سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی! ضیاء شہزاد ٬٬قسط نمبر 4

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی! ضیاء شہزاد ٬٬قسط نمبر 4

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی!

ضیاء شہزاد
٬٬ آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا،،
قسط نمبر 4

بدرو تایا اور ابا کے آتے ہی انہوں نے جو کچھ بتایا تھا اسے سن کر سب کے چہرے فق ہو گئے اور سب باری باری ایک دوسرے کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگے ۔ کچھ دیر یہی کیفیت رہی پھر دادا نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور بولے ۔٬٬ اس کا مطلب ہے کہ ہندوﺅں نے جو منصوبہ بنایا ہے اس پر اب عمل بھی شروع کر دیا ہے، رحمان حلوائی کے بھائی کا مارا جانا بہت بڑا صدمہ تو ہے ہی لیکن ۔ ۔ ۔ لیکن اب ہمیں سچ مچ کچھ سوچنا ہی ہوگا ۔،،
٬٬ ابا ،ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اقلیت میں ہیں، ان کی اکثریت ہے۔ پورے گاﺅں کی کل آبادی تیرہ سو کی ہے ۔ اس میں مسلمان صرف دو سو یا کچھ اوپر ہیں ۔ بنیادی طور پر تو باول ہندوﺅں کی ہی آبادی ہے ۔ مسلمان تو یہاں بھولے بھٹکے یا کاروبار کے لئے آ کر بس گئے تھے۔،، بدرو تایا نے بتایا تو دادا کو غصہ آ گیا ۔ آنکھیں نکال کر کڑک دار آواز میں بولے ۔٬٬ ابے کیا بک رہے ہو، اس گاﺅں پر جتنا حق ہندوﺅں کا ہے اتنا ہی مسلمانوں کا بھی ہے ۔ ہمارے باپ دادا یہیں پیدا ہوئے تھے ۔ مجھے اچھی طرح سے ہوش ہے کہ میرے دادا بھی یہاں دفن ہیں۔،،دادا کچھ دیر کے لئے رکے اور پھر بولے۔٬٬ ہم لوگ بساطی ہیں ۔بساطی کا کام تجارت کرنا ہے جہاں اسے روزگار ملے گا وہ وہیں جائے گا ۔ ہم اگر یہاں کے نہیں ہیں تو پھر کہاں کے ہیں ہم نے ہندوﺅں کو ان کی بنیادی ضروریات بیچی ہیں ۔ ان کا خیال رکھا ہے ، وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ گاﺅں ہمارا نہیں ہے ۔،،
٬٬ ابا یہ وقت بحث کا نہیں ہے ۔، میرے ابا ڈرتے ڈرتے بولے ۔ ، رحمان کے بھائی کا قتل ہو گیا ہے ہمیں اس کے پاس جانا چاہئے۔،،۔ ابا بولے
٬٬ہاں ٹھیک کہہ رہا ہے تو ، اس کے پاس جائیں گے لیکن جھٹ پٹ یہ بھی سوچنا ہے کہ جو حالات بدل رہے ہیں اس میں اپنا اور بچوں کا کیسے خیال رکھنا ہے۔،، دادا نے کہا ۔٬٬ یاد ہے دسہرے پر بھی اسی قسم کی دھینگا مشتی کی تھی ہندوﺅں نے ۔ پنڈت نے اسوقت بھی زہر گھولا تھا مگر میں نے راجہ ٹھاکر داس جی سے مل کر معاملہ سنبھال لیا تھا ۔،،
دادا نے سب لوگوں کو عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے ابا سے کہا٬٬ میں نے اس وقت تمہارے بڑے بیٹے نورالدین کو دلی میں تمہارے بھائی امام الدین کے پاس بھجوا دیا تھا ۔ دسہرے پر ہندوﺅں نے اسے اٹھا لیا تھا ۔ وہ تومیں دوڑدھوپ کر کے ان سے چھڑوالیالیکن اسی وقت اسے گاﺅں سے بھیجنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔،، داد اتھوڑی دیر کے لئے رکے ، پھر سب سے مخاطب ہوئے٬٬ ابے کیا بھول گئے تم سب۔،،
٬٬نہیں ابا ، ہمیں یاد ہے ۔ ،،کلو تایا بولے ۔٬٬ یہ صلا میں نے ہی دی تھی اس وقت کہ نورو کو فوراًًیہاں سے بھجوا دو، فاروق اور سلام تو پھر بھی بڑے تھے لیکن وہ ابھی چھوٹا تھااس لئے اس پر ہاتھ ڈالا گیا ۔،،
٬٬ ہاں یہ ضیاءالدین بھی ابھی چھوٹا ہے، ان حرام زادوں کا کیا بھروسہ کل کلاں کو وہ اسے بھی اٹھا کر لے جائیں ، یہ مسلمانوں کے بچوں کو اٹھا کر اس لئے لے جاتے ہیں کہ انہیںشدھی کیا جا سکے ۔ کئی بچوں کے ساتھ وہ ایسا ہی کر چکے ہیں ۔اب جو حالات بگڑ رہے ہیں تو مجھے اس کی فکر ہو رہی ہے۔ ،،
٬٬ ابا میں جا رہا ہوں رحمان کی طرف،اگر کوئی میرے ساتھ چلنا چاہے تو بتا دے ورنہ میں اکیلا ہی چلا جاﺅں گا ۔،، تایا کلو نے کہا
٬٬ نہیں ان حالات میں تو اکیلا نہیں جا سکتا ، میں بھی تیرے ساتھ چلوں گا۔،، دادا اپنی چارپائی سے اٹھ کھڑے ہوئے
٬٬ نہیں ابا، میں کلو بھائی کے ساتھ چلا جاتا ہوں،، ابا بولے، بھائی بدرالدین آپ کے ساتھ گھر پر ہی رہیں گے۔،، پھر وہ فاروق سے مخاطب ہوئے ٬٬ اور ہاں بھابی خیرن کو یہی گھر لے آﺅ ، وہ اکیلی پریشان ہو رہی ہوگی۔،،
دادا خاموش ہو رہے۔ کلو تایا اورابا رحمان بھائی کی طرف چلے گئے ۔
میں بھی اماں کے پاس اپنے کمرے میں آگیا۔ وہ بھی پریشان تھیں، مجھے اپنے سینے سے چمٹاکر بولیں ٬٬ اب تو یہیں میرے پاس رہے گا ، تیرا کیا کام ہے بڑے لوگوں کے پاس بیٹھنے کا اوران کی باتیں سنتا ہے ۔تو ابھی بچہ ہے ۔،،
میں اماں کی ڈانٹ سن کر ان سے چمٹ گیا اور انہوں نے بھی مجھے اپنی گود میں بھرلیا اور پیار کرنے لگیں۔مجھے اماں کی گود میں بڑا سکون مل رہا تھااور اس کے ساتھ ہی میرا ذہن ہوا میں اڑ رہا تھا ۔ مجھے طرح طرح کے خیال آ رہے تھے۔ دادا کی کلو ابا سے باتیں ۔ رحمان حلوائی اور اس کے بھائی کے مرنے کی بات۔ پھر تایا بدرو اور میرے ابا کا رحمان حلوائی کی طرف جانا۔ کیوں گئے ہیں وہ ، انہیں نہیں جانا چاہئے تھا ۔ حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ اسی لمحے مجھے اپنے بڑے بھائی نورالدین کا خیال آیا ۔ وہ مجھ سے کوئی چھ سات سال بڑے تھے ، میں نے آنکھ کھولنے کے بعد ان کے ساتھ ہی کھیلنا شروع کیا تھا ۔ پہلی بار ابا کی دوکان پر بھائی نور الدین کے ساتھ ہی گیا تھا ۔ مجھے یہ بھی یاد آیا کہ انہیں ہندوﺅں نے اٹھا لیا تھا تو گھر والوں کا کیا حال تھا ۔ دادا تو لڑنے مرنے پر تیار ہو گئے تھے ۔ پھر کئی گھنٹوں کے بعد بھائی کو ہندوﺅں سے چھڑ وا کر لایا گیا ۔ اس روز رات میں بیٹھک لگی تھی ۔سب لوگوں نے یہی کہا تھا کہ نورالدین بھائی اور مجھے امام الدین تایا کے پاس دلی بھجوا دیا جائے تاکہ ہم محفوظ رہ سکیں ۔ میں چھوٹا تھا اس لئے اماں کسی صورت تیار نہ ہوئیں ۔انہوں نے کہا تھا کہ ووہ بھی دونوں بچوں کے ساتھ دلی جائیں گی ۔ پورا گھر الٹ پلٹ ہو رہا تھا ۔ آخر اس بات کا فیصلہ ہوا کہ میں یہیں اماں کے پاس رہوں گا اور بس بھائی نورالدین کو دلی بھیجا جائے گا۔ اس فیصلے کے دوسرے ہی دن رات کی پسنجر گاڑی سے بدر الدین تایا انہیں لے کر دلی چلے گئے تھے ۔ اب وہ ایک سال سے دلی میں ہی تھے ۔ بس ابا ایک بار ان سے مل کر آئے تھے ۔ وہ دلی میں بہت خوش تھے ۔ تایا امام الدین نے انہیں گھر کے پاس ہی ایک اسکول میں داخل کروادیا تھا ۔ ان کے جانے کے بعد ہی میری گلو سے دوستی ہوئی تھی ۔ وہ ہمارے پڑوس میں ہی رہتا تھا اور میری عمر کا ہی تھا لیکن قد میں مجھ سے بڑا لگتا تھا ۔ اس کا ابا سرائے میں گاﺅں کی مسجد کے برابر بنے ہوئے کنویں سے اپنی مشک میں پانی بھرتا تھا اور کئی گھروں میں پانی ڈالتا تھا ۔ ہمارے گھر میں بھی وہی پانی ڈالتا تھا۔ سردیاں شروع ہوئیں تو دھوپ سینکنے کے لئے ایک دن بھائی اسلام مجھے گھر سے باہر لے گئے تھے اور وہیں میری ملاقات گلو سے ہوئی تھی ۔ وہ بھی دھوپ کھانے کے لئے ٹیلے پر بیٹھنے کے لئے آیا تھا اور پھر ہماری دوستی ہو گئی اور ہم روز دھوپ میں بیٹھنے لگے تھے۔ کلو تایا سے ہماری لڑائی تھی ۔ داداان سے ناراض تھے اس لئے فاروق بھائی بھی کبھی کبھی وہاں آجاتے تھے ۔ وہ مجھ سے کافی بڑے تھے مگر بھائی اسلام سے چھوٹے تھے ۔ وہ بڑی پیاری پیاری باتیں کرتے تھے ۔ کبھی وہ بندر کی آواز نکالتے تھے ۔ کبھی اچھل کود کر عجیب عجیب حرکتیں کرتے تھے اسلئے جی تو چاہتا تھا کہ ان کے ساتھ ہر وقت رہوں لیکن دادا کے ڈر کی وجہ سے وہ بھی کبھی کبھی آتے تھے اور ہم کبھی کبھی ملتے تھے۔ پہلی بار کٹارے والی حویلی کی طرف میں ان کے ساتھ ہی گیا تھا ۔گلو بھی میرے ساتھ تھا ۔ وہاں سے ہم نے کٹارے چن چن کر کھائے تھے ۔ حویلی کے پاس بندر بہت تھے جو درختوں پر اور حویلی کی دیواروں پر بیٹھے رہتے تھے ۔ مجھے ان بندروں سے بڑا ڈر لگا تھا ۔ بندر ہمارے گھر پر بھی بہت آتے تھے مگر یہاں جو بندر تھے وہ بڑے بڑے تھے ۔فاروق بھائی ان بندروں کی نقل اتارتے تھے جس کی وجہ سے وہ ہماری طرف اچھل چھل کر آتے ۔ مجھے ڈر لگا تو میں رونے لگا اور پھر فاروق بھائی مجھے گودمیں اٹھا کر وہاں سے گھر لوٹ آئے۔ اس کے بعد میں کئی بار بھائی اسلام کے ساتھ وہاں گیا تھا۔ بھائی اسلام نے ایک بار بتایا تھا کہ کٹارے والی حویلی میں جن بھوت رہتے ہیں جو شام کے وقت نکلتے ہیں اس لئے وہاں سناٹا رہتا تھا اور کوئی نہیں جاتا تھا۔ مجھے رہ رہ کر ڈر لگ رہا تھا کبھی میرے ذہن میں کوئی بات آتی اور کبھی کچھ خیال آتا ۔ اماں مجھے تھپک کر سلانا چاہ رہی تھی مگر میں بس آنکھیں بند کئے ہوئے ان کی گود میں پڑا ہوا تھا ۔ اچانک اسی وقت شور کی سی آواز سنائی دی ۔ جے بج رنگ بلی ۔ ۔ ۔ جے بج رنگ بلی ۔ ۔ ۔
آوازیں سن کر میں اٹھ کے بیٹھ گیا ۔ اماں بھی بڑ برائی ٬٬ ہندو آگئے حرام کے پلے ۔ ۔
اس کے ساتھ ہی گھر میں ابا اور کلو تایا بھی آگئے ۔ وہ بڑے پریشان دکھائی دے رہے تھے ۔ ان کے آنے سے دادا بھی اپنے کمرے سے باہر نکل آئے اور ابا اور کلو تایا کو دیکھ کر بولے ٬٬ ابے کیا ہوا کیوں واپس آ گئے ، یہ ہندو کیوں شور مچا رہے ہیں۔،،
دادا کی کڑک دار آواز سن کر اماں بھی مجھے گود میں لے کر کمرے سے باہر نکل ٓئی۔
٬٬ابا حالات تو بہت ہی خراب ہو گئے ہیں ، سرائے میں بھی مسلمان اکٹھے ہو گئے ہیں بلکہ وہ ہمارے گھر ہی کی طرف آ رہے ہیں ۔ مگر میں نے انہیں روک دیا ہے کہ ابھی مت آﺅ پہلے دادا سے پوچھ لیں جب وہ بلائیں گے تو سب لوگ آجانا ۔ ،، کلو تایا بولے ۔ ٬٬ ہم رحمان حلوائی کی طرف جارہے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ ہماری دوکان کی طرف بہت سے ہندو جمع ہیں ۔ ان کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں ، اپنے ہاتھوں میں لاٹھیاں اٹھا رکھی ہیں اور جے بج رنگ بلی کے نعرے لگا رہے ہیں ، انہوں نے ہمیں دیکھا تو اور زور زور سے نعرے لگانے لگے ۔ ہم وہیں رک گئے اور گھر کی طرف واپس آنے لگے تو سرائے میں جو مسلمانوں کے گھر ہیں وہ بھی اپنے گھروں کے باہر جمع ہیں ۔انہوں نے جب ہمیں دیکھا تو ہمارے پاس آ کر بولے کہ ہمیں دادا سراجو سے ملنا ہے ، گاﺅں میں تو وہی ہمارے بڑے ہیں۔،،
دادا یہ سن کر پریشان ہو گئے ، اب گھر کے صحن میں سب ہی جمع تھے ۔ بدرو بڑے ابا، کلو تایا ، بھائی اسلام اور فاروق بھائی بھی جو تائی خیرن کو لے کر آ چکے تھے ۔ ٬٬ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ دن بھی آئے گا ۔دسہرے پر بھی حالات بگڑے تھے ۔ پنڈت نے اس وقت نبھی حالات بگاڑنے کا سوانگ رچایا تھا مگر میں نے راجہ ٹھاکر داس سے مل کر حالات کو بگڑنے اور خون خرابہ ہونے سے بچا لیا تھا ۔ میری اگر اب بھی راجہ ٹھاکر سے ملاقات ہو جائے تو میرا دل کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہو جا ئے گا۔،،
٬٬نہیں ابا، راجہ ٹھاکر سے ملاقات ہونا بہت مشکل ہے ۔،، میرے ابا نے کہا ۔٬٬ ایک تو ہندوﺅں نے گھیرا ڈالا ہوا ہے ، دوسرے اب حالات پہلے جیسے نہیں ہیں ۔اس وقت پاکستان نہیں بنا تھا ۔ اب پاکستان بن گیا ہے تو ہندو ہماری جان کے دشمن ہو گئے ہیں۔،،
٬٬ ہاں یہ پاکستان کے بننے سے ہی تو سارے حالات خراب ہوئے ہیں ۔ ہم پہلے بھی تو ساتھ رہ رہے تھے، ہماری ہندوﺅں سے کوئی لڑائی نہیں تھی مگر یہ پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔
٬٬ ابا پاکستان بننا ضروری تھا یہ مسلمانوں کے لئے بنا ہے ، آپ کو اندازہ نہیں کہ کہ ہم ہندوﺅں کے ساتھ رہ کر کیسے جی رہے ہیں ۔ ،، تایا بدرو بیچ میں بول پڑے۔ ٬٬ اگر ہم لڑنے مرنے والے نہیں ہوتے ، ہمارے پاس کچھ ہتھیار نہ ہوتے تو ہندو ہمیں کبھی کا یہاں سے بھگا چکے ہوتے۔،
٬٬ابے میں بھی اپنی ساری زندگی ہندوﺅں کے ساتھ رہ کر ہی گزری ہے ، میرا باپ بھی اور اس کا باپ بھی یہیں ان کے ساتھ رہتا تھا ، چھوٹے موٹے جھگڑے ہوتے تھے لیکن پھرمیل جول بھی ہو جاتا تھا ۔ کیا بھائی بھائی آپس میں نہیں لڑتے۔ ۔ ۔
٬٬ نہیں با با ، تمہارے اور ہمارے زمانے میں بڑا فرق ہو گیا ہے ۔ ،، کلو تایا بول پڑے ۔٬٬ میری ہندوﺅں سے بھی دوستی ہے لیکن میں ان کی رگ رگ سے واقف ہوں ، وہ مطلب کے لئے ہمارے ساتھ ہیں ورنہ ان کی آنکھوں میں ہمیشہ سور کا بال رہا ہے، اب بحث کا وقت گزر گیا ہمیں جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا ۔،،
٬٬ ابے تو کیا ہم اپنا گھر چھوڑ کر چلے جائیں؟۔،، دادا کو غصہ آگیا۔ میری پوری جوانی بیت گئی ہے اس گھر بار کو بنانے میں ، خون دیا ہے پسینہ بہایا ہے میں نے ، کیا سب یوں ہی چلا جائے گا ۔،،
تو پھر ہم سب کو مرنے کے لئے تیار ہو نا پڑے گا ۔ گاﺅں میں ہندو زیادہ اور مسلمان بہت کم ہیں ۔دلی پر بھی ہندو حکومت کر رہا ہے۔ ہندوﺅں کی مدد کو سب آجائیں گے ہماری مدد کوئی بھی نہیں کرے گا بابا۔،، کلو تایا بھی جوش میں آکر بولے۔٬٬ نہ ہم مریں گے نہ اپنے بچوں کو مرنے دیں گے ۔ہمیں گاﺅں چھوڑنا ہی پڑے گا۔ ۔ ۔ ۔
جے بج رنگ بلی ۔ ۔ ۔ جے بج رنگ بلی ۔ ۔ ۔ جے بج رنگ بلی کی آوازیں آنے لگیں اور بہت سے لوگوں کا شور مچا۔ ایسا لگ کہ
وہ لوگ ہماری حویلی کے دروازے پر آگئے ہیں ۔۔ ۔ ۔ (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز ۔۔۔ قسط نمبر 50

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے