سر ورق / کالم / ہم سے اک خواب سنبھالا نا گیا تیرے بعد!!! :۔ ملک شفقت اللہ

ہم سے اک خواب سنبھالا نا گیا تیرے بعد!!! :۔ ملک شفقت اللہ

عنوان:ہم سے اک خواب سنبھالا نا گیا تیرے بعد!!!
تحریر:۔ ملک شفقت اللہ
قائد اعظم محمد علی جناحؒ خودی ، خودداری ، انسانیت اور اسلامیت کا پرچار تھے ۔انہوں نے لندن واپسی کے بعد برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں لندن میں زندگی بسر کر رہا تھا ۔اب میں چھوڑ کر انڈیا اس لئے آیا ہوں کہ یہاں لا الہ الااللہ کی مملکت یعنی پاکستان کے قیام کیلئے کوشش کروں ۔اگر میں لندن میں رہ کر سرمایہ دارانہ نظام کی حمایت کرتا تو سلطنتِ برطانیہ جو دنیا کی عظیم ترین سلطنت تھی ، مجھے اعلیٰ مناصب اور مراعات سے نوازتی۔ اگر میں روس چلا جاؤں یا کہیں بیٹھ کر سوشلزم ،مارکسزم یا کمیونزم کی حمایت شروع کر دوں تو مجھے بڑے سے بڑ اعزاز بھی مل سکتا ہے اور دولت بھی ۔ علامہ اقبالؒ کی دعوت پر میں نے دولت اور منصب دونوں کو تج کے انڈیا میں محدود آمدنی کی دشوار زندگی بسر کرنا پسند کیا ہے تاکہ پاکستان وجود میں آئے اور اس میں اسلامی قوانین کا بول بالا ہو، کیونکہ دنیا کی نجات اسلامی نظام ہی میں ہے صرف اسلام ہی کے ملی، عملی اور قانونی دائروں میں آ پ کو عدل ، مساوات ، اخوت، محبت ، سکون اور امن دستیاب ہو سکتا ہے ۔ برطانیہ ، امریکہ اور یورپ کے سارے بڑے بڑے سیاستدان مساوات کا راگ الاپتے ہیں ۔ روس کا نعرہ بھی مساوات اور ہر مزدور اور کاشت کار کیلئے روٹی ، کپڑا اور مکان مہیا کرنا ہے ۔مگر یورپ کے بڑے بڑے سیاستدان عیش و عشرت کی جو زندگی بسر کرتے ہیں وہ وہاں کے غریبوں کو نصیب نہیں۔ محمد علی جناحؒ کا لباس اتنا قیمتی نہیں جتنا قیمتی لباس پورے یورپ کے بڑے بڑے لوگ اور روس کے لیڈر زیب تن کرتے ہیں ۔نہ محمد علی جناحؒ کی خوراک اتنی اعلیٰ ہے ، جتنی سوشلسٹ اور کمیونسٹ لیڈروں اور یورپ کے سرمایہ داروں کی ہے ۔ ہمارے پیغمبر ﷺ اور خلفائے راشدین نے سارا اختیار ہوتے ہوئے خود غریبانہ زندگی بسر کی مگر رعایا کو خوش اور خوشحال رکھا۔میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ انڈین کانگریس حکومت بنانے کے بعد برطانوی ٹھگوں کو تو یہاں سے نکال دے گی مگرپھر ٹھگ خود بن جائے گی ۔یہ لوگ صرف مسلمانوں ہی کی آزادی ختم نہیں کریں گے بلکہ اپنے لوگوں کی آزادی بھی ختم کر یں گے، اس لئے ہم سب کو پاکستان کے قیام کیلئے زبردست کوشش کرنی چاہئے۔ذرا خیال فرمائے کہ اگر لا الہ الااللہ پر مبنی حکومت قائم ہو جائے تو افغانستان ، ایران ، ترکی ، اردن ، بحرین ، کویت ، حجاز ، عراق ، فلسطین ، شام ، تیونس ، مراکش ، الجزائر اور مصر کے ساتھ مل کر یہ کتنا عظیم الشان بلاک بن سکتا ہے ۔اقبال ؒ کی طرح میرا بھی عقیدہ ہے کہ کوئی سوشلسٹ یا کمیونسٹ مسلمان نہیں ہو سکتا خوا وہ پیر و مولانا ہی کیوں نا ہو! کیوں کہ سوشلزم اور کمیونزم کے سارے بانی یہودی تھے ۔ آپ کو سمجھ لینا چاہیئے کہ سوشلزم اور کمیونزم مسلمانوں کیلئے ایسا زہر ہے جس کا کوئی تریاق نہیں ۔ آپ کو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ یہودی ، انگریز ، سوشلسٹ ، کمیونسٹ اور سکھ سب مسلمانوں کو مٹانے کے در پے ہیں ۔اور انہوں نے ایسا کر کے دکھایا ، کمیونزم اور سوشلزم جو اس وقت کے ستارے اور ہر دماغ کی خرافات تھیں سے ہر ممکن خود کو بھی اور مسلمان نوجوانوں کو بھی بچایا ۔ان میں مسلمانیت کو جگایا کہ شوقِ جہاد اور ولولہ شہادت کی ایک بڑی لہر دوڑ گئی ۔ان کا فلسفہ حیات ایمان ،اتحاد ،تنظیم ،یقین و محکم ہے جو پوری زندگی گزارنے کے سلیقے کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ ان کے فلسفہ حیات کا سب سے پہلا جزو ایمان ہے ، یعنی انسان دین اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھا مے اور کسی بھی عمل میں اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت میں کمی نہ چھوڑے ، یہ ایک ایسا دین ہے جو امن اور محبت کا حامی ہے اسی لئے جس کے دل میں ایمان ہو وہ فاسق و فاجر نہیں ہو سکتا ۔ پھر ان کی زندگی کے فلسفے کا دوسرا جزو اتحاد ہے ، جب لوگ مؤمن ہو نگے اور محبت و آشتی بانٹتے پھریں گے تو ان کے اخلاص کی وجہ سے اتحاد قائم ہو جائے گا جو دلوں کے بندھن باندھے گا اور سب کو ایک مٹھ بنا دے گا ہمیں یاد ہے وہ انگریزوں کی من گھڑت کہانی جس کا مورال اتحاد میں برکت ہے تو کیوں نا ہم اس کا سبق محمد علی جناحؒ جیسی ہستی کے طرزِ زندگی سے سیکھیں ! ان کے فلسفہ زندگی کا تیسرا جزو تنظیم ہے ، مطلب ایک ایسا اتحاد ہو جو منظم ہو جائے ،حقیقت میں تو وہ یہی چاہتے تھے کہ پوری امت مسلمہ ایک قوم بن جائیں اور اسی کا سبق ان کے قول و فعل میں ملتا ہے ،ان کی نظر میں جب اتحاد ہو گا تو ایک تنظیم بن جائے گی اور جب اس تنظیم کی بنیاد ایمان ہوگا تو پھر وہ لازوال ہو جائے گی اس اتحاد کو کوئی نہیں توڑ سکتا ،یہی وجہ تھی کہ انہوں نے پہلے اسے اپنے گھر یعنی برصغیر سے شروع کیا اور برصغیر پاک و ہند کے تمام مسلمانوں کو ایک سطح پر جمع کر دیا ، انہیں ایک اسلامی ریاست کا ڈھانچہ دیا جس میں مسلمان آزاد انہ عبادت خداوندی اور شریعہ محمدی ﷺکے مطابق زندگی گزار سکیں ۔ ان کے فلسفہ زندگی کا آخری جزو یقین و محکم ہے جس کی حقیقت تاریخ اور تاریخ کی مکمل دانش پر احاطہ کئے ہوئے ہے ،ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں جس گھر یا برادری یا قوم میں اتحاد ہو وہ حکومت کرتی ہے چاہے تعداد میں تھوڑی ہی کیوں نا ہو ، قریب ہر ادارے میں ملازمین کی تنظیمیں منظم ہیں جو اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے خلاف متحد ہو جاتیں ہیں اور اپنی بات منظم طاقت کی وجہ سے منوانے میں کامیاب ہو جاتیں ہیں یہ سب تنظیم کے درمیان بھروسے اور یقین کی بدولت ہو پاتا ہے ،جب تک لوگوں کو اپنے راہ نماؤں پر یقین ہو تا ہے تب تک وہ تنظیمیں بھی قائم رہتی ہیں اور اس طرح وہ قومیں حکومت کرتی ہیں ۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے مذکورہ بالا بیان میں انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر لاالہ الااللہ کی بنیاد پر ایک الگ ریاست وجود میں آجائے برصغیر میں تو ذرا سوچئے کہ یہ کتنا بڑا اور عالی شان اتحاد ہو گا جس میں افغانستان ، ایران ، ترکی ، اردن ، بحرین ، کویت ، حجاز ، عراق ، فلسطین ، شام ، تیونس ، مراکش ، الجزائر اور مصر ، پاکستان کے ساتھ مل جائیں گے ،مذکورہ سبھی ممالک قدرتی دولت سے مالا مال ہیں کسی چیز کی کمی نہیں دی اللہ تعٰلیٰ نے مسلمانوں کو لیکن یہ ہماری ہی کوتاہیاں ہیں کہ ہم نے خدائے یکتا کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کو خدا اور ان کے طرزحکومت کو اپنا سب سمجھ لیا ہے اور آج پوری دنیا میں امت مسلمہ رسوا اور ذلیل و خوار ہو رہی ہے ۔ محمد علی جناح ؒ کا فلسفہ حیات اصل میں محمد عربی ﷺ کا طریقہِ شریعت ہے جو انہوں نے چنا تو اللہ نے انہیں کامیابیوں سے ہمکنار کیا اور پاکستان جیسی عظیم الشان سلطنت قائم ہو گئی ،وائے نصیب کہ وہ ہم میں زیادہ دیر نہیں رہ سکے اور جہان فانی سے رخصت ہوگئے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کیلئے جو طرزِ حکومت انہوں نے چنا تھا وہ قائم نا ہو پایا ۔ محمد علی جناح ؒ سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کا طرزِ حکومت کیا ہو گا تو آپ نے فرما یا میں کون ہوتا ہوں پاکستان کا طرزِ حکومت طے کرنے والا وہ تو چودہ سو سال پہلے طے ہو چکا ہے اور وہ نظام حکومت اصل میں قرآن کی حکومت ، شریعتِ محمدی کی حکومت ہے ۔ یہیں سے ہماری تباہی کا آغاز ہے کہ ہم نے ان کی وصیتوں پر عمل پیرا ہو کر شریعتِ محمد ی ﷺ کے قیام کی بجائے مغربی طرزِ حکومت کو چنا اور آج ساری دنیا میں رسوا ہوئے ہیں ۔شاعر نے ہماری کوتاہیوں کو انتہائی خوبصورتی سے اس شعر میں بند کیا ہے:
اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی

ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شکریہ ملتان! …نوخیزیاں/گل نوخیزاختر

شکریہ ملتان! نوخیزیاں/گل نوخیزاختر آج سے ستائیس سال پہلے میں بے سروسامانی کے عالم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے