سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں۔۔۔مبشرہ انصاری۔۔قسط نمبر7

ان لمحوں کے دامن میں۔۔۔مبشرہ انصاری۔۔قسط نمبر7

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر7

جلدی سے وہ اپنا من پسند چکن اسٹیک بناتی مسکان اور جینی سمیت ڈائننگ ٹیبل پر آ بیٹھی تھی…. اڑتالیس گھنٹوں کی بھوکی، وہ ایک کے بعد ایک یکایک چکن اسٹیک کی بائٹس لیتی چلی گئی…. مسکان اور جینی سینڈوچ اور سلاد نوش فرمانے میں مصروف تھیں…. وہ تینوں کھانے سمیت گاہے بگاہے اپنی اپنی داستان بھی سنائے چلی جا رہی تھیں…. جب وہ تینوں کھانے اور باتوں سے فارغ ہو چکیں تو اپنی اپنی پلیٹس سمیت کچن میں چلی آئیں….

”چلو…. جو ہوا…. سو ہوا….اب آگے خیال رکھنا…. میں کسی کے بارے میں کچھ غلط کہنا نہیں چاہتی…. بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ آشلے بہت ہی چالاک لڑکی ہے…. وہ اس شو میں ٹکنے اور تم سب کو جلد از جلد ایلیمنیٹ کروانے کے لیے بہت سی چالیں چل سکتی ہے…. سو، بی کیئر فل گرلز!“

وہ اپنے حصے کی پلیٹ دھوتی ایک سائیڈ پر ہو کھڑی تھی….

”یو آر رائٹ! شی از ویری کلیور!“

مسکان اپنی پلیٹ دھوتی مصروف انداز میں آئی برو اُچکاتی گویا ہوئی…. وہ تینوں اپنی اپنی پلیٹس دھو چکنے کے بعد لاﺅنج کے ایک صوفہ پر براجمان ہوئی تھیں جہاں سب لڑکیاں پہلے سے موجود خوش گپیوں میں مصروف تھیں….

”لیڈیز! لیڈیز! لیڈیز!….“

چوب محل کے مین دروازئے سے داخل ہوتا خرم اپنی بارعب بھاری آواز میں بولتا لیڈیز کے قریب آن کھڑا ہوا تھا…. اس کے اندر داخل ہوتے ہی تمام لیڈیز بھرپور توجہ سمیت اس کی جانب دیکھنے لگی تھیں…. وہ بول رہا تھا….

”آج رات آپ تمام لیڈیز کی، الحان ابراہیم کے ساتھ ایک گروپ ڈیٹ ہے…. سو ڈریس ٹو امپریس!“

وہ اپنے ہی انداز میں اطلاع دیتا، شریر سی مسکراہٹ لبوں پر سجا کھڑا ہوا تھا….

"What time?”

آشلے کافی ایکسائیٹڈ دکھائی دے رہی تھی….

"Where?”

سحرنے بھی اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا….

”گروپ ڈیٹ؟“

آشلے اور سحر کے گروپ کی تیسری چالاک اور سیلفش لڑکی برینڈا منہ بسور کررہ گئی….

”یہ گروپ ڈیٹ آج رات سات بجے، اس چوب محل کے باہر، گارڈن ایریا میں ارینج کی جائے گی…. آپ لیڈیز کے پاس ایک گھنٹہ ہے…. سو لیڈیز! آل دی ویری بیسٹ!“

وہ خوشگوار انداز میں ان تمام لیڈیز کو گڈ لک کا سائن دیتا اسی رفتار سے واپس باہر نکل گیا تھا جس رفتار سے اندر داخل ہوا تھا…. اس کے جاتے ہی یکایک بھگدڑ سی مچ گئی….

”آج یہ گروپ ڈیٹ رکھنا ضروری تھی کیا؟…. میں بہت تھکی ہوئی ہوں…. مجھے آرام کرناہے…. مجھے سونا ہے….“

مان تکان بھرے لہجے میں بولتی رونے کو آئی تھی….

”ہم لوگوں کی وجہ سے پہلے ہی دو دن ضائع ہو گئے ہیں…. اس شو کی ایک قسط آن ایئر جا چکی ہے…. سنا ہے عاشرزمان نے پہلی ہی قسط کل بھی رپیٹ ٹیلی کاسٹ کروائی تھی جس کی وجہ سے اسے کافی نقصان بھی ہوا ہے…. اور آج کی قسط شاید لائیو ٹیلی کاسٹ ہونے والی ہے….“

مسکان نے اُڑتی اُڑتی خبر اس کے گوش گزار کی …. مانہ کچھ سوچتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی ….

”اوکے….لیٹس گو…. ڈریس ٹو امپریس!“

وہ چڑچڑے انداز میں بولتی سیڑھیاں پھلانگنے لگی…. مسکان اس کے تعاقب میں چلتی کمرے تک آئی تھی…. اس دن الحان کے ساتھ کی گئی شاپنگ کے بیگز ٹٹولتی وہ منہ بسورے پوچھ رہی تھی….

”ان میں سے کیا پہنوں میں؟“

تمام بیگی شرٹس، شرگز، گاﺅنز اور ٹی شرٹس ٹٹولتی وہ مسکان کی جانب دیکھنے لگی….

”یہ سب چھوڑو….میں تمہیں اپنا ایک ڈریس دیتی ہوں…. تم وہ پہنو…. ایک منٹ!“

اپنے بالوں کو اکٹھا کرتے ہی چٹکی میں قید کرتی مسکان اپنے وارڈ روب کی جانب بڑھی …. اگلے ہی پل وہ خوبصورت شفون اور نیٹ کی بنی بلیک میکسی ہینگر سے اُتارتی مانہ کی جانب بڑھاتے ہوئے شائستہ لہجے میں گویا ہوئی….

”تم یہ پہنو مانہ! آئی پرامس…. تم اس میں قیامت لگو گی…. اور ہاں…. ساتھ میں میرے بلیک ہائی ہیلز بھی ہیں…. اور سب سے پہلے تو تم اپنی یہ بھدی گلاسز اُتارو ناں!“

اس نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر مانہ کی گلاسز کھینچ اُتاریں….

”ارے….“

”کانٹیکٹ لینز لیے تھے ناںاس دن الحان نے تمہارے لیے…. تم جلدی سے چینج کر کے آﺅ…. میں تمہیں لینز بھی لگاتی ہوں…. اور تمہارا اچھے سے میک اَپ بھی کر دوں گی…. چلو چلو شاباش!“

مانہ اپنے دفاع میں کچھ کہنے کو ہی تھی کہ مسکان اسے میکسی سمیت دھکیلتی واش روم تک چھوڑ آئی….

”مسکان! میں یہ نہیں پہن سکتی یار! میں نے زندگی میں ایسے کپڑے کبھی نہیں پہنے….“

وہ واش روم کے اندر سے چلاّئی….

”تو اب پہن لو ناں میری جان!“

مسکان ایک بار پھر سے وارڈ روب میں گھسی اپنے لیے کپڑے منتخب کرنے لگی….

”لیکن!“

مانہ میکسی کو غور سے دیکھتی لب بھینچ کر رہ گئی….

”مانہ! جلدی کرو…. ہمارے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے….“

اپنے لیے منتخب کیا گیا جوڑا ہینگر سے اُتارتی وہ مصروف انداز میں گویا ہوئی….

ض……..ض……..ض

الحان، برٹش ایکپنسو برانڈ بینسن (Benson) کی سگریٹ لبوں میں دبائے، اپنے کمرے کے باہر نپے تُلے قدموں سے چلتا، ادھر سے اُدھر گردانتا پھر رہا تھا…. سوچوں کا محور وہی ایک ذات تھی، جس کا بدلا رویہ اندر ہی اندر اسے کھٹکا لگائے دے رہا تھا….

”الحان! ڈنر سٹارٹ ہونے والا ہے…. تم ریڈی ہو؟“

وہ جو سگریٹ کے لمبے لمبے کش لگاتا اپنی ہی سوچوں میں گم تھا، خرم کی آواز سماعت سے ٹکراتے ہی یکایک چونک اٹھا….

”اوکے…. یس…. ایم ریڈی!“

آدھ بچی سگریٹ زمین پر پھینکتے ہی اپنے دائیں پیر سے سگریٹ کو کچلتا وہ خرم سمیت چوب محل کی جانب بڑھ گیا تھا…. چوب محل کے مین دروازے کے سامنے ہی ڈنر کا انتظام کیا گیا تھا…. خرم چلتا ہوا کیمرے کے پیچھے کی ٹیم کے پاس جا کھڑا ہوا ، جبکہ الحان ایک بڑی سی اکیلی ٹیبل جس پر بچھایا گیا سفید کپڑا جو رات کی ٹھنڈی ہوا سے دھیرے دھیرے مسرور انداز میں ناچنے لگا تھا، کو نگاہوں کا محور بناتا اس کے قریب جا کھڑا ہوا…. ٹیبل پر طرح طرح کے لذیذ کھانے اور فروٹس سجائے گئے تھے….

”الحان! آپ یہاں بیٹھ جاﺅ!“

ٹیبل کے پاس کھڑی مس فاطمہ، ٹیبل کے سر کے پاس رکھی گئی اہم، بالخصوص کرسی کی طرف اشارہ کرتی شیریں لہجہ میں گویا ہوئیں….

الحان اثبات میں سر ہلاتا، بتائی گئی کرسی پر براجمان ہو گیا….

عاشر زمان کیمرہ کے پیچھے ایک چھوٹے سے ٹی وی پر نظریں جمائے خاصا مصروف دکھائی دے رہا تھا…. اگلے چند لمحوں میں چوب محل کا دروازہ کھلتے ہی تمام پندرہ لڑکیاں چمک دمک سے بھرپور ڈریسز میں ملبوس، اُجلا روشن چہرہ لیے ایک کے بعد ایک چوب محل کے دروازے سے نکلتی ٹیبل کی جانب بڑھنے لگی تھیں….

سب سے آگے آشلے اور اس کے ساتھ سحر اور برینڈا تھیں…. وہ تینوں سفید خوبصورت، چمکیلے برانڈڈ ڈریسز میں ملبوس ایک ادا سے چلتیں، چہروں پر مسکان سجائے الحان کی جانب دیکھنے لگی تھیں۔ لڑکیوں کو چوب محل سے نکلتے دیکھ الحان فوراً اٹھ کھڑا ہوا تھا….

وہ شخصیت جس کی اسے تلاش تھی…. لائن کے سب سے اینڈ میں اسے چوب محل سے باہر نکلتی دکھائی دی تھی…. بلیک ٹائٹ میکسی میں ملبوس، اپنے لمبے گھنے بالوں کو اکٹھا کر کے رائٹ شولڈر پرپھینکے، دو نادان لٹوں کو اپنے خوبصورت چہرے پر آوارہ چھوڑے، لائٹ پنک میک اَپ اور آنکھوںمیں لگے گرے کانٹیکٹ لینزز میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت دکھائی دےرہی تھی…. مانہ پر نظر پڑتے ہی الحان لمحے بھر کو اپنی پلکیں جھپکانا بھول گیا تھا…. دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ساتھ سانسوں کی رفتار میں بھی تیزی آتی محسوس ہوئی تھی…. کانوںمیں ہوا کی سرسراہٹ، سائیں سائیں کے سوا کچھ بھی سنائی نہ دے رہا تھا…. مانہ مقناطیس کی سی صورت اس کے دل میں اُترتی چلی جا رہی تھی…. وہ اسے دیکھنے میں محو تھا، لیکن حیران بھی تھا…. وہ پہلی بار ایک ایسے لباس میں ملبوس تھی جس کا شاید الحان نے کبھی اندازہ بھی نہ لگایا تھا…. وہ پہلی بار میک اَپ کیے، اپنے بھدے چشمے کی جگہ اسی کے دئیے گئے لینزز لگائے اسے اپنی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی تھی…. لباس اس قدر ٹائٹ تھا کہ اس کے بدن کے ڈیل ڈول کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا…. اس کے پاس سے گزرتی لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے وہ براہ راست الحان کی نگاہوں میں جھانکتی، آگے بڑھتی چلی گئی …. الحان اسے دیکھ کر مسکرایا ہرگز نہ تھا…. وہ یقینا بہت خوبصورت لگ رہی تھی، مگر الحان اسے اس حلیے میں دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے مایوس ہوتا دکھائی دیا تھا…. وہ خود بھی اس لباس، ہائی ہیلز اور کانٹیکٹ لینزز میں بہت اَن کمفرٹیبل فیل کر رہی تھی، لیکن اسے یہ سب کرنا تھا…. الحان اور اس شو سے نجات کا یہی ایک واحد ذریعہ تھا…. جسے وہ بخوبی نبھا کر اپنے مقصد کی تکمیل کی طرف بڑھتی چلی جا رہی تھی….

تمام لیڈیز اپنی اپنی کرسی سنبھال بیٹھی تھیں…. الحان کے دائیں اور بائیں جانب آشلے اور سحر بیٹھی تھیں…. جبکہ مانہ، مسکان کے ہمراہ ٹیبل کے آخری سرے پر براجمان ہوئی تھی…. سب کے براجمان ہوتے ہی باتوں کے ساتھ ساتھ ڈنر بھی شروع ہو چکا تھا…. مانہ ڈنر کرتے دوران گاہے بگاہے اپنے بائیں جانب بیٹھی کورئین لڑکی غیوری جو کہ پہلے ہی دن سے اپنی باتوں اور حرکتوں سے خود کو بے انتہا بیوقوف ثابت کر چکی تھی،کے ساتھ باتیںکرتی بات بات پر قہقہہ لگائے دے رہی تھی…. الحان کی جانب براہ راست نہ دیکھتے ہوئے وہ گاہے بگاہے اس کی جانب اٹھتیں الحان کی نگاہیں بخوبی محسوس کر رہی تھی….

”مانہ!“

پاس بیٹھی مسکان اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگی تھی….

”ہاں،کیا ہوا؟“

وہ مسکراتے ہوئے اب مسکان سے مخاطب تھی….

”تم ٹھیک ہو؟“

وہ پوچھ رہی تھی….

”ہاں…. میں بالکل ٹھیک ہوں….کیوں، کیا ہوا؟“

وہ انجان بن بیٹھی….

”تم عجیب بی ہیو کر رہی ہو…. آج سے پہلے میں نے تمہیں کبھی ایسے نہیں دیکھا….“

”نہیں تو….“

”دیکھو تمہارے عجیب بی ہیوئیر کی وجہ سے سب کی نگاہیں بار بار تم ہی پر اُٹھ رہی ہیں….“

”یار مسکان! ہنسنا گناہ ہے؟…. جب میں خاموش رہتی تھی تب تمہی کہتی تھیں کہ ہنسا بولا کرو…. اب میں ہنس بول رہی ہوں…. انجوائے کر رہی ہوں…. تو اب بھی تم ہی ٹوک رہی ہو….“

وہ بلاوجہ خفا ہونے لگی تھی….

”ہاں کہا تھا…. مگر….“

”اگر مگر کچھ نہیں…. کیا معلوم اگلی ایلیمنیشن میں میرانمبر بھی آ جائے…. اور پھر میںاس خوبصورت جگہ اور یہاں پر ہوتی تمام انجوائے منٹ سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاﺅں…. اس لیے پلیز انجوائے کرنے دو…. اور خود بھی انجوائے کرو….“

شائستہ لہجے میں بولتی وہ خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجائے اپنی پلیٹ پر جھک بیٹھی تھی…. مسکان بھی مسکرا دی تھی…. جبکہ الحان کے اندر کی بے چینی اسے چین سے بیٹھنے نہ دے رہی تھی…. اور پھر آس پاس بیٹھی آشلے اور سحر مسلسل اسے امپریس کرنے کے چکروں میںاپنی ادائیں اور جلوے الگ الگ انداز میں مفصل کیے دے رہی تھیں…. الحان اس سے بات کرنے کو بے چین تھا، اس سے ان تمام بے وقوفیوں کی وجہ پوچھنے کو بے چین تھا…. اس کا بدلا رویہ اندر ہی اندر اسے کچوکے لگائے چلا جا رہا تھا…. جبکہ مانہ Island پر موجود سب سے بیوقوف لڑکی غیوری کا کردار اپنائے مسلسل قہقہوں پر قہقہے لگائے چلی جا رہی تھی…. عاشرزمان خاصہ مضطرب بیٹھا سکرین سے نظریں ہٹائے مانہ کی جانب گھورتا دکھائی دیا…. اور وہ ان سب کی نظروں کو اگنور کیے بس اپنے ہی مقصد کی کامیابی پر تُلی بیٹھی تھی…. تقریباً ایک گھنٹے تک یہ سلسلہ چلتا رہا…. ڈنر کے اختتام پر الحان سمیت سبھی لڑکیاں اٹھ کھڑی ہوئیں…. باہر رکھے کیمرے بند کیے جا چکے تھے…. اڑتالیس گھنٹوں کی تکان اور پھر اردگرد گونجتی تمام لڑکیوں سمیت (Crew) کی آوازیں اسے اپنے دماغ میں ڈھول بجاتی محسوس ہو رہی تھی….

”مسکان! میں سونے جا رہی ہوں…. میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے….“

”میڈیسن لے لو پھر سونے چلی جانا….“

”میڈیسن!“

”ہاں…. وہیں کچن میں رکھی ہیں….“

”اوکے!….“

مانہ وہاںموجود تمام لوگوں کو پیچھے چھوڑتی سہج سہج کر قدم رکھتی چوب محل کی جانب بڑھنے لگی تھی…. لڑکیوں میں گھرا کھڑاالحان بے کل نگاہوں سے اسے چوب محل کی جانب بڑھتے دیکھ رہا تھا…. وہ چاہ کر بھی اسے روک نہیں پایا تھا…. مانہ کے چوب محل میں داخل ہوتے ہی وہ تحمل بھرے انداز میں لمبی سانس کھینچ کررہ گیا ….

ٹک ٹک کرتی ہائی ہیل سے چلتی وہ کچن میں داخل ہوئی تھی کہ اچانک کچن سے باہر نکلتی آشلے کے ہاتھ میں پکڑی کولڈ ڈرنک بُرے طریقے سے ان دونوں کے کپڑوں کا حال پوچھ بیٹھی تھی…. آشلے اپنے مہنگے برانڈڈ کپڑوں پر نگاہ دوڑاتی کھا جانے والی نظروں سے مانہ کی جانب گھورنے لگی تھی….

”دکھائی نہیں دیتا ہے؟“

وہ انگلش میں اس پر برسنے لگی تھی….

”دکھائی تو تمہیں بھی نہیں دیتا ہے…. میں تو باہر سے آ رہی تھی…. تم اچانک سے باہر نکل آئیں….“

مانہ بھی اسی کے لہجے، اسی کے انداز میں اس پر برسنے لگی ….

”مجھے تم سے بحث کرنے کا ہرگز شوق نہیں…. منہ مت لگو میرے….“

انگلش لہجے میںبولتی وہ واپس کچن میں پلٹ گئی….

”چڑیل!“

مانہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی، کپڑے جھاڑتی گلاس اٹھائے اس میں پانی انڈیلنے لگی…. متلاشی نگاہیں ادھر اُدھر دوڑاتی وہ پلٹ کر کیبن کھول کر میڈیسن ڈھونڈنے لگی تھی…. ترچھی نگاہوں سے مانہ کو گھورتی آشلے موقع سے فائدہ اٹھاتی، اردگرد کا جائزہ لینے کے بعد مانہ سے نظر بچاتی اپنا کلچ کھول کر ایک پاﺅڈر کی پُڑیا جلدی سے پانی میں انڈیلتی واپس اپنا ڈریس صاف کرنے میں مصروف ہو کھڑی تھی…. مانہ میڈیسن اٹھائے واپس گلاس کے پاس آن کھڑی ہوئی…. جلدی سے دوٹیبلیٹس منہ میں ڈالتی وہ پورا پانی کا گلاس غٹاغٹ پیتی چلی گئی…. گلاس واپس ٹیبل پر رکھتی وہ تیزی سے پلٹتی کچن سے باہر نکل آئی سیڑھیوں تک پہنچتے ہی وہ بُری طرح سے لڑکھڑا گئی…. اردگرد کی تمام اشیاءتمام لوگ اسے دھندلے ہوتے دکھائی دئیے تھے…. اپنا سر تھامتی،آنکھیں میچتی وہ پلکیں جھپکا جھپکا کر سیڑھیوں کی جانب دیکھنے لگی تھی….

”یااللہ!“

اپنا سر تھامے، لب بھینچے وہ سیڑھیوں کی گرل تھام کر رہ گئی…. خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کرتی وہ نظریں گھما کر اردگرد چکراتی تمام اشیاءکو آنکھیں میچ میچ کر دیکھنے لگی تھی…. اسے اس پل یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے آس پاس رکھی تمام اشیاءتیزی سے گردانتی اس کے وجود سے آن ٹکرائیں گی…. لمبی سانس کھینچتی، سیڑھیوں کی گرل تھامتی وہ جلدی سے ایک زینہ پر ٹک بیٹھی …. ہائی ہیل میں قید اپنے خوبصورت پیروں کو آزاد کراتی، ہائی ہیلز ہاتھ میں پکڑتی وہ گرل مضبوطی سے تھامے ایک بارپھر سے لڑکھڑاتی ہوئی کھڑی ہو چکی تھی…. گرل کو مضبوطی سے تھامے وہ خود پر کنٹرول کرتی دھیرے دھیرے زینہ بہ زینہ اوپر کی جانب بڑھنے لگی…. بمشکل آخری سیڑھی تک پہنچتے ہی وہ ایک بار پھر سے لڑکھڑا گئی…. دونوں ہاتھوں سے گرل تھامے وہ تیزی سے چکراتے کمروں کی جانب دیکھنے لگی….

”کیا ہو رہا ہے مجھے؟“

زیرلب بڑبڑاتی وہ دیوار کا سہارا لیے دھیرے دھیرے چلتی اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگی….

”اوہ گاڈ! سر بلاسٹ ہو جائے گا میرا….“

کھینچ کھینچ کر سانس لیتی وہ بالآخر اپنے کمرے تک پہنچ چکی تھی…. دروازے کا ہینڈل گھماتے ہی جلدی سے دروازہ کھولتی وہ ایک جھٹکے سے لڑکھڑاتی کمرے میں داخل ہو گئی…. بوجھل ہوتے آنکھوں کے پپوٹے زبردستی وا کیے وہ کمرے کی چھت کو گھورنے لگی…. کمرے کی چھت اسے اپنے اوپر گرتی محسوس ہوئی تھی اگلے ہی پل جب اس کے اوسان مکمل طور پر خطا ہو چکے، تو اپنا سر تھامے وہ وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی….

ض……..ض……..ض

اندھیرے اور خاموشی کی یلغار لحظہ بہ لحظہ بڑھتی چلی جا رہی تھی…. اس کے دل میں جلتے ہوئے دئیے کی لَو تھرتھرانے لگی…. اس لَو کو اس یلغار سے بچانے کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی…. اس کے پپوٹے اندھیرے کے بوجھ سے بند ہونے لگے تھے…. اس کے اوسان سے اندھیرے کے ریلے سے سب خیال بہہ گئے تھے…. اب وہاں کچھ بھی نہ تھا…. ہر طرف اندھیرے کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا تھا…. اس کا دم گھٹنے لگا…. سانس لینا اس کے لیے تکلیف دہ ہونے لگا…. عذاب بننے لگا…. یہ عذاب اس کی برداشت کی حدود کو توڑنے لگا…. اس کی سب کوششیں ناکام ہوا چاہتی تھیں…. کہ اس نے آخری کوشش کرتے ہوئے اپنی منتشر ہوتی قوت کو اکٹھا کیا اور اندھیرے کے بڑھتے طوفان کو،عذاب کی پھیلتی ہوئی آگ کو روکنے کے لیے آخری حملہ کیا…. طوفان کا ریلہ، پھیلتی ہوئی آگ اک لمحہ کو رُکے مگر اس کی قوت پسپا ہونے لگی….منتشر ہونے لگی…. بالآخر وہ اندھیرے کے ریلے اور آگ کے درمیان پِس کر رہ گئی….

اندھیرے اور آگ کے تصادم سے اس کے آفاق روشن ہونے لگے۔ روشنی ہر طرف سے اک مرکز کی طرف بڑھنے لگی…. جوں جوں روشنی قریب آتی گئی…. آفاق پر تاریکی چھاتی گئی…. یکایک آگ بلندیوں کی طرف لپک گئی…. اور پھر پستیوں پر اندھیرا ہی اندھیرا باقی رہ گیا…. آگ بلندیوں میں ایک نکتہ بن گئی…. نکتہ پھیلنے لگا…. قریب آنے لگا…. قریب سے قریب تر آتا ہی چلا گیا…. سورج بن گیا…. سورج نیچے اُترنے لگا اور اندھیرا کٹنے لگا…. سورج اب بہت ہی قریب آگیا…. اندھیرا مٹ گیا…. پستی کی سطح پر سبزہ اُگنے لگا…. سبزے میں پھول کھلے…. پھولوں سے گلزار بنا….گلزار میں روشیں بنیں…. روشیں گلزار سے نکل کر میدان میں چل نکلیں….میدان میں راہوں کا جال بن گیا…. ان راہوں پر راہی چلنے پھرنے لگے…. سورج سے ہر شے روشن منورتھی…. سورج نصف النہار تھا….

مانہ نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں…. اس کے سینے پر بوجھ نہ تھا…. اس کو سانس لینا عذاب نہ تھا…. کمرے میں بالکل اندھیرا تھا…. ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی…. اس کے دل کے دھڑکنے کی آواز اس کے کانوںتک پہنچ رہی تھی…. آواز کا لحن اس کے کانوں کو بھلا لگنے لگا…. وہ لحن میں کھو گئی اب لحن کے سوا کچھ نہ تھا…. لہن کی وادیوں میں وہ تنہا تھی…. انہی وادیوں میںکسی نے اس کو پکارا….اس نے کوشش کی کہ آواز کی سمت متعین کر سکے، مگر آواز ہر سمت سے آتی محسوس ہوتی تھی…. وہ کبھی اس طرف اور کبھی اس طرف بھاگنے لگی…. آوازواضح ہو رہی تھی…. قریب ہو رہی تھی…. اس کی آوازمیں پیار چھپا تھا…. وہ بھاگتے بھاگتے تھک گئی…. وہ تھک کر ہار کر بیٹھ گئی…. آواز اب بالکل اس کے قریب تھی…. اس کے کانوں کے بالکل ہی قریب…. اس نے کان لگاکر سنا…. اس کے اپنے ہی سینے سے آواز آ رہی تھی…. اس کے دل کی ہی آواز تھی….

”مانہ! اس دنیا میں تو تنہا ہے…. بالکل تنہا…. سمندر کا وہ پانی جو سمندر سے باہر ہو اسے دریا، جھیل، بادل، آنسو، شبنم کچھ بھی کہہ دو…. لیکن پانی کا وہ حصہ جو سمندرمیں شامل ہو جائے، وہ سمندر ہی کہلاتا ہے…. یہ تیری دنیا نہیں ہے، تو اس سمندر کی نہیں ہے…. الحان ابراہیم ایک گہرا سمندر ہے…. وسیع سمندر…. یہاں پر موجود ہر لڑکی اس سمندر میں ڈوب مرنے کو تیار ہے…. اور یہ سمندر…. یہ سمندر تجھے اپنے اندر ڈبونے کو بیقرار…. تمام لڑکیاں الحان کو چاہتی ہیں اور الحان تجھے چاہتا ہے…. تو کس کو چاہتی ہے؟…. الحان کو؟…. کیا واقعی الحان تجھے چاہتا ہے؟ یاپھر تُو اس کی ضد ہے؟…. یا پھر تم دونوں واقعی ایک دوسرے کے لیے بنے ہو؟…. یا پھر یہ سب ان لمحوں کے دامن میں ٹھہرا ہوا سا اک پل ہے؟…. کیا الحان ابراہیم صرف ایک پل ہے؟ نہیں بالکل نہیں…. تو پھر وہ تم کو کیوں نہیں پکارتا؟…. وہ تمہاری پکار کیوں نہیں سنتا؟…. نہیں…. اس نے پکارا ہے…. تمہی نے اس کی پکار نہیں سنی…. کیا تم نے کبھی اس کو پکارا؟…. نہیں…. کبھی نہیں…. لیکن کیوں نہیں؟….“

مانہ کو کیوں کا جواب نہ ملا…. وہ سوچنے لگی کہ آخر اس نے الحان کو کیوں نہیں پکارا؟…. اس نے چاہا کہ وہ اس گھپ اندھیرے میں اسے پکارے…. مگر اس کے پکارنے کی صلاحیت اس کے اندر کہیں چھپی سو رہی تھی…. وہ اس کو ڈھونڈتی رہی…. مگر پا نہ سکی…. اگلے ہی پل وہ گھبرا گئی، گھبرا کر اٹھ بیٹھی…. وہ اس وقت کہاں پر تھی؟…. اپنے بیڈ پر…. ہاں وہ اپنے بیڈ پر ہی موجود تھی…. مگر کیسے؟…. وہ اپنے بیڈ تک کیسے پہنچی تھی، اسے کچھ یاد نہ آ رہا تھا…. اس نے ہاتھ بڑھا کر دونوں بیڈز کے بیچ میں رکھی ہوئی میز پر رکھے ٹیبل لیمپ کو جلایا…. لیمپ کی روشنی اس کی ٹانگوں اور گود میںرکھے ہوئے خوبصورت مخملی ہاتھوں پر پڑ رہی تھی…. اس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا…. وہ سو رہے تھے…. اس نے اپنے پاﺅں کی جانب دیکھا…. اس کے پاﺅں اس کی طرف سوالیہ انداز میں تک رہے تھے…. وہ ان کی نظروں کی تاب نہ لا سکی اور جلدی سے اُچھل کر انہیں اپنی جوتی میں ڈال دیا…. اب جوتی کے سنہرے نقش اس کو گھورنے لگے…. وہ اس وقت نائٹ ڈریس میں ملبوس تھی…. مگر وہ نائٹ ڈریس میں کیسے ملبوس ہو گئی تھی…. وہ میکسی نائٹ ڈریس میں کیسے بدل گئی تھی…. وہ اچنبھے سے سوچنے لگی…. اسے کچھ یاد نہ آ رہا تھا…. سامنے مسکان کا بیڈ خالی تھا…. وہ آج پھر غائب تھی…. مانہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی…. اس کے کندھوں میں سردی سرایت کرنے لگی…. وہ ہلکے سے جھولتی محسوس ہوئی تھی…. خود پر کنٹرول کرتی وہ دروازے کے پاس رکھی کرسی پر سے گرم شال اٹھاتی اپنے کندھوں پر پھیلانے لگی…. مگر سردی برابر اس کے کندھوں سے سرایت کرتی رہی…. وہ ٹہلنے لگی…. پھر ٹہلتے ٹہلتے کمرے کے دروازے کے سامنے جا رُکی…. اس کا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر جم سا گیا…. ہینڈل گھماتے ہی دروازے کے کھلنے کی آواز نے اسے چونکا دیا…. وہ اتنی رات گئے کہاں جانا چاہتی تھی؟…. مسکان کو ڈھونڈنے…. اس کے دل نے جواب دیا…. ہاں…. لیکن اسے تازہ ہوا کی بھی ضرورت تھی…. اس بندکمرے میںاس کا دم گھٹنے لگا تھا…. اس کے ہاتھوں نے جلدی سے دروازہ کھول دیا…. اس کے قدم کمرے کی دہلیز سے پار ہو گئے…. کاریڈور میں قدم رکھتے ہی اس کے جسم پر سرد سرد ہوا جھپٹی…. وہ سردی سے کپکپا اٹھی…. اس نے سسکی بھری…. وہ اپنے کمرے میں واپس لوٹ جانے کو مڑنے لگی…. مگر اس کے قدم نیچے جاتی سیڑھیوں کی جانب بڑھتے چلے گئے…. مسکان اسی پل اسے سیڑھیاں پھلانگتی اوپر کی جانب آتی دکھائی دی….

”مسکان!“

اسے دیکھتے ہی وہ دھیمے سے بولی….

”مانہ! تم کہاں جا رہی ہو؟“

”میں تمہیں ڈھونڈ رہی تھی مسکان! تم کمرے میںنہیںتھیں تو میں گھبرا گئی….“

اس کے چہرے سے ٹپکتی پریشانی واضح طور پر عیاں تھی…. مسکان دھیمے سے مسکرا دی….

”گھبراﺅ نہیں مانہ! میں ایک ہی غلطی بار بار نہیںکیا کرتی….“

مانہ لمبا سانس کھینچتی خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کرنے لگی….

”اچھا یہ بتاﺅ…. تمہیں ہوا کیا تھا؟“

مسکان کے پوچھنے پر وہ اس کی جانب دیکھنے لگی…. مسکان بول رہی تھی….

”میں جب چینج کرنے کمرے میں آئی تو تم دروازے کے پاس ہی زمین پر سو رہی تھیں…. پہلے تو میں گھبرا گئی…. مجھے لگا شاید تم بیہوش ہو گئی ہو…. میں نے جلدی سے مس فاطمہ کو بلایا…. پھر انہوں نے تسلی دی کہ آپ محترمہ گہری نیند سو رہی ہیں…. پھر ہم دونوں نے مل کر تمہارے کپڑے چینج کیے اور تمہیں بیڈ تک پہنچایا….“

”تم نے میرے کپڑے چینج کیوں کیے…. میں خود کر لیتی….“

وہ نادم دکھائی دے رہی تھی، مسکان شرارت سے مسکرا دی….

”ارے بابا ڈونٹ وری…. ہم نے تمہارے حسن کو نہیں دیکھا…. آنکھیں بند کرکے کپڑے چینج کیے…. قسم سے…. ویسے ایک بات بتاﺅ…. چند قدم پر رکھے بیڈ کے بجائے آپ جناب زمین پر ہی کیوں سو گئیں؟“

”پتا نہیں…. مجھے کچھ یاد نہیں….“

وہ ابھی بھی ہلکے سے جھول رہی تھی…. نشہ شاید ابھی تک اُترا نہیں تھا….

”دوا کھانے کے بعد سے عجیب سی طبیعت ہو گئی…. سب کچھ دھندلا سا ہو گیا…. بمشکل کمرے تک پہنچی اور پھر اس کے بعد کچھ یاد نہیں….“

وہ منتشر نگاہوں سے مسکان کی جانب دیکھنے لگی….

”اوکے…. چلو چل کر سو جاتے ہیں…. مجھے بھی اب بہت زوروں کی نیند آ رہی ہے….“

”نہیں…. تم سو جاﺅ…. میں تھوڑی دیر باہر واک کرنا چاہتی ہوں….“

”اس حالت میں؟“

مسکان نے آنکھیں دکھائیں….

”ہاں،کیوں کیا ہوا مجھے؟“

”اپنی آنکھیں دیکھو میڈم…. نیند سے لال بھبھوکا ہو رہی ہیں…. اور نیند کی بدولت آپ محترمہ ہلکے سے جھول بھی رہی ہیں جس کا اندازہ شاید آپ کی خود کی ذات کو محسوس نہیں ہو رہا ہے….“

وہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی….

”اندر میرا دم گھٹ رہا ہے مسکان!…. تھوڑی دیر واک کر کے واپس آ جاﺅں گی….“

”آر یو شیور؟“

”ہاں ناں….!“

”اوکے….! ویسے دو تین لڑکیاں ابھی بھی باہر ٹہل رہی ہیں…. ان کے جاتے یا ان سے پہلے ہی کمرے میں واپس آ جانا….“

مسکان گہری متانت سے گویا تھی….مانہ اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی…. مسکان کمرے کی جانب بڑھ چکی تھی…. مانہ دھیرے دھیرے سیڑھیوں کی گرل تھامے زینہ بہ زینہ نیچے اُترنے لگی…. چوب محل کے دروازے سے باہر نکلتے ہی یخ ٹھنڈی ہوا اس کے جسم میں سرایت کرتی چلی گئی…. مانہ ایک لمحے کو کپکپا کر رہ گئی…. دور اسے چندلڑکیاں ایک گروپ بنائے ٹہلتی ہوئی دکھائی دی تھیں…. باہر دھندلکے کا سماں تھا…. وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی اپنے من پسند درخت کی جانب بڑھنے لگی….

ض……..ض……..ض

الحان سٹیم شاور لینے کے بعد نائٹ ڈریس میں ملبوس واش روم سے باہر نکلا تھا…. پیشانی پر بکھری گیلی لٹوں کو انگلیوں کی مدد سے سنوارتا وہ سگریٹ سلگانے لگا …. ایک لمبا کش لینے کے بعد ٹی وی کا ریموٹ تھامتا وہ راکنگ چیئر پر براجمان ہوا …. ہلکے سے جھولتا، ٹی وی پر نظریں جمائے، سگریٹ کے لمبے لمبے کش لیتاوہ ایک بار پھر سے اسی ذات کے بارے میں سوچنے لگا تھا….

”آخر ہو کیا گیا ہے اسے؟…. ایک ہی رات میں اتنا بدلاﺅ؟….“

وہ من ہی من میں خود سے مخاطب تھا…. غیردلچسپی سے ٹی وی کے چینلز چینج کرتا وہ کش پر کش لگائے چلا جا رہاتھا…. تھک ہار کرآدھ جلی سگریٹ، بری طرح سے ایش ٹرے میں مسلنے کے بعد وہ اٹھ کھڑاہوا…. بالوں میں انگلیاں پھنسائے، لب بھینچے وہ اردگرد گرداننے لگا…. سوچ سوچ کر اس کے اوسان خطا ہوا چاہتے تھے….

”کیا بکواس ہے یار! کیوں ہے اتنی بے چینی؟“

وہ اُکتا چکا تھا…. آئینہ میںاپنا عکس دیکھتا وہ خود سے مخاطب تھا….

”کیوں میں ایک معمولی سی لڑکی کے لیے اس قدر بے چین ہو رہا ہوں؟…. کیوں؟….“

اس کے پاس اس کیوں کا جواب نہ تھا…. ہاتھوں کو مٹھی کے اندازمیں دبوچتا وہ سرد ہوا کے باعث ایک جھرجھری سی لے کر رہ گیا…. ٹیرس کے دروازے کا پٹ ہلکا سا کھلا تھا…. جس کے ذریعے سرد سرد ہوا کمرے کے اندر بہ آسانی داخل ہو رہی تھی…. وہ چلتا ہوا دروازے تک پہنچا…. ہاتھ بڑھا کر دروازہ بند کرتے کرتے وہ رُک سا گیا…. اس کے دماغ سے ایک گرم گرم سی لہر اٹھی…. اور اس کے ساتھ ہی جسم میں گھوم سی گئی…. اس نے محسوس کیا کہ اس کے چہرے سے اس کے جسم سے آگ نکلنے لگی ہے…. وہ اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا…. باہر دھندلکے کے بیچ و بیچ درخت کی جانب بڑھتی ذات اسے کسی بھٹکی روح سے کم دکھائی نہ دے رہی تھی….

”مانو!“

وہ بغور اس کی جانب دیکھتا، پھرتی کی سی تیزی سے کمرے کا مین دروازہ کھولتا، سیڑھیاں پھلانگتا، کیبن کے مین دروازے سے باہر نکل آیا…. اس نے اردگرد نگاہ دوڑائی…. وہاں اس کے سوا اور کوئی نہ تھا…. وہ تیزی سے آگے بڑھا کہ اسی پل دھندلکے سے ایک نسوانی آواز اُبھری….

”مانہ! ہم سب لوگ اندر جا رہی ہیں…. رات کافی ہو گئی ہے…. تم بھی اندر آ جاﺅ…. اس سے پہلے کہ مسکان اور جینی کی طرح تم بھی کھو کر ہم سب لوگوں کا سارا مزہ کرکرا کر دو…. گو ٹو یور روم ناﺅ!“

لہجے میں بے رُخی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی…. الحان نے غور سے دیکھا…. دھندلکے دھیرے دھیرے پیچھے کی جانب بڑھنے لگے…. وہاں سحر کھڑی مانہ کو حقارت بھری نگاہوں سے گھورتی دکھائی دی تھی…. اسے دیکھتے ہی الحان مٹھیاں دبوچے اپنے دانت پیس کر رہ گیا تھا….

”سحر!…. یور آر آﺅٹ آف دز گیم…. اس بار کی ایلیمنیشن میں سب سے پہلا نام سحر کا ہی لینے والا ہوں…. فور شیور!“

وہ گھورتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتا زیرلب بڑبڑایا تھا….

مانہ اپنا چشمہ درست کرتی اثبات میں سر ہلانے لگی تھی….

”آتی ہوں…. تم لوگ جاﺅ….“

سحر واپس پلٹ چکی تھی…. مانہ درخت کے سائے تلے بیٹھتے ہی لمبا سانس کھینچتی آسمان پر نگاہیں دوڑانے لگی…. الحان قدم بہ قدم چلتا اس کے قریب آن کھڑا ہوا….

”مانو! مجھے تم سے بات کرنی ہے….“

وہ سرگوشی میں گویا ہوا…. مانہ اس کی بات سنی اَن سنی کیے وسیع آسمان کی جانب تکتی رہی…. الحان ٹکٹکی باندھے اس کے خوبصورت وجود کا طواف کرنے لگا تھا…. وہ اس وقت چاند کی مدھم نیلی روشنی میں ازحد خوبصورت دکھائی دے رہی تھیں…. لیکن ان خوبصورت آنکھوں کو پردہ دئیے چشمہ الحان کو بے حد زہر دکھائی دے رہا تھا…. اگلے ہی پل وہ نظروں کا زاویہ گھمائے سر تا پا الحان کے وجود کی جانب دیکھنے لگی….

”الحان ابراہیم!“

اس کا نام پکارتے ہی وہ دھیمے سے مسکرا دی…. الحان خاموشی سے اس کی جانب دیکھتا رہا…. وہ دھیمے لہجے میں پھر سے گویا ہوئی….

”میں سو رہی تھی…. مجھے یوں لگا کہ…. کوئی مجھے دور سے پکار رہا ہے…. میں اٹھنے لگی تو نیند نے غلبہ کیا…. اور میری آنکھیں بند ہو گئیں…. مگر سو نہیں سکی…. پکارنے کی آواز مسلسل آتی چلی گئی…. قریب ہوتی گئی…. اتنی قریب ہو گئی کہ جیسے کوئی کان کے ساتھ منہ لگائے دھیرے سے میرا نام لے رہا ہو…. میں جاگی…. آواز آتی رہی…. میں اٹھی تو بھی آواز آتی رہی…. میں بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی…. آواز مجھ سے لپٹنے لگی…. میں آواز کی سمت چلنے لگی…. پھر یکایک آواز میری طرف بڑھنے لگی…. اس آواز میں اب پکار کی کیفیت نہ تھی…. بلکہ کسی کے آہستہ آہستہ چلنے کی چاپ تھی…. چاپ قریب آتی گئی…. اور پھر…. میرے سامنے آ کر رُک گئی….“

وہ حیران کھڑے الحان کی جانب دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی….

”ایک دم ٹھنڈی ہوا نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا…. چاپ ایک بار پھر سے میری جانب بڑھنے لگی…. میں سر اٹھا کر دیکھنا چاہتی تھی…. میں پوچھنا چاہتی تھی کہ کون؟…. مگر آواز حلق میں ہی کہیں گم ہو گئی…. پھر…. آپ میرے سامنے آ گئے…. میں اس سارے واقعے سے بالکل حیران ہوں…. مجھے لگا کہ چاند کی مدھم روشنی نے میرے واہمہ کو جسم دے دیا ہے…. میں نے چاند کی روشنی کو بالکل اگنورکر دیا…. مگر…. مجھے آپ کی سانسیں صاف سائی دیتی ہیں…. مجھے یقین ہے کہ میں اگر ہاتھ بڑھاﺅں تو آپ کو چھو سکتی ہوں….“

اس نے ہاتھ بڑھا کر الحان کو چھونا چاہا…. اسے چھوتے ہی اس کا سارا بدن درد سے جھنجھنا اٹھا…. اس کے سارے بدن میں شدید درد تھا…. وہ اس احساس سے کراہی…. الحان حواس باختہ کھڑا اس کے نئے روپ کی جانب تکتا چلا گیا….

”آپ واقعی موجود ہیں…. وہ آواز واہمہ نہ تھی…. آپ کی صورت واہمہ نہ تھی….“

مانہ سرگوشی کرتی اس کی جانب دیکھنے لگی…. براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی…. اس کے بدن میں درد بڑھتا چلا گیا…. ناقابل برداشت ہو گیا…. اس پر قابو پانے کی ہر کوشش ناکام ہو گئی…. اس کا دل چاہا کہ وہ دھاڑیں مار مار کر رو دے…. کہ کسی صورت اس کا یہ درد کم ہو جائے…. اس کے پیٹ سے ایک مروڑ اٹھا اور اس کے حلق کو چیرتا ہوا اس کے لبوں پر آ رُکا…. اس کے لب کھلے اور اس نے سنا…. اپنی ہی آواز اسے کوسوں دور سے آتی سنائی دی تھی….

”آپ کے آنے سے پہلے میں سکھی تو نہ تھی، مگر میں اپنے دکھ سے مطمئن تھی…. میرے ناولز میرا دکھ بٹاتے تھے…. جو میں کہہ نہیں سکتی تھی…. وہ ناول کی صورت لکھ چھوڑتی…. زرین گھر آتی تھی تو میں سب دکھ بھول جایا کرتی تھی…. پھر جب میں یہاں آئی، بلکہ زبردستی لائی گئی….“

وہ پُرنم نگاہوں سے خوبصورت مسکراہٹ لبوں پر سجائے بولی….

”یہاں کی ہر شے مجھ سے بیگانی تھی…. یہاں کی ہوا، یہاں کے چاند ستارے، یہاں کے پھول، یہاں کے درخت، یہاں کے پرندوں کی چہچہاہٹ،یہاں کے دن رات، سب کے سب اب آپ کے قدموں کی چاپ میں گم ہو گئے ہیں…. جہاں آپ کی چاپ سنائی دیتی ہے وہاں سب کچھ خوشنما ہوتا نظر آتا ہے…. مجھے اس سب نے بالکل پریشان کر دیا ہے الحان!“

وہ براہ راست اس کی نظروں میں جھانک رہی تھی…. الحان کچھ دیر ساکت کھڑا اضطراب کے عالم میں اس کی جانب دیکھتا رہا…. پھر دھیمے لہجے میں گویا ہوا….

”پریشان تو تم نے بھی مجھے بہت کر دیا ہے…. تم یہاں کیوں آئی ہو؟…. مجھے اتنا بے چین کر کے رکھ دیا تم نے…. کیوں؟…. اب اگر تم چلی جاﺅ گی تو ہر شے پر تمہاری ملاقات کے نشانات موجود رہیں گے…. سورج تمہی کو ایک اُفق سے دوسرے اُفق تک ڈھونڈتا پھرے گا…. یہ چاند، یہ چاندنی…. صرف تمہارے لیے ہی رقصاں ہو گی…. پرندوں کی چہچہاہٹ تم کو ہی رجھانے کو ہو گی…. یہ ہوا صرف تم ہی کو پکارتی پھرے گی…. تم چلی جاﺅ گی تو سب کچھ بدل سا جائے گا…. میرا سکھ چین سب کچھ لوٹ لیا ہے تم نے….“

”میں نے کچھ نہیں لوٹا…. میں نے کسی سے کچھ نہیں چھینا…. بلکہ میرے پاس جو کچھ بھی تھا…. وہ یہاں لٹ گیا ہے…. میرے پاس اب کچھ بھی نہیں….“

”میں نے کہا تھا ناں کہ تم بھی مجھے پسند کرتی ہو…. مگر تم نہیں مانیں…. اور پھر تمہارے بدلے تیور…. تمہارے بدلے رویے نے مجھے بالکل پریشان کر کے رکھ دیا…. کیوں کیا تم نے ایسا …. بولو…. جواب دو مجھے….“

وہ اسے دونوں ہاتھوں سے تھامے اس کے چہرے کا طواف کرتا پوچھ رہا تھا…. سرخ ہوتی نگاہیں الحان کے چہرے پر گاڑھے وہ سرگوشی میں گویا ہوئی….

”یہ سب کرنے کے لیے آپ ہی نے مجھے مجبور کیا….“

”میں نے؟“

وہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”ہاں….آپ نے…. آپ مجھے پسند کرتے ہیں…. میں اپنے لیے آپ کی پسندیدگی کو غلط ثابت کرنا چاہتی تھی…. اور آپ کا یقین کہ میں بھی آپ کو پسند کرتی ہوں، کو جھٹلانا چاہتی تھی….“

نشہ ایک بار پھر سے زور پکڑنے لگا تھا…. اس کی آنکھیں اپنے آپ بوجھل ہوتی دکھائی دی تھیں…. الحان بہت غور سے اس کا جائزہ لیتا دکھائی دیا تھا….

”تم…. تم…. تم نشے میں ہو مانو؟…. تم نے نشہ کیا ہے؟ تم ایسا کیسے کر سکتی ہو؟….“

وہ پوچھ رہا تھا، مگر مانہ اسے اَن سنا کیے اپنی ہی کہے چلی جا رہی تھی….

”اس Island پر موجود تمام لڑکیوں سے الگ لگتی تھی آپ کو…. میں نے سوچا کیوں نہ میں بھی ان جیسی بن جاﺅں…. اسی بہانے آپ کو میں الگ نہیں لگوں گی…. انہی جیسی لگوں گی….“

اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں….

”تم نے یہ سب اس لیے کیا…. تاکہ میں تم سے دور رہوں؟“

وہ خاصا حیران دکھائی دےنے لگا تھا…. مانہ اثبات میں سر ہلاتی پھر سے سرگوشی کرنے لگی….

”ہاں…. تاکہ آپ مجھ سے دور رہیں….“

جواباً الحان اپنی آنکھیں میچ کر رہ گیا….

”اُف…. میرا سر پھٹ رہا ہے….“

اس نے دیکھا…. وہ اپنا سر تھامے تکلیف سے کراہ رہی تھی….

”تم نے نشہ بھی اس لیے کیا تاکہ میں تمہیں ان سب جیسا سمجھ کر تم سے دور ہو جاﺅں…. تمہیں نوٹس نہیں کروں؟…. تمہیں اگنور کروں…. تم سے دور رہوں؟….“

وہ اب غصے میں پھنکارنے لگا تھا….

”اوں ہوں….“

وہ دھیمے سے مسکراتی بمشکل آنکھیں کھولے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں یہ سب کچھ غلط کر رہی ہوں…. دیکھیں ناں…. اتنی محنت کے باوجود آپ میرے سامنے موجود ہیں….“

الحان تحمل کا مظاہرہ کرتا، آنکھیں میچے خود پر کنٹرول کرنے لگا….

”تو یہ سب کچھ مجھے دور کرنے کے لیے کیا گیا….“

وہ اس کے چہرے کی جانب دیکھتا دل ہی دل میں ہمکلام تھا….

”مگر کیوں؟…. پسند تو یہ بھی مجھے کرتی ہے…. میں پہلے سے ہی جانتا تھا…. مگر اَنا پرست لڑکی منہ سے کچھ بولے گی نہیں کبھی…. آج جو کچھ بھی اس نے مجھ سے کہا…. شاید صبح تک بھول چکی ہو…. مگر اچھا ہے…. اسے کچھ یاد نہیں رہے…. یہ جانا چاہتی ہے تو میں اسے جانے دوں گا…. اس کی یہی خواہش ہے تو یہی سہی….“

وہ من ہی من میں فیصلہ کر چکا….

”اگر تم اسے اتنی آسانی سے واپس جانے کی اجازت دے دو گے تو سوچ لو الحان ابراہیم…. شاید یہ تمہاری زندگی کی پہلی اور آخری لڑکی ہو…. جسے بھولنے میں تمہاری عمر گزرجائے…. جسے ڈھونڈنے کی چاہ میں تم پاگل دیوانے بن بیٹھو…. مت جانے دو…. یہی وہ لڑکی ہے…. مت جانے دو….“

اپنی ہی آواز خود کی سماعت سے ٹکراتے ہی وہ یکایک چونک اٹھا…. اردگرد نگاہ دوڑاتا وہ ایک بار پھر سے جھولتی مانہ کی جانب دیکھنے لگا…. کچھ دیراسے تکنے کے بعد وہ ایک بار پھر سے گویا ہوا….

”تم اس وقت اپنے ہوش میں نہیں مانو!…. بہتر یہی ہے کہ تم اپنے روم میں چلی جاﺅ….“

”لیکن!“

”اپنے روم میں جاﺅ….ورنہ میں اپنا پرامس توڑ دوں گا جو میں نے تم سے کیا تھا…. ٹاپ (4) والا پرامس!“

اس نے یاد دلانے کی کوشش کی…. مانہ دھیمے سے مسکرا دی…. الحان اسے سہارا دیے چوب محل کے مین دروازے تک آیا تھا…. سیڑھیوں تک پہنچتے ہی وہ بری طرح سے لڑکھڑا گئی تھی…. الحان تیزی سے اس کی جانب لپکا اور اسے سہارا دئیے سیڑھیاں چڑھنے لگا…. کمرے کے دروازے تک پہنچتے ہی مانہ مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”تھینک یُو!“

وہ اس وقت بے انتہا خوبصورت دکھائی دے رہی تھی…. الحان اس کے چہرے کی جانب دیکھتا اس کے مزید قریب ہو کھڑا ہوا…. مانہ بوجھل ہوتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی…. الحان نے دھیرے سے اس کا ہاتھ تھامااور جھک کراس کے ہاتھ پر اپنے گلابی ہونٹ پیسوت کرتے ہی بوسہ دے ڈالا…. مانہ حیرانگی سے اس کی جانب دیکھنے لگی…. الحان ایک بار پھر سے سیدھا ہو کھڑا ہوا تھا….

”گڈ نائٹ مانو!“

سرگوشی کرتا وہ ہینڈل گھما کر اس کی جانب دیکھنے لگا…. مانہ دبے قدموں اندر داخل ہو گئی…. دروازہ بند کرتا وہ تیزی سے چلتا، چوب محل سے نکل کر کیبن میں گھستے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوگیا تھا…. کمرے میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک چکرکاٹتا وہ لب بھینچے مسلسل کچھ سوچے چلا جا رہا تھا….

”ہم دونوں آل ریڈی ڈیل کر چکے تھے…. اس کے باوجود مانو نے ایسا کیوں کیا؟…. لیکن مجھے خوشی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی میں مانو کے دل و دماغ پر سوار ہوں….“

سوچتے سوچتے وہ ایک دم مسکرا دیا…. وہ کمرے کے بیچ و بیچ رُک کھڑا ہوا…. لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ سجی تھی….

”مانو کو صبح تک کچھ یاد نہیں رہے گا کہ وہ اپنا تمام پلان مجھ سے شیئر کر چکی ہے…. اب میں پلان کروں گا کہ مجھے کیا کرنا ہے…. مانو! اب آئے گا کھیل کا اصلی مزہ….“

دل ہی دل میں پلان کرتا وہ بیڈ پر لیٹتے ہی ایک بار پھر سے مسکرا دیا….

ض……..ض……..ض

جزیرے میں اونچے اونچے درختوں کے درمیان گلزار کھلے تھے…. چوب محل ڈوبتے سورج کی کرنوں سے دمک رہا تھا…. الحان اپنے بیڈ پر دنیا جہاں سے بے خبر گہری نیند سو رہا تھا…. ٹیرس کے بند دروازے کی سائیڈز سے سورج کی کرنیں اندر داخل ہو رہی تھیں…. ایک شوخ کرن دوڑ کر الحان کے بیڈ پر چڑھ گئی…. اور الحان کی پلکوں میں گدگدی کرنے لگی…. الحان نے پہلو بدلا اور آنکھیں کھول دیں…. کچھ دیر اٹھ کر یونہی بیٹھا رہا جیسے کسی آواز پر کان دھرے ہو…. پھر جیسے کوئی آوازنہ سن کر گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا…. اس نے ٹیرس سے باہر جھانکا…. سبز نیلے پانیوں پر دور ایک بادبان دکھائی دیا…. اور پھر نظر سے اوجھل ہو گیا….

الحان مڑا اور کمرے سے باہر بھاگا…. چوب محل میں گھستے ہی متلاشی نگاہیں ادھر اُدھر دوڑاتا سیڑھیاں پھلانگتا ہر ہر کمرے کی تلاشی لینے لگا…. تمام کمرے خالی تھے…. وہاں کوئی بھی نہ تھا…. متلاشی نظریں ادھر اُدھر دوڑاتا وہ محل سے باہر گلزار میں نکل آیاڈاس کے خوبصورت پھولوں کو دیکھ کر وہ سب کچھ بھول گیا…. اور پھران پھولوں کو دیکھتا دیکھتا ایک کنج میں جا نکلا…. اس کنج میں ایک چشمہ اُبل رہا تھا…. چشمے کا پانی…. پھولوں سے لدے پھندے پودوں کے درمیان نہر کی صورت میں بہہ رہا تھا…. اس نہر کے ایک موڑ پر پھولوں کے سائے میں کوئی سو رہا تھا وہ اس سونے والے کی طرف بڑھا مگر سورج ڈوب گیا…. اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا…. وہ اندھیرے میں سونے والے کی سمت بڑھتا رہا…. دھیرے دھیرے…. دبے دبے قدموں…. راستہ ہر قدم کے ساتھ لمبا ہوتا رہا…. وہ تھک کر رُک گیا…. یکایک اس کے سامنے سے پورا چاند نکل آیا…. اس کی روشنی میں اس نے دور تک نگاہ کی مگر وہاں نہ وہ پودا تھا نہ ہی کوئی سونے والا…. وہ وہیں حیران کھڑا چاند کی جانب تکتا رہا…. اگلے ہی پل ایک دم اس کے پیچھے سے گھٹی ہوئی چیخ فضا میں پھڑپھڑائی…. وہ مڑا…. اس کے پیچھے اس کے سائے میں پھولوں کے درمیان ایک خوفزدہ دوشیزہ منہ پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی…. اس کے مڑتے ہی اس دوشیزہ نے سسکی بھری…. وہ چاندنی کی راہ سے ہٹ گیا…. اب چاندنی اس دوشیزہ کے بدن پر تھی، الحان کے منہ پر بھی تھی…. وہ اس کی جانب بڑھا اور پوچھنے لگا….

”کون ہو تم؟….“

دوشیزہ آواز سنتے ہی سر اٹھا کر بولی….

”تم آ گئے الحان!…. تم نہ آتے تو نجانے کتنی صدیاں سوتی رہتی میں….“

الحان چونکا…. یہ آواز مانہ کی تھی…. وہ اس کی جانب بڑھا…. اس کی جانب بڑھتے بڑھتے وہ یکایک چونک کر اٹھ بیٹھا…. وہ حیران تھا….

”یہ کس قسم کے خواب آ رہے ہیں آج کل مجھے؟“

وہ زیرلب بڑبڑایا…. پھر کچھ سوچتے سوچتے دھیمے سے مسکرا دیا….اس نے انگڑائی لی…. اور ساتھ ہی لحاف بھی اُتار دیا…. سلیپر پہنتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا….

”چلو مانو میڈم!…. آج ہماری باری….“

شریر مسکراہٹ لبوں پر بکھیرے وہ واش روم میں داخل ہو گیا….

ض……..ض……..ض

پہلو بدلتے ہی وہ کسمساتی ہوئی اٹھ بیٹھی…. اس کے سر میں شدید درد تھا…. سر دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ کراہ کر رہ گئی….

”اُٹھ گئیں میڈم!“

مسکان ہاتھوں پر لوشن سے مساج کرتی آئنہ میں سے ہی اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی…. مانہ نے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا…. اس کا چہرہ اسے دھندلا سا دکھائی دیا….

”سر میں شدید درد ہے….“

مانہ انکھیں میچتے ہوئے بولی….

”کیا ہوا؟“

”پتا نہیں….“

”کل رات کافی دیر تک تم کمرے سے باہر رہی…. شاید ٹھنڈ لگ گئی ہو گی…. میں نے تو تمہیں منع بھی کیا تھا، پر تم نے میری ایک نہیں سنی….“

وہ مصروف انداز میں گویا تھی…. مانہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”میں؟…. میں تو تم سب سے پہلے ہی کمرے میں آ گئی تھی….“

”ہاں…. اس کے بعد آپ دوبارہ کمرے سے باہر تازہ ہوا کے لیے گارڈن ایریا میں گئی تھیں….“

”نہیں تو….“

وہ منتشر دکھائی دینے لگی….

”ارے….“

مسکان پلٹ کر اس کے قریب آ کھڑی ہوئی…. وہ بول رہی تھی….

”تم تھوڑی دیر کا کہہ کر گئی…. لیکن کافی دیر تک واپس نہیں آئی تو میں بھی پریشان ہونے لگی…. مجھے لگا شاید اس بار تم کہیں کھو جاﺅ گی اور پھر مجھ میں تو ہرگز ہمت نہیں کہ میں جنگل میں جا کر تمہیں ڈھونڈتی…. شکر ہے تم واپس آ گئیں…. لیکن جب تم واپس آئی تھیں تب تم مسکرا رہی تھیں…. میں نے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو تم بیڈ پر گرتے ہی نیند کی وادیوں میں گم ہو گئیں….“

اسے اچنبھہ ہوا کہ وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے…. اگلے ہی پل وہ دھیمے سے مسکرا دی….

”مجھے واقعی کچھ نہیں معلوم…. کچھ بھی نہیں معلوم…. کل کی رات بہت عجیب تھی یار….! پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا اچانک مجھے….“

”ہوں…. کل رات بھی تمہارے سر میں درد کی شکایت تھی….“

مسکان پریشانی سے گویا ہوئی….

”ہاں…. اور ابھی بھی شدید درد ہے…. ایسے لگ رہا ہے جیسے ابھی بلاسٹ ہو جائے گا….“

”اوکے…. تم ریسٹ کرو…. میں تمہارے لیے ناشتہ اور دوا بھجواتی ہوں….“

”نہیں نہیں…. میں نیچے ہی آ رہی ہوں…. خود کو بیمار فِیل کروں گی تو بیمار ہی پڑی رہوں گی…. مجھے اس سب کی عادت نہیں…. تم چلو میں آتی ہوں….“

”اوکے!“

مسکان کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ مانہ کچھ دیر یونہی بیٹھی اپنا سر دباتی رہی…. پھر اٹھی سلیپر پہنتی واش روم میں داخل ہو گئی….

ض……..ض……..ض

جاری ہے ۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 2

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 2 دو دن ہو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے