سر ورق / افسانہ /  آسیب…ناصر صدیقی

 آسیب…ناصر صدیقی

۔
آسیب

ناصر صدیقی

نسرین کو اپنی ماں ثریا کے شب و روز بارے کم پتہ تھا۔البتہ اتنا ضرور جانتی تھی کہ اسکی ماں باقی عورتوں سے یکسر مختلف ہے اورگاؤں والے اسے ایک آسیبی عورت سمجھتے ہیں۔
نسرین جب دس سال بعداپنے شوہر کی ناگہانی موت کے بعد واپس اپنی بیوہ ماں ثریا کے پاس آئی تو بستی میں کوئی خاص تندیلی نہیں ٓآئی تھی۔وہی رسم و واج،کھیت کھلیان ،بس آبادی کچھ بڑھ سی گئی تھی۔البتہ وہ یہ دیکھ کر حیران ضرور تھی کہ اسکی ماں اب بھی اچھی خاصی جوان دکھتی ہے۔کنپٹی کے قریب سرمئی بالوں پہ خضاب لگائے تو نسرین کی ہم عمر بن جائے ہم شکل تو پہلے سے ہی ہے بس جسم کچھ بھرا بھرا سا ہے اور نسرین منحنی اور لاغر سی۔
سوگوار نسرین سر شام ہی سوتی تو کافی دھوپ نکلتے ہی ماں اسے جگاتی،ناشتہ کھلاتی۔گھر کا سارا کام ثریا خود کرتی۔
ایک رات جب نسرین کی آنکھ کھلی تو دیکھا کمرے میں گھپ اندھیرا ہے۔ماں کوآواز دی تو جواب نہیں ملا۔غسلخانے میں ہوگی ، اس نے سوچا۔جب کافی دیر ہوگئی تو کچھ پریشان سی ہوگئی۔ اٹھ کر باہر برآمدے میں آئی۔کچا صحن چاند کی روشنی میں نہا رہا تھا۔ صدر دروازہ کھلا ہے،یہ دیکھ کر وہ ایک پریشان کن سوچ میں پڑ گئی۔اسے بند کرنے وہ دروازے کے پاس آنے لگی تو باہر، اسے اپنی ماں کی آواز سنائی دی جو کسی کے ساتھ باتیں کر رہی تھی۔وہ چپکے سے باتیں سننے لگی:
’’۔۔۔اب میں چلتی ہوں کہیں نسرین جاگ نہ جائے۔‘‘ثریا کی آواز میں منت اور ایک مجبوری سی تھی۔
نہیں ثریا! ابھی تو نہ جاؤ،سات سال بعد تمہیں دیکھ رہا ہوں۔بڑی مشکل سے رہائی ملی ہے۔تم تو جانتی ہو کہ میں اس کائنات میں کیسی قید میں ہوں۔‘‘
اس پر ثریا ٹھہر گئی۔دونوں کی باتوں میں شکوئے شکایت سے زیادہ پیار اور الفت کی لہریں تھیں۔نسرین کی سمجھ میں اس آدمی کی پہچان اب بھی مفقود تھی بس اسے اتنا پتہ تھا کہ ماں اسے بہت چاہتی ہے۔بات چل کر پھر نسرین پر آگئی۔
’’نسرین کو بھی ایک عرصہ ہوا نہیں دیکھا،کاش میں۔۔۔‘‘اوراسکا گلہ رندھ گیا۔
’’بس کریں! اللہ ایک دن خیر کرے گا۔ ہماری خوشیاں پھر لوٹ آئیں گی۔ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا اگر دیکھا جائے تو۔ہم بس سماج کے مجرم ضرور ہیں۔‘‘
نسرین میں اب اور سننے کی تاب نہیں تھی،نڈھال قدموں کے ساتھ واپس اپنی چار پائی پہ آکے لیٹ گئی۔ ۔اسکا ذہن اب نہ جانے کیسی کیسی سوچوں کی یلغار میں تھا۔
ثریا واپس آئی تو اسے محسوس ہوا کہ نسرین جاگ رہی ہے۔وہ کچھ پریشان سی ہو گئی۔
’’وہ کون تھا اماں!؟ میں نے چپکے سے ساری باتیں سنی ہیں۔‘‘
اس پر ثریا چند ثانیہ خاموش رہی پھر بولی:’’سچ سن سکتی ہو بیٹی؟‘‘
’’جی اماں! سچ سننے کے سوا میرے ہے ہی کیا؟‘‘آواز میں رلاہٹ تھی جیسے سارے عالم کے دکھ میں ڈوبی ہو۔
’’وہ تمہارے باپ ہیں۔وہی جنھیں تم نے اپنے بچپن میں ایک گلی میں دیکھا تھا اور کچھ غلط سمجھ کر ان سے ڈر گئی تھی۔‘‘
اس پر نسرین دکھ سے رونے لگی تو ثریا آ کراسکے سرہانے بیٹھ گئی او رخود بھی نسرین کے سر پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی۔
’’ہم دونوں اس سماج کے مجرم ہیں۔اپنے رب کے نہیں کہ وہ بڑا ہی رحم دل اور مہربان ہے۔‘‘
اس پر نسرین جان گئی کہ ماں پہلی بار مان گئی ہے کہ میرے مرحوم پتی مجھے پسند نہیں تھا میں کسی اور کو پسند کرتی تھی ۔ اب تو دونوں نہیں رہے۔
صبح نسرین اٹھی تو اداس اور روٹھی روٹھی سی تھی۔ثریا نے دیکھا تو پریشان ہوگئی۔
’’میری خطاؤں پر مجھ سے خفا ہونا؟‘‘ثریا کا لہجہ دلگیر تھا۔
’’نہیں اماں! میں تم سے کیسے ناراض ہو سکتی ہوں؟رات کے کسی خواب نے پریشان کیا ہے۔‘‘
اس پر ثریا پہلے خوش سی ہوئی پھر فکرمندانہ انداز لئے اس نے پوچھا:’’کیا دیکھا خواب میں؟‘‘
’’رنگ برنگے سانپ تھے جو شوکتے ہوئے میری طرف آتے تھے۔لیکن میں ایک حصار میں تھی تو وہ مجھ تک پہنچ نہیں پاتے تھے۔‘‘
اس پر ثریا کچھ سوچنے لگی،اپنے اور دیگر لوگوں کے تجربات کو یاد کر کے بولی:’’خواہشوں کے سانپ ہوں گے لیکن تمہاری نہیں لوگوں کی خواہشوں کے جو تمیں بری نظروں دیکھتے رہتے ہیں۔‘‘
’’شاید ایسا ہو۔‘‘ یہ کہتے ہوئے نسرین چارپائی سے اٹھی اور غسل خانے کی طرف چلنے لگی۔
ناشتہ کے بعد جب ثریا نے دیکھا کہ نسرین ابھی تک کچھ الجھی الجھی سی ہے تو ایک مادرانہ پیار اور شفقت لئے وہ نسرین کے پاس بیٹھ گئی، اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی:
’’چلو آج میں تمہیں تالاب میں لے چلتی ہوں،سر دھو لینا،خوب نہا لینا۔اچھا لگے گا۔ممکن ہے پھر ایسے خواب ستانے کو نہ آئیں ۔ ‘‘ اور مسکراہٹ میں ایک شوخی تھی۔اس پر نسرین اثبات میں اپنا سر ہلا گئی۔
یہ قدرتی تالاب جسے کچھ لوگ کراماتی بھی کہتے،جنوب کی پہاڑی کے دامن میں ایک گڑھا تھا جو صرف بارش کے پانی سے بھرجاتا ۔پاس ہی ڈراؤنی درہ تھا جسے ’’دیو کا مسکن‘‘ کہا جاتاجس کی وجہ سے یہاں کوئی اکیلا نہیں آتا۔عموماً۱ عورتوں کی جھرمت کپڑے دھونے اور کم سن لڑکوں کی ٹولی پک نک جیسا موڈ لئے نہانے آتی۔(مرد اور جوان حضرات،علاقائی اور ثقافتی احترام اور شرم کی وجہ سے یہاں نہیں آتے یایہاں سے نہیں گزرتے کہ انھیں معلوم تھا کہ عورتیں ننگے سر اورجسم سے لپٹے گیلے لباس میں نہا تی بھی ہیں ۔)
سوکھی مچھلی ،روغنی روٹیاں، سبز مرچ اور پیاز لئے اور جیسے ایک پک نک منانے کے احساس کے ساتھ دونوں ماں بیٹی تالاب پر آئے تو آس پاس کوئی نہیں تھا۔البتہ دور کسی گڑھے کے پانی میں چند لڑکے کھیلنے کے انداز میں نہا رہے تھے۔
نہانے ، اپنے لمبے اور گھنیرے بال کھول کر نسرین کپڑوں سمیت تالاب میں اتر گئی تو پانی میں جیسے آگ سی لگ گئی کہ نسوانی جسم جوانی سے اٹا ہوا تھا ۔ ایک خوشبو بھی تالاب میں پھیل گئی کہ نسرین سراپا ایک خوشبو بھی تھی۔سر دھو کر اور باقی جسم پانی سے خوب خوب مسل کر،مل کر اور رگڑ کر اپنی کسلمندی دور کی تو اب ایک الھڑ پن لئے پانی کے ساتھ شرارت کرنے لگی۔ثریا اب خوش تھی۔اچانک نسرین نے اسکے طرف پانی کے چھینٹے پھینکے۔
’’نہ کر شیطانی نسرین!‘‘‘ ثریا کی شوخ و چنچل آواز میں ڈانٹ بالکل نہیں تھی۔
’’اماں! تم بھی نہا لو۔اچھا لگے گا۔‘‘یہ کہ نسرین نے پھر ’’ثریا‘‘ کی طرف شرارت کے چھینٹے پھینکے۔
’’اچھا آتی ہوں۔‘‘کہہ کر ثریا اپنے بال کھولنے لگی تو نسرین سوچنے لگی کہ میرے بال زیادہ گھنیرے اور لمبے ہیں یا میری ماں ’’ ثریا ‘‘ کے؟
بال کھول کر ،لباس کے ایک دو کھلے بٹنوں کے ساتھ ثریا تالاب میں اتر گئی تو پانی میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی جس کے شعلے نسرین سے زیادہ اونچے تھے۔تالاب ثریا کے بدن کی خوشبو کوچرا کر ایک سرشاری لئے اپنے سارے کناروں تک مہک گیا۔نسرین سے وابستہ تالاب کی پرانی خوشبو اب اس نئی خوشبو سے بری طرح شکست کھا گئی تھی۔
ثریا اچھی طرح نہا گئی تو تالاب سے سے اتر کر اپنے لباس سکھانے دونوں ماں بیٹی دھوپ میں بیٹھ گئیں۔کپڑے خشک سے ہو گئے تو ثریا نے کھانے کی پوٹلی کھولی۔دونوں کی بھوک اب انھیں ستاتی تھی۔کھانوں پر جیسے ٹوٹ پڑیں اگرچہ کتنے آرام سے کھانے لگی تھیں۔ تیز مرچ صرف بیٹی کو پریشان کرتی تھی، ماں صرف سی سی کرتی جاتی تھی۔سہ پہر کو وہاں سے اٹھ کردونوں ماں بیٹی گھر آئیں تو شام ہونے کو تھی ۔ ثریا کڑک چائے بنانے باورچی خانے میں چلی گئی تو نسرین چار پائی پہ لیٹ گئی۔صبح اور دوپہر کوکو جو حبس اور تیز دھوپ تھی اسکا بدلا فطرت نے یہ دیا کہ مغرب سے ذرا پہلے گھنے بادل گھن گھرج کے ساتھ آگئے۔بجلی جیسے لپک لپک کر زمیں پہ آتی تھی اورگرج سے دل دہل جاتے تھے ۔ جلد ہی تیز بارش سے فضا میں خنکی آگئی تو تالاب میں زیادہ دیر تک نہانے کی وجہ سے ماں بیٹی کو کچھ زیادہ ہی سردی لگنے لگی۔ثریا انگیٹھی میں ایک آگ بھڑکا گئی۔ لیکن نسرین کے لئے یہ دہکتے انگارے کم پڑ رہے تھے ۔ ممکنہ تلافی کے لئے دو پیالے گرم چائے بھی اپنے اندر انڈیل گئی۔خدا خدا کر کے یہ طوفان تھم گیاتو کمبل اوڑھ کے دونوں ماں بیٹی سوگئیں۔
صبح نسرین تواچھی خاصی چھنگی بھلی لگتی تھی لیکن ثریا کچھ الجھی الجھی سی تھی۔نسرین نے دیکھا تو کریدنے کے انداز میں پوچھا:
’’کیا بات ہے اماں! کچھ پریشان سی لگتی ہو۔‘‘
پہلے ثریا سوچ میں پڑ گئی کہ اسکا جواب دے یا نہیں؟ پھر بولی:
’’تالاب میں نہا کر تم تو شاید تم برے خوابوں سے بچ گئی لیکن رات جو خواب میں نے دیکھا سکی پریشانی مجھ پرلاحق ہو گئی ہے۔‘‘
’’کیا دیکھا خواب میں؟سانپ نہیں دیکھے نا؟‘‘نسرین کے لہجہ میں ایک ہلکی سی شوخی اور شرارت سی تھی۔
’’بتانے پر شرم آتی ہے۔‘‘اور ایک دلکش ادا سے ایسے شرما گئی کہ نسرین کو بھی شرمانا پڑا۔
’’اچھا پھر نہ بتا،بس میرا ناشتہ ۔۔ ۔۔‘‘
اس پر جلدی سے اٹھ کر، ایک یکسر بدلی ہوئی چال لئے ثریا باورچی خانے کی طرف چلنے لگی۔ بھلا وہ یہ بات کیسے نسرین کو بتا تی کہ رات خواب میں اسکا محبوب اسکا چوما لے گیا تھااور پانی پانی بھی کر گیا تھا۔
سورج جب کچھ اور چڑھا تو ثریا نہانے کے لئے اپنے بال کھولنے لگی۔ساتھ ہی ساتھ گنگنانے بھی لگی تھی۔ نسرین کو اپنی بات یادآئی کہ جب کبھی وہ شوہر سے ہم بستری میں اپنا حصہ بھی پا لیتی تھی تو ایسے ہی گنگناتی تھی ورنہ اکثر بغیر گنگنائے غسل کرتی تھی جیسے اس پر ظلم ہوا ہے ۔
دوپہر کو دونوں ماں بیٹی نے کچے صحن میں جو بارش کاپانی جمع تھا اسے بالٹیوں اور برتنوں میں بھر بھر کے باہر پھینک دیا۔پھر جھاڑو سے رہ شدہ کیچڑ صاف کی۔گھر سے ذرا دور ریتیلی زمین تھی، وہاں سے ثریا ریت لا لا کر صحن کو اچھا اور ہموار سی کر گئی۔تندور بھی پانی سے بھر چکا تھا، اسے بھی دونوں ماں بیٹی استعمال کرنے کے قابل بنا گئیں۔سر شام ثریا نے آٹا گوندھ کر خمیر اٹھانے رکھ دیا۔لکڑیاں بارش سے بچ گئی تھیں جنھیں ثریا تنور میں ڈال کے سلگانے لگی ۔جلد ہی لکڑیوں نے آگ پکڑ لی تو تپش سے ثریا کے بدن میں دوڑ رہی سردی ختم سی ہونے لگی ۔ آگ تاپنے چل کر نسرین بھی تنور کے پاس بیٹھ گئی۔دہکتے انگارے دیکھنا اسے پسند تھا۔ماں کو تو پورا الاؤ دیکھنا پسند تھا۔لیکن دونوں کو ایک دوسرے کی پسند کا بالکل پتہ نہ تھا۔ آٹا لایا گیا تو نسرین پہلی بار ماں کا ہاتھ بٹانے انکا پیڑہ بنا نے لگی۔ثریا خوش ہو ہو کر پیڑوں کو گول گول روٹیاں بنا کے تنور کی آگ کے حوالے کر جاتی۔چھ روٹیاں سینک گئیں تو آٹابھی ختم ہوا۔چار روٹیاں رات کے کھانے کے لئے اور دو روٹیاں صبح کے ناشتے واسطے جنھیں گھی یا روغن سے تو ے پرخستہ اور کڑک ہوکے چائے کے ساتھ استعمال ہونا تھا۔
رات کو اچانک نہ جانے کس دشا سے غضب کا جاڑا آگیا۔ ایسی سردی کہ جیسے ایک کم دو دو رضائیاں بھی ماں بیٹی کی سر دیاں کم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی تھیں۔نہ جانے کیوں ثریا نے اس بار انگیٹھی بھی نہ جلائی۔اور نہ نسرین کا خیال اس طرف گیا تھا۔پہلے ایسی سردیوں میں ثریا جنوں اور پریوں کی کہانیاں اپنی بیٹی کو سناتی تھی۔شام کو فراغت ملتی تو ماں بیٹی اپنی انگلیوں سے دھاگے پھنسا کر اسے مختلف شکلیں دے کر اپنا وقت گزار دیتیں۔ بستر پہ لیٹے ، رضائی سے خود کو اچھی طرح لپیٹ کر بھی سردی سے نبرآزما نسرین کو اپنے محبوب کی ایک بات یاد آئی تو دل میں ہنسنے لگی:نسرین! زمانانہ بڑا ظالم ہے۔ ہماری شادی کرنے نہیں دے گا ورنہ اس سردی میں، میں ایسا نہ کپکپاتا، رضائی بنا کر تم سے لپٹ جاتا۔اس پر نسرین نے ہنس کراسے’’بے شرم! بدمعاش!‘‘ کہا تھا۔نسرین کی یہ ہنسی دلاتی یاد جلدی ہی ایک کسک بن گئی تو وہ من ہی من میں رونے لگی۔
ادھراپنے بستر پر،رضائی کے نیچے، ثریا بھی اپنے محبوب کو یا د کرنے لگی تھی کہ کتنا مجبور ہے ۔کب قید سے چھوٹے گا؟ اسکاجرم بھی ایسا جسکی رپورٹ کسی بھی تھانے اور عدالت میں موجود نہیں۔ جرم بھی وہ اپنی خوشی سے کر جاتا ہے ۔لیکن قید ہونا ہی ہے اگرچہ بظاہر وہ کتنا آزاد بھی ہے۔
رات کا نہ جانے کونسا پہر تھا کہ اچانک ثریا ہڑ بڑا کر اٹھی۔ دیکھا کہ جاڑا نہ جانے کہاں چلا گیا ہے اور ایک گرمی تھی جس نے اسے اٹھایا تھا۔
نہیں!گرمی خواب کی تھی جس نے مجھے اٹھایا ہے،وہ خواب کو اب اچھی طرح یاد کرنے لگی تو اس کاآخری سرااسے ایک شرم میں ڈبو گیا۔اس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔عرق آلود تھا۔پھر وہ ہاتھ کو نیچے لے گئی۔۔۔ہاتھ کو سونگھا۔ایک خوشبو تھی جو کسی کی بدبو سے وجود میں آگئی تھی۔ اٹھ کر غسلخانے کی طرف چلنے لگی اس بات سے بے خبر کہ نسرین اس سے پہلے اٹھ کر وہاں موجود ہے جو اپنے خواب کے ایک سرے سے دوسرے سرے کی جانب دوڑتے ہوئے کتنی شرابور ہو چکی تھی۔۔۔(ختم شد)(۔۔۔۔۲۶ دسمبر دو ہزار اٹھارہ)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گرد، گرمی، دهوپ ناصر خان ناصر۔

گرد، گرمی، دهوپ ناصر خان ناصر۔ امریکہ دهول، مٹی اڑاتی خاک آلود گاڑیاں صحرا کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے