں چاہتا، میں کسی شخص کی برائی نہیں کرتا مگر مجھے اس کا صدمہ رہا، اتنا تعلق تھا ، گھر آنا جانا تھا، انھوں نے ایسا کیا اور ذکر بھی نہیں کیا، میں نے ان کا مسودہ اور اپنا مسودہ محفوظ کیا ہوا ہے، ہم تواسے پورا پورا ری رائٹ کیا کرتے تھے ، ایک بار تو ناراض ہوکر انھوں نے پیسے بھی واپس کردیے تھے کہ اگر تم لکھتے ہو تو میں پیسے کیوں لوں ؟ یہ بھی ثبوت ہے۔
انوار صاحب اور شکیل عادل زادہ دونوں ہمارے بزرگ ہیں اور نہایت قابل احترام ہیں، دونوں کے درمیان جو تنازع ہے اس پر ہم کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے، مذکورہ بالا کہانیاں ہمارے سامنے کتابی شکل میں شائع ہوئیں، اعجاز رسول مرحوم ان کے پبلشر تھے۔
تحریری فساد
ماہنامہ سرگزشت میں مشہور افراد کی کہانیاں قصے شائع ہوتے تھے اور بعض اوقات کسی فتنہ و فساد کا باعث بھی بنتے تھے، کبھی کبھی بات بہت آگے بڑھ جاتی لیکن بہر حال صلح و صفائی ہوجاتی تھی، سب سے پہلے جناب شیر باز مزاری کے انٹرویو پر تھوڑی سی ناراضی ہوئی، مزاری صاحب کو کچھ اعتراض ہوا چناں چہ اس کی تصحیح کردی گئی لیکن زیادہ بڑا مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ساجد امجد نے قابل اجمیری کی داستان حیات لکھی، اس کہانی میں جناب حمایت علی شاعر صاحب کو اپنے کردار پر سخت ترین اعتراضات پیدا ہوئے، وہ خود دفتر آئے اور اپنی معروضات پیش کیں اور محسن بھوپالی صاحب سے اپنی شاعرانہ چشمک کا حوالہ دیا، ان کا کہنا تھا کہ قابل اجمیری کی داستان میں میرے کردار کو محسن بھوپالی صاحب کے مشوروں نے غلط رنگ دیا ہے۔
واقعہ یہی تھا کہ اس داستان کے سلسلے میں ساجد امجد کو زیادہ تر مواد محسن بھوپالی صاحب نے فراہم کیا تھا پھر ایک روز محسن بھوپالی بھی ساجد امجد کے ہمراہ دفتر آئے اور وہ تمام ثبوت و شواہد جو تحریری شکل میں تھے انھوں نے ہمارے سامنے رکھے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ حیدرآباد میں جو شعرا کی گروپ بندی تھی، اس میں باہمی تنازعات اور حاسدانہ چپقلش عروج پر تھی، قابل اجمیری بلاشبہ اپنے دور کے غیر معمولی شعرا میں سے تھے، وہ کسی گروپ میں نہیں تھے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ بعض ناخوش گوار واقعات ضرور ہوئے، ان واقعات میں جناب حمایت علی شاعر کس حد تک شریک تھے یا نہ تھے، یہ تحقیق اردو ادب کے نقادوں کو کرنا چاہیے، ہمارے لیے تو تینوں شعرا قابل احترام ہیں اور بہر حال اردو ادب میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔
شعرا کے درمیان ایسی چپقلش زمانہ ء قدیم سے چلی آرہی ہے، مرزا غالب اور ذوق کے درمیان ایک حریفانہ چپقلش مشہور رہی ہے جو بعد میں ان کے شاگردوں مولانا حالی اور محمد حسین آزاد کا بھی موضوع بنی رہی ، پاکستان کے قومی شاعر ڈاکٹر علامہ اقبال بھی اپنے زمانے میں بہت سی مخالفتوں اور تنازعات کا شکار رہے، اپنے ابتدائی دور میں جب شاعری ہمارا بھی مشغلہ رہی اور ہم بھی مشاعرہ بازی میں مصروف رہے تو کراچی میں شعرا کے مختلف گروپس کے مابین محاذ آرائی ہمارے بھی مشاہدے میں رہی ہے، ایک گروپ کے شعرا دوسرے گروپ کے شعرا کو داد نہیں دیا کرتے تھے یا کچھ ایسی حرکتیں کیا کرتے تھے جو شاعر کو ڈسٹرب کرنے کا باعث ہوتی تھی، لہٰذا یہ ممکن ہے کہ حیدرآباد میں بھی کبھی ایسا ماحول رہا ہو جس کے محسن بھوپالی بہر حال عینی شاہدتھے اور وہ بہت بے باک اور صاف گو انسان تھے، انھوں نے تو ایوب خان سے بھی کوئی رعایت نہیں کی، خصوصاً جب ان کی کتاب ’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ کو آدم جی پرائز دیا گیا تو انھوں نے تاریخی قطعہ کہا جو آج بھی زبان زدِ خاص و عام ہے ؂
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس سانحہ ء وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
بہر حال یہ قضیہ کسی نہ کسی طرح نمٹ گیا لیکن اس کی وجہ سے سرگزشت کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، قابل اجمیری کی سرگزشت کراچی کے ایک روزنامے میں بھی شائع ہوئی، اس کے بعد ہی دیگر ڈائجسٹوں میں بھی شاعروں کے حالات زندگی پر لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا لیکن جو خوبی ساجد امجد کی تحریر میں تھی، وہ کسے حاصل تھی، محض خانہ پری کے لیے کسی شاعر کا مختصر احوال لکھ دیا جاتا تھا، بہر حال اس روایت کی ابتدا ماہنامہ سرگزشت میں ساجد امجد نے ہی کی تھی۔
دوسری ناراضی
حال ہی میں روبینہ رشید نے اپنے قارئین کے سوالوں کا جواب دیا ہے، اس میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ آپ نے پہلی کہانی کب اور کہاں لکھی؟صحافت سے فکشن کی طرف کیسے آئیں؟
روبینہ کا جواب بڑا روایتی اور ادھورا سا تھا، بے شک کہانی کاری کا ٹیلنٹ فطری ہے، بہت ابتدائی عمر میں بھی کسی نہ کسی طور اس کا اظہار ہوجاتا ہے، ممکن ہے روبینہ نے بہت ابتدا میں بھی کہانیاں لکھی ہیں لیکن ہماری معلومات کے مطابق ان کی کہانی کاری کی اصل ابتدا ماہنامہ سرگزشت سے ہی ہوئی، ان دنوں وہ روزنامہ جنگ سے وابستہ تھیں، ہم ’’جیل نمبر‘‘ کی تیاریوں میں مصروف تھے، روبینہ کی ہم سے واقفیت پرانی تھی، ہم نے روبینہ کو بلایا تاکہ جیل نمبر کے سلسلے میں ان سے کچھ لکھوایا جائے، ان کے ہمراہ ایک اور لڑکی فوزیہ شاہین بھی آئیں، وہ بھی روزنامہ جنگ سے وابستہ تھیں، اپنے کسی آرٹیکل پر اے پی این ایس ایوارڈ لے چکی تھیں، روبینہ نے ان سے تعارف کرایا اور بتایا کہ یہ بھی لکھنا چاہتی ہیں، چوں کہ فوزیہ کی بین الاقوامی سیاست دانوں پر بھی اچھی نظر تھی لہٰذا ہم نے انھیں جیل نمبر کے لیے برما کی نوبل پرائز یافتہ سیاست داں آنگ سان سوچی کی سرگزشت لکھنے کا ہدف دیا جو انھوں نے بھرپور طریقے سے پورا کیا اور یہ سرگزشت جیل نمبر میں شائع ہوئی، اس کے بعد فوزیہ نے روزنامہ جنگ چھوڑ دیا تھا اور اپنا ہی ایک میگزین ’’دستک‘‘ کے نام سے نکالنا شروع کردیا تھا، آج کل وہ کیا کر رہی ہیں ، ہمیں نہیں معلوم، بہت دنوں سے ملاقات ہی نہیں ہوئی، ایسے لوگوں سے اب اگر کبھی ملاقات ہوتی ہے تو وہ آرٹس کونسل کے الیکشن کے زمانے میں ہی ہوتی ہے،شاید اس سال ہوجائے کیوں کہ الیکشن قریب ہیں۔
روبینہ نے جیل نمبر کے لیے کیا لکھا ، یہ ہمیں یاد نہیں لیکن اس کے بعد روبینہ اور سرگزشت لازم و ملزوم ہوگئے، سچ بیانیاں ، سرورق کی کہانیاں، کسی کرنٹ موضوع پر کہانی اور بعض مشہور شخصیات کے بائیو گرافیکل انٹرویوز کے لیے بھی روبینہ رشید مخصوص ہوگئی تھیں، افسوس اسامہ بن لادن کی سرگزشت جو انھوں نے بڑی تحقیق کے بعد لکھی تھی وہ شائع نہیں ہوسکی اور کافی عرصہ ہماری دراز ہی میں پڑی رہی، اس کے شائع نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن پر کچھ بھی نہیں لکھا جاسکتا تھا۔
ایک فسادی ماجرا روبینہ رشید سے بھی منسوب ہے، انھوں نے مشہور اردو کمنٹیٹر اور صحافی جناب منیر حسین کا طویل انٹرویو کیا اور وہ انٹرویو چھپ گیا، فوری طور پر دوسرے ہی دن منیر صاحب مرحوم دفتر آگئے اور نہایت ناراضی کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ کچھ باتیں جو آف دی ریکارڈ تھیں، روبینہ نے وہ بھی لکھ دی ہیں، ہمیں اس سے اس غیر ذمے داری کی امیدنہیں تھی، وغیرہ وغیرہ۔
منیر حسین صاحب بڑے نرم مزاج اور شریف النفس انسان تھے، روزنامہ جنگ میں ایک طویل عرصے سے اسپورٹس کے موضوعات پر لکھ رہے تھے، میر خلیل الرحمن سے ان کے ذاتی مراسم دہلی سے چلے آرہے تھے، منیر صاحب کرکٹ کے حوالے سے ایک میگزین ’’اخبار وطن‘‘ بھی نکالتے تھے اور شاید روبینہ رشید نے کچھ عرصہ ان کے ساتھ کام بھی کیا تھا، بہر حال ہم نے اور معراج صاحب نے بھی ان سے بہت معذرت کی لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم کہ اس واقعے کے بعد منیر صاحب اور روبینہ کے درمیان تعلقات کا حشر کیا ہوا؟
حقیقت کا اعتراف کرلینا اچھی بات ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس حوالے سے قصور وار ہم بھی تھے، اکثر ایسے انٹرویوز کا ٹارگٹ دیتے ہوئے ہم انٹرویو کرنے والے کو بعض خصوصی پہلوؤں کی طرف متوجہ کردیا کرتے تھے کہ اس حوالے سے بھی سوالات ہونے چاہئیں، چناں چہ روبینہ کو ان سوالوں کے لیے ہم نے بھی اشارے دیے تھے، شاید اسی لیے انھوں نے اس پہلو پر لکھا جو منیر صاحب کے لیے ناپسندیدہ تھا، بہر حال کسی نہ کسی طرح یہ جھگڑا ختم ہوا لیکن منیر صاحب کی ناراضی ختم نہ ہوئی۔
روبینہ رشید سے کہانی لکھوانا کوئی آسان کام نہیں ہے،انھوں نے خود کو ہمیشہ بہت سی مصروفیات میں الجھا کے رکھا ہے،کسی ایک کام سے ان کی تسلی نہیں ہوتی، اپنے حالیہ انٹرویو میں بھی انھوں نے اپنی گوں نا گوں دلچسپیوں اور سرگرمیوں کا اظہار کیا ہے لہٰذا وقت پر کہانی مکمل کرنا ان کے لیے مشکل ہوجاتا تھا، اللہ خیر کرے اب وہ ایک سلسلے وار کہانی لکھ رہی ہیں ؂ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گوہر ہونے تک۔

جاری ہے۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر16

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    بھائی انور فراز صاحب۔۔۔ ثابت ہوا کہ آپکو اپنے بارے میں تنقید کی ذرا تاب نہیں ورنہ مجھے فیسبک پہ یوں بلاک نہ کر ڈالتے ۔۔۔ اہل علم کہلانے والے لوگوں میں سے اکثر کا رویہ کچھ اسی طرح کا ہے جو ویسے تو بلند اقدار اور عالی ظرفی کا بہت پرچار کرتے ہیں لیکن انکا ذاتی عمل اسکے بالکل برعکس ہوتا ہے اور اگر کوئی انکی کسی بات پہ مخالفت کردے یا تنقید کا مرتکب ہوجائے تو نہایت معتوب بلکہ بارگہ ذات پہ قطعی مردود ہو جاتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے