سر ورق / سعادت حسن منٹو / اس ہفتے کے منظوم قہقے ۔۔۔۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے منظوم قہقے ۔۔۔۔ نوید ظفر کیانی

سیلفیوں میں بٹا ہوا بھیجا

ایک چہرہ بنا ٹھنا بھیجا

پہلے بھیجا میاں کو تھانے میں

اور پھر ناشتہ بنا بھیجا

پھول گوبھی کا وہ بھی شاپر میں

ہائے کھڑکی سے اس نے کیا بھیجا

ہر ولیمے کے بعد پیٹو نے

سب کو کھانا بچا کھچا بھیجا

وہ بھٹکتا رہا سمندر میں

آن پیپر جو کوریا بھیجا

پہلوئے زوجہ میں جو دیکھا اسے

اس کی ماں نے اسے بلا بھیجا

یوں فرائی کڑاہی میں کر کے

حسن برگر جلا بھنا بھیجا

واپڈائی ہوا تو اپنے گھر

روشنی کے لئے دیا بھیجا

بھیجنی تو ردیف تھی بینا

ایک شاعر نے قافیہ بھیجا

روبینہ شاہین بینا

چھرّے جا کر گرے کبوتر پر

فیر مارا تھا اس نے تیتر پر

چھرے جا کر گرے کبوتر پر

اور چڑھ دوڑے وہ ڈریور پر

شام کو دے پلیٹِ بریانی

دن گزارا ہے ایک برگر پر

شیر نے تینوں حصے چھین لیے

گو ہوئی ڈیل تھی برابر کی

ہاتھ تسنیم بھی نہیں آئی

اس کی نظریں لگی تھیں کوثر پر

میٹرو بس، ٹرین اورنج است

کیجیے اب سفر نہ خچر پر

ایسے استاد ہیں کئی شعرائ

دیویں اصلاح سادہ پیپر پر

بدلہ لیتے ہیں سنگدل سے فصیح

نام لکھتے ہیں اس کا پتھر پر

شاہین فصیح ربانی

کوچہءیار میں جب بھی کبھی جاﺅں ماموں

آئے ہر گھر سے ہی آواز یہ ”ماموں“ ”ماموں“

کہہ رہا ہے تو کہے سارا ہی گاﺅں ماموں

بس نہ معشوق کے بچوں سے کہاﺅں ماموں

مجھ کو جی جان سے منظور ہے رشتہ لیکن

اُس بلیو چشم کو میں کیسے مناﺅں ماموں

حور کے روپ میں لنگور چھپے ہیں جو بھی

بینڈ ”ایف۔بی“ پہ نہ کیوں اُن کا بجاﺅں ماموں

بعد برسوں کے گئی ہے میری بیگم میکے

آج دل کھول کے میں ناچتا جاﺅں ماموں

خواب خوش کُن ہے نئے عقد کا لیکن پہلے

پہلی والی سے تو جاں اپنی چھڑاﺅں ماموں

راہ میں روڑے جو اٹکاتا ہے ظالم سالا

اپنے بچوں کا قمر اُس کو بناﺅں ماموں

محمد قمر شہزاد آسی

شعر پڑھنے کے لیے طوعاً و کرہاً آ گیا

آپ کی بزمِ سخن میں احتراماً آ گیا

ایک جھٹکے میں ہی پھر ساری اکڑ ہو جائے گی

دل سہیلی پہ جو بیگم اتفاقاً آ گیا

شیروانی کو چبایا تھا یہی بکری تھی وہ

اس لئے بریانی کھانے انتقاماً آ گیا

دیکھ کر خونخوار کتوں کو میں اُن کے گیٹ پر

چھوڑ کر ان کی گلی کو احتجاجاً آ گیا

فخر کی فے کاٹ کر کاتب نے مجھ کو خر کیا

فرق اپنی شخصیت میں اتفاقاً آ گیا

کانوینٹ میں ہم پڑھے انگریز کی اولاد ہیں

لفظ اُردو گفتگو میں اصطلاحاً آ گیا

عالموں کا فن ہے یہ دانشوروں کا کام ہے

شعر کہنے کا ہنر ہم کو مذاقاً آ گیا

کچھ اضافہ کیجئے شعراءکے دسترخوان میں

مطلع کرنے یہ علوی اطلاعاً آ گیا

احمد علوی

دو چار میرے ہاتھ سے گر پھڑکیاں نہیں

ایسی تمھارے شہر میں تو لڑکیاں نہیں

گھر چور منہ اُٹھا کے جو سیدھا ہی آ گیا

معلوم تھا اُسے بھی کہ گھر کھڑکیاں نہیں

صوفہ ہے چارپائی ہے بستر بھی ہے مگر

اِس گھر میں بیٹھنے کو فقط کرسیاں نہیں

جگتیں کرو جی مار کٹائی بھی تم کرو

پر گدگدی، شرارتیں اور مستیاں نہیں

یہ طنز اور مزاح بھی دیتا نہیں مزہ

گر پیٹ میں پڑی ہوئی کچھ روٹیاں نہیں

بچپن میں ہم شریر تھے ، ہوتی تھیں مستیاں

دن رات کی لڑائی نہیں پھرتیاں نہیں

چھت سے اُسے وہ تاڑنا ہوتا تھا رات دِن

اِس عمر میں وہ سیٹیاں وہ تالیاں نہیں

کچھ تو عذاب سے ملی ہم کو نجات بھی

سالی فقط ہے ایک مری سالیاں نہیں

عاجز سجاد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آرٹسٹ لوگ …سعادت حسن منٹو

آرٹسٹ لوگ سعادت حسن منٹو جمیلہ کو پہلی بار محمود نے باغ جناح میں دیکھا۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے