سر ورق / ناول / من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 7

من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 7

من کے دریچے

عابدہ سبین

قسط نمبر 7

زندگی کی راہ میں اسے سوچتے ہیں ہم

محبتوں کی چاہ میں اسے چاہتے ہیں ہم

وہ نگاہ جس کا التفات کبھی بھولتے نہیں

اسی اک نگاہ سے ہر شام پگھلتے ہیں ہم

اس حویلی نما گھر کی طرز تعمیر پرانی سہی، مگر اس کے بڑوں کی سوچ اتنی پرانی ہرگز نہیں تھی جتنا کہ اس کی مما نے بنا رکھی تھی۔ رسم و رواج کے پابند، پردہ و پرہیز، ایک دوسرے سے محبت اور لحاظ، دوسروں کے لیے ہمدردی اور خلوص اور بزرگوں کے حکم کی پاسداری۔ ہاں شاید انہی چیزوں کو مما پرانی سوچ اور گھٹیا ذہنیت کا نام دیتی تھیں۔ کیونکہ ان کے گھر کے ماحول میں تو یہ سب تھا ہی نہیں۔ ڈیڈ اور بھیا کو اپنے بزنس سے فرصت نہ تھی، مما کے اپنے ہی مشاغل تھے۔ رات کو سونا، دوپہر کو اٹھنا، پھر یوگا، ناشتہ اور پھر پارلر، انہیں رات میں روز ہی کسی پارٹی میں جانا ہوتا تھا۔ مما کی اتنی ساری فرینڈز تھیں، روزانہ ہی کسی کے گھر میں پارٹی ہوتی تھی۔ کبھی ڈیڈ کی بزنس پارٹیاں، جن میں وہ بڑے شوق سے شرکت کرتی تھیں۔ اس کی مما ایک الٹرا ماڈرن خاتون تھیں۔ بچوں کے لیے ان کے پاس کبھی وقت نہیں رہا اور ڈیڈ! مما کے مقابلے میں کچھ خیال رکھنے والے بچوں کو توجہ دیتے تھے اپنی مصروف زندگی میں سے…. ہاں یہ ضرور تھا کہ ڈیڈ چھٹی والے دن کہیں نہیں جاتے تھے۔ سارا ٹائم گھر پر رہتے، شاید اسی لیے ان دونوں بہن بھائیوں کے دل میں ماں باپ کی طرف سے بدگمانی نہیں تھی، جو اکثر بچوں میں ہوتی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈیڈ بنیادی طور پر اس چھوٹے سے گاﺅں سے تعلق رکھتے تھے، شہر کی دنیا میں جا کے بُری طرح خود کو مگن کر کے مما جیسی ماڈرن بیوی کے ہوتے بھی ان کے اندر وہ تمام تر تہذیب و تربیت موجود رہی جو اس گاﺅں کی خاصیت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اپنی مما سے کہیں زیادہ وہ ڈیڈ کے قریب تھی، البتہ اس کا بھائی بالکل مما پر گیا تھا لیکن احزاز شاہ کے مزاج میں ڈیڈ کی تربیت ضرور موجود تھی۔ اپنے بھائی کے بارے میں سوچتے ہوئے اس کے لب مسکرا دئیے۔

”خیریت مِس کشف نواز! خودبخود مسکرایا کیوں جا رہا ہے؟“ مدیحہ کی آواز پر یکدم وہ چونکی، پھر ہنس دی۔

”یونہی فارغ بیٹھی تھی سوچا اچھی اچھی باتیں یاد کر لوں۔“

”اوکے! لو چائے….“ یہاں شام کی چائے بہت کم لوگ پیتے تھے۔ خاص طور پر بزرگ سوائے دادی جی کے مگر اس کا شام کی چائے کے بنا گزارا نہیں تھا۔ مدیحہ، حماد احسن وہ اور دادا جی، صرف چار بندے تھے ایسے جو اس وقت چائے پیتے تھے۔ دادی ماں خلاف تھیں اس جان جلانے والی بیماری کے….

”آج حماد نہیں آیا اب تک….؟“

”وہ تو آج شہر گیا ہے، صبح ہی آئے گا۔ میرے پیپرز شروع ہونے والے ہیں ناں، ڈیٹ شیٹ لینے گیا ہے۔“

”مدھو! تم کالج میں ایڈمیشن لے لو نا!“

”توبہ کرو یار! تمہیں نہیں پتا اماں کو میرا میٹر ک کے بعد پڑھنا بہت بُرا لگا ہے۔ حماد بھائی نے صرف اپنی ضد پر مجھے بی اے کرایا ہے۔“

”کیا….؟ دادی اماں تعلیم کے خلاف ہیں؟“

”نہیں! اعلیٰ تعلیم کے خلاف ہیں۔ یہاں گاﺅں میں کئی سال پہلے دو لڑکیوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی مگر بعد میں ان کے غلط قدم اٹھانے پر اب لوگ لڑکیوں کو زیادہ پڑھانے سے ڈرتے ہیں، صرف میٹرک تک اسکول ہے یہاں اور اتنی ہی ہمیں اجازت ہے۔“

”یار مدھو! یہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے۔ چند لڑکیوں کے غلط فیصلوں کی سزا ہم معاشرے کی تمام لڑکیوں کو دیتے ہیں۔“

”سو تو ہے کشف! مگر غلط بھی تو ہم جیسی لڑکیاں کرتی ہیں۔ پھر چاہے عمربھر اپنے فیصلے پر پچھتاتی رہیں۔“

”مدھو! تم لو میرج کے خلاف ہو؟“ کشف نے سوال کیا۔

”پتا نہیں کشف! مگرمیرے خیال سے محبت صرف شادی کے بعد بہتر ہے۔ اس سے پہلے صرف جذباتیت ہوتی ہے اور بس….!“

”یعنی ہمارے ماں باپ اگر کسی ایسے بندے سے ہمارا رشتہ جوڑ دیں جس کے بارے میں ہم جانتے تک نہ ہوں اور اس کا مزاج، خاندانی پس منظر یہ سب تمہارے نزدیک بہتر ہے؟“

”نہیں کشف! میں اس چیز کے خلاف نہیں ہوں۔ ہر انسان کی اپنی سوچ ہوتی ہے، اپنا نکتہ نظر ہوتا ہے۔ ہمارے ماں باپ ہمارے لیے کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو یقینا ہر طرح سے جانچ کر ہمارے اچھے بُرے کا سوچ کر کرتے ہیں۔ کیونکہ ہر ماںباپ کو اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہوتی ہے۔ لڑکیاں جب پیدا ہوتی ہیں تب سے ہی ماں باپ کوان کی فکر ستانا شروع ہوجاتی ہے۔“

”مدھو! تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ بالفرض میں تمہاری ہر بات مان بھی لوں مگر تمہارے اندر بالکل بھی یہ خواہش نہیں ہے کہ اگر تمہارے والدین تمہارے لیے جو لڑکا منتخب کرتے ہیں، تم اسے دیکھو، اس سے بات کرو تاکہ اس کا مزاج، سوچ اور طبیعت کا تمہیںاندازہ ہوجائے، ا س کی پسند ناپسند معلوم ہو جائے، اس طرح آنے والی زندگی سہل ہو جاتی ہے۔“

”کشف! میرے نزدیک زندگی کی خوبصورتی اسی چیز میں ہے، بالفرض میرے والدین میری شادی ایسے انسان سے کرتے ہیں جسے میں شروع سے جانتی ہوں، اس کی سوچ، پسند ناپسند ہر چیزکا مجھے علم ہو تو پھر شادی کے بعد کی اور شادی کے پہلے کی زندگی میں کیا فرق رہ جائے گا؟ ایک ایسے انسان سے رشتہ جڑنا، جس کی ہر بات ہر سوچ میرے لیے نئی ہو، دھیرے دھیرے اس کے مزاج کے ہر موسم سے مجھے آشنائی ہو، ہر گزرتے دن میں اس کی پسند مجھے پتا چلے تو زندگی کتنی اچھی لگے گی کہ اس شخص کے ساتھ بھلے عمر گزارنی ہے، پرت در پرت دھیرے دھیرے ہم ایک دوسرے کو سمجھیں اور جانیں اور جب مزاج آشنائی ہو گی تو زندگی خود سہل ہو جائے گی۔“

”اور اگر پسند ناپسند پر روز تکرار ہو، چھوٹی چھوٹی باتوں پر روز ہی بحث یا جھگڑا ہو تو پھر….؟“

”یہ تو زندگی کا حصہ ہے کشف! لڑائی جھگڑے تو ان لوگوں میں بھی ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو جان کر سمجھ کر شادی کرتے ہیں۔“

”اُف خدایا! مدیجہ تم بہت حیرت انگیز بات کر رہی ہو۔“ کشف سر تھام کر بولی۔

”دراصل کشف! تمہارے اور میر ماحول اور سوچ میں جو فرق ہے اس وجہ سے شاید ہم ایک دوسرے کو اپنی بات نہیں سمجھا سکتے۔“

”توکیا ہوا مدھو! تب بھی میری بس یہ ہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ہر خواہش پوری کرے اور تمہیںایساہی انسان ملے جس کے ساتھ تم خوش رہو۔“ ان اختلافات کے باوجود مدیحہ اسے بہت پسند تھی، تب ہی تو صرف ایک ہفتہ میں دونوں میں اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ یہاں آ کر ا س نے اپنا جیون ساتھی چن لیا ہے۔ حماد احسن کی صورت میں اس نے اپنے خوابوں کی تعبیر پا لی ہے، اب صرف گھر جا کے ڈیڈ اور مما سے بات کرنا باقی تھی۔

”بہت یاد کروں گی میں تمہیں کشف! تہارے آنے سے میری بوریت دور ہو گئی تھی۔ اچھی دوست مل گئی تھی اب جانے کب ملاقات ہو؟“

”ان شاءاللہ بہت جلد ملیں گے مدھو! اور کبھی نہ بچھڑنے کے لیے….“ اس کی آنکھوں کی چمک اور لبوں کی کھلتی مسکراہٹ پر مدیحہ بھی مسکرا دی۔

”مگر کیا انکل آنٹی مان جائیں گے؟“

”ڈیڈ تو بخوشی مان جائیں گے مگر مما اور بھائی تو تھوڑا ٹائم لگے گا لیکن ہونا تو وہی ہے نا جو میری خواہش ہے۔“

”اللہ کرے!“ مدیحہ نے دل سے دعا کی۔ اگر کشف نواز کے روپ میں اسے اچھی بھابی مل جائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے۔

”چلو کشف! ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔“ حماد اسے چھوڑنے جا رہا تھا۔ وہ سب سے مل کر اس کے ہمراہ چل پڑی۔ اس کے آنے سے سب جتنے خوش تھے، اس کے جانے پر دکھی بھی تھے۔ اسٹیشن تک وہ خاموش رہے تھے مگر ٹرین میں بیٹھتے ہی وہ حماد احسن کی اتری صورت دیکھ کر ہنس دی۔

”تمہیں کیا ہوا ہے؟“

”کشف! مجھے نہیں لگتا ہم دونوں نے مل کر زندگی گزارنے کے جو خواب دیکھے ہیں وہ کبھی حقیقت ہوں گے؟ تمہارے اور ہمارے درمیان ماحول کی یہ دوری….“

”حماد احسن پلیز! میں نے خواب نہیں دیکھے، سوچ سمجھ کر کھلی آنکھوں سے تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ڈیڈ میرا ساتھ دیں گے۔ باقی مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔ میں اپنی زندگی مما کے سر پھرے بے ہودہ لڑکوں کے ساتھ نہیں گزار سکتی۔ ساری عمر اس ماحول میں رہنے کے باوجود حماد مجھے وہ ماحول نہیں بھاتا۔ میں وہاں سے دور جانا چاہتی ہوں، پُرسکون اور صاف ستھرے ماحول میں….بناوٹ اور جھوٹ کے اس ماحول میں جہاں صرف ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے لیے لوگ ہر اچھے بُرے کام کر گزرتے ہیں۔“ وہ جذباتی ہو گئی۔

حماد نے اس کے نرم نازک ہاتھ پر مضبوط ہاتھ دھرتے ہوئے کہا۔ ”میرا مقصد یہ نہیں تھا۔“

”مجھے پتا ہے تمہارے دل میں خوف ہے لیکن حماد! کم از کم میرے ارادوں کو یوں کمزور مت کرو۔ مجھے پتا ہے شہر کے اور یہاں کے ماحول میں فرق ہے لیکن تم تو یہاں کے عام لوگوں کی طرح نہیں ہو نا! تم ایک ڈاکٹر ہو، سمجھ بوجھ رکھتے ہو۔ میرے ڈیڈ کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ ان کی تو خود یہ خواہش تھی میرا ہاﺅس جاب مکمل ہو جائے تو وہ میری شادی کسی اچھے ڈاکٹر سے کر دیں۔ اس چیز سے کیا فرق پڑتا ہے کہ تم کسی شہر کے بڑے اسپتال کے بجائے یہاں گاﺅں کے لوگوں کی خدمت کر رہے ہو۔“ کشف نہیں چاہتی تھی کہ حماد احسن اور اس کے درمیان کوئی بھی چیز وجہ اختلاف بنے۔ وہ ایک حقیقت پسند لڑکی تھی اور تمام تر حقیقتوں کو سمجھ کر اس نے یہ فیصلہ کیا تھا۔

ض……..ض……..ض

”کشف بیٹا! اگر تم نے یہ فیصلہ صرف میری ذات کے سبب کیا ہے تو میں خوش ہوں، مگرمیںاتنا خودغرض نہیں ہوں بچے! میں سمجھتا ہوں تمہاری تربیت اور پرورش جس ماحول میں ہوئی ہے وہ گاﺅں کے ماحول سے بالکل الگ ہے۔ محض پندرہ دن گزار کر تم اتنا بڑا فیصلہ کر رہی ہو؟ یہ محض جذباتی فیصلہ ہے۔“

”نو ڈیڈ! حماد احسن کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ محض وقتی یا جذباتی نہیں ہے۔میں نے تمام تر حقیقتوں کو مدنظر رکھا ہے اور پھر ڈیڈ وہ بھی تو ڈاکٹر ہے میری طرح۔ یہ ہی خواہش تو تھی آپ کی…. ڈیڈ زندگی بھر پیسہ کمانا ہی تو مقصد حیات نہیں ہوتا۔ پیسے کی کمی مجھے نہ یہاں ہے اور نہ وہاں ہو گی۔ حماد احسن انسانیت کے لیے وہاں کے لوگوں کی ہمدردی میں ان کی خدمت کر رہا ہے اور میںبھی چاہتی ہوں کہ میں ان لوگوں کے لیے کچھ کروں اور رہی اس ماحول میں ایڈجسٹ کرنے کی بات تو مجھے وہاں کا پُرسکون ماحول یہاں سے اچھا لگتا ہے۔ یقین کریں ڈیڈ! یہ فیصلہ میں نے سوچ سمجھ کر کیا ہے اور اس امید پر کہ آپ میرا ساتھ دیں گے۔“

”بچے! مجھے صرف تمہاری خوشی عزیز ہے اور بس! اگر تم خوش ہو تو وہی ہو گا جو تمہاری خواہش ہے۔“ ڈیڈ نے اسے تسلی دی تو وہ مسرور ہو گئی لیکن دھماکا تو ہونا تھا۔ جب مما کو یہ بات پتا چلی تو وہ فوراً ہی اس کے سر پر آ کھڑی ہوئیں۔ اتفاق سے بھیا بھی گھر پر تھے۔

”تم پاگل ہو گئی ہو کشف! اس گندے ماحول میں پندرہ دن گزار کر میری ساری تربیت پر پانی پھیرنا چاہتی ہو؟ کیا چاہتی ہو تم کہ تمہاری مما تا عمر تمہاری شکل نہ دیکھیں؟ میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی، ویسے بھی میں نے مسز بخاری سے کہہ دیا ہے دانیال بخاری کے لیے۔“

”مما! یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ میں فیصلہ کر چکی ہوں، میں صرف حماد احسن سے شادی کروں گی۔“

”آخر ان پست ذہن لوگوں نے تم پر کیا جادو کر دیا ہے جو تم ہماری بیٹی ہی نہیں رہیں؟‘

”خدا کے لیے مما! اتنی الٹرا ماڈرن ہیں آپ، اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے، شہر کے جدید ماحول میں رہتی ہیں، ہائی سوسائٹی میں آپ کا نام ہے اور سوچ آپ کی کیا ہے؟ جادو ٹونے…. خدایا! مما وہ لوگ پست ذہن ہوں نہ ہوں مگر اس طرح کی باتیں نہیں سوچتے۔“

”بس یہ ہی ڈر تھا مجھے اتنی دیر تمہارے باپ کو اس گندے ماحول سے الگ کرنے میں لگی تھی اور اب تم چار دن رہ کر آئی ہو تو تمہاری زبان پر بھی ان کا ہی اثر ہے۔ لیکن کان کھول کر سن لو، میں ہرگز تمہاری شادی وہاںنہیں کروں گی۔ میں ابھی مسز بخاری کو فون کرتی ہوں کہ وہ دانیال اور تمہاری منگنی کی تیاری کریں۔“ ان کا انداز ایسا فیصلہ کن تھا کہ ڈیڈ کو مخالفت کرنی پڑی۔

”سلمیٰ پلیز! ہربات کو ضد اور اَنا کا مسئلہ مت بنایا کرو۔ ہمارے لیے ہمارے بچوں کی خوشیاں سب سے اہم ہیں۔“

”اگر وہ کنویں میں چھلانگ لگانا چاہیں تو لگانے دوں شاہ نواز احمد!“ وہ تلملا کر بولیں۔

”ساری عمر تمہاری میرے خاندان سے نفرت برقرار رہی ہے لیکن آج میں اپنی بچی کی خوشیاں تمہاری نفرت کی بھینٹ نہیں چڑھنے دوں گا۔“ ڈیڈ کو شدید غصہ آ گیا اور وہ دونوں بہن بھائی جانتے تھے کہ ڈیڈ دل کے مریض ہیں، غصے سے ان کی طبیعت بگڑ جاتی ہے سو جہاں کشف لپکی وہیں احزاز شاہ بھی اٹھ کر آیا تھا۔

”ڈیڈ پلیز! آپ غصہ نہ کریں اور مما! اگر کشف نے اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کیا ہے تو آپ کو کیوں اعتراض ہے؟ وہ بچی نہیں ہے اپنا اچھا بُرا سمجھتی ہے۔“ وہ پہلی بار اس سارے معاملے میں بولا تھا۔

”احزاز تم بھی؟ ارے یہ دونوں باپ بیٹی پاگل ہو گئے ہیں، کم از کم تم تومیرا ساتھ دو۔“

”ہاں ہیں ہم پاگل…. لیکن سلمیٰ بیگم! اب تم بھی کان کھول کر سن لو، جو کشف چاہتی ہے وہی ہو گا۔ میں دیکھتا ہوں کون مجھے منع کرے گا۔“ ڈیڈ چیخ کر بولے مگر اگلے ہی پل سینہ تھامنے لگے۔ مما پیر پٹختی اندر چلی گئیں اور وہ دونوں بہن بھائی ڈیڈ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ آرام سے ان کے کمرے میں لٹا کر انہیں دوائیں دے کر جب وہ باہر آئے تو احزاز شاہ بولا تھا۔

”کشف! یہ ساری زندگی کا معاملہ ہے، کیا تم نے اچھی طرح سوچ لیا ہے، تم وہاں لائف گزار سکتی ہو؟“

”یس برادر! میں نے بہت اچھی طرح سوچ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔“ اس کا لہجہ اٹل تھا۔

”اوکے،تمہاری مرضی! میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔“ احزاز یہ کہہ کر آگے بڑھ گیا اور وہ مسکرا دی۔ یعنی بھیا بھی مان گئے، مما بھی مان ہی جائیں گی۔

ض……..ض……..ض

ڈیڈ کی طبیعت سنبھل نہیں رہی تھی کیونکہ روز ہی اسی مسئلے کو ڈسکس کیا جاتا تھا۔ افسوس کشف کو مما کے توہین آمیز روئیے پر ہوتا تھا۔ مما تو ان لوگوں کو انسان ہی نہیں سمجھتی تھیں۔ اپنے سسرال سے ہر عورت کو ہی شکایت ہوتی ہے۔ مگر مما کو تو ان سے نفرت تھی، وہ بھی انتہا درجے کی اور اس کی وجہ اسے سمجھ نہیں آتی تھی۔ اگر ان سے اتنا چڑتی تھیں تو ڈیڈ بھی ان میں سے ہی تھے، پھر مما نے انہیں کیسے قبول کر لیا تھا۔ ٹھیک ہی کہتا تھا حماد احسن۔ ”کشف! جتنا آسان تم سمجھ رہی ہو یہ سب اتنا آسان ہے نہیں۔“ اب واقعی اسے سمجھ آیا تھا کہ حماد احسن نے اپنی پوری تعلیم شہر میں مکمل کی مگر کبھی ان کے گھر کیوں نہیں آیا حالانکہ وہ ان کا سگا پھوپی زاد تھا۔ مما نے کتنے پیار بھرے رشتے ان سے ہمیشہ دور رکھے تھے۔ پھوپو، اماں، بڑے ابّا، چاچو…. صرف بڑے چاچو تھے جو ان کے گھر آتے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھی اپنی حقیقت بھول کر شہر کے اس دوغلے ماحول میں رچ بس گئے تھے۔

وہ بظاہر ناشتہ کر رہی تھی، آج اس کی ڈیوٹی آف تھی اور کچھ اپنی ذہنی پریشانی کی وجہ سے وہ کمرے سے ہی نہیں نکلی تھی مگر ذہن کہیں اور ہی الجھا ہوا تھا۔ ڈیڈ اور بھیا بھی ناشتے کے بعد اخبار دیکھ رہے تھے۔ ممااب تک سو کر نہیں اٹھی تھیں۔ ناشتے کے بعد وہ ڈیڈ کے پاس آبیٹھی جو اس کا مرجھایا چہرہ دیکھ چکے تھے۔

”کشف! بچے تم ٹھیک تو ہو؟“

”یس ڈیڈ!“ بظاہر بے پروائی سے کہہ کر اس نے ٹیبل پر دھرا اخبار اٹھا لیا۔

”مجھے پتا ہے بیٹا! تم اداس ہو،مگر فکر مت کرو، تم جیسا چاہو گی وہ ہی ہو گا۔“

”مگر ڈیڈ! میں مما کی مرضی کے بنا یہ کیسے کر سکتی ہوں؟ میری خواہش ہے کہ میری اس خوشی میں تمام لوگ دل سے شامل ہوں لیکن مما….؟“

”ایک بات کہوں اگر اپنی مما کی رضامندی کی فکر کرو گی تو یہ خواہش چھوڑ دو۔ جس عورت نے مجھ سے میرا ہر رشتہ چھڑوا دیا، میری ماں، باپ، بیوی بہن، چھوٹا بھائی…. اور اسے اس چیز پر ذرا پشیمانی نہیں تو وہ تمہیں بھی ان لوگوں سے ملنے نہیں دے گی۔“ ڈیڈ آزردہ لہجے میں بولے۔ احزاز نے کبھی ان باتوں پر غور نہیں کیا تھا پر آج وہ بھی سن رہا تھا۔

”ڈیڈ! مما کیوں اتنا بُرا سمجھتی ہیں ان لوگوں کو؟“

”کیونکہ تمہارے گرینڈ فادر یعنی نانا اور میرے بابا دونوں سگے بھائی ہیں۔ تمہاری ماں شروع سے اسی ماحول کی عادی تھی۔ اس کے والد نے اس کی مرضی کے خلاف اس کی شادی مجھ سے کر دی مگر وہ ہمارے گھر میںاور وہاں کے سادہ ماحول میں نہ رہ سکی۔ کوشش کرتی تو شاید رہ بھی سکتی تھی مگر تمہاری ماں کو تو یہ لگتا تھا کہ اس کی زبردستی شادی کر کے سب نے اس سے دشمنی نکالی ہے، وہ ناصرف اپنے والدین سے بلکہ میرے گھر کے ہر فرد سے خفا تھی۔ مجھ سمیت میرے تمام گھر والوں سے نفرت کرتی تھی، ہمیں جاہل، اجڈ، گنوار، اَن پڑھ جانے کن کن لفظوں سے نوازتی۔ اماں بی نے سب سہہ لیا کیونکہ وہ ان کے جیٹھ کی بیٹی تھی لیکن تمہاری ماں کی دن بدن بڑھتی نفرت نے میرے اندر لاوا بھر دیا اور ایک دن میں غصے میں اسے لے کر شہر آیا اور اس کے ماں باپ کے گھر چھوڑ گیا۔ میرے تایا مجھے روکتے رہے مگر میں نہیں رکا۔ گھر پہنچا تو میرے ماں باپ الگ مجھ پر برس پڑے کہ میں نے غلط کیابلکہ اگلے دن ہی وہ مجھے لے کر بھائی کے گھر شہر آ گئے۔ ان سے معافی مانگی اور تمہاری ماں کو منایا کہ گھر چلے لیکن تمہاری ماں نے صاف انکار کر دیا۔ بیٹا! ہمارے بزرگ یہ رشتہ ختم نہیں کرنا چاہتے تھے۔ دو بھائی الگ ہونا نہیں چاہتے تھے، اس لیے اباجی نے تمہاری ماں سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتی ہے اور اس نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ”اگر وہ اپنے بیٹے کا گھر بسانا چاہتے ہیں تو اس کو یہاں شہر میں رہنے کی اجاز دیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میرے گھر کے کسی فرد کو مجھ سے ملنے آنے کی اجازت نہیں ہو گی، میں چاہوں تو خود گاﺅں جا کے مل سکتا ہوں۔“ مجھے یہ شرط قطعاً منظور نہ تھی مگر اباجی نے ان کی یہ بات بھی مان لی کہ میرا گھر نہ اجڑے، وہ نہیں سمجھ سکے کہ گھر دل سے بستے ہیں اور جب دلوں میں جگہ نہ رہے تو گھر نہیں بستے…. میں نے ان کی بات تو مان لی مگر ان سے شدید خفا ہو گیا، جب تک تایا رہے، مجھے سمجھاتے رہے، سلمیٰ سے بھی بازپرس کرتے رہے۔ مگر ان کے گزرجانے کے بعد سلمیٰ کو کسی کی پروا نہیں رہی۔ مجھے تو پہلے ہی کچھ نہ سمجھتی تھی، تایا جی کے بعد ان کا کاروبارمیرے کندھوں پر آ گیا اور یوں میں بھی اس مصروف ترین زندگی کا حصہ بن گیا۔ تم دونوں نہ ہوتے تو شاید میں کب کا چلا جاتا کیونکہ تمہاری ماں کونہ گھر کی فکر ہے نہ شوہر اور نہ بچوں کی…. وہ صرف اپنی ذات کے لیے جیتی ہے۔ ایسے میں اگر میں کوئی غلط فیصلہ کرتا تو تم دونوں کی زندگی تباہ ہو جاتی اور میں اپنے بچوں کو کوئی دکھ نہیں دینا چاہتا تھا۔ میں نے تمہاری ماں کو اس کے حال پر چھوڑ دیا اور اپنے آپ کو کاروبار اور بچوں میں مگن کر لیا۔ ماںباپ سے خفا تھا سو مڑ کر وہاںبھی نہیں گیا۔ لیکن تم نے خواہش کی جانے کی تو تمہیں منع بھی نہیں کیا۔“ پہلی بار ایسا ہوا کہ اس نے ڈیڈ کو اتنا کمزور شکست خوردہ دیکھا تھا۔ ان کی آنکھوں کے گوشے نم تھے۔ ہاں یہ سچ تھا کہ ڈیڈ کی توجہ اور محبت پا کر ہی وہ بڑے ہوئے تھے، مما کی اپنی مصروفیت تھی، ان کے پاس تو شاید اپنے بچوں کے لیے وقت نہیں تھا۔

”ڈیڈ پلیز….!“ احزاز اٹھ کر ان کے پاس آ گیا۔ ”آپ کیوں دکھی ہو رہے ہیں، مما کو ان کے حال پر چھوڑ دیں اور آپ کشف کی شادی کی تیاری کریں۔“

”احزاز! تم چلو گے میرے ساتھ گاﺅں کشف اور حماد کی شادی کرنے کے لیے….؟“

”ڈیڈ میری ایک ہی بہن ہے، ہم اس کی شادی دھوم دھام سے کریں گے، یہیں اپنے گھر سے رخصت کریں گے۔“

”ہاں مگر بات کرنے کے لیے تو جانا پڑے گا نا!“

”جب آپ چاہیں میں تیارہوں، مگر آپ مما کی ٹینشن نہ لیں پلیز! آپ ٹھیک ہوں گے تو ہم جائیں گے نا!“

”میں بالکل ٹھیک ہوں، مجھے فکر یہ ہی تھی کہ کہیں تم بھی اپنی ماں کی طرح اڑ نہ جاﺅ مگر…. مجھے خوشی ہے کہ تم میرے ساتھ ہو۔“ واقعی شاہ نواز احمد کو احزاز شاہ کی رضا مندی سے حوصلہ ملا تھا۔ وہ بہت پُرسکون اور ہلکا پھلکا محسوس کر رہے تھے خود کو۔

”ڈیڈ!“ احزاز نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما۔ ”میں جانتا ہوں مما کی طرح میں بھی اسی ماحول کا عادی ہو چکا ہوں اگر میں منع کرتا تو صرف اس لیے کہ کشف اس ماحول کی عادی نہیں ہے پر جب وہ ہی راضی اور خوش ہے تو بھلا مجھے کیا اعتراض….“

”شکریہ برادر!“ کشف نے بھائی کو مشکور نظروں سے دیکھا تو وہ مسکرا دیا۔

ض……..ض……..ض

مما نے تمام گھر والوں کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ کشف انہیں منانا چاہتی تھی مگر ڈیڈ اور احزاز بھائی کا خیال تھا کہ فی الوقت یہ کوشش فضول ہے، سو وہ بھی چپ ہو گئی۔ گاﺅں جانے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ ڈیڈ نے مما کو مطلع بھی کر دیا تھا اور اتوار کوڈیڈ اور احزاز دونوں ہی روانہ ہوئے تھے۔

گاﺅں پہنچے تو لمحہ بھر کو شاہ نواز احمد کی دھڑکن تھم سی گئی تھی۔ برسوں بعد وہ گاﺅں آئے تھے۔ اماں جی اور اباجی نے انہیں دہلیز پار کرتے ہی دیکھ لیا تھا۔ ان کی نکھیں ترس گئی تھیں اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے…. اماں جی تڑپ کے آگے بڑھی تھیں اور شاہ نواز احمد نے ان کے شانوں پر سر رکھ دیا۔ اباجی بھی ان سے گلے لگے کافی دیر کھڑے رہے۔

”السلام علیکم ماموں جی!“ اس کی آواز پر وہ اباجی سے علیحدہ ہوئے تو اپنے سامنے خوبرو اور ذہانت سے بھرپور آنکھوں والے نوجوان کو دیکھ کر فوراً پہچان گئے کہ حماد احسن ہی ہو سکتا ہے۔

”وعلیکم السلام بچے!“ انہوں نے گرم جوشی سے اسے گلے لگا لیا۔ حماد احزاز شاہ سے بھی تپاک سے ملا تھا۔

”اللہ کا شکر ہے کہ ڈیڈ کے علاوہ میں بھی کسی کو نظر آیا۔“ اس نے سنجیدگی سے گلہ کیاکیونکہ ایک تو اتنا لمبا سفرگاڑی میں اس نے پہلی بار کیا تھا۔ دوسرا یہاں پہنچے تو ڈیڈ، ڈیڈ ہی ہو رہا تھا اب تک اس پر کسی نے نظر تک نہ ڈالی تھی۔

”ارے بگ برادر سوری بھئی….“ حماد احسن نے مسکراتے ہوئے معذرت کی۔

”ماں صدقے جائے پُتر دے….“ اماں جی نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ زندگی میں پہلی بار تو وہ پوتے کو دیکھ رہی تھیں۔ ڈیڈ کے بعد اب اس کی باری تھی۔ سب نے باری باری اسے پیار کیا، پھوپو بھی آ گئی تھیں۔

”عبدالجبارنظر نہیں آ رہا اماں جی….“ کافی دیر گزرنے کے بعد ہی انہیں چھوٹا بھائی نظر نہیں آیا تو وہ پوچھ بیٹھے مگر جواب میں سب کے چہروں پر چھائی افسردگی انہیں فکرمند کر گئی۔ ”اماں جی! کیا بات ہے…. آپ لوگ اتنے چپ اور غمزد کیوں ہو گئے؟“ ان کے استفسار پر اماں جی رو دیں۔

”شاہ نواز پُتر! کل تیرے ویر کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ بڑی بُری حالت ہے میرے بچے کی….“

”اباجی…. اماں…. آپ لوگوں نے مجھے اطلاع بھی نہیں دی؟“

”پُتر! بہو کے ڈر سے….“

”اماں! حد ہو گئی۔ صرف اس عورت کی وجہ سے آپ لوگوں نے مجھ سے میرا ہر رشتہ دور کر دیا ہے لیکن اس عورت کا غرور کم پھر بھی نہ ہوا۔ کہاں ہے عبدالجبار! مجھے ملنا ہے اس سے….“

”ماموں پلیز! آپ ابھی تھکے ہوئے آئے ہیں، کچھ دیر آرام کریں پھر میں آپ کو ہسپتال لے جاﺅں گا۔“

”اسپتال! مگر اس کے پاس وہاں ہے کون؟“

”پُتر! مدھو ہے وہاں…. اس کی دھی….!“

”حماد بیٹا‘ مجھے ابھی لے چلو،میں برسوں سے بچھڑا ہوا ہوں اپنوں سے…. اب صبرنہیں ہوتا۔ میرا چھوٹا بھائی اسپتال میں ہے، میں کیسے آرام کر لوں؟ تم چلو بچے!“

”شاہ نواز! کوئی چائے پانی تو پی لے۔ ابھی تو آ کے بیٹھا ہے۔“

”جی ڈیڈ! اللہ بہتر کرنے والا ہے، آپ پلیز اتنی فکرمت کریں۔ ابھی فریش ہو جائیں پھر چلیں گے۔“ احزاز ان کی طبیعت کے باعث پریشان ہوا، وہ تو گھر سے ہی ٹینس تھے اور اب چاچو کا ایکسیڈنٹ…. شاید احزاز کے سمجھانے کا اثر تھا کہ وہ خاموش ہو گئے۔ فریش ہو کر آئے تو کھانا تیار تھا۔ اباجی کی خاطر انہوں نے انکار نہیں کیا۔ احزاز بھی فریش ہو کر آ گیا تھا۔ کھانے کے فوراً بعد وہ جانے کو تیار تھے۔ حماد انہیں اپنی گاڑی میں اسپتال لے گیا تھا۔ عبدالجبار ابھی بھی انجکشن کے زیراثر تھے لیکن ان کے وجود سے لپٹی پٹیاں انہیں رُلا گئیں۔

”مدھو! ماموں…. کشف کے ڈیڈ!“ حماد نے ہونق بنی مدیحہ کو بتایا۔

”السلام علیکم! تایا جی!“

”جیتی رہو بچے!“ انہوں نے اس کا سر تھپکا تبھی عبدالجبار کے وجود میں جنبش ہوئی تو شاہ نواز ان کی طرف لپکے۔

”عبدالجبارمیرے بھائی! دیکھ تو…. میں تجھ سے ملنے آیا ہوں۔“ ان کے لہجے میں بے تابی تھی، آنکھوں میں نمی تھی۔ ان کی آواز پر عبدالجبار نے بمشکل آنکھیں کھولی تھیں۔

”بھائی جی…. آپ….؟“ ان کی آنکھوں کے گوشے نم ہو گئے۔

”آنکھیں ترس گئیں…. بھائی جی آپ کو دیکھنے کو…. میری آخری خواہش تھی کہ زندگی میں ایک بار آپ سے مل لوں پھر رب چاہے سانس کی بھی مہلت نہ دے اور سوہنے رب نے پوری کر دی….“ وہ بہت مشکل سے بول رہے تھے۔

”نا میرے جھلے بھائی! ایسا نہ کہہ، اللہ تجھے میری حیات بھی لگا دے،اللہ تجھے صحت دے۔“ وہ تڑپ اٹھے تھے۔

”ماموں….!“ حماد نے انہیں پکارا اور آنکھوں کے اشارے سے زیادہ بات کرنے سے منع کیا۔

”اچھا! اب تُو زیادہ باتیں نہ کر، جلدی سے اچھا ہو جا پھر باتیں کریں گے۔ میں یہیں ہوں ابھی تیرے پاس….“ انہوں نے بھائی کا ہاتھ تھام کر تسلی دی۔ ”دیکھ تیرا بھتیجا بھی آیا ہے، تجھ سے ملنے….“ انہوں نے کہا تو احزازنے آگے بڑھ کر سلام کیا، وہ خوش ہو گئے۔

”جُگ جُگ جیو بچے! لمبی عمراں پاﺅ۔“ کافی دیر وہ اسپتال میں رہے مگر عبدالجبار کو زیادہ بولنا نہیں تھا تو انہوں نے منع کر دیا کہ وہ خاموش لیٹے رہیں۔ شاہ نواز نے مدیحہ کو اپنے پاس بلایا اور اس سے باتیں کرنے لگے۔ جب کہ حماد اور احزاز باہر نکل گئے۔ واپسی پر حماد اسپتال میں رہ گیا اور مدیحہ ان کے ساتھ آ گئی۔

”پُتر! نہالے، کل سے تُو نے اپنا کیا حلیہ بنا لیا ہے، جا میری رانی….“ اماں نے مدھو کا ماتھا چوما، وہ بھیگی آنکھیں لیے اٹھ گئی

”ہاجرہ! میری رانی کے لیے کھانا گرم کر کے لا، بھوکی ہے وہ کل سے….“ انہوں نے ملازمہ کو حکم دیا پھر بیٹے سے مخاطب ہوئیں۔ ”شا نواز! مدھو دو سال کی تھی جب ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا لیکن پھر کوثر بانو نے ماںبن کر اسے پالا۔ تیرے بہنوئی کی وفات کے بعد اس کے سسرال والوں نے اسے حویلی سے نکال دیا، چار سال کا حماد لے کر یہ یہاں آ گئی پھر حماد اور مدیحہ دونوں کو اس نے یوں پالا جیسے سگے بہن بھائی ہوں۔ مدھو اسے پھوپو نہیں، امی کہتی ہے حماد کی طرح اور حماد کو بڑا بھائی…. کل سے بچی پریشان ہے اسپتال سے گھر تک نہیں آئی۔“

”اماں جی! باپ کی حالت ایسی ہو تو اولاد کو کب سکون آتا ہے۔“

”اللہ میری رانی کی دعائیں قبول کرے، میرا بچہ جلد ٹھیک ہو کر گھر آ جائے۔“

”آمین….“ شاہ نواز نے دل میں کہا۔ مدھو کے آنے کے بعد اماں جی نے اسے زبردستی تھوڑا سا کھانا کھلایا تھا پھر اسے اپنی گود میں لٹا لیا۔

”کچھ دیر سو جا پُتر!“

”مجھے نیند نہیں آتی اماں‘ میرا دل ادھر بابا میں اٹکا رہے گا۔“

”اللہ خیر کرے گا بچے! اب کل سے تو بہتر ہے نا!“ وہ جواباً کچھ نہ بولی بس خاموشی سے آنکھیں موند گئی کیونکہ حماد احسن نے انہیں تسلی دینے کے لیے یہ ہی کہا ہو گا ورنہ وہ اور بھائی دونوں جانتے تھے کہ بابا کی حالت بہت سیریس ہے۔

”احزاز کہاں ہے شاہ نواز!“

”وہیں حماد کے ساتھ ہی ہو گا اماں جی!“ وہ بولے تبھی احزاز اندر داخل ہوا تھا اور شاہ نواز کے برابر میں آ بیٹھا۔

”ڈیڈ! یہ گاﺅں ہے، یہاں سہولیات کی کمی ہے کیوں نا ہم چاچو کو شہر لے جائیں اپنے ساتھ…. کسی اچھے اسپتال میں ان کی دیکھ بھال ہو گی تو وہ جلد سنبھل جائیں گے۔ میں نے حماد کو بھی یہ آئیڈیا دیا ہے کہ مزید دیر نہ کرے اور چاچو کو لے کر ہمارے ساتھ چلے۔“

”بچے! کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو، حماد سے میں بھی بات کرتا ہوں۔“

”پر شاہ نواز! یہاں وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے تو ہمیں حوصلہ ہے۔ اتنی دور ہم کیسے جائیں گے؟“ اماں کا لہجہ بھرّا گیا۔

”دادی! ہمت رکھیں چاچو کو وہاں اچھی ٹریٹ منٹ ملے گی، بڑے ڈاکٹرز ہوں گے، دیکھئے گا وہ بہت جلد اچھے ہو جائیں گے۔“ اس نے اپنی دادی کو تسلی دی۔

”چلو اللہ بہتر کرے گا۔“ فی الوقت سب خاموش ہو گئے، رات میں شاہ نواز اپنے بھائی کے ساتھ اسپتال میں رہے تھے۔ جب کہ احزازکو رات گزارنا مشکل ہو گیا۔ ایک نئے اور انجان ماحول اور جگہ پر نیند آنابہت دشوار تھا۔ ساری رات اس نے سوتے جاگتے گزاری تھی۔ کچھ دیر آنکھ لگی تھی کہ اذان کی آواز پر پھر سے جاگ گیا۔ وہ لان میں آ گیا لیکن وہاں آ کر اسے شدید حیرت ہوئی تھی۔ گھر کے سب لوگ جاگ چکے تھے۔ خواتین نماز ادا کر رہی تھیں۔ دادا جی بھی شاید مسجد سے آئے تھے، ان کے ہاتھ میں تسبیح تھی۔ وہ انجانی سی شرمندگی کا شکار ہو گیا۔ ایک وہ لوگ تھے جو شاید سالوں نماز ادا نہیں کرتے تھے، صرف عید کی نماز تھی جو وہ لوگ ادا کرتے تھے۔ ڈیڈ واحد انسان تھے ان کے گھر میں جنہیں اس نے نماز ادا کرتے دیکھا لیکن وہ بھی باقاعدہ نہیں اور یہاں…. اُف خدایا! ہم کیسے مسلمان ہیں؟ اس کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ فریش ہو کر اس نے وضو کیا اور نماز ادا کرنے مسجد گیا۔ واپسی پر اس کے دل کو بہت سکون ملا تھا۔ حویلی کے اندر قدم رکھا تو داداجی کی آوازمیں قرآن پاک کی تلاوت اس کی روح تک میں اُتر گئی۔ وہ ان کے پاس ہی پلنگ پر آبیٹھا۔ گھر کی خواتین بھی قرآن پاک پڑھ رہی تھیں لیکن داداجی باآواز بلند تلاوت کر رہے تھے جو اس کے دل و دماغ کو پُرسکون کر گئی تھی۔

”اور پُتر! رات کو نیندتو اچھی آئی نا!“ قرآن پاک رکھ کر داداجی نے پوچھا۔

”جی بس…. آ ہی گئی تھی۔“ حالانکہ وہ رات بھر سو نہ سکا تھا پھر بھی وہ انہیں تسلی دے گیا۔

”کشف تو ہمارے ماحول میں یوں رچ بس گئی تھی جیسے وہ ہمیشہ سے ہمارے ساتھ ہو۔ کئی دن اس کے جانے کے بعد حویلی میں سونا پن رہا۔ بڑی پیاری دھی ہے کشف….!“ ان کے لہجے میں کشف کے لیے بہت پیار تھا۔

”وہ بھی آپ لوگوں کو بہت یاد کرتی ہے۔“

”اس سے مل کو یوں لگا جیسے شاہ نواز کی نو عمری لوٹ آئی ہو۔ وہ ہی عادتیں، ویسا ہی مزاج، دوسروں میں گھل مل جانے والی…. مگر تیرا مزاج کچھ الگ ہے۔ لگتا ہے تجھے بھی ہم اچھے نہیں لگے نا!“

”تجھے بھی“ کا مطلب وہ اچھی طرح سمجھتا تھا۔

”ارے نہیں دادا جی! ایسا نہیں ہے، بس میری طبیعت ہی ایسی ہے۔ میں خاموش رہتا ہوں نا اس لیے۔“ یہ سچ تھا کہ وہ کشف کی طرح جلد گھلنے ملنے والا بندہ ہرگز نہیں تھا۔ وہ تو اپنی ذات میں مگن، سنجیدہ مزاج، کم گو سا بندہ تھا اور پھر ظاہر ہے یہاں تو وہ زندگی میں پہلی بار آیا تھا۔

”مجھے لگا شاید تجھے بھی ہم اور ہمارا ماحول اچھا نہیں لگا۔“

”ایسی کوئی بات نہیں دادا جی! آپ سب لوگ بہت اچھے ہیں، میں خوش ہوں آپ لوگوں سے مل کر۔“ اس نے مسکرا کر کہا۔ ان کی باتوں کے درمیان ہی ملازمہ نے ٹیبل وہاں رکھ کے ناشتا لگا دیا تھا۔

”چل پُتر! ناشتا کرتے ہیں۔“ داداجی نے کہا تو وہ بھی ناشتے کی طرف متوجہ ہوا۔ پراٹھے، لسی، مکھن اتنا سب کچھ ناشتے پر دیکھ کر وہ چپ نہ رہ سکا۔

”داداجی! میں اتنا بھاری ناشتا نہیں کرتا۔“

”ارے بچے! کچھ نہیں ہوتا۔ تُو نے کون سا روز آ کرکھانا ہے یہ…. چل کھا لے!“ دادی بھی آ گئیں۔

”نو دادی اماں! پلیز مجھے صرف چائے منگوا دیں، میں مزید کچھ نہیں لوں گا۔“

”خالی پیٹ چائے مت پینا، نقصان دیتی ہے۔“ دادی ابھی اسے ہدایت کر رہی تھیں کہ ملازمہ ٹرے سنبھالے آئی اور اس کے سامنے رکھ دی۔ سلائس، آملیٹ اور چائے۔

”شکریہ!“ وہ مسکرا دیا۔ ناشتے کے بعد وہ حماد کے پاس اسپتال چلا گیا۔ چاچو کی وہ ہی حالت تھی۔

”حماد! تم ڈاکر ہو، سمجھدار ہو پلیزمزید دیر مت کرو، چاچو کو لے کر ہمارے ساتھ چلو۔“

”احزاز! میرے اسپتال میں کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے اور رہی ڈاکٹرز کی بات تو ان شاءاللہ دس بجے تک ڈاکٹرز یہاں پہنچ رہے ہیں ماموں کے آپریشن کے لیے، ملک کے بہترین ڈاکٹرز ہیں وہ۔“

”اوکے! جیسی تمہاری مرضی!“ اس نے مسکرا کر کہا۔ اسپتال دیکھ کر وہ اندازہ کر چکا تھا کہ اس اسپتال میں شہر کے بڑے سے بڑے اسپتال والی ہر سہولت موجود ہے۔ کہیں سے بھی یہ دیہات کا ایک عام اسپتال نہیں لگتا تھا جو حماد احسن کی محنت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ احزاز کے دل کی خواہش تھی کہ اس کے چاچو صحت یاب ہو جائیں لیکن ڈاکٹرز کے پہنچنے کے ہی چاچو کی حالت بہت بگڑ گئی، انہیں سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ حتیٰ کہ حماد خود بُری طرح پریشان ہو گیا تھا، وہ مسلسل فون پر ڈاکٹرز سے رابطہ کر رہا تھا۔ ڈیڈ چاچو کے قریب ہی کھڑے تھے۔

”بھائی جی! میرا کوئی پتا نہیں…. میری بچی….“

”حوصلہ رکھ عبدالجبار! تجھے کچھ نہیں ہو گا۔“ انہوں نے بھائی کو حوصلہ دیا۔ ڈاکٹرز کے پہنچتے ہی چاچو کو آپریشن تھیٹر لے گئے۔ ڈیڈ کی حالت اس وقت بہت خراب تھی۔

”ڈیڈ! ان شاءاللہ چاچو ٹھیک ہو جائیں گے۔“ اس کے اپنے دل میں عجیب سی مایوسی تھی مگر پھر بھی اس نے ڈیڈ کو حوصلہ دینا چاہا۔ بہتر کرنے والا تو اللہ ہے زندگی اور موت بے شک اس کے ہاتھ تھی انسان صرف دعا کر سکتا تھا جو وہ کر رہے تھے۔ دو گھنٹے بعد چاچو کو آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا مگر اس وقت بھی ان کی حالت وہ ہی تھی۔ حماد احسن کے چہرے پر آنے والی مایوسی اور دکھ و اضطراب نے اسے فوراً ہی سمجھا دیا تھا۔ شام کو کہیں جا کر انہیں ذرا سا ہوش آیا تھا تو انہوں نے صرف ڈیڈسے ملنے کی خواہش کی تھی۔ حالانکہ اس لمحے ان کی بیٹی سب سے زیادہ تڑپ رہی تھی ان کو دیکھنے کو…. پندرہ بیس منٹ گزر گئے۔

”حماد بچے! دیکھ تو عبدالجبار اب ٹھیک تو ہے نا!“ اس وقت تقریباً سب ہی وہاں موجود تھے۔

”نانو! آپ پلیز دعا کریں، ماموں بہت جلد اچھے ہو جائیں گے، میں دیکھتا ہوں۔“ اس سے پہلے کہ حماداندر جاتا ڈیڈ باہر آ گئے۔

”حماد بیٹا! اما جی، مدیحہ اور اباجی کو اندر لے جاﺅ‘ عبدالجبار سے مل لیں گے۔“ قبل اس کے کہ وہ لوگ ڈیڈ سے کچھ کہتے ڈیڈ خود ہی بول پڑے۔ پھر وہ سب تو چاچو کے پاس چلے گئے مگر احزاز اپنے ڈیڈ کو دیکھ رہا تھا۔

’کیا بات ہے ڈیڈ‘ آپ کیوں اتنے الجھ گئے ہیں؟“

”نو بیٹا! آپ کو ایسے ہی محسوس ہو رہا ہوگا۔ میں ٹھیک ہوں۔“ احزاز خاموش ہو گیا مگر رات کی تکان کی الجھن و فکرمندی حد سے سوا ہو گئی۔ اسے علم بھی نہ ہوتا اگر اچانک ہی اس کی آنکھ نہ کھلتی۔ رات کا جانے کون سا پہر تھا آج اسے کچھ نیند آئی تھی مگر پھرآنکھ کھل گئی۔ ڈیڈ اس کے ساتھ ہی تھے آج گیسٹ روم میں مگر ڈیڈ کو بیڈ پر نہ پا کر وہ اٹھ بیٹھا۔ حیرت اور پریشانی تب ہوئی جب اس نے ڈیڈ کو جائے نماز بچھائے گڑگڑاتے ہوئے دیکھا۔ جانے وہ کیا مانگ رہے تھے اپنے رب سے…. مگر ان کا آنسوﺅں سے تر ہوتا چہرہ احزاز سے نہ دیکھا گیا۔

”ڈیڈ….!“ اس نے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک گئے۔ جلدی سے چہرہ صاف کیا۔ جائے نماز سمیٹ کر رکھی۔ ”آپ ٹھیک ہیں ناں ڈیڈ!“

”میں ٹھیک ہوں، بس یوں ہی دل پریشان سا ہو رہا تھا، سوچا اپنے رب کے آگے جھکنے سے دل کو سکون ملے گا۔ بس اس لیے….“ اگر یہ سچ تھا تو پھر ڈیڈ نظریں کیوں چرا رہے تھے، جب سے وہ چاچو سے مل کر آئے تھے عجیب سے اضطراب میں تھے۔

”نہیں ڈیڈ! کوئی بات ضرور ہے جو آپ مجھ سے چھپا رہے ہیں۔ پلیز ڈیڈ! کیا مسئلہ ہے؟“ وہ ان کے قریب ہی بیٹھ گیا۔ ان کا چہرہ اس لمحے بھی آنسوﺅں سے بھیگا ہوا تھا۔

”احزاز! میں بدنصیب ہوں۔ میرے بھائی نے زندگی اور موت کی اس کشمکش میں مجھ سے صرف ایک خواہش کی ہے لیکن میں پوری نہیں کر سکتا۔ بس یہ ہی تڑپ مجھے سکون سے نہیں بیٹھنے دیتی ہے، میں کیا کروں؟“

”ڈیڈ! ایسی کیا خواہش ہے جو آپ پوری نہیں کر سکتے؟“

”میں کسی کو بھی مجبور نہیں کرنا چاہتا بچے! مگر اپنے بھائی کی آس بھری نظروں کا سامنا کرنے سے بھی کترا رہا ہوں۔“

”ڈیڈ! کیا آپ کے بھائی کی خواہش سے بڑی ہے وہ مجبوری جو آپ مان نہیں سکتے؟ اس وقت صرف چاچو کی فکر کریں۔ ایسی کیا مجبوری ہے وہ…. مجھے بتائیں تو….؟“

”احزاز تم میری مجبوری سمجھ لوگے میری بات مان لو گے؟ صرف تمہارے بس میں ہے، ہماری خواہش پوری کرنا، میرے بھائی کی خواہش کا پاس رکھنا۔“ ڈیڈ نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر امید بھری نظروں سے دیکھا۔

”خدا کے لیے ڈیڈ! مجھے صاف الفاظ میں بتائیں نا کہ ایسا کیا کہہ دیا ہے چاچو نے اور میرے بس میں کیا ہے؟ میں ان کے کیا کام آ سکتا ہوں؟“ وہ شدید الجھن کا شکار ہو گیا تھا۔

”احزاز! عبدالجبار نے مجھ سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی ہے کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی بیٹی کا گھر بستا دیکھنا چاہتا ہے۔ ڈاکٹرز نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اس کے پاس وقت نہیں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انہی دنوں میں مدیحہ کا نکاح ہو جائے۔“

”تو کیا ہوا؟ اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟“ اس نے ڈیڈ کو دیکھا۔

”احزاز! صرف مجھے بلا کر یہ بات کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اس کی خواہش ہے کہ مدیحہ کا نکاح تم سے کر دوں۔“ کتنی آس امید سے ڈیڈ نے اسے دیکھا تھا جو یہ سُن کر ہی اچھل پڑا تھا۔

”کیا…. نہیں…. نہیں…. یہ ناممکن ہے۔ پلیز ڈیڈ!

”میں جانتا ہوں احزاز! تبھی تو اللہ کے حضور معافی طلب کر رہا تھا کہ میں اپنے مرتے بھائی کی ایک خواہش تک پوری نہیں کر سکتا کتنا لاچار ہوں میں….“ وہ بُری طرح رو دئیے۔

”اُف خدایا! پلیز ڈیڈ!“ اس وقت احزاز شاہ کی حالت پاگلوں سے بدتر تھی۔ ایک طرف اس کا سارا مستقبل تھا تو دوسری طرف ڈیڈ اور چاچو کی خواہش۔ ”ایک انجان لڑکی…. دیہاتی سی…. میں ساری عمر ایسی لڑکی کے ساتھ کیسے گزار سکتا ہوں ڈیڈ!“

”احزاز بچے! میں مجبور ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں تمہارے ساتھ زیادتی کر رہا ہوں، اللہ گواہ ہے کہ میں تمہیں ساتھ لایا تھا مگر میرا ایسا ارادہ نہیں تھا مگر اپنے بھائی کی خواہش کے لیے میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں، مجھے مایوس مت کرنا۔“

”ڈیڈ!“ اس کے پیروں تلے سے گویا کسی نے زمین کھینچ لی اور وہ خود کو گہری پستی میں ڈوبتا محسوس کرنے لگا۔ ”یہ کیا کر رہے ہیں آپ….!“ ڈیڈ کے دونو ںہاتھ تھام کر اس نے لبوں سے لگائے۔ ”آپ کو اپنی پرورش پر اتنا بھی اعتبار نہیں ہے جو آپ مجھے یوں اپنی ہی نظروں میں گرا رہے ہیں؟ پلیز ڈیڈ! میں لاکھ خودسر اور ضدی سہی مگر اپنے ڈیڈ کا سر جھکنے نہیں دوں گا۔ آپ چاچو سے کہہ دیں۔ میں وہ ہی کروں گا جو آپ کی خوشی ہو گی۔“ اس لمحے اس کے سامنے صرف ڈیڈ تھے، صرف ڈیڈ اور ان کی محبت…. ڈیڈ نے اسے خود سے بھینچ لیا۔

اگلی صبح ہی اس کا اور مدیحہ کا نکاح ہو گیا۔ شاید چاچو اسی انتظار میں جی رہے تھے، شام میں ہی خالق حقیقی سے جا ملے اور حویلی میں کہرام مچ گیا۔ وہ چاچو کی وفات کے بعد دو دن رہا پھر ڈیڈ کو کچھ دن بعد آنے کا کہہ کر چلا گیا کیونکہ حویلی کے لوگوں کو ابھی ان کی ضرورت تھی۔

ض……..ض……..ض

کشف اس کے کاندھے سے لگی رو رہی تھی اور جانے وہ کس الجھن میں تھا کہ اس کے کافی دیر رونے کے بعد اسے احساس ہوا کہ کشف کافی دیر سے رو رہی ہے اور وہ اسے تسلی تک نہ دے سکا۔

”کشف پلیز! خاموش ہو جاﺅ، دیکھو زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ ہے نا! ہم تو بے بس ہیں، اب رو مت…. چاچو کے لیے دعا کرو۔“

”بھیا! ابھی تو ہم ملے تھے اپنوں سے…. پہلی بار میں نے اپنے چاچو کو دیکھا تھا اور دوبارہ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔“ وہ پھر رو پڑی۔

”مجھے علم ہے کشف! تم نے تو پھر بھی ان کے ساتھ اچھے دن گزارے ہیں،ہنستے مسکراتے، تمہاری یادوں میں وہ دن رہیں گے مگر میں ان سے پہلی بار ملا بھی تو اسپتال میں۔ جب وہ شدید تکلیف میں تھے۔ میرے پاس تو ان کے حوالے سے کوئی مسکراتی یاد بھی نہیں ہے۔“

”بھیا! ہم کو اتنا بڑا دھچکا لگا ہے تو مدھو کی حالت کیا ہو گی؟ ماں بچپن میں ہی اسے چھوڑ گئی تھیں اور باپ کا سایہ بھی نہ رہا، وہ تو مر مر کر جی رہی ہو گی۔ کاش ان لمحوں میں میں اس کے پاس ہوتی۔ میرا دل پھٹ رہا ہے یہ سوچ سوچ کر کہ وہ کس حال میں ہو گی۔ بھیا! آپ نے اسے تسلی دی تھی؟ وہ آپ کی کزن ہے، آپ نے….“ اس لڑکی کے نام سے ہی اسے شدید الجھن ہونے لگی تھی۔

”اوہو کشف! میں نے ایسا کچھ نہیں کیا، تمہیں زیادہ شوق ہے نا اس سے ملنے کا تو ڈیڈ کے ساتھ آ رہی ہے وہ۔ کرتی رہنا اس سے ہمدردی!“

”بھیا….!“ وہ ششدر رہ گئی۔ شاید احزاز کو بھی احساس ہو گیا تھا کہ جھنجھلاہٹ میں شاید وہ غلط زبان استعمال کر گیا ہے۔

”کشف پلیز! اس لڑکی کا ذکر میرے سامنے مت کرنا، میرا دماغ پھٹنے لگا ہے۔“ وہ غصے سے کہتا ہوا اٹھ گیا اور کشف کو حیران کر گیا لیکن یہ حیرت زیادہ دن نہ رہی۔ ایک ہفتہ کے بعد جب ڈیڈ آئے تو مدھو واقعی ان کے ساتھ تھی۔

”آ گیا تمہیں یاد…. اپنا گھر….“ بجائے اس کے کہ مما کسی افسوس کا اظہار کرتیں، انہو ںنے ڈیڈ کو دیکھتے ہی کاٹ دار لہجے میں کہا۔”اور یہ کون سا نیا تحفہ لائے ہو اب اپنے گاﺅں سے….؟“

”زبان سنبھال کر بات کو سلمیٰ! یہ میری بھتیجی ہے۔“

”تو….؟“ مما نے دوبدو کہا پھر تنقیدی نظروں سے مدھو کو دیکھا۔ ”کتنے دن کے لیے لائے ہو یہ دیہاتی میم….“

”یہ اب….“ وہ ابھی بات مکمل کر ہی رہے تھے کہ کشف آ گئی اور مدیحہ کو دیکھتے ہی اس سے لپٹ گئی۔ مدھو کا دل پھر بھر آیا اور وہ رو پڑی۔ کشف خود بھی رو رہی تھی۔ ڈیڈ نے ان دونوں کو چپ کرایا۔ مما اب تک اسے یوں دیکھ رہی تھیں جیسے وہ انسان ہی نہ ہو۔

”کشف! مدیحہ کو اپنے ساتھ لے جاﺅ تاکہ یہ فریش ہو جائے پھر اسے کھانا کھلاﺅ۔“

”اوکے ڈیڈ!“ کشف اسے اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے گئی۔

”کیا مصیبت پڑ گئی تھی تمہیں جو ایک اجڈ گنوار کو گھر اٹھا لائے…. حویلی میں اس کے لیے جگہ تنگ پڑ گئی تھی کیا؟ باپ کے مرنے کے بعد؟“

”تم سے بات کرنا انتہائی فضول ہے سلمیٰ بیگم! بس ایک بات کان کھول کر سن لو کہ مدیحہ اب یہیں رہے گا ہمارے ساتھ….“

”مگر کیوں شاہ نواز؟“

”اس لیے کہ اب وہ اس گھر کی بہو ہے، تمہارے بیٹے کی بیوی ہے۔“ یہ خبر کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہ تھی۔ لمحہ بھر کو سلمیٰ بیگم کچھ بھی بولنے کی سکت کھو بیٹھیں۔ احزاز شاہ بھی تبھی سٹنگ روم میں داخل ہوا تھا اور اپنے ڈیڈ کی بات سن چکا تھا۔ مما کی پھٹی پھٹی نظریں اب اس پر رک گئی تھیں۔ جو اپنی جگہ جیسے چور بن گیا تھا۔

”احزاز! شاہ نواز نے کشف نے جو کیا سو کیا مگر تم سے مجھے یہ امید نہیں تھی۔“

”مجھے غلط مت سمجھیں مما! یہ نکاح میری خوشی یا خواہش نہیں، مجبوری بن گیا تھا۔“

ڈیڈ۔ نے تاسف سے بیٹے کو دیکھا، وہ اتنا جانتے تھے کہ احزاز اس نکاح سے خوش نہیں ہے مگر اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنی ماں کے سامنے یوں خود کو بری الذمہ قرار دے گا۔

”یہ ڈیڈ اور چاچو کی خواہش تھی….“ وہ مزید صفائی دے رہا تھا۔

”اس انسان نے پہلے میری اور اب میرے دونوں بچوں کی زندگی برباد کی ہے۔ میرے ہی باپ کی غلطی ہے یہ جو مجھے اب تک سہنا پڑ رہا ہے اور جانے کب تک اور سہنا پڑے گا۔ لیکن احزاز! میں تیری زندگی برباد نہیں ہونے دوں گی۔ اس لڑکی کو میں ہرگز اپنی بہو تسلیم نہیں کروں گی۔ میرا نام بھی سلمیٰ نہیں جو شاہ نواز تمہاری اس دیہاتی میم کو میں نے دھکے مار کر باہر نہ نکالا۔“ وہ بُری طرح چیخ رہی تھیں۔ احزازانہیں خاموش کروا رہا تھا لیکن وہ ڈیڈ کو بھی دیکھ رہا تھا کہ وہ بھی زور سے بول پڑے تو ان کی طبیعت بگڑ جائے گی۔ مگر اس وقت اسے ڈیڈ کی آنکھوں میں صرف شکست نظر آئی تھی۔ انہیں احزاز سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ یوں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر کے اپنے باپ اور اس لڑکی کو بے مول کر دے گا، جس کی ساری زندگی اب اس سے وابستہ تھی۔

”مما پلیز! حوصلہ کریں۔“

”شکریہ بیٹا! تم نے کم از کم میرے مرحوم بھائی کے سامنے مجھے شرمندہ ہونے سے بچایا، تمہارا یہ احسان میں عمر بھر نہیں بھولوں گا۔ لیکن اب ساری عمر میں مدیحہ سے نظریں ملانے کے قابل بھی نہیں رہا کیونکہ میں تو اسے تمہارے نام کے حوالے سے اس گھر میں لایا تھا اور تم نے….“ مزید کچھ کہے بنا وہ اپنے کمرے میں چلے گئے۔

ض……..ض……..ض

”مدیحہ! یہ سچ ہے؟ اُف خدایا! میں بہت خوش ہوں۔“ یہ خبر سن کر وہ واحد انسان تھی گھر میں جو بہت خوش تھی۔ ”تم میری بھابی ہو؟ واہ….!“ اس نے مدیجہ کو گھما ڈالا تھا۔ دو دن ہو گئے تھے مدیحہ کو یہاں آئے وہ اس بات کا اندازہ اچھی طرح لگا چکی تھی کہ آنٹی اور احزاز کے لیے اس کا وجود کتنا حقیر اور بے معنی تھا۔

”اگر وہ مجھے دل سے نہیں اپنا سکتا تھا تو منع کر دیتا…. پتا نہیں کیوں بابا نے…. یہ…. سب کیا….“ اس نے گہری سانس خارج کی۔ کشف اس کی اس کشمکش سے واقف تھی۔

”فکر مت کرو مدھو! دھیرے دھیرے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ بھیا! تمہارے لیے اور تم ان کے لیے قطعی انجان ہو مگر جب ایک دوسرے کے قریب رہو گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میرے بھیا بہت اچھے ہیں بس تھوڑا وقت لگے گا تمہیں….“

”تم ٹھیک کہتی ہو کشف!“ اس نے پلکوں سے موتی صاف کیے۔

”پلیز مدھو! مما کی باتیں دل پر مت لینا۔“

”کشف! میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ انہیں ہم سب سے کتنی نفرت ہے۔ پھر یہ تو ان کے لیے ایک شاک ہی ہے۔ میں اتنی ناسمجھ تو نہیں کہ سمجھ نہ سکوں۔ تم بے فکر رہو، جب میں نے یہیں رہنا ہے تو ہر رویہ اور ہر قسم کی بات سننے کا حوصلہ بھی پیدا کر لوں گی۔“ مدیحہ نے سچائی سے کہا تو کشف کو شرمندگی نے گھیرلیا۔

”اچھا تم اٹھو…. اپنا حلیہ درست کرو پھر میرے ساتھ شاپنگ کے لیے چلو۔ مجھے تمہارے لیے تمہاری شادی کا گفٹ بھی لینا ہے۔“

”میرا دل نہیں چاہ رہا کشف!“

”ارے میں تم سے پوچھ کب رہی ہوں، میں تمہیں آرڈر کر رہی ہوں، اوکے….؟ پانچ منٹ میں تیار ہو کر نیچے آ جاﺅ۔“ کشف نے اسے زبردستی واش روم میں دھکا دیا۔ وہ مجبوراً تیار کو ہر جب باہر نکلی تو احزازشاہ سے سامنا ہو گیا۔

”تم میرے روم میں…. کیا لینے آئی تھیں؟“

”وہ کشف نے مجھے زبردستی….“ اس قدر سخت لہجہ اور لفظوں پر یکدم اس کا لہجہ اور آنکھیں بھر آئی تھیں۔ مگر شاہ نواز نے جو اسی وقت وہاں آئے تھے فوراً اس کا دفاع کیا۔

”تمہارا اور اس کا روم اب الگ تو نہیں ہے احزاز! وہ تمہاری بیوی ہے اور….“

”مگر ڈیڈ….“ اس نے درمیان میں ہی ڈیڈ کو ٹوکا۔ ”آپ جانتے ہیں کہ میں اپنی چیز انجان لوگوں سے شیئر نہیں کرتا۔“

”جس کے ساتھ زندگی شیئر کی ہے اس کے ساتھ ہر چیز شیئر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“

”پلیز ڈیڈ! یہ میرے بس سے باہر ہے۔“ اس نے ایک اچٹتی نظر اس پر ڈالی اور ڈیڈ کو جواب دے کر کمرے میں چلا گیا۔

”آئی ایم سوری مدیحہ بیٹا! شاید میں ہی تمہارا قصوروار ہوں مگر بیٹا! مجھے یقین ہے دھیرے دھیرے سب ٹھیک ہو جائے گا۔“ مدیحہ کی آنکھوں کی نمی ان سے چھپ نہیں سکی تھی۔

”نہیں بابا!“ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا پھر خود ہی لب کچل گئی۔

”مدھو!“ انہوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ دھرا۔ ”میں تمہارے لیے بابا ہی ہوں تمہارا…. مجھے خوشی ہو گی اگر تم مجھے بابا کہوں گی۔“

”تھینک یو!“ وہ یک دم ان کے سینے سے لگ گئی اور بے اختیار رو پڑی۔

ض……..ض……..ض

کچھ دن تو لگے مگر پھر وہ اس گھر کی روٹین کی عادی ہو گئی تھی۔ کشف کی پوری کوشش ہوتی کہ اسے بور نہ ہونے دے۔ بابا آفس کے بعد سارا وقت اس کے ساتھ ہی گزارتے تھے۔ آنٹی کی مصروفیات تمام گھر سے الگ تھیں۔ وہ رات کے دوسرے پہر گھر آتی تھیں اور دوپہر کو اٹھتیں، ناشتے کے بعد پارلر چلی جاتیں۔ فارغ ہوتیں تو ان کی فرینڈز گھر پر ہی آ جاتیں۔ ایسے میں وہ خود کو کمرے میں بند کر لیتی تھی۔ ویسے بھی اس کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ کم سے کم ان کے سامنے آئے۔ رہا احزاز تو وہ سامنے ہو تو اسے اس کے ہونے نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا تھا۔ صبح ناشتے کے بعد وہ آفس جاتا، شام کو آتا چائے وغیرہ کے بعد باہر نکل جاتا پھر رات گئے لوٹتا تھا۔دھیرے دھیرے وہ اس کی ساری روٹین سمجھ گئی تھی اور اب اس نے بوریت سے بچنے کا طریقہ بھی ڈھونڈ لیا تھا۔ وہ گھر کے مختلف کام اپنے ہاتھوں سے کرتی تھی۔ خاص کر احزاز کے سارے کام…. اس کے کپڑے پریس کرنا، پالش کرنا، اس کے کمرے کی صفائی، حتیٰ کہ اس کے لیے کھانا بھی وہ خود پکاتی تھی حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ یہ سب کر کے بھی اسے کوئی صلہ نہیں ملے گا۔ احزاز کی نظر میں وہ آنٹی کی طرح تھی قابل نفرت…. احزاز اسے گھر میں اِدھر اُدھر نوکروں کی طرح کام کرتے دیکھ کر مزید چڑ جاتا تھا۔ لائف پارٹنر کے حوالے سے اس نے کیا سوچا تھا اور ڈیڈ نے یہ جاہل، گنوار اس کے لیے منتخب کی تھی۔ اسے تو پڑھی لکھی، قدم سے قدم ملا کر چلنے والی بیوی چاہیے تھی۔ بااعتماد اور اس کی تمام تر سوشل ایکٹیویٹیز میں حصہ لینے والی…. جس کو اگر اپنے فرینڈز سے ملواتا تو شرمندگی نہ ہوتی اور اب وہ کس منہ سے بتائے گا سب کو کہ وہ شادی کر چکا ہے، وہ بھی ایک دیہاتی اجڈ گنوار سے۔ جسے نوکروں والے سارے کام آتے ہیں۔

”یہ ہے اس کی لائف پارٹنر….!“ وہ شدید الجھن کا شکار ہو جاتا تھا مگر ڈیڈ کا کیا کرتا، صرف ان کی خاطر وہ اسے برداشت کرنے پر مجبور تھا اور اسی رات ڈیڈ نے اس سے کہا۔

”میں تمہاری شادی کا باقاعدہ اعلان کرنا چاہتا ہوں۔ تم خود دن سلیکٹ کر لو۔“

”ڈیڈ یہ ضروری ہے…. میرا مطلب ہے کہ اس سب کی کیا ضرورت ہے؟“ ڈیڈ نے حیرت سے اس کی شکل دیکھی۔

”احزاز تمہاری شادی کی پارٹی ضروری نہیں؟ تم اپنے دوستوں کو یہ بتانا نہیں چاہتے کیا؟“

”نو ڈیڈ! میرا مطلب ہے خود ہی سب کو پتا چل جائے گا۔“

”میں فیصلہ کر چکا ہوں احزاز تم اور تمہاری ماں سن لے، بہتر ہو گا کہ کوئی بھی بدمزگی نہ ہو۔“

”مما تو جمعہ کو اسلام آباد جا رہی ہیں۔“ اس نے اطلاع دی۔

”تو ٹھیک ہے، اتوار کو رکھ لیتے ہیں۔“

”جو آپ بہتر سمجھیں۔“ اسے ناچار ماننا پڑا۔

جب دل کی مرضی ہی نہیں تھی تو پھر…. مما کو پتا چلا تو انہوں نے مدھو کو بہو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

”تم تسلیم نہ کرو مگر حقیقت بدل نہیں سکتی، مدیحہ اب اس گھر کی بہو ہے۔“

”کم از کم میرے بیٹے کے قابل تو بہو لاتے شاہ نواز! لڑکی تو ہمارے گھر کے نوکروں سے بھی گئی گزری ہے۔“

”خاموش رہو سلمیٰ بیگم!“ ڈیڈ نے انگلی اٹھاکر انہیں چپ کرایا۔

مما کی ناں ناں کے باوجود گھر میں پارٹی کی تیاریاں زور و شور سے ہو رہی تھیں۔ شاہ نواز نے اپنے تمام بزنس سے وابستہ دوستوں کو مدعو کیا تھا اور احزاز کے حلقہ ¿ احباب کو بھی انہوں نے خود مدعو کیا تھا۔

اتوار کی شام ان کے گھر میں چہل پہل کا سماں تھا۔ مدیحہ کو کشف نے بہت خوبصورت دلہن کا روپ دیا تھا۔ ڈیڈ نے احزاز سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مہمانوں کے سامنے مِس بی ہیو نہیں ہونا چاہیے۔ سو مجبوراً اسے اپنے ساتھ مدیحہ کو لیے ہر ہر شخص سے تعارف کرانا تھا۔

”واہ یار! بھابی تو بہت پیاری ہیں، تم تو بہت اسمارٹ نکلے۔“

”بہت خوب!“

”حسین ترین!“

یہ الفاظ اس کے لیے حیران کن تھے، اس کے حلقہ احباب میں تمام لوگوں نے اس کی تعریف کی تھی۔ مما کے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا یہ سب کرنا۔ ان کی فرینڈز ان سے گلہ کر رہی تھیں۔

”سلمیٰ! ہم خفا ہیں تم سے، تم نے ہم سے چھپایا اپنی بہو سے ملوایا بھی نہیں؟“

”دراصل یہ سب بہت اچانک ہوا، کسی کو بتا بھی نہ سکے اور یہ پارٹی ہم نے اسی لیے تو دی ہے نا!“ انہوں نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا۔

”ماشاءاللہ تمہاری بہو بہت پیاری ہے….“ ان کی قریبی دوست نے دور کھڑے احزاز اور مدیحہ کو توصیفی نظروں سے دیکھ کر کہا۔ ”بہت خوب صورت جوڑا لگ رہا ہے۔“

”شکریہ!“ انہوں نے نظر گھمائی تو اس وقت وہ گنوار واقعی میک اَپ کے باعث اچھی لگ رہی تھی۔ کشف بھی اسے بہت سراہ رہی تھی۔

”مدیحہ! آج تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔“

”تھینک یو!“

”ہے نا بھیا! مدھو پیاری لگ رہی ہے نا!“ کشف نے احزاز کو شرارتی نظروں سے دیکھا۔ وہ لب بھینچ گیا۔

”پتانہیں!“ جہاںاس نے کشف کو حیران کیا تھا، وہیں اس کی ساری خوش فہمی بھی خاک میں ملا دی تھی۔ وہ جھنجلا کے دور کھڑے اپنے دوست کی طرف بڑھ گیا۔ پارٹی رات گئے تک جاری رہی مگر مدیحہ تھک گئی تھی۔ ایک تو اس نے اتنے بھاری کپڑے زندگی میں پہلی بار پہنے تھے، اتنی جیولری اور میک اَپ سے اب اسے الجھن ہونے لگی تھی تب ہی جب اس نے دیکھا کہ سب اِدھر اُدھر مصروف ہیں تو وہ خاموشی سے اندر کی طرف بڑھی تھی مگر قسمت….! راستے میں ہی احزاز مل گیا۔

”تم کہاں جا رہی ہو؟“

”وہ…. میں….“ وہ گڑبڑا گئی۔ احزاز نے بے ارادہ نظر بھر کر اسے دیکھا تھا پل بھر کو وہ نظریں ہٹانا بھول گیا۔ سرخ اور گولڈن لباس اسکی سفید رنگت پر دمک رہا تھا۔ گہرا میک اَپ اور جیولری پہنے وہ دلہن کے روپ میں کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔

”میں تھک گئی ہوں، آرام کرنا چاہتی ہوں۔“

”یہ پارٹی ڈیڈ نے تمہارے اعزاز میں دی ہے میڈم! اور تمہیں نخرے سوجھ رہے ہیں۔“

”پلیز میں مزید اتنے بھاری ڈریس میں نہیں گھوم سکتی۔“ وہ التجائیہ انداز میں بولی شاید وہ خود بھی اندازہ کر سکتا تھا کہ کئی گھنٹے اتنا وزن اٹھائے گھومنا مشکل ہے۔

”اوکے!“ سر جھٹک کر جیسے اس پر احسان کرتا وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا اور مدیحہ نے اندر جا کر سکھ کا سانس لیا۔ کپڑے تبدیل کیے، جیولری، میک اَپ، صاف کر کے وہ سکون سے لیٹی تو پل بھر میں نیند آ گئی۔ جب تمام مہمانوں سے فارغ ہو کر وہ کمرے میں آیا تو اپنے بیڈ پر محترمہ کو سوتا پا کر جی جان سے جل گیا۔

”ڈیڈ بھی نا!“ اسے پتا تھا کہ یہ مدھو کی ہمت نہیں ہو سکتی تھی۔ صرف ڈیڈ کے کہنے پر وہ اس کے کمرے کی شکل دیکھتی تھی۔ وہ تیزی سے لپکا تو اسے اٹھانے تھا مگر بے سدھ سوتا دیکھ کر دل نہیں چاہا اور اس وقت تماشا کرنا بھی بے کار ہے۔ ڈیڈ سے کچھ کہوں گا تو مما الگ ہنگامہ کھڑا کر دیں گی۔ وہ تکیہ اٹھا کے صوفے پر آ گرا۔

ض……..ض……..ض

رات دیر سے سونے کے باوجود صبح انجانی سی آواز پر آنکھ کھل گئی تھی اس کی۔ مدیحہ جائے نماز بچھائے فجر کی نماز ادا کر رہی تھی اور اس کی چوڑیوں کی چھن چھن نے اسے ڈسٹرب کیا تھا نیند سے۔ وہ اٹھ کر بیڈ پر چادر تان کر لیٹ گیا، مگر پھر بھی اسے نیند نہیں آئی۔ نماز کے بعد اس نے قران پاک کی تلاوت کی، اس کے بعد کمرے میں بے ترتیب چیزیں درست کیں۔ احزاز کے کپڑے، جوتے، تولیہ…. ہر چیز تیار کر کے رکھی پھر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور بال سلجھانے لگی۔ احزاز نے بنا دوپٹے کے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔ اس کے بال بہت خوبصورت تھے، لمبے سیاہ بال جنہیں چوٹی کی شکل میں گوندھ کر اس نے پھر سے دوپٹا سر پر جمایا تھا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ وہ سونا چاہتا تھا مگر نیند اُڑ گئی تھی لہٰذا اٹھ کر واش روم میں گھس گیا۔ تیار ہو کر نیچے آیا تو وہ ڈیڈ اور کشف کے ساتھ بیٹھی ناشتا کر رہی تھی۔

”گڈ مارننگ!“ کہتا وہ بھی ان کے ساتھ ناشتے کے لیے ڈائننگ ٹیبل پر آ گیا تھا۔

”ڈیڈ! آپ آفس نہیں جائیں گے؟“ ڈیڈ کو عام سے حلیے میں دیکھ کر اس نے پوچھا۔

”نو بیٹا! آج کچھ تھکن محسوس کر رہا ہوں، آرام کروں گا۔“

”ڈیڈ! پھر آپ آج مدھو کو لے کر اسپتال آجائیے گا۔ میں اسے اپنے کولیگز سے ملواﺅں گی اور وہیں سے ہم گھومنے جائیں گے۔ آج ڈنر باہر کریں گے۔ یہ بے چاری تو گھر میں بور ہوجاتی ہو گی۔“ کشف ڈیڈ سے مخاطب ہوئی۔

”نہیں بابا! میں گھر میںٹھیک ہوں۔“ مدیحہ دھیمے لہجے میںبولی تھی۔ احزاز نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سر جھٹک گیا۔

”کشف! تم کہاں اپنا ٹائم ضائع کرو گی۔ انہیں گھر کے کام کرنے کی عادت ہے اور بس….“ وہ بھناتا ہوا اٹھا اور اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل گیا۔ مدھو لب کچلنے لگی۔

”مدھو! تم ان کی بات کا بُرا مت مانا کرو۔“ کشف نے اس کی اُتری صورت دیکھی تو کہا۔

”کشف! تم جاﺅ تمہیں دیر ہو رہی ہے، میں مدیحہ سے بات کروں گا۔“ ڈیڈ نے کہا وہ مدھو کا رخسا تھپتھپاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ ناشتے کے بعد بابا اسے اپنے ساتھ اسٹڈی روم لے آئے۔ ”مدیحہ! یہاں بیٹھو….“ اسے اپنے پاس بٹھایا، انہوں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر تھپکا۔ ”بچے! میں جانتا ہوں، تم دونوں کے درمیان آج جو رشتہ ہے، وہ صرف ہماری مرضی سے ہے۔ تم دونوں کی خوشی سے نہیں لیکن بیٹا! اب جو ہو گیاو ہ ہو گیا۔ اب یہ تمہارے ہاتھ میں ہے کہ تم دونوں یہ فاصلہ کس طرح ختم کرتے ہو۔ یہ سچ ہے کہ گھر بسانے کے لیے عورت کو سب سے زیادہ قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ بچے! احزاز کے اور تمہارے مزاجوں میںبہت فرق ہے اور یہ فرق مٹانے کے لیے تمہیں خود کو بدلنا ہو گا۔“

”بابا! میں کوشش تو کرتی ہوں مگر مجھے لگتا ہے کہ میں ان کے معیار پر پوری نہیں اتر سکتی۔“

”نہیں میرے بچے! مایوس نہیں ہوتے۔ وہ بظاہر پتھر بنا رہتا ہے مگر اندر سے بہت نرم ہے۔ بیٹا دیکھو! وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز بدل جاتی ہے، مجھے امید ہے کہ اگر تم کوشش کرو تو احزاز بھی بدل جائے گا۔“ انہوں نے پیار سے سمجھایا۔ ”اسے یہ سادہ سی ہر وقت گھر کے کام کرنے والی بیوی نہیں چاہیے۔ تم جان گئی ہونا تو سب سے پہلے خود میں بدلاﺅ، لاﺅ۔ اپنا رہن سہن بدلو، ڈریسنگ بدلو۔ خود کو ہر وقت اس حلیے میں مت رکھا کرو۔ اپنی آنٹی کی طرح تیار رہا کرو۔ مصروفیت صرف گھر کے کام میں نہیں ہوتی…. اپنے لیے کوئی تفریح ڈھونڈو، خود کو مصروف رکھو بس احزاز کا خیال رکھنا تمہاری ذمہ داری ہے، وہ مت بھولنا۔“

”پر بابا! میں یہاں کسی سے واقف نہیں ہوں، یہ شہر، یہاں کے لوگ میرے لیے نئے ہیں۔“

”مجھے پتا ہے، یہ ہی اعتماد تو میں چاہتا ہوں کہ تمہارے اندر پیدا ہو کہ تم نئے ماحول اور نئے لوگوں میں خود کو ایڈجسٹ کرو کہ لوگ تم پر رشک کریں۔ احزاز کو پانا مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔ اب میں تہیں بتاتا ہوں کہ تم کیسے خود کو اس کی پسند کے مطابق ڈھال سکتی ہو اور جو تم چاہتی ہو کہ احزاز میں یہ کمی یا خامی ہے وہ دور ہو جائے تو وہ بھی تم کر سکتی ہو۔ اب تم میری باتیں دھیان سے سنو….“ انہوں نے مدیحہ کو پیار سے سمجھایا۔ ساتھ ساتھ اسے وہ تمام باتیں بھی بتائیںجن سے ان کی زندگی بدل سکتی ہے۔

ض……..ض……..ض

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ …آخری قسط نمبر 20

آخری قسط نمبر 20 درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ – ”تو تم مجھے چھوڑ کر جا رہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے