سر ورق / ناول / ساڈا چڑیا دا چنبا…نفیسہ سعید …قسط نمبر7

ساڈا چڑیا دا چنبا…نفیسہ سعید …قسط نمبر7

ساڈا چڑیا دا چنبا

نفیسہ سعید

قسط نمبر7

سسکی کی آواز پر آیت کریمہ پڑھتی ہوئی شبنم نے سر اٹھایا، ردا ہاتھ میں تسبیح لئے بری طرح سسک رہی تھیں، شبنم کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا وہ تیزی سے آگے بڑھیں اور روتی ہوئی ردا کو اپنے سینے سے لگا لیا۔

”صبر کرو ردا اللہ جو کرے گا بہتر کرے گا اس سے اچھے کی امید رکھو انشاءاللہ اچھا ہی ہو گا، وہ غفورالرحیم جلد ہی ہماری بچی کو ہم سے ملائے گا۔“

ردا کی کمر سہلاتے ہوئے انہوں نے آہستہ آہستہ سمجھایا۔

”امی یہ پانی پلائیں انہیں۔“

رحاب پانی کا گلاس لئے آن کھڑی ہوئی بڑی مشکل سے ردا نے دو تین گھونٹ حلق سے نیچے اتارے، آج تیسرا دن تھا جب سے انہیں سکندر نے فون کرکے اطلاع دی تھی کہ نبیرہ اس کا بچہ لے کر گھر سے بھاگ گئی ہے اس دن سے ان کا کھانا پینا سب چھٹ گیا تھا یہاں تک کہ انہیں خوف کے سبب رات بھر نیند بھی نہ آتی تھی ”جانے نبیرہ دیار غیر میں کس حال میں ہو گی“ اس خوف نے ان کی بھوک پیاس سب ختم کر دی تھی۔

”پتا نہیں میری بچی کہاں اور کس حال میں ہو گی کسی کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں نہ بھائی صالح کچھ جانتے ہیں اور نہ ہی ربیعہ، مجھے تو لگتا ہے اس خبیث سکندر نے ہی اسے کہیں غائب کر دیا ہے اللہ میری بچی کی حفاظت فرمائے۔“

”افوہ امی کیوں ایسی باتیں منہ سے نکال رہی ہیں، آنٹی ٹھیک کہہ رہی ہیں اچھے کی امید رکھنے سے بھی اچھا ہوتا ہے۔“ ان کا آخری جملہ سنتے ہی شفا تڑپ کر بولی۔ ردابنا کوئی جواب دیئے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے پھر سے آیت کریمہ کے ورد میں مشغول ہو گئیں اچانک نبیرہ کی گمشدگی کی خبر نے ان کے گھر پر جو قیامت ڈھائی تھی اس کے اثرات آج چار دن گزر جانے کے بعد بھی موجود تھے۔

QQQQ

”تم کسی بھی طرح آج پانچ بجے شیتل ڈپارٹمنٹل سٹور پرمجھ سے ملاقات کرو۔“ شوبھا کے اس مسیج نے نبیرہ کے جسم میں زندگی کی لہر دوڑا دی ابھی صرف بارہ بجے تھے ویسے بھی ابوذر کے بغیر تنہا وہ گھر سے کہیں بھی جا سکتی تھی اس پر صرف ابوذر یا حماد کو باہر لے جانے پر پابندی تھی اور حماد کو اس سے اس قدر بدظن کر دیا گیا تھا وہ کبھی بھی اس کے ساتھ باہر نہ جاتا تھا۔ البتہ ابوذر تھوڑا رو دھوکر اپنی دادی کے پاس رہ جاتا ٹھیک پانچ بجے جب وہ تیار ہو کر باہر نکلنے لگی تو یکدم فاطمہ حماد کے ساتھ اس کے سامنے آن کھڑی ہوئیں وہ ٹھٹک کر رک گئی۔

”میں ذرا سامنے مارکیٹ تک جا رہی ہوں، کچھ سامان لینا ہے اپنے لئے۔“

”میری طرف سے تم جہاں مرضی جاﺅ ہمیں کیا لینا دینا۔“ انہوں نے نخوت سے ناک چڑھاتے ہوئے کہا۔

”بس یہ ابوذر مجھے دے جاﺅ یہ تمہارے ساتھ باہر نہ جائے گا۔“ یہ وقت بحث کرنے کا نہ تھا لہٰذا اس نے خاموشی سے ابوذر کا ہاتھ چھوڑ دیا جسے فوراً سے پیشتر حماد نے تھام لیا وہ خاموشی سے باہر نکل آئی جب اسے حماد نے پکارا۔

”آپ مارکیٹ جا رہی ہو؟“ چلتے چلتے اس نے پلٹ کر دیکھا حماد ابوذر کا ہاتھ تھامے اس سے سوال کر رہا تھا فاطمہ غالباً اندر جا چکی تھی۔

”ہاں کیوں تمہیں کچھ چاہئے!“ وہ بے اختیار واپس پلٹ آئی۔

”ایک رینبو آئس کریم لے آئیے گا۔“ یہ کہہ کر وہ رکا نہیں بلکہ تیزی سے اندر کی جانب بھاگ گیا، پانچ سال میں پہلی کوئی فرمائش تھی جو حماد نے اس سے کی تھی اور وہ بھی اس وقت جب وہ اسے چھوڑ کر جانے والی تھی نبیرہ کی آنکھیں پانی سے بھر گئیں، اپنے ذہن سے تمام خیالات کو جھٹکتی وہ اگلے پانچ منٹ بعد ”شیتل“ پہنچ چکی تھی جہاں شوبھا پہلے سے ہی موجود تھی۔

”تھینک گاڈ تم آگئیں ورنہ میں تو سمجھی تھی پتا نہیں تمہاری منحوس ساس تمہیں نکلنے بھی دے یا نہیں۔“ اسے دیکھتے ہی شوبھا تیزی سے اس کے قریب آئی۔

”میں نے تمہاری رجسٹریشن WAO میں کروا دی ہے۔“ بنا تمہید کے اس نے بتایا۔

”واقعی میں….“ اسے یقین بھی نہ آیا۔

”ہاں اور یہ سب تمہیں بتانے میں تمہارے گھر اس لئے نہیں آرہی تھی کہ کل کو جب تم یہاں سے نکلو تو یہ گھٹیا لوگ مجھے تنگ نہ کریں بہرحال میں نے آنٹی نوما کو تمہارا نمبر دے دیا ہے وہ جلد ہی تمہیں کال یا مسیج کریں گی خیال رکھنا اور یہ پیپر رکھو اس میں وہاں کا نمبر اور ایڈریس سب لکھا ہوا ہے، تم جب یہاں سے نکلو تو کسی ٹیکسی کو ہائیر کر لینا وہ تمہیں اس ایڈریس پر با آسانی پہنچا دے گی، یہ پیپر بہت سنبھال کر رکھو کہیں مس نہ کر دینا ایسا نہ ہو تمہارے جانے کے بعد اس کے ذریعے یہ لوگ تم تک پہنچ جائیں۔“ نبیرہ نے کاغذ کے ٹکڑے کو کھول کر دیکھا، اس پر درج ایڈریس پر نظر ڈالی اور اسے اپنے ہینڈ بیگ کی اندرونی جیب میں تہ کرکے رکھ دیا۔

”شوبھا میں تمہارا یہ احسان ساری زندگی یاد رکھوں گی۔“ شوبھا کے ہاتھ تھام کر اس نے اپنے لبوں سے لگا لئے۔

”شوبھا ایک آوارہ لڑکی ہے اس سے ذرا دور رہا کرو۔“ سکندر کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے۔

اسے اچھی طرح یاد تھا جب اس کی شادی کو صرف دس سے بارہ دن ہی ہوئے تھے اور وہ بارش انجوائے کرنے کیلئے اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی تھی اسی سمے اس کی نظر سامنے گھر کے ٹیرس پر پڑی جہاں ایک لڑکی بالکل مختصر سے کپڑوں میں کھڑی برستی بارش میں بھیگ رہی تھی، اس لڑکی کی نظر جیسے ہی نبیرہ پر پڑی اس نے دور سے ہی ہاتھ ہلا دیا، جواباً نبیرہ نے بھی ہاتھ ہلا دیا جسے فوراً سے پیشتر سکندر نے نوٹس میں لے لیا اور شوبھا کو ایک آوارہ لڑکی قرار دیتے ہوئے اس کی صحبت سے دور رہنے کی ہدایت بھی کر دی اور آج یہ ہی آوارہ لڑکی اس کیلئے فرشتہ رحمت ثابت ہوئی سچ ہے انسانیت کسی مذہب کی محتاج نہیں ہوتی اور یہ بات آج شوبھا نے ثابت کر دکھائی تھی۔

”تم اپنے بچے کے ساتھ صحیح سلامت یہاں سے نکل جاﺅ میرے لئے یہ ہی کافی ہے اور ہاں مجھے ہمیشہ اپنی دعاﺅں میں یاد رکھنا۔“ شوبھا نے اسے گلے سے لگا لیا اور پھر وہاں سے نکلتے نکلتے وہ حماد کےلئے اس کی فیورٹ آئس کریم لینا نہ بھولی تھی۔

QQQQ

”تمہیں آنٹی ٹوما بلا رہی ہیں۔“ سہتی دروازے سے ہی اطلاع دے کر واپس چلی گئی اس نے جلدی جلدی ابوذر کا لنچ ختم کروایا اور اس کے پاﺅں میں شوز پہنا کر آنٹی نوما کے آفس کی جانب چل دی، اسے بہت منت سماجت کے بعد WAO میں مزید دس دن رکنے کی اجازت مل گئی تھی اس دوران شمریز خان نے اس کے ذاتی سیل پر رابطہ کرکے بتا دیا تھا کہ فردوس خان ابھی تک واپس نہیں آیا اس کے گاﺅں میں ان کی آبائی زمین کا جھگڑا چل رہا تھا جس کا فیصلہ جرگہ نے کرنا تھا اسی سبب فردوس خان کی واپسی میں زیادہ ٹائم لگ گیا تھا ظاہر ہے وہ کچھ نہ کر سکتی تھی سوائے اس کے صبر و تحمل کے ساتھ خدا پر مکمل یقین رکھتے ہوئے فردوس خان کی واپسی کا انتظار کرے ابھی بھی شاید آنٹی نوما نے اسے اپنا انتظام کہیں اور کرنے کا الٹی میٹم دینا تھا یہ ہی سوچتے ہوئے وہ ان کے آفس کے دروازے پر پہنچ گئی۔

”میں اندر آجاﺅں؟“ دروازے پر رک کر اس نے اجازت طلب کی۔

”ہاں ہاں آﺅ نبیرہ میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی۔“ انہوں نے خوشدلی سے جواب دیا ان کے سامنے والی کرسی پر ایک دراز قد سانولی سی خاتون ٹانگ پر ٹانگ دھرے بڑی لاپرواہی سے بیٹھی تھی بالکل ایسے جیسے اسے کمرے میں کسی دوسرے شخص کی آمد کا علم بھی نہ ہوا ہو۔

”مسز میکڈونلڈ یہ ہے نبیرہ جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا۔“

شاید وہ کوئی سماجی کارکن تھی یہاں جب سے نبیرہ آئی تھی روزانہ ہی کسی نہ کسی سماجی تنظیم کی طرف سے کوئی نہ کوئی خاتون وزٹ کرنے آئی ہوتی۔ اس وزٹ کے ساتھ وہ یہاں رہائش پذیر خواتین اور ان کے بچوں کو بے شمار تحائف بھی دے کر جاتی جن میں زیادہ تر ان کی ضرورت کا سامان ہوتا۔

”میرا نام مایا ہے اور مجھے اچھالگے گا اگر آپ مجھے میرے ہی نام سے پکاریں۔“ اس حرامی میکڈونلڈ سے میں نے اپنی جان چھڑوا لی ہے۔

اپنے بالوں کو اسٹائل سے جھٹکتے ہوئے اس نے گردن موڑ کر نبیرہ کا بھرپور انداز سے جائزہ لیا۔

”واﺅ۔“ اس نے اپنے ہونٹ گول دائرے کی شکل میں سکوڑے۔

”یہ تو بہت ہی خوبصورت ہے۔“ ہونٹوں کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھوں میں بھی نبیرہ کےلئے ستائش ابھر آئی تعریف کے اس اظہار نے نبیرہ کو تھوڑا سا کنفیوز کر دیا۔

”دیکھو نبیرہ مجھے اپنے گھر کے کام کاج کیلئے فوری طور پر ایک عورت کی ضرورت ہے کیونکہ کل رات میرا اپنے میاں سے جھگڑا ہو گیا تھا اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا میں نے اسے پولیس کسٹڈی میں دے دیا اب مجھے اپنے بچوں کی دیکھ بھال کیلئے گھر پر ایک کل وقتی ملازمہ کی ضرورت ہے، نوما نے مجھے تمہارے تمام حالات بتا دیئے ہیں اب اگر تم میرے ساتھ چلو تو میں تمہیں اپنے گھر میں مکمل قانونی تحفظ فراہم کروں گی، رہائش کے ساتھ تمہارے کام کا تمہیں معقول معاوضہ بھی دوں گی۔“ بنا تمہید اس نے اپنی آمد کا مقصد نبیرہ پہ واضح کر دیا۔

”اصل میں تمہیں اس وقت رہائش کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی درکار ہے یہ ہی وجہ تھی جو میں نے مایا کو تمہارے بارے میں بتایا۔“ آنٹی نوما نے وضاحت دیتے ہوئے کہا۔

”دوسری بات جو تمہارے لئے دلچسپی کا باعث ہو گی وہ یہ کہ میں تمہیں تمہارے وطن بھی واپس بھجوا سکتی ہوں کیونکہ میرے تعلقات بہت اوپر تک ہیں۔“ اس کی ساری آفر میں یہ آخری جملہ نبیرہ کےلئے باعث کشش تھا۔

”جلدی سے ہاں یا ناں میں جواب دو مجھے دیر ہو رہی ہے۔“

بات کرتے کرتے وہ یکدم اٹھ کھڑی ہوئی۔

”دیکھو نبیرہ مایا ایک انڈین مسلم ہے اس نے شادی ایک نیگرو سے کی تھی جس سے اس کی طلاق کا کیس کورٹ میں زیر سماعت ہے یہ یہاں کی ایک پاور فل لیڈی ہے اور جب تک تم اس کے گھر رہائش پذیر رہو گی مجھے امید ہے کوئی تمہارا بال بیکا نہ کر سکے گا۔“ آنٹی نوما نے نبیرہ کو مزید سمجھاتے ہوئے کہا۔

”ٹھیک ہے میں ان کے ساتھ جانے کیلئے تیار ہوں۔“

”گڈ میں باہر گاڑی میں بیٹھ رہی ہوں تم جلدی سے اپنا بیگ لے کر آجاﺅ۔“ یہ کہہ کر وہ اپنا ہینڈ بیگ اٹھا کر باہر نکل گئی۔

”ابھی تو میرا سارا سامان بکھرا پڑا ہے ابھی میں کیسے جا سکتی ہوں؟“

ایک دم ہی کسی انجان عورت کے ساتھ جانے کا سوچ کر وہ تھوڑا سا گھبرا گئی اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔

”تم جلدی جلدی اپنی ضرورت کی چیزیں کسی چھوٹے بیگ میں رکھ کر باقی سامان کے ساتھ کمرالاک کر دو، میں مایا سے کہہ دیتی ہوں تمہیں ڈرائیور کے ساتھ کل کسی وقت بھیج دے گی تم آکر سارا سامان لے جانا، کیونکہ تمہارا کمرا میں کسی اور کو رجسٹرڈ کر چکی ہوں وہ بھی تمہاری طرح ایک مجبور لڑکی ہے جو تقریباً دو دن بعد یہاں آنے والی ہے۔“

اسے شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر آنٹی نوما نے سمجھاتے ہوئے کہا۔

”اگر چاہو تو تم اپنی کزن کو اطلاع کر سکتی ہو۔“ آنٹی نوما ربیعہ سے اچھی طرح واقف تھیں۔

”آنٹی میں اسے خود سے فون نہیں کر سکتی اگر اس کا فون آئے میرے سلسلے میں تو پلیز آپ اسے سب کچھ بتا دیجئے گا اور یہ میرا نیا سیل نمبر بھی اسے دے دیجئے گا۔“

اس نے جلدی جلدی اپنا سیل نمبر لکھ کر پیپر نوما کی جانب بڑھایا۔

”اٹس اوکے اب تم جلدی سے جا کر اپنا سامان سمیٹو ایسا نہ ہو مایا ناراض ہو جائے۔“ اگلے پندرہ منٹ میں نبیرہ اپنا سامان ایک جھوٹے سے بیگ میں ڈال کر WAO کے گیٹ سے باہر نکل آئی اسے باہر تک چھوڑنے سہتی بھی اس کے ساتھ آئی، سامنے کھڑی بڑی سی مرسڈیز کا دروازہ کھول کر ڈرائیور باہر آیا اور جلدی سے پچھلا دروازہ کھول دیا وہ تھوڑا سا جھجکتی ہوئی اندر جا کر بیٹھ گئی گاڑی بے حد مہنگے ایئر فریشنز سے مہک رہی تھی جو اس کے بیٹھتے ہی اسٹارٹ ہو گئی۔

”ایک بات پوچھوں؟“ مایا نے اپنے ہاتھ میں موجود سگار کو جلاتے ہوئے نبیرہ سے سوال کیا، یہ سوال اتنا اچانک تھا کہ وہ کچھ کنفیوژ سی ہو گئی۔

”جی پوچھیں۔“ جواب دیتے ہوئے اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ مایا کی شخصیت سے خاصی مرعوب ہو چکی ہے۔ ایئر فریشنز کے ساتھ ساتھ سگار کی دھیمی دھیمی مہک بھی اس کے نتھنوں میں داخل ہوئی اس نے ایک گہری سانس کے ساتھ یہ خوشبو اپنے اندر اتار دی۔

”تم اتنی خوبصورت اور بھرپور جوان لڑکی ہو پھر کیوں تمہارے میاں نے تمہیں دربدر رسوا ہونے کیلئے اس دنیا میں تنہا چھوڑ دیا تمہاری فیملی سے اس کی کوئی دشمنی تھی کیا؟“

”پتا نہیں شاید یہ سب کچھ میرے نصیب میں اسی طرح لکھا ہوا تھا جس طرح ہو رہا ہے۔“ وہ ٹالتے ہوئے بولی کیونکہ مایا کے سوال کا کوئی بھی جواب نبیرہ کے پاس نہ تھا اس نے تو کبھی یہ سب کچھ اس طرح سوچا بھی نہ تھا وہ تو صرف اتنا جانتی تھی کہ سکندر کیلئے وہ ایک غیر عورت تھی بالکل اتنی ہی غیر جتنی روڈ پر چلتی پھرتی ہوئی عام سی عورتیں ایسے میں بھلا اسے کیا ضرورت پڑی تھی جو وہ اس کے سلسلے میں کوئی ہمدردی اپنے دل میں پالتا سکندر کو اس سے کبھی بھی کوئی انسیت یا محبت نہ تھی اور یہ بات وہ پہلے دن سے ہی اچھی طرح جانتی تھی۔

آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد گاڑی ایک سر سبز و شاداب علاقے میں داخل ہو گئی جو غالباً شہر سے کچھ باہر تھا چاروںطرف پھیلی ہوئی ہریالی اور پھولوں کی مہک نے نبیرہ کے ذہن کو تھوڑی ہی دیر کیلئے سہی پرسکون سا کر دیا ابوذر اس کی گود میں ہی سو چکا تھا چند منٹ کے بعد ہی گاڑی رک گئی باہر نکلتے ہی وہ گھر کی خوبصورتی دیکھ کر مبہوت سی رہ گئی سفید قیمتی پتھر سے بنا ہوا نہایت خوبصورت گھر جو چاروں طرف سے بڑے بڑے ناریل اور پام کے درختوں سے گھرا ہوا تھا اندر داخل ہو کر نبیرہ کو اندازہ ہوا یہ گھر جتنا باہر سے خوبصورت تھا اس سے کہیں زیادہ حسین اندر سے تھا وہ کسی سحر کے زیر اثر مایا کے پیچھے پیچھے چلتی ایک کمرے میں داخل ہو گئی۔

”یہ تمہارا کمرا ہے نہا دھو کر فریش ہو جاﺅ پھر میں تمہیں اپنے بچوں سے ملوا دوں۔“ وہ جلدی میں تھی بنا نبیرہ کے جواب کا انتظار کئے ہی واپس پلٹ گئی، نبیرہ نے اندر داخل ہو کر ابوذر کو بیڈ پر ڈالا کمرا نہ صرف صاف ستھرا بلکہ خوبصورت فرنیچر سے بھی مزین تھا اس نے کمرے کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد چھوٹا سا بیگ اٹھایا اور سامنے موجود بڑی سی دیوار گیر الماری کا ایک پٹ کھول کر اس کے اندر کھ دیا اور پھر شام تک وہ اس گھر کے ماحول میں کافی حد تک ایڈجسٹ ہو چکی تھی مایا کے بچے بھی اسی سے مل کر خاصے خوش ہوئے تھے جس کا اندازہ ان کے تعریفی جملوں سے نبیرہ کو ہو چکا تھا مایا جب سے آئی تھی مسلسل فون پر مصروف تھی۔

اس گھر میں اگر کوئی چیز نبیرہ کیلئے الجھن کا باعث بنی تھی تو وہ گھر کے ایک کونے میں بنا ہوا چھوٹا سا مندر تھا مایا اگر انڈین مسلم تھی تو اس کے گھر میں مندر کا کیا کام اس کے علاوہ لاﺅنج کے ایک کونے میں چھوٹا سا بار روم بھی تھا مایا کثرت سے شراب نوشی کی عادی تھی جس کا اندازہ ایک ہی رات میں نبیرہ کو ہو گیا اگلی صبح کا سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی نبیرہ کو ایک نئی پریشانی نے گھیر لیا پریشانی کے ساتھ ساتھ اسے حیرت بھی تھی یہ دیکھ کر کہ مایا کی قیمتی جیولری پوری گھر میں بکھری پڑی تھی جگہ جگہ ٹیبل پر اس کی ڈائمنڈ رنگ رکھی ہوئی تھیں یہاں تک کہ نبیرہ کے کمرے کی الماری کی دراز میں ملائی کرنسی بغیر کسی لاک کے موجود تھی وہ چاہتی تھی کہ اس سلسلے میں مایا سے بات کرے مگر اسے موقع ہی نہیں مل رہا تھا مایا اپنے شوہر کے کیس کے سلسلے میں بری طرح مصروف ہونے کے سبب اسے اپنے WAO بھی نہ بھیج پائی تھی اس کے موبائل کا چارجر بھی وہیں رہ گیا تھا جس کے سبب بیٹری ڈاﺅن ہوتے ہی موبائل آف ہو گیا تھا اس لئے اسے رہ رہ کر ربیعہ کا خیال آرہا تھا جو اس سے رابطہ نہ ہونے کے سبب یقینی طور پر بہت پریشان ہو گی اس کے علاوہ اسے اپنے سامان کی بھی پریشانی تھی جو بہت زیادہ قیمتی تو نہ تھا مگر ضرورت کا ضرور تھا البتہ اس کی جیولری وغیرہ ربیعہ کے ہی پاس رکھی ہوئی تھی ابھی بھی وہ اس پریشانی میں مبتلا تھی جب کسی نے اس کے کمرے پہ دستک دی۔

”کون ہے؟“ وہ اپنا دوپٹہ درست کرتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔“

”سوری میں نے اتنی رات کو تمہیں ڈسٹرب کیا۔“ مایا اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر ندر داخل ہوتے ہوئے بولی۔

”اصل میں ایسا ہے کہ میری ابھی ابھی ایک ایجنٹ سے بات ہوئی ہے جو تمہارا اور تمہارے بے بی کا پاسپورٹ بنا کر دینے کو تیار ہے۔“ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر اس نے سگار سلگا لیا۔

”کتنے دن لگیں گے اسے، اس کام میں۔“ کچھ دیر تک اس کے آگے بولنے کا انتظار کے بعد نبیرہ نے بے چینی سے دریافت کیا کہیں سے نظر آنے والی امید کی اس ننھی سی کرن نے اس کے اندر جیسے زندگی بھر دی۔

”ہوں….“ وہ تھوڑا سا سوچتے ہوئے بولی۔

”ایسا ہے تم کل صبح ذرا جلدی تیار ہو جانا ڈرائیور کے ساتھ جا کر WAO سے اپنا سامان لے لینا اور ساتھ ہی جاتے ہوئے راستہ میں فوٹو اسٹوڈیو سے اپنی اور اپنے بی بی کی تصاویر بنوا لینا یہ تصاویر میں نیٹ کے ذریعے اینڈریو کو بھیج دوں گی وہ میرا اسکول فیلو ہے اور مجھے امید ہے صرف بارہ سے چوبیس گھنٹوں کے اندر وہ تمہارا پاسپورٹ بنوا کر بھجوا دے گا تم پے منٹ کی فکر بھی مت کرنا وہ سب میں کرلوں گی اوکے۔“

اپنی بات کے اختتام پر رک کر اس نے نبیرہ پر ایک نظر ڈالتے ہوئے موبائل پر تیزی سے کوئی نمبر پریس کیا پھر چند سیکنڈ دوسری طرف لائن پر موجود کسی شخص سے کوئی بات کرکے اس نے فون بند کر دیا اس کی یہ ساری گفتگو گجراتی میںتھی جس کا ایک بھی لفظ نبیرہ کے پلے نہ پڑا جب تک وہ فون پر بات کرتی رہی نبیرہ کا دھیان مسلسل اس کے کھلے گریبان سے جھانکتے ٹیٹو پر ہی رہا اسی طرح کا ایک بڑا سا ٹیٹو اس کے بازو پر بھی بنا ہوا تھا کبھی کبھی نبیرہ کو محسوس ہوتا ان ٹیٹوز نے اس کی شخصیت میں ایک عجیب سی پراسراریت بھر دی تھی جس کی وجہ نبیرہ کی سمجھ میں نہ آرہی تھی لیکن سچ تھا وہ مایا کی شخصیت سے تھوڑی تھوڑی سی خوفزدہ ضرور تھی۔

”تمہارے پاس واپسی کے ٹکٹ کیلئے کچھ رقم ہے؟“ فون بند کرتے ہی اس نے نبیرہ سے سوال کیا۔

”ہے تو سہی مگر مجھے پتا نہیں ہے کہ وہ پوری بھی ہو گی یا نہیں البتہ میرے پاس زیور بھی ہے جسے بیچ کر میں سب خرچہ افورڈ کر لوں گی۔“

”یہ تو بہت اچھی بات ہے اب ایسا کرو تم جب کل WAO جاﺅ تو واپسی پر اپنی رقم اور زیور بھی لیتی آنا۔“

اس کی رقم اور زیور ربیعہ کے پاس تھا مگر ظاہر ہے اسے یہ سب لینا تو تھا ہی تو پھر کیوں نہ کل واپسی پر وہ سیانگ سے یہ سب لیتی آئے جس کیلئے ضروری تھا کہ یہ سب بات مایا کو بتائی جائے یہ سوچ کر اس نے اپنا گلا کھنکارا اور بولی۔

”اصل میں میرے پیسے اور زیور WAO میں نہیں ہیں بلکہ یہ سب سامان سیانگ میں مقیم میری کزن کے پاس ہے اب آپ کہیں تو میں کل واپسی میں یہ سب سامان اس کے گھر سے پک کر لوں۔“

”ٹھیک ہے مگر اس سلسلے میں تمہیں میری ایک شرط ماننا ہو گی۔“

”وہ کیا؟“ جانے وہ کیا کہنا چاہتی تھی لفظ ”شرط“ نے نبیرہ کو الجھا سا دیا۔

”شرط یہ ہے کہ تم اپنی کزن سے میرا کوئی ذکر نہ کرو گی اور نہ ہی اسے یہ بتاﺅ گی کہ میں تمہارا پاسپورٹ بنوا کر تمہیں وطن واپس بھیج رہی ہوں جب تم واپس اپنے گھر پہنچ جاﺅ پھر بے شک اسے اطلاع دے دینا مگر ابھی نہیں اور یہ سب کچھ میں تمہاری بہتری کیلئے ہی سمجھا رہی ہوں ایسا نہ ہو پاسپورٹ بننے سے پہلے ہی بات باہر نکل جائے اور قانون کے ہاتھ تمہاری گردن تک پہنچ جائیں کیونکہ تم جانتی ہو میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔“

اپنی شرط کی اچھی طرح وضاحت کرکے وہ اٹھ کھڑی ہوئی اپنا سگریٹ کیس اور موبائل اٹھا لیا۔

”صبح جلد تیار ہو جانا۔“ نبیرہ کو ہدایت دیتی وہ باہر نکل گئی کیا بات تھی نبیرہ کا دل بجائے خوش ہونے کے کچھ بجھ سا گیا تھا اس کی چھٹی حس اسے کسی انہونی کا احساس دلا رہی تھی کوئی ایسی بات ضرور تھی جو اس کے دماغ میں کھٹک رہی تھی اور یہ ہی کھٹک اور بے چینی اسے سونے نہ دے رہی تھی کروٹیں بدلتے بدلتے اس کی ہلکی سی آنکھ ہی لگی تھی جو کسی غیر محسوس آواز سے کھل گئی رات کے سناٹے میں باہر آکر رکنے والی گاڑی کی آواز نے اسے چوکنا کر دیا وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اس کمرے کی کھڑکی سے باہر کالان بالکل واضح طور پر دکھائی دیتا تھا وہ ننگے پاﺅں کارپٹ پر چلتی کھڑکی کے قریب آئی اور آہستہ سے اس کا پردہ تھوڑا سا سرکا کر باہر جھانکا روش پر ایک بڑی سی کالی گاڑی کھڑکی تھی جس کی ساری لائٹس آن تھیں لان میں لگی مدھم سی لائٹ میں سامنے کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا گاڑی سے ٹیک لگائے دو لمبے تڑنگے نیگرو کھڑے جانے مایا سے کیا بات کر رہے تھے مایا نہایت مختصر سے سلیپنگ سوٹ میں ملبوس تھی بات کرتے کرتے مایا نے اپنا موبائل نکال کر اس میں سے کچھ سرچ کیا اور اسکرین کو ان نیگروز کے سامنے کر دیا۔

وہ ان نیگروز کو کیا دکھا رہی تھی؟“ ایک دم نبیرہ کے ذہن میں جھماکا ہوا اور وہ دھند جو رات سے اس کے دماغ پر سوار تھی یکدم نکل گئی اسے یاد آیا مایا نے رات کو باتوں کے دوران اپنے موبائل سے اس کی کچھ تصاویر لی تھیں یہ تصاویر اس نے نبیرہ کو بتائے بغیر لی تھیں اس کی ناراضی کے ڈر سے نبیرہ نے اس سے اس سلسلے میں کوئی وضاحت طلب نہ کی مگر وہ ذہنی طور پر کچھ اپ سیٹ سی ہو گئی تھی اور اب اسے پتا لگا یہ تصاویر ان آدمیوں کو دکھانے کیلئے لی گئی تھیں مایا نے یہ حرکت کیوں کی؟ اس کی اس حرکت کا مقصد کیا تھا؟ یہ سب نبیرہ کو جاننے کی ضرورت نہ رہی تھی وہ سکندر کے گھر سے نکل کر جب سے WAO آئی تھی اس نے بہت کچھ دیکھا اور سیکھا تھا، وہاں موجود عورتوں کے حالات نے اسے ساری دنیا کا سبق پڑھا دیا تھا عورت کہاں اور کس طرح استعمال کی جاتی ہے اب یہ باتیں اس کیلئے اچھنبے کا باعث نہ رہی تھیں ان حالات نے اسے اپنی حفاظت کرنا بھی سکھا دیا تھا مایا کی شخصیت کا سارا اسرار اس کے سامنے کھل کر آگیا تھا وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ صبح یہاں سے نکل جانے کے بعد اسے واپس نہیں آنا۔ مگر کیا مایا اسے اس قدر آسانی کے ساتھ یہاں سے نکلنے دے گی۔ اگر صبح وہ بھی اس کے ساتھ WAO چلی گئی تو پھر کس طرح ممکن ہو گا کہ وہ اس سے اپنا پیچھا چھڑائے اور ان ساری باتوں نے نبیرہ کی آنکھوں سے نیند کو مکمل طور پر بھگا دیا۔

QQQQ

اسے WAO سے فون آچکا تھا اب کس طرح جلد از جلد اسے اس گھر سے نکلنا تھا پہلے تو اس نے سوچ رکھا تھا وہ رات کے اندھیرے میں یہاں سے نکل جائے گی مگر جانے کیوں پچھلے کچھ دنوں سے سکندر رات کو ابوذر کو اپنے ساتھ سلانے لگا تھا اور ظاہر سی بات تھی وہ کسی بھی حال میں ابوذر کو چھوڑ کر نہ جا سکتی تھی اس دوران اس نے گھر کی ممکنہ جگہوں کی تھوڑی بہت تلاشی بھی لی تھی کہ شاید کہیں سے اس کے یا ابوذر کے کاغذات مل جائیں وہ تو نہ ملے البتہ اس تلاشی کے دوران سکندر کی رکھی ہوئی کچھ کرنسی ضرور ہاتھ لگ گئی تھی جو نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے اٹھا لی کیونکہ وہ جانتی تھی اس گھر سے نکلنے کے بعد اسے قدم قدم پر روپے کی ضرورت پڑے گی انکل صالح اسے روز فون کرکے پریشر ڈال رہے تھے کہ وہ ان کے گھر آجائے جبکہ سکینہ اور روزینہ بھی یہ ہی چاہتی تھیں کہ وہ سکندر کا گھر چھوڑ کر ان کے ساتھ آکر رہ لے نبیرہ جانتی تھی کہ ملائیشیا جیسی جگہ پر کام والی افورڈ کرناخاصا مشکل کام ہے روزینہ کیونکہ خود جاب کرتی تھی اس لئے وہ نبیرہ کو آفر کر رہی تھی کہ وہ اس کے ساتھ چل کر رہے اس کے گھر کا کام کاج کر دیا کرے جس کے بدلے میں وہ اسے ایک معقول رقم دے گی اور ساتھ ہی ساتھ ہر ہفتہ اس کی ملاقات دونوں بچوں سے کروا دیا کرے گی اگر اسے یہاں رہنا ہوتا تو یقینا یہ ایک اچھی آفر تھی مگر اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس ملک میں رہنا ہی نہیں چاہتی تھی اسے ہر حال میں اپنے وطن واپس جانا تھا اور اپنی یہ پلاننگ وہ کسی سے بھی ڈسکس نہ کر سکتی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ وہ سب کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھی خاص طور پر روزینہ کو تو اس نے مکمل طور سے یقین دہانی کروا رکھی تھی کہ وہ اس کے ساتھ ہی جا کر رہے گی اور اب جبکہ شوبھا کے طفیل اس کی رجسٹریشن WAO میں ہو چکی تھی اصل مسئلہ یہاں سے نکلنے کا رہ گیا تھا اور یہاں سے نکلنا بھی صرف اس لئے دشوار ہو گیا تھا کہ وہ ابوذر کے بغیر یہ گھر نہ چھوڑ سکتی تھی رفیدا آج کل کسی ٹریننگ کے سلسلے میں اپنے آفس کی طرف سے جاپان گئی ہوئی تھی۔ فاطمہ دوپہر دو بجے کے قریب کھانا کھانے کے بعد اپنی بلڈ پریشر کی ٹیبلٹ کھا کر تقریباً ایک گھنٹہ ضرور سوتی تھیں اور یہ ہی وہ ٹائم ہوتا تھا جب ایدھا بھی حماد کے لے کر ایک گھنٹہ آرام ضرور کرتی تھی یقینا دوپہر دو بجے کا وقت ہی وہ بہترین وقت تھا جب کوشش کرکے نبیرہ اس گھر سے نکل سکتی تھی اپنی پلاننگ کے وقت اسے اپنے کمرے کا پچھلا دروازہ استعمال کرنا تھا جہاں سے نکل کر وہ ساتھ والے گھر کو علیحدہ کرتی ہوئی لکڑی کی باڑ پھلانگتی اور پھر آنٹی ماجی کے گیٹ سے با آسانی باہر نکل جاتی۔ اس سلسلے میں وہ اپنی پڑوسن آنٹی ماجی کو مکمل طور پر اعتماد میں لے سکتی تھی اور یہ سب اس لئے ضروری تھا کہ سونے سے قبل فاطمہ اپنے گھر کے مین گیٹ کو بند کر دیتی تھیں حالانکہ اس سے قبل اس نے کبھی اس دروازے پر کنڈی لگی ہوئی بھی نہ دیکھی تھی، اس لاک کی وجہ یقینا نبیرہ تھی جس کا اسے بخوبی علم تھا آج صبح سے ہی وہ بہت ٹینشن میں تھی سکندر کے جانے کے بعد اس نے ابوذر کو نہلا کر ناشتہ کروایا جبکہ خود بڑی مشکل سے اس نے چائے کا کپ حلق سے اتارا اس کی نظر مسلسل گھڑی کی سوئیوں کا طواف کر رہی تھی لمحہ لمحہ آگے بڑھتا ٹائم اس کے دل کی دھڑکن کو تیز کر رہا تھا، اسے شدت سے اس وقت کا انتظار تھا جب ایدھا او رفاطمہ اپنے اپنے کمروں میں چلی جاتیں فاطمہ کھانا کھا کر اپنی ٹیبلٹ اٹھا چکی تھیں اپنے کمرے کی کھڑکی سے مسلسل نبیرہ ان پر نظر رکھے ہوئے تھی اس نے کمرے میں جا کر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔

فاطمہ باہر کا گیٹ لاک لگانے جا رہی تھیں جب کسی گاڑی کے تیز ہارن نے نبیرہ کے حواس کو منتشر سا کر دیا اس نے چونک کر لکڑی کی دیوار سے پار روڈ پر جھانکا گیٹ کے عین سامنے کھڑی ہونے والی سفید گاڑی نے اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا، یہ گاڑی یقینا روزینہ کی تھی روزینہ اس بھری دوپہر میں وہاں کیا لینے آئی تھی؟ اسے آج کا یہ دن بھی ضائع ہوتا محسوس ہوا اس نے ہاتھ میں اٹھایا چھوٹا سا بیگ بیڈ کے نیچے کر دیا نہایت ہی مایوسی کے عالم میں وہ خاموشی سے بیڈ پر جا کر لیٹ گئی ظاہر ہے اب فاطمہ نے کہاں سونا تھا یہ ہی سوچ کر نبیرہ نے اپنی آج کی پلاننگ کو فیل ہوتا محسوس کیا اگلے مزید چوبیس گھنٹے اسے اس گھر کے عقوبت خانے میں گزارنے تھے جہاں ایک ایک گزرتا پل اس کیلئے صدیوں کے عذاب کی مانند تھا آج کئی دن گزر جانے کے بعد بھی اس کے کمرے کا اسے سی بند تھا ابوذر سکندر کے ساتھ سو جاتا جبکہ وہ اپنے بیڈ کے سرہانے ابوذر کا چھوٹا پنکھا لگا دیتی ایک ایسا گھر جہاں کا ہر کمرا اے سی ہو وہاں اسے ایک پنکھے کی سہولت بھی میسر نہ تھی اور وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ یہ سب اسے ذلیل کرنے کیلئے کیا جا رہا تھا مگر کیا کرتی وہ خود اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھی جس کے سبب وہ اس گھر میں ذلت کے زندگی گزار رہی تھی اس امید کے ساتھ کہ اسے اس گھر کے ہر فرد سے اپنا انتقام لینا تھا اور یہ انتقام وہ ابوذر کی صورت میں ہی لے سکتی تھی اتنی پابندیوں کے باوجود ابوذر کو یہاں سے نکال کر لے جانا ایک ایسا طمانچہ تھا جو وہ پورے اور بھرپور انداز سے سکندر اور فاطمہ کے منہ پر مارنا چاہتی تھی۔

اسے اپنے رب سے پوری امید تھی کہ وہ اسے اس عمل کا موقع ضرور فراہم کرے گا وہ اللہ کی رحمتوں سے مایوس ہونا نہ چاہتی تھی اب ایک اور نئی کل کے انتظار میں وہ خاموشی سے آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر لیٹ گئی جب کمرے کا دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا اس کا دل ہی نہ چاہا کہ وہ دیکھے کمرے میں کون آیا ہے وہ اس طرح خاموشی سے ساکت وصامت لیٹی رہی۔

”نبیرہ سو گئی ہو؟“ خوشبو کے تیز جھونکے کے ساتھ بھی روزینہ کی آواز بھی اس کے کانوں سے ٹکرائی اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔

”نہیں بھابی آجائیں آپ۔“ وہ آہستہ سے کہتی اٹھ بیٹھی۔“

”اے سی کیوں بند ہے تمہارا گرمی نہیں لگ رہی تمہیں۔“

روزینہ جو چوبیس گھنٹہ اے سی میں گزارنے کی عادی تھی ایک دم ہی کمرے کی گرمی سے گھبرا اٹھی جبکہ نبیرہ پچھلے کئی دنوں سے اسی طرح زندگی بسر کرنے کی عادی ہو چکی تھی یا شاید مجبوری انسان سے وہ سب کچھ کروا لیتی ہے جو عام حالات میں اسے ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

”اے سی خراب ہو گیا ہے۔“ نبیرہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بولی۔

”اوہ….“ روزینہ نے ہونٹ سکوڑے۔

”اگر خراب ہو گیا تھا تو کسی کو دکھا دیتیں گیس کا مسئلہ ہو گا یا مجھ سے کہتیں میں ٹھیک کروا دیتی بہرحال میں تمہیں اسی لئے کہتی ہوں میرے ساتھ چلو خوا مخواہ میں کیوں ایک تیسرے درجے کے شہری کی طرح اس گھر میں زندگی گزار رہی ہو بلکہ میرا خیال ہے کہ ابھی چلو میرے ساتھ ویسے بھی رات میں میرے کچھ مہمان آرہے ہیں تمہاری مدد سے مجھے کام میں آسانی ہو جائے گی۔“ وہ ایک کے بعد ایک تمام تفصیل بتاتی چلی گئی اس کی اس ساری تفصیلی وضاحت سے نبیرہ کو کوئی دلچسپی نہ تھی اس کا دھیان تو مکمل طور پر گھڑی کی جانب مرکوز تھا جس کی لمحہ بہ لمحہ آگے کی جانب بڑھتی سوئیاں اسے احساس دلا رہی تھیں کہ آج کا ایک اور دن بھی ضائع ہو گیا۔

”پھر کیا سوچا تم نے چل رہی ہو آج میرے ساتھ میرے گھر۔“ اسے مسلسل خاموش دیکھ کر روزینہ نے زور سے پکارا۔

”آں ہاں….“ وہ یکدم چونکی۔

”بھابی آج تو بہت مشکل ہے اصل میں آج میری طبیعت خراب ہے شاید مجھے فوڈ پوئزان ہو گیا ہے جس کے سبب میرے پیٹ میں سخت تکلیف ہے۔“ وہ اپنی آواز میں ممکنہ حد تک نقاہت بھرتے ہوئے بولی۔

”اوہ گاڈ تمہیں تو فوراً سے بیشتر کسی ڈاکٹر کو دکھانا چاہئے۔“ نبیرہ کا بروقت بنایا ہوا بہانہ اس کے کام آہی گیا۔

”تم ایسا کرو جلدی سے اٹھ کر تیار ہو جاﺅ میں تمہیں کلینک لے جاتی ہوں۔“ روزینہ کی یہ آفر بالکل غیر متوقع تھی، نبیرہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اپنا دوپٹہ اوڑھا اور ہینڈ بیگ کندھے پر ڈال لیا ابوذر کی انگلی تھام کر باہر نکلتے ہوئے وہ مسلسل دل ہی دل میں آیت کریمہ کا ورد کر رہی تھی۔

”مامی میں اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جا رہی ہوں۔“ روزینہ نے لاﺅنج کے دروازے پر کھڑے ہو کر فاطمہ کو اطلاع دی۔

”اچھا….“ فاطمہ شاید نیند کے زیر اثر تھی ویسے بھی وہ روزینہ سے تھوڑا سا دبتی تھیں یہ ہی وجہ تھی جو وہ اس سے کسی بھی قسم کا بحث و مباحثہ کرنے سے گریز کرتی تھیں۔

”ابوذر کہاں ہے؟“ اگلے ہی پل فاطمہ کی آنے والی آواز نے نبیرہ کی سانس بند کر دی اسے اپنا منصوبہ ایک بار پھر ناکام ہوتا نظر آیا۔

”وہ بھی ساتھ ہی ہے، میں دوائی دلا کر ابھی دونوں کو چھوڑ جاﺅں گی۔“ فاطمہ خاموش ہو گئیں مگر جانے کیوں وہ اٹھ کر روزینہ کے ساتھ ساتھ چلتی باہر کے مین گیٹ تک آگئیں حالانکہ وہ ایک بار لیٹ جاتی تو پھر ایک گھنٹہ بعد ہی اٹھتی تھیں۔

”اماں میرے لئے رینبو آئس کریم لے کر آنا۔“

حماد کب باہر آیا اسے پتا ہی نہ چلایا شاید اپنی پریشانی میں اس نے دھیان بھی نہ دیا تھا اب جو اس کی آواز سنی تو یکدم جاتے جاتے واپس پلٹ آئی۔

”ہاں بیٹا ضرور۔“ اس نے جھک کر حماد کے گال پر بوسہ دیا۔

”جلدی آﺅ نبیرہ مجھے بچوں کو ان کے سکول سے پک کرنا ہے دیر ہو جائے گی۔“ روزینہ کی آواز سنتے ہی وہ جلدی جلدی مین گیٹ عبور کرکے باہر گاڑی میں جا بیٹھی اس نے گاڑی کو یوٹرن لے کر واپس موڑا فاطمہ ابھی بھی گیٹ میں ہی کھڑی تھی گاڑی کے گلی کے سر پر پہنچتے ہی نبیرہ نے گردن موڑ کر دیکھا فاطمہ ابھی بھی وہیں اپنی جگہ پر کھڑی تھیں نبیرہ کو محسوس ہوا وہ کچھ پریشان سی تھیں شاید وہ نبیرہ کے ساتھ ابوذر کو بھیج کر پچھتا رہی تھیں موڑ مڑتے ہی تھوڑاسا آگے ایک مقامی ڈاکٹر کا کلینک تھا روزینہ نے وہاں پہنچ کر گاڑی مین روڈ پر ہی روک دی اور جلدی جلدی اپنے پرس میں ہاتھ ڈال کر کچھ رقم نکالی۔

”تم یہ پیسے رکھ لو اندر ڈاکٹر شافریز ہو گا اسے چیک کروا کر گھر واپس چلی جانا میرے بچوں کی چھٹی کا ٹائم ہو رہا ہے مجھے دیر ہو جائے گی۔“ اللہ تعالیٰ اس کیلئے اس قدر آسانیاں فراہم کرے گا یہ تو اس نے سوچا بھی نہ تھا روزینہ کی یہ آفر شاید خدا کی طرف سے ہی کوئی مدد تھی اس نے ہاتھ بڑھا کر خاموشی سے پیسے تھام لئے اور دروازہ کھول کر گاڑی سے باہر نکل آئی اس کا جسم ہولے ہولے لرز رہا تھا وہ خوف زدہ تھی اسے چاروں جانب سکندر کا ہیولہ دکھائی دے رہا تھا۔

”تم یہاں سے واپس گھر جا سکتی ہو نہ صرف دس منٹ کی واک پر ہے۔“

”جی بھابی میں اس مارکیٹ تک ہمیشہ اکیلی ہی آتی ہوں آپ بے فکر ہو کر جائیں۔“ اس نے روزینہ کو یقین دہانی کروائی اور خود ابوذر کا ہاتھ تھامے فٹ پاتھ پر چڑھ گئی روزینہ زور دار آواز کے ساتھ گاڑی پر بھگاتی ہوئی لے گئی، نبیرہ تیزی سے سامنے نظر آنے والی مارکیٹ کے اندر داخل ہو گئی وہ سخت گھبرائی ہوئی تھی اسے خدشہ تھا کہیں فاطمہ اسے ڈھونڈتی ہوئی وہاں تک نہ آجائیں اپنی اپنی مصروفیات میں مگن کسی بھی فرد نے نبیرہ پر دھیان نہ دیا وہ تقریباً بھاگتی ہوئی مارکیٹ کے دوسرے دروازے سے باہر نکل آئی سامنے ہی ٹیکسی کھڑی تھی وہ تیزی سے اس کی جانب بڑھی۔

”پٹانگ جایا چلو گے؟“ اس نے اپنی آواز کو حتیٰ الامکان دباتے ہوئے کہا اسے خدشہ تھا کہیں اس کے ہونٹوں سے نکلا ہوا کوئی لفظ فاطمہ یا سکندر کے کانوں سے نہ جا ٹکرائے اسی سبب اس کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی تھی۔

”پچیس رنگیٹ لوں گا۔“ ٹیکسی ڈرائیور نے پچھلا دروازہ کھولتے ہوئے کہا وہ خاموشی سے اندر بیٹھ گئی، ساتھ ہی اس نے اپنے پرس پر ہاتھ ڈال کر دس رنگیٹ ڈرائیور کی سمت بڑھا دیئے جو کرایہ کی ایڈوانس رقم تھی باقی پیسے اسے پٹانگ جایا پہنچ کر دینے تھے جو یہاں سے تقریباً ایک گھنٹہ کے فاصلے پر تھا۔

”یہ وہ ایڈریس ہے جہاں تم نے مجھے پہچانا ہے۔“ اس نے ڈرائیور کی WAO کے ایڈریس والی پرچی بڑھائی جسے خاموشی سے اس نے تھام کر اپنے سامنے رکھ لیا۔ گاڑی کے اگنیشن میں چابی لگا کر اسے اسٹارٹ کر دیا اگلے ہی پل دھیرے دھیرے رینگتی گاڑی مین روڈ پر آگئی، اس نے بے اختیار گردن موڑ کر پیچھے کی جانب دیکھا، لمحہ بہ لمحہ آگے کی جانب بڑھتی ٹیکسی اس کے ماضی کو پیچھے چھوڑ رہی تھی، اس نے ان گلیوں پر دیر تک الوداعی نظر ڈالی جہاں اس کی زندگی کے بدترین سات سال گزرے تھے اس کے ساتھ ہی حماد کی یاد ایک ٹیس بن کر اس کے دل میں ابھری جو یقینا اپنی رینبو آئس کریم کے انتظار میں لاﺅنج کے دروازے پر ہی موجود ہو گا اے کاش میں ایک آخری بار اسے آئس کریم دے سکتی اسی سوچ کے ساتھ ہی آنسو قطرہ قطرہ بن کر اس کی آنکھوں سے بہنے لگے جانے وہ کب تک اسی طرح روتی رہتی کہ ایک دم ہی موبائل کی وائبریشن نے اسے چونکا دیا وہ ڈر گئی اس نے جلدی جلدی اپنے ہینڈ بیگ میں ہاتھ ڈال کر سیل ڈھونڈا اسکرین پر ربیعہ کا نمبر تھا اسے یاد آیا اس کا یہ نمبر سوائے ربیعہ اور شوبھا کے کسی کے پاس بھی نہ تھا کتنی دیر سے رکا ہوا اپنا سانس بحال کرکے اس نے یس کا بٹن دبایا اور فون کان سے لگا لیا۔

”ہیلو۔“ سرگوشی کی مانند آواز اس کے ہونٹوںسے نکلی۔

”کہاں ہو تم؟“ دوسری طرف ربیعہ کی آواز کی بے قراری بتا رہی تھی کہ اسے نبیرہ کے گھر سے ابوذر کو لے کر فرار ہونے کی خبر پہنچ چکی ہے۔

”کیوں کیا ہوا؟“ جواب دینے کے بجائے اس نے ٹیکسی ڈرائیور پر ایک نظر ڈالتے ہوئے محتاط انداز میں سوال کیا دونوں کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو مکمل اردو زبان میں تھی جو یقینا ملائی ڈرائیور نہ جانتا تھا پھر بھی احتیاط اس کی اولین ترجیح تھا۔

”تمہاری ساس اور سکندر کا فون آیا تھا، تمہارا پوچھ رہے تھے۔“

ربیعہ کے جواب دیتے ہی اس نے بے اختیار اپنی ریسٹ واچ پر نظر ڈالی ابھی اسے گھر سے نکلے تقریباً پینتالیس منٹ ہوئے تھے اور اتنی دیر میں ہی اس کی تلاش کا عمل شروع بھی ہو گیا یقینا اس کی سابقہ ساس اس کے گھر سے نکلتے ہی ڈاکٹر شافریز کے کلینک آئی ہو گی جہاں اسے موجود نہ پا کر فوراً سکندر کو اطلاع دی گئی پھر اپنے طور پر بھی اسے یہاں وہاں تلاش کرنے کے بعد ربیعہ سے رابطہ کیا گیا۔

”میں WAO پہنچ کر تم سے رابطہ کروں گی تم پریشان مت ہونا ابوذر میرے ساتھ ہے اور ہم دونوں انشاءاللہ خیر خیریت سے اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔“

ربیعہ کو تسلی دینے کے ساتھ ہی اس نے فون بند کر دیا گاڑی WAO کے گیٹ پر پہنچ چکی تھی، بڑی سی اونچی اونچی دیواروں والی عمارت جس کا دروازہ اس کی شناخت کے بعد کھول دیا گیا اندر داخل ہوتے ہی اس کا استقبال ایڈا نے کیا، جو اسے آنٹی نوما کے آفس لے گئی، آنٹی نوما نے سب سے پہلے اسے WAO کے تمام قوانین سے آگاہ کیا جس کے بعد اس سے رجسٹریشن فارم فل کروایا گیا رجسٹریشن کے بعد اس کے حوالے کمرے کی چابی کر دی گئی، ساتھ ہی انہوں نے اپنے سامنے رکھی گھنٹی بجا کر سہتی کو بلایا جو ایک دبلی پتی ملائی لڑکی تھی۔

”پہلے تمہیں ہال لے کر جائے گی جہاں WAO کی رہائش پذیر تمام خواتین تم سے ملاقات کریں گی اور ہاں تم جتنا عرصہ یہاں رہو گی تمہیں ان سب کے ساتھ مل جل کر رہنا ہو گا گیتی تم سب کی انچارج ہے اس کے ساتھ مل کر فیصلہ کر لینا کہ تم یہاں کون سا کام کر سکتی ہو کیونکہ یہ سب یہاں کے کام آپس میں مل بانٹ کر کرتی ہیں یہاں کوئی کام والی نہیں ہے۔“ آنٹی نوما نے اسے تمام تفصیلی سے آگاہ کیا۔

”ٹھیک ہے آنٹی۔“ وہ اثبات میں جواب دیتی سہتی کے ساتھ باہر آگئی اور پھر اس دن سے اس نے دوپہر کے کھانے کی ذمہ داری سنبھال لی جبکہ اپنے اپنے کمرے کی صفائی وہ سب خود کرتی تھیں۔

QQQQ

صبح جب وہ اٹھی تو اس کا سارا جسم دکھ رہا تھا ساری رات اسے ٹینشن سے نیند بھی نہ آئی تھی لیکن اپنی یہ ٹینشن وہ مایا کے سامنے ظاہر نہ کرنا چاہتی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ نہا دھو کر وہ اچھی طرح تیار ہو گئی، ساتھ ہی اس نے ابوذر کو بھی تیار کر لیا، اس کے بعد مایا کے ڈیڑھ سالہ بیٹے کو چینج کرکے فیڈر تیار کرکے دیا جبکہ اس کی بیٹی سریا ابھی تک سو رہی تھی، نبیرہ نے الماری کھول کر اپنا تمام سامان بھی ہینڈ بیگ میں رکھ لیا اس کا یہ ہینڈ بیگ عام سائز سے خاصا بڑا تھا جس میں وہ اپنی ضرورت کی تمام اشیاءآرام سے رکھ لیتی ابھی بھی اس نے خدا کا شکریہ اداکیا کہ وہ WAO سے نکلتے ہوئے اپنے ساتھ تمام سامان لے کر نہ آئی تھی ورنہ یہاں آکر مشکل میں پھنس جاتی اس تمام عمل کے مکمل ہونے کے بعد اس نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی نو بجنے والے تھے اور مایا نے اسے یہ ہی ٹائم دیا تھا۔

اللہ کا نام لے کر وہ کمرے سے باہر آگئی کاریڈور سے باہر نکلتے ہی اس کی نظر سامنے صوفے پر بیٹھی مایا پر پڑی جس کی نک سک سے کی گئی تیاری یہ بتا رہی تھی کہ وہ بھی ساتھ چلنے کو تیار ہے ورنہ عام طور پر اس وقت وہ ہمیشہ نائٹی میں ہی ملبوس نظر آتی تھی، نبیرہ تھوڑا سا پریشان ہو گئی اگر یہ اس کے ساتھ WAO جاتی تو پھر بہت مشکل تھا کہ نبیرہ اس سے اپنی جان چھڑا پاتی، بہرحال اسے یہاں واپس تو نہ آنا تھا یہ تو طے تھا اب یہ کس طرح ممکن بنانا تھا یہ سب اسے وہاں جا کر سوچنا تھا اسے امید تھی اس سلسلے میں آنٹی نوما ضرور اس کے کام آئیں گی۔

”اوہ گڈ….“ اس پر نظر پڑتے ہی مایا نے ستائشی انداز میں ہونٹ سکوڑے یہ اس کا مخصوص اسٹائل تھا۔

”میں تو سمجھی تھی کہ تم وہ ہی روتی دھوتی شکل لے کر باہر آجاﺅ گی مگر تمہیں اتنا اچھا تیار دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی بہرحال میں نے ٹیکسی کےلئے فون کر دیا ہے ڈرائیور آنے والا ہو گا، میرے اعتماد کا بندہ ہے راستہ میں جاتے ہوئے کدائی گامبا (فوٹو شاپ) سے تمہاری کچھ فوٹوز بھی بنوا کر مجھے سینڈ کر دے گا اور بحفاظت تمہیں واپس بھی لے آئے گا۔“

”کیوں آپ میرے ساتھ نہیں جا رہیں؟“

اپنی خوشی کو اندر ہی دباتے ہوئے اس نے سرسری سا انداز اختیار کیا۔

”نہیں اصل میں آج صبح میری ایک آنٹی کا انتقال ہو گیا ہے لہٰذا مجھے جنازے کے ساتھ قبرستان جانا ہے۔“ اس نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے جواب دیا۔

”اوہ…. اچھا۔“ نبیرہ جانتی تھی کہ یہاں کی تمام خواتین مردوں کے ساتھ قبرستان جاتی اور تدفین کا مکمل عمل اپنی آنکھوں سے دیکھتیں جب کہ اتنے سالوں کی یہاں رہائش کے باوجود کبھی بھی خود کو اس لمحہ میں قبرستان جانے کیلئے تیار نہ کر سکی تھی اور اس سلسلے میں کبھی سکندر نے اس پر دباﺅ بھی نہ ڈالا تھا۔

”ٹھیک ہے ڈرائیور آگیا ہے تم جاﺅ لیکن اس کے ساتھ ہی واپس آجانا میں نے تمہارے پاسپورٹ کےلئے ایڈوانس رقم دے دی ہے اب مجھے کوئی دھوکہ مت دینا۔“

شاید مایا کی چھٹی حس اسے کسی بات کے غلط ہونے کا احساس دلا رہی تھی۔ جس کی بنا پر وہ نبیرہ سے یقین دہانی چاہتی تھی کہ وہ واپس پلٹ کر آئے گی۔

”لیکن مجھے اپنے زیور اور رقم کےلئے سیانگ جانا پڑے گا۔“

”وہ بھی تمہیں ڈرائیور لے جائے گا میں نے اسے پندرہ رنگیٹ ایڈوانس دے دیئے ہیں باقی یہ بیس رنگیٹ تم رکھ لو، دس واپس آکر ڈرائیور کو دینا اور دس تمہارے فوٹو شوٹس کےلئے ہیں۔“

نبیرہ کے ساتھ ساتھ چلتی وہ باہر آگئی، کچھ دیر کھڑے ہو کر ڈرائیور کے ساتھ آہستہ آہستہ جانے کیا گفتگو کی جو نبیرہ کو سمجھ ہی نہ آئی ایک تو اس کی آواز بہت دھیمی تھی دوسرا وہ ڈرائیور کو لے کر ذرا دور جا کھڑی ہوئی تھی۔

”میں نے اسے سب کچھ سمجھا دیا ہے تمہیں کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو گی اور وہاں تم WAO میں زیادہ وقت مت لگانا جلد ہی وہاں سے نکل کر سیانگ چلی جانا۔“

مایا نے اپنے مسلسل بجتے موبائل پر ایک نظر ڈالتے ہوئے اسے پھر سے سمجھایا۔

”ٹھیک ہے۔“ نبیرہ اسے جواب دے کر ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کر دی ابھی وہ گیٹ سے باہر بھی نہ نکلی تھی کہ اس کا فون بج اٹھا اسکرین پر نظر آنے والا نمبر مایا کا تھا جو کچھ دور پیچھے روش پر کھڑی تھی۔

”اب کیا مصیبت ہو گئی۔“ اس نے جھنجھلاہٹ سے سوچتے ہوئے یس کا بٹن دبایا۔

”جی بولیں….“ وہ اپنی بیزاریت کو چھپاتے ہوئے بولی۔

”جاتے ہوئے یاد سے اپنی فوٹوز لے کر مجھے سینڈ کر دینا میں انتظار کروں گی اور ہاں جلدی واپس آنے کی کوشش کرنا تم سے ملنے ایجنٹ نے آنا ہے۔“

”اوکے….“ مختصر سا جواب دے کر اس نے فون بند کر دیا، وہ جانتی تھی کہ یہ مایا کا اسے اپنے جال میں پھنسانے کیلئے پھینکا جانے والا دانا ہے لیکن شاید مایا یہ نہ جانتی تھی کہ نبیرہ جیسے پرندے کو مایا کے دانے کے اب ضرورت نہ رہی تھی۔

اس کا سیل دو دن بند رہنے کے بعد رات ہی مایا نے چارج کرکے دیا تھا جس پر دھڑا دھڑ ربیعہ کے کئی مسیج آچکے تھے جنہیں ابھی تک اس نے کھول کر بھی نہ پڑھا تھا۔ ابھی بھی وہ یہ تمام مسیج WAO جا کر ہی پڑھنا چاہتی تھی لہٰذا خاموشی سے اس نے اپنے ہینڈ بیگ میں فون رکھ کر ابوذر کو بسکٹ کا پیکٹ کھول کر دیا اور خود کھڑکی سے باہر بھاگتے دوڑتے نظاروں پر نظر ڈالنے لگی جب گاڑی ایک جھٹکے کے ساتھ رک گئی اس نے بے اختیار سامنے دیکھا ایک چھوٹی سی مارکیٹ تھی یقینا یہاں کوئی فوٹو اسٹوڈیو تھا جس کی بنا پر ڈرائیور نے ٹیکسی روکی تھی۔

ڈرائیور کے باہر نکلتے ہی وہ بھی خاموشی سے باہر نکل کر اس کے پیچھے اس مارکیٹ میں داخل ہو گئی جہاں سامنے ہی ”فیری کدائی گامبا“ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ ڈرائیور کے ساتھ ہی وہ اندر داخل ہو گئی، وہاں شاید پہلے ہی اس کی آمد کے متعلق علم تھا جاتے ہی اسے اندر ڈارک روم لے جایا گیا تقریباً پندرہ منٹ مختلف زاویوں سے اس کی کچھ تصاویر لی گئیں وہ جانتی تھی کہ پاسپورٹ کےلئے ایسی تصاویر کی ضرورت نہیں ہوتی مگر اس وقت وہ کسی سے بھی جواب طلبی کی پوزیشن میں نہ تھی یہ ہی وجہ تھی کہ خاموشی سے اپنا فوٹو سیشن کروا کر وہ باہر آگئی۔

”تم ویٹنگ روم میں بیٹھو میں ابھی تمہاری فوٹوز لے کر میڈم کو سینڈ کر دوں۔“

اسے اندر ویٹنگ روم میں بٹھا کر ڈرائیور فوراً باہر نکل گیا، نبیرہ خاموشی سے کرسی پر بیٹھ کر آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی اس کا دل گھبرا رہا تھا وہ جلد از جلد یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی تقریباً دس منٹ بعد ہی ڈرائیور واپس آگیا۔ اس نے ہاتھ میں لیب ٹاپ اٹھا رکھا تھا۔

”آجائیں میم….“

دروازے پر کھڑا ہو کر اسے پکارتے ہوئے وہ باہر کی جانب چل دیا نبیرہ بھی اس کی تقلید میں باہر آگئی گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے سکھ کا سانس لیا ٹیکسی کے اسٹارٹ ہوتے ہی مایا کا فون پھر سے آگیا جانے کیوں نبیرہ کو گھر سے WAO کےلئے بھیج کر مایا کچھ بے چین سی ہو گئی تھی۔

”ایسا کرو تم جہاں بھی ہو وہاں سے واپس آجاﺅ WAO کلی چلی جانا آج فوراً واپس میرے گھر آﺅ تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔“ فون کان سے لگاتے ہی مایا کی بے قرار آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

”لیکن کیوں؟“ نبیرہ نے حیرت سے دریافت کیا۔

”دراصل تم سے ملنے اینڈریو آرہا ہے، تم آج اس سے مل لو ہو سکتا ہے وہ ایک، دو دن میں ہی تمہیں پاسپورٹ بنوا دے۔“ ترپ کا ایک او رپتا۔

”اوکے….“ مختصر سا جواب دے کر اس نے فون بند کر دیا مگر اس کا ارادہ واقعی واپس جانے کا نہ تھا یہ ہی سوچ کر وہ خاموشی سے گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی، کچھ ہی دیر بعد وہ WAO کے بڑے سے گیٹ کے سامنے تھی اس نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے ابوذر کو ہاتھ سے تھام کر نیچے اتارا۔

”میم آپ کتنی دیر میں واپس آرہی ہیں؟“ ابھی وہ گیٹ تک ہی پہنچی تھی جب اسے اپنے پیچھے ٹیکسی ڈرائیور کی آواز سنائی دی وہ واپس پلٹی۔

”یہ تم اپنے باقی دس رنگیٹ لے کر یہاں سے جاﺅ مجھے فی الحال واپس نہیں جانا اگر میڈم تمہیں فون کریں تو انہیں بتا دینا کہ میں سیانگ سے ہو کر خود ہی واپس آجاﺅں وہ بے فکر رہیں۔“ ڈرائیور کی ہتھیلی پر دس رنگیٹ رکھ کر وہ تیزی سے WAO کا گیٹ پار کرکے اندر آگئی جہاں آتے ہی اسے تحفظ کے احساس نے اپنے حصار میں لے لیا بے شک یہاں اسے کام کے ساتھ ساتھ سب کی باتیں بھی سننا پڑتی تھیں مگر پھر بھی یہاں وہ محفوظ تھی وہ آنٹی نوما کے آفس کی جانب چل دی۔

”تم نے اپنی کزن سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔“ آنٹی نوما کے آفس میں داخل ہوتے ہی انہوں نے پہلا سوال یہ ہی کیا۔

”نہیں آنٹی دراصل مجھے ٹائم ہی نہیں ملا۔“ وہ جواب دے کر وہیں بیٹھ گئی سب سے پہلے ضروری تھا کہ وہ انہیں، مایا کی تمام حقیقت بتاتی پھر کوئی دوسرا کام کرتی۔

”تو ٹھیک ہے تم ابھی اس سے بات کر لو وہ بے حد پریشان ہے پہلے اسے تسلی دو پھر مجھے بتاﺅ تم خود اتنی پریشان کیوں ہو؟“

آنٹی نوما غالباً اس کے چہرے سے ہی اس کے دل کی کیفیت بھانپ چکی تھیں نبیرہ نے بنا کوئی جواب دیئے اپنا فون نکالا وہاں کوئی دس مایا کی مس کالز تھیں یقینا وہ اسے مسلسل فون کر رہی تھی اور اب کچھ بعید نہ تھا جو وہ کچھ ہی دیر میں یہاں آجاتی لہٰذا ضروری تھا کہ جلد از جلد ربیعہ کو اپنی خیریت بتا کر آنٹی نوما سے بات کی جائے، وہ ان پر واضح کرنا چاہتی تھی کہ اسے اب دوبارہ مایا کے ساتھ واپس نہیں جانا۔

QQQQ

”تم کسی بھی طرح کی پونگ پہنچو فردوس خان آگیا ہے اور وہ تم سے ابھی ملنا چاہتا ہے۔“ شمریز کے اس پیغام نے نبیرہ کے جسم میں بجلی سی بھر دی اس نے جلدی جلدی ابوذر کو تیار کرکے اس کے لمبے بالوں کی دو پونیاں بنائیں شمریز خان کی ہدایت کے مطابق اس نے ابوذر کے حلیے کو مکمل طور پر لڑکیوں والے حلیے میں تبدیل کر دیا تھا، اپنے لمبے بالوں کی پونی اور فراک کے ساتھ وہ لڑکی ہی نظر آتا اگلے تیس منٹ کے اندر ٹرین کے ذریعے وہ کی پونگ پہنچ چکی تھی جہاں ایک پاکستانی ہوٹل کے بڑے سے ہال میں شمریز کے ساتھ فردوس خان بھی موجود تھا پھر اسے دیکھتے ہی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا احترام کا یہ اندازہ نبیرہ کو اچھا لگا۔

”آﺅ بہن بیٹھو ہم تمہارا انتظار کر رہے تھے۔“

وہ ابھی ٹیبل کے قریب پہنچی ہی تھی کہ بنا تعارف کے ہی فردوس خان اسے پہچان گیا وہ خاموشی سے اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔

”تمہیں شمریز نے یقینا میرے بارے میں سب کچھ بتایا ہو گا میں یہیں قریب میں ہی رہتا ہوں یہاں میرے ساتھ میری بیوی اور چار عدد بچے بھی ہیں، میری ہمیشہ سے یہ کوشش ہوتی ہے کہ تم جیسے پریشان اور بے یارو مددگار ہم وطنوں کے کام آسکوں اور مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب بھی کبھی میں اپنی کسی ایسی کوشش میں کامیاب ہوتا ہوں اور یقینا اب بھی ایسا ہی ہو گا کیونکہ میں کبھی بھی اپنے رب کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتا۔“ نبیرہ خاموشی سے سر جھکائے اس کی تمام گفتگو سن رہی تھی۔

”اب ایسا ہے کہ وطن واپسی کیلئے تمہارا پاسپورٹ بننا ضروری ہے جس کیلئے تمہیں پرانے پاسپورٹ کی گمشدگی کی ایف آئی آر بھی لازمی طور پر چاہئے ورنہ اس کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے۔“

”مگر….“ نبیرہ نے گلا کھنکار کر کچھ کہنے کی کوشش کی۔

”میں سب کچھ جانتا ہوں۔“ فردوس خان نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔

”مجھے شمریز نے تمہارے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے، تمہارے پاسپورٹ کی ایف آئی آر کیلئے میں ابھی خود تمہارے ساتھ چل رہا ہوں۔“

بات کے اختتام پر ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا اس کے ساتھ ہی شمریز بھی اٹھ گیا، ان دونوں کی تقلید میں نبیرہ بھی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوٹل سے باہر آگئی اور پھر اگلے ہی دس منٹ بعد وہ فردوس خان کی گاڑی میں مقامی پولیس اسٹیشن پہنچ گئی جہاں اندر داخل ہوتے ہوئے وہ تھوڑا سا گھبرا رہی تھی۔

”ڈرو مت، ایف آئی آر کا اندراج تمہارا قانونی حق ہے جو تم سے کوئی نہیں چھین سکتا، باقی رہے تمہارے اور تمہارے اس خبیث مرد کے اختلافات وہ سب بعد کی باتیں ہیں جس کا تعلق یہاں، اس علاقے کی پولیس سے نہیں ہے۔“ فردوس خان کی تسلی کے بعد وہ اندر داخل ہو گئی۔

”تم یہا ںبیٹھو اگر تمہاری ضرورت پڑی تو میں تمہیں اندر بلوا لوں گا۔“ فردوس خان کی ہدایت کے عین مطابق وہ باہر رکھی کرسی پر ہی بیٹھ گئی اسے حیرت ہوئی جب صرف پندرہ سے بیس منٹ کے اندر اس کے اس پاسپورٹ کی ایف آئی آر درج ہو گئی جس کیلئے وہ پچھلے کئی ماہ سے خوار ہو رہی تھی، ایف آئی کی فیس سات رنگیٹ تھی جو فردوس خان نے خود ادا کی یہ سب کچھ اتنی آسانی سے ہو جائے گا نبیرہ کو یقین ہی نہ آرہا تھا۔

”اب تم یہ ایف آئی آر لے کر سفارتخانے جاﺅ وہاں درخواست جمع کرواﺅ کہ تم کو نیا پاسپورٹ جلد از جلد جاری کیا جائے۔“

فردوس نے پرانے پاسپورٹ کی ایف آئی آر اس کے حوالے کرتے ہوئے سمجھایا نبیرہ نے خاموشی سے اس کے ہاتھ میں تھما کاغذا کا ٹکڑا لے لیا اس کی سمجھ میں نہ آیا وہ فردوس خان کے اس احسان کا شکریہ کس طرح ادا کرے۔

”بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ….“ وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔

”بھائی بھی کہتی ہو اور شکریہ بھی ادا کرتی ہو یاد رکھو بھائیوں کو صرف دعاﺅں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بس ایک بہن کی طرح میرے لئے ہمیشہ دعا کرنا کہ میں تمہیں تمہارے اپنوں کے پاس پہنچانے میں کامیاب ہو سکوں۔“

”انشاءاللہ۔“ قریب کھڑے شمریز نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔

”بس اب تم جاﺅ کل صبح سفارتخانے چلی جانا پھر مجھے بتانا کہ انہوں نے کتنا وقت دیا ہے یہ میرا کارڈ رکھ لو اب جب بھی ضرورت پڑے مجھ سے ہی رابطہ کرنا۔“

وہ کارڈ دے کر باہر نکل گیا، نبیرہ اسے پشت کی جانب سے کھڑی دیکھتی رہی یقینا فردوس خان ایک ایسا فرشتہ تھا جسے شاید قدرت نے اس کا نجات دہندہ بنا کر بھیجا تھا۔

QQQQ

”تم جانتی ہو تم نے مایا کے ساتھ جا کر کتنا خطرناک کام کیا تھا وہ تو تمہاری قسمت اچھی تھی جو بچ گئیں ورنہ آج شاید تھائی لینڈ کے کسی بار میں رل رہی ہوتیں اور تمہارا بیٹا کسی چوراہے پر بھیک مانگ رہا ہوتا۔“ عبدالوہاب غصے سے چیختا ہوا بولا۔

آج مایا نے اس سے ملنے WAO آنا تھا، جس کی بنا پر نوما آنٹی نے صبح ہی اسے سیانگ بھیج دیا تھا، جانے وہ کیوں نبیرہ کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی تھی، اسے مسلسل فون کرتی اس کا کہنا تھا وہ نبیرہ کے کام کے سلسلے میں اینڈریو کو ایک خطیر رقم دے چکی ہے اور اب نبیرہ کے اس طرح مکرنے پر یہ رقم ضائع ہو جائے گی جبکہ نبیرہ اسے بتا چکی تھی کہ اب اسے کسی پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہے مگر پھر بھی وہ باز نہیں آرہی تھی یہ ہی وجہ تھی جو آج اس کا فون آتے ہی وہ ٹیکسی لے کر سپانگ آگئی اور یہاں آتے ہی عبدالوہاب نے اسے آڑے ہاتھوں لیا وہ ان دونوں میاں بیوی کی بے لوث محبت سے واقف تھی اسی سبب اسے عبدالوہاب کی کوئی بات بری نہیں لگی رہی تھی، اپنے اتنے سالہ تعلقات میں اس نے آج پہلی بار عبدالوہاب کو اس قدر غصہ میں دیکھا تھا اور وہ جانتی تھی کہ اس کا یہ غصہ جائز تھا اسی بنا پر وہ خاموشی سے سب کچھ سن رہی تھی۔

”اس نے نیٹ کے ذریعے تمہاری تصاویر یقینا کسی دلال کو بھیجی ہوں گی جس سے وہ تمہارا ایڈوانس بھی پکڑ چکی ہے یہ ہی وجہ ہے جو وہ اس قدر تمہارے پیچھے خوار ہے ورنہ اس تیز رفتار زمانے میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے جو وہ لوگوں کے پیچھے بھاگنے میں ضائع کرے بہرحال آئندہ اگر تم نے کوئی ایسی حرکت کی تو میں ابوذ ر سکندر کے حوالے کرکے تمہیں تن تنہا پاکستان واپس بھیج دوں گا۔“

”ایک منٹ ذرا خاموش ہوں۔“ ربیعہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروایا اور اپنا سیل نبیرہ کی طرف بڑھایا۔

”تمہاری امی کا فون ہے بات کر لو۔“ اس کے کوئی جواب دینے سے قبل ہی ربیعہ اس کے کان سے فون لگا چکی تھی اس نے خاموشی سے سیل تھام لیا۔

”السلام و علیکم مما۔“ وہ گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولی۔

”یہ تم کہاں غائب ہو کوئی اتا نہ پتا تم نے تو ہم سب کو پریشان کرکے رکھ دیا۔“ اس کے سلام کے جواب میں ردا کی متوحش آواز سنائی دی۔

”میں ربیعہ کے گھر ہوں اور اس سے قبل جہاں تھی خدا کا شکر ہے خیریت سے تھی۔“

”دیکھو نبیرہ خدا کے واسطے ابوذر کو اس کے باپ کے حوالے کر دو اور خود خاموشی سے وطن واپس آجاﺅ تم نہیں جانتیں تمہاری اس طرح گمشدگی نے ہمیں کس قدر پریشان کر رکھا ہے اوپر سے دنیا والے طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں ایک جوان اور خوبصورت لڑکی کا یوں تن تنہا پھرنا کتنی بدنامی کا باعث ہوتا ہے تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے؟ اوپر سے سکندر نے ہمیں فون کر کرکے ہلکان کر رکھا ہے بس بہت ہو گیا تم آج ہی سانپ کی اولاد اس کے باپ کے حوالے کرو اور اس سے اپنے کاغذات واپس لو، یہاں آتے ہی تم تمہاری شادی سنان سے کر دیں گے۔“

”سنان….“ وہ چونکی اسے سوچنے پر بھی یاد نہ آیا کہ یہ نام اس نے پہلے کہاں سنا ہے۔

”مما یہ سنان کون ہے؟“ اس نے غائب دماغی سے دریافت کیا۔

”کیا مطلب تمہارا تم سنان کو نہیں جانتیں۔“

دوسری طرف ردا کو ایسا محسوس ہوا جیسے نبیرہ اپنے حواسوں میں بھی نہ ہو اس کے اس سوال نے ردا کو تھوڑا سا پریشان کر دیا۔

”نہیں مما میں صرف اور صرف ابوذر کو جانتی ہوں اس کے علاوہ میں دنیا کے کسی اور مرد کے نام سے واقف نہیں لہٰذا بہتر ہو گا آج کے بعد آپ مجھ سے کبھی بھی زندگی میں سنان کا ذکر دوبارہ نہ کریں۔“

”میری بات سنو نبیرہ یہ سب ڈرامہ ختم کرو، سکندر کا بیٹا اس کے حوالے کرکے خود پاکستان واپس آﺅ جانتی ہو تمہاری اس حرکت نے سکندر اور اس کی ماں کو کتنا پریشان کیا ہے آنٹی فاطمہ ابوذر کے غم میں ہاسپٹلائزڈ ہیں۔“

غالباً جنید نے ردا کے ہاتھ سے فون لے لیا تھا اور اب وہ نبیرہ کو خوب لتاڑ رہا تھا نبیرہ نے اپنے کان سے فون ہٹا کر حیرت سے دیکھا اسے یقین ہی نہ آیا کہ دوسری طرف اس کا اپنا سگا بھائی بول رہا ہے جسے نبیرہ سے زیادہ سکندر اور اس کی ماں کی فکر تھی یہ اس کا ماں جایا تھا جو ہر مقام پر اس کے راستہ میں حائل ہونے کی کوشش کرتا جانے اس کی یہ کوشش دانستہ ہوتی یا نادانستہ یہ بات آج تک وہ سمجھ نہ پائی تھی مگر اس وقت جنید کی اس گفتگو نے اس کی طبیعت کو خاصا مکدر کر دیا اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی تھوڑی سی تلخ ہو گئی۔

”جنید بھائی ابوذر میرا بیٹا ہے آنٹی فاطمہ کا نہیں اگر میں حماد کے بغیر زندہ ہوں تو سکندر کو بھی ابوذر کی جدائی سہنی پڑے گی، مرد ہونے کی خود ساختہ برتری اسے ”ماں“ کے رشتے پر فوقیت نہیں دیتی میں دو بچے جنم دے کر صرف ایک کی حق دار ہوں تو وہ کس بل بوتے پر مجھ سے میرا یہ حق چھینا چاہتا ہے اور معاف کیجئے گا کبھی میری جگہ رحاب بھابی کو رکھ کر سوچئے گا تو آپ کو پتا چلے گا اولاد کا دکھ کیا ہوتا ہے۔“ وہ بات کرتے کرتے رو پڑی۔

”دیکھو نبیرہ میری بات سمجھنے کی کوشش کرو میں جو کچھ کہہ رہا ہوں تمہارے ہی بھلے….“ جنید کی بات درمیان میں ہی رہ گئی جب بالکونی کے دروازے سے گھبرایا ہوا عبدالوہاب اندر داخل ہو وہ خاصا حواس باختہ تھا۔

”جلدی سے فون بند کرو۔“

اس کی گھبراہٹ دیکھ کر نبیرہ پہلے ہی فون بند کر چکی تھی اسے اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹی کی آواز سنائی دے رہی تھی وہ ہڑبڑا کر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی ”جلدی یہاں سے نکل کر کسی محفوظ پر پہنچو ابھی ابھی مجھے عبد الرحمن (سکینہ کا شوہر) نے فون پر اطلاع دی ہے کہ سکندر پولیس کے ساتھ ہمارے گھر ہی کی طرف آرہا ہے۔“

عبدالوہاب کی بات ختم ہونے سے پیشتر ہی نبیرہ نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا اور تیزی سے آگے بڑھ کر ابوذر کو گود میں لے لیا جو اس اچانک افتاد سے گھبرا کر رونے لگا اس کے فرائز بھی ٹیبل پر ہی بکھر گئے۔

”ایک منٹ عبدالوہاب اسے کچھ کھا تو لینے دیں صبح سے صرف چائے ہی پی ہے۔“ ربیعہ جو ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی اسے اس طرح جاتا دیکھ کر برداشت نہ کر سکی اور فوراً ہی عبدالوہاب کو ٹوک بیٹھی۔

”نہیں اس خبر نے میری بھوک کو بالکل ختم کر دیا ہے یہاں سے نکل کر کچھ کھالوں گی کیونکہ زندہ رہنے کیلئے کھانا ضروری ہے پہلے مجھے یہاں سے نکلنے دو۔“

اسے رہ رہ کر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ سکندر کو اس کی ربیعہ کے گھر موجودگی کی خبر جنید نے دی ہے جانے اس نے ایسا کیوں کیا؟ شاید بہن کی محبت میں یا اس احساس کے تحت کہ پردیس میں جانے وہ کہاں کہاں خواری کرتی پھر رہی ہے، جو بھی تھا جنید نے یہ اچھا نہ کیا تھا اوریہ بات تو یقینا ربیعہ اور عبدالوہاب بھی جان چکے تھے کیونکہ اس کی یہاں موجودگی کی خبر صرف اور صرف اس کے گھر والوں کو ہی تھی جو یہ چاہتے تھے کہ وہ ابوذر سکندر کے حوالے کر دے۔

”رکو نبیرہ ایک منٹ میری بات سنو۔“

باہر نکلتے نکلتے اسے دروازے پر ہی عبدالوہاب نے روک دیا۔

”تم ربیعہ کے ساتھ جاﺅ یہ تمہیں بلڈنگ کے پچھلے گیٹ سے نکالے گی اور پھر تمہیں کسی شاپنگ مال یا پبلک پارک میں چھوڑ دے گی جہاں سے پولیس کی تلاشی کے بعد یہ تمہیں پھر سے واپس پک کر لے گی۔“

اسے ہدایات دے کر عبدالوہاب کوئی نمبر پریس کرتا واپس بالکونی کی جانب چلا گیا شاید وہ پھر سے عبد الرحمن سے رابطہ کر رہا تھا، کچھ عرصہ قبل تک تو سکندر اسے خود بھی فون کر لیتا تھا لیکن پچھلے دنوں کسی بات پر عبدالوہاب نے اسے بری طرح لتاڑ دیا تھا جس کے باعث اب ان دونوں کے درمیان بات چیت بالکل بند تھی، ربیعہ گاڑی کی چابی لے کر اس کے ساتھ ہی باہر آگئی اور لفٹ کے ذریعے نیچے بیسمنٹ میں چلی گئی جہاں اس کی گاڑی کھڑی تھی جبکہ نبیرہ نے نیچے اترنے کےلئے سیڑھیاں استعمال کیں وہ جانتی تھی کہ سکندر اوپر جانے کیلئے ہمیشہ لفٹ استعمال کرتا تھا سیڑھیاں اتر کر وہ پچھلے گیٹ سے باہر آگئی جہاں پہلے ہی ربیعہ گاڑی لئے اس کا انتظار کر رہی تھی تھوڑی دیر بعد ہی ربیعہ اسے ایک شاپنگ مال پر اتار کر واپس چلی گئی وہ ابوذر کو لئے اندر داخل ہوئی ربیعہ نے گھر سے نکلتے ہوئے ابوذر کے فرائز اور اس کیلئے چکن بریانی پیک کرکے بیگ میں رکھ دیئے تھے۔

لیکن یہاں مال میں پھرتے ہوئے وہ کچھ کھا نہ سکتی تھی اور نہ ہی ابوذر کو دے سکتی تھی جگہ جگہ لکھی وارننگ کے تحت یہاں کھانے پینے کی اشیاءاندر لانے کی سخت ممانعت تھی اس نے کچھ دیر ونڈو شاپنگ کی، پھر ابوذر کی ضرورت کی ایک دو چیزیں خریدنے کے علاوہ اپنے لئے بھی ایک پرفیوم خریدا، کسی زمانے میں وہ پرفیوم بڑے شوق سے استعمال کرتی تھی مگر اب دیگر دوسرے کاموں کی طرح اس کا یہ شوق بھی اپنی موت آپ مر گیا تھا وہ مال کے تیسرے فلور پر تھی جب اسے ربیعہ کی کال آگئی۔

”مال سے باہر آجاﺅ میں تمہیں لینے آرہی ہوں۔“

”سکندر واپس چلا گیا؟“

”وہ نہیں آیا تھا صرف پولیس تھی بہرحال عبدالوہاب نے فون کرکے اس کی بے حد بے عزتی کی ہے غیرت مند ہوا تو اب کبھی بھی اس طرف نہ آئے گا۔“ وہ غیرت مند نہیں تھا یہ بات نبیرہ سے زیادہ کون جان سکتا تھا آخر اسے سات سال تک اس کی بیوی ہونے کا عظیم اعزاز حاصل رہا تھا۔

”نہیں ربیعہ اب مجھے لینے مت آنا میں WAO واپس جا رہی ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ سکندر تمہارے اپارٹمنٹ کے نیچے ہی کہیں موجود میرا انتظار کر رہا ہے اسے یقین ہے کہ میں باہر سے اندر یا اندر سے باہر ضرور نکلوں گی۔“

”اوہ یہ تو میں نے سوچا بھی نہ تھا ہو سکتا ہے تمہاری بات درست ہو۔“ ربیعہ اس کے خیال سے فوراً ہی متفق ہو گئی۔

”چلو اللہ حافظ میں اب واپس WAO جا رہی ہوں دعا کرنا خیریت سے پہنچ جاﺅں۔“

باہر نکل کر وہ دھیرے دھیرے فٹ پاتھ پر چلنے لگی، ہلکی ہلکی بارش نے موسم کو خاصا خوشگوار بنا دیا تھا ساتھ ساتھ تیز چلتی ہوائیں اسے احساس دلا رہی تھیں کہ شاید کچھ ہی دیر میں بارش تیز ہو جائے، اس نے روڈ کے ساتھ ہی بنی ایک چھوٹی سی دکان سے چھتری خریدی اور اپنے اوپر تان کر ابوذر کو گود میں لے لیا اور فوراً ہی پاس سے گزرتی ٹیکسی کو ہاتھ دے کر روک لیا پہلے اس کا ارادہ ٹرین سے واپس جانے کا تھا مگر ایک تو سارے دن کی خواری اور بھوک پیاس کے علاوہ تیزی سے بدلتے اس موسم نے اس کے ارادے کو ڈانواں ڈول کر دیا ویسے بھی احتشام صاحب نے اس کیلئے خاصی بڑی رقم عبدالوہاب کے اکاﺅنٹ میں بھیج دی تھی جو یہاں کی کرنسی میں تبدیل ہو کر کم ضرور ہوئی تھی مگر پھر بھی اس کی کئی ضروریات کےلئے کافی تھی۔

پٹانگ جایا کے طے کردہ کرایہ کے مطابق اس نے آدھی رقم ایڈوانس کے طور پر ڈرائیور کے حوالے کی اور خود سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں اس سے قبل وہ بیگ سے فرائز نکال کر ابوذر کے حوالے کرنا نہ بھولی کیونکہ جانتی تھی کہ ابوذر بھوکا ہے مگر شاید یہ کچھ قدرتی عمل تھا یا وقت کا تقاضا اس نے شروع دن سے ہی ابوذر کو خاصا صابر و شاکر کر دیا تھا وہ دوسرے بچوں کی مانند کھانے پینے یا کھلونوں کیلئے کبھی بھی ضد نہ کرتا تھا ابھی بھی اس کے ہاتھ سے باکس لے کر وہ خاموشی سے اندر موجود فرائز کھانے لگا جبکہ اس کے ذہن میں رہ رہ کر ایک ہی خیال آتا رہا کہ آج اگر عبد الرحمن بروقت عبدالوہاب کو فون نہ کرتا تو کیا ہوتا؟ شاید ابوذر اس کے ساتھ نہ ہوتا اور اگر ایسا ہوتا تو یقینا وہ مر چکی ہوتی کیونکہ ابوذر کے بغیر وہ زندگی کا ایک لمحہ بھی نہ گزار سکتی ابوذر اس کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا تھا۔

”تم واپس آجاﺅ ہم تمہاری شادی سنان سے کر دیں گے۔“ کوئی اس کے کان کے قریب بولا اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں ٹیکسی تیزی سے ہائی وے پر اپنا سفر طے کر رہی تھی اس کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ خود بخود ابھر آئی۔

”جانے تمہیں اس نکمے سنان میں کیا نظر آرہا ہے جانتی ہو پچھلے دو سالوں میں وہ بی اے نہیں کر سکا جبکہ ماشاءاللہ امان اپنی تعلیم مکمل کرنے والا ہے۔“ یہ آواز بھی اس کی کی ماں ہی کی تھی آواز تو آج بھی وہ ہی تھی مگر الفاظ تبدیل ہو چکے تھے اور یہ تضاد گزرتے وقت نے پیدا کیا تھا۔

”جانتی ہو سنان آج کل ڈر گزلے رہا ہے۔“ کافی عرصہ قبل کہا گیا شفا کا یہ جملہ اسے آج بھی من و عن یاد تھا، اس جملے کو وہ جب بھی یاد کرتی اس کا حساس دل دکھ سے بھر جاتا سچ تھا اگر سکھی وہ نہ تھی تو خوش سنان بھی نہ تھا یہ ہی سوچتے ہوئے اس نے بیگ میں ہاتھ ڈالا، اندر کی زپ کھول کر ایک سم برآمد کی، کچھ سال پرانی سم میں پرانے والے سنان کے پیغامات نے سکندر کو اس سے جان چھڑانے کےلئے ایک نئی راہ دکھائی تھی، اس نے الٹ پلٹ کر اس سم کو دیکھا اور پھر اپنے موبائل میں موجود سم کی جگہ اسے لگا دیا کچھ دیر بعد موبائل آن کرکے اس نے ایک باکس کھولا جہاں آج بھی سنان کے کچھ ٹیکسٹ موجود تھے اس نے کانپتے ہاتھوں سے پہلے ٹیکسٹ کو کلک کیا۔

ہم نے کہا اگر بھول جائے ہمیں تو کمال ہو جائے

ہم نے تو فقط بات کی اور اس نے کمال کر دیا

اس نے بارہا کا پڑھا ہوا یہ شعر پھر سے پڑھا اور پھر اگلے مسیج پر آگئی۔

”یہ میرا خود سے عہد ہے زندگی میں دوبارہ کبھی کسی سے محبت نہ کروں گا یقین نہ آئے تو کبھی پلٹ کر دیکھنا ضرور۔“

اس کی آنکھیں نم ہو گئیں، اس سے زیادہ کی اس میں تاب نہ تھی اس نے موبائل آف کرکے پھر سے بیگ میں رکھ دیا ویسے بھی وہ WAO پہنچے والی تھی وہ سفر جو ٹرین سے تقریباً پینتالیس منٹ کا تھا، ٹیکسی سے صرف پچیس منٹ میں ہی طے ہو گیا۔

وہ پاکستان ایمبیسی اپنی درخواست جمع کروا آئی تھی ساتھ ہی اس نے پاسپورٹ کی گمشدگی کی ایف آئی آر بھی لگا دی تھی وہاں سے اسے ایک ماہ کا ٹائم دیا گیا تھا اب یہ ایک ماہ اسے جیسے تیسے WAO میں ہی گزارنا تھا، مایا کے گھر سے واپسی پر اس کا کمرا لیڈا کو دے دیا گیا تھا جو ایک انڈونیشن طالبہ تھی ملائیشیا اپنی تعلیم مکمل کرنے آئی تھی مگر جانے کن چکروں میں پھنس گئی اب وہ اٹھارہ سالہ لڑکی ایک دو ماہ کے بیٹے کی ماں تھی جانے کن وجوہات کی بنا پر وہ WAO میں پنا ہ لینے پر مجبور ہوئی تھی اس کے بارے میں نبیرہ نے کبھی جاننے کی کوشش نہ کی البتہ اسے یہ ضرور علم تھا کہ وہ یہاں اپنے امتحانات تک مقیم ہے جن کے ختم ہوتے ہی اس نے واپس انڈونیشیا چلے جانا تھا۔ اب وہ خود سہتی کے ساتھ اس کا کمرا شیئر کرتی تھی اور نہ صرف اپنا بلکہ سہتی کے حصہ کا کام بھی اسے ہی کرنا پڑتا جس پر اسے کوئی اعتراض نہ تھا پھر بھی وہ چاہتی تھی کہ جلد از جلد اسے پاسپورٹ مل جائے تاکہ وہ اپنے وطن واپسی کی راہ لے کیونکہ اس کی یہاں موجودگی اسے کسی بھی وقت ابوذر سے جدا کر سکتی تھی جو وہ نہ چاہتی تھی۔

QQQQ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ساڈا چڑیا دا چنبا..نفیسہ سعید..قسط نمبر 9

ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 9 اپنے ہاتھ میں پکڑے اس سبز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے