سر ورق / کہانی / عشق وشق۔۔۔مہتاب خان

عشق وشق۔۔۔مہتاب خان

عشق وشق 

مہتاب خان 

اتفاقات بھی زندگی کا ایک حصہ ہوتے ہیں کچھ اتفاقات تو بڑے حسین اور رنگین ہوتے ہیں جبکہ بعض اتنے سنگین اور خوفناک ثابت ہوتے ہیں کہ انسان ان کی بھول بھلیوں میں کھو کر رہ جاتا ہے-

وہ اتوار کا دن تھا،چھٹی ہونے کی وجہ سے علی رضا دیر تک سوتا رہا تھا-پروفیسر جاوید انصاری صاحب اس کے کمرے میں آئے تو وہ لمبی تانے سو رہا تھا-

پنتالیس پچاس سالہ پروفیسر جاوید انصاریصاحب بڑے خوش مزاج اور وجیہ شخصیت کے مالک تھے-وہ شہر کی ایک مشھور پرائیویٹ یونیورسٹی سے وابستہ تھے-علی رضا کا تعلق پنجاب کے کسی دوردراز گاؤں سے تھا جہاں اعلی تعلیم کے لیے سہولیات میسر نہیں تھیں-تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے ہی وہ کراچی آیا تھا اور شروع میں اس نے اپنے گاؤں کے کچھ دوستوں کے ساتھ رہائش اختیار کی تھی-کچھ عرصے پہلے وہ پروفیسر صاحب کے بنگلے میں شفٹ ہوا تھا-

جاوید انصاری صاحب کا یہ بنگلہ گلشن اقبال میں واقع تھا-یہ مکان تین منزلہ تھا،گراونڈ فلور میں جاوید صاحب نے کوچنگ سنٹر کھولا ہوا تھا جو بہت منافع بخش چل رہا تھا علی اور ایک دو اور ٹیچرز یہاں قرب و جوار سے آنے والے طالب علموں کو ٹیوشن پڑھایا کرتے تھے-

جب انہیں علی کی رہائش کے مسائل کے بارے میں پتا چلا تو انہوں نے اسے اپنے گھر میں رہنے کی آفر دی تھی جو اس نے کچھ ہچکچاہٹ کے بعد قبول کر لی تھی،ویسے بھی پروفیسر صاحب اتنے بڑے بنگلے میں تنہا رہا کرتے تھے-ان کی بیوی چند سال پہلے مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئی تھیں جبکہ ان کے دونوں بیٹے ملک سے باہر رہائش پزیر تھے-

جاوید صاحب نے علی کا کندھا ہلایا-

"کب تک سؤ گے یار اٹھو،بہت بھوک لگی ہے-آج ناشتہ باہر کریں گے-"وہ بدل نخواستہ اٹھ بیٹھا-اس کی نظر وال کلاک پر گئی-دن کے بارہ بجے تھے-

"یہ کون سا ناشتے کا ٹائم ہے؟”

"تم تیار تو ہو مل جائے گا ناشتہ-"وہ بولے-

علی عجلت میں تیار ہوا اور دونوں گھر سے نکل آئے-ان کی کار کا رخ ایک دو بلاک آگے ایک ریستوران کی جانب تھاجہاں کے کھانے بہت لزیز ہوا کرتے تھے-

                                                                                        ***************************************

اس پرانی لیکن طاقتور انجن والی کار میں تین افراد بیٹھے تھے-ڈرائیونگ سیٹ پر ایک ادھیڑ عمر شخص تھا،جبکہ پیچھے ایک تنومند شخص کے ساتھ ایک دبلا پتلا اٹھارہ انیس سالہ نوجوان لڑکا سہما بیٹھا تھا-اس ڈر کی وجہ وہ پستول تھا جو اس کی پسلیوں سے لگا ہوا تھا -اس نے ڈرتے ڈرتے کہا-

"تم لوگ مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟”

"چپکا بیٹھا رہ تجھے پتا چل جائے گا-"ڈرائیونگ کرنے والے شخص نے سفاک لہجے میں کہا -لڑکے کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص بہت خوش نظر آرہا تھا بولا-

"استاد کو بتا دو لڑکا ہم نے اٹھا لیا ہے-"

"جیسی تیری مرضی-"ڈرائیور بولا-

"کون ہو تم لوگ اور مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟”

"اتنی جلدی کیا ہے آرام سے بیٹھو سب پتا چل جائے گا-"اس کے برابر بیٹھا ہوا شخص بولا-

اس دوران کار ایک ٹریفک سگنل پر رکی اور اس شخص نے جیب سے موبائل نکالا،رابطہ ہونے پر اس نے کہا –

"ہاں استاد میں بات کر رہا ہوں،جی لڑکا ہم نے اٹھا لیا ہے-"ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا،کہ نوجوان نے اچانک کار کا دروازہ کھولا اور نیچے لڑھک گیا-

"ارے……..”وہ تیزی سے چلایا-

موبائل پر بات کرنے کے دوران اس کا پستول والا ہاتھ اس نوجوان کے پہلو سے ہٹ گیا تھا-جس کا فائدہ لڑکے نے اٹھا لیا تھا-

گزشتہ دس منٹ سے وہ نوجوان اتنی فرمانبرداری کا مظاہرہ کر رہا تھا کہ اسے بلکل امید نہیں تھی کہ وہ فرار کی کوشش بھی کر سکتا ہے-یہ حرکت اس نے اپنی جان پر کھیل کر کی تھی-اسی لمحے سگنل کھلا  اور گاڑیاں حرکت میں آ گئیں –

نوجوان نیچے اتر کر کہیں غائب ہو گیا تھا-فون کرنے والا فون سیٹ پر پٹخ کر تیزی سے اس کے پیچھے لپکا،اس نے دیکھا نوجوان چلتی گاڑیوں کے درمیان تیزی سے روڈ کراس کر چکا تھا-اس کی پھرتی قا بل دید تھی-وہ اس کے پیچھے لپکا ڈرائیور بھی ڈرائیونگ سیٹ چھوڑ کر ان کے پیچھے بھا گا……..عقب میں موجود گاڑیوں نے ہارن بجانے شروع کر دئے تھے-

سڑ ک کراس کرنے میں انہیں دیر لگی تھی اور جب تک وہ اس تک پہنچتے نوجوان غائب ہو چکا تھا-وہ دونوں دیر تک پاگلوں کی طرح اسے تلاش کرتے رہے تھے،پھر مایوس ہو کر وہ واپس پلٹ گئے-ان کے بپچے گاڑیوں کا رش لگ گیا تھا-

"تجھے فون کرنے کی بڑی جلدی تھی -کیا ضرورت تھی؟”ڈرائیور نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا -"اب استاد کو تو ہی جواب دینا کال بھی کر دی چھپا بھی نہیں سکتے ورنہ بول دیتے کہ بندہ نہیں ملا-"مایوسی کے عالم میں وہ دونوں وہاں سے رخصت ہو گئے-

اس دوران انہوں نے استاد کو کل کر کے نوجوان کے فرار ہونے کی اطلاع دی تھی اور جواب میں گالیاں بھی کھائی تھیں-

ان بدمعاشوں کے روانہ ہوجا نے کے بعد فرار ہونے والے اس نوجوان نے ایک کار کی عقبی نشست سے سر اٹھا کر انہیں دیکھا -وہ کار سے اترنے ہی والا تھا کہ صاحب کار کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ جلدی سے سیٹوں کے درمیان والی جگہ پر دبک گیا -ان بدمعاشوں کو چکمہ دے کر وہ اس کار میں گھس گیا تھا جو اسے جانی پہچانی لگی تھی اور اتفاق سے وہ لاک نہیں تھی-

علی اور جاوید انصاری ریستوران سے باہر آئے پیٹ بھرنے کے بعد جاوید صاحب کا موڈ خوشگوار تھا-انہوں نے گاڑ ی کا دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا –

"حد ہو گئی میں کار کو لاک کرنا کیسے بھول گیا؟”علی ان کی ساتھ والی نشست پر بیٹھ گیا تھا –

انہوں نے پچھلی نشست پر رکھے اپنے برف کیس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اچانک ان کی نظر وہاں نشستوں کے درمیان لیٹے نوجوان پر پڑی جو انہیں دیکھ کر معصومیت سے مسکرایا تو بے ساختہ وہ بھی مسکرا دیئے-اچانک انہیں خیال آیا کہ وہ بغیر اجازت ان کی کار میں گھسا  ہے-اس نوجوان کا چہرہ انہیں کچھ جانا پہچانا لگا تھا-وہ بوکھلا کر سیدھا ہو گیا-اسی وقت علی رضا نے بھی اسے دیکھ لیا تھا-اور دیکھتے ہی پہچان گیا تھا-وہ ان کے کوچنگ سنٹر میں ٹیوشن لینے کے لیے آنے والا انٹر میڈیٹ کا طالب علم رامیز قریشی عرف راجہ تھا-علی کار سے اتر کر پچھلی نشست پر آ گیا-

"تم ہماری کار میں کیا کر رہے ہو راجو ؟’

"دروازہ کھلا تھا  اس لئے اندر آگیا -"راجو نے سادگی سے کہا -علی بھنا گیا –

"لیکن تم اندر آئے کیوں؟”

"کوئی کسی کی کار میں بغیر اجازت کیوں آتا ہے؟اس کی نیت ٹھیک نہیں ہے -"جاوید انصاری نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا-

"میں بری نیت سے نہیں آیا سر-"راجو نے احتجاج کیا-

"پھر تمہارا کیا مقصد تھا؟”علی نے کہا-

"وہ……میں اپنے دشمنوں سے بچنے کے لیے یہاں چھپ گیا تھا-"راجو نے ہچکچاتے ہوئے کہا-

"تم اور دشمن………..ابھی تو تم ٹھیک سے جوان بھی نہیں ہوئے اور دشمنیاں بھی پال رکھی ہیں………..وا ہ برخوردار-"جاوید صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا-

"میں نے کوئی دشمنی نہیں پالی-"وہ برا ماں کر بولا-"وہ خود میرے پیچھے پڑ گئے تھے-انہوں نے مجھے اغوا کیا تھا اور پکڑ کر نہ جانے کہاں لے جانا چاہتے تھے-سگنل پر ان کی گاڑ ی رکی تو میں کار سے بھاگ نکلا-"

"کوئی کسی کو بلاوجہ نہیں پکڑتا،تم نے کچھ کیا ہوگا؟”علی نے استفسار کیا-

وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر ہچکچاتے ہوئے بولا-

"میں گھر سے بھا گا ہوا ہوں-"علی  نے بے ساختہ قہقہہ لگایا-

"بھاگتی تو لڑکیاں ہیں لڑکے کب سے گھر سے بھاگنے لگے-"

راجو کا لہجہ دکھی ہو گیا-"اڑا لیں جی مذاق بہت مجبوری میں میں گھر سے بھا گا ہوں-"

لڑکیاں بھی یہی کہتی ہیں،جب پکڑی جاتی ہیں-"ان دونوں کو اپنی ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا-

"یار مجھے تو یہ بہت معصوم اور سادہ لگ رہا ہے اسے گھر لے چلتے ہیں،وہاں سکون سے بیٹھ کر اس کی کہانیسنیں گے-"جاوید صاحب نے کہا-

"کیوں نا تمہیں تمھارے گھر لے چلیں-تمھارے گھر والوں سے جو بھی تمھارے اختلاف ہیں ہم ان کو سمجھا بجھا کر دور کر دیں گے-"علی  نے کہا تو وہ اچھل پڑا –

"ہرگز نہیں،میرے ابا مجھے قتل کر دیں  گے-آپ میرے ابا کو نہیں جانتے وہ قصائی ہیں-"

"شرم آنی چاہیے تمہیں اپنے ابا کو قصائی کہہ رہے ہو-"

"میں سچ کہہ رہا ہوں،وہ قصائی ہیں-میرا مطلب ہے ہم ذات کے قصائی ہیں-"

"اوہ……….. اچھا-"جاوید صاحب زور سے ہنسے-

"مجھے جانے دیں گاڑی روکیں میں آپ کے راستے میں کبھی نہیں آؤں گا-"

"برخوردار اتنی جلدی بھی کیا ہے-ممکن ہے ہم تمھارے کسی کام آ جائیں-"جاوید صاحب نے کہااور گاڑ ی کی اسپیڈ بڑھا دی-راجو نے ان کی طرف پر امید نظروں سے دیکھا-

"آپ ہماری مدد کریں گے؟”راجو نے کہا تو علی چونکا-

"ہماری………..تمھارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟”راجو بوکھلا گیا-

"جی نہیں میں اکیلا ہوں-"

"تم نے ہماری کا لفظ استعمال کیا ہے-"علی نے کہا-

"غلطی سے کہہ دیا سر………”.وہ سر جھکاتے ہوئے بولا-

لیکن ان دونوں نے محسوس کر لیا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے-دس منٹ بعد وہ گھر پہنچ گئے تھے-علی لڑکے کو اپنے کمرے میں لے آیا تھا ،کچھ دیر بعد جاود انصاری بھی آ گئے تو علی راجو کے لیے چائے بنانے کچن میں آ گیا-اس دوران جاوید انصاری لڑکے سے پوچھ گچھ کرتے رہے-علی چائے اور دیگر لوازمات لیے کمرے میں آیا تو راجو نے کہا-

"الله آپ کا بھلا کرے میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا……….ناشتہ لینے تو نکلا تھا میں-"

"ہاں بھئی راجو اب فر فر بتا دو کہ وہ لوگ تمہیں کیوں اغوا کر کے لے جا رہے تھے غلط بیانی کی تو ہم خود تمہیں پولیس کے حوالے کر دیں گے-"جاوید صاحب نے کہا-

"میں آپ سے سچ بولوں گا……..مگر میری ایک شرط  ہے-"

"کیا کہنا بھئی اب تمھاری شرط بھی ہے-"وہ ہنستے ہوئے بولے-"یہ تو ہم سننے کے بعد فیصلہ کریں گے-"

اس دوران راجو چائے اور لوازمات پر ٹوٹ پڑا تھا-دبلے پتلے راجو نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری ٹرے چٹ کر لی تھی-اس کی جسامت سے قطع نضر اس کی خوراک بہت اچھی تھی-علی بہت ضبط کر رہا تھا جبکہ جاوید صاحب اس کی حالت دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے تھے-کھانے سے نمٹ کر وہ ان کی طرف متوجہ ہوا-

"ہاں جی پوچھیں جو پوچھنا ہے-"

"ہمیں کچھ نہیں پوچھنا تمہیں بتانا ہے-"علی نے کہا-"شروع سے سناؤ-"

"کہانی تو ا بڑی لمبی ہے -"

"فکر مت کرو ہمارے پاس بہت وقت ہے-"علی نے کہا-

"رانو ہمارے محلے میں رہتی ہے-اس کا اصل نام رانی ہے-سب پیار سے اسے رانو کہتے ہیں-وہ کچھ عرصے پہلے ہی ہمارے محلے میں آئے تھے-ان کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اس کے ابا وہاں کے بڑے مشھور پہلوان ہیں-"راجو نے کہا-

"خیر ہو بھئی پہلوانوں کی بیٹی اور قصائیوں کا بیٹا-تم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر کچھ ملاقاتیں ہوئیں جو محبت میں بدل گئیں-پھر تم نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائیں اور ساری عمر ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا-اب آگے بتاؤ پھر کیا ہوا؟”علی نے کہا تو راجو کا منہہ کھلے کا کھلا رہ گیا-

"آپ کو کیسے پتا چلا؟”

"برخوردار اس عمر میں سب اس دشت کی سیاحی کرتے ہیں،خیر چھوڑو یہ بتاؤ تم دونوں گھر سے کب بھاگے؟”جاوید انصاری جو بڑی دلچسپی سے ان کی باتیں سن رہے تھے بولے-راجو تو دم بخود رہ گیا-

"آپ یہ بھی جننتے ہیں؟”

"ہاں برخوردار اتنا تو جان لیتے ہیں-"جاوید نے اس کا شانہ تھپکا-"اب تم اصل کہانی کی طرف اؤ …………….تمھارے اور اس کے والدین نہیں مانیں ہوں گے-"راجو ان سے سخت متاثر نظر آ رہا تھا-

"آپ لوگ تو بہت ذہین ہیں-"

"یہ بتاؤ کہ گھر سے بھاگنے کا پلان کس کا تھا؟”علی نے پوچھا-

"ہم دونوں تو جی کبھی ہمت نہ کرتے مگر میرا ایک دوست ہے انور،اس نے کہا تھا بس یہی ایک صورت ہے تم دونوں کے ایک ہونے کی-"

"یہ انور کون ہے اور تم اسے کب سے جانتے ہو؟”جاوید صاحب نے پوچھا-

انور سے میری دوستی فیس بک پر ہوئی تھی-"

"کیا……………؟”وہ دونوں ہکا بکا رہ گئے-

"یعنی تم پہلے سے سے اسے نہیں جانتے تھے؟”

"نہیں جی-"

"کتنا عرصہ ہوا ہے تمھاری دوستی کو؟”

"یہی کوئی دو تین مہینے-"

"اور تم نے اس کی باتوں میں آ کر اتنا بڑا قدم اٹھا لیا؟”علی نے حیران نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا پھر جاوید صاحب کو دیکھا جن کی آنکھوں میں تاسف تھا-اس نے اثبات میں سر ہلایا-

"تمھارے والد یا کسی اور کو انور کے بارے میں علم ہے؟”جاوید صاحب نے پوچھا-

"نہیں میں نے کسی کو نہیں بتایا کیونکہ انور نے مجھے منع کیا تھا-"

"یعنی تمھارے گھر میں کوئی نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی انور نام کا دوست بھی ہے-"اس بار علی نے سوال کیا-

"جی-"

"ٹھیک ہے اس کے بعد کیا ہوا؟”علی نے کہا-

"وہ کالج میں پڑھتی ہے-محلے میں آتے جاتے اکثر ہمارا سامنا ہوتا تھا-وہ مجھے بہت اچھی لگتی تھی،پھر ہمارے درمیان موبائل نمبرز کے تبادلے ہوئے،ہم موبائل اور فیس بک کے ذریعے رابطے میں رہتے تھے-کبھی کبھی وہ گھر والوں سے چھپ کر مجھ سے ملنے بھی آتی تھی-ایک ملاقات میں اس نے مجھے بتایا تھا کہ برادری سے اس کے رشتے آ رہے ہیں اور اس کے گھر والے اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں-"

"تم نے اپنی امی ابا یا گھر والوں میں کسی کو بتایا تھا کہ تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو-"جاوید صاحب نے کہا-

"میں نے ماں جی کو بتایا تھا-امی نےابو سے بات کی تو ابا نے مجھے بہت ما را تھا،ابا نے کہا تھا کہ اس کا خیال دل سے نکل دوں -"

لیکن ظاہر ہے تم نے اس سے ملنا نہیں چھوڑا ورنہ نوبت یہاں تک کیوں آتی-"جاوید صاحب بولے گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کب کیا تم دونوں نے اور وہ اتنی آسانی سے تمہارے ساتھ بھاگنے پر تیار کیسے ہو گئی؟”

"گھر سے بھاگنے کا سارا پلان انور نے ترتیب دیا تھا-وہ میرا بڑا اچھا دوست ہے-میری اس سے ایک دو ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں-اسی نے مجھے حوصلہ دیا تھا-علی رضا اور جاوید انصاری نے ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا،پھر علی نے انور کے بارے میں اس سے کئی  سوالات کے،ان کو پتا چلا کہ راجو انور کے بارے میں اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ وہ اس کا اچھا دوست ہے-وہ اپنے لباس اور انداز سے بہت مہذب لگتا ہے-لیکن وہ کہاں رہتا ہے،کیا کرتا ہے؟اور اس سے اتنی ہمدردی کیوں دکھا رہا ہے؟راجو کو کچھ معلوم نہیں تھا-جاوید صاحب علی کو اس سے کچھ دور لے گئے اور بولے-

"مجھے لگ رہا ہے انور نامی یہ شخص راجو کو بیوقوف بنا رہا ہے-"

"میرا بھی یہی اندازہ ہے-علی نے کہا-وہ اس کے پاس واپس آئے-وہ کیک کا بچا ہوا پیس کھانے میں مشغول تھا-

"یار پریشانی میں تو آدمی کی بھوک پیاس مر جاتی ہے اور تم ہو کہ کھائے چلے جا رہے ہو-"علی جھلا کر بولا-

"سر مجھے پریشانی میں بہت بھوک لگتی ہے-"علی نے ٹھنڈی سانس بھری،وہ اس نئی  پود کے عاشق کو دیکھ کر حیران تھا جسے حالات کی سنگینی کا احساس تک نہیں تھا-جاوید انصاری نے کہانی کو دوبارہ ٹریک پر لانے کے لیے کہا-

"ٹھیک ہے جب انور نے تمہیں گھر سے بھاگنے کا مشورہ دیا پھر تم نے کیا ؟”

"انور نے کہا تھا اگر ہم دونوں گھر سے بھاگ کر شادی کر لیں تو ہمارے گھر والے مجبور ہو جائیں گے-

"گویا انور نے پہلے سے پلان بنایا ہوا تھا-"جاوید صاحب نے کہا-"اس نے تمہیں بتایا ہوگا کہ بھاگ کر کہاں جانا ہے-"ظاہر ہے تمھارے پاس تو کوئی ٹھکانا نہیں ہو گا-"اس نے سر ہلایا-

"جی یہ سب اسی نے بتایا تھا-"

"اور تم اتنے احمق تھے کہ اس کی باتوں میں آ گئے-"علی نے کہا-

"میں احمق نہیں ہوں-"وہ برا مانتے ہوئے بولا-

"انور میرا بہت اچھا دوست ہے-"علی کا ضبط جواب دے گیا-

دوست کے بچے اس نے تمہیں مروا دیا-اب پولیس تمہیں اور انور کو تلاش کر رہی ہوگی-رانو کے اغوا کے الزام میں وہ تمہیں دھر لے گی-"

پولیس وہ کیوں تلاش کرے گی-رانو کے ابا پولیس میں رپورٹ نہیں کروائیں گے-لڑکی کے گھر والے ایسے معاملے میں رپورٹ نہیں کرواتے اور اپنے ابا کو میں جانتا ہوں وہ اس معاملے سے خود نمٹیں گے اور میری بوٹیاں بنا دیں گے-مجھے صرف ابا کا ڈ ر ہے-"

"تم دونوں کے ابا اس مسئلے میں پولیس کی مدد لے سکتے ہیں،تمہیں حالات کی سنگینی کا احساس نہیں ہے-"علی نے کہا-"بہرحال پھر کیا ہوا؟”راجو نے کہا –

"میں نے گھر سے بھاگنے کا پلان رانو کو بتایا تو وہ حیرت انگیز طور پر جلدی مان  گئی تھی اور راجو سے کہا تھا،ہمارے پاس بس یہی طریقہ ہے کہ گھر سے بھاگ کر شادی کر لیں-"

"تو تم تیار ہو؟”راجو نے کہا تھا-

"ہاں ہم شادی کے بعد کہیں چھپ  کر رہ لیں گے-"رانو نے جوش سے کہا تھا-

"کم عمری کا رومان ایسے ہی عقل  خبط کردیتا ہے-اس محبت نے اسے یہ سوچنے کی مہلت ہی نہیں دی تھی کہ گھر سے بھاگ کے وہ کہاں جائیں گے،کیا کریں گے اور کیسے زندگی گزاریں گے-راجو خوش ہو گیا کہ رانو اتنی آسانی سے مان گئی تھی- اس نے انور کو بتایا جو اس کا رازدار اور پر اعتماد دوست بن گیا تھا-سارا پلان انور نے اس کے گوش گزا ر کر دیا تھا-جس کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ وہ گھر سے بھاگنے سے پہلے جتنا ہو سکے مال دوست سمیٹ لیں-دونوں گھرانے دولت مند تھے-راجو کے باپ کی شہر میں کئی دکانیں تھیں جو بہت اچھی چلتی تھیں-وہ بینک میں اپنی دولت رکھنے کے قائل نہیں تھا اور اپنی تمام دولت گھر میں موجود تجوری میں رکھتا تھا-راجو نے تجوری میں سے دس لاکھ نکل کر ایک چرمی بیگ میں رکھ  لیے تھے-جبکہ رانو بھی گھر سے  تمام  زیورات اور رقم لانے کے لیے تیار ہو گئی تھی-فرار سے ایک رات پہلے راجو نے تجوری میں سے دس لاکھ نکل کر ایک ایک چرمی بیگ میں رکھ  لیے تھے-جبکہ رانو بھی گھر کا تمام زیور جس کی مجموعی مالیت تقریباً بس پچیس لاکھ تھی سمیٹ لائی تھی-

"وہ رقم اور زیور کہاں ہے؟”علی نے پوچھا-

"وہ تو انور نے ہم سے لے لیا تھا چوری چکاری کے ڈ ر سے-"علی نے سر پیٹ لیا اور سرد آہ بھر کے بولا-

"خود انور کہاں ہے؟’

"فلیٹ  میں-"راجو بولا-

"کون سے فلیٹ میں؟”

"جہاں میں اور انور رہ رہے ہیں-میں وہیں سے تو ناشتہ لینے نکلا تھا-میں حلوائی کی دکان سے حلوہ پوری لے رہا ہ جب دو افراد نے پکڑ کر مجھے گاڑی میں بیٹھا لیا تھا-وہ تو میں نے چالاکی دکھائی اور راستے میں بھاگ نکلا-"علی اور جاوید اس کی چالاک کی عقل پر ماتم کرنے لگے-

گزشتہ روز وہ دونوں گھر سے فرار ہو کر اس فلیٹ پر پہنچے تھے جس کا انتظام انور نے کیا تھا-یہ فلیٹ حسن اسکوائر کے نزدیک وا قع تھا-انور نے راجو کو پہلے ہی فلیٹ دکھا دیا تھا-

"انور تم دونوں کے ساتھ ہی ٹہر ا تھا-جاوید صاحب نے دریافت کیا-

"ہاں رات وہ ہمارے ساتھ رکا تھا-ایک کمرے میں،میں اور انور اور دوسرے کمرے میں رانو تھی-انور نے کہا تھا-صبح وہ ہمارا نکاح پڑھوا دے گا-"

"وہ تمہارا اتنا ہی بے لوث دوست تھا تو تم دونوں سے رقم کیوں منگوائی تھی-"اچانک علی چونکا-"یہ بتاؤ ناشتہ لینے وہ کیوں نہیں گیا،تم خود گئے تھےیا اس نے تمہیں بھیجا تھا؟”

"اس نے بھیجا تھا-اسے ایک دو فون کرنے تھے،ہمارے نکاح کا بندوبست کرنے کے لیے-"

"اور باہر نکلتے ہی ان دونوں نے تمہیں پکڑ لیا-"جاوید صاحب نے کہا-

"جی وہ جب مجھے لے کر جا رہے تھے تو راستے میں ایک نے کسی کو فون کیا تھا اسے میرے بارے میں بتا رہا تھا-"علی جاوید  صاحب کو دور لے گیا-

"میری چھٹی حس کہہ رہی ہے ہم ایک مصیبت کو اپنے ساتھ لے آئے ہیں-جتنی جلدی ممکن ہو اس سے جان چھڑائیں -"وہ بھی اب مضطرب نظر آ رہے تھے-

"مجھے بھی محسوس ہو رہا ہے کہ میں نے راجو کو یہاں لا کر غلطی کی ہے-مجھے تو ان دونوں کے باپوں کا خونی تصادم ہوتا نظر آ رہا ہے،اگر ہم نے اس سے چھٹکارا نہیں پایا تو اس خونریز تصادم میں ہم دوبے گناہ بھی مارے جائیں گے-"

"آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں-ویسے سامنے کی بات ہے-انور فراڈ ہے،اس نے ان دونوں کو بے وقوف بنایا ہے-"علی نے کہا-

"وہ فراڈ ہی نہیں بلکہ کسی اور چکر میں بھی ہے-ہم اس فلیٹ پر جائیں گے تو وہ اور لڑکی وہاں نہیں ملیں گے-"جاوید انصاری نے پر سوچ انداز میں کہا تو علی چونکا-

"اس کا مطلب ہے وہ لڑکی کو لے جا چکا ہو گا-"

"بلکل میرا اندازہ ہے وہ صرف رقم کے چکر میں نہیں ہے-"

"لڑکی کو لے جا کر وہ کیا کرے گا؟”علی نے کہا-

"عجیب گھامڑ ہو یار لوگ لڑکیوں کا کیا کرتے ہیں؟اور وہ شخص تو ویسے بھی بر معاش ہے-"

"ٹھیک کہتے ہیں آپ اس کام میں خطرہ ہی خطرہ ہے-ہمارا اس میں شامل ہونا کسی طور مناسب نہیں ہے-"

"لیکن مجھے لڑکی کی فکر ہے جو اس بے وقوف کی باتوں میں آ گئی-میں اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں-اس کی عزت خطرے میں ہے-مجھے یہ سب اچھا نہیں لگ رہا-"جاوید صاحب نے کہا-وہ دونوں واپس آئے تو راجو فکر مند بیٹھا تھا-

"تم ہم سے کس قسم کی مدد چاہتے ہو-ہم تمہارا نکاح نہیں پڑھوا سکتے،نہ ہی تمہیں یہاں پناہ دے سکتے ہیں-"علی نے کہا تو راجو نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا-

"مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے ،ہمیں گھر سے نہیں بھاگنا چاہیے تھا-"

"تمھارے خیال میں جو لوگ تمہیں اغوا کرنا چاہتے تھے کس کے آدمی تھے؟”جاویدصاحب نے کہا-

"میں نہیں جننتا-"وہ بے چینی سے بولا-"پلیز مجھے رانو کے پاس چھوڑ دیں -"پھر وہ ہچکچا کر بولا-"ہمیں ہمارے گھر واپس پہنچا دیں -"

"تمہیں یقین ہے کہ جب تم واپس جاؤ  گے تو تمھاری رانو وہاں موجود ہو گی-"جاوید صاحب نے کہا تو وہ اچھل پڑا –

"کیا مطلب جی؟”

"بات یہ ہے کہ…….”علی نے کہا-"مجھے وہ شخص فراڈ لگ رہا ہے-اس نے تمہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا ہے-اگر اسے صرف رقم کی ضرورت ہوتی تو وہ کل رقم لے کر کسی بہانے وہاں سے کھسک جاتا،وہ یقیناً  لڑکی کے چکر میں وہاں رہا ہوگا-اور آج اس نے تمہیں بھی راستے سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن تم بچ نکلے،مگر لڑکی کو وہ اب تک لے جا چکا ہو گا-"

"مم………مجھے جانا ہے-"راجو تیزی سے دروازے کی سمت بڑھا تو علی نے اس کا بازو پکڑ لیا-

"ٹہرو ہم بھی تمھارے ساتھ چل رہے ہیں-"رانو کے حوالے سے فکر اس کے چہرے پر پڑھی جا سکتی تھی-اس نے غالباً اس معاملے میں اپنی عقل استعمال نہیں کی تھی-

ایک تو وہ خاصا بے وقوف اور سادہ تھا،دوسرے گھر اور گھر سے باہر اس کی کسی سے دوستی بھی نہیں تھی،انور اس کا واحد دوست بنا تھا،جس پر وہ اندھا اعتماد کر بیٹھا تھا-اسے دنیا اور لوگوں کا کوئی تجربہ نہیں تھا-اسی وجہ سے وہ بڑی آسانی سے اس کی باتوں میں آ گیا تھا-لیکن اب وہ اس رخ پر سوچ رہا تھا،اسی لئے پریشان ہو گیا تھا-

علی اور جاوید انصاری اس کے ساتھ روانہ ہوگئے-راستے میں جاوید صاحب نے راجو سے انور کے بارے میں کئی  سوالات کئے لیکن اس کے پاس کسی سوال کا کوئی جواب نہیں تھا-وہ راجو کے بتائے ہوئے علاقے میں پہنچے تو علی نے پوچھا-

وہ عمارت کہاں ہے؟”

"یہ اس طرف موڑ لیں-"راجو نے ایک گلی کی طرف اشارہ کیا-وہ ایک تنگ گلی کے سامنے پہنچے جہاں کار آگے نہیں جا سکتی تھی-راجو نے بتایا یہاں سے کچھ دور پیدل جانا ہوگا-

یہاں تنگ گلیاں اور گندگی کے ڈھیر تھے-گلی کے کونے پر ایک تین منزلہ مکان تھا-وہ فلیٹ اس عمارت کی تیسری منزل پر تھا-

راجو نے بے تابی سے دروازے پر دستک دی لیکن کوئی جواب نہیں آیا-وہ دوبارہ دستک دینے جا رہا تھا کہ علی نے اسے روک دیا اور دروازے کو دھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا-

راجو تیزی سے اندر گھسا …………….فلیٹ دو کمروں پر مشتمل تھا-اور خالی پڑا تھا-جیسا کہ ان دونوں کو توقع تھی-راجو کی تسلی نہیں ہوئی تھی-اس نے چھوٹے سے کچن اور باتھ روم میں بھی جھانک لیا تھا-وہ بالکونی کی طرف جا رہا تھا کہ جاوید صاحب نے اسے روک لیا-

"بس کرو برخوردار وہ لوگ یہاں  نہیں ہیں-"راجو مشتعل ہو گیا-

"وہ رانو کو کیسے لے جا سکتا ہے؟”

"اس نے نہ صرف تمہیں لوٹا ہے بلکہ لڑکی کو بھی لے گیا ہے-جاوید صاحب نے کہا-

"میں اسے قتل کر دوں گا-"راجو مشتعل ہو کر چلایا-

"لیکن قتل کرنے کے لیے اسے تلاش کرنا ضروری ہے-"

"میں اسے تلاش کر لوں گا-"

"کیسے؟”جاوید انصاری نے کہا تو راجو کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا-

نئے دور کے یہ عاشق اپنی نہ تجربہ کاری اور جذبات میں اپنی عقل استعمال کرنا نہیں جا ننتےاسی وجہ سے دھوکے کھاتے ہیں-اس دھچکے نے اسے بد حواس کر دیا تھا-وہ کچھ  سوچتا رہا پھر بولا-

"سر پلیز میری مدد کریں،میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آ رہا-"

"میں تمھاری صرف اتنی مدد کر سکتا ہوں کہ تمہیں تمھارے گھر چھوڑ دوں اور تمھارے ابا کو  سمجھا دوں -گھر جاؤ اور اپنے ابا کو سب کچھ سچ سچ بتا دو-اس کے بعد تمھارے بڑے اس معاملے کو خود سنبھال لیں گے-"جاوید  صاحب نے کہا-اس نے نفی میں سر ہلایا-

"نہیں سر وہ مجھے گھر میں قید کر دیں گے اور رانو کے لیے کچھ نہیں کریں گے-"

"دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن چلتے ہیں اور انور کے خلاف رپورٹ لکھواتے ہیں-پولیس خود انہیں تلاش کر لے گی اور جب پولیس کو پتا چلے گا کہ وہ لڑکی کے ساتھ موٹی  رقم اور زیورات بھی لے گیا ہے تو وہ شد و مد سے اسے تلاش کرے گی-"علی نے کہا-

"جب تک رانو کا کیا ہوگا؟”وہ فکر مندی سے بولا-

"مجھے اب احساس ہو رہا ہے وہ بہت چالاک ہے-"

"وہ چالاک نہیں ہے تم بے وقوف ہو-"علی نے کہا-

راجو ذرا سی دیر میں کئی  دن کا بیمار نظر آنے لگا تھا-اس کا رنگ زرد پڑ گیا تھا-اس کی حالت دیکھ کر علی کو اس سے ہمدردی محسوس ہو رہی تھی-حالانکہ راجو سے اس کی کوئی بہت پرانی شناسی نہیں تھی پھر  اسے اس لڑکی کا بھی خیال آ رہا تھا جو گھر سے بھاگی تو راجو کے لیے تھی مگر ایک غلط آدمی کے ہتھے چڑھ گئی تھی-جو  نہ جانے اس وقت کس حال میں ہوگی اور نہ جانے اس کے ساتھ کیا ہوا ہو گا-"

فلیٹ میں معمولی فرنیچر کے سوا کچھ نہیں تھا-کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو انور کی شخصیت پر روشنی ڈال سکتی-علی نے برابر والے فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا-ایک عورت نے دروازے سے جھانکا-

"باجی یہ برابر فلیٹ والے کہاں گئے ہیں؟”

"مجھے کیا پتا؟”عورت نے بے رخی  سے کہا-

"آپ برابر میں رہتی ہیں یقیناً آتے جاتے انہیں دیکھا ہو گا-"

"ہاں کچھ دیر پہلے ایک شخص گیا تھا اس کے ساتھ کوئی لڑکی بھی تھی-"

"کتنی دیر ہوئی ہے؟”علی نے پوچھا-

"یہی کوئی ایک دو گھنٹے ہوئے ہیں-"

"یہ گھر کب سے کرائے پر چڑھا ہے؟”جاوید انصاری نے پوچھا-

"مجھے نہیں معلوم میں تو دو دن سے انہیں دیکھ رہی ہوں-اس کے بارے میں ما لک مکان ہی بتا سکتے ہیں-"

"ما لک مکان کون ہے؟”

"اسی بلڈنگ میں سب سے نیچے ان کا فلیٹ ہے اکرم صاحب نام ہے-"عورت نے کہا اور دوازہ بند کر لیا-

"یہ اکرم اتنی آسانی سے انور کے بارے میں نہیں بتائے گا-اس کے لیے کوئی ترکیب لڑا نی پڑ ے گی-"نیچے آتے ہوئے جاوید  انصاری نے کہا-

"کسی ترکیب؟”علی نے پوچھا-

"تمہیں اداکاری کرنی ہو گی-آخر محبت بھی تو کی ہے-"انہوں نے راجو سے کہا-

"کیا اداکاری کرنی ہے؟”

"ہم یہ ظاہر کریں گے جیسے ایجنسی سے ہمارا تعلق ہے اور تمہیں پکڑ کر تمھاری باقی ساتھیوں کو تلاش کر رہے  ہیں-"

"میں سمجھ گیا-"راجو نے تیزی سے کہا-

کچھ دیر بعد علی نے اکرم کا دروزہ زور زور سے بجایا-اکرم خود باہر آیا تھا-وہ ادھیڑ عمر کا موٹی  توند والا پستہ قد شخص تھا-

"جی فرمائیے -"

"اکرم تم ہو-"جاوید انصاری نے با رعب لہجے میں استفسار کیا-راجو کو انہوں نے گردن سے پکڑا ہوا تھا-جو سراسیمہ نظر آ رہا تھا-

"جی میں ہی ہوں-"وہ جاوید  صاحب کے انداز مخاطب سے ڈ ر گیا-

"اسے پہچانتے ہو؟”جاوید صاحب نے راجو کی طرف اشارہ کیا-

"‘جی نہیں-"اکرم نے حیرت سے کہا-"یہ کون ہے؟”

"یہ اس شخص کا ساتھی  ہے جسے تم نے اپنا تیسری منزل پر وا قع فلیٹ کرائے پر  دیاہے -"اس بار اکرم نامی شخص کا رنگ اڑ گیا-

"کک………کیا ہوا جناب؟”

"تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہو گا-"

"ساتھ کیوں جناب،جو پوچھنا ہے یہیں پوچھ  لیں-شیراز کو میں نے فلیٹ رضوان کریانہ اسٹور والے کی ضمانت پر دیا تھا-اس کا اسٹور مین  روڈ  پر ہے-شیراز اس کا پرانا جاننے والا ہے-"

"شیراز نہیں اس کا نام انور ہے-"علی نے کہا-

پھر اکرم نے شیراز کا جو حلیہ بتایا راجو نے سر ہلا کر اس کی تصدیق کر دی-

اس کا مطلب ہے وہ نام بدل کر کاروائیاں کر رہا ہے-"جاوید  صاحب نے کہا-اس دوران آس پاس کے فلیٹوں میں ھل چل ہونے لگی تھی لوگ اپنے دروازوں سے جھانک رہے  تھے-

"معاملہ کیا ہے جناب……..میں ایک شریف آدمی ہوں-"وہ لجاجت سے بولا-

"تم شریف ہو مگر رابطے مجرموں سے رکھتے ہو اور انہیں پناہ بھی دیتے ہو-"اکرم بوکھلا گیا-

رضوان نے بتایا تھا کہ اس کے ایک جاننے والے کو رہائش کی ضرورت تھی،میرا یہ فلیٹ خالی تھا،اسی لیے میں نے اسے کرائے پر دے دیا-

"ہم نے اس کے ساتھی کو گرفتار کر لیا ہے-"علی نے راجو کی طرف اشارہ کیا-"اس کی نشاندھی پر ہی ہم یہاں آئے ہیں لیکن وہ دو گھنٹے پہلے اپنی ساتھی  لڑکی کے ساتھ فرار ہو چکاہے-

"اگر وہ فرار ہو چکا ہے تو میں اس کےبارے  میں کچھ نہیں جانتا جناب میں بال بچوں والا آدمی ہوں-"

"اسی جہ سے ہم تم سے شرافت کی زبان میں بات کر رہے  ہیں-ورنہ تم اس وقت کسی نا معلوم مقام پر ہوتے اور تمھارے بارے میں کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ کہاں ہو-"

"اس کے بارے میں آپ کو رضوان ہی بہتر بتا سکتا ہے-"علی اور جاوید انصاری کے لیے اتنی معلومات کافی تھیں،اس سے زیادہ وہ کچھ جانتا بھی نہیں تھا-اکرم سے اس کا اصلی نام معلوم ہو گیا تھا اور رضوان سے اس کے تعلق کا بھی پتا چل گیا تھا-

وہاں سے روانہ ہونے سے پہلے جود صاحب نے اکرم کو وارننگ دی تھی کہ جو گفتگو اس کے درمیان ہوئی ہے اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں ہونا چاہیے-اس نے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ کسی سے اس کے بارے میں بات نہیں کرے گا-وہ باہر نکلے اور کار تک آئے –

اب اس رضوان کو دیکھنا پڑ ے گا-"جاوید صاحب نے کہا-"شیراز اور انور تک پہنچنے کا یہی ایک واحد ذریع ہے-"انہوں نے انجن اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا-

                                                                                                   ***********************************************

رانو بہت خوبصورت تھی،تیکھے نقوش،خوبصورت لب،بڑ ی بڑ ی آنکھیں،کھلتا ہوا گورا رنگ اور گھنی  زلفیں،مجموعی طور پر وہ بڑ ی دلکش تھی-لیکن محبت میں اس کی عقل خبط ہو گئی تھی-اسے اپنے محلے میں رہنے والا راجو بہت اچھا لگا تھا-جو اس کا ہم عمر تھا-کالج آتے جاتے وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھا کرتے تھے-وہ اس محبت میں دونوں گھرانوں کے تضادات کو فراموش کر بیٹھی تھی-پھر یہ اچھا لگنا محبت میں بدل گیا-اسے معلوم تھا اس کا باپ اس کی شادی کبھی بھی راجو سے نہیں ہونے دے گا-

وہ اس کے ساتھ گھر سے بھاگنے پر تیار ہو گئی تھی-اس نے اس منصوبے پر بڑ ی احتیاط سے عمل کیا تھا-جس دن اسے گھر سے فرار ہونا تھا اس نے اپنی ماں کا تمام زیور اپنے کالج بیگ میں رکھ لیا تھا اور کالج روانہ ہو گئی تھی لیکن وہ کالج نہیں گئی،راجو جو باہر اس کا منتظر تھا،وہ اسے لے کر اس فلیٹ میں آ گیا تھا-اس وقت رانو کو انور کے بارے میں علم نہیں تھا-وہ اسے فلیٹ میں دیکھ کر حیران رہ گئی تھی-

"یہ کون ہے؟”اکیلے میں اس نے راجو سے پوچھا تھا-

"یہ میرا دوست   ہے-یہ جگہ بھی اسی کی ہے-"نہ جانے کیوں رانو کو  شخص بلکل بھی اچھا نہیں لگا  تھا،وہ جس انداز میں اسے دیکھ رہا تھا وہ  نظریں بھی ٹھیک نہیں تھیں-لڑکیوں کی چھٹی حس  اس معاملے  بلکل درست فیصلہ کرتی  ہے-

راجو اس  محبوب تھا لیکن ایسی نظروں سے  کبھی راجو نے بھی اسے  نہیں دیکھا تھا- دونوں کم عمری کی محبت میں مبتلا تھے  مگر اس محبت میں کوئی آلودگی  نہیں تھی-رانو نے موقع پا کر راجو سے سرگوشی میں کہا تھا-

"مجھے یہ شخص اچھا نہیں لگ رہا-"مگر راجو اس سے متفق نہیں تھا-

"رانو انور میرا بہت اچھا دوست ہے اور ہماری مدد کر رہا ہے-نکاح کے بعد اپنے مسائل ہم  خود حل کریں گے-"راجو نے کہا تو رانو خاموش ہو گئی تھی-راجو نے اس سے زیور لے کر انور کو دے دیے -اس نے بے چین ہو کر کہا-

"یہ تم نے کیا کیا، وہ یہ سب  لے کر بھا گ گیا تو……….”

"مجھے اس پر پورا بھروسہ ہے-"راجو نے کہا-شام کو انور  چلا  گیا تھا-پھر وہ رات گئے واپس آیا تھا-

"سوری دوستو مجھے دیر  ہو گئی، زیور میں نے محفوظ جگہ رکھ دیے ہیں-یہ علاقہ ٹھیک نہیں یہاں چوری چکاری کا خطرہ رہتا ہے-"اس نے بتایا-"تنم پریشان تو نہیں ہو نا -"

” نہیں مجھے تم پر اعتماد ہے-"راجو نے کہا لیکن رانو کا دل نہیں مان رہا تھا-

رات وہ الگ کمرے میں سوئی تھی اور احتیاط میں اس نے اندر سے کنڈی لگائی تھی-صبح اس کی آنکھ دیر سے کھلی تھی-وہ باہر آئ تو دیکھا دوسرا کمرہ خالی تھا-راجو اسے کہیں نظر نہیں آیا تو وہ گھبرا گئی-انور کچن میں چائے بنا رہا تھا-

اس نے گھبرا کر انور سے پوچھا-"راجو کہاں ہے؟”

"وہ ناشتہ لینے گیا ہے-"اس نے چائے کپ میں انڈیلتے ہوئے کہا-"جب تک وہ ناشتہ لے کر آتا ہے تم چائے پی لو-"اس نے ایک کپ رانو کی طرف بڑھایا جسے رانو نے تھام لیا-

اسی وقت انور کے موبائل کی گھنٹی بجی-کچھ دیر وہ دوسری طرف کی باتیں سنتا رہا پھر فون بند کر کے  گھبرائے ہوئے لہجے میں رانو سے کہا-

"جلدی چلو راجو نے تمھارے ابا کو باہر  بازار میں دیکھا ہے-وہ تمہیں تلاش کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ گئے ہیں-ہمیں فورا یہاں سے نکلنا ہو گا-یہاں رہنا اب خطرے سے خالی نہیں ہے-تم چادر سے منہہ چھپا کر گھر سے نکلنا-"

یہ سنتے ہی رانو کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ہی سلب ہو کر رہ گئیں-وہ تیزی سے گھر سے نکل گئے تھے-پھر وہ کار میں بیٹھا کر اسے یہاں لے آیا تھا اور راستے میں بتایا تھا کہ کچھ دیر بعد راجو بھی وہاں پہنچنے والا ہے-

یہ تین چار کمروں کا ایک بڑا مکان تھا جو ابھی زیر تعمیر تھا-وہ راستوں سے ناواقف تھی اسے کچھ خبر نہیں تھی کہ انور اسے کہاں لے آیا ہے،اس کمرے میں جہاں وہ بیٹھی تھی مختصر سا فرنیچر تھا جو ایک ڈبل بیڈ اور چند کرسیوں پر مشتمل تھا کمرے کے ایک کونے میں الماری بھی نصب تھی-وہ کافی دیر بیڈ  پر بیٹھی راجو کا انتظار کرتی رہی مگر وہ نہیں آیا تو اسے فکر لاحق ہوئی-انور سامنے کرسی پر بیٹھا اسے بغور دیکھ رہا تھا-اس کی نظروں سے اسے الجھن محسوس ہو رہی تھی-

"راجو کہاں رہ گیا-وہ کب آئے گا؟”اس نے پریشان ہو کر انور سے پوچھا تو وہ شیطانی انداز میں مسکرایا  اور اٹھ کر اس کی طرف بڑھا-

"ابھی بتاتا ہوں-"اس کا انداز اتنا خوف ناک تھا کہ رانو سہم  کر رہ گئی-اس نے بھاگنا چاہا مگر انور نے جھپٹ کر اسے پکڑ لیا-وہ چیخی چلائی  لیکن اس نے اثر نہیں لیا،اس نے اسے بیڈ  پر دھکیلا-

"لڑکی تم بے کار مزاحمت کر رہی ہو-یہاں دور دور تک تمھاری آواز سننے والا کوئی نہیں ہے-

رانو رو رہی تھی،چلا رہی تھی مگر انور پر تو شیطان سوار تھا-اسی وقت انور کے فون پر گھنٹی بجی-وہ اسے چھوڑ کر دور چلا گیا-وہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا،پھر کمرے سے نکل کر اس نے دروازہ باہر سے لاک کر دیا-رانو تیزی سے فروازے کی طرف بڑھی-انور کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی-

"بھا گ گیا،کیسے؟نکمے ہو تم سب،میں  نے سوچا تھا ان دونوں کو یرغمال بنا کر ان کے والدین سے ٹھیک ٹھاک تا وان وصو ل کریں گے-خیر کوئی بات نہیں لڑکی میرے قبضے میں ہے-میرا اس پر دل آ گیا ہے،پہلے میں………..”اس کی آنکھیں پھل گئیں اور وہ زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی-

                                                                                                                        ***************************

رضوان نامی دکان دار کے پاس جانے سے پہلے علی کے ذہن میں یہ خیال آیا تھا کہ انہیں اب اس معاملے سے دست بردار ہو جانا چاہئے اور معاملہ راجو کے والد کے سپرد کر دینا چاہیے-کیونکہ اگلا مرحلہ خوفناک  ہو سکتا تھا-یہ تو طے  تھا کہ انور یا شیراز ایک خطرناک مجرم تھا-اس نے رانو کو اغوا کر کے ایک سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا-اس قسم کے مجرموں سے نمٹنا پولیس کا کا م تھا-جاوید انصاری نے بھی اس سے اتفاق کیا تھا لیکن راجو نے اس تجویز سے انکار کر دیا-

"میں کسی صورت ابا کے پاس نہیں جاؤں  گا-"

"دیکھو یار وہ تمہارے ابا ہیں اور یقیناً اتنے ظالم نہیں ہوں گے جتنا تم انہیں سمجھتے ہو -"علی نے اسے سمجھایا-

"وہ شاید مجھے کچھ نہ کہیں مگر وہ رانو کے لیے کچھ نہیں کریں گے،میری رانو اس ذلیل شخص کے قبضے میں ہے-"وہ رونے لگا-ہم نے گھر سے بھاگ کر بہت بڑ ی غلطی کی ہے وہ میرے کہنے پر ہی بھاگی تھی-میری ذمہ داری ہے کہ میں اسے با حفاظت اس کے گھر واپس پہنچا دوں-"

"بڑ ی سمجھداری کی باتیں کر رہے  ہو برخوردار-"جاوید صاحب  نے کہا-

رضوان تیس بتیس سال کا ایک تنو مند آدمی تھا-اس کی چھوٹی چھو ٹی آنکھیں تیزی سے گردش کرتی تھیں-جاوید  صاحب  نے یہاں بھی وہی حربہ استعمال  کیا-وہ ایجنسی والے بن گئے-جب علی نے اپنا تعارف کروایا اور اسے اپنے ساتھ چلنے کا کہا تو وہ گھبرا گیا-

"میرا کیا قصور ہے جناب؟”

"قصور کا بھی پتا چل جائے گا-"جاوید  صاحب نے درشت لہجے میں کہا-"مجرموں سے رابطے رکھتے ہو،ان کی مدد کرتے ہو اور قصور پوچھ  رہے  ہو-"وہ اسے زوردار تھپڑ مارتے ہوئے بولے-

"جھوٹ ہے جی الزام ہے-"

"بک بک بند کرو ہمارے پاس پوری رپورٹ ہے تم شیراز کو جانتے ہو؟”

"جی جانتا ہوں-"

"تم نے ہی اسے یہاں مکان کرائے پر دلوایا تھا-"

"وہ میرا پرانا دوست ہے-مجھے پتا ہے اس کی گزشتہ زندگی مجرمانہ سرگرمیوں میں گزری ہے،اسی لیے میں نے اس سے دوستی ختم کر دی تھی-لیکن اس بار وہ مجھے پانچ سال بعد ملا تھا اور مجھے یقین دلایا تھا کہ اس نے برائی کی زندگی ترک کر دی ہے اور سدھر گیا ہے-مزید یہ کہ اس نے ایک کمپنی میں ملازمت حاصل کر لی ہے وہ اس علاقے کے نزدیک ہے اسی لیے وہ یہاں کرائے کے مکان کی تلاش میں تھا-میں نے تو صرف اس کی مدد کی تھی-اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ سرجانی ٹاون  میں اس کا مکان زیر تعمیر ہے جیسے ہی وہ تیار ہو جائے گا وہ وہاں شفٹ ہو جائے گا-"

"اس وقت وہ کہاں ملے  گا؟تم اس کے دوست ہو یقیناً اس کے ٹھکانوں سے واقف ہو گے-"جاوید  صاحب نے کہا-

"وہ اس وقت اپنے سر جانی والے مکان میں ہے-"

"تم یہ بات کیسے جانتے ہو-"

"کچھ دیر پہلے اس کا فون آیا تھا،وہ پوچھ رہا تھا کہ کوئی اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے تو میرے پاس نہیں آیا-"

"وہ مکان تم نے دیکھا ہے؟”علی نے پوچھا-

"ہاں ایک بار وہ مجھے اپنے ساتھ لے گیا تھا-

"تم ہمارے ساتھ چل کر ہمیں وہ ٹھکانہ دکھاؤ گے-؟”

"آپ مجھے گرفتار تو نہیں کریں گے نا -"وہ خوف زدہ نظر آ رہا تھا-

"نہیں تم ہمیں اس کا ٹھکانہ دکھا دو،اس کے بعد تم آزاد ہو گے-"علی نے کہا-"اگر  وہاں پہنچ کر پتا چلا کہ تم نے جھوٹ بولا ہے تو تمھاری خیر نہیں-"اسے انہوں نے گاڑ ی میں بٹھایا اور روانہ ہو گئے،علی نے اس کا فون اپنے قبضے میں لے لیا تھا-

                                                                                                                     ********************************

رشید قریشی ذات کا قصائی تھا-شہر کی گوشت مارکیٹ میں اس کی خوب چلتی ہوئی متعدد دکانیں تھیں،وہ اور اس کے بیٹے کاروبار کو بخوبی چلا رہے تھے-اس کے چھ بیٹے تھے جس میں راجو سب سے چھوٹا تھا-دولت کی اس کے پاس کوئی کمی نہیں تھی-وہ ایک ہٹا کٹا  اور طاقتور شخص تھا-محلے میں سب اس سے ذرا دب کر رہتے تھےلیکن جب سے گوجرنوالہ سے آئ  ہوئی ایک فیملی ان کے محلے میں رہنے آئ تھی اور ان کے بیٹے کو پہلوان کی بیٹی بھا گئی تھی تو  ان دونوں کے درمیان جنگ چھڑ  گئی تھی-

بھولا پہلوان  گوجرانوالہ کا ایک نامی گرانی پہلوان  تھا-حثیت میں بھی وہ کسی  طرح  رشید قریشی سے کم  نہیں تھا-

پھر متعدد چھو ٹی چھو ٹی باتوں پر ان کی جھڑپیں ہونے لگیں مگر کچھ عرصے سے ان دونوں نے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہیں کی تھی-یہ خاموشی اور سکوں اس وقت ختم ہو گیا جب رشید قریشی کا سب سے چھوٹا بیٹا راجو گھر سے غائب پایا گیا-وہ کالج جانے کے لیے گھر سے نکلا تھا لیکن کالج نہیں پہنچا تھا-جب وہ گھر واپس نہیں آیا تو وہ اور اس کے پانچوں بیٹے اس کی تلاش میں نکل کھڑ ے ہوئے-راجو شروع ہی سے الگ مزاج کا لڑکا تھا،وہ پڑھنا چاہتا تھا جبکہ اس کے دوسرے بیٹوں کو تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں تھی-وہ اس کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹا تے تھے-جبکہ راجو کی پرورش مختلف انداز میں ہو رہی تھی-اسے اپنے جدی پشتی کاروبار سے کوئی دلچسپی نہیں تھی-شام تک وہ اسے اسپتالوں وغیرہ میں ڈھونڈتا رہا-

کیونکہ راجو  کی دوستی  کسی سے نہیں تھی-رشید کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہ کہ وہ اچانک کہاں غائب ہو گیا ہے-کچھ دیر  بعد اسے اطلاع ملی کہ پہلوان  کی بیٹی بھی گھر سے غائب ہے………..وہ صبح کالج جانے کے لیے نکلی تھی پھر واپس نہیں آئ ………..جلد ہی سارا معاملہ کھل گیا-اسے  یہ بھی پتا چل گیا کہ راجو گھر سے اچھی خاصی رقم بھی لے گیا ہے-رشید کا غصّے سے برا حال تھا-

ادھر بھولا کے گھر میں بھی کہرام مچا ہوا تھا-اس کی اکلوتی بیٹی گھر سے غائب تھی-وہ اپنی ماں کے تمام زیور  بھی لے گئی تھی-جلد ہی اسے پتا چل گیا تھا کہ وہ راجو کے ساتھ فرار ہوئی ہے اسے پورا یقین تھا کہ  اس سازش میں رشید بھی شامل ہے-اس کے کہنے پر بھی اس کے بیٹے راجو نے رانو کو اپنے جال میں پھنسایا اور گھر سے بھاگنے پر اکسایا ہے-اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کہیں سے رانو اس کے سامنے آ جائے اور وہ اس کے ٹکڑے ٹکڑ ے کر دے-

"تم سے یہ نہیں ہوتا کہ اس نامراد کو تلاش کرو-اس سے پہلے کہ سب کو خبر ہو جائے-پہلوان کی بیوی نے کہا-

"کیسے تلاش کروں؟اور کہاں تلاش کروں؟سب سے کہوں  کے بیٹی بھا گ گئی ہے اسے تلاش کر رہا ہوں-کیا عزت رہ جائے گی زمانے میں-"

"تم پولیس میں رپورٹ لکھواؤ رشید کے خلاف اس کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے-ہمارے گھر کو آگ لگا کر وہ سکوں سے بیٹھا ہوا ہے-"

"پولیس کے پاس جاؤں  گا تو میری ناک کٹ جائے گی اور بدنامی الگ ہو گی-مجھے رشید کے گھر جانا پڑ ے گا اسے مزہ چکھنے کے لیے-"

"ایسا نہ کرنا-"وہ ڈ ر گئی-"ہماری بیٹی ان کے قبضے میں ہے-"

"جہنم میں گئی ایسی بیٹی جسے ماں باپ کی عزت کی پرواہ نہ ہو-"بھولے نے گرج کر کہا-

"دیکھو کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے بعد میں پچھتانا پڑ ے تم ایک بار رشید سے بات کر کے دیکھو-"

"بکو مت میں اس سے بات کروں……………………..اس کے آگے جھک جاؤں ،،،،،،،،،،،،،،نہ ممکن-"

"ابھی ہم مجبور ہیں،ہمیں جھکنا پڑ ے گا-ایک بار بیٹی گھر آ جائے پھر جو جی میں آئے کرنا-"بیوی نے رسانیت سے اسے سمجھایا-

یہ بات اس کے دل کو لگی-اس نے رشید کا نمبر ملایا-رشید کی آواز سنتے ہی وہ بولا-

"رشید لگتا ہے سکوں سے رہنا تجھے گوارا نہیں،تو نے میری بیٹی کو اغوا کر کے اچھا نہیں کیا-"

"زبان سنبھال کر بات کر ،الٹا چور  کوتوال کو ڈانٹے ،میرے بیٹے کو غائب کر کے تو مجھ پر ہی الزام لگا رہا ہے-اپنے آپ کو بے گناہ  ثابت کر کے  تو بچ نہیں سکے گا-رشید بھڑکا-"اگر میرے بیٹے کو ذرا بھی نقصان پہنچا تو  تجھے چچھوڑوں  گا نہیں-"

"شرافت سے میری بیٹی واپس کر دے-زیادہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں،میری بیٹی کو تیرا بیٹا ورغلا کر لے گیا ہے-اگر وہ واپس نہیں آئ  تو میں تم دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کروں گا-"

تو جھوٹ بول رہا ہے میرا بیٹا ایسی حرکت نہیں کر سکتا-رشید چلایا-

"تو کیا سمجھتا ہے میں اتنا گھٹیا ہوں کہ بیٹی کا نام لوں گا-مجھے پتا چلا ہے وہ تیرے بیٹے کے ساتھ دیکھی گئی تھی-بھولے  نے کہا-

چند منٹ دونوں طرف سے تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا-دونوں کا خیال تھا کہ وہ اسے دھوکہ دے رہا ہے،بہرحال بات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئی-فون بند کرتے  وقت دونوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ایک دوسرے کو نہیں بخشنا ہے-

                                                                                                      ********************************************

کار میں رضوان علی کے ساتھ آگے بیٹھا تھا جبکہ راجو  اور جاوید انصاری پیچھے بیٹھے تھے-سرجانی کا یہ علاقہ نیا آباد ہوا تھا،جہاں کئی  مکان زیر تعمیر تھے-یہ مکان جس کی نشاندھی رضوان نے کی تھی دوسرے مکانوں سے ذرا ہٹ  کے سنسان جگہ پر واقع تھا اور اس مکان کے آ س پاس کوئی مکان نہیں تھا-علی نے کار اس مکان سے کچھ فاصلے پر روک دی-

جاوید انصاری اور راجو نیچے اتر گئے-راجو کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر مکان کے اندر پہنچ جائے-جاوید صاحب نے گھر کے گیٹ کے پاس جاکر اندر کا جائزہ لیا-وہاں کوئی نہیں تھا …………….-،گیٹ اندر سے بند تھا-

دبلا پتلا لیکن پھرتیلا راجو تیزی سے گیٹ کے سہارے دیوار پر چڑھ گیا،کچھ ہی دیر میں وہ اندر کود گیا تھا-جاوید صاحب ہکا بکا دیکھتے رہ گئے -عشق بے خطر آ گ میں کود گیا تھا-اس نے اندر جا کر گیٹ کھول دیا-علی نے اس دوران رضوان کو اپنے ساتھ لائی ہوئی رسی سے باندھ کر اور اس کے منہہ پر ٹیپ چپکا کر گاڑ ی میں لاک کر دیا تھا اور خود مکان کے اندر چلا گیا-مکان کے اندر کوئی نظر نہیں آیا تھااور نہ ہی کوئی آواز سنائی  دی تھی-بظاھر عمارت خالی نظر آ رہی تھی-

"راجو تم یہاں رکو میں اور جاوید صاحب اندر جائیں گے-"

"نہیں میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گا-"

"لیکن ایک شرط  پر تم ہماری اجازت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاؤ گے اور نہ ہی رانو اور انور کو دیکھ کر آپے سے باہر  ہوگے-"راجو نے سوچا اور سر ہلایا-

"ٹھیک ہے-"

                                                                                                     *****************************

انور نے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر آ گیا-اس کے چہرے پر خباثت تھی وہ مسکرایا اور رانو کی طرف بڑھنے لگا-اس وقت اس کی شخصیت پر چڑھا نقاب اتر گیا تھااور اصل شیراز کا مکروہ چہرہ نظر آ رہا تھا-وہ انتہائی خوفزدہ تھی- پیچھے ہٹتے ہٹتے  وہ دیوار سے جا لگی تھی،اس کے ارادے خطرناک تھے وہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا-اسی وقت علی نے دروازے پر لات ماری،دروازہ ایک زوردار آواز کے ساتھ کھل گیا-

"یہاں کیا ہو رہا ہے؟”علی با رعب آواز میں چلایا-

انور نے پھرتی سے ریوالور نکل لیا اور اس کا رخ رانو کی طرف کرتے ہوئے بولا-

خبردار اگر آگے بڑھے میں اس لڑکی کو قتل کر دوں گا-"وہ رانو کو  ریوالور کی زد پر دکھتا ہوا الماری کی طرف بڑھا اور اس میں سے وہ چرمی بیگ نکالا جس میں ان دونوں کا اثاثہ تھا-

"تم تینوں دیوار کی طرف رخ کر کے کھڑ ے ہو جاؤ -"وہ چلایا-وہ دیوار کی سمت جا ہی رہی تھے کہ نہ جانے کیا ہوا راجو اچانک ہوا میں اچھلا اور انور پر جا گرا-

انور اس اچانک حملے کے لیے بلکل تیار نہیں تھا-وہ زمیں پر گر گیا،اسی وقت ایک فائر کی آواز آئ لیکن رانو محفوظ رہی تھی انور کا نشانہ چوک گیا تھا،گولی دیوار پر لگی تھی-راجو نے اسے گھونسوں اور لاتوں پر رکھ  لیا تھا-وہ غصے سے بے قابو ہو گیا تھا-انور کا ریوالور  اس لڑائی میں دور جا گرا تھا-علی اور جاوید  جو اس سچویشن پر ہکا بکا کھڑ ے تھے اچانک ہوش میں آئے اور راجو کی مدد کے لیے دوڑ ے-

انور جو اتنی مار کھا کر ادھموا ہو چکا تھا اس میں اتنی سکت نہیں رہی تھی جو اٹھ بیٹھتا،رانو نے تیزی سے آگے بڑھ کر وہ چرمی بیگ قابو میں کر لیا تھا-راجو نے رانو سے پوچھا-

"تم ٹھیک ہو نا -"

"ہاں میں ٹھیک ہوں-"رانو کی آنکھوں میں نمی تھی-"وہ مجھے  یہاں لے آیا تھا-"

"چلو اب تم دونوں اپنے اپنے گھر چلنے کی تیاری کرو گھر جا کر  اپنے والدین سے معافی مانگو،تم نے گھر سے بھاگ کر غلطی کی تھی،میرا خیال ہے اتنی سزا تمھارے لیے کافی ہے-جاوید صاحب نے کہا-

"میں نہیں جاؤں گی ابو مجھے دیکھتے ہی گولی مار  دیں گے "-رانو نے انکار کیا-

"تم نے کام ہی ایسا کیا ہے……..مگر مرا خیال ہے وہ ایسا نہیں کریں گے،ہم تمھارے ساتھ تمھارے گھر چلتے ہیں -"پھر علی اور جاوید صاحب نے ان کے والدین کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کر دیا تھا-اور انہیں یہ  یقین بھی دلا دیا تھا کہ کسی کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے بچے جیسے گئے تھے ویسے ہی واپس آ گئے ہیں-اس لیے انہیں معاف کر دیا جائے-انہیں ان کے کی گئی غلطی کی اچھی خاصی سزا مل چکی ہے-

کچھ دن بعد راجو نے جاوید انصاری کو فون پر یہ خوش خبری سنائی تھی کہ ان کے باپ ان دونوں کی وجہ سے دوستی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں،کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے سمدھی بننے والے ہیں-(ختم شد )

                                                                                                       ***********************************************

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

رسپَرِیا….پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی

رسپَرِیا پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. پھنیشورناتھ رینو ۔پیدائش:۴ مارچ ۱۲۹۱ ء، اوراہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے