سر ورق / ناول / درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ …آخری قسط نمبر 20

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ …آخری قسط نمبر 20

آخری قسط نمبر 20

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

”تو تم مجھے چھوڑ کر جا رہے ہو-“ شہلا بڑے پیار سے بولی- رفیق نے کوئی جواب نہیں دیا-

”کیا بات ہے – کچھ بولو گے نہیں کیا- کیسے رفیق ہو‘ رفاقت ختم کرکے جا رہے ہو-“ وہ رفیق کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی- رفیق اب بھی خاموش رہا-

”آئی ایم سوری- پلیز مجھے یوں چھوڑ کر مت جاﺅ-“

”کل کون گیا تھا چھوڑ کر- تم ہی تھیں نا- کیا حق ہے تمہیں مجھے روکنے کا-“ رفیق نے غصے سے کہا-

”مجھے کوئی بھی سزا دے دو مگر مجھے چھوڑ کر مت جاﺅ-“

”تمہاری محبت میرے لئے زہر بنتی جا رہی ہے- میری زندگی اجیرن بن گئی ہے-دل کرتا ہے ٹرین کے آگے لیٹ کر اس زندگی کا ہی خاتمہ کر دوں-“ رفیق غصے سے بول رہا تھا-

اس کی بات سن کر شہلا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی- ”پلیز یوں مت کہو- جو بھی سزا دینی ہے دے دو- لیکن ایسا سوچو بھی مت-“

”میرے سامنے ناٹک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- دفعہ ہوجاﺅ- میں تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا-“ رفیق ابھی بھی بری طرح بھڑکا ہوا تھا-

”تم جو چاہتے ہو کرلو- میں تمہیںنہیں روکوں گی- لیکن اس بات کی اتنی بڑی سزا مت دو-“

”ہاں- تم تو یہی سمجھتی ہو نا کہ میں تمہارے جسم کا بھوکا ہوں- کل بھی تم یہی سمجھ کر بھاگی تھیں نا- تم نے ہی دھکا دے کر مجھے درخت کے پاس گرایا تھا نا- قسم سے ابھی تک میری کمر دکھ رہی ہے-“

”چوٹ تمہیں لگے گی تو کیا درد مجھے محسوس نہیں ہوگا-“

”چلو ٹھیک ہے ‘ تم نے دھکا دیا کوئی بات نہیں- گرنے سے میری کمر پر چوٹ لگی وہ بھی کوئی بات نہیں- لیکن تم ایسے بھاگیں جیسے میں تمہارا ریپ کرنے والا ہوں- تم سے محبت کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی بھول ثابت ہو رہی ہے-“

شہلا بینچ سے اٹھ کر رفیق کے قدموں میں بیٹھ گئی- ”اگر تم مجھے چھوڑ کر چلے گئے تومیں مر جاﺅں گی-پلیز مجھے معاف کر دو-“

”ارے اٹھو یہ کیا کر رہی ہو-“ رفیق بوکھلا کر بولا- ”لوگ دیکھ رہے ہیں- کسی نے تمہیں پہچان لیا تو تمہاری افسرانہ شان کی کرکری ہوجائے گی-“

”ہونے دو- مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے- مگر تم چلے گئے تو میں بکھر جاﺅں گی-“

”تم بھی عجیب ہو- کل تو مجھے چھوڑ کر بھاگ گئیں تھیں- اب میں بھاگ رہا ہوں تو مجھے روک رہی ہو-“

”کیا کروں—دل کے ہاتھوں مجبور ہوں—اب تمہارے بنا جی نہیں سکتی-“ شہلا سسکتے ہوئے بولی-

”تو سوچو کہ ا س وقت مجھ کیا بیتی ہوگی جب تم میرے گھر سے چلی گئی تھیں-“

ِِ”مجھے اپنی بھول کا احساس ہے- میں نے کہا نا تمہاری ہر سزا مجھے منظور ہے-“ شہلا نے ڈبڈبائی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا-

”اب تم کو چھونے کا من نہیں ہے-“ رفیق عجیب سے لہجے میں بولا-

”اگر تم کو لگتا ہے کہ میری یہی سزا ہونی چاہئے تو مجھے منظور ہے- ویسے بھی اس سے بڑ ی سزا میرے لئے ہو بھی نہیں سکتی کہ میری محبت مجھے پیار نہ کرے-“ شہلا روتے ہوئے بولی-

ِ”میں مجبو رہوں- کل کی بات کے بعد تمہارے پاس آنے کا دل ہی نہیں ہو رہا-“

”ٹھیک ہے میرے قریب مت آنا- مگر میرے ساتھ تو رہو گے نا-“ شہلا پرامید لہجے میں بولی-

شہلا کا موبائل بجنے لگا تو وہ چونک گئی- اس نے اسکرین دیکھی پاپا کی کال تھی-

”تم کہاں ہو بیٹا- صبح صبح کہاں چلی گئیں؟-“

”پاپا میں رفیق کے ساتھ ہوں- میں اب گھر واپس نہیں آﺅں گی- میں رفیق سے شادی کر رہی ہوں- مجھے معاف کر دیجئے گا- اگر آپ کو منظور نہیں تو آکر مجھے گولی ماردیجئے گا- اگر آج میں نے رفیق سے شادی نہیں کی تو مرجاﺅں گی- سوری پاپا- مگر میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوں-“ یہ کہہ کر شہلا نے لائن کاٹ دی-

جذبات کی رو میں بہہ کر شہلا وہ سب بول گئی جو ہوش میں رہ کر شاید کبھی نہ کہہ سکتی تھی-

”یہ کیا کہہ رہی ہو- یہ اچانک شادی کا پلان کیسے بن گیا-“ رفیق نے حیرت سے پوچھا-

”کیا تم خوش نہیں ہو- کیا تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے-“

رفیق سوچ میں پڑ گیا- ”کرنا چاہتا ہوں— مگر-“

”مگر وگر کچھ نہیں- اب میں اپنے پاپا کو کہہ چکی – ہم آج ہی شادی کریں گے-“اس نے رفیق کی طرف دیکھا وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا- ”شاید تم میرے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتے- ہیں نا- شاید اس لئے کہ میں نے تمہاری زندگی اجیرن کر دی ہے- ہیں نا- بہت بڑی سزا دے رہے ہو تم مجھے-“شہلا کی آنکھیں پھر برسنے لگیں-

رفیق نے شہلا کو اپنی بانہوں میں بھر لیا- ”بس بس- چپ ہوجاﺅ- مجھے اتنی محبت مت دو کہ میں سنبھال بھی نہ سکوں- مجھے پتہ نہیں تھا کہ تم مجھ سے اتنی محبت کرتی ہو- مجھے لگ رہا تھا کہ صرف میرا ہی دماغ خراب ہے- مگر جب تم نے اپنے پاپا سے شادی کے بار ے میں کہا تو میں حیران رہ گیا- مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا ہے کہ تم حقیقت میں میرے سامنے ہو- مجھے تو یہ سب خواب سا لگ رہا ہے-“

”یہ خواب نہیں- حقیقت ہے- تم سے بہت محبت کرتی ہوں- اب تو یقین کرلو-“

”آﺅ گھر چلتے ہیں-“ رفیق اٹھتے ہوئے بولا- ”آرام سے بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ شادی کیسے اور کہاں کرنی ہے- وردا‘ راجو‘ مراد‘ سحرش اور مونا کو بھی بلا لیں گے- کیا خیال ہے-“

اس کی بات پر شہلا نے ہلکے سے سر ہلا دیا-

دو گھنٹے بعد رفیق کے گھر پر پوری ٹاسک فورس جمع تھی- اور اس بار کسی درندے کو پکڑنے کی نہیں بلکہ رفیق اور شہلا کی شادی کی پلاننگ ہو رہی تھی-

”یار دو تین دن کا وقت تو دو تیاری کے لئے- سب کچھ ایک دم سے کیسے ہوگا-“ مراد بولا-

”دیکھو بھائی شہلا نے اپنے پاپا سے کہہ دیا ہے کہ آج ہی شادی کر رہی ہے اس لئے ہم آج ہی شادی کریں گے- آئی سمجھ-“

”پھر تو کورٹ میرج کرلو- تم دونوں قانون کے رکھوالے ہو- قانونی طریقہ بھی یہی ہے-“ مراد نے مشورہ دیا-

”ہاں یہ ٹھیک رہے گا-“ رفیق بولا-

”مونا پلیز اپنے چینل کو یہ خبر مت دے دینا- ایسا نہ کل صبح نیوز چل رہی ہو کہ ڈی ایس پی صاحبہ نے گھر سے بھاگ کر کورٹ میں شادی کرلی-“ رفیق ہنستے ہوئے بولا-

”پاگل ہوںکیا- میں بھلا ایسی نیوز کیوں چلاﺅں گی-“

پھر فون پر ایک وکیل کے ذریعے کورٹ میرج کے معاملات طے کر لئے گئے- اور جب وہ کورٹ کے روانہ ہونے لگے تو شہلا نے اپنے پاپا کو فون کیا- ”پاپا اگر آپ کورٹ آجائیں گے تو مجھے خوشی ہوگی-“

”بیٹا میں نہیں آسکتا- اپنی انا کے ہاتھوں مجبور ہوں- تم جہاں رہو خوش رہو-“ اتنا کہہ کر پاپا نے فون کاٹ دیا-

”کیا ہوا؟-“ رفیق نے پوچھا-

ِ”وہ نہیں آئیں گے-“

”سوچ لو- ہم شادی پھر کبھی کر سکتے ہیں-“ رفیق نے کہا-

”نہیںآج ہی کریں گے- تاخیر کریں گے تو پاپا پھر سمجھانے آجائیں گے-پھر وہی باتیں ہوں گی- جب ہم نے طے کر ہی لیا تو آج ہی کر لیتے ہیں-“ شہلا نے مضبوط لہجے میں کہا-

”ٹھیک ہے- تمہاری مرضی‘ میری مرضی-“

رفیق اور شہلا کا نکاح ہوتے وقت راجو نے وردا کے کان میں کہا- ”اب بس ہم ہی رہ گئے ہیں- چھڑے چھانٹ-“

”فکر نہ کرو- اگلے مہینے سے چھڑے چھانٹ نہیں رہیں گے-“ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ہنس دیئے-

نکاح ہونے کے بعد پوری ٹولی ہوٹل پہنچ گئی اور ہلے گلے کے ساتھ لنچ کیا گیا-رفیق اور شہلا کو اپنے گھر پہنچتے پہنچتے شام ہوگئی-

”سب کچھ کتنی جلدی ہوگیا- نہ میرے گھر سے کوئی آیا نہ تمہارے گھر سے- ہے نا عجیب سی بات- میرے ماں باپ تو اس وقت نوابشاہ میں ہیں ورنہ وہ تو ضرور شامل ہوتے- پنکی بھی وہیں ہے-“ رفیق نے کہا-

”تمہارے والدین کو اس شادی پر کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا نا-“ شہلا نے اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا-

”شادی پر تو وہ کوئی اعتراض نہیں کریں گے مگر جب وہ دیکھیں گے کہ تم انتہائی پھوہڑ بہو ہوتب بات بگڑ سکتی ہے-“

ِِ”مجھے ڈراﺅ مت- میں آج سے سیکھنا شروع کر دیتی ہوں- چلو کچن میں-“ شہلا نے کہا-

”ڈی ایس پی صاحبہ جی- پہلے محبت کرنا تو سیکھ لیں- وہ زیادہ ضروری ہے-“ رفیق نے شہلا نے کو اپنی بانہوں میں لیتے ہوئے کہا-

”کیا—- مگر مجھے تو لگتا تھا کہ اب تم میرے قریب نہیں آﺅ گے-“ شہلا آنکھیں مٹکاتی ہوئی بولی-

”تم جانتی ہو کہ میں تم سے کتنی محبت کرتی ہوں- چاہ کر بھی تم سے دور نہیں رہ سکتا- آﺅ سب کچھ بھول کر محبت محبت کھیلتے ہیں-“ رفیق نے شرارت سے کہا-

”ایسی باتیں مت کرو ورنہ-“ شہلا شرما کر بولی-

”اب ورنہ شرنا کچھ نہیں- میں تمہار ا ماتحت نہیں ہوں جو معطل کرنے کی دھمکی دو گی- اب میں حکم دوں گا اور تم مانو گی- کیونکہ آج سے میں تمہارا مجازی خدا ہوں یار-“ رفیق نے کچھ ایسے لہجے میں کہا کہ شہلا کو ہنسی آگئی-

”تو کیا تم واقعی پولیس ڈپارٹمنٹ کو خیرباد کہہ چکے ہو-“

ِ”ہاں- اب میں کچھ اور کرنا چاہتا ہوں- مراد کے ساتھ مل کر ڈی ٹیکٹو ایجنسی کھولنے کا پروگرام بنا رہا ہوں-“ رفیق نے اپنے مستقبل کا منصوبہ بتاتے ہوئے کہا-

”ڈی ٹیکٹو ایجنسی- یہ تو بہت اچھی بات ہے-“

”ہاں- تم دیکھنا ہمارا مستقبل بہت تابناک ہے-“

”میں جانتی ہوں کہ تم جو بھی کام کرو گے- اس میں ترقی ضرور کرو گے-بہت محنت کرتے ہو تم-“ شہلا بولی-

”بالکل— اور آج سے تو محنت اور بھی بڑھ جائے گی-“ رفیق کی بات کا مطلب سمجھ کر شہلا کر چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا-

 ”تو پھر کیا ہے ارادہ؟-“ رفیق نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا-

”اب میں تمہاری بیوی ہوں- باس نہیں- اب کسی بات کے لئے مجھ سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے مجازی خدا صاحب-“

”واہ یہ ہوئی نا مشرقی بیویوں والی بات-“ رفیق نے خوش ہوکر مہر ثبت کر دی-

٭٭٭٭٭٭٭

ایک مہینے بعد راجو اور وردا بھی شادی کے بندھن میں بندھ گئے- نغمہ کے لئے بھی اس کے ابا نے ایک لڑکا ڈھونڈ ہی لیا تھا- رفیق اور مراد نے مل کر ڈی ٹیکٹو ایجنسی کھول لی تھی- اور آہستہ آہستہ ترقی کی منازل طے کر رہے تھے-

اس کہانی میں یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ محبت ایک ایسی طاقت ہے جس کے بل پر انسان ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے- وردا جیسی ڈرپوک اور عام سی لڑکی کا تلوار سے درندے کے ہاتھ کاٹ دینا محبت کی اسی طاقت کا مظہر تھا-

رفیق کا شہلا کو بچانے کے لئے ڈھال بن جانا‘ مراد کا سحرش کو بچانے کے لئے بے خطر درندے کے سامنے کود پڑنا- یہ سب محبت کا مظہر نہیں تو اور کیا تھا-

 اگردرندے کا سامنا محبت کرنے والوں سے نہ ہوتا تو شاید وہ لمبے عرصے تک اپنی درندگی کا راج جمائے رکھتا-

درندے کا مرنا محبت کی جیت اور درندگی اور نفرت کی ہار تھی- زندگی میں ایسے لمحات بھی آجاتے ہیں جب ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ محبت ہماری مجبوری بن چکی ہے اور مجبوری کمزوری کو جنم دیتی ہے- مگر وقت آنے پر یہی کمزوری ہماری سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے-

٭٭٭٭٭٭

رات کے ڈھائی بجے کا وقت تھا جب شہلا کا فون بے تحاشہ بجنے لگا- پہلے رفیق کی آنکھ کھلی- اس نے شہلا کا موبائل اٹھا کر دیکھا- چوہان کی کال تھی- اس نے جھنجھوڑ کر شہلا کو اٹھا یا اور موبائل اس کے کان سے لگا تے ہوئے بولا-”چوہان کی کال ہے-“

ِ”ہیلو چوہان- کیا بات ہے؟-“ شہلا نے خمار آلود لہجے میں پوچھا-

ِِ”میڈم- ایک بری خبر ہے-“ دوسری طرف سے چوہان نے کہا-

”اب کون سی بری خبر سنانی ہے تم نے-“ شہلا درشت لہجے میں بولی-

”میڈم- درندہ واپس آگیا ہے-“

شہلا یوں چونک کر اٹھ بیٹھی جیسے اس کے سر پر کسی نے بم پھوڑ دیا ہو- رفیق بھی اس کی حالت کو حیرت سے دیکھ رہا تھا-

ِِ”یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟-“ وہ اس بات کا یقین کیسے کر سکتی تھی- جسے وہ اپنے سامنے جہنم واصل ہوتا دیکھ چکی تھی‘ اس کی واپسی کس طرح ممکن تھی-

”میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں میڈم- آپ فوراً جنگل والے کھنڈر میں آجائیں-“ چوہان نے کہا-

”اوکے-“ شہلا لائن کاٹ کر بستر سے اٹھ گئی-

”کیا ہوا؟ کچھ بولو تو-“ رفیق نے الجھتے ہوئے کہا-

”درندہ واپس آگیا ہے-“ شہلا نے رفیق کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”کیا— یہ کیسے ممکن ہے؟-“ رفیق کے لہجے میں حیرت کا عنصر نمایاں تھا-

”یہ ممکنات دیکھنے کے لئے ہی چوہان نے مجھے جنگل والے کھنڈر میں بلایا ہے-“

”چلو میں بھی چلتا ہوں-“

”اس نے مرتے وقت کہاتھا کہ وہ واپس آئے گا- تو کیا واقعی میں وہ واپس آگیا ہے-“ شہلا ابھی بھی حیرت میں تھی-

”اتنی جلدی کوئی جنم نہیں لے سکتا- جیسے وحید ملک اس کا شاگرد تھا ہوسکتا ہے یہ بھی اس کا چھوڑا ہوا کوئی شاگرد ہو- جو ‘ اب اپنے استاد کا نام آگے بڑھانا چاہتا ہو-“ رفیق نے اپنا اندازہ پیش کرتے ہوئے کہا-

”ہاں – یہ ہوسکتا ہے-“ شہلا بھی رفیق کے اس خیال سے متفق نظر آرہی تھی

دونوں جب کھنڈر پر پہنچے تو چوہان انہیں باہر ہی ٹہلتا ہوا ملا- وہ رفیق اور شہلا کے ساتھ کھنڈر کے اسی کمرے میں گیا جسے اب تک درندہ استعمال کرتا رہا تھا-

اندر کا منظر دیکھ کر ایک لمحے کے لئے رفیق اور شہلا کو جیسے غش سا آگیا- ایک برہنہ لڑکی دیوار سے ٹنگی ہوئی تھی- اس کے منہ میں بڑا سا خنجر پیوست تھا اور جگہ جگہ سے کھال ادھڑی ہوئی تھی-

”یہ دیکھیں میڈم-“ چوہان نے ایک طرف ٹارچ کی روشنی ڈالتے ہوئے کہا-

دیوار پر درندے کے انداز کی تحریر موجود تھی-

”میں کبھی نہیں مر سکتا—- میں واپس آگیا ہوں— ایک درندہ مرتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا درندہ جنم لیتا ہے—اور یہ میرے آرٹ کا پہلا نمونہ ہے- اگر آپ کو پسند آیا ہے تو مزید نمونوں کا انتظار کریں- آپ کا اپنا درندہ-

وہاں سے واپسی میں رفیق اور شہلا سوچ رہے تھے کہ کیا اب ان کی ٹاسک فورس کو دوبارہ میدان میں آنا ہوگا- یہ جاننے کے لئے کہ یہ نیا درندہ کون ہے؟

تمت بالخیر

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے