سر ورق / یاداشتیں / 3ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی! ضیاءشہزاد قسط نمبر

3ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی! ضیاءشہزاد قسط نمبر

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی!
٬٬ آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا،،
ضیاءشہزاد
قسط نمبر 3
٭
میرے منہ سے چیخنے چلانے کی آوازیں نکل رہی تھیں ، اماں اماں ، بچاﺅ بچاﺅ ۔ ۔ ۔ بچاﺅ ، ہاﺅ آگیا ۔ ۔ ۔
٬٬ضیاءالد ین ، ، ضیاءالدین ہوش کر ہوش کر ۔ ۔ کیا ہوا بیٹا ، کیا ہو ا میرے ٹلّو کو ۔ ۔ ۔ اماں مجھے بری طرح جھنجھوڑ رہی تھیں ۔ میری ٓنکھ کھل گئی ،میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اماں کو دیکھ رہا تھا ، میں نے پھر ادھر ادھر آنکھیں گھمائیں اور فوراً ہی بستر پہ اٹھ کے اماں سے چمٹ گیا ٬٬ اماں وہ ۔ ۔ وہ ،، میری پھر گھگی بندھ گئی اور میں رونے لگا ۔
٬٬ارے ۔ ۔ رومت ۔ ۔ کیا کوئی سپنا دیکھ لیا ہے تو نے ،، اماں نے مجھے پیار سے پچکارتے ہوئے کہا اور میرے آنسو پونچھے ۔
مرے رونے اور ڈرنے سے ابا کی بھی آنکھ کھل گئی ۔وہ بھی ہڑبڑاکر اٹھ گئے اور پریشان ہوتے ہوئے بولے٬٬ کیا ہوا ، کیوں رو رہا ہے یہ،،
٬٬ کچھ نہیں کوئی خواب دیکھا ہے ، ڈر گیا تو رونے اور چیخنے لگا،، اماں نے کہا
ابا ہنستے ہوئے بولے ۔٬٬ ابے کس کو دیکھ لیا تونے خواب میں ،ڈرتے نہیں مجھے بتاﺅدیکھ لوں گا اسے ،،
میں پھر رونے لگا تو ابا نے مجھے اپنے بستر پر گھسیٹ لیا اور چمٹا کر بولے ۔٬٬ چپ ہو جاﺅ ، ورنہ بابا ماریں گے، آدھی رات کو سب جاگ جائیں گے ، ، میں سسکیاں بھرتا ہوا چپ ہو گیا اور پھر دوبارہ میری آنکھ لگ گئی۔
صبح میں دیر سے جاگا۔ وہ بھی جب اماں نے اٹھایا، دادا مجھے روز صبح کی چائے پر بلاتے تھے اور گرم گرم چائے کا پیالہ بھر کر پلاتے تھے ۔ مجھے اب اس کی عادت سی ہوگئی تھی اور دادا کا بھی روز کا یہی معمول تھا وہ جب مجھے گرم گرم چائے کی چسکیاں لیتے اور سپڑ سپڑ کی آواز کے ساتھ چائے پیتے دیکھتے تو ان کی آنکھوں میں بلا کا پیار ہوتا تھا ۔ میں چائے پیتا جاتا اور وہ میرے سر پر ہاتھ پھیرتے جاتے۔ اسی دوران دادا نے مجھ سے بہت ہی پیار سے پوچھا ۔٬٬ کیوں بے ٹلّو، سنا ہے تو رات کو خواب میں ڈر گیا تھا ، سارے گھر کو پریشان کر دیا تونے ۔ تیرے رونے کی آواز سن کر میری بھی آنکھ کھل گئی تھی ۔ کیا دیکھا تھا تو نے؟،،
٬٬ وہ ،، وہ ،، دادا ہاﺅ تھا وہ ، ، مجھے ابھی تک ڈر لگ رہا ہے دادا،، میں نے رونی صورت بنا تے ہوئے کہا۔
٬٬ نہیں ٹلّو ، ڈرو مت میں ہوں نا ، ، اس کی ایسی کی تیسی،، دادا نے مجھے پچکارتے ہوئے کہااور میں نے جو خواب دیکھا تھا وہ رک رک کے سنایا، دادا مجھ سے کرید کرید کر خواب کی تفصیلات پوچھتے رہے ۔ پھر میں نے دیکھا کہ وہ جیسے غصے میں آ گئے یا شاید کسی سوچ میں گم ہو گئے ۔انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اماں کو پکارا۔٬٬ ارے او سعیدن، او سعیدن،،۔
دادا کی آواز سنتے ہی اماں دوڑی دوڑی آگئی تو دادا نے ان سے کہا کہ اسے لے جاﺅ اور ذرا کلّو کوبلوادو،،
٬٬ابا آپ ہی نے تو انہیں گھر میں آنے کے لئے منع کر رکھا ہے، ، ۔۔ ۔اماں نے ڈرتے ہوئے آہستہ سے کہا
٬٬ ہاں ، میں نے ہی اس خبیث کو منع کیا ہے مگر کیا کروں میرا بیٹا بھی تو ہے وہ ، کام کچھ ایسا ہی ہے کہ اسے بلانا ضروری ہے۔،، اماں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی دادا کو عجیب سی نظروں سے دیکھا اور میرا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے اپنے کمرے میں لے آئیں ۔
٬٬ اماں یہ کلّو ابا ہمارے ساتھ گھر میں کیوں نہیں رہتے۔،، میں نے اماں سے پوچھا تو وہ ٹال گئیں جبکہ گھر میں اکثر ان کے بارے میں بات ہوتی رہتی تھی۔ وہ میرے سب سے بڑے تایا ابا تھے ۔انہیں دادا نے الگ کر رکھا تھا اور ہمارے مکان کے پچھواڑے ہی انہیںگھر لے کر دیا تھا جس میں وہ ، میری تائی اور ان کا بیٹا فاروق رہتے تھے ۔ فاروق بھائی مجھ سے بہت بڑے تھے ، وہ بھی مجھے بہت پیار کرتے تھے ، مگر دادا کے ڈر سے کبھی کبھار ہی گھر آتے تھے۔گھر میں ہونے والی باتوں سے جو مجھے معلوم ہوا تھا وہ یہی تھا کہ ان کا پنڈتوں، جادو گروں ، مولویوں اور پیروں فقیروں سے بڑا میل جول تھا ۔مجھے یاد ہے ایک بار ہم سب کے سامنے دادا نے انہیں بہت ڈانٹا تھا ، گالیاں دی تھیں اور کہا تھا کہ جا میرے گھر سے نکل جا تو جادو ٹونے کے چکر میں پڑ گیا ہے خبیث، اپنے دین کو بھول جائے گا ، چلا جا میرے گھر سے ۔ پھر گھر میں ایک بیٹھک لگی تھی اور سب مل کر بیٹھے تھے جس میں دادا کو اس بات پر راضی کر لیا تھا کہ وہ کلّو تایا کو گھر کے پچھواڑے جو چھوٹا مکان بند پڑا ہے اس میں رہنے دیں ۔اس کے بعد سے وہ گھر میں کبھی نہیں آئے ۔ہاں فاروق بھائی اور بڑی تائی کبھی کبھار جب دادا سوئے ہوئے ہوتے تو کچھ دیر کے لئے آجاتے تھے اور پھر چپ چاپ ہی چلے جاتے جس کی دادا کو بلکل بھی خبر نہیں ہوتی تھی۔
دوسرے دن کلو تایا اور فاروق بھائی صبح ہی آگئے ۔ ویسے تو ان کا نام کلیم الدین تھا لیکن ہم سب کے مقابلے میں ان کا رنگ ذرا کالا تھا، اور اس لئے ان کا نام کلو پڑ گیا تھا ، فاروق بھائی کا رنگ بھی گورا نہیں تھا۔کلو تایا کے چہرے پر خوشی جھلک رہی تھی ۔ مجھے اس بات پر کچھ حیرت سی ہو رہی تھی کہ ان کے چہرے پر داڑھی نہیں تھی جبکہ پہلے ہوا کرتی تھی ۔ ابا اپنے کمرے ہی میں تھے۔ کلو تایا کے آنے کا انہیں بھی پتہ چل گیا اوروہ بھی اپنے کمرے سے باہر آگئے۔ابا نے انہیں سلام کیا ، کلوتایا نے مجھے اپنی گود میں اٹھا لیا تھا اور پیار کر رہے تھے۔ دادا کو شاید ان کے آنے کی خبر ہو گئی تھی انہوں نے اپنی کڑک دار آواز میںپکارا۔ ابے کلو اندر آجا تجھ سے بات کرنا ہے ،،
کلو تایا مجھے گود میں اٹھائے دادا کے کمرے میں لے گئے۔
دادا نے کلوتایا کو گھور کر دیکھا، اورآہستہ سے بولے۔٬٬ کیا حال ہے کلو؟،،
٬٬ ابا ، آپ کی دعا سے ٹھیک ہوں، مجھے آپ نے بلوایا تھا اس لئے چلا آیا۔،، کلو تایا بولے
٬٬ ابے تو کیا میں نہیں بلواتا تو نہیں آتا تو؟۔ ،، دادا نے زوردار آواز میں کہا ۔٬٬ بیٹا ہے تو میرا ، راستے سے بھٹک گیا اس لئے تجھ سے ناراض ہوں، بیٹھ ادھر آ میرے پاس۔،،
کلو تایا نے مجھے گود سے اتارا اور دادا کی چارپائی کے قریب پڑے ہوئے ایک مونڈھے پر بیٹھ گئے ۔ فاروق بھائی بھی اندر آگئے اور دادا کو سلام کر کے وہ بھی دوسرے مونڈھے پر بیٹھ گئے ۔ ٬٬بیٹا فاروق کیسا ہے تو؟،، دادا نے انہیں شفقت سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
٬٬ جی دادا ٹھیک ہوں ،،۔ فاروق بھائی نے جواب دیا اور سر جھکا کر بیٹھے رہے۔
٬٬میں تم دونوں کے سامنے بات کر رہا ہوں دونوں غور سے سننا، اب فاروق بھی بچہ نہیں رہا اور تم نے تو گھاٹ گھاٹ کا پانی پی لیا ہے کلو اس لئے تمہارا مشورہ اور فاروق کی رائے چاہئے تھی مجھے ،، دادا نے دونوں کے چہرے پر جیسے کچھ پڑھتے ہوئے کہا۔ ٬٬ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔
جی ابا، آپ نے ٹھیک کہا ، میں خود آپ سے بات کرنے والا تھا،، کلو تایا نے دادا کی بات کاٹتے ہوئے کہا
٬٬مجھے اندازہ تھا کہ تم نے بھی حالات کے بگاڑ کو دیکھ لیا ہوگا۔،، دادا بولے ٬٬ اب ذرا دھیان سے سننا جو میں کہہ رہا ہوں،،
٬٬ ہاں ابا مجھے تو بہت پہلے ہی ان حالات کا اندازہ ہو چکا تھا، اس سے پہلے دسہرے پر بھی ایک ٹریلر چلا تھا اسے بھی ہم سب نے دیکھا تھا ، میں ہندوﺅں سے بھی میل جیل رکھتا ہوں اس لئے ان کی رگ رگ سے واقف ہوں ۔ آپ مجھ سے ناراض رہے ورنہ میں تو بہت پہلے اس پر بات کرنا چاہتا تھا مگر آپ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ راجہ ٹھاکر میرا دوست ہے میرا بہت مان رکھتا ہے ،، تایا کلو پھٹ پڑے۔
٬٬ ہاں راجہ ٹھاکرداس میرا بڑا مان رکھتا ہے جھک کر پرنام کرتا ہے مجھے۔،، دادا بولے
مگر اس کا بھائی آپ کی دوکان پر نظر گاڑ کر بیٹھا ہے ، آپ بنئے کی ذہنیت مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔،، کلو تایا نے کہا
٬٬ اچھا اب میری بات سنو۔،، دادا بولے۔٬٬ میرا منظور جو منہ سے کہتا تھا وہ سچ ہو جاتا تھا ، تم لوگوں نے اس کی قدر نہیں کی ، اس کو گندہ ہی کہتے رہے آخر وہ ہم سے ناراض ہو کر چلا گیا۔ اب یہ میرا ٹلو، ضیاءالدین بھی کبھی کبھی جو کہہ دیتا ہے وہ سچ ہو جاتا ہے، اس نے رات ایک خواب دیکھا ہے ، میں ہل کر رہ گیا ہوں اور میرے اندر سے کوئی کہہ رہا ہے کہ خطرے کی تلوار گاﺅں کے مسلمانوں پرلٹک رہی ہے، ہندو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں ۔،،
ہاں ابا یہی بات ہے ، مندر کا پنڈت ، آگ بھڑکا رہا ہے ہندوﺅں میں وہ مسلمانوں کے خون کا پیاسا ہے، پہلے اس کا بس نہیں چلتا تھا مگر اب مسلمانوں کا الگ ملک پاکستان بن گیا ہے تو وہ اپنے من کی پیاس مسلمانوں کے خون سے بجھانا چاہتا ہے۔،،تایاکلو بھی بھڑک اٹھے۔٬٬ ہم مسلمانوں کو اب سوچنا چاہئے ،اپنی جان بچانا چاہئے ورنہ مفت میں مارے جائیں گے۔،،
٬٬ یہ بتاﺅ گاﺅں میں مسلمانوں کے کتنے گھر ہیں۔،،دادا نے پوچھا
٬٬ابا مشکل سے ہمارے بیس بائیس گھر ہیں ۔پورا گاﺅں ہندوﺅں کا ہے ، دو گھر مسلمانوں کے اسٹیشن پر تھے مندر کے پاس۔، مگر پنڈت کی دھمکی پر رات وہ بھی چپ چاپ پسینجر ایکسپریس سے گاﺅں چھوڑ کر فرید آباد چلے گئے۔ سرائے میں ہمارے دس گھر ہیں ، تین گھر ہنومان چوک پر ہیں ۔ ایک گھر رحمان حلوائی کا ہے پانچ گھر شاہجہان پور والے روڈ پر ہیں اور ایک بے چارے مولوی نظام کا گھر ہے جو کٹارے والی حویلی کے پاس اپنے دو بچوں اور لنگڑی بیوی کے ساتھ رہ رہا ہے،،
٬٬ دادا ، ، دادا، ، ،میری مولوی جی سے بات ہوئی تھی انہوں نے مجھے بھی بتایا تھا کہ پنڈت نے گاﺅں چھوڑنے کا کہا ہے ۔،، فاروق بھائی ہکلاتے ہوئے بولے ۔ ٬٬ میںںں نے ان سے کہا تھا کہ آپ مولوی جی اکیلے ہیں کہیں چلے جائیں یہاں سے مگر وہ بولے کہ میں اکیلا نہیں ہوں میرا خدا میرے ساتھ ہے۔ ۔ ۔ ۔
٬٬ بس بس ، مجھے دکھ ہو رہا ہے بہت رنج ہے مجھے کہ اب ہمیں اپنے باپ دادا کی زمین چھوڑنا پڑے گی۔ نا یہ پاکستان کا چکر چلتا اور نہ ہندوﺅں کو شہ ملتی ، پہلے میں سوچ رہا تھا کہ راجہ ٹھاکر داس سے بات کروں گا مگر اب نہیں ، سب بیکار ہے،، دادا کا منہ سرخ ہو گیا ایسا لگ رہا تھا کہ وہ رو پڑیں گے۔
پاکستان تو بننا ہی تھا ابا، بنیا بڑا ظلم کرتا ہے مسلمانوں کے ساتھ ۔ اس نے ّج تک ہمیں دل سے قبول ہی نہیں کیا ، ہمارے بھی باپ دادا اور ان کے بھی بڑے یہیں پیدا پوئے یہیں مر کھپ گئے مگر وہ ہمیں دھرتی پر بوجھ سمجھتے ہیں۔ ،، تایا کلو بولے ۔٬٬لیکن ابا ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ہمیں جلد سے جلد گاﺅں چھوڑنے پر سوچنا چاہئے ، مجھے مسلمانوں کی لاشیں گرتی نظر آ رہی ہیں ،، کلو تایا نے کہا ۔ رات میں قلعے کے پچھواڑے گیا تھا ایک ہندو دوست سے ملنے مگر اس نے ملتے ہوئے جو رویہ رکھا اور مجھے چلے جانے کے لئے کہا تو مجھے اسی وقت کھٹکا ہو گیا تھا کہ اب ہمیں کچھ سوچنے کا وقت آگیا ہے ،،
٬٬کسی طرح گاﺅں کے دوسرے مسلمانوں کو بھی ہوشیار کرنا ہوگا تاکہ وہ کسی غفلت میں نہ رہیں۔،، دادا نے کہا
ابا میں تو لوگوں کو بہت پہلے ہی ہوشیار کر چکا ہوں ، کچھ تو جانے تیار بیٹھے ہیں آج یا کل نکل جائیں گے یہاں سے،، تایا بولے ۔٬٬ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا کریں اورکیسے جائیں،،۔
ابھی بات ہو ہی رہی تھی کہ ہماری حویلی کا گیٹ بند ہونے کی زوردار آواز سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی تیز تیز قدموں سے کچھ لوگوں کے چلنے کی آوازیں بھی کانوںمیں پڑیں۔ ہم سب ٹھٹک کر رہ گئے اور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔ اسی وقت بدرو تایا کمرے میں داخل ہوئے اور ان کے پیچھے ابا بھی تھے ، بھائی سلام بھی ان کے ساتھ تھے ۔ ان سب کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتے دادا نے اپنی کڑک دار آواز میں پوچھا ۔٬٬ ابے کیا ہوا ، کیوں گھبرائے ہوئے ہو؟،،
ابا وہ دوکان کے پاس قلعے والی سڑک پر رحمان حلوائی کے چھوٹے بھائی کو کسی نے چھرا مار دیا ، کوئی اسے بچانے نہیں آیا وہ وہیں دم توڑ گیا ۔اس کے بعد قلعے کی پولیس آئی اور مرنے والے کو اٹھا کر لے گئے ۔ بازار میں بھگدڑ مچ گئی ۔ جو دوکانیں کھلی تھی وہ بھی بند ہوگئیں۔،، تایا بدرو نے دادا کو بتایا۔
٬٬ہم نے بھی جیسے ہی دوکان کھولی تھی، ویسے ہی بند کر کے گھر واپس آگئے ۔ ،، ابا نے گھبرائے لہجے میں کہا (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز :قسط نمبر 39 

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے