سر ورق / سفر نامہ / سفرنامہ بھارت۔۔۔ حسن عباسی۔۔ قسط نمبر 2

سفرنامہ بھارت۔۔۔ حسن عباسی۔۔ قسط نمبر 2

            یہ کہانی پھر سہی

اپنے پاسپورٹ پر انڈیا کا ویزہ دیکھ کر مجھے یوں لگا جیسے تاج محل کا کھویا ہوا رستہ دوبارہ مِل گیا ہو۔ میں بار بار پاسپورٹ کے صفحے پلٹ کر ویزہ دیکھتا اور ہر بار خوشی سے سرشار ہو جاتا۔ ایک ایسی خوشی جس کی کوئی انتہا نہیں تھی، جس کا کوئی کنارہ نہیں تھا وہ لا محدود تھی اور بے کراں تھی۔ میرے بچپن کا اکلوتا سپنا پورا ہونے والا تھا۔ تاج محل کو دیکھنے، چھونے اور اُس کے پہلو میں بیٹھنے کا خواب تعبیر ہونے والا تھا۔

بچپن کے دن میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے۔ نہر کنارا، اسٹیشن اور مروٹ کا رستہ جسے میں حسرت سے دیکھتا رہ جاتا تھا۔

آج سب فاصلے ختم ہو گئے تھے۔ وہ پرندے جو اُڑ کر آسانی سے اُس پار چلے جاتے تھے آج مجھے اُن کی قسمت پر رشک نہیں آرہا تھا۔ آج تو میں صرف اپنے مقدر پر نازاں تھا۔ میں خوشی اور سرشاری کی اس کیفیت میں نجانے کب سے گم تھا کہ کِسی نے سرگوشی کی۔

”وہ تاج محل سے بھی زیادہ خوبصورت ہے“۔

اچانک میرا دِل بجھ سا گیا۔ اُسے ایک بار بھی نہ دیکھ سکنے کے دُکھ نے میری آنکھیں بھگو دیں۔

ہائے وہ لوگ جو دیکھے بھی نہیں

یاد آئیں تو رُلا دیتے ہیں

یہ جو میں انڈیا جا رہا تھا اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں میرے شاعر ہونے کا عمل دخل ضرور کارفرما تھا ورنہ تاج محل دیکھنے کا سپنا شاید سپنا ہی رہ جاتا۔ ہمارے معاشرے میں شاعر کا امیج بہت ہی بُرا ہے۔ اُسے پاگل، خبطی، بیکار، غیر حقیقت پسند۔ عملی زندگی سے بیزار، اپنے فرائض سے بیگانہ، معاشرے کے لےے غیر مفید ہونے کے ساتھ ساتھ اُسے سگریٹ، چائے اور شراب کا رسیا بھی سمجھا جاتا ہے۔ اکثر والدین اپنے بچوں کو شاعروں کی صحبت سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔

کسی بھی شعبے کی بدنامی اور نیک نامی میں اُس شعبے سے منسلک افراد کا اہم کردار ہوتا ہے۔

میرے خیال میں اس صورتحال میں زیادہ تر قصوروار خود شاعر ہی ٹھہرتے ہیں۔ کچھ شاعروں میں بقول عطاءالحق قاسمی ”مینو فیچرنگ فالٹ (Manufateuring Fault) ہوتا ہے“ اس لےے وہ عمر بھر قبیح حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ کچھ اُن جیسا بننے کی کوششوں میں شعوری طور پر ایسا کرتے ہیں۔

بڑھی ہوئی شیو، لمبے لمبے بال، منہ میں پان، ہاتھ میں سگریٹ، پیلے دانت اور بغیر استری کے کپڑے، ہاتھ میں خستہ حال بیاض حضرتِ شاعر کا یہ حلیہ شاید کسی بھی دور کے معاشرے کے لےے آئیڈیل نہ ہو۔ سوائے اس قبیل کے چند شعراءکے۔

اس لےے اب اس قافلہ ¿ ہوشربا کی تعداد کم ہوتے ہوتے نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

آج کا شاعر حقیقت پسند، عملی زندگی میں آگے بڑھنے کا خواہاں اور ستاروں پر کمند ڈالنے کا جذبہ رکھتا ہے مگر افسوس کا امر یہی ہے کہ سوسائٹی میں ابھی تک شعراءکے متعلق تاثر وہی ہے اور رائے میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی۔ اب بھی اُسے خوابوں اور خیالوں میں کھوئی ہوئی مخلوق ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس لےے آج بھی کسی شاعر کے لےے بحیثیتِ شاعر اپنا تعارف کرانے کا مرحلہ مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ شاعروں کے متعلق معاشرے کی رائے وقت کے ساتھ ساتھ بدلنے کا امکان بہر حال موجود ہے اور ایسا غیر محسوس طریقے سے ہو بھی رہا ہے لیکن اب بھی خود شاعروں کو اپنے عمل، کردار اور حُلیے سے اپنا امیج بہتر بنانے کے لےے بہت محنت کرنا پڑے گی۔

میں یہ تو نہیں کہتا عرب کا وہ معاشرہ ہمیں چاہئے جس میں شاعر پیدا ہونے کی مائیں دُعائیں اور منتیں مانگتی تھیں۔ البتہ ایسے معاشرے کی خواہش ضرور ہے جس میں اگر کوئی شاعر آنکھیں کھولتا ہے تو اُس کے وجود کو غنیمت سمجھا جائے کیونکہ تخلیق کار اور غیر تخلیق کار میں بڑا فرق ہے۔

شاعر اور پیغمبر کو اکثر اوقات ایک جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ دار اعتراف نہیں کرتے۔ اہلِ شہر مخالفت پر اُتر آتے ہیں اور مذاق اُڑاتے ہیں۔

ہجرت کے بعد ہی اعتبار ملتا ہے۔

میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ والد صاحب مذہبی آدمی تھے۔ شاعری سے اُنھیں دور کا علاقہ بھی نہ تھا۔ اس لےے جب اُنھیں پتہ چلا کہ اُن کے فرزندِ ارجمند شاعرانہ منصب پر فیض ہو چکے ہیں تو اُنھوں نے خوب خوب کلاس لی۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ میری شاعری کی راہ میں جو کوہِ گراں تھا وہ ہٹ گیا۔ اب اندر کا خوف ختم ہو گیا تھا۔

ہم خبر اور خبر کے نتیجے سے عمر بھر ڈرتے رہتے ہیں۔

جب خبر آپہنچے، چاہے وہ کیسی ہی خوفناک ہو، اُس کا نتیجہ کتنا ہی بھیانک ہو۔ ہم دلیر ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اندر حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے ہم حالات کا مقابلہ کرنے کے لےے تیار ہو جاتے ہیں۔ اندر کا سارا ڈر ختم ہو جاتا ہے۔

والد صاحب کو پتہ چلنے اور ڈانٹ پڑنے کے بعد میرا ڈر بھی ختم ہو گیا تھا۔ میں بھی دلیر ہو گیا تھا۔

یار، احباب نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی طنز و تشنیع کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیا مگر میں نے حوصلہ نہیں ہارا ہر بار اُن کے ٹھٹھہ، مذاق سے میرے شوق کو مہمیز ملتی رہی۔

جب تک کوئی اناڑی ہو وہ مذاق ہی بنتا ہے مگر جیسے ہی وہ کھلاڑی بن جائے لوگ اُسے کندھوں پہ اُٹھا لیتے ہیں۔ شاعری ہی کی وجہ سے بعد میں مجھے اتنی عزت اور محبتیں ملیں کہ میں سب تلخیاں بھول گیا۔

اپنے شہر کے ایک مشاعرے میں جب میں نے اپنی نظم ”ماں“ سُنائی تو رشید عثمانی جن کے حالات زندگی اور کلام بی اے کی پنجابی میں بھی شامل ہے اُنھوں نے بار بار کہا:

”حسن عباسی اب لاہور چلا جائے گا“۔

مجھے اُس دِن اُن کا اس طرح بار بار کہنا عجیب سا لگا مگر اُس دن کے بعد مسلسل حالات ایسے ہوتے چلے گئے کہ بالآخر لاہور آنا ہی پڑا لاہور میں شب و روز کیسے گذرے یہ کہانی پھر سہی۔

—–٭٭٭—–

            محبت کی دیوار

ہم ساﺅتھ ایشین فریٹرنٹی (South Asian Fraternity) کے بینر تلے انڈیا جا رہے تھے۔ یہ تنظیم سارک ممالک کے شاعروں، ادیبوں اور فن کاروں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس تنظیم کے بہت طویل اغراض و مقاصد ہو سکتے ہیں۔ بہر حال ہم شاعروں ادیبوں کے لےے اس کے دو نکات اوّل برصغیر پاک و ہند میں امن کا قیام اور دوئم سارک ممالک کی عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی بات بہت پُرکشش تھی۔

انڈیا روانگی سے ایک روز قبل تنظیم کے دفتر میں اجلاس ہوا۔ وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ کشتی کے اندر میں اکیلا ہی نہیں بلکہ ہمراہ دریا جا رہا ہے۔ یہ وفد چالیس ارکان پر مشتمل تھا۔

خواتین کو ملکی آبادی کے لحاظ سے نمائندگی دی گئی تھی جس سے ایک بات تو یقینی تھی کہ سفر ”غیر دلچسپ“ اور ”بے نتیجہ“ نہ ہو گا۔

اگرچہ یہ اجلاس صرف ایک گھنٹے کا تھا پھر بھی اس میں بہت سے ”بھاشن“ دیے گئے اور یہ سب بھاشن اندرون ملک اور بیرون ملک ہمارے فائدے کے لےے تھے۔ حفاظتی تدابیر ضروری تھیں آخر ہم ایک دشمن ملک میں جانے کے لےے بے چین تھے۔ اور ہندوستان میں اس بے چینی کو لگام دینا ضروری تھا۔

وفد کے ارکان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ ہر شخص کے دِل میں کوئی نہ کوئی بڑی خواہش ضرور موجود تھی۔ کسی کے دِل میں نظام الدین اولیائؒ کے دربار پر حاضری دینے کی تمنا تھی کسی کو وہاں جا کر اک گونہ بے خودی دن رات چاہےے تھی۔ کسی کے دِل میں لال قلعہ اور جامع مسجد دیکھنے کی آرزو تھی تو کِسی کے دل میں امیر خسرو اور غالب کے مزار پر دعائے مغفرت پڑھنے کی خواہش، البتہ تاج محل دیکھنے کی خواہش سب کی مشترکہ تھی، میرے دِل میں یہ خواہش سب سے الگ اور سب سے جدا تھی۔

یہ نومبر کے دن تھے

ٹھنڈی ٹھنڈی دھوپ والے،

شرمیلے شرمیلے سے دن،

کُھل کر سامنے نہیں آتے تھے،

چُھپ چُھپ کر گذر جاتے تھے،

ٹھٹھرا ٹھٹھرا منظر،

سُوں سُوں کرتے لوگ،

ہوا چلتی تو یادوں کے ڈھیروں پھول کھلا جاتی،

میں اب ماضی کی کسی یاد میں گم ہونا نہیں چاہتا تھا کیونکہ میں اب یادوںکی تازہ بستیاں دِل میں آباد کرنے جا رہا تھا۔

اہلِ نظر اور اہلِ دل میں یہی تو فرق ہے۔

اہلِ دل صرف یادوں کی تازہ بستیاں آباد کرتے ہیں۔

ہم نے صبح آٹھ بجے ٹرین سے روانہ ہونا تھا۔

رات گذری خدا خدا کر کے۔

صبح میں نے بریف کیس میں چند سوٹ رکھے، جوتوں کے تسمے کھینچے اور اسٹیشن پہنچ گیا۔ لاہور کے ریلوے اسٹیشن کی عمارت ہلکی ہلکی دھند میں لپٹی ہوئی تھی۔ اس دھند میں سے دھوپ چھن کر عمارت پر پڑتی تو سُرخ اینٹوں سے بنی یہ عمارت دلہن کی طرح سُندر لگنے لگتی۔ تمام صبحیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ انسان کے اندر کی کیفیت اُنھیں خوبصورت یا بدنما بنا دیتی ہے۔

بلا شبہ یہ ایک سہانی صبح تھی۔

وفد کے ارکان ایک ایک کر کے پلیٹ فارم پر جمع ہوتے گئے۔ سمجھوتہ ایکسپریس پہلے سے ہماری منتظر تھی۔

گاڑی میں بیٹھا تو اپنے شہر کے بوڑھے ریلوے اسٹیشن اور ”ککڑ انجن“ کی یاد نے آنکھیں بھگو دیں۔

اب گاڑی آہستہ آہستہ پلیٹ فارم چھوڑ رہی تھی۔ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے مجھے ”مروٹ 36 کلومیٹر“ کا راستہ اچانک دوبارہ مِل گیا ہو۔

میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔

مگر میرے دِل میں تجسّس بھرا سوال اب بھی باقی تھا۔

”کیا اسٹیشن ماسٹر کی بیٹی واقعی تاج محل سے زیادہ خوبصورت تھی“؟

گاڑی نے دو تین ہچکولے لےے اور واہگہ اسٹیشن آگیا۔ گاڑی مسافر اُتار کر خاموشی سے غائب ہو گئی۔

چھوٹا سا پلیٹ فارم دیکھتے ہی دیکھتے مسافروں سے آباد ہو گیا تھا۔

پہلی بار انڈیا جانے والوں کی آنکھوں میں تجسّس اور چمک تھی۔ دوسری اور تیسری بار جانے والوں میں اعتماد اور بے نیازی تھی۔ وہ دونوں طرف کے لوگ جو کاروباری غرض سے اکثر آتے جاتے رہتے ہیں تجربہ کار کھلاڑیوں کی طرح ”سامان پار“ کر رہے تھے۔

امیگریشن کی بلڈنگ کیا تھی دو پلیٹ فارم کے درمیان ایک بڑا سا ہال کمرہ تھا جسے کمرئہ امتحان ہی کہنا چاہیے۔

اس ہال کمرے کی ساخت چڑیا گھر کے ہاتھی گھر جیسی تھی۔

اس عقوبت خانے کے متعلق میں نے بہت سے قصّے سُن رکھے تھے۔ یار لوگوں نے اس پُل صراط سے گذرنے کے ایسے خوفناک نقشے کھینچے تھے کہ خطرے سے نمٹنے کے لےے میں خود کو ذہنی طور پر تیار کر چُکا تھا مختلف کاونٹرز پر مسافروں کا اژدھام اور لمبی لمبی قطاریں دیکھ کر دِل ایک بار تو زور سے دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا کیونکہ اس بھیڑ اور ہجوم میں ایک چہرہ ایسا بھی تھا۔ جس کو دیکھتے ہوئے ہر پُل صراط سے گذرا جا سکتا تھا۔ میں نے کُچھ دیر اُس کی طرف دیکھا تو احساس ہوا وہ چہرہ تھکن چننے والا اور انتظار کی اذیت کم کرنے والا تھا۔

اس صبر آزما بھیڑ میں اُس کی موجودگی صحرا میں ٹھنڈے پانی کے چشمے جیسی تھی۔ پتہ ہی نہیں چلا اور ہال خالی ہو گیا۔

یوں لگ رہا تھا جیسے ایک لمحے میں زمانے گذر گئے ہوں۔ پتہ ہی نہیں چلا اور دُنیا خالی خالی سی لگنے لگی۔

کیونکہ وہ چہرہ اب کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

میں ہال کمرے سے باہر آنے والا آخری مسافر تھا۔

یہاں بھی وہی گاڑی، وہی مسافر، وہی چہل پہل، وہی دھکّم پیل البتہ پلیٹ فارم دوسرا تھا۔

میں کافی دیر اُس ”راجھستانی بیوٹی“ کو تلاش کرتا رہا مگر وہ کہیں نظر نہ آئی۔

کہیں یہ میرا وہم تو نہیں تھا۔

اس بار میں ڈبے میں کھڑکی والی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا اور باہر دیکھنے لگا اسٹیشن کی فضا بھی زندگی جیسی ہوتی ہے۔

اس کا ماحول بھی دُنیا جیسا ہوتا ہے

کوئی آرہا ہے۔

کوئی جا رہا ہے۔

لوگ مِل رہے ہیں۔

بچھڑ رہے ہیں۔

کسی کے ہاتھوں میں پھول،

کسی کی آنکھ میں آنسو،

کسی کو وقت پر گاڑی مِل جاتی ہے۔

کسی کی گاڑی چھوٹ جاتی ہے۔

کوئی ہمسفر اچانک ایسا بھی مِل جاتا ہے کہ زندگی بھر کا سفر لمحوں میں گذر جاتا ہے۔

وہی دُنیا جیسی افراتفری، وہی ہنگامہ۔

ہر شخص کے کندھوں پر سامان۔

دکھوں کی گٹھڑیاں۔

خواہشوں کے صندوق۔

یادوں کے بریف کیس۔

میں ان ہی خیالات میں گم تھا کہ گاڑی کچھوے کی رفتار سے چلنے لگی۔

گاڑی کی رفتار سے دِل کی دھڑکن زیادہ تیز ہوتی گئی۔

بہت اُجلا اور صاف دن ہر طرف بکھرا ہوا تھا۔ جیسے سفر کے لےے بنایا گیا ہو۔ 1947ءمیں جو لکیر کھینچی گئی تھی وہ اب دیوار بن چکی تھی اور یہ دیوار اب مجھے دور سے نظر آرہی تھی۔ مجھے بچپن سے ہی دیواروں سے خوف آتا ہے۔ دیواروں میں در ضرور ہونا چاہیئے!

چھت تلے میرا دم گُھٹتا ہے۔

اونچی اونچی، لمبی لمبی دیواریں۔

جب میں نے پہلی بار شاہی قلعہ دیکھا تو ڈر گیا تھا۔ اُس کے اندر جاتے ہوئے میں بہت خوفزدہ تھا۔

اُس کی دیواریں بوڑھی چڑیلوں سے زیادہ خوفناک تھیں،

اُن کے پورے جسم پر دانت اُگے ہوئے تھے۔ خون پی پی کر اُن کا بدن سُرخ ہو چکا تھا میں جتنی دیر وہاں رہا ”ماں“ سے چمٹا رہا اپنے آپ میں سمٹا رہا۔ اپنے شہر کی تنگ گلیاں، نحیف، کمزور اور خستہ دیواریں بھی ہمیشہ مجھے ڈراتی رہی ہیں۔ بارشوں کے موسم میں تو یہ ڈر کئی گُنا بڑھ جاتا تھا۔

مجھے یاد ہے ایک بار تیز بارش میں دیوار گرنے سے ایک بچہ ملبے کے نیچے دب کر مر گیا تھا۔

مجھے اُس کی ماں کی آنکھوں کے آنسو آج بھی یاد ہیں۔

میں سوچتا تھا کہ وہ انسان بہت خوش قسمت ہیں جن کی عمر کھلے آسمان کے نیچے گذرتی ہے۔

کٹی ہے عمر کُھلے آسمان کے نیچے

ہمیں خبر ہے رُتیں کس طرح بدلتی ہیں

بدلتی ہوئی رُتیں دیکھنے کے لےے میں اُن دنوں دیواروں سے بھاگ کر کسی ٹیلے پہ چلا جاتا اور گھنٹوں لیٹا رہتا تھا۔ چاندنی راتوں میں جب آسمان تاروں اور اشاروں سے بھر جاتا، صحرا کا سکوت کلام کرنے لگتا ”تو پھر ہم….“

ہم اکثر چاندنی راتوں میں صحرا کی طرف جاتے

وہ بھیگی ریت پر میرا اور اپنا نام لکھتی تھی

جب بھی زلزلہ کہیں قیامت ڈھا گیا تو دھیان اس طرف بھی گیا کہ اوپر والا نہیں چاہتا ہم اُس کی زمین پر دیواریں کھڑی کریں۔

شاید وہ ہمیں کُھلے آسمان اور آزاد فضا میں رکھنا چاہتا ہے۔ کُھلے آسمان اور آزاد فضا میں زندہ رہنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

میں جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا دیواروں کے خلاف میرا انتہا پسندانہ رویہ کم ہوتا گیا بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے جنھوں نے دیواروں کے متعلق میرے خوف کو کم کر دیا بلکہ اب تو اُلٹا مجھے ہر دیوار کی تعمیر کے پیچھے کوئی نہ کوئی خوف، کوئی نہ کوئی ڈر کارفرما نظر آنے لگا۔

جب سڑکوں پر حادثے بڑھ گئے، راستوں میں گولیاں چلنے لگیں، مارکیٹوں اور مسجدوں میں دھماکے ہونے لگے تو تحفظ دینے والی گھر کی دیواریں مجھے ماں کی بانہوں کی طرح خوبصورت لگنے لگیں۔

دیوارِ برلن گرانے والوں کی نسبت مجھے دیوارِ چین تعمیر کرنے والے ہاتھ زیادہ معتبر دکھائی دینے لگے۔

اب میرے گھر کی دیواروں نے میرے اندر کا سارا خوف چُن لیا ہے، اب میں اس بات کا بھی قائل ہو گیا ہوں کہ ایک گھر میں رہ کر ایک دوسرے کی زندگی اجیرن بنانے کی بجائے بہتر ہے کہ دو گھروں میں محبت سے رہا جائے۔

محبت کی دیواریں تو تعمیر کی جا سکتی ہیں۔

پاکستان اور انڈیا کو تقسیم کرنے والی دیوار جو حدِّ نظر تک پھیلی ہوئی تھی ہم اُسے محبت کی دیوار بنانا چاہتے تھے۔

گاڑی اب نوگو ایریا عبور کر کے انڈیا میں داخل ہو رہی تھی۔ میں نے آخری بار پاکستان دیکھنے کے لےے کھڑکی سے جھانکا تو دور ایک ٹریکٹر والا ہل چلا رہا تھا اُس نے اپنے ٹریکٹر پر پاکستانی پرچم لگایا ہوا تھا۔

میں نے سبز ہلالی پرچم کو محبت بھرا الوداعی سلام کیا۔

گاڑی اب مکمل طور پر انڈیا میں تھی۔ باوردی گُھڑ سوار جو کہ گھات لگائے کھڑے تھے دونوں طرف گاڑی کے ساتھ ساتھ گھوڑے دوڑانے لگے۔ بالکل فلموں والا منظر تھا۔

مجھے یونہی خیال آیا جیسے یہ سرحدی ڈاکو ہیں۔ ابھی ٹرین کے اندر چھلانگیں لگا کر آجائیں گے۔ اُس ”راجھستانی لڑکی“ کو اغوا کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں اپنی شرٹ کے بازو اوپر کر کے اُن کی خوب ”دُھلائی“ کروں گا یہاں تک کہ وہ بھاگ جائیں گے۔ پھر وہ حسینہ مہہ جبینہ میرے پاس آکر جُھکی جُھکی نظروں سے محبت بھرا شکریہ اس طرح ادا کرے گی جیسے وہ مجھ پر لاکھ جان سے فدا ہو گئی ہو۔

میں اِنھی سوچوں میں گم تھا کہ سامنے والی سیٹ پر بیٹھے بوڑھے شخص نے کھانستے ہوئے کہا:

”باﺅ جی سگریٹ ہے“۔

میرے خوابوں کا طلسم ٹوٹ چکا تھا۔ میں نے اُس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔

ایک مسافر بتا رہا تھا کہ یہ سِکھ گھڑ سوار انڈین آرمی کے جوان ہیں۔ گاڑی کے ساتھ گھوڑے اس لےے دوڑا رہے ہیں کہ کہیں کوئی پاکستانی جاسوس نیچے اُتر کر ”اپنا کام“ نہ دکھا جائے۔

میں نے گاڑی کی رفتار پر غور کیا تو واقعی نیچے اُترنے کو جی چاہتا تھا مگر گھڑسواروں کی بندوقیں دیکھ کر میں نے اپنا اِرادہ بدل لیا۔

ہماری ہی زمین کی طرح وہی ہری بھری زمین تھی مگر وہ تازگی اور خوشبو نہیں تھی۔

ویسی ہوا اور ویسی فضا تھی مگر وہ اپنائیت نہیں تھی۔

وہی نیلا آسمان مگر اجنبی اجنبی سا،

واہگہ کی طرح چھوٹا سا اسٹیشن اٹاری مگر بیگانہ بیگانہ سا،

سِکھ میزبانوں کی کثیر تعداد ہمارے استقبال کے لےے میڈیا کی فوج ظفر موج کے ساتھ موجود تھی۔

ڈھول بج رہے تھے، بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے۔ پھولوں کی پتیوں کے ساتھ ساتھ دِل و جان بھی نچھاور کیے جا رہے تھے۔

پلیٹ فارم پر ہر طرف ”سلام علیکم جی“ اور ”ست سری آکال“ کی آوازیں تھیں مگر گنگا اُلٹی بہہ رہی تھی مسلمان ”ست سری آکال“ جبکہ سکھ ”سلام علیکم“ کہہ رہے تھے، دو دشمن ملکوں کے لوگ آپس میں اس طرح گلے مِل رہے تھے، جیسے ایک دوسرے کے وجود کا حصہ ہوں۔ ماضی کی نفرتیں جب محبت میں بدلتی ہیں تو وہ جوش، جذبہ اور ولولہ بھی دیکھنے والا ہوتا ہے۔ کچھ ایسا ہی سماں ”اٹاری“ کے ریلوے اسٹیشن پر بندھ گیا تھا۔

۲۲ سال بعد پاکستان کا کوئی وفد پنجاب آیا تھا۔ خالصتان کی تحریک آخری سانسیں لے رہی تھی اور اب انڈین گورنمنٹ کو پاکستانی شاعروں ادیبوں اور فن کاروں سے کم از کم کوئی خطرہ نہ تھا۔

صحافی اپنے روایتی انداز میں سوال و جواب میں مشغول تھے۔ پاک انڈیا تعلقات، سیاچن گلیشر اور مسئلہ کشمیر پر گرما گرم بحث جاری تھی۔ میں بنچ پر بیٹھا لائن کے اُس پار کچے رستے کو دیکھ رہا تھا جو گندم کے کھیتوں کو چیرتا ہوا گاﺅں تک جا رہا تھا۔

گاﺅں میں ہر طرف درخت ہی درخت تھے۔

سرسبز گھنے درخت۔

ہر طرف چھاﺅں ہی چھاﺅں تھی۔

سر سبز گھنی چھاﺅں۔

کچّے رستے زیادہ دور نہیں لے جاتے، مٹی سے جوڑ کر رکھتے ہیں۔ میں جب تک کچے رستوں پر چلتا رہا اپنوں میں رہا۔

پکی سڑکیں بہت ظالم ہیں ہزاروں میل دور لے جاتی ہیں۔

پکی سڑکوں پر جانے والوں کے انتظار میں گاﺅں کے کچے رستے بوڑھے ہو جاتے ہیں۔

آنکھیں دیواروں پر دیﺅں کی طرح جلتی رہتی ہیں مگر ہر شام تانگہ گاﺅں میں خالی آتا ہے۔

منتظر رہتی ہیں چولہوں پر کھنکتی چوڑیاں

لوٹ آنا تم بھی گھر میں شام جب ڈھلنے لگے

قریب ہی شاید کوئی گرلز اسکول تھا۔ چھٹی ہو چکی تھی۔ کچے راستے پر طالبات سائیکل چلاتی ہوئی نظر آئیں۔

”تتلیاں جیسے گاﺅں کی طرف اُڑی جا رہی ہوں“۔

لڑکیاں سائیکل چلاتے ہوئے اتنی خوبصورت لگتی ہیں کہ Courtesy کے طور پر لڑکوں کو سائیکل چلانا چھوڑ دینا چاہئے۔

اٹاری اسٹیشن پر ہر طرف سرداروں کی پگڑیاں ہی پگڑیاں نظر آرہی تھیں۔ اونچی اونچی، چوڑی چوڑی، رنگ برنگی، ہر طرح اور ہر سائز کی پگڑیاں۔

ایک میلے کا سماں تھا۔

صحافی اپنی ”کاروائی“ سے فارغ ہو چکے تھے۔ چند قدم کے فاصلے پر، اسٹیشن کے دوسری طرف بھی ایک گاﺅں تھا۔ ہم سرداروں کی قیادت میں لانگ مارچ کرتے ہوئے اُس طرف چل پڑے۔

گاﺅں کے لوگ بالکل اُس طرح ہمیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھ رہے تھے جیسے ہم اُن کو دیکھ رہے تھے۔

دونوں ملکوں میں تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں لہٰذا یہ عوام کو خود پیدا کرنے پڑتے ہیں۔ سارا کام دیکھنے سے خراب ہوتا ہے پھر بھی گاﺅں والے ہمیں اور ہم اُن کو دیکھے جا رہے تھے۔

گاﺅں کے کچھ لوگ اب اپنا اپنا کام چھوڑ کر ہمارے ساتھ چلنے لگے تھے بچے بھی اپنا کھیل بھول گئے تھے شاید یہ منظر اُن کے لےے زیادہ دلچسپ تھا۔

غبار اور دھول کے حصار میں ہم ایک بہت بڑے پیپل کے درخت تلے پہنچ گئے جہاں چند سرکاری گاڑیاں اور ایک بس ہماری منتظر تھی۔ گاڑیوں اور بس کی حالت بھی گاﺅں جیسی تھی۔ ہمارا اگلا پڑاﺅ امرتسر تھا۔

بس میں زیادہ رونق تھی اس لےے میں اُس میں جا کر بیٹھ گیا۔

سردار جی نے سلف لگایا، ڈرائیور شیشے میں ”پگڑ“ درست کیا، واہے گرو کہا اور گیر لگا دیا۔

کچے رستے پر سرکاری گاڑیوں سے کچھ فاصلے پر ہولے ہولے ہچکولے کھاتی بس، بس کے پیچھے دوڑتے گاﺅں کے بچے، سرسبز کھیت اور رفیع کی مدھر آواز۔

پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا

پردیسیوں کو ہے اک دن جانا

دِل خوش بھی تھا اور اُداس بھی پھر پتہ نہیں کس وقت مجھے نیند آگئی۔

—–٭٭٭—–

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفرنامہ بھارت حسن عباسی

  سفرنامہ بھارت حسن عباسی سکندر لودھی نے جب سولہویں صدی کی ابتدا میں دریائے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے