سر ورق / افسانہ / کُشتی : محمد جاوید انور

کُشتی : محمد جاوید انور

کُشتی

افسانہ نگار: محمد جاوید انور

’’پھر میں نے اُسے کہا کہ زیور اتار کر رکھ لو‘‘۔

’’وہ کیوں ؟ کیا کوئی کشتی ہونے جا رہی تھی؟‘‘۔

ہم تینوں حمید کے ساتھ جڑے بیٹھے تھے۔ آٹھویں کے سالانہ امتحانات سر پر تھے لیکن پھر بھی حمید کو شادی کے لئے چھٹیاں مل ہی گئیں۔ لیکن ملیں صرف چار اوروہ بھی اس لئے کہ ماسٹر جمال الدین اپنی تمام تر سختیوں اور خشکیوں کے باوجود قائل ہو گئے کہ حمید کی شادی حمید کے بغیر ہونا مشکل ہے۔ سو چھٹی تو ملی لیکن حمید کے والد کو وہ القابات ملے کہ خود سنتا توہونے والی بہو کو شادی سے قبل ہی بیوہ کرنے پر غور کرتا۔ اب جبکہ وہ ساری مہمات کامیابی سے سر کر کے پہلے دن واپس سکول آیا توہم چاروں اس کے منتظر تھے۔ تین دن مشکل سے گزرے تھے۔ آتے ہی ہم اسے دبوچ کر بیٹھ گئے۔’’ ہاں بولو پھر۔ زیور کیوں اتروائے ؟ کیا کوئی کْشتی ہونے جا رہی تھی ؟‘‘

میرے لہجے میں تجسس بھی تھا اور تشویش بھی۔

’’تم گدھوں کو کیا پتہ۔کشتی ہی تھی‘‘

’’ پھر‘‘

اسلم سے مزید صبر نہیں ہو رہا تھا۔

’’ پھر کیا یار۔ پھر وہی جو تم کو بھی پتہ چل جائے گا‘‘۔

ہم اس کی جان چھوڑنے والے نہیں تھے لیکن ماسٹر بشیر صاحب اپنی مشہور بید کی لچکیلی چھڑی لہراتے ادھر ہی آ نکلے۔ہم سعادت مند بن کے ان کے ساتھ ہو لئے۔ بہر حال فائنل امتحان، سر پر تھے اور بشیر صاحب کا الجبرا ’’کشتی‘‘ سمیت سب کھیلوں سے زیادہ اہم تھا۔

اگلے دن ہم پھر حمید کی تاڑ میں تھے لیکن جب بھی ہم نے اُسے گھیرا، وہ جُل دے گیا۔بالآخر تیسرے دن ہم نے دو طرف سے پیش قدمی کی اور اُسے بابے کے کھوکھے پر چنے اور ٹھنڈے نان کھاتے جا گھیرا۔’’حمیدے ! تو ساری یاریاں ہی بھول گیا۔ کوئی بات نہیں بچے۔ نیا نیا کام ہے۔ پھرتجھے ہمارے ہی پیچھے خجل ہونا ہے‘‘۔

 لطیف ایک سانس میں بول گیا۔

’’میں نے آپ لوگوں سے کوئی بات نہیں کرنی۔سلمانی صاحب نے مجھے دفتر بلا کر کہا ہے کہ اصُولی طور پر لڑکوں کو دسویں پاس کر لینے سے پہلے شادی کی اجازت نہیں ہوتی۔ لیکن تیرے کھوتے پیو کو آخر آئی تھی کہ تو اس کا اکلوتا تھا۔شادی تو ہوگئی اب اگر تو نے دوسرے لڑکوں کی کلاسیں لینا شروع کر دیں کہ آؤ بتاؤں شادی کیسے ہوتی ہے تو پتر کان سے پکڑوں گا اور سیدھا سکول سے باہرسڑک پر چھوڑ کر آؤں گا۔ اور یار آپ کو پتہ ہے کہ سلمانی صاحب کو سب باتوں کا پتہ چل جاتا ہے۔‘‘

جو چند ہفتے باقی تھے ہمارا کوئی حربہ ، کوئی دھمکی کام نہ آئی۔ میں نے ان زیورات کے بارے میں ہزار بار سوچا جو حمید نے اتر وائے تھے لیکن تصور کی گاڑی کچھ زیادہ آگے چل نہ پائی۔

تین برس گزر گئے۔ سکول ختم ہوا اور شہر کے کالج پہنچ گئے۔ ہاسٹل کی زندگی شروع ہوئی تو سو غیر نصابی سرگرمیاں ہاسٹل کے کاری ڈورز، کامن روم، ہاکی گراؤنڈ کی باؤنڈری پر نصب بینچوں ، حتیٰ کہ غسل خانوں تک میں انجام پا گئیں۔ خود انحصاری کے فوائد اور مؤثر طریقوں پر تو گروہی مباحثے بہت ہی عام تھے۔ باہمی خیر سگالی کے دور بھی چلتے رہے۔ نہ ہو سکی توبس کشتی نہ ہو سکی۔

اس دن جب میں غالب کے اشعار کی تشریح، ایک ردی کاغذ پر چھپی مستند اور آزمودہ گیٹ تھرو گائیڈ سے پڑھ کر سخت حیران ہو رہا تھا کہ کیونکر ایک ہی شعر کے کئی کئی مطالب نکل آتے ہیں اور عشق مجازی کیسے بآسانی عشق حقیقی میں جا گرتا ہے تو بڑے گیٹ سے امجد آتا دکھائی دیا۔ امجد ہرمُعاملے میں ہمارے پورے گروپ میں سب سے زیادہ پر اعتماد اور با ہمت تھا، لیکن اس وقت خلاف معمول نظریں نیچے کئے جھینپا جھینپا، کمر خمیدہ سا ، پاؤں گھسیٹتا چل رہا تھا۔

’’ کیا ہوا! پھر لڑائی ہوئی ہے کیا ؟ ڈوگر گروپ کے قابو میں تو نہیں آگئے تھے ؟ رگڑ ائی تو نہیں کروا آئے ؟ کیوں پھرتے ہو اکیلے جب پتہ ہے کہ وہ ہمیشہ گروپ میں پھرتے ہیں‘‘۔

میں نے ایک ہی سانس میں سارے خدشات اور امکانات گنوا دئیے۔

’’اوہ نئیں یار۔

روز باتیں کرتے تھے۔آج میں چلا گیا تھا ادھر… پیدل… سڑکو سڑک… اکیلا… پیسے تھے میرے پاس۔ کل منی آرڈر آگیا تھا‘‘۔

’’بس یار میں مزار کے پاس سے ذرا آگے نکل کر دائیں ہوا تو بازار آگیا۔مفلروں والے ساتھ لگ گئے۔ کوئی دائیں کوئی بائیں۔دُوسری طرف منہ کرکے ہولی ہولی بڑبڑاتے تھے۔ میں نے سنی اَن سنی کر دی۔پھروہ گلیاںشروع ہو گئیں۔یار بالکل عام عورتوں کی طرح تھیںوہ۔ہر طرح کی۔تمہیں تو پتہ ہے پروین کیسی ہے؟ بس ویسی ہی تھی وہ۔ لیکن بڑی عمر کی۔ ہوگی کوئی پینتالیس کے پیٹے میں۔ بھری بھری۔ چٹی سفید۔ پر ڈھلکی ڈھلکی۔ہنس کر زور سے بولی،

’’ آجا! اَگے گلی وچ تیرا ابا کھلتا ای‘‘۔

میں جلدی سے اس کی دہلیز پھلانگ گیا۔

یارتو مانے گا نہیں ، وہ مجھ پر چھا گئی۔مجھے باقاعدہ اس سے ڈر لگ رہا تھا۔ جیسے میں اُس کے رعب میں تھا۔اُس نے پیسے رکھوائے،کنڈی لگائی اور منٹ میں تیار۔ ننگ پننگی۔ میری طرف گھور کر دیکھا اور لا تعلقی سے بولی،

’’ چل ہُن آ وی‘‘۔(چلو اب آبھی جاؤ)

یارتم یقین نہیں کرو گے، اِک عجیب سی بے رغبتی نے مُجھے آ گھیرا، اور میرا جوش ختم۔مُجھے اچانک حمیدے کی بات یاد آ گئی۔ وہی کُشتی والی۔یار خالد ! مجھے لگتا ہے میں چِت ہوگیا ہوں۔ میری کَنڈ لگ گئی ہے‘‘۔

بس یار ! سوچتا ہوا آیا ہوں کہ میں وہاں لینے کیا گیا تھا‘‘۔۔۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خلا ..نیلم احمد بشیر۔ لاہور ۔ پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 33 خلا نیلم احمد بشیر۔ لاہور ۔ پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے