سر ورق / ناول / ۔ ڈھل گیا ہجر کا دن..نادیہ احمد .قسط نمبر10

۔ ڈھل گیا ہجر کا دن..نادیہ احمد .قسط نمبر10

۔

ڈھل گیا ہجر کا دن

نادیہ احمد

قسط نمبر10

درد اتنا تھا کہ اس رات دلِ وحشی نے

ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا

ہر بنِ مو سے ٹپکنا چاہا

اور کہیں دور ترے صحن میں گویا

پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دھل کر

حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا

میرے ویرانہِ تن میں گویا

سارے دکھتے ہوئے رشتوں کی طنابیں کھل کر

سلسلہ وار پتا دینے لگیں

رخصتِ قافلہِ شوق کی تیاری کا

اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں

ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا

درد اتنا تھا کہ اس سے گزرنا چاہا

ہم نے چاہا بھی مگر دل نے ٹھہرنا چاہا

”آپ نے کبھی کچھ نہیں بتایا“۔ کاریڈور کے سکوت میں سمیر کی سرگوشی سنائی دی تھی۔

”کیا بتاتی، بتانے کا حوصلہ ہی کہاں تھا؟“نور فاطمہ اس کی طرف دیکھے بناءشکستہ لہجے میں گویا ہوئیں۔

”اس سب میں آپ کا تو کوئی قصور نہیں“۔اس نے ان کا ہاتھ تھام لیا جو اس وقت کسی مردے سا سرد تھا۔ وہ شدید ٹینشن میں تھیں ۔ درد زیادہ بڑا تھا یا شاک وہ اندازہ نہیں لگا پایا تھا۔ لگاتا بھی کیسے، کسی کہانی کی طرح ماضی کے درد بھرے قصے کو سننا اور اس غم و اذیت سے گزرنا دو الگ تجربے ہیں۔ پہلا ، دوسرے کے شدتِ غم کا تخمینہ کیوں کر لگا سکتا ہے نا ہی اس تاسف اور احساسِ جرم سے گزر سکتا ہے جس کا سامنا پچھلی کئی دہائیوں سے نور فاطمہ سوتے جاگتے کرتی رہی تھیں۔

”قصور تو بس قسمت کا ہے جس کے آگے انسان کھلونا ہے ۔ جب چاہتی ہے بے بس کر دیتی ہے، جسے چاہتی ہے اپنی مرضی کے راستوں پہ ڈال دیتی ہے۔ ہم اچھے وقتوں کو ہاتھ کی لکیروں میں ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں، خوابوں میں تراشتے خود پتھر ہوجاتے ہیں یہ جب چاہتی ہے مٹی بنا دیتی ہے“۔ انہوں نے دھیمے لہجے میں کہتے نگاہ اٹھا کر خاور کی سمت دیکھا جو ان سے کچھ فاصلے پہ لاتعلق و پریشان پیٹھ موڑے کھڑا تھا۔

 شہباز کی حالت بگڑتے ہی وہ لوگ اسے سمیر کی گاڑی میں زینب وقار اسپتال لے آئے تھے۔ نور فاطمہ تو خود میں اتنی ہمت ہرگز نہیں محسوس کر رہی تھیں کہ وہ کوئی بھی فیصلہ کرسکتیں ، خاور الگ شاک میں تھا۔ یہ تو سمیر ہی فی الفور وقت ضائع کئے بغیر انہیں یہاں لے آیا ۔ نور فاطمہ اور سمیر کو دیکھ کر اسپتال کی انتظامیہ کسی روبوٹ کی طرح حرکت میں آئی تھی۔ ایمرجنسی میں اس وقت دو تین ڈاکٹر بیک وقت شہباز کو اٹینڈ کر رہے تھے سوائے نور فاطمہ کے جو بے بس و نڈھال چپ چاپ کاریڈور میں رکھے صوفہ پہ بیٹھی تھیں۔ سمیر کچھ دیر ایمرجنسی کے باہر ٹہلتا رہا ۔ وہ عجیب اضطرابی کیفیت کا شکار تھا۔ کئی گتھیاں سلجھی تھیں جو اتنے دن سے ذہن کو ماں کے رویے کی وجہ سے الجھا رہی تھیں تو ایک ناقابلِ یقین اور حیرت انگیز حقیقت کا انکشاف ہوا تھا۔ نور فاطمہ شائد اتنا زیادہ ڈسٹرب نہ ہوتیں اگر وہ خاور کی ان سے بے رخی اور خفگی کو محسوس نہ کرتیں۔ جب سے اس پہ حقیقت ظاہر ہوئی تھی اس نے ایک بار بھی بہن کو گلے لگایا تھا نہ تسلی دی تھی۔ اس کے چہرے پہ نور فاطمہ کی طرح خوشی کی جھلک نمودار نہیں ہوئی تھی۔ اس کی سرد مہری اتنی واضح تھی کہ سمیر بھی محسوس کئے بنا رہ نہیں پایا تھا۔ نور فاطمہ نے شفقت سے تسلی دیتے اسے چھونا چاہا تو اس نے بے چینی سے ان کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔ اس وقت سے وہ اور بھی پریشان نظر آرہی تھیں۔ بے چین اور شرمندہ۔ سمیر کو ماں کی خاموشی اداس کر رہی تھی۔ وہ ان کا ہاتھ تھامے بیٹھا رہا جب انہوں نے خود آہستہ آہستہ مختصر الفاظ میں اپنی آپ بیتی اسے سنانا شروع کی۔

”پارس بھی تو انسان قسمت سے ہی بنتا ہے نا ممی، جیسے آپ!“ان کا ہاتھ تھپتھپاتے وہ دھیما سا مسکرایا پر نور فاطمہ کی آنکھوں کی اداسی اتنی گہری تھی کہ ان کے لبوں پہ بیٹے کے اس خراجِ تحسین کے باوجود مسکراہٹ نہ ابھری۔

”تم اس دکھ کو نہیں سمجھ سکتے سمیر ، میں شائد سمجھا نہ سکوں۔ بیان ہی نہ کرپاو ¿ں اس کرب کو جس سے گزرے ماہ و سال میں لڑتے لڑتے وجود ریزہ ریزہ ہوگیا ہے“۔ان کے لہجے میں زمانوں کی تھکن تھی۔

”میری ماں کا خون مجھے ان ہاتھوں کی لکیروں میں دکھائی دیتا ہے۔ کسی کے لئے یہ ہاتھ دستِ شفا ہے، غربت کے مارے، بیماری سے لڑتے سسکتے مریض عقیدت سے انہیں چومنا چاہتے ہیں لیکن مجھے ان سے گھِن آتی ہے کیونکہ یہاں میری ماں کا قتل لکھا ہے“۔اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے وہ بے چینی سے بولیں۔ سمیر کو ان کی کیفیت تکلیف دے رہی تھی۔ وہ خود کو اس سب کا ذمہ دار گردان کر برسوں سے اس احساسِ جرم میں زندگی گزار رہی تھیں جو ان سے سرزد ہوا ہی نہیں تھا۔ بظاہر کتنی پرسکون اور مضبوط دکھائی دینے والی ان کی پر اعتماد ماں نے اپنے اندر کیا دکھ چھپا رکھا تھا یہ سوچ کر اسے تکلیف ہوئی تھی۔

”میں وہ سب نہیں چاہتی تھی پھر بھی مجھے مجبوراََ امی کی بات ماننی پڑی۔ نہ مانتی تو آج وہ زندہ ہوتیں“۔ برسوں سے یہی کانٹا تو دل میں چبھا اسے چھلنی کر رہا تھا ۔ کاش وقت کا پہیہ الٹا چل سکتا تو وہ ان لمحوں میں لوٹ جاتیں۔ اس وقت کو پھیر کر ایک بار پھر اسی مقام پہ لے جاتیں جب سفینہ نے اپنی قسم دے کر ان کی زبان پہ تالا ڈال کر مزاحمت سے روک دیا تھا۔ ایک بار، بس ایک بار وہ اس وقت میں واپس جاکر ماں کے سامنے اپنا احتجاج بلند کرسکیں کہ چاہے کچھ ہوجائے نور فاطمہ ان کی بات نہیں مانے گی، وہ اس شہر سے ماں اور بھائی کے بغیر پیر باہر نہ نکالے گی پھر چاہے اس کا جواری باپ اسے بیچ چوراہے سولی پہ چڑھا دے کیونکہ اس طرح سفینہ کی جان بخش دی جاتی۔

”ان کی زندگی بس اتنی ہی تھی، جلد یا بدیر سب کو ہی جانا ہے نانی کو اللہ نے بس اتنی ہی مہلت دی تھی۔ پھر یہ بھی تو سوچیں وہ اس وقت اگر ایک درست فیصلہ نہ کرتیں تو آپ کی زندگی برباد ہوجاتی“۔ سمیر ان کا تاسف سمجھ رہا تھا ۔ رضائے الٰہی اور قسمت کے آگے کس کی چلی ہے۔ جو ہوچکا اسے یونہی ہونا تھا اور یہ تو وہ خود بھی اچھی طرح جانتی تھیں۔ اولاد کو دین و دنیا اور اچھائی برائی کی سیکھ دینے والی، انہیں قابلیت کی اونچی سیڑھی پہ کھڑا کرنے والی ، بااعتماد اور زمانہ ساز بنانے والی کوئی ماں بھلا زندگی و موت کے بنیادی فلسفے سے کس طرح انجان ہوسکتی ہے۔ وہ انہیں اس گِلٹ سے نکالنا چاہتا تھا ۔

”ایسی زندگی بچانے کا کیا فائدہ ہوا جس کے بعد سب کچھ اجڑ گیا ۔ میرا چھوٹا بھائی مجھ سے بچھڑ گیا۔ جانے کہاں کہاں کی خاک چھانی اس معصوم نے ۔ کتنا سخت وقت دیکھا ہے میرے ٹیپو نے کہ آنکھوں کا کرب آج بھی قائم ہے“۔ انہوں نے نگاہ اٹھا کر خاور کے خفا چہرے کی سمت دیکھا۔ وہ اب بھی لاتعلق اور انجان ، اپنی بے چینی پہ قابو پاتا ان سے کچھ فاصلے پہ کھڑا تھا ۔

”آپ اندر کیوں نہیں جاتیں؟ آپ ایک ڈاکٹر ہیں انہیں آپ کی ضرورت۔۔۔۔“سمیر نے ان کا دھیان ہٹانے کی کوشش کی۔ اندر شہباز زندگی و موت کے بیچ جھول رہا تھا۔ کچھ بھی تھا وہ ان کا باپ تھا جسے وہ اس کے آخری وقت میں معاف بھی کرچکی تھیں۔ ہوسکتا اس طرح انہیں کچھ سکون مل جاتا۔ نور فاطمہ نے بے اختیار نفی میں سر ہلاتے سمیر کو بیچ میں ہی ٹوک دیا تھا۔ اس کا جملہ ادھورا رہ گیا۔

”نہیں“۔

”میں اندر نہیں جاسکتی۔ اگر انہیں میرے ہاتھوں کچھ ہوگیا تو میں۔۔۔“ انہوں نے خوف سے سمیر کی طرف دیکھا۔

”ممی وہ سالوں سے ایک ناقابلِ علاج مرض میں مبتلا ہیں۔ ان کی ہر اگلی سانس ان کی اذیت کو طویل کرتی ہے اور اب تو جو سچویشن ہے ان کا بچنا ایک معجزہ ہے پھر آپ اسے اپنے سر کیسے لے سکتی ہیں“۔وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا۔ جس وقت وہ شہباز کو اسپتال لایا اس کی آنکھیں پلٹ چکی تھیں۔ سانس آرہی یہ بھی غنیمت تھی۔

”تم نہیں سمجھ سکتے سمیر، تم نہیں سمجھ پاو ¿ گے میرا احساسِ جرم کیونکہ تم نے میری زندگی نہیں جی اور اللہ نہ کرے کبھی میری اولاد کو میرے جیسی زندگی گزارنی پڑے“۔تاسف سے کہتے انہوں نے سر صوفہ کی پشت پہ ٹکا لیا۔

”میں تو آپ کو انتہائی بہادر اور سلجھا ہوا سمجھتا تھا“۔وہ مایوسی سے بولا۔

”ہر انسان کی شخصیت کے کمزور پہلو ہوتے ہیں۔ ہاتھوں میں ہتھیار لہراتے جری و بہادر بھی زندگی کے کسی گوشے میں بزدل ہوتے ہیں۔ “

”انسان کا اپنا عکس اس کی سب سے بڑی کمزوری ہوتا ہے“۔ آنکھیں موندے وہ خود کلامی کے سے انداز میں بولیں۔

”آپ نے احساسِ جرم کا آئینہ اپنے سامنے سجا رکھا ہے اسی لئے اپنے عکس سے خوفزدہ ہیں ورنہ سچ تو یہ ہے آپ کا کوئی قصور نہیں۔ اگر آپ خاور ماموں کے رویے سے دلبرداشتہ ہیں تو انہیں کچھ وقت دیں۔ وہ ابھی بہت پریشان ہیں اور شائد شاک میں بھی ۔ کچھ عرصہ لگے گا نارمل ہوجائیں گے تو خود آپ کے پاس آئیں گے“۔ وہ جانتا تھا اس وقت ان کے دل پہ خاور کی خاموشی اور اکھڑا رویہ بوجھ کی طرح دھرا ہے ۔ برسوں بعد ملنے والے بھائی بہن ایک دوسرے سے نگاہیں چرائے لاتعلق و شرمندہ کھڑے تھے۔ ایک کے چہرے پہ شکایت تھی تو دوسرے کے معذرت۔

”میرا خیال ہے میں ڈیڈی کو کال کرکے یہاں بلالوں۔ آپ کو بس وہی ہینڈل کرسکتے ہیں“۔ اس نے کچھ سوچتے ہوئے اپنا سیل فون نکالا۔ اس تمام سچویشن میں اسے اتنی مہلت ہی کہاں ملی تھی کہ وہ گھر پہ زبیر انصاری اور فریحہ کو کچھ بتاتا۔ لیکن ظاہر ہے وہ لوگ بھی تو ان کے منتظر ہوں گے اور ان حالات میں یہی مناسب تھا کہ وہ دونوں جلد یہاں پہنچ جائیں۔ زیرِ لب کہتا وہ اب اپنی کانٹیکٹ لسٹ میں سے زبیر انصاری کا نمبر نکال رہا تھا۔ نور فاطمہ صوفے پہ سر ٹکائے آنکھیں موندے خاموش رہیں جیسے سن کر بھی ان سنا کر دیا ہو۔ اسی وقت ایمرجنسی روم کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر کی آمد ہوئی۔ سمیر کال کرتا رک کر اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ دوسری طرف خاور بھی بے اختیار ڈاکٹر کی طرف بڑھا ۔ نور فاطمہ نے سمیر کا صوفہ سے اٹھنا محسوس کرتے آنکھیں کھولیں۔ ڈاکٹر سمیر اور خاور کی طرف دیکھ کر نگاہیں چراتا سیدھا نور فاطمہ کے پاس آگیا۔ اپنی ساری ہمت جمع کرتیں وہ صوفے سے اٹھیں تھیں۔ ان کے ایک طرف سمیر دوسری طرف خاور کھڑے تھے۔

”ڈاکٹر صاحبہ وہ آپ کے پیشنٹ ۔۔۔۔آئی ایم سوری ہم انہیں نہیں بچا سکے“۔ڈاکٹر کا لہجہ تاسف میں ڈوبا ہوا تھا۔ سمیر نے لب بھینچے ماں کی طرف دیکھا جو بے تاثر چہرے اور اڑی ہوئی رنگت کے ساتھ ایک ٹک بس ڈاکٹر سجاد کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ پاس کھڑے خاور نے اپنا ماتھا تھام لیا۔

”آپ تو جانتی ہیں میم ان کی کنڈیشن، اٹ واز انکیورایبل“(یہ ناقابلِ علاج تھا)۔ ڈاکٹر مزید بولا ۔ اس کے لہجے میں ہلکی سی شرمندگی تھی۔ کسی مریض کو لے کر خود نور فاطمہ کا اسپتال پہنچنا اور ان دونوں کی وہاں مستقل موجودگی عملے پہ بناءکہے بھی واضح تھی کہ مریض سے ان کا تعلق اہم ہے۔ شائد اسی وجہ سے ڈاکٹر سجاد بھی ڈسٹرب تھے۔ نور فاطمہ نے خود کو کمپوز کرتے محض سر ہلا کر انہیں اوکے کہا۔ ایک کمزور، بزدل اور احساسِ جرم کا شکار فاطمہ سے خود کو ڈاکٹر نور فاطمہ میں ڈھالتے انہیں بس چند لمحے لگے تھے۔ وہ اب بہت پروفیشنل انداز میں ڈاکٹر سجاد سے گفتگو کر رہی تھیں۔ ان سے ٹریٹمنٹ اور موت کی وجوہات پہ گفتگو کرتے ان کا انداز انتہائی پیشہ ورانہ تھا۔ ڈاکٹر اور ہیڈ اسٹاف کو ڈیڈ باڈی سے متعلق ہدایات دے کر وہ خود اسی صوفہ پہ بیٹھ گئی تھیں۔ سمیر نے پاس کھڑے خاور کے شانے پہ ہاتھ رکھتے گویا تسلی دی تھی۔ خاورنے سر اٹھایا ، اس کی آنکھوں کی سرخی اس بات کی غماز تھی کہ آنسوو ¿ں کو ضبط کرنے کی سر توڑ کوشش کی گئی ہے۔ ایک نگاہ اس نے سمیر کے سنجیدہ چہرے کی طرف دیکھا اور پھر نظر اپنے شانے پہ ٹکے اس کے ہاتھ تک پہنچی۔ ایک جھٹکے سے اس نے سمیر کا ہاتھ اپنے کندھے سے پرے کیا ۔ اس کی آنکھوں میں بے پناہ اجنبیت اور چہرے پہ بامعنی سنجیدگی تھی۔ سمیر لب کاٹتا پیچھے ہوگیا ۔ نور فاطمہ نے خاور کا اکھڑا ہوا رویہ محسوس کیا تھا۔

 آج شہباز نے مرنے سے پہلے خاور کا ہاتھ نور فاطمہ کو تھما کر جیسے اس کی برسوں کی تلاش کو ختم کردیا تھا۔ اس کے زخموں پہ پھاہا رکھ دیا تھا۔ شہباز کی دردناک موت کے ساتھ زندگی کا ایک اور باب دم توڑ گیا تھا پر زندگی ابھی باقی تھی۔ تلاش ختم ہوئی تھی سفر نہیں۔ خاور کے دل میں چبھی بدگمانی کی پھانس اب بھی جوں کی توں تھی اور یہ پھانس مستقل ناسور کی صورت برسوں سے اگر اس کا تن تڑپا رہی تھی تو اب تڑپنے کی باری شائد نور فاطمہ کی تھی۔

٭….٭….٭

ریسٹورنٹ سے لے کر گھر تک ، تمام راستہ خلافِ معمول وہ خاصی سنجیدہ تھی اور یہ تو بس وہی جانتی تھی کہ اس وقت دل کی حالت کیا ہے۔ تقدیر کا لکھا جان کر اس نے بھلے ہتھیار ڈال دئیے تھے پر دل کے اندر ہورہی کھدبد چین ہی کہاں لینے دیتی ہے۔ عمیر ہمیشہ کی طرح خود ہی کسی نا کسی موضوع پہ بات کرتا رہا جس پہ وہ محض مسکرا کر یا سر ہلا کر ریسپانس کرتی رہی۔ وہ اس قدر خوش اور مطمعن تھا کہ اس نے فریحہ کے اس الجھے ہوئے موڈ پہ کوئی خاص توجہ نہ دی۔ وہ عمیر کے ساتھ گھر پہنچی تو لاو ¿نج میں اس وقت علینہ اور ڈاکٹر زبیر براجمان تھے۔ حالانکہ علینہ کچھ دیر پہلے اچھی خاصی پریشان تھی مگر ڈاکٹر زبیر کی ہلکی پھلکی باتوں اور ان کے اپنائیت بھرے رویے نے علینہ کے موڈ پر انتہائی خوشگوار اثر ڈالا تھا اور اس وقت بھی وہ ان کے کسی برجستہ جوک پر کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔

”ممی کہاں ہیں ڈیڈی اور یہ بھائی بھی اب تک نہیں آئے کیا“؟ فریحہ نے ان دونوں کی غیر موجودگی کو محسوس کرتے سوال کیا۔ وہ خود اب عمیر کے ساتھ محوِ گفتگو تھے اور اس سے ڈنر کا احوال دریافت کر رہے تھے۔ علینہ کے چہرے پہ ایک رنگ آکر پلٹا۔ وہ پہلے والی مسکراہٹ جھماکے سے غائب ہوئی تھی۔

”وہ دونوں ساتھ ہی نکلے ہیں ابھی بس پہنچ جائیں گے“۔ مختصر جواب دیتے انہوں نے ایک نگاہ علینہ کے ستے ہوئے چہرے پہ ڈالی۔ ان کے عام سے لہجے میں دئیے گئے جواب پہ علینہ کا سکون بحال ہوا تھا جبکہ فریحہ بھی کوئی ریسپانس دئیے بغیر بس سر ہلاتی اپنے کمرے کی طرف چل پڑی۔ وہ خود اس وقت اتنی اپ سیٹ تھی کہ کسی اور طرف دھیان گیا ہی نہیں۔ کمرے میں جاتے ہی اس نے دروازہ لاک کیا ، جوتے اتار کر دور پھینکے ، دوپٹہ گلے سے کھینچ کر صوفہ پہ پٹخا اور گرنے کے سے انداز میں بیڈ پہ بیٹھ گئی۔ دونوں ہاتھوں سے سر تھامے اس نے اپنی بے بسی پہ خود کو کوسا تھا۔ زیست کیسے بھنور میں جا پھنسی تھی۔ ارمانوں کی قبر پہ محل کھڑا ہونے جارہا تھا۔ کہاں سے لاپائے گی اتنی ہمت ۔ من چاہے ہمسفر کی خواہش گناہ تو نہیں تھی پھر کیوں اسی کے خواب شیشے کی طرح آنکھوں میں ٹوٹ گئے۔ فارس اگر اس کا ساتھ دیتا تو وہ کہاں یہ پسپائی اختیار کرنے والوں میں سے تھی۔ دو ٹوک عمیر کو کہہ دیتی کہ اس کا خیال دل سے نکال دے کیونکہ اس کے دل میں کسی اور کا بسیرا ہے۔

 ٹِپ ٹِپ دو بوندیں آنکھوں کے بند توڑ کر ہتھیلیوں پہ موتی کی طرح گری تھیں۔ کچھ سوچ کر اس نے اپنے ہینڈ بیگ سے اپنا سیل فون نکالا اور بے اختیار فارس کا نمبر ملایا۔

”ہیلو“۔ فارس کی آواز میں نیند کا خمار اور لہجے میں اجنبیت تھی۔ فریحہ کو اس بے پراہ کی بے حسی پہ مزید رونا آیا تھا۔

”فریحہ بات کر رہی ہوں“۔ بھیگے لہجے میں بھی اس کا طنز نمایاں تھا۔ بڑے جتاتے سے انداز میں تعارف کراتے اسے احساس دلایا گیا تھا ۔

”ہاںآں۔۔۔آئی نو“۔ وہ واقعی گہری نیند کے حصار میں تھا اسی لئے نمبر دیکھے بغیر کال اٹینڈ کرلی۔ سیل فون کان سے ہٹا کر ایک نگاہ اسکرین پہ ڈالتے اس نے فریحہ کے نمبر کی تصدیق کی تھی اور پھر دوبارہ فون کان سے لگاتے وہ خود پہ قابو پاتے الجھ کر بولا۔

”چلو یہ بھی شکر اب تک یاد ہوں“۔ فارس نے اس کی شکایت سے زیادہ اس کی آواز کی نمی پہ توجہ دی تھی۔

”فری کیوں رو رہی ہو یار“۔ ان دونوں کی آخری بات دو ٹوک جھگڑے پہ ختم ہوئی تھی جس کے بعد اگر فارس نے رابطہ نہیں کیا تھا تو فریحہ کی طرف سے بھی خاموشی تھی۔ فریحہ نے اسے صاف صاف کہہ دیا تھا وہ کچھ عرصہ اپنے شہر اور یہاں کے لوگوں کے لئے وقف کرنا چاہتی ہے۔ اپنی زندگی کو کوئی مقصد دینا چاہتی ہے۔ مقصد تو فارس بھی دل میں لئے گھوم رہا تھا پر اس کا مقصد فریحہ سے الگ تھا۔ فریحہ معاشی طور پہ مستحکم ایک بھرپور اور آسودہ زندگی گزار رہی تھی جسے بامعنی بنانے کے لئے سوشل ویلفئیر جیسی ہری ہری سوجھتی ہیں ۔ اس کے برعکس فارس کی زندگی معاشی الجھنوں میں گھری ، معاشرتی عدم مساوات کا شکار اور زمانے کے رویوں سے نالاں تھی۔ ایسے حالات انسان کو خود غرض بنا دیتے ہیں۔ وہ چاہ کر بھی اپنے رویے کو بدل نہیں پاتا۔ محبت کے نام پہ خود غرضی کا گناہ فارس سے بھی سرزد ہوا تھا اور اسے اس بات کا پورا ادراک تھا کیونکہ جب سے فریحہ نے اس سے رابطہ توڑا تھا وہ خود بھی ایک پل چین سے نہیں بیٹھا تھا لیکن یہ انا تھی جو اسے فریحہ سے رابطہ نہ کرنے پہ قائل کرچکی تھی لیکن اسے روتا ہوا محسوس کرکے وہ اچھا خاصا پریشان ہوگیا تھا۔

”میں رو رہی ہوں تو تمہیں اس سے کیا۔ تم تو سکون میں ہو نا “۔ آنکھوںکو بے دردی سے رگڑتی وہ غصے بھرے شکائتی لہجے میں بولی تھی۔ اسے رہ رہ کر فارس پہ شدید غصہ بھی آرہا تھا اور اپنی بے اختیاری پہ رونا بھی۔ کام کا سوچا تھا یہ شادی والا شوشا جو عمیر نے آکر چھوڑ دیا ، اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا اب اس کا کچھ غصہ تو اسے فارس پہ نکالنا ہی تھا۔

”فری میری چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی تھی، ابھی کچھ دیر پہلے گھر آیا ہوں اور اس وقت بالکل دماغ کام نہیں کررہا ۔ پلیز مجھے بتاو ¿ تو رونے کی وجہ کیا ہے۔ مجھے پتا ہے تم مجھ سے خفا ہو، لاسٹ ٹائم تم سے بہت روڈ ہوکر بولا تھا میں لیکن تم نے بھی تو تعلق ختم کرنے کی دھمکی دی تھی پھر اب کیوں روتے ہوئے کال کر رہی ہو“۔ وہ اب آنکھیں ملتا اٹھ کر بیٹھ گیا اور شکایتی لہجے میں بولا۔

”شادی ہورہی ہے بہت جلد، سوچا پہلا انویٹیشن تمہیں ہی دیا جائے۔ آخر میرے قریبی لوگوں میں سب سے پہلا حق تمہارا ہی تو ہے“۔ کاٹ دار لہجے میں کہتے اس نے تقریباََ روتے ہوئے اسے بتایا تھا۔ فارس کا دماغ ہی گھوم گیا تھا پر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا فریحہ نے کال ڈسکنیکٹ کر دی۔ رابطہ ختم ہوتے ہی فارس نے فوراََ سے پہلے اس کا نمبر ڈائل کیا پر دوسری طرف فون بند تھا ۔ ایک، دو ، جانے کتنی بار اس نے کال ملائی پر ہر بار ناکامی نے اسے منہ چڑایا تھا۔ فریحہ کے لفظ کانوں میں سائیں سائیں کر رہے تھے ۔ نیند سے بوجھل ہورہی آنکھیں پھاڑے وہ اب پوری طرح چاک و چوبند تھا۔

٭….٭….٭

خوشی کے مارے آسیہ کو تو نیند ہی نہیں آرہی تھی۔ سب سے پہلے تو جاکر ماں کو ہی یہ خبر سنائی کہ وہ بھی اس کے ساتھ پاکستان واپس جائے گی پر اب دل کر رہا تھا علینہ کو بھی یہ خوشخبری دے۔ کتنا وقت ہوگیا تھا اسے ملے، گلے لگائے۔ اتفاق سے بچوں کی بھی اسکول کی چھٹیاں ہیں ، اطمینان سے چند ماہ بیٹی کے ساتھ گزار کر آو ¿ں گی۔ اس نے جھٹ پٹ پروگرام بنا لیا تھا لیکن اسے بتائے بغیر چین کیسے ملتا۔ بچوں کو سلا کر وہ تسلی سے لاو ¿نج میں شاکرہ کے پاس آکر بیٹھ گئی اور ان کے سامنے ہی علینہ کو کال ملائی۔ شاکرہ کو بیٹی کا بات بے بات مسکرانا اور خوشی سے بے قابو ہونا پرسکون کر رہا تھا۔ اس ایک پل میں انہوں نے دل سے عامر کو معاف کردیا تھا۔ بیٹیاں بسانے کے لئے دلوں میں قبرستان بنانے پڑتے ہیں جہاں دوسرے کی ہر زیادتی، ہر ستم کو دفنا دیا جاتا ہے۔ شاکرہ کا دل تو ویسے بھی کشادہ تھا۔ وہ جب خاور کو معاف کرچکی تھیں تو پھر یہ تو ان کا داماد تھا۔ آسیہ ساتھ چلی چلے گی تو ہر پچھلی بات کا مداوا ہوجائے گا۔ ویسے بھی اب تو انہیں جلد از جلد علینہ کی شادی کرنی تھی تاکہ وہ اپنے گھر بار کی ہو۔ اپنی زندگی کا آغاز ہوگا تو پچھلے ہر نقصان کی تلافی ہوجائے گی۔

اپنے فون سے آسیہ نے علینہ کا نمبر ملاتے مسکراتے ہوئے ماں کو دیکھا جیسے کہہ رہی ہو سرپرائز دوں گی تو اچھل پڑے گی۔ علینہ جو اس وقت ڈاکٹر زبیر اور عمیر کے پاس ہی بیٹھی تھی اپنے سیل پہ ماں کا نمبر دیکھ کر ایک پل کو کچھ پریشان ہوئی۔ آسیہ اسے بہت کم کال کرتی تھی اور ابھی تو رات بھی ہورہی تھی۔ وہ جانتی تھی آج عامر گھر پہ ہوگا اور آسیہ اسے کبھی عامر کے سامنے کال نہیں کرتیں۔ نانی کے آنے میں بھی ابھی چند دن باقی تھے۔ ایسے میں اس طرح اچانک اس غیرمتوقع کال نے علینہ کو اچھا خاصہ پریشان کردیا تھا۔ کچھ ویسے بھی وہ اس وقت خاور کی وجہ سے شدید ڈسٹرب تھی۔ اگر ڈاکٹر زبیر کی کمپنی نہ ہوتی تو وہ اللہ جانے کسی کونے میں گھس کر کتنے آنسو بہا چکی ہوتی اور خود کو کس کس بات پہ کوس رہی ہوتی۔ ا س نے گھبرا کر جلدی سے فون اٹینڈ کیا تھا ۔ عمیر اور ڈاکٹر انصاری دونوں نے اسے دیکھا پر وہ نگاہوں کی نگاہوں میں معذرت کرتی اٹھ کر کچن کی طرف چل پڑی ۔ وہ دونوں ہی اس کی ابتدائی گفتگو سے اندازہ لگا چکے تھے فون کہاں سے آرہا ہے اس لئے دوبارہ اپنی باتوں میں محو ہوگئے۔

آسیہ نے اسے ایک سانس میں اپنی آمد کی اطلاع دی تھی۔ اس کا مارے خوشی سے برا حال ہورہا تھا۔ علینہ کو پہلے تو یقین ہی نہیں آیا کہ واقعی وہ اس سے ملنے پاکستان آرہی ہے لیکن پھر اچانک وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ آسیہ یکدم اسے روتا دیکھ کر بوکھلا ہی تو گئی تھیں۔

”کیوں رو رہی ہو میری جان، میں نے تو تمہیں اچھی خبر سنائی ہے۔ ان شاءاللہ بہت سارے دن اپنی بیٹی کے پاس گزاروں گی میں“۔ انہوں نے پچکارتے ہوئے اسے دلاسہ دیا تھا۔ جب سے وہ پاکستان آئی تھی خود کو اتنا پتھر کرلیا تھا کہ کبھی آسیہ کے سامنے چھوڑ نانی نے بھی اسے روتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ پھر آج جب غم کے بادل چھٹ گئے تھے، پابندیاں ہٹا لیں گئی تھیں تو یہ مون سون برسانے کی کوئی تک سمجھ نہیں آرہی تھی۔ آسیہ کی آواز پہ پاس بیٹھی شاکرہ بھی ایکدم پریشان سی ہوگئی تھیں۔

”ماما۔۔۔وہ ۔۔۔بابا۔۔۔۔“ اس کی سسکیوں میں جملہ ادھورا رہ گیا تھا۔ آسیہ کے تو جیسے قدموں سے زمین کھسک گئی تھی۔ عجیب سے اندیشے ناگ بن کر پھن اٹھانے لگے۔

”بابا کو کیا ہوا؟“ اس نے گھبرا کر پوچھا تھا۔ پاس بیٹھی شاکرہ نے دل تھام لیا۔ جواب میں علینہ نے روتے روتے ساری روداد الف تا ے ماںکے گوش گزار کردی تھی۔ شائد دل کی بھڑاس تھی ، ماں سے ملنے کی خوشی نے کمزور کر دیا تھا کہ اس نے مونس کی کالج سے ہورہی بدتمیزیوں سے لے کر آج تک کی ایک ایک بات آسیہ کو بات دی۔ وہ دم سادھے سنتی رہی۔

”بابا نے ان پہ الزام لگایا “۔ روتے روتے اس نے سمیر کے حوالے کے سے شکایت کی۔

”وہ ہوتا کون ہے میری بیٹی کو یہ سب کہنے والا۔ کبھی اپنی ذمہ داری تو نبھا نہ سکا اور چلا آیا حق جتانے۔ تم رکو میں ابھی اس کا فون کرکے دماغ درست کرتی ہوں“۔ آسیہ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ابھی پاکستان پہنچ کر خاور کی عقل ٹھکانے لگا دے۔ شاکرہ نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا ۔ جواب میں اس نے آنکھ سے اشارے سے رکنے کو کہا۔

”وہ سب تو میں بھی کہہ چکی ہوں“۔ اس نے دھیمے لہجے میں باقی کی داستان سنائی۔ آسیہ کو تسلی ہوئی تھی کہ بات ختم ہوگئی ہے۔ بہرحال اسے بہت سا پیار اور تسلی دے کر اس نے کال بند کردی۔ اب تو بس چند دن تھے اس کے یہاں پھر تو یہ مسئلہ بھی ختم ہوجائے گا۔

”کچھ مجھے بھی تو بتا دو، کیا کہہ رہی تھی وہ۔ میرا تو دل ڈوبے جارہا ہے۔ خاور تو ٹھیک ہے نا“؟ شاکرہ نے کال بند ہوتے ہی سوال کیا۔ آسیہ سے ساری بات سننے کے بعد انہوں نے تو اپنا ماتھا ہی پیٹ ڈالا۔

”میں کہتی ہوں کوئی حد ہوتی ہے بدگمانی کی۔ وہ کل کا لونڈا منہ اٹھا کر ہماری بچی کے متعلق کچھ بھی کہہ دے گا تو یہ احمق انسان مجوش میں آکر اسے مارنے کو دوڑے گا۔ ارے کوئی اپنی اولاد پہ بھی یوں شک کرتا ہے۔ اور مجھے تو رہ رہ کر اس بچے کا خیال آرہا ہے جس کی عزت اچھالنے کی کوشش کی۔ دماغ پگلا گیا خاور کا۔۔۔وہ کوئی عام راہ چلتا مشٹنڈا تھا جس کا گریبان نوچنے چلا آیا۔ شہر کا حاکم ہے وہ۔۔۔موا کیا کہتے اسے ۔۔۔ضلع کمشنر“۔

”ڈی سی“۔

”ہاں ہاں وہی۔۔۔ڈی سی بی سی۔ شرافت تو ان کے دروازے کی دربان ہے ۔ بتایا نہیں تھا کیسے تمہاری ہی اولاد نے بیچارے کو چور بنا ڈالا پر مجال ہے جو ان سب کے ماتھے پہ بل بھی آیا ہو۔ بہو نے خود ذمہ داری اٹھائی تھی۔ اب بھی مجھے باقاعدہ فون کرکے خیریت معلوم کرتی ہے اور ساتھ علینہ کا احوال بھی بتاتی رہتی ہے۔ لو بھلا اب یہ بال میں نے دھوپ میں سفید کر ڈالے جو جوان بچی یونہی کسی ایرے غیرے کے ہاں چھوڑ کر یہاں سکون سے آبیٹھی ہوں۔ اس عمر میں منہ کالا کرانے کا اس سے ارزاں نسخہ نہ تھا کوئی۔“وہ بناءرکے بس بولے ہی چلی جارہی تھیں۔ آسیہ لب بھینچے خاموش بیٹھی رہی۔ یہ فاصلہ نا ہوتا تو وہ خود پہنچ جاتی خاور کا گریبان پکڑنے۔ برسوں جس اولاد کی پیدائش سے لے کر پرورش تک کی ہر تکلیف اکیلے اٹھائی تھی اس پہ مان ایک طرف اپنی تربیت پہ بھی بھروسہ تھا۔ وہ کردار کی ہلکی ہوتی تو اتنے سالوں میں ایک بوڑھی نانی کے لئے دس مسائل پیدا کرچکی ہوتی۔

”میں کہتی ہوں حد ہوگئی آسیہ۔ یہ خاور تو عقل بیچ کر کھوپرا کھا بیٹھا ہے۔ زندگی میں پہلے کون سا کوئی عقل کا سودا کیا تھا اس نے جو اب جوان اولاد کو ایسے بدظن کر رہا ہے۔ اتنا ہی غیرت مار رہی تھی تو جب میں نے کہا اسی وقت بیٹی کو گھر لے جاتا۔ غیروں کی چوکھٹ پہ کاہے چھوڑنے دیا بھئی۔ اور اب چلے آئے ہیں منہ اٹھا کر حق جتانے“۔ ایک پل ٹھہر کر وہ پھر شروع ہوگئیں۔ انہیں رہ رہ کر غصہ آرہا تھا اور ساتھ ساتھ ذہن میں ماضی کے کئی واقعات بھی گھوم رہے تھے جب خاور نے بس علینہ کا خرچ دے کر اپنی ذمہ داریاں ان کے کندھوں پہ ڈالے رکھیں۔ آج بیٹی پہ حق یاد آگیا تھا پر شائد وہ یہ بھول گیا حقوق کے ساتھ فرائض بھی ہوتے ہیں۔

”صبح کال ملا کر دینا۔ ایسی خبر گیری کروں گی اس کی کہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ اب تم آرام کرو اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بہو بڑی سمجھدار ہے وہ سب سنبھال لے گی“۔آسیہ نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔ اسے واقعی علینہ کی طرف سے اب فک ہورہی تھی۔ بس میں ہوتا تو اس رات کی صبح ہونے سے پہلے بیٹی کے پاس پہنچ جاتی۔

”صبح اسے بھی فون کرکے معذرت کروں گی۔ ان بیچاروں کے تو نیکی گلے پڑ گئی“۔ شاکرہ نے صوفے سے اٹھتے خود کلامی کے سے انداز میں کہا۔

٭….٭….٭

ان سب کی واپسی صبح ہوئی تھی۔ سمیر نے ڈاکٹر زبیر کو فون کرکے وہاں بلالیا تھا۔ اس وقت تک علینہ اور فریحہ اپنے کمرے میں جاچکی تھیں۔ وہ عمیر کو گھر چھوڑ کر کر فوراََ پہنچے تھے۔ خاور کی ناراضی ہنوز قائم تھی ۔ نور فاطمہ اس کے پاس رک کر اسے منانا چاہتی تھیں پر زبیر انصاری انہیں سمجھا بجھا کر گھر لے آئے تھے۔ ان کے خیال میں ابھی اسے اس شاک اور غم سے نکلنے میں وقت لگے گا۔ گھر پہنچیں تو فریحہ، عمیر اور علینہ ، تینوں ان کے منتظر تھے۔ بہت تھکے تھکے انداز میں گھر میں داخل ہوتی نور فاطمہ کو دیکھ کر فریحہ اور علینہ شدید پریشان ہوگئی تھیں۔ سمیر انہیں آرام کی غرض سے سیدھا ان کے کمرے میں لے آیا جبکہ زبیر انصاری وہیں لاو ¿نج میں صوفہ پہ بیٹھ گئے۔ بہت سوچ کر انہوں نے مختصر الفاظ میں فریحہ اور علینہ کو بیک وقت ساری کہانی سنائی تھی۔

”اوہ میرے اللہ۔ ممی تو کہہ رہی تھیں ان کے پیرنٹس۔۔۔“ فریحہ کو شاک لگا تھا۔

”اس کے علاوہ اور کیا بتاتیں؟ حالات ہی ایسے بن گئے تھے ہمارے پاس کوئی دوسری چوائس نہیں تھی۔ پھر وقت گزر چکا تھا ایسی باتیں دہرانے سے فقط رنج ہی ہوتا ہے۔ “انصاری صاحب نے تھکے تھکے لہجے میں کہا۔ وہ خود اس وقت اچھے خاصے اپ سیٹ تھے ۔ ایک تو تمام رات کی بے آرامی اس پہ نور فاطمہ کی حالت ۔ جانتے تھے وہ اندر سے کتنی بزدل ہیں ۔ اس وقت وہ جس کرب سے گزر رہی ہیں اس کا بخوبی اندازہ تھا انہیں۔

”ممی تو بہت اپ سیٹ ہوں گی ۔ “ فریحہ زیرِ لب بڑبڑائی۔ علینہ حیران پریشان انصاری صاحب کی باتیں سن رہی تھی۔ کبھی وہ ناسمجھی سے انہیں اور کبھی فریحہ کو دیکھتی تھی جیسے یقین کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اس خاندان کے ساتھ پچھلے کئی ہفتوں سے رہتے ان کے خلوص اور محبت نے اسے جس اپنائیت کا احساس دلایا تھا اس کے بعد دل نے کئی بار یہ تمنا کی تھی کہ کاش یہ اس کی فیملی ہوتی۔ خلوص کا رشتہ تو تھا ہی پر کیا تھا جو ان اچھے لوگوں سے رشتے کی کوئی دوسری ڈور بھی جڑی ہوتی جن کی زندگیاں شیشے سی چمکدار اور صاف تھیں۔ اور اس اچانک انکشاف نے کہ نور فاطمہ اس کی سگی پھوپھی ہیں اسے حیرت کے سمندر میں غرق کردیا تھا۔ فریحہ اور عمیر اب بھی زبیر انصاری سے سوال و جواب کر رہے تھے۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر نور فاطمہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

کمرے کے دروازے پہ ہلکی سی دستک کے بعد وہ اندر داخل ہوئی۔ سامنے بیڈ پہ نور فاطمہ کراو ¿ن پہ سر ٹکائے رنجیدہ بیٹھی تھیں۔ سمیر انہیں کمرے میں چھوڑ کر دوا اور ناشتہ لینے گیا تھا۔ علینہ کو دیکھ کر انہوں نے بمشکل مسکراتے سر کے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔ وہ دھیمے قدموں سے چلتی بیڈ کے کونے پہ جا ٹکی۔

”آپ میری پھوپھو ہیں کیا؟“ اس کے لفظوں میں حیرت و بے یقینی تھی۔ نور فاطمہ نے اس کے بالوں کو سہلاتے اثبات میں سر ہلایا۔

”بابا کی سگی بہن؟“ اس بار لہجے میں ہلکی سی ایکسائٹمنٹ تھی۔

”تمہارے بابا مجھ سے آٹھ سال چھوٹے ہیں۔ ہم اسے پیار سے ٹیپو کہتے تھے“۔ وہ اب بھی اس کے ادھ کھلے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھیں۔ چہرے پہ غیر محسوس سی خوشی جیسے وہ ماضی کی گلیوں میں گھوم رہی ہوں۔

”شائد اسی لئے مجھے آپ کے پاس سے بڑی جانی پہچانی مہک آتی تھی۔ بالکل ماما جیسی ۔۔۔“ علینہ نے بے اختیار اپنا سر ان کے کندھے پہ ٹکا لیا۔ کچھ روز پہلے بھی اس نے نور انصاری سے اپنی اس کیفیت کا ذکر کیا تھا۔ اس وقت وہ سچ سے غافل تھی اور خود نور فاطمہ بھی۔ خون کی کشش تھی جو وجود سے اپنائیت بھری مہک لئے اٹھ رہی تھی۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی جس خاتون کو وہ اتنا آئیڈلائز کرنے لگی ہے ان سے اتنا گہرا تعلق ہے۔ نور فاطمہ انگلیوں سے اس کے گال تھپتھپاتی اسے خاور کے متعلق بتانے لگیں۔ اس وقت ملازمہ کے ساتھ سمیر کمرے میں داخل ہوا اور علینہ کو وہاں دیکھ کر دروازے پہ ہی رک گیا۔ ملازمہ نے ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھام رکھی تھی ۔ سمیر نے بناءآواز اس سے ٹرے لے کر بس آنکھ کے اشارے سے اسے واپس جانے کا کہا۔ ملازمہ فوراََ ہی کمرے سے نکل گئی۔

”تمہارے نین نقش بالکل تمہاری دادی جیسے ہیں۔ میں نے تمہارے انکل سے بھی ذکر کیا تھا کہ علینہ کا چہرہ بڑا جانا پہچانا ہے۔ تمہیں دیکھ کر ہر بار مجھے امی کا خیال آتا تھا“۔ وہ دھیمے لہجے میں ہولے سے مسکراتے ہوئے علینہ کو بتا رہی تھیں۔ علینہ کے لبوں پہ بے اختیار مسکراہٹ ابھری۔ سمیر کو یہ دیکھ کر تسلی ہوئی تھی کہ وہ اب خاصی نارمل تھیں۔ خاور کی بے رخی نے جو زخم دیا تھا علینہ کی صورت اس وقت اس کا مداوا ہورہا تھا۔

”کیا میری دادی بہت خوبصورت تھیں؟“ علینہ نے سادگی سے سوال کیا۔

”ہاں وہ بہت زیادہ خوبصورت تھیں“۔ نور انصاری اپنے ہی دھیان میں مگن اس کی بات کا جواب بھی اتنی ہی سادگی سے دینے لگیں البتہ اس سنجیدہ صورتحال میں بھی سمیر کی ہنسی نکل گئی ۔ نچلا لب دباتے منہ پھیر کر اس نے بمشکل اپنی ہنسی پہ قابو کیا اور پھر بناءآواز چلتا بیڈ سائید ٹیبل تک آیا۔ ان دونوں نے ہی اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی۔

”آپ بھی بہت خوبصورت ہیں پھوپھو“۔ علینہ آنکھیں موندے ان کی خوشبو کو محسوس کر رہی تھی۔ اس سے اپنی ایکسائٹمنٹ بھی کنٹرول نہیں ہورہی تھی۔ شہباز کے وجود سے تو صریحاََ غافل تھی اس پہ تاسف تو بس لمحے کا تھا لیکن اصل خوشی تو وہ تھی جو اسے اس تعلق کے کھلنے پہ ملی تھی اب وہ اسے کیسے چھپاتی۔

”آپ دونوں خوبصورت خواتین اگر اپنی اپنی تعریفوں سے فارغ ہوچکی ہوں تو پلیز کچھ کھا لیں۔ ممی آپ کو میڈیسن لینی ہے سو پلیز یہ ناشتہ لازمی کرنا ہے اور اس کے بعد صرف سونا ہے“۔ خود کو نارمل رکھتے اس نے تاکید کی تھی۔ اس کی آواز پہ چونک کر آنکھیں کھولے علینہ سنبھل کر بیٹھ گئی جبکہ نور انصاری نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔ وہ اب بھی اسی پوزیشن میں بیٹھی تھیں ہاں انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اوکے کیا تھا۔

”میں آپ کو رات کو ماموں کی طرف لے چلوں گا لیکن پہلے آپ مکمل ریسٹ کریں گیں اور بالکل نہیں پریشان ہوں گیں۔“ سمیر نے ان کے بائیں جانب بیٹھ کر ان کے سر پہ بوسہ دیا۔

”اپنی خوبصورت پھوپھو کو ناشتہ کروانا تمہاری ذمہ داری ہے“۔ انگلی اٹھا کر علینہ کو تاکید کی گئی تھی۔ وہ حیران سمیر کی شکل دیکھنے لگی۔ نور انصاری بھی اپنی مسکراہٹ روک نہ پائیں۔ سمیر بے نیازی سے کمرے سے نکل گیا تھا۔

علینہ نے سر جھٹک کر نور انصاری کے سامنے ناشتے کی ٹرے رکھی۔ زور زبردستی انہوں نے تھوڑا سا کھایا پھر ٹرے میں رکھی ٹیبلٹ لے کر وہ لیٹ گئیں۔ علینہ ان کے پاس اس وقت تک بیٹھی رہی جب تک وہ سو نا گئیں ۔ انہیں گہری نیند میں پاکر اس نے ہولے سے دروازہ بند کیا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

٭….٭….٭

صبح ہوتے ہی شاکرہ نے خاور کو فون کر دیا تھا ۔ چونکہ وہ تدفین میں مصروف تھا تو فون اٹیند نہ کرسکا ۔ انہوں نے کئی بار کوشش کی جب رابطہ نا ہوا تو پریشان ہوکر علینہ کو کال ملا دی۔ کل رات جس طرح اس نے آسیہ سے بات کرتے وقت رونا دھونا مچایا تھا ، شاکرہ کو تو تمام رات نیند ہی نہیں آئی۔ ا س پہ اہانت کا احساس الگ چرکے لگا رہا تھا کہ کیسے انصاری فیملی کا سامنا کریں گیں۔ بڑا دل کرکے ان لوگوں نے شاکرہ کی مشکل آسان کی تھی ورنہ کون آج کے زمانے میں پرائی ذمہ داری اٹھاتا ہے اس پہ یہ بھی کہ نور فاطمہ لگاتار ان سے رابطے میں تھیں۔ علینہ سے بھی ان کی بات کرواتیں اور ان کی خیریت بھی گاہے بگاہے پوچھتی رہتیں ۔ خاور کے ایک الزام نے انہیں اس خاندان سے نظریں ملانے کے قابل نہ چھوڑا تھا ۔ شاکرہ نے انتہائی تشویش سے اگلی بات جاننے کی خاطر علینہ سے سوال جواب شروع کر دئیے پر وہ تو اس وقت نیا کھولے بیٹھی تھی۔ حیرت سے بے یقینی اور پھر یقین کا سفر طے کرتے وہ اب بے تحاشہ جوش میں تھی۔ اسی ایکسائٹمنٹ میں ایک سانس میں شاکرہ نانی کو سارا قصہ کہہ سنایا جو کچھ دیر پہلے انصاری صاحب اور نور فاطمہ کی بدولت پتا چلا تھا۔

”ارے کیا اول فول بکے جارہی ہے لڑکی؟ یہ کون سی نئی رشتہ داریاں جوڑ لی ہیں چار دن میں“۔ وہ سادہ لوح خاتون سرے سے اس کی بات کو سمجھ ہی نہیں پائیں تھیں۔ ظاہر سی بات ہے عقل بھی انسان کی وہیں تک جاتی ہے جہاں تک نگاہ ہو ۔ اب جتنا آنکھوں سے دیکھا تھا اس کے مطابق تو بس حیرانی ہی تھی۔

”بک نہیں رہی میں حقیقت بتا رہی ہوں۔ وہ بابا کی بہن ہیں جو بچپن میں بچھڑ گئی تھیں“۔علینہ نے سر پہ ہاتھ مارتے دہرایا۔

”لو بھلا کیا کھم کے میلے میں کھو گئے تھے جو بچپن کے بچھڑے آج مل گئے۔ میرے تو سامنے بیاہ کر آئی تھی اور تمہارے باپ کو بھی برسوں سے جانتی ہوں۔ ایک شہر میں رہتے آج اچانک بہن بھائی ہوگئے“۔شاکرہ کو اب بھی یقین نہیں آیا تھا۔ ان کی بات پہ پاس بیٹھی آسیہ نے حیرت سے آنکھوں ہی آنکھوں میں سوال کیا۔ وہ اپنی ماں کا الجھنا دیکھ رہی تھی ۔ جواب میں شاکرہ نے سر ہلاتے سیل فون آسیہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔

”تم خو ہی پوچھ لو اپنی بیٹی سے ، کھوئی ہوئی پھوپھی دریافت کئے بیٹھی ہیں۔ حد ہوگئی کہاں وہ منحوس مارا خاور کہاں زبیر کی دولہن۔ زمین آسمان کا فرق ہے بھیا۔ میری تو کھوپڑی میں نہیں آرہی یہ بے پر کی بِپتا“۔ آسیہ نے نا سمجھتے ہوئے حیرانی سے ماں کی طرف دیکھا اور پھر فون کان سے لگا لیا۔ پاس بیٹھیں شاکرہ بربڑاتی رہیں ۔ آسیہ نے علینہ سے تفصیل پوچھی تو اپنی معلومات ماں سے شئیر کرنے لگی۔ آسیہ حیران پریشان اس کی بات سنتی رہی ۔ دس منٹ بعد کال بند کرتے ہوئے اس کے چہرے پہ تفکر کی جھلک نمایاں تھی ۔ جیسے ہی کال بند ہوئی شاکرہ کے سوالات کی گردان شروع ہوگئی۔ وہ دھیمے لہجے میں اسے ساری بات بتانے لگی۔ یقین تو بہرحال انہیں اب بھی نہیں آرہا تھا پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی کہاں تھا۔ اللہ کی قدرت تھی کہ اتنے سالوں بعد ایک دردناک موڑ پہ دونوں کا آمنا سامنا ہوگیا تھا۔

٭….٭….٭

”آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں۔ میرا کسی سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے“۔علینہ سمیت وہ سب ہی رات کو خاور کے گھر چلے آئے تھے۔ خاور نے نہایت روکھے لہجے میں ان سب کو وہاں سے جانے کے لئے کہا تھا۔ فریحہ اور علینہ تو شاک ہی رہ گئی تھیں۔ نور، زبیر انصاری اور سمیر البتہ اس کی ناراضی سے واقف تھے۔ دوسری طرف رخشندہ حیران پریشان ان نئی رشتے داریوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ علینہ نے کن انکھیوں سے رخشندہ کو دیکھا تھا جبکہ وہ اسے سرے سے پہچان ہی نہیں پائی تھی کیونکہ اب تک اس سے کبھی سامنا نہیں ہوا تھا ورنہ کیا معلوم اسے دھکے مار کر نکال دیتی۔

”تم میری بات تو سنو۔ میرے پاس تمہارے ہر شکوے کا جواب ہے“۔چھوٹے سے لاو ¿نج میں آمنے سامنے رکھے صوفوں پہ وہ سب ہی براجمان تھے۔ خاور کے ساتھ نور فاطمہ بیٹھی تھیں۔ انہوں نے رسانیت سے کہتے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ خاور نے ایک نگاہ پاس بیٹھی نور فاطمہ کے ستے ہوئے چہرے پہ ڈالی اور پھر تیزی سے اپنا ہاتھ کھینچ کر سامنے کھڑی رخشندہ پہ ڈالی۔ بڑی رکھائی سے اس نے اسے کمرے سے نکل جانے کے لئے کہا تھا۔ رخشندہ مارے شرمندگی کے سرخ چہرہ لئے اگلے ہی پل پیر پٹخٹی لاو ¿نج سے نکل گئی تھی۔ اپنا غصہ اس نے کمرے کے دروازے پہ اتارا تھا جسے پوری قوت سے بند کرتے گویا خاور کے منہ پہ مارا تھا۔ کمرے میں ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا۔ طوفان کے بعد سا سناٹا، موت سا سناٹا اور پھر اس سناٹے کو چیرتی خاور کی دھیمی پر شکوہ کناں آواز ابھری۔

”میری ماں کو موت کے گھاٹ اتار کر، میرے بچپن کو گالی بنا کر ، مجھ سے میری معصومیت چھین لی۔ کون سی صفائی پیش کرنے آئی ہیں آپ آج۔“ برسوں کا زہر شکوہ بن کر سامنے آیا تھا۔

”میں مجبور تھی“۔نور نے سر جھکا لیا۔ دنیا کا سب سے مشکل کام اپنی صفائی دینا ہے۔ کسی بدگمان کو وضاحت دینے سے بڑا جوکھم بھلا اور کیا ہوسکتا ہے۔ اپنی بے گناہی ثابت کرتے بولا جانے والا سچ بدگمانی کی تاویلوں کے سامنے بڑا کم تر محسوس ہوتا ہے۔ نور فاطمہ کی زندگی کا سیاہ ترین پہلو اس پل پاس بیٹھے اس کے بھائی کے سامنے کوئی معنی ہی نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ سب اس نے فیس نہیں کیا تھااور جو کچھ اس نے سہا تھا ان زخموں کی اذیت اسے کسی دوسرے کی تکلیف کو سمجھنے ہی نہیں دیتی تھی۔

”کوئی مجبوری نہیں ہوتی ، سب بہانے ہیں۔ “اس کے لہجے میں بلا کی اجنبیت تھی۔

”مجبوریاں بھی ہوتی ہیں ٹیپو، جن بیٹیوں کے باپ انہیں جوے میں ہار آئیں وہ مجبور ہی ہوجاتی ہیں۔ میرا بھائی مجھ سے آٹھ سال چھوٹا نہ ہوکر آٹھ سال بڑا ہوتا تو میں دیکھتی میرا باپ کیسے اپنے قرض سے نجات پانے کی خاطر میرا سودا کر دیتا“۔ اپنی گود میں دھرے ہاتھوں کو تکتے وہ بھیگے لہجے میں بولیں۔ یہ بے بسی کی انتہا نہیں تھی تو اور کیا تھی۔ کب چاہا تھا انہوں نے یہ سب جو ہوگیا۔ کتنا سمجھایا تھا انہوں نے سفینہ کو پر اس پر شہباز کا خوف حاوی تھا ۔ وہاں موجود سب ہی کے چہرے پہ پریشانی جھلک رہی تھی۔ علینہ کو تو خاور پہ حیرت تھی جو اپنی اتنی پیاری بہن سے اس لہجے میں مخاطب تھا۔

”میں نے آپ کی والدہ کو سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی۔ میں اتنا با اختیار تھا کہ سب کچھ ہینڈل کرلیتا لیکن وہ کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھیں۔ میرا انکار انہیں ہزار موت مار دیتا جبکہ میں ان سے وعدہ کرچکا تھا کہ ان کے سوال پہ انکار نہ کروں گا۔ میں واپس آیا تھا تمہیں اور آنٹی کو لے جانے پر اس وقت تک دیر ہوچکی تھی۔ شائد قسمت کو یہی منظور تھا ۔ میں نے تمہیں بھی بہت تلاش کیا لیکن تمہارا کچھ پتا نہ چلا“۔ مجبوراََ ڈاکٹر انصاری کو بولنا پڑا تھا۔ دھیمے لہجے میں تفصیل بتاتے انہوں نے سچائی سے پردہ اٹھایا تھا۔

”دیکھو خاور، تم نے واقعی بہت تکلیف اٹھائی ہے پر دکھ تمہاری بہن کے حصے میں بھی کم نہیں آیا۔ ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ میں پوری عزت اور مان سے تمہاری والدہ کی خواہش پہ نکاح کرکے لایا تھا اسے۔ “انہوں نے خاور کا شانہ تھپتپاتے سمجھایا۔ خاور اس بار خاموش رہا تھا۔ ڈاکٹر زبیر اور نور فاطمہ اب اسے مزید باتیں بتا رہے تھے جن سے وہ ناواقف تھا ۔ خاور نے بھی دھیمی اور مدغم آواز میں اپنی زندگی کے سیاہ دنوں کی روداد انہیں سنائی۔ نور انصاری سے ضبط کرنا مشکل ہورہا تھا۔ کتنی دشواری ان کے ننھے شہزادے کا مقدر بنی جسے کبھی ان کی ماں نے کانٹا بھی نہ چبھنے دیا تھا۔ یہ انکشافات علینہ کا دل دہلا گئے تھے۔ وہ جو سالوں سے باپ سے بدگمان اسے اپنی زندگی کے ہر رنج کا ذمہ دار سمجھتی تھی اس لمحہِ انکشاف پہ دل سے معاف کرچکی تھی۔

”میں ابا کا ہر ظلم، قسمت کا ہر ستم اور اپنی ماں کا خون فقط اس ایک خوشی کی خاطر معاف کرچکی ہوں کہ مجھے میرا بھائی مل گیا۔ کیا میرے ناکردہ گناہ پہ تم مجھے معاف نہیں کرو گے ٹیپو؟“ کچھ دیر تک دونوں بھائی بہن اپنے اپنے حصے کے غم ایک دوسرے کو سناتے رہے اور پھر نور انصاری نے دونوں ہاتھ جوڑتے بھیگے لہجے میں خاور کی طرف دیکھا۔ خاور کی آنکھیں آنسوو ¿ں کو ضبط کرتے سرخ ہورہی تھیں۔اس نے بے اختیار نور فاطمہ کے ہاتھوں کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔ برسوں بعد وصل کا یہ لمحہ ہر شخص کو آبدیدہ کرگیا تھا ۔

 وہاں سے واپسی پہ نور فاطمہ پرسکون اور خوش تھیں۔ ایسی بھرپور خوشی زبیر انصاری نے پہلی بار ان کے چہرے پہ دیکھی تھی۔

٭….٭….٭

صبح سے وہ ہواو ¿ں میں اڑ رہی تھی۔ خوشی آج چہرے سے چھلک رہی تھی اور چھپائے نا چھپتی تھی۔ پچھلے چند روز سے تو یوں بھی اسے زندگی اچھی لگنے لگی تھی۔ کل تک جو وجود بے مایاں و توقیر لگتا تھا، ماں کا لمس تھا نا باپ کی شفقت آج اسی وجود سے جڑے بہت سے خوبصورت رشتوں کی بدولت وہ خود کو بھی اس دنیا کا کارآمد حصہ محسوس کر رہی تھی۔اس پہ کل رات آسیہ کی آمد کی اطلاع نے تو جیسے اسے ساتویں آسمان پہ بٹھا دیا تھا۔ صبح ہی اس نے اپنا بیگ پیک کر لیا تھا۔ اس ایک مہینے میں اسے اس گھر کے مکینوں سے جو اپنا پن ملا تھا جاتے ہوئے کچھ افسوس بھی تھا پر یہ تسلی بھی ساتھ تھی کہ رشتوں کا خوبصورت تحفہ لئے جارہی ہے۔ اجنبیت کی دیوار تو بہت پہلے ہی گر چکی تھی ، اب تو ایک مضبوط تعلق تھا جس کی بناءپہ جب چاہے اس گھر میں لوٹ سکتی تھی۔ اس کے جانے پہ سب سے زیادہ اداس فریحہ تھی جسے اس کے ساتھ کمرہ شئیر کرنے کی عادت ہوچکی تھی۔ وہ تو آج کل یوں بھی بہت اداس تھی لیکن ان دنوں اتنا ہیجان پھیلا ہوا تھا کہ کسی کو بھی فریحہ کی ضرورت سے زیادہ خاموشی کا احساس نہ ہوا۔ نور اور فریحہ نے اسے بہت ہی قیمتی تحائف دئیے تھے۔

شاکرہ نانی، آسیہ اور بچوں کی آمد دوپہر کی تھی۔ نور انصاری نے خصوصی اپنا ڈرائیور گاڑی سمیت لاہور بھیجا تھا تاکہ ان لوگوں کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو۔ علینہ کی ایکسائٹمنٹ انہیں بار بار مسکرانے پہ مجبور کر رہی تھی جو ایک طرف تو بار بار وقت دیکھتی جانے کو پرتول رہی تھی تو دوسری طرف ” پھوپھو آپ مجھ سے ملنے آیا کریں گیں نا“؟ کی گردان بھی کر رہی تھی۔ نور فاطمہ خود اسے ڈراپ کرنے جانا چاہتی تھیں لیکن صبح ہی انصاری صاحب کی دونوں بہنوں نے اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی۔ کہنے کو تو وہ نور سے تعزیت کرنے آ رہی تھیں پر دراصل انہیں نگہت آپا نے عمیر اور فریحہ کے رشتے کی بات کرنے بھیجا تھا۔ وہ خود بھی سرسری سا تذکرہ انصاری صاحب کے کان میں ڈال چکی تھیں ۔ عمیر نے فریحہ سے بات کرنے کے بعد ماں کو اوکے کردیا تھا۔ یہ تو چند دن اس لئے بات دبی رہی کہ ابھی نور شاک کی کیفیت میں تھیں لیکن اب وہ لوگ باقاعدہ رشتے کی بات کرنے آرہی تھیں۔ لہذا نور فاطمہ نے علینہ کو گھر واپس پہنچانے کی ذمہ داری سمیر پہ ڈالی۔ سچویشن ایسی تھی وہ انکار بھی نہیں کر سکا۔ان کا کہنا تھا وہ اگلے ایک دو روز میں ملنے ضرور آئیں گیں۔

”آج تو بڑے خوشگوار موڈ میں ہو جیسے قید سے رہائی ملی ہو“۔ علینہ کا بدلا ہوا رویہ تو وہ بھی محسوس کرچکا تھا۔ کہاں تو محترمہ کے چہرے پہ خوامخواہ اداسی کا راج ہوتا تھا۔ بلاوجہ مینا کمہاری بن کر گھومتی رہتی تھی ۔ شکوے شکایا ت وہ الگ لیکن آج تو رنگ ڈھنگ ہی جدا تھے۔ سمیر جو قدرے سنجیدگی سے ڈرائیو کر رہا تھا اپنی حیرت کا اظہار کئے بنا رہ نہیں سکا۔ علینہ نے ماتھے پہ بل ڈالے ایک نگاہِ غضب ڈالی اور پھر سمیر کی غیر سنجیدگی اور چوٹ کو محسوس کرتے برجستہ جواب دیا۔

”دشمنوں کی نظر نہ لگے ، ویسے تو میں ہمیشہ خوش ہی رہتی ہوں“۔ وہ اب سنجیدگی سے گردن اکڑائے ونڈ اسکرین کے پار دیکھ رہی تھی۔ سرمئی اور سفید لان کے سوٹ میں دھلے چہرے کے ساتھ وہ خاصی فریش لگ رہی تھی۔ کچھ خوشی کا رنگ کچھ معصومیت کی رونق ، سمیر اس بے ساختگی کو اگنور نہیں کرپایا تھا۔

”جہاں تک مجھے یاد ہے خوشی سے تمہارا تعلق اینٹ اور کتے جیسا ہے۔ جہاں خوشی ہو تم وہاں سے یوں غائب ہوتی ہو جیسے شیطان کے سامنے تعوذ پڑھ لیا ہو۔ بہرحال مجھے تو اس وقت کا خیال آرہا تھا جب ایک ماہ پہلے تم ہمارے گھر آئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا تمہاری نانی گن پوائینٹ پہ لائیں تھیں تمہیں“۔ سمیر بھی اسے فل تپانے کے موڈ میں تھا لیکن آج علینہ اتنی خوش تھی کہ سمیر کو بھی معاف کرسکتی تھی۔ اس کی پہلی بات کو یکسر نظرانداز کرتے اس نے فقط آخری جملے کا جواب دینا ضروری سمجھا تھا۔

”اس دن اور آج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تب میں یہاں احسان اور مہربانی کی بدولت آئی تھی ۔ بے ٹھکانہ تھی اور مجھ پہ رحم کھا کر چند روز کے لئے مجھ پہ آپ کے گھر کے دروازے کھولے گئے تھے۔ آج حالات مختلف ہیں، یہ میری پھوپھو کا گھر ہے اور میں اس تعلق سے جب چاہوں ان سے ملنے آسکتی ہوں۔ یہ تو بس ماما سے ملنے کی ایکسائٹمنٹ ہے ۔ “ اس نے سادگی سے کہا۔

”تمہاری بدگمانیوں کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہ ہوگا۔ کسی نے تم پہ احسان نہیں کیا تھا، تمہاری نانی پریشان تھیں تمہاری وجہ سے اور ان سے ہماری فیملی کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ یہ تو ایک طرح ان کا بڑا پن تھا کہ انہوں نے قابلِ بھروسہ جان کر تمہیں ہمارے گھر پہ چھوڑا۔ تم سے رشتہ تو چند دن پہلے معلوم ہوا، کیا کبھی اس گھر کے کسی فرد نے تم پہ احسان جتایا؟“اتنے دنوں میں سمیر اسے اتنا تو جان ہی چکا تھا کہ اس کے دماغ میں کیا کھچڑی پکتی رہتی ہے۔ یہ بھی سچ تھا کہ ان دونوں کے درمیان غلط فہمیاں اور شکایات شروع دن سے چلی آرہی تھیں پر اتفاق سے یقین کا تعلق بھی اس کا سمیر سے ہی جڑا تھا۔ پھر وہ چاہے مونس کی حقیقت ہو یا اپنی ذاتی زندگی کا ڈپریشن ، اپنے پرسنل ایشو اس نے آج تک بس اسی سے شئیر کئے تھے یہی وجہ تھی کہ سمیر اسے بہت اچھی طرح سمجھتا تھا۔ اس نے نہایت غیر جانبداری سے تجزیہ کرتے اسے اچھا خاصہ شرمندہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ علینہ نے جواب دینے کی بجائے سر جھکالیا۔ ایک دم چہرے کی دمک ماند پڑی تھی۔ سمیر کو اپنی بیوقوفی پہ غصہ آیا۔ اچھی بھلی خوش تھی بیچاری خوامخواہ سنجیدہ ہوگئی۔

”ویسے ایک حساب سے تمہیں میرا شکرگزار ہونا چاہیئے۔ میں تمہیں دریافت نہ کرتا تو بھلا یہ رشتہ کیسے کھلتا“۔اس نے ہنستے ہوئے علینہ کا موڈ بدلنے کی کوشش کی۔

”دریافت۔۔۔۔۔جی ہاں جیسے کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تھا؟“بات تو سچ ہی تھی ویسے، سمیر کی گاڑی سے اگر علینہ نہ ٹکراتی تو شائد آج کہانی اس موڑ تک نہ پہنچتی۔ علینہ نے ابرو اٹھائے استہزائیہ لہجے میں کہا۔

”ہاں نا کیسی ہولناک ایجاد ثابت ہوئی ۔۔۔۔۔قیامت خیز تباہ کاریوں سے لے کر نیو ورلڈ آرڈر تک ہر سہرا امریکہ کی دریافت کے سر ہوا“۔اس نے زیرِ لب مسکراہٹ دبائی۔

”آپ کو مجھے چڑانا بہت پسند ہے نا؟“وہ غصے سے بولی۔

”مجھے ہر چڑنے والے کو چڑانا پسند ہے۔ تم بھی فریحہ کی طرح ایک سیکینڈ میں جلنے کڑھنے لگتی ہو “۔وہ خاصے خوشگوار موڈ میں اس سفر کو انجوائے کر رہا تھا۔ اس سے اب کسی جوابی حملے کی توقع لگائے اس نے گردن گھما کر پیسنجر سیٹ پہ بیٹھی علینہ کو دیکھا لیکن وہاں سناٹا تھا۔ چہرے پہ تفکر تھا یا پشیمانی۔۔۔سمیر کچھ الجھ سا گیا تھا۔

”کیا سوچ رہی ہو؟“اس کی خاموشی سے پریشان ہوکر اس نے بے ساختہ سوال کیا۔

”شروع شروع میں مجھے فریحہ باجی اور آپ کی مکمل زندگی پہ رشک آتا تھا اور اپنی نامکمل اور ادھوری شخصیت پہ رونا۔ میں جب یہاں آئی تو میرا احساسِ کمتری بہت شدید ہوگیا تھا۔ مجھے لگتا تھا میں بہت بد قسمت ہوں جس کا دامن بالکل خالی ہے۔ “بہت دھیمے لہجے میں وہ اعتراف کر رہی تھی۔

”اور اب؟“اس نے بے ساختہ سوال کیا۔

”اب میں سچ جان چکی ہوں۔ پھوپھو اور بابا کی زندگی کی تکالیف اور اذیت جاننے کے بعد میں نے جب ان سے اپنی زندگی کی مشکلات کا موازانہ کیا تو مجھے احساس ہوا کہ میرے حصے میں تو اس کا ایک فیصد دکھ بھی نہیں آیا۔ پھر بابا اور پھوپھو ایک ہی ڈور کے مخالف سرے ہیں جن کی زندگی کے اتار چڑھاو ¿ اور مصائب کی بنیاد ایک سی تھی۔ اپنے مصائب و آلام میں نکھر کر پھوپھو کی زندگی ایک مثال بن گئی اور دادا کے ظلم کی فصل کاٹتے میرے بابا خود بھی زہر یلی جڑی بوٹی بنتے گئے۔ مجھے بابا سے بہت سی شکایات تھیں لیکن سچ جان کر مجھے اب ان پہ ترس آتا ہے۔ “ ہر راز سے پردہ اٹھ چکا تھا تو پھر شکوے شکایات سے کیا حاصل۔ اتنی بہت سی آزمائشوں سے گزر کر خاور نے اگر اپنی خانگی زندگی تماشہ بنا لی تو اس کے قصوروار شائد وقت و حالات اور قسمت تھے۔

”اس کا سب سے زیادہ کریڈیٹ میرے ڈیڈی کو جاتا ہے۔ انہوں نے ممی کی فیملی پرابلمز کو کبھی ان کی کمزوری نہیں بننے دیا۔ زندگی کے ساتھی کا پازیٹیو ہونا بہت اہم ہے۔ “ سمیر کی بات سے علینہ سو فیصد متفق تھی۔ واقعی رشتے اعتبار اور عزت کے محتاج ہوتے ہیں۔ زبیر انصاری جیسا شاندار شوہر نور فاطمہ کو قدرت کی ودیعت تھی، انعام تھا۔ ان کی بدولت ایک تباہ حال اور بے آسرا لڑکی ذرے سے آفتاب بن گئی کیونکہ ان کی تربیت بہت اچھے ہاتھوں کی تھی۔

”بابا اپنا ماضی مٹھی میں لئے گھومتے رہے۔ دادا کو برا جاننے کے باوجود وہ خود کو ان جیسا بنانے سے روک نہیں پائے، یہی وجہ ہے کہ میری ماما اور میں نے اتنا سفر کیا۔ پھوپھو بہت مضبوط خاتون ہیں انہوں نے اپنے ماضی کی پرچھائیوں کو اپنی اگلی نسل میں منتقل نہیں ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ دونوں اور میں اتنے مختلف ہیں۔ حقیقت جان کر اس سے سمجھوتہ کرلیا جائے تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے اور میں اب یہ فرق سمجھ چکی ہوں“۔ ایک ٹوٹے ہوئے خاندان کا حصہ ہونے کی منفی سوچ اس کی شخصیت کی ٹوٹ پھوٹ کی ضامن بنی پر آج حقیقت جان کر اسے احساس ہوا کہ اس نے تو اس تکلیف کا ایک فیصد بھی نہیں برداشت کیا جو اس کا خاندان جھیل چکا ہے۔ یہ جو غم کی ہلکی سی جھلک اسے وراثت میں ملی ہے اس کے ساتھ کتنی آسانیاں اور قدرت کی کتنی مہربانیاں جڑی ہیں ۔

٭….٭….٭

”بس میری جان روتے نہیں“۔وہ آسیہ کے سینے سے لگی سسکیاں بھر رہی تھی۔ اس نے پیار سے تھپکتے دلاسہ دیا پر علینہ پہ آج ان دلاسوں کا کیا اثر ہونے والا تھا یہ تو برسوں کی فرسٹریشن اور ماں سے دوری کا احساس تھا جو اس ایک پل میں غم اور خوشی کو یکجا کرتا آنسوو ¿ں کی صورت بہہ نکلا تھا۔

”خوشی کا موقع ہے کیوں بے وقت مینہ برسا رہی ہو۔ اور کچھ نہیں تو ماں کی طبیعت کا ہی خیال کرو۔ “شاکرہ نے ٹوکا۔ انہیں اس طرح علینہ کا رونا تکلیف دے رہا تھا۔ خود آسیہ بھی بڑے ضبط سے بیٹھی تھی اور ان دونوں کو دیکھ کر نانی کے لئے اپنے جذبات قابو رکھنا مشکل ہورہا تھا۔

”لمبے عرصے بعد مل رہی ہے نا اسی لئے جذباتی ہوگئی ہے۔ “آسیہ نے دھیما سا مسکرا کر ماں کی طرف دیکھتے بیٹی کی طرفداری کی تو علینہ کے لئے یہ موقع خدا کی دین تھا۔ ناک مسلتی وہ آسیہ سے الگ ہوئی اور نانی کے ساتھ پرانا محاذ کھل گیا۔

”نانی کو تو بات بے بات مجھے ڈانٹنے کا شوق ہے۔ دن میں آٹھ دس بار باتیں نہ سنائیں ان کا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ پتا نہیں وہاں کیسے وقت کٹتا ہوگا ان کا“۔وہ پھیل کر بولی تو نانی ہکا بکا علینہ کی شکل دیکھنے لگیں ۔

”لو سن لو اپنی اولاد کی باتیں۔ یہ صلہ دیا ہے مجھے ۔ اچھا بھئی میں اب سے چپ ہی بھلی۔ “وہ منہ بسور کر بچوں کی طرح روٹھ گئیں۔ آسیہ جو بیٹی کی بات پہ بمشکل ہنسی دبائے ہوئے تھی اب ماں کو روٹھتا دیکھ کر یکدم سنجیدہ ہوگئی کہیں وہ اس سے ناراض ہی نا ہوجائیں۔

”بری بات ایسے نہیں کہتے، پیار بھی تم سے سب سے زیادہ کرتی ہیں“۔اس نے دھیمے انداز میں علینہ کے بالوں میں انگلیاں چلاتے اسے سمجھایا۔

”تو کیا میں پیار نہیں کرتی ان سے۔ مجھے یہاں چھوڑ کر خود سیر سپاٹے کر آئی ہیں ۔ یہ بھی نہیں سوچا کتنا مِس کر رہی ہوں گی میں انہیں“۔علینہ بے ساختہ نانی سے لپٹ کر شکوے شکایات کرنے لگی ۔

”تو میرا بچہ میں کون سا خوشی سے گھومنے گئی تھی۔ تیری ماما کی پریشانی میں ہولائی بولائی ہی تو گئی تھی۔ “نانی نے بے تحاشہ اس کا ماتھ چوما۔ ایکدم وہ دونوں ایسے ہوگئیں تھیں جیسے کبھی تکرار ہوئی ہی نا ہو۔

”مِس کر رہی تھی آپ کو اسی لئے شکایت کر رہی ہے“۔آسیہ نے بھی سکون کا سانس لیا۔

”ارے میری لاڈلی، نانی صدقے جائے۔ وہاں جاکر مجھے تو خود ایک ایک پل تیرا خیال ستاتا تھا۔ اللہ کے سپرد کرکے گئی تھی تجھے مجبوری نا ہوتی تو کبھی نکالتی پیر باہر۔ “وہ تینوں برآمدے میں بچھے تخت پہ بیٹھی تھیں۔ دونوں بچے تھک کر اب سو چکے تھے۔ علینہ کبھی ماں کی گود میں سر رکھتی تو کبھی شاکرہ سے لپٹ جاتی۔ ساتھ ساتھ برسوں کے قصے چل رہے تھے ۔ وہ دونوں خاموش ہوتیں تو علینہ اپنی ایک ماہ کی روداد سنانے لگ جاتی۔ آسیہ نے نوٹ کیا وہ نا صرف بڑی ہوگئی تھی بلکہ بہت بدل بھی گئی تھی البتہ اس تبدیلی کا آسیہ کا ذہن اب تک کسی مثبت ومنفی رخ میں تعین نہیں کرپایا تھا۔

٭….٭….٭

”بزی ہو؟“بہت سوچ بچار کے بعد اس نے دروازے پہ ہولے سے دستک دے کر اندر جھانکا۔

”ہوں تو“۔اپنے لیپ ٹاپ کی اسکرین پہ نگاہیں جمائے اس نے بناءاس پہ نگاہ ڈالے بڑے مصروف سے انداز میں جواب دیا تھا۔ کشمالہ اس نظر انداز کرنے پہ لب کاٹتی چند قدم آگے بڑھی اور کرسی کی بیک کو سہارا بنا کر دونوں ہاتھ سے تھامے وہیں کھڑی ہوگئی۔

”تم بیٹھو۔ کوئی کام تھا“۔سمیر نے کشمالہ کی نگاہیں خود پہ محسوس کرتے سر اٹھایا پر لہجے میں وہ پہلے سی گرمجوشی اب بھی ندارد تھی۔

” کام تو کوئی نہیں تھا بس یونہی۔۔۔۔“کشمالہ نے اس سردمہری کو بہرحال محسوس تو کیا ہی تھا۔ پچھلے چند روز سے وہ خاصی مصروف تھی۔ سمیر بھی اپنے مسائل اور کاموں میں الجھا ہوا تھا۔ اس پارٹی کے بعد یہ اتفاق ہی تھا کہ ان دونوں کا اکیلے میں سامنا آج ہورہا تھا اور اسے اندازہ ہوا تھا سمیر اس سے اچھا خاصا ناراض ہے ورنہ فارمل میٹنگز میں تو وہی لیا دیا سا پروفیشنل انداز تھا۔ ایک باس اور کولیگ کا رسمی پروٹوکول جو دیگر عملے کی موجودگی میں ہمیشہ ان دونوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا۔

”تم خفا ہو مجھ سے“۔دل کڑا کرکے وہ کرسی پہ بیٹھ تو گئی لیکن سمیر دوبارہ لیپ ٹاپ اسکرین پہ نگاہیں مرکوز کئے اس سے لاتعلق نظر آنے لگا تھا۔

”کیوں نہیں ہونا چاہیئے؟“اس کا لہجہ بہت عام سا تھا پرکشمالہ کو چبھا تھا۔

”اتنی چھوٹی سی بات پہ تم مجھ سے ناراض کیسے ہوسکتے ہو سمیر؟“یہ وہ بات تھی جو اتنے دنوں میں سمیر کے اس رات والے رویے کے بعد خود کو تاویلیں دیتے کشمالہ نے بارہا سوچی تھی اور ہر بار اس کے اندر سے جانبدارانہ جواب ہی سنائی دیا تھا۔

”کسی کی انسلٹ کرنا چھوٹی سی بات نہیں ہوتی کشمالہ۔ ذرا سوچو وہاں کوئی تمہاری انسلٹ کرتا تو کیا میں اسے اگنور کردیتا“۔سمیر نے لیپ ٹاپ بند کرتے بڑی سنجیدگی سے کہا تھا۔

”تم اس عام سی لڑکی کا مقابلہ مجھ سے کر رہے ہو؟ “اس کے لہجے میں چھپی حیرت قابلِ ترس تھی۔ خود پرستی و خود شناسی کی آخری سیڑھی پہ کھڑے ہوکر وہ دوسروں کے سطحی اور ایوریج ہونے کا سرٹیفیکٹ ہاتھ میں لئے گھوم رہی تھی ۔ اس احساس نے سمیر کو اپ سیٹ کیا تھا۔

”کیوں تم میں کون سے ایسے سرخاب کے پر لگے ہیں جو اس میں نہیں۔ جس طرح تم انسان ہو وہ بھی ہے۔ انفیکٹ تم میری دوست ہو وہ تو میری فیملی ممبر ہے۔ میرا کوئی مہمان منہ اٹھا کر اسے باتیں سنائے یہ چھوٹی بات نہیںہے“۔گو وہ آفس میں کشمالہ سے تلخ نہیں ہونا چاہتا تھا لیکن نا چاہتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں تلخی در آئی تھی۔

”میں تم سے یہ رویہ ایکسپیکٹ نہیں کرتی تھی سمیر۔ تم کشمالہ معین سے کسی ایکس وائے زیڈ کی خاطر اس انداز میں بات کرو گے۔ آئی ایم شاکڈ“۔ اپنے نئے تراشیدہ اسٹریک زدہ کھلے بالوں کو دائیں بائیں جھلاتے اس نے ناقابلِ یقین انداز میں سر ہلایا تھا۔

”لیکن میرے لئے یہ بالکل شاک نہیں ہے۔ تم سے برسوں سے واقف ہوں اس لئے نا حیران ہوں نا ہی کچھ غیر متوقع تھا۔“سمیرنے اب میز پہ کہنیاں ٹکائے اس بار شدید وار کیا تھا۔ کشمالہ چند لمحے ساکت ہوگئی یوں کہ اپنی اگلی بات کہنا بھول گئی ۔ اس آرگومنٹ کے وہ تما م پوائینٹس جو کچھ دیر پہلے تک اس کے ذہن کی دیواروں سے ٹکراتے باہر آنے کو بے قرار تھے اچانک محو ہوچکے تھے۔

”آئی کانٹ بیلیو۔۔۔جس شخص کی خاطر میں نے سالوں انتظار کا جوکھم اٹھایا ہے۔ جس کے آگے اپنی ہستی تلف کر ڈالی۔ تم ۔۔ سمیر انصاری تم، تمہاری خاطر ، تمہاری چاہت کی خاطر میں نے اپنی انا ، اپنی گریس پہ سمجھوتا کیا۔ جتنی اس دل نے تمہاری چاہ کی اتنی تو خود اپنی بھی نہیں کی تھی۔ پھر تم میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہو؟ یہ اوقات ہے میری ، تمہاری نظر میں؟“وہ کیا کہنے آئی تھی اور کیا بول گئی تھی۔ سارا غرور سمیر کے اس ایک جملے نے ٹھوکر مار کر ریزہ ریزہ کردیا تھا اسی لئے تو اب تک جو سچ زبان سے ادا نہیں کیا تھا اس وقت غصے کی حالت میں اس کے سامنے کہہ بیٹھی تھی۔

”ٹو بی ویری کلئیر کشمالہ، تم نے آج تک کبھی کسی کے لئے کچھ نہیں کیا اور چونکہ میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں اس لئے یہ سب کہہ رہا ہوں ورنہ مفروضات پہ بات کرنا میری عادت نہیں۔ تم میرے پیچھے اس لئے ہو کیونکہ میں تمہارے پیچھے دوڑنے والوں کی قطار میں شامل نہیں تھا۔ اکیڈمی میں ایک سے بڑھ کر ایک اعلٰی خاندان کا قابل لڑکا تھا ان میں سے بہت سے نام تمہاری چاہت میں تم سے جڑنا چاہتے تھے ۔ تم مجھے بھی اس قطار میں دیکھنا چاہتی تھی، میں وہاں نہیں ملا تو تمہاری سو کالڈ انا پہ ضرب لگی تھی۔ “سمیر کا انداز پرسکون تھا جیسے وہ اس سے کوئی کہانی شئیر کر رہا ہو۔

”تم نے مجھے تسخیر کرنے کی ٹھانی۔ اور میںدعوے سے کہہ سکتا ہوں آج تم سے اقرارِ محبت کرلوں تم دنوں میں مجھ سے اکتا جاو ¿ گی۔ “

کشمالہ کے ماتھے پہ بل نمودار ہوئے۔ سمیر مسلسل بول رہا تھا۔ اسی گھمبیر لہجے میں جو کشمالہ سمیت کسی کو بھی دیوانہ بناڈالے پر اس بار اس کی تاثیر بڑی کڑوی تھی۔

”دیکھو کشمالہ، ہم دوست ہیں اور رہیں گے، اس تعلق کی بدولت دلوں میں بڑی وسعت ہوتی ہے لیکن تمہارا اور میرا مزاج اتنا مختلف ہے کہ ہم زیادہ عرصہ کوئی دوسرا رشتہ نبھا ہی نہیں پائیں گے۔ میرا تعلق ایک روائتی فیملی سے ہے جہاں رشتوں سے کچھ توقعات ہوتی ہیں۔ میں چاہتا ہوں میری زندگی میں وہ لڑکی آئے جو میرے گھر کی یونٹی کو برقرار رکھ سکے۔فرض کرو شادی کے بعد میں چاہوں تم میرے پیرنٹس کے ساتھ رہو کیا تم رہو گی؟“شائد اب وقت آگیا تھا اس چھپن چھپائی کے کھیل کا اختتام کرتے ہوئے ایک دو ٹوک انجام سے ہمکنار کیا جائے۔ اشاروں میں کئے جانے والے سوالات اور کنایوں میں دئیے گئے جوابات سے ہٹ کر کچھ براہِ راست بات کی جائے۔ اسی لئے سمیر نے اس سے کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ اس غلط فہمی کو اب مکمل ختم ہوجانا چاہیئے تھا۔

میں کیوں رہوں گی تمہارے پیرنٹس کے ساتھ، آئی اون آ ہاو ¿س، تمہیں ایک شاندار گھر ملا ہوا ہے۔ ہم اپنا گھر افورڈ کرسکتے ہیں۔ ویسے بھی میں تو سالوں سے اپنے بابا کے ساتھ نہیں رہی“۔کشمالہ نے کندھے اچکاتے بے ساختہ اس کی بات کو رد کیا تھا۔ وہ لب دباتے ہلکا سا مسکرایا تھا کیونکہ سمیر کو اس جواب پہ ہر گز حیرت نہیں ہوئی تھی۔

”تم بہت اندپینڈنٹ اور خودمختار ہو، اپنے سوا کسی کو خاطر میں نہیں لاتی۔ تمہارا بیک گراو ¿نڈ، سوشل اسٹیٹس، یہ ملازمت۔۔۔ہم ایک دوسرے کے کمپیٹیبل نہیں ہیں۔ ہو ہی نہیں سکتے۔ چند سال بعد ہم دونوں اپنے فیصلے پہ پچھتا کر پلٹیں گیں تو اس کا سب سے زیادہ دکھ میرے والدین کو ہوگا۔ “سمیر نے چند لفظوں میں اس تعلق کا خلاصہ کردیا تھا ۔

”یعنی تم صرف اس لئے مجھ سے شادی سے انکاری ہو کیونکہ میں ایک ان پڑھ گنوار، اللہ میاں کی گائے ٹائپ کی لڑکی نہیں ہوں۔ “وہ تلخ ہوئی تھی۔

”اس کا مطلب، تمہارے مطابق گھر کو جوڑنے والی، شوہر کی تابعدار اچھی بیویاں اور اچھی بہوئیں ان پڑھ گنوار ہی ہوسکتی ہیں؟ “اس نے ابرو اچکائے سوال کیا۔

”اگر ایک پڑھی لکھی، ویل کلچرڈ اور ملازمت پیشہ عورت میری فیملی کو عزت نہیں دے سکتی تو پھر بے شک مجھے ایک جاہل گنوار سے ہی شادی کرنی چاہیئے“۔ اپنی کرسی کی بیک سے ٹیک لگاتے وہ اچھا خاصا محظوظ ہوا تھا ۔ کیا کمال کشمالہ اس کی فیملی سے بخوبی واقف ہوکر بھی اس سے ایسی بات کرسکتی تھی یا پھر اپنی جذباتیت میں ہوش کھو رہی تھی۔ ہر سمجھدار شخص اپنی ہونے والی بیوی میں اپنی ماں کی جھلک دیکھنا چاہتا تھا۔ نور انصاری کی قائم کردہ مثال کے بعد ہی اس نے اپنے شریکِ حیات کا معیار سیٹ کیا تھا۔جب اس کی اپنی ماں اور بہن اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ خواتین ہونے کے باوجود روایات نبھانے والی عورتیں ہوسکتی تھیں تو پھر کوئی دوسری عورت ان جیسی کیوں نہیں ہوسکتی۔

”پھر تو یقینناََ تم اپنی اس کزن میں انٹرسٹڈ ہوگے جس کی فیور میں ہماری سالوں پرانی دوستی کو بھول کر تم نے میری انسلٹ کی ہے۔ تم سے ہر لحاظ سے کم تر ، جہاں چاہو گے بیٹھ جائے گی، جیسے چاہو گیے چپ چاپ زندگی گزار لے گی“۔کشمالہ نے اس کی بات کو سمجھنے کے بجائے انتہائی غلط انداز میں چوٹ کی تھی۔اپنی طرف آتے پتھربنا سوچے سمجھے اس نے سمیر کی طرف اچھالنے چاہے۔اب پتا نہیں بیٹھے بٹھائے اس کے دماغ نے اس ریجیکشن کا تانہ بانہ بنتے کیسے علینہ کو اس میں شامل کر لیا تھا۔

”اس دن بھی کہا تھا آج پھر کہہ رہا ہوں، ظاہر ی حلیہ دیکھ کر رائے قائم مت کیا کرو۔ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ۔ ہیرا بھی ایک پتھر ہوتا ہے لیکن اس کی پرکھ صرف جوہری کر سکتا ہے“۔سمیر نے اس کی حاسدانہ میچ میکنگ کو صریحاََ نظر انداز کرتے فقط ان جملوں پہ فوکس کیا تھا جو ایک بار پھر اس نے علینہ کی تذلیل میں کہے تھے اور شائد یہ حد تھی اسی لئے وہ اس رات کی طرح ہی تلخ ہوگیا تھا۔

”اس وقت پتھر تو تمہاری عقل پہ پڑ گئے ہیں سمیر انصاری جو ایسا گھاٹے کا سودا کر رہے ہو“۔سلگتے لہجے میں کہتی کشمالہ ایک جھٹکے سے کرسی سے اٹھی اور پیر پٹختی کمرے سے باہر نکل گئی۔ پیچھے سمیر لب بھینچے اسے کمرے سے نکلتا دیکھتا رہا۔

٭….٭….٭

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 2

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 2 دو دن ہو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے