سر ورق / سفر نامہ / دیکھا تیرا امریکہ۔ رضا الحق صدیقی۔

دیکھا تیرا امریکہ۔ رضا الحق صدیقی۔

نیویارک

نیو یارک یا نیو نیدر لینڈ

عدیل نے گاڑی آئی95 پر ڈال دی،ساتھ ہی کہنے لگا یہ انٹراسٹیٹ ہائی وے ہے۔ میری لینڈ سے نیویارک تک اس پر جو ریاستیں آئی۔95پر آئیں گی پہلے واشنگٹن ،ڈیلاویئر،پینسیلونیا،نیو جرسی اور پھر نیویارک۔ویسے تو اور بہت سی ریاستوں کے بائی باس رستے میں آئیں گے لیکن یہ وہ ریاستیں ہیں جن میں سے ہوتے ہوئے ہم نیویارک پہنچیں گے بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہو گا کہ ببلی بھائی(شعیب پیرزادہ) کے پاس بروکلین،نیویارک پہنچیں گے۔

نیویارک اور نیو جرسی کو دریائے ہڈسن ملاتا ہے اس پر بنا، پٹنزی برج، تین میل لمبا ہے۔دریا یہاں سبک خرامی سے بہتا ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے خاموش دریا ہو،اس کے دونوں کناروں کی ڈھلوانوں پر نیچے تک مکان بنے ہوئے ہیں۔رات کے وقت اس پل پر سے گزرنے کا اپنا ہی مزا ہے۔مکانوں میں جلنے والی بتیوں کی پانی میں جھلملاہٹ عجیب نظارہ پیش کرتی ہے۔اسی طرح شعیب پیرزادہ کے بروکلین میں گھر کے نزدیک ،وریزونا برج ،کی لائیٹنگ بھی دل کو موہ لیتی ہے۔

شعیب پیرزادہ، ہماری بیگم کا ماموں زاد بھائی ہے،ہم ابھی پاکستان سے چلے بھی نہیں تھے کہ اس کا فون آ گیا کہ اس بار میرے پاس رہنے کے لئے زیادہ سا وقت نکال کر آنا،ہم نے وعدہ کر لیا تھا اور اسی وعدے کو ایفا کرنے اور گھومنے کی نیت سے نیویارک جا رہے تھے۔

امریکہ میں جا بجا بنے یہ برج اپنی جگہ عجائبات ہیں۔ان پلوں کی خصوصیت یہ ہے کہ دونوں کناروں پر تھوڑی دور اندر تک ستون ہیںجن پر یہ پل کھڑے ہیں باقی حصہ بغیر ستونوں کے ہے،اربوں ٹن لوہے سے بنے یہ پل جن پر ہر لمحہ ٹریفک چلتی رہتی ہے اور کوئی ارتعاش بھی پیدا نہیں ہوتا کہ خوف آئے۔

نیویارک بہت بڑا شہر ہے، یہ دنیا کا سب سے بڑا شہر،اتنا طویل و عریض ہے کہ اسے کسی ملک کے برابر کہا جا سکتا ہے،صرف نیویارک سٹی ہی تقریباََ تین سو مربع میل پر محیط ہے،اضافی بستیاں اس کے علاﺅہ ہیں،یہ شہر پانچ علاقوں،مین ہاٹن،بروکلین،دی برونکس۔کوئنز اور سٹیٹن آئی لینڈ پرمشتمل ہے

سن1670میں لندن میں چھپنے والی ڈینل ڈین ٹن نے اپنی کتاب،، اے بریف ڈسکرپشن آف نیویارک میں اسے ،، نیو نیدرلینڈ،، کے نام سے پکارا ہے۔وہ لکھتا ہے۔

،،نیدر لینڈ کہلانے والا یہ خطہ، امریکہ کے شمالی حصوں،بسٹوکسٹ،نیو انگلینڈ اور ورجینیا میں میری لینڈ تک پھیلا ہوا تھا،یہ علاقہ اس وقت تک ابھی دریافت نہیں ہوا تھا لیکن اس کی وسعت کا اندازہ تین سو میل لگایا گیا تھا،اس خطے میںبہنے والے بنیادی دریا،دریائے ہڈسن،دریائے راریٹناور دریائے ڈیلے ور بے تھے۔اور اس علاقے کے مرکزی جزیروں میں مین ہاٹن کے ساتھ دو اور جزیرے شمال کی جانب لونگ آئرلینڈ اور مغرب کی جانب سٹیٹن آئر لینڈ متصل ہیں۔آج تقریباََ ساڑھے تین سو سال پہلے مورخ ڈینل ڈین ٹن نے نیویارک کو نیونیدر لینڈ کے نام سے تین جزائر پر مشتمل بتایا تھاآج کانیویارک پانچ علاقوں پر مشتمل ہے،اس وقت جو گوشے بے نقاب نہیں ہوئے تھے وہ بھی سامنے آچکے ہیں،کسی زمانے میں یہ الگ الگ شہر تھے لیکن پلوں،سڑکوں اور ٹنلوں کے ذریعے ایک ہی شہر بنا دیا گیا ہے۔

نیویارک اپنی طرز کا انوکھا اور منفرد شہر ہے۔یہاں دنیا کے مختلف ممالک کے لوگ بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔اس کی آبادی اگر اضافی بستیوں کو بھی ملا لیا جائے تو دو کروڑ سے بھی زیادہ ہو گی۔یہ شہر عمودی بھی ہے،افقی بھی۔۔

نیویارک سٹی کے بارہ ایونیو ہیں جنہیں متوازی سڑکیں کاٹتی چلی جاتی ہیں۔ایونیو بھی متوازی ہیںاور سڑکیں بے شمار ۔۔۔یہاں پتہ تلاش کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ فلاں ایونیو کی سٹریٹ نمبرفلاں پر چلے جائیں۔ایونیوز اور سٹریٹس کے متوازی ہونے سے بہت بڑے بڑے چوراہے بن جاتے ہیں۔

سڑکوں پر ٹریفک بے تحاشہ ہوتی ہے،پیدل چلنے والوں کے لئے ٹریک بنے ہوئے ہیں جہاں پیدل چلنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کھوے سے کھوا چھلتا ہے،

نیویارک خوبیوں اور خامیوں کا مظہر شہر ہے۔یہ اپنی طرز کا انوکھا علاقہ ہے۔یہاں دولت بھی بے شمار ہے اور غربت بھی۔اکثر فٹ پاتھوں پر مرد،عورتیں بیٹھے نظر آئیں گے جنہوں نے پلے کارڈ پکڑے ہوتے ہیں یہ بھی مانگنے کا ایک ڈھنگ ہے۔

نیویارک کی سڑکیں میل ہا میل لمبی ہیں،اس کا ساحل سمندر تقریباََ اٹھارہ میل پر محیط ہے۔اس گنجان آباد شہر میں پارکوں کی بھی کمی نہیں ۔کوئی گیارہ سو کے لگ بھگ پارک ہیں نیویارک میں۔سینکڑوں کھیلوں کے میدان ہیں،چار سو کے قریب تھیٹر ،بے شمار میوزیم،آرٹ گیلریاں،ہزاروں سکول کالجز اور یونیورسٹیاں ہیں۔

شہر میں نئے پرانے تین چار ہزار گرجا گھر بھی ہیں۔نیویارک جتنا بڑا شہر ہے اس میں اتنی ہی بڑی بڑی چیزیں ہیں،سو سے زیادہ سکائی سکریپرز ہیں جو آسمان سے باتیں کرتے محسوس ہوتے ہیں۔انڈر گراﺅنڈ سب وے کا جال بچھا ہے۔سب وے ریلوے شروع تو لندن سے ہوئی تھی۔لندن میں اس کا آغاز سن1863میں ہوا تھااور ٹرینیںسٹیم سے چلتی تھیں۔سن 1896 میں یہ ٹرینیں بجلی سے چلنا شروع ہوئیں۔نیویارک میں پہلی سب وے 1904میں چلائی گئیں۔اس وقت اس کا ٹریک صرف نو میل لمبا تھا،اس وقت نیویارک کا سب وے دنیا میں سب سے بڑا ہے۔ انڈر گراونڈ ریلوے ٹریک اب میلوں پر پھیلا ہوا ہے،یہ دنیا کا سب سے بڑا ریلوے کا نظام ہے جس پر روزانہ چالیس سے پچاس لاکھ افراد سفر کرتے ہیں۔ٹیکسیوں،بسوں اور کاروں سے آنے والے افراد کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیویارک کتنا بڑا اور کتنا مصروف شہر ہے۔

مین ہاٹن کا درمیانی علاقہ قابلِ دید مقامات کا مرکز ہے۔یہاں بڑے بڑے ہوٹل ہیں،اقوامِ متحدہ کے صدر دفاتر ہیں،گراﺅنڈسنٹرل ریلوے اسٹیشن،نیویارک پبلک لائبریری،راک فیلرسنٹر،چینل گارڈن،واشنگٹن اسکوائر،ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ جیسی چیزیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔کسی زمانے میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر بھی دیکھنے کی جگہ تھی لیکن نائن الیون کے واقعہ کے بعد ٹریڈ سنٹر دوباہ بنانے کی بجائے اس جگہ کو میموریل پارک بنا دیا گیا ہے اور اس جگہ کو گراﺅنڈ زیرو کا نام دیا گیا ہے۔

ٹائم سکوائر اور براڈ وے کے نام پوری دنیا میں مشہور ہیں۔یہ علاقے 42 سے47سٹریٹ کے درمیان ہیں۔ٹائم اسکوائر تھیٹر،سینمااور شو بز کے لئے مشہور ہے۔یہاں کی رات اتنی روشن ہوتی ہے کہ دن کی روشنی اس کے آگے شرماتی ہے۔

بڑے بڑے بینک،انشورنس کمپنیاں،پرشکوہ عمارتیں اور سکائی سکریپرز براڈوے کی وال سٹریٹ میں ہیں۔بڑے بڑے اخبارات کے دفاتر بھی یہیں ہیں۔یہ امریکہ کی مالیاتی شہ رگ ہے یہاں صنعت و تجارت اور کاروبار کے عالمی مراکز ہیں۔

 

مجسمہِ آزادی اور امریکہ کا گیٹ وے

چھٹی کیا ہوتی ہے،اس سے لطف اندوز کیسے ہوا جاتا ہے یہ کوئی امریکیوں سے پوچھے،میں نے کہیں ذکر کیا تھا کہ یہ لوگ پانچ روز سر جھکا کر کام کرتے ہیں لیکن ہفتہ ،اتوار اس طرح گذارتے ہیں کہ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان سا عیاش شاید ہی کوئی دنیا میںاور ہو۔

عدیل کو امریکہ میں رہتے ہوئے پانچ سال ہو گئے ہیں اور وہ بھی عادتوں کے اعتبار سے آدھا امریکی ہو چکا ہے۔آج کل ہمیں سیر کرانے کے لئے اس نے پوری ایک ہفتہ کی چھٹیاں لی تھیں تاکہ نیویارک کو اچھی طرح دیکھ لیا جائے۔اب وہ سات دن خود بھی گھومنا چاہتاتھا اور ہمیں بھی گھمانا چاہتا تھا،اپنے ایک ایک لمحے کا پورا پورا استعمال کرنا چاہتا تھا۔

شعیب پیرزادہ،جو ہماری بیگم کے کزن ہیں اور برکلین میں برائیٹن بیچ کے قریب رہائش پذیر ہیں،کے گھر پہنچے، ابھی کچھ ہی دیر گذری تھی کہ عدیل کہنے لگا ٹائم ضائع نہیں کرنا ہے،تیار ہو جائیں آج ہم مجسمہِ آزادی دیکھنے چلیں گے۔

،،یار دم تو لے لینے دو،چلتے ہیں،،

میں نے جواب دیا

اور اب ہم مین ہاٹن جا رہے تھے،نجانے نیویارک کہاں تھا،یہاں مین ہاٹن تھا،برکلین تھا،کوئینز تھا،بروکس اور سٹیٹن تھا،نہیں تھا تو نیویارک نام کا کوئی شہر نہیں تھا،نیویارک ریاست انہی پانچ شہروں پر مشتمل ہے۔ امریکہ میں جب نیویارک سٹی کا ذکر ہوتا ہے تو مین ہاٹن کو ہی نیویارک کہا جاتا ہے۔

ہم باتیں کرتے ہوئے ایک سر سبز علاقے میںپہنچ گئے تھے عدیل نے بتایا کہ یہ بیٹری پارک ہے جو ایک وسیع و عریض سیر گاہ ہے،یہاں سے دور سمندری جزیرے پر کھڑا مجسمہ آزادی نظر آتا ہے۔درمیان میں سمندر کا پتن حائل تھا اس لئے فیری سے جانا ضروری ہو گیا تھااور اس لئے بھی کہ اپنے ہاتھ میں مشعل لئے کھڑی خاتون نا تو میری محبوبہ تھی کہ کچے گھڑے پر سوار ہو کر پتن کراس کرتی،وہ تو ٹارچ سے مجھے راستہ دکھا رہی تھی کہ میں تو اپنی مسند پر بیٹھی ہوں اگر میرا جلوہ دیکھنا ہے تو آ جاﺅ۔

ہم اس وقت بحرا وقیانوس کے ساحل پر کھڑے تھے،یہاں لوگوں کا جمِ غفیر تھا،فیریاں آ اور جا رہی تھیں،لیکن ہمارے اور فیری کے درمیاں امریکی سماج حائل تھا،ایک طویل قطار ہمارے آگے موجود تھی جو دھیرے دھیرے آگے کھسک رہی تھی اور ساحل کے ساتھ بنی ایک عمارت میں داخل ہو رہی تھی،جب ہم اس عمارت میں داخل ہوئے تو ایسا لگاکہ ہم ابوظہبی کے ہوائی اڈے کے پری کلیرنس روم میں داخل ہو گئے ہوں،وہاں تو اتنی تلاشی نہیں لی گئی تھی جو یہاں لی گئی،جامہ تلاشی ہوئی،بیگ تلاشی اور پھر جیب تلاشی ہوئی،پینٹ کی بیلٹ اتروئی گئی،بوٹ اتروالئے گئے،سکینر سے گذارا گیابس کتوں سے سنگھوانا رہ گیا تھا،

آزادی کے مجسمے کو قریب سے دیکھنے کے چکر میںاپنی توآزادی کا بینڈ بج گیا۔

اس وقت اچانک میرے کانوں میں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کے الفاظ گونجنے لگے جو انہوں نے اپنے شہرہ آفاق خطاب میں کہے تھے

،،میرا ایک خواب ہے کہ ایک دن آئے گا جب یہ قوم اٹھ کھڑی ہو گی اور اپنی تشخیص کو صحیح معنوں میںپہچاننے اس آئینی حقیقت کا خود ثبوت بنے گی کہ دنیا کے تمام انسانوں کو برابری کی بنیاد پر پیدا کیا گیا۔

میرا ایک خواب ہے کہ ایک دن آئے گا جب جارجیا کی سرخ پہاڑیوں پر غلام کسانوں کے بیٹے اور غلاموں کے آقاﺅں کے بیٹے بھائی چارے کی فضا میں ایک میز پر بیٹھنے کے قابل ہو جائیں گے

میرا ایک خواب ہے کہ ایک دن آزادی اور انصاف کے لئے ترسی ہوئی مسی سیسپیMISSISSIPPI جیسی صحرائی ریاست بھی آزادی اور انصاف کے نخلستان میں تبدیل ہو جائے گی۔

میرا ایک خواب ہے کہ میرے چار بچے ایک دن ایک ایسی قوم میں زندگی بسر کریں گے جہاں انہیں رنگ و نسل کی بجائے ان کے کردار کی بنا پر پرکھا جائے گا،I have a dream today،،

ڈاکٹر لوتھر کنگ نے امریکہ کی آزادی اور مجسمہِ آزادی کی تنصیب کے بہت بعد جب واشگٹن ڈی سی میں ایک مارچ کے درمیان یہ خطاب کیا تھا تو شاید آزادی ملنے کے باوجود کالوں سے ایسا ہی ہتک آمیز سلوک روا رکھا جاتا ہو گا جیسا صرف آزادی کے مجسمے کو دیکھنے کے لئے جانے والے میرے جسے تمام افراد سے روا رکھا گیا تھا۔

یہ آزادی کا کون سا رخ تھا میں نہیں سمجھ پایا،شاید ڈاکٹر لوتھر سمجھ گئے تھے،میںفیری میں بیٹھا،مجسمہ ِآزادی کو قریب آتا محسوس کرکے یہی سوچ رہا تھا۔

فیری میں داخلے کے بعد ہم اوپری منزل عرشے پر پہنچ کر ریلنگ کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو گئے ۔چاروں طرف پانی،ٹھاٹھیں مارتا غراتا لہراتا بحر اقیانوس اور دوسری جانب نیویارک کی اونچی اونچی پر شکو ہ عمارتیں کا نظارہ قابلِ دید تھا۔

فیری ایک جھٹکے سے آئرلینڈ کے بنے ہوئے ڈیک کے ساتھ لگا دی گئی اور ہم آزادی کے مجسمے کی ملکیت جزیرے کی سرزمین پر اتر گئے۔یعنی ہم نے بالآخر پتن کراس کر ہی لیا تھا۔

سن1820اور سن1920کے درمیان اندازاََ 34ملین افراد امریکہ میں داخل ہوئے جس میں سے تین چوتھائی وہاں مستقل رہائش کے لئے آئے۔ان نئے آنے والوں کے لئے امریکہ کی پہلی جھلک یہی مجسمہِ آزادی تھا۔

یہ مجسمہ ساز فیڈرک آگسٹی بر تھولڈی کا سوچا ہوا خیال،فرانس کی طرف سے دوستی کا تحفہ اور دو قوموں کے درمیان آزادی کیلئے کمٹمنٹ کا نشان ہے۔

یہ ایک پر شکوہ وجود ہے جو نیلے آسمان میں بلندہوتا چلاگیا ہے اور اس کے شاندار ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔یہ مجسمہ ایک عورت کا ہے۔اسے شروع میں دنیا کی آزادی کی روشنی کا مجسمہ کہا جاتا تھا۔سن1924میں اس جزیرے اور مجسمہِ آزادی کو قومی یادگار بنا دیا گیا ۔اس کا لباس لہراتے چغے اور چادروں سے مشابہ ہے اس کے سر پرتاج ہے۔دائیں ہاتھ میں مشعل اور بائیں ہاتھ میں کتاب ہے جس پر 4جولائی 1776لکھا ہوا ہے جو امریکہ کی آزادی کی تاریخ ہے۔مجسمے کے پیروں میں پڑی زنجیریں ٹوٹی ہوئی ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ ظلم اور جھوٹ کو روند ڈالا گیا ہے۔

اس مجسمے کی اونچائی نچلے پیڈسٹل سے اوپر ٹارچ تک تقریباََ305فٹ ایک انچ ہے لیکن مجسمے کی بذاتِ خودپاﺅںسے لےکر سر کی چوٹی تک اونچائی151فٹ ایک انچ ہے۔جبکہ جس پیڈسٹل پر یہ استادہ ہے اس کی اونچائی 89فٹ ہے۔فرانس نے اس دیوقامت مجسمے کے لئے چار لاکھ ڈالر مہیا کئے جبکہ89فٹ اونچے پیڈسٹل پر خرچ ہونے والی تقریباََ دو لاکھ ستر ہزار ڈالر کی رقم کے لئے ایک مہم چلائی گئی۔امریکی شاعرہ ایما لیزارس نے مجسمہ آزادی کو دنیا کے لئے راہبر مینارہِ نور قرار دیا۔ایک نظم جو اس نے پیڈسٹل کی تعمیر میں رقم اکھٹی کرنے کے لئے تخلیق کی تھی،وہ آج بھی مجسمہِ آزادی کے پیڈسٹل پر کندہ ہے۔

The New Colossus”

by Emma Lazarus

Not like the brazen giant of Greek fame,

With conquering limbs astride from land to land;

Here at our sea-washed, sunset gates shall stand

A mighty woman with a torch,

 whose flame

Is the imprisoned lightning, and

her name Mother of Exiles.

From her beacon-hand

Glows world-wide welcome; her mild eyes command

The air-bridged harbor that twin cities frame.

“”Keep, ancient lands, your storied pomp!”” cries she

With silent lips. “Give me your tired, your poor,

Your huddled masses yearning to breathe free,

The wretched refuse of your teeming shore.

Send these, the homeless, tempest-tost to me,

I lift my lamp beside the golden door!”

اس نظم نے مجسمہِ آزادی کو بھرپورمعٰنی عطا کر دئیے ۔

مشہوراور دیوقامت تو کئی اور مجسمے بھی ہیں جیسے روم میں نیرو کا دیوقامت مجسمہ،بدھا کا مجسمہ عقیدت اوربلندی کے لحاظ سے قابلِ ذکر ہے۔ شہرت کے اعتبار سے تو ابوالہول کا مجسمہ بھی کسی سے کم نہیںہے،خوف اور ڈر کا نشان ،لیکن عورت کی شباہت کے اس مجسمے کو کیا کہوں،اگر یہ آزادی کا مجسمہ ہے تو ڈاکٹر لوتھر کو 1963میں رنگ و نسل کے تعصب سے آزادی کے خواب کیوں دیکھنے پڑے۔

فیری سے اتر کر جب ہم مجسمہِ آزادی کی تلاش میں آگے کو چلے تو سامنے ایک ریسٹورنٹ نظر آگیا،عنایہ کو اب بھوک ستا رہی تھی اس لئے وہ کچھ کھانے کے لئے شور مچانے لگی،عدیل ریسٹورنٹ سے کچھ لینے چلا گیا،میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوے ٹوائلٹ کا رخ کیا،کیا کروں شوگر کی بنا پر بار بار حاجت ہوتی ہے۔اتنی بارونق جگہ پر میرا خیال تھا کہ مشکل ہے کہ ٹوائلٹ صاف ملیں۔

لیکن کمال کی بات ہے ٹوائلٹ اتنے صاف و شفاف تھے بلکہ چمک رہے تھے ایسے جیسے کبھی استعمال ہی نہ ہوئے ہوں۔ٹشو پیپرکے سیٹ کورز ایک طرف لٹک رہے تھے۔رول دوسری طرف،ہاتھ دھونے کےلئے بیسن تھے،آٹومیٹک ٹیگ جن کو دبانے سے لیکوڈ سوپ نکل آتا ہے۔اوپر ہوا سے ہاتھ سکھانے والی مشین۔۔۔کیا انتظام تھا اور وہ بھی پبلک مقام پر۔

میں باہر آیا تو عنایہ آلو کے فرائز کھا رہی تھی،ایک آلو کا چپس اس نے میری جانب بھی بڑھا دیا۔ساتھ ہی عدیل نے لیموں پانی کا ایک کنگ سائزگلاس یہ کہتے ہوئے پکڑا دیا کہ یہاں کھانے کو تو بہت کچھ ہے لیکن شاید ہم نہ کھا سکیں۔یہ لیموں پانی بہرطور حلال ہے۔

یہ دنیا کا مشہور ترین دیوقامت مجسمہ ہے لیکن بے جان بت کوئی کتنی دیر دیکھ سکتا ہے اور اس کے سحر میں کتنی دیر اسیر رہ سکتا ہے۔آپ یہاں آتے ہیں کچھ سیر کرتے ہیں،تھوڑی دیر مجسمے کو سر اٹھا کر دیکھتے ہیں،اس کے گرد حیرت زدہ آنکھوں کے ساتھ پھرتے ہیں،لیموں پانی کا گلاس ختم کرتے ہیں،دوچار سلفیاں بناتے ہیں اور اگر کوئی ساتھ ہے تو اسے تصویر کھینچنے کے لئے کہتے ہیں،پھر واپسی کے لئے فیری میں آ بیٹھتے ہیں۔اتنا سا ہے مجسمہِ آزادی کے جزیرے کا سفر۔

اب دل یہ چاہ رہا تھا کہ فیری بس چل پڑے اور ہمیں نیویارک پہنچا دے تاکہ کچھ پیٹ پوجا کی جا سکے لیکن شاید ابھی کچھ اور دیر ہمیں بھوک برداشت کرنی تھی۔

فیری لبرٹی آئی لینڈ سے تو ہمیں لے کر رخصت ہو گئی تھی لیکن سیدھی مین ہاٹن نہیں گئی تھی بلکہ ذرا رخ بدل کر ایک اور جزیرے پر جا رکی۔یہ ایلس آئی لینڈ ہے،وہ جزیرہ جہاں کسی زمانے میںامریکہ میں مستقل ر ہائش کے لئے آنے والوں کا پہلا پڑاﺅ ہوتا تھا یعنی اسے گیٹ و ے ٹو امریکہ کہا جا سکتا ہے۔تارکینِ وطن کی کشتیاں اور بحری جہاز یہیں لنگر انداز ہوتے تھے۔مہینوں کا دشوار گذرا سفر اسی ایلس آئی لینڈ پر ہوتا تھا لیکن یہ ان کا عارضی پڑاﺅ ہوتا تھا ۔فیری اسی جزیرے پر دس منٹ کے لئے رکی تھی۔سامنے ہی ایک معمولی سی عمارت تھی جس میں فیری سے اترنے والے سیاح ذوق و شوق سے جا رہے تھے مجھے یہ عمارت پسند نہیں آئی تھی بالکل اسی طرح جیسے مجھے وائیٹ ہاوس کی معمولی سی عمارت پسند نہیں آئی تھی جس میں دنیا کا طاقت ور ترین شخص رہتا تھا اس کی اس رہائش گاہ سے تو مجھے باغِ جناح کی جناح لائبریری زیادہ پسند ہے ۔

میرے پسند یا نا پسند کرنے سے کیا ہوتا ہے ،یہ وہ عمارت تھی جہاں تارکینِ وطن کی شناخت ہوتی تھی،امریکہ میں داخلے اور قیام کے سرکاری کاغذات تیار کئے جاتے تھے اور ان کی تیاری میں جتنا وقت لگتا تھا اتنے وقت کے لئے یہ تارکینِ وطن کا عارضی پڑاﺅ ہوتا تھا۔فیری میں بھی اور یہاں بھی عہدِ رفتہ کی بلیک اینڈ وائیٹ فلمیں دکھائی جا رہی تھیں۔دنیا بھر سے آزاد زندگی گذارنے کے نام پر غلاموں کی تازہ دم دستے یہاں ہر وقت پہنچتے رہتے ہیں،میں امریکہ کے اس گیٹ وے پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر واپس فیری میں آ گیا جہاں بچے میرا انتظار کر رہے تھے۔

جاری ہے۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفرنامہ بھارت حسن عباسی

  سفرنامہ بھارت حسن عباسی سکندر لودھی نے جب سولہویں صدی کی ابتدا میں دریائے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے